Showing posts with label BUSINESS. Show all posts
Showing posts with label BUSINESS. Show all posts

January 29, 2025

Learn Crypto Trading and be a Millionaire


کرپٹو ٹریڈنگ سیکھنا دلچسپ اور چیلنجنگ دونوں ہوسکتا ہے۔ کریپٹو کرنسی مارکیٹس انتہائی غیر مستحکم ہیں، اس لیے بنیادی باتوں، رسک مینجمنٹ اور حکمت عملیوں کی ٹھوس سمجھ کے ساتھ تجارت سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ شروع کرنے میں آپ کی مدد کے لیے یہاں ایک مرحلہ وار گائیڈ ہے:

 کریپٹو کرنسی کی بنیادی باتوں کو سمجھیں*
ٹریڈنگ سے پہلے، آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کریپٹو کرنسیز کیا ہیں اور وہ کیسے کام کرتی ہیں:
- *کریپٹو کرنسی کیا ہے؟* ایک ڈیجیٹل یا ورچوئل کرنسی جو کرپٹوگرافی سے محفوظ ہے، جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے۔
- *کلیدی اصطلاحات:* بلاک چین، بٹوے، نجی چابیاں، عوامی چابیاں، وکندریقرت، اور متفقہ طریقہ کار (مثلاً، کام کا ثبوت، اسٹیک کا ثبوت)۔
- *مقبول کریپٹو کرنسیاں:* بٹ کوائن (BTC)، ایتھریم (ETH)، اور altcoins (دیگر کریپٹو کرنسیز)۔

#*3۔ اپنا تجارتی ماحول ترتیب دیں*
- *ایک قابل اعتماد تبادلے کا انتخاب کریں:* ریسرچ فیس، سیکیورٹی، تعاون یافتہ سکے، اور صارف کا تجربہ۔
- *اپنے اثاثوں کو محفوظ بنائیں:* طویل مدتی اسٹوریج کے لیے ہارڈویئر والیٹس (جیسے لیجر، ٹریزر) استعمال کریں اور ایکسچینجز پر ٹو فیکٹر توثیق (2FA) کو فعال کریں۔
- *تجارتی ٹولز سے واقفیت حاصل کریں:* چارٹس، آرڈر کی اقسام (مارکیٹ، حد، سٹاپ لاس) اور تجارتی انٹرفیس استعمال کرنے کا طریقہ سیکھیں۔

## *4۔ تکنیکی تجزیہ سیکھیں (TA)*
تکنیکی تجزیے میں قیمتوں کے چارٹس اور پیٹرن کا مطالعہ شامل ہے تاکہ مستقبل کی قیمتوں کی نقل و حرکت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ کلیدی تصورات میں شامل ہیں:
- *کینڈل سٹک چارٹس:* کینڈل سٹک کے نمونوں کو پڑھنا سیکھیں (مثلاً، ڈوجی، ہتھوڑا، انگلفنگ)۔
- *سپورٹ اور مزاحمت:* قیمت کی سطحوں کی نشاندہی کریں جہاں مارکیٹ کا رخ تبدیل ہوتا ہے۔
- *انڈیکیٹرز:* ٹولز کا استعمال کریں جیسے موونگ ایوریجز (MA)، ریلیٹیو سٹرینتھ انڈیکس (RSI)، بولنگر بینڈز، اور MACD۔
- *رجحانات:* اوپر کے رجحانات، نیچے کے رجحانات، اور سائیڈ وے مارکیٹس کو سمجھیں۔


## *5۔ بنیادی تجزیہ سیکھیں (FA)*
بنیادی تجزیہ میں ایک کریپٹو کرنسی کی اندرونی قدر کا جائزہ لینا شامل ہے:
- *پروجیکٹ وائٹ پیپر:* پروجیکٹ کے مقصد، ٹیکنالوجی اور روڈ میپ کو سمجھنے کے لیے اس کی دستاویزات پڑھیں۔
- *ٹیم اور شراکت:* پروجیکٹ کے پیچھے ٹیم اور ان کے ٹریک ریکارڈ کی تحقیق کریں۔
- *مارکیٹ کیپ اور سپلائی:* گردشی سپلائی، کل سپلائی، اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن کو سمجھیں۔
- *خبریں اور واقعات:* ریگولیٹری تبدیلیوں، شراکت داریوں، اور تکنیکی ترقی کے بارے میں اپ ڈیٹ رہیں۔

## *6۔ تجارتی حکمت عملی تیار کریں*
- *ڈے ٹریڈنگ:* ایک ہی دن کے اندر خریدنا اور بیچنا تاکہ قلیل مدتی قیمت کی نقل و حرکت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
- *سوئنگ ٹریڈنگ:* درمیانی مدت کے رجحانات کو حاصل کرنے کے لیے دنوں یا ہفتوں کے لیے عہدوں کا انعقاد۔
- *Scalping:* قیمتوں میں چھوٹی تبدیلیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مختصر مدت میں متعدد تجارت کرنا۔
- *HODLing:* اثاثہ کی مستقبل کی نمو پر یقین کی بنیاد پر طویل مدتی انعقاد۔

## *7۔ رسک مینجمنٹ کی مشق کریں*
- *کبھی بھی اس سے زیادہ سرمایہ کاری نہ کریں جتنا آپ کھو سکتے ہیں۔*
- *اسٹاپ لاس آرڈرز کا استعمال کریں:* نقصانات کو محدود کرنے کے لیے اگر کوئی اثاثہ کسی خاص قیمت تک گر جاتا ہے تو اسے خود بخود فروخت کریں۔
- *اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنائیں:* اپنے تمام فنڈز کو ایک کریپٹو کرنسی میں مت ڈالیں۔
- *مقام کا سائز:* ہر تجارت پر اپنے سرمائے کا صرف ایک چھوٹا فیصد خطرہ (مثلاً 1-2%)۔

## *8۔ ڈیمو اکاؤنٹ کے ساتھ شروع کریں*
بہت سے پلیٹ فارم ڈیمو اکاؤنٹس پیش کرتے ہیں جہاں آپ ورچوئل پیسے کے ساتھ ٹریڈنگ کی مشق کر سکتے ہیں۔ حقیقی فنڈز کو خطرے میں ڈالے بغیر حکمت عملیوں کو جانچنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔

### *9۔ باخبر رہیں اور سیکھتے رہیں*
- *کرپٹو خبروں پر عمل کریں:* CoinDesk، CoinTelegraph، اور Decrypt جیسی ویب سائٹس اپ ڈیٹ فراہم کرتی ہیں۔
- *کمیونٹیز میں شامل ہوں:* Reddit، Twitter، Discord، یا Telegram پر دوسرے تاجروں کے ساتھ مشغول ہوں۔
- *ماہرین سے جانیں:* معروف تاجروں اور تجزیہ کاروں کو سوشل میڈیا یا یوٹیوب پر فالو کریں۔


### *10۔ چھوٹی شروعات کریں اور صبر کریں*
- چھوٹی سرمایہ کاری سے شروع کریں اور تجربہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ اضافہ کریں۔
- جذباتی تجارت سے گریز کریں (FOMO - گم ہونے کا خوف، یا گھبراہٹ میں فروخت)۔


# *تجویز کردہ وسائل*
- *کتابیں:* "مالی منڈیوں کا تکنیکی تجزیہ" بذریعہ جان جے مرفی، "دی بٹ کوائن اسٹینڈرڈ" از سیفیڈین اموس۔
- *کورسز:* Udemy، Coursera، اور YouTube ابتدائی طور پر دوستانہ کرپٹو ٹریڈنگ کورسز پیش کرتے ہیں۔
- *ٹولز:* چارٹنگ کے لیے ٹریڈنگ ویو، مارکیٹ ڈیٹا کے لیے CoinMarketCap۔


### *آخری خیالات*
کرپٹو ٹریڈنگ کے لیے نظم و ضبط، مسلسل سیکھنے، اور جذباتی کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔ آہستہ شروع کریں، اپنے علم کو بڑھانے پر توجہ دیں، اور ہمیشہ خطرے کے انتظام کو ترجیح دیں۔ گڈ لک! 🚀

اگر آپ کسی مخصوص موضوع پر مزید تفصیلات چاہتے ہیں تو مجھے بتائیں!


 

 

Learning crypto trading can be both exciting and challenging. Cryptocurrency markets are highly volatile, so it’s important to approach trading with a solid understanding of the fundamentals, risk management, and strategies. Here’s a step-by-step guide to help you get started:

### *1. Understand the Basics of Cryptocurrency*

Before trading, you need to understand what cryptocurrencies are and how they work:

- *What is cryptocurrency?* A digital or virtual currency secured by cryptography, operating on blockchain technology.

- *Key terms:* Blockchain, wallets, private keys, public keys, decentralization, and consensus mechanisms (e.g., Proof of Work, Proof of Stake).

- *Popular cryptocurrencies:* Bitcoin (BTC), Ethereum (ETH), and altcoins (other cryptocurrencies).

-

### *2. Learn How Crypto Markets Work*

- *Volatility:* Crypto prices can swing dramatically in short periods.

- *24/7 Trading:* Unlike stock markets, crypto markets never close.

- *Exchanges:* Platforms like Binance, Coinbase, Kraken, and others allow you to buy, sell, and trade cryptocurrencies.

- *Market participants:* Retail traders, institutional investors, miners, and whales (large holders).

---

### *3. Set Up Your Trading Environment*

- *Choose a reliable exchange:* Research fees, security, supported coins, and user experience.

- *Secure your assets:* Use hardware wallets (e.g., Ledger, Trezor) for long-term storage and enable two-factor authentication (2FA) on exchanges.

- *Get familiar with trading tools:* Learn how to use charts, order types (market, limit, stop-loss), and trading interfaces.


### *4. Learn Technical Analysis (TA)*

Technical analysis involves studying price charts and patterns to predict future price movements. Key concepts include:

- *Candlestick charts:* Learn to read candlestick patterns (e.g., doji, hammer, engulfing).

- *Support and resistance:* Identify price levels where the market tends to reverse.

- *Indicators:* Use tools like Moving Averages (MA), Relative Strength Index (RSI), Bollinger Bands, and MACD.

- *Trends:* Understand uptrends, downtrends, and sideways markets.

-


### *5. Learn Fundamental Analysis (FA)*

Fundamental analysis involves evaluating the intrinsic value of a cryptocurrency:

- *Project whitepaper:* Read the project’s documentation to understand its purpose, technology, and roadmap.

- *Team and partnerships:* Research the team behind the project and their track record.

- *Market cap and supply:* Understand circulating supply, total supply, and market capitalization.

- *News and events:* Stay updated on regulatory changes, partnerships, and technological developments.


---

### *6. Develop a Trading Strategy*

- *Day trading:* Buying and selling within the same day to capitalize on short-term price movements.

- *Swing trading:* Holding positions for days or weeks to capture medium-term trends.

- *Scalping:* Making multiple trades in a short period to profit from small price changes.

- *HODLing:* Long-term holding based on belief in the asset’s future growth.


--

### *7. Practice Risk Management*

- *Never invest more than you can afford to lose.*

- *Use stop-loss orders:* Automatically sell an asset if it drops to a certain price to limit losses.

- *Diversify your portfolio:* Don’t put all your funds into one cryptocurrency.

- *Position sizing:* Only risk a small percentage of your capital on each trade (e.g., 1-2%).

---


### *8. Start with a Demo Account*

Many platforms offer demo accounts where you can practice trading with virtual money. This is a great way to test strategies without risking real funds.

---


### *9. Stay Informed and Keep Learning*

- *Follow crypto news:* Websites like CoinDesk, CoinTelegraph, and Decrypt provide updates.

- *Join communities:* Engage with other traders on Reddit, Twitter, Discord, or Telegram.

- *Learn from experts:* Follow reputable traders and analysts on social media or YouTube.

---


### *10. Start Small and Be Patient*

- Begin with small investments and gradually increase as you gain experience.

- Avoid emotional trading (FOMO - Fear of Missing Out, or panic selling).

---


### *Recommended Resources*

- *Books:* "Technical Analysis of the Financial Markets" by John J. Murphy, "The Bitcoin Standard" by Saifedean Ammous.

- *Courses:* Udemy, Coursera, and YouTube offer beginner-friendly crypto trading courses.

- *Tools:* TradingView for charting, CoinMarketCap for market data.


### *Final Thoughts*

Crypto trading requires discipline, continuous learning, and emotional control. Start slow, focus on building your knowledge, and always prioritize risk management. Good luck! 🚀

Let me know if you’d like more details on any specific topic!



January 25, 2024

Malik Riaz Behria Town Announcement for Public

 


سربراہ بحریہ ٹاﺅن ملک ریاض کا اہم بیان

 بسم اللہ الرحمن الرحیم میرے عزیز ہم وطنوں اسلام علیکم :۔

 میں آج بہت مجبور ہوکر بحریہ ٹاﺅن کے تمام ملازمین ،مکینوں ،بزنس مینوں اور دیگر تمام شراکت داروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سے مخاطب ہوں اور اپنا موقف اور مقدمہ بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔

ارباب اختیار کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ دنوں مجھ پر ایک سیاستدان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے حد سے زیادہ دباﺅ ڈالا گیا تاکہ میں بھی ایسا کرکے باقی سب لوگوں کی طرح کلیئر ہوجاﺅں لیکن میں نے اپنے ضمیر کی آواز کو سنتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ میں سیاست بازی میں کسی کا بھی فریق نہیں بننا چاہتا میں ذاتی طور پر بھی یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے کسی بھی قسم کی سیاسی کارروائی میں ملوث نہیں ہونا چاہیے ۔

 جو کچھ بحریہ ٹاﺅن ، میرے اور میرے خاندان کے ساتھ اس وقت ہورہا ہے اس پر انتہائی رنجیدہ ہوں کیونکہ یہ صرف مجھ پر اثرانداز نہیں ہوگا بلکہ اس کا اثر ان ہزاروں ملازمین اور کاروباری افراد پر بھی پڑے گا جو اس عظیم الشان منصوبے کے ساتھ منسلک ہیں میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں بحریہ ٹاﺅن کے اکاﺅنٹس منجمند کرکے اور پراپرٹیز ضبط کرکے ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں

 جس سے ان ملازمین سے منسلک لاکھوں خاندان کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں نے سخت محنت سے پاکستان میں جدید رہائشی منصوبوں کومتعارف کروایا اور دنیا بھر میں رئیل اسٹیٹ کے بزنس میں بحریہ ٹاﺅن کا ایک منفرد مقام ہے ۔ 

میں ارباب اختیار کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے یا بحریہ ٹاﺅن کو آپ جس طریقے سے ڈبونا اور ضبط کرنا چاہتے ہیں تو پھر شائد ہی پاکستان میں کوئی بزنس کرنے آئے ۔ میں یہ بھی واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہر دور میں مختلف حیلوں بہانوں سے مجھے بلیک میل کیا گیا میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ پاکستان میں کاروبار کرنا کتنا مشکل ہے

 ہر شخص جو اقتدار میں رہا یا ارباب اختیار کا حصہ رہا وہ منہ کھول کر اپنا حصہ مانگتا ہے ۔ اب میں عوام کے سامنے 190ملین پاﺅنڈ اور القادر ٹرسٹ کیس کی بھی حقیقت رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ریکارڈ درست ہومجھے جب 190ملین پاﺅنڈ واپس ملے تو وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ برطانوی ایجنسی این سی اے نے مجھے ہر قسم کے الزام سے کلیئر کردیا اور مجھ پر کسی قسم کا کوئی مجرمانہ فعل کا الزام بھی عائد نہ کیاگیا تو یہ 190ملین پاﺅنڈ سپریم کورٹ کو دینے کیلئے خود کہا تاکہ میں اس زمین کی ادائیگی کرسکوں جس کا ریٹ مارکیٹ ریٹ سے بھی چار گنا زیادہ لگایا گیا ۔

 میں آپ سب کو یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ نہ تو میں کوئی ہیروئن سمگلرز ہوں نہ پیسے کسی غلط کاروبار سے کمائے اور یہی وجہ تھی کہ تمام تحقیقات مکمل کرنے کے بعد برطانوی کرائم ایجنسی نے مجھے تمام الزامات سے کلیئر کیا ۔ اب مجھے اور میری فیملی کو تنگ کیا جارہا ہے پورے ملک میں بحریہ ٹاﺅن کے ہاﺅسنگ منصوبے بند کردیئے گئے ہیں صرف اس وجہ سے کہ میں وعدہ معاف گواہ کیوں نہیں بنا 

میں عمر کے جس حصے میں ہوں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اگر اسی طریقے سے پاکستان میں بزنس مینوں کے ساتھ سلوک روا رکھا گیا تو پھر ملک میں سرمایہ کاری کوئی بھی نہیں لائےگا ۔

 آپ سب جانتے ہیں کہ میں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھی غیر معمولی کردار ادا کیا زلزلہ ہو یا سیلاب ، تعلیم کا معاملہ ہو یا صحت کا ، غریب لوگوں کی مدد کرنی ہو یا انہیں باعزت طریقے سے تین وقت کا کھانا کھلانا ہو ، کھیل کا شعبہ ہو یا فلاحی کام کوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس میں بحریہ ٹاﺅن نے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا نہ کیا ہو ۔

بحریہ ٹاﺅن کے ملک بھر میں دسترخوانوں پر آج بھی لاکھوں افراد مفت کا کھانا باعزت طریقے سے کھاتے ہیں میں نے اپنی والدہ کے نام پر ٹرسٹ قائم کیا ، ہسپتال ، سکولز عام لوگوں کیلئے فری میں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کررہے ہیں ۔

 میری گزارش ہے کہ میری وجہ سے ان لوگوں کا نقصان نہیں ہونا چاہیے جو بحریہ ٹاﺅن سے منسلک ہیں ۔ میں اپنی صفائی میں تو تب کیس لڑوں جب مجھے انصاف ملنے کی امید ہو لہذا میں اپنا ،مظلوموں کا ، مزدوروں کا اور ان یتیم بچوں کا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش کرتا ہوں جو اس عظیم منصوبے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں

 اور اللہ نے مجھے استطاعت دی کہ میں ان کی خدمت کررہا ہوں ۔ میرا مقصد آپ کو صرف حقائق بتانا تھا جو کہ میں نے من وعن آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں میرا قصور کیا ہے ؟ 

پاکستان زندہ باد

July 30, 2021

E-Commerce, Hand crafts, Hand Made

 

دستکاری اور ای کامرس ..
Hand Made / Hand Crafted / E-Commerce
پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں لوگ دستکاری نہ کرتے ہوں.
تقریباً ہر گھر میں مرد و خواتین کچھ نہ کچھ ہاتھ سے کام کرنے کا ہنر رکھتے ہیں.
سلائی کڑھائی، کھجور کے پتوں سے ٹوکریاں، چٹائیاں، مالا، ٹوپیاں، تصویریں، برتنوں پر نقش و نگار،نومولود بچوں کے گرم اونی ہاتھ سے بُنے ہوئےکپڑے، دستانے، ہاتھ سے بنے ہوئے جوتے،، کپڑے سے بنی ہوئی مختلف اشیاء،, جیسے سرہانے کے غلاف، ٹشو پیپر کے ڈبے کا غلاف، قرآن مجید کا غلاف، گھروں میں چھوٹی چھوٹی اشیاء رکھنے والے بیگ، مجسمے، اجرک، شال، سویٹر، جرسی،
غرض کوئی بھی ایسی چیز جو "دستکاری" کے زمرے میں آتی ہو لوگ بنانے میں ماہر ہیں، اور اگر کوئی نہیں بنا سکتا تو وہ کہیں سے سیکھ سکتا ہے یا پھر کسی دور دراز علاقے سے کچھ ثقافتی اشیاء جو خالص ہاتھ سے بنی ہوئی خرید تو سکتا ہے نا؟
جب ایسا سب کچھ ہر گھر میں میسر ہو تو کیوں نہ ان تمام چیزوں کو پوری دنیا میں فروخت کیا جائے؟
اور منہ مانگے دام وصول کیے جائیں؟
کوئی امپورٹ ایکسپورٹ کا لائیسنس لینے کی ضرورت بھی نہیں.
اور سامان امریکہ، یورپ، برطانیہ وغیرہ میں فروخت بھی کریں..
یہ ای کامرس ہے، اور آپ تھوڑی سی محنت کرکے، اس انڈسٹری میں بہت سارے کام گھر میں رہتے ہوئے بھی کرسکتے ہیں..
کیسے ہوگا یہ سب؟ کون کرے گا؟
یہ سب کچھ آپ کریں گے، آپ کے اہل خانہ کریں گے، گھریلو خواتین کریں گی، بالخصوص وہ خواتین جو گھر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتیں، یہ ان کے لیے اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کا ایک منفرد پلیٹ فارم ہے..
اس کا نام ہے Etsy, اکثریت اس نام سے واقف ہوگی.
لیکن آپ نے Etsy کا نام نہیں سنا تو، یوٹیوب کیجیے، فیس بک پر گروپ جوائن کیجیے، گوگل کیجیے، ایسے لوگ تلاش کریں جو ای کامرس انڈسٹری میں ڈراپ شپنگ، ورچوئل اسسٹنٹ وغیرہ یا پورا ای کامرس سٹور چلا رہے ہوں، ان سے راہنمائی لیں اور اس کو شروع کریں..
اگر تو آپ ایک ایسے پاکستانی ہیں جو اخلاقی اصولوں پر لین دین کرنا فرض سمجھتے ہیں، دھوکا نہیں دیتے، دو نمبری نہیں کرتے، پاکستان کی بدنامی کا باعث نہیں بنتے اور نہ ہی بننا چاہتے ہیں تو یہ پلیٹ فارم آپ کے لیے ہے،
اس میں تھوڑی سی پیچیدگیاں ہیں لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں،
اگر تو آپ ڈیجٹل دنیا کے متعلق تھوڑی بہت جانکاری یا معلومات رکھتے ہیں، آن لائن شاپنگ کرتے ہیں یا اس کام سے واقفیت رکھتے ہیں تو ان کے لیے بےحد آسان ہے، باقیوں کے لیے تو اس کو تھوڑا سا سیکھنا اور وقت دینا ضروری ہے.
آپ کے پاس ایسی ہاتھ سے بنی مصنوعات ہے جو منفرد، پائیدار اور خالص آپ کا اپنا برانڈ ہے تو آپ بے شمار ڈالر کما سکتے ہیں، اگر نہیں تو آپ ارد گرد سے خرید کرنے کے بعد فروخت کرکے بھی معقول آمدنی حاصل کرسکتے ہیں،
اس وقت پاکستان سے ڈائریکٹ اس کا اکاؤنٹ بنانا مشکل ہے، چند پابندیاں ہیں جو جلد ختم ہونے کی امید ہے،
آپ کے پاس ایک عدد نیشنل ٹیکس نمبر ہونا ضروری ہے. جو بھی کام کریں لیگل اور قانون کے دائرے میں رہ کر کریں تاکہ کل کلاں کو رسیدیں دینے میں آسانی ہو..
ایک عدد بینک اکاؤنٹ
جاز کیش
اور چند دوسرے آن لاین پیمنٹ گیٹ وے کے اکاؤنٹ
،
اب آپ نے یہ کرنا یے کہ اپنا کوئی قریبی، عزیز رشتہ دار، امریکا، برطانیہ, کینیڈا وغیرہ کے ملک میں تلاش کرنا ہے اور اس کے ایڈریس پر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہے،
اگر نہیں تو پاکستان سے ہی آپ کو تھوڑی سی فیس کے عوض ان ممالک کے نمبر، کمپنی اور اکاؤنٹ مل جائیں گے، جن سے آپ اپنا اکاؤنٹ آسانی سے بنا لیں گے،
چیزیں آپ پاکستان سے کوریئر سروس سے بھیجیں گے، اگر کوئی بڑا آئٹم ہے تو اس کے کسٹم والوں سے ایک سرٹیفکیٹ بنوانا پڑتا ہے، پیکنگ وغیرہ کے بعد آپ نے اپنا مال مطلوبہ کسٹمر کو بھیج دینا ہوتا ہے..
اس کی مکمل ٹریننگ آپ یوٹیوب، فیس بک گوگل سے حاصل کرسکتے ہیں، اور چند اس کے ایکسپرٹ بھی ہیں جو تھوڑی بہت فیس کے عوض اس پر کام کرنا اور اکاؤنٹ بنانا سکھا دیں گے،، اگر آپ سنجیدگی سے سیکھنا اور کاروبار کرنا چاہتے ہیں، اپنے وقت کو اور دوسروں کے وقت کو قیمتی سمجھتے ہیں تو میں آپ کو پاکستانی ایکسپرٹ سے ملوا سکتا ہوں جو آپ کو سکھائیں گے کہ، اکاؤنٹ کیسے بنانا ہے، کمپنی کیسے رجسٹرڈ کرنی ہے، اس آن لائن سٹور پر اپنی چیزیں مفت میں یا فیس کے عوض کیسے ڈسپلے/لسٹنگ کرنی ہیں،کسٹمر ڈیلنگ اور پیمنٹ کا پراسس، وغیرہ وغیرہ
توقیر بُھملہ
https://www.facebook.com/ToqeerBhumla

 

Business Tips, کاروبار کیسے کریں قسط نمبر 5

 

کاروباری پوسٹ نمبر 5
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
آئیڈیا کو فلٹر کرنا / Filtration of Ideas
دوستو اگر آپ گزشتہ پوسٹوں کو پڑھ اور سمجھ رہے ہیں،
اور اگر آپ نے مارکیٹ ریسرچ اور مارکیٹ تجزیہ جو کاروبار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اسے کر لیا ہے یا اسے کرنے کے متعلق سوچ رہے ہیں, یا کم از کم اسے سمجھ لیا ہے تو مبارکباد قبول کیجئے..
فرض کرتے ہیں کہ آپ نے اچھی طرح مارکیٹ ریسرچ کرلی وہاں سے چند آئیڈیاز مل گئے، ان میں سے ایک آئیڈیا ایسا ہے جو آپکی طبعیت اور سرمایہ کے مطابق ہے. اور آپ کو ذاتی طور پر پسند بھی ہے، آج اسی آئیڈیا کو مزید فلٹر کرنے کے متعلق جاننے کی کوشش کریں گے.
اپنے آئیڈیا کی (تطہیر) فلٹر یا مزید سوچ بچار کرنا اس کو چھاننی سے گزارنے کے لیے کیا کرنا ہوگا :اس کے لیے ہم ایک کیس اسٹڈی دیکھتے ہیں
ہم احمد (ایک فرضی نام) کی مثال لیتے ہیں
آئیے احمد کی کیس سٹڈی مثال سے ہم اپنے آئیڈیا کو مزید بہتر بنانے کی اہمیت اور ضرورت کے متعلق جانتے ہیں..
احمد کو کافی شاپس میں کام کرنے کا تجربہ ہے اور وہ خود اب ایک کافی شاپ کھولنا چاہتا ہے ۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو کسٹمر دوسری کافی شاپس کو چھوڑ کر احمد کے پاس کیوں آئیں گے؟
پچھلے چند ہفتوں سے ، احمد نے اس موجودہ اقدام کو مارکیٹ میں مزید تحقیق (مارکیٹ ریسرچ) کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس نے دیکھا ہے کہ جہاں شہر کی دوسری کھانے پینے کی دوکانیں ہیں وہاں سے نزدیک پیدل چلنے کے فاصلے کے اندر کوئی لوکل کافی شاپ نہیں ہے۔ اس کی مارکیٹ کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے مقامی علاقے میں لوگ نزدیکی جگہوں پر پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پیدل چلنا ، قریب ترین کافی شاپ 30 منٹ کی واک کے فاصلے پر ہے۔ اس نے مقامی لوگوں سے کافی شاپ رکھنے کے بارے میں پوچھا ہے جو صرف 15 منٹ کی واک ڈسٹینس پر ہوگی۔ اس آئیڈیا کے بارے میں اسے بہت ساری مثبت رائے ملی ہیں ، بہت سے لوگوں نے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ دوستوں کے ساتھ کوئی ایسی نزدیکی پرسکون جگہ پر کافی پینا چاہیں گے جہاں کچھ دیر بیٹھ کر گپ شپ بھی کرسکیں .
احمد نے اپنے ممکنہ کسٹمرز کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے آن لائن وسائل کا بھی استعمال کیا ہے۔ اس کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوان پیشہ ور افراد کی طرف سے کافی شاپس کی طلب اور استعمال میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس نے مقامی لوگوں سے بات چیت کرکے ، اپنی کافی شاپ کے ساتھ کچھ مشہور قسم کے کھانے پینے کے آئٹمز کو رکھنے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں ہیں.
وہ مقامی کالجوں میں بھی گیا اور نوجوانوں سے بھی رائے طلب کی جن کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ اور وائی فائی کی سہولت ہو تو چند طلباء وہاں کسی گوشے میں بیٹھ کر کافی کے ساتھ ساتھ لیپ ٹاپ پر اپنی اسائنمنٹ حل کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں
مارکیٹ ریسرچ کے اس موجودہ مرحلے سے ، احمد نے اپنے خیال کو محض ایک کافی شاپ کھولنے سے لیکر وہاں لائٹ فوڈ آئٹمز ( کیک، پیسٹریز، کوکیز، وغیرہ) رکھنے تک اس بات کا تعین کرنے کے لئے اپنے آئیڈیا کو بہتر بنایا ہے کہ اس کے لوکل علاقے میں کافی شاپ کی ضرورت ہے جہاں زیادہ تر نوجوان طلباء اور پیشہ ور افراد اس کے گاہک ہوں گے ، جب اس کا ٹارگٹ کسٹمر نوجوان پیشہ ور افراد ہیں تو احمد نے اس لوکل جگہ اور وہاں کے افراد کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی اور لائٹ فوڈ کی مختلف اقسام کو بھی سمجھنا شروع کر دیا ہے جو وہ اپنی دکان میں پیش کرے گا۔ اس نے انٹرنیٹ کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر کی کافی شاپس کو غور سے دیکھا ہے، اسے پتا چلا ہے کہ کافی محض پیٹ بھرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ثقافت اور کشش کا نام ہے، اس نے اپنی شاپ کو بھی ایک ثقافتی رنگ دینے، اپنی شاپ کے اندر ہی فریش کافی کے بیجوں کو گرائنڈ کرنے اور کسٹمر کے سامنے تازہ صاف ستھری کافی تیار کرنے کا بھی پلان بنا لیا ہے،
غور کریں، سوچیں :
احمد کے اپنے کاروباری آئیڈیا کو بہتر بنانے کے بارے میں اس پراگریس کو پڑھنے کے بعد ، کیا آپ سوچ کر بتا سکتے ہیں کہ وہ اپنی توجہ کو اور آئیڈیا کو مزید کس طرح بہتر اور مفید کرسکتا ہے؟ آپ کے نزدیک اور ایسی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں جن پر مزید ریسرچ کرکے اس کو کافی شاپ کھولنے میں مدد مل سکتی ہے؟

Business Tips, کاروبار کیسے کریں قسط نمبر 3-4-

 



کاروباری پوسٹ نمبر 3
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
..
مارکیٹ ریسرچ / Market Research
( مارکیٹ ریسرچ کے متعلق ایک میرا پرانا لکھا ہوا آرٹیکل بھی آج مل گیا تھا، وہ بھی پوسٹ کردوں گا اس پوسٹ کو مارکیٹ ریسرچ پہلا حصہ سمجھ کر پڑھیں آپ اگر پڑھیں تو بعد میں دونوں کو ملا کر پڑھ لیں اور موازنہ کرلیں)
جہاں کوئی پروڈکٹ، سروس، سامان، دوکاندار، بیچنے والا اور خریدنے والا ہو تو اسے مارکیٹ /بازار کہتے ہیں،
تحقیق، تفتیش اور سروے سے اپنا مطلوبہ ہدف پورا کرنا ریسرچ کہلاتا ہے..
مارکیٹ ریسرچ اپنے مطلوبہ ہدف حاصل کرنے مثلاً کاروبار کو قائم کرنے، پھیلانے یا بڑھانے کے لیے کی جاتی ہے..
مارکیٹ ریسرچ کیوں ضروری ہے اور کیا واقعی اس کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں؟
مارکیٹ ریسرچ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو سرمائے اور ہنر وغیرہ کے بندوبست سے بھی پہلے کی جاتی ہے، ہمارے ہاں اس چیز کا رواج نہیں اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ہم ضرورت اور خریدار کے ادراک اور مسئلے کے حل کی بجائے اپنے خود کے لیے مسئلہ پیدا کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثریت یا تو خسارے اور قرضوں میں پھنس جاتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں یا پھر چند لوگ دو چار مزید تجربات کر گزرتے ہیں اور ان کا نتیجہ بھی زیادہ تر غلط نکلتا ہے،
جہاں تک بزنس کمیونٹی سے میں وابستہ رہا ہوں میں نے سب سے پہلے یہی سنا اور سیکھا کہ " اچھا پہلے مارکیٹ ریسرچ کرو"
" Do Your Market Research"
ایک بات یاد رکھیں مارکیٹ ریسرچ اور مارکیٹنگ ریسرچ دو الگ چیزیں ہیں، ابھی ہم صرف مارکیٹ ریسرچ پر بات کریں گے.
مارکیٹ ریسرچ کم از کم ایک ماہ بلاناغہ ہوم ورک ہے، جس میں آپ تسلی سے جتنی زیادہ ہوسکتا ہے اتنی دوکان، سامان اور گاہک کے متعلق معلومات اکٹھی کرتے ہیں، جب تک یہ ہوم ورک مکمل نہ ہو آپ اور آپ کا سٹارٹ اپ یا کاروبار ادھورا رہے گا.
جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ کاروبار کسی مسئلے کو حل کرنے یا کسی ضرورت کو پورا کرنے کا نام ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے اپنے گھر سے شروعات کریں، دیکھیں کہ ایسی کون سی چیز ہے جو آسانی سے گلی محلوں سے مل جاتی ہے، اور ایسی کون سی چیز ہے جو، نزدیک سے آسانی سے نہیں ملتی بلکہ کبھی کبھار تو اپنے علاقے یا شہر سے بھی نہیں ملتی اور اس کی ضرورت یا مانگ زیادہ ہورہی ہے، مثلاً ہمارے سامنے تبدیلیاں آئیں جن کا ایک عام آدمی ادراک نہ کرسکا، برف بازار سے خریدتے تھے، کسی نے فریج بنا دیا اور اب ہر گھر میں ہے، لوگ رفع حاجت کے لے باہر کھیتوں یا جنگلوں کا رخ کرتے تھے، کسی نے ٹوائلٹ کی سیٹیں اور فلیش بنا دیے جو اب ہر گھر میں ہیں، ایسی ہزاروں ضروریات اور مسائل ہوتے ہیں جنہیں ایک عام آدمی یا صارف کی آنکھ سے دیکھنا ناممکن ہے، اس کے لیے بزنس / کاروباری سوچ اور مارکیٹ ریسرچ کی بصیرت درکار ہے،( مثلاً آپ ایک ایسی جگہ پر ہیں جہاں کے لوگ خوش خوراک ہیں اور آمنے سامنے پندرہ بیس کڑاہی ہوٹل کھل گئے ہیں جہاں رش بھی رہتا ہے، تو آپ کے پاس ایک سنہری موقع ہے آپ انہی ہوٹلوں کی قطار میں ایک چھوٹی سی دوکان دیکھ کر اس میں ایک چھوٹی سی مشین لگائیں جو گرم مصالحہ جات یا دوسرے مرچ مصالحے وغیرہ پیسنے کا کام کرے، صاف ستھرے ثابت مصالحوں کو پیس کر پہلے تو نزدیکی ہوٹلوں کو دیں، پھر خوبصورت پیکنگ میں، مقامی اور علاقائی مارکیٹ میں سپلائی کریں اور ساتھ ہی آن لائن فریش آرگینک مصالحہ جات کا کام شروع کردیں، ایک بہترین خوبصورت دوکان جس کے اندر تمام مصالحہ جات کی ترتیب سے ایک ایچ ڈی ویڈیو اور تصاویر بنوا کر ایک مختصر تعارفی اشتہار میں لگائیں اور وہ آدھے منٹ کا ویڈیو اشتہار آپ لوکل کیبل اور انٹرنیٹ پر چلوا دیں،،) اس کے بعد بہتر ذریعہ مقامی اخبارات ہیں، یہ آپ کو بتائیں گے کہ اس وقت علاقے میں کون سے مسائل ہیں، ایسا کیا ہے جس کے لیے لوگ گورنمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں؟ اگر کوشش کریں تو اسے پرائیویٹ بھی شروع کیا جاسکتا ہے اور مسئلے کے حل کے ساتھ پیسہ بھی بنایا جاسکتا ہے.
اس کے بعد بازاروں کے چکر ایک دوکاندار اور گاہک دونوں کی نظر سے مارکیٹ کو دیکھنا ، دوکاندار اور گاہک کے مابین ہونے والے مکالمے، بحث و مباحثہ، قیمتوں پر جھگڑے، مال کی کوالٹی، بروقت سپلائی، مال واپسی یا ناقابل واپسی، سٹاک، وغیرہ دیکھیں کہ پہلے سے موجود یہ تمام چیزیں کس شکل میں ہیں، لوکل تیار اور دستیاب ہیں یا باہر سے آرہی ہیں ،جب سے یہ بازار یا مارکیٹ وجود میں آئی ہے کیا اس کے بعد یہ پھیل رہی ہے یا سکڑ رہی ہے؟ ادھار اور نقد کا کیا تناسب ہے؟ کاروباری حضرات ایک دوسرے سے کمپیٹیشن کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں؟ ،
اس کے بعد جب آپ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ مسئلہ یا ضرورت کا حل آپ مقامی افراد کو مہیا کرسکتے ہیں تو دیکھیں کیا اس کام میں نزدیک کوئی حریف ہے؟ اگر ہے تو اس سے مقابلہ کس طرح کرنا ہے؟ دوسرے لوگوں کے سے ہٹ کر آپ کی کیا حکمت عملی ہوگی کہ اپنے کمپیٹیٹر / حریف سے کیسے برتری حاصل کی جائے..
اور سب سے اہم چیز جو مارکیٹ ریسرچ آپ کو بتاتی ہے وہ یہ ہے کہ آیا مقامی / علاقائی سطح پر ایک دوکان یا آن لائن کاروبار کی شروعات کرنے کے لئے کافی تعداد میں گاہک / خریدار موجود ہیں بھی کہ نہیں؟ ۔ آپ کے براہ راست حریف یا کمپیٹیٹر کون ہوں گے؟یہ دو چیزیں باقی تمام چیزوں کی بنیاد ہیں ۔اس کے بعد آپ کے کاروبار میں آپ کے ارد گرد کن لوگوں سے واسطہ پڑے گا.
میں یہاں ایک بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اس وقت گوگل پر معلومات کے علاوہ،ہر جگہ لکھنے والوں نے اپنے علاقے کے متعلق ایک آدھ کتاب ضرور لکھ رکھی ہے.
جس علاقے میں آپ کام کرنا چاہتے ہیں وہاں کے متعلق کتاب اگر آپ خرید لیں تو یہ آپ کا پہلا مثبت قدم ہے جو آپ کامیابی کی طرف رکھ رہے ہیں، کتاب کیوں؟
دراصل ان کتابوں میں لوگوں کے رہن سہن، طرز معاشرت، رسم و رواج، خوراک، لباس، عادات اور موسم کے متعلق بہت کچھ مل جاتا ہے جس سے ہمیں ان کے ذہنی رجحانات کو سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے.
، اس کے بعد آپ کے اردگرد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس اس علاقے کی تمام معلومات ہوتی ہیں آپ وہاں سے کوئی بھی طریقہ اپنا کر یہ معلومات لے سکتے ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا، گلی محلوں یا راہ چلتے ہوئے چند لوگ ملتے ہیں جن کے ہاتھوں میں کاغذات اور بیگ وغیرہ ہوتے ہیں، وہ گھر کے افراد کی تعداد ، ان کی تعلیم، کام کاج اور آمدنی، پسند اور ناپسند اور چند مخصوص برانڈز کے استعمال کے متعلق معلومات لیتے اور لکھتے ہیں، یہ سروے کہلاتا ہے جو مارکیٹ ریسرچ کی ایک شاخ ہے، یہ مختلف طرز اور نوعیت کے سروے کوئی بھی بڑی کمپنی اپنی پروڈکٹ لانچ کرنے سے پہلے اور بعد میں کرواتی ہے اور اپنے پاس سارا ریکارڈ محفوظ رکھتی، پھر اسی ریکارڈ کی بنیاد پر اگلے لائحہ عمل طے کرتی ہے.
جب آپ نے اپنے گھر، گلی، محلے، شہر اور مارکیٹ کو کھنگال کر کوئی مسئلہ، کوئی مشکل کوئی کمی کوتاہی، یا کسی نئی ضرورت کو تلاش کرلیا تو سمجھیں آپ آدھے کاروبار کے مالک ہوگئے ہیں اب آپ نے اپنے اس عمل کو آگے بڑھانا ہے..
آج مارکیٹ ریسرچ میں پہلا حصہ خریدار کے متعلق سیکھتے ہیں..
کسٹمر / خریدار / صارف..
سب سے پہلے دیکھنا ضروری ہے کہ اس مارکیٹ / بازار کے ارد گرد لوگوں کی آبادی کتنی ہے؟ اور کیا یہاں ارد گرد ایسے کسٹمرز ہیں بھی جو ہماری طرف متوجہ ہوں گے یا ہمارے گاہک بنیں گے یا نہیں ؟ اور اگر بنیں گے بھی تو انکی ممکنہ تعداد کیا ہوسکتی ہے؟
کیا ان کی قوت خرید اتنی ہے کہ وہ ہماری طے کردہ قیمت ادا کرسکیں گے؟ اور کیا یہ ضرورت یا مسئلہ ایک مستقل طور پر رہے گا جس سے کسٹمر مستقل رہیں گے یا نہیں؟
کیا یہ ان کی روزمرہ کی ضروریات میں سے ہے یا کبھی کبھار کی ضرورت؟
--_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-
ان چیزوں سے پہلے اپنی شخصیت کی جانچ پرکھ کریں اور دیکھیں کہ آپ کا مزاج کیسا ہے، آپ کو شور پسند ہے یا پرسکون ماحول، لوگوں سے بھاؤ تاؤ کرنا اچھا لگتا ہے یا پھر خاموش طبعیت ہیں، وغیرہ وغیرہ، کام کاج میں ہمارے مزاج کا بڑا دخل ہوتا ہے جس کا ہمیں پتا نہیں چلتا اور ہم پرسکون طبعیت کے لوگ پرشور جگہوں پر کام شروع کرلیتے ہیں پھر ہر کسی سے جھگڑتے رہتے ہیں، اس لیے اپنے مزاج اور مارکیٹ کے مزاج کو سمجھنے میں جتنا بھی وقت لگ سکتا ہے وہ لگانا چاہیے..
_-_-_-__-_-___-____-----____-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_
کیا آپ کو یہ سب جاننا / سیکھنا اچھا اور مفید لگ رہا ہے یا نہیں؟
اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیں..
شکریہ 
 توقیر بُھملہ /
 
 
کاروباری پوسٹ نمبر 4
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
مارکیٹ ریسرچ.. دوسرا حصہ.
مارکیٹ ریسرچ: کا مطلب ہے وہ معلومات اکٹھا کرنا جو آپ کو اپنے کاروباری آئیڈیاز کی خوبیوں،خامیوں اور کمزوریوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس سے آپ کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کون سا آئیڈیا مزید اس شعبے میں نئی راہیں اور ترقی کرنے کا سبب اور فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اگر آپ کے پاس اس وقت صرف ایک ہی آئیڈیا ہے تو ، مارکیٹ کی ریسرچ آپ کو یہ سمجھنے کے قابل بنائے گی کہ اپنے آئیڈیا کو مزید بہتر بنانے کے طریقے کو کیسے سمجھیں یا پھر نئے آئیڈیاز کہاں سے لیں۔
مجھے مارکیٹ کی ریسرچ کے بارے میں کیا سوچنا چاہئے؟
اپنے کاروباری آئیڈیاز (خیالات) کی درست اور بہتر پوٹینشل جاننے کے لیے ان چند سوالات کے مطابق مارکیٹ ریسرچ کریں ۔
1. مارکیٹ کا سائز: Market Size
میرے کاروباری آئیڈیا میں کتنے افراد کے کام کرنے کا امکان اور گنجائش ہے؟
میرے ممکنہ گاہک کہاں ہیں (یعنی مقامی، شہر سے باہر اور دو دراز علاقوں سے یا پھر انٹرنیشنل بھی ہوسکتے ہیں )؟
2. مارکیٹ تجزیہ (مارکیٹ اینالائیسز) :
اس شعبے کی ویلیو یا ورتھ کتنی ہے؟ (اس جگہ میں ایک عام کاروباری ہر سال کتنا کما سکتا ہے؟)
پہلے ہی یہاں میرے آئیڈیاز سے ملتے جلتے کتنے ہی کاروبار چل رہے ہیں؟
3. رجحانات: Trends
کیا وقت کے ساتھ ساتھ میرے کام کی منتخب کردہ جگہ میں کاروبار کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے یا کم ہوا ہے؟
میرے ممکنہ گاہکوں کو کون سی چیز زیادہ سہولت کے ساتھ مل سکتی ہے اور اس چیز کی مقبولیت کیوں ہے؟
کیا دوسرے شعبوں یا کاروباری اداروں کی طرف سے کوئی مستقبل میں خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ہوگا تو وہ ممکنہ خطرات یا نقصانات کیا ہوسکتے ہیں؟
جب آپ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لئے مارکیٹ کی تحقیق / ریسرچ کریں گے تو ، مزید سوالات ضرور سامنے آئیں گے۔ اپنے ہر حتمی کاروباری آئیڈیاز /خیالات کی صلاحیت، کامیابی کا تعین کرنے میں مدد کر نے والی زیادہ سے زیادہ معلومات کی ریسرچ کریں اور ایسی معلومات اکٹھی کریں جس کا فائدہ ہو۔ کاروبار سے پہلے کی گئی ریسرچ ہی آپ کو مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، کاروبار کسی مشکل کا حل کرنے اور کسی مدد کے جذبے کے تحت ہی بہترین بنتا ہے، کاروبار سے صرف اور صرف منافع کمانا یا آمدنی کا حصول ایک آدھا غلط خیال ہے اور اس نصف غلط خیال کو بروقت درست کرنا بے حد ضروری ہے. ان سوالات کے جوابات اور ریسرچ سے آپ کو ان آئیڈیاز / خیالات میں سے کسی کو منتخب کرنے میں مدد ملے گی جو آپ کی مزید ترقی کے لیے آگے بڑھنے کا باعث ہوگا۔
یاد رکھیں کہ اس مرحلے پر ، آپ کا 'حتمی خیال' یا فائنل آئیڈیا کا پلان تیار بھی ہوتا رہے گا اور اس ردوبدل بھی ہوتا جائے گا، اس لیے اپنے آئیڈیا اور ٹارگٹ کے تھیم کو وسیع رکھیں تاکہ ممکنہ ردو بدل کیلئے آپ ذہنی طور پر تیار ہوں ۔
مارکیٹ کی تحقیق کب کافی ہے؟
مارکیٹ کی تحقیق کو ایک مستقل عمل کے طور پر سمجھا جانا چاہئے - جیسا کہ آپ اپنے آئیڈیا کو ترقی دیتے ہیں ، اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں ، اور اسی طرح جب آپ اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چیزیں مستقل طور پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں ، اور ایک سمجھدار انٹرپرینور یا تاجر جو اس کاروباری کھیل سے آگے رہنا چاہتا ہے وہ مارکیٹ کی تبدیلی پر نظر رکھے گا اور اس کے مطابق اپنے کاروبار کو ترتیب دیتا رہے گا ۔
 توقیر بُھملہ
 

 

Business Tips, کاروبار کیسے کریں۔ قسط نمبر 2

 


کاروباری پوسٹ نمبر 2..
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
بزنس یا کاروبار کیا ہے؟ اور اس کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے؟ ..
کتابوں کی لکھی پڑھی ہوئی تعریفوں سے ہٹ کر..
چھوٹے پیمانے پر مقامی یا علاقائی سطح پر رہتے ہوئے مارکیٹ میں لوگوں کی کسی بھی ضرورت، مشکل یا مسئلے کا عارضی یا مستقل حل نکالنا اور خریدار کی قوت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت پوری کرنا سمال بزنس یا چھوٹا کاروبار کہلاتا ہے.
ایک مسئلہ یا مشکل آپ کے اردگرد پہلے سے موجود ہوتا ہے آپ نے اس کا ادراک کرنا اور اس چیز کا حل تلاش کرکے پبلک کو دے دینا ہوتا ہے ، سہولت مہیا کرنا اور لوگوں کی ضرورت پوری کرنا ہی کاروبار کے جمنے اور پھلنے پھولنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے، جب پبلک کو اپنی پریشانی کا حل مل جاتا ہے تو وہ حل آپ کے نام سے منسوب ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ ایک برانڈ کی شکل اختیار کرسکتا ہے.. اس کے بعد دوسرا کوئی اس کام میں آپ کی پیروی کرسکتا ہے، آپ جیسا نام نہیں کما سکتا..
آپ کا ایک فیصلہ.. نیا رستہ تلاش کرنا یا پھر پہلے سے بنے ہوئے رستے پر چلنا ہی آپ کے نفع نقصان کو طے کرتا ہے..
دوسرے نمبر پر آپ دیکھتے ہیں مارکیٹ میں کوئی بھی ایسا بڑا مسئلہ وجود نہیں رکھتا جس کو حل کرکے بندہ اپنے کاروبار کا اچھا اور بڑا آغاز کرسکے تو پھر مارکیٹ کے اندر ایک مصنوعی مسئلہ یا مشکل پیدا کی جاتی ہے جس سے عوام کو ایک ایسی چیز دکھائی جاتی ہے جس کا وجود نہیں ہوتا لیکن اس چیز کی مارکیٹنگ یا تشہیر اتنی زبردست ہوتی ہے کہ عوام اس پروڈکٹ یا اس بزنس کے لانچ ہونے کا انتظار کرنے لگتی ہے جس سے وہ چیز لانچ ہونے کے بعد ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوکر اپنا نام بنا جاتی ہے. یہ ایک بڑے پیمانے کا کام ہوتا ہے جس میں مختلف عوامل کا ساتھ اور ہاتھ ہوتا ہے.
مثلاً کچھ عرصہ پہلے تک جسم کو ڈی ٹاکس DETOX کرنے والی کسی پروڈکٹ یا اس نام کا وجود نہیں تھا، پھر راتوں رات پوری دنیا میں ہر جگہ باڈی ڈی ٹاکس اور ہربل اینڈ آرگینک چیزوں کی بھرمار ہوگئی اور آج ہر جگہ منافع بخش ڈی ٹاکس پروڈکٹس اور ادارے بن چکے ہیں.
پہلی پوسٹ میں ہم نے ظفر اور ارشد کی مثال دیکھی تھی اب اس مثال کو سامنے رکھ کر مسئلہ حل کرتے ہیں..
بزنس شروع کرنے سے پہلے اگر دیکھا دیکھی ہم کوئی بھی کام شروع کردیں گے یا مختلف لوگوں سے مشورہ اور آراء حاصل کرتے رہیں گے تو ہم اپنے آپ پر اعتماد نہیں کرسکیں گے، انسانی ذہن کا ایک فوکس پوائنٹ ہوتا ہے ارتکاز کی قوت جب منتشر ہوجائے تو انسان کوئی بھی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہتا اور یوں وہ دوسروں کی پڑھائی ہوئی پٹیوں پر لگ جاتا ہے، جس سے غلط فیصلے اور غلط کاروبار کی شروعات کرنے کے بعد پچھتانے لگ جاتا ہے، سرمایے، وقت اور اپنے نام کی خرابی ایک بہت بڑا نقصان ہے، جس کو پورا کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا..
جب ایک مسئلہ کا حل یا ایک پروڈکٹ اچھے طریقے سے اور آسانی سے مل رہی ہو تو لوگ اسی طرح کی چیز کے لیے ہماری طرف کیوں متوجہ ہوں گے؟ ، وہ جو چیز پہلے سے مل رہی ہو اور اس پر اعتماد بن چکا ہو تو اسی چیز کے لیے کوئی ہمارے پاس کیوں آئے گا؟؟ یا تو اس چیز کی خامیاں (پروپیگنڈہ) مارکیٹ میں پھیلائی جائیں جو کہ ایک گھٹیا فعل ہے یا پھر لالچ کا سہارا لے کر لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے یا پھر ایک لمبا انتظار..
ہم نے پبلک کو کسی مسئلے کا حل دینے کی بجائے ایک ایسا کام کیا جس میں ہماری اپنی سہولت تھی یا وقتی پیسہ تھا، نا کہ خریدار یا عوام کی سہولت یا ضرورت تھی، اس لیے شعور صرف بزنس کمیونٹی کی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ خریدار بھی پسند ناپسند اور شعور رکھنے والے ہوتے ہیں، جب انہیں اعتماد ہوجائے تو وہ اپنی پسندیدہ چیز کے لیے اندھیری گلیوں یا تہہ خانوں میں بھی جاکر خریداری کرلیتے ہیں لیکن جہاں اعتماد نہ ہو تو وہ چیز بے شک سپر سٹور یا سجی سجائی دوکانوں پر ہو لوگ نہیں خریدتے.
اب ظفر کو مختلف لوگوں سے مشورہ بھی نہیں کرنا چاہیے تھا، اٹھتے بیٹھتے لوگوں سے کاروبار کے متعلق بھی نہیں پوچھنا تھا تو پھر اسے کیا کرنا تھا؟
جی اسے اپنے سرمایے، اور ہنر کے مطابق مارکیٹ ریسرچ کرنی تھی، گویا کہ "مارکیٹ ریسرچ" ایک غیرمانوس اور اجنبی سا لفظ لگتا ہے، سننے والا سوچتا ہے یار پتا نہیں کیا بلا ہوگی مارکیٹ ریسرچ؟ کیسے کرتے ہیں؟ ، اور کیوں کرتے ہیں؟
تو ہم اگلی پوسٹ میں ارد گرد مارکیٹ کا مسئلہ، مشکل یا ضرورت کیا ہوتی ہے؟ اسے کیسے جانچتے یا تلاش کرتے ہیں؟ کاروبار کی شروعات سے پہلے مارکیٹ ریسرچ کرنا اور اس کے بعد کن چیزوں سے ابتدا کرنی ہے ان کے متعلق سیکھیں گے..
(ان پوسٹوں کو پڑھتے ہوئے خیال رہے کہ ہم چھوٹے کاروبار کے متعلق بات چیت کررہے ہیں، اور ایک دوسرے سے سیکھ رہے ہیں )
توقیر بُھملہ

Business Plan Idelogy and Markeet Reserch، کاروبار کیسے کریں قسط نمبر 1

 


کاروباری پوسٹ نمبر 1..
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
ظفر کے پاس جب کسی طرح اڑھائی لاکھ روپے جمع ہو گئے تو وہ اٹھتے بیٹھتے ہر کسی سے ایک ہی بات پوچھتا "یار ملازمت سے جان چھڑانا چاہتا ہوں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار بتاؤ جس میں منافع اچھا ہو یا کوئی ایسی جگہ بتاؤ جہاں انویسٹمنٹ کروں اور ہر ماہ لگا بندھا منافع ملتا رہے"
جب مشورہ دینے والا پوچھتا کہ کون سا کام آتا ہے؟ تو ظفر کا جواب ہوتا یار ابھی تک کوئی خاص نہیں مگر ساتھ ساتھ سیکھ لوں گا..
جب پوچھا جاتا پیسے کتنے لگا سکتے ہو تو جواب ہوتا" بس تم کاروبار بتاؤ پیسے بہت ہیں " وغیرہ وغیرہ..
اب مشورہ دینے والے زیادہ تر خود مارکیٹ سے ناواقف یا پھر کاروبار سے ناواقف تھے، کچھ اگر تھے بھی تو خطرہ مول لینے والے نہیں تھے، اسی طرح سب نے اپنی اپنی طبیعت کے مطابق مشوروں سے نوازا،
مارکیٹ، گاہک، ضرورت وغیرہ کا کسی بھی مشورے میں ذکر نہیں تھا، اگر ذکر تھا تو فلاں نے بکرے پالے اب وہ لاکھوں کما رہا ہے، فلاں نے آن لائن کپڑے اور جوتے فروخت کرنے کا کام کیا اب لاکھوں میں کھیل رہا ہے، اس طرح فلاں کے کام اور لاکھوں میں کھیل نے ظفر کو بڑا متاثر کیا، دو چار دوستوں نے بتایا تھا کہ ساتھ والے گاؤں کے ارشد نے چھ ماہ پہلے شہر سے ہٹ کر ایک تہہ خانے میں چائنہ شوز کا کام شروع کیا تھا، کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ کام چلے گا مگر اب وہاں دن رات رش کم نہیں ہوتا لگتا ہے سارا شہر وہاں ہی جوتے خریدنے چلا جاتا ہے، اس کام میں لاگت کم اور منافع دوگنا زیادہ ہے. ظفر نے وہاں جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر انہی دوستوں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ارشد کے تہہ خانے سے نزدیک ہی ایک نو تعمیر پلازے میں چائنہ شوز کی دوکان کھول لی،
اب چھ ماہ ہونے کو ہیں اور ظفر سارا دن اکا دکا گاہکوں کے علاوہ خریداروں کی حسرت سے راہ تکتا بلکہ ارشد کے تہہ خانے کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے. اور ساتھ ایک نیا مشورہ جس پر وہ سنجیدگی سے غور کررہا ہے کہ اب یہ کام چھوڑ کر کاسمیٹکس کا کام کیا جائے..
ظفر سے کہاں غلطی بلکہ غلطیاں ہوئیں؟
ارشد کی دوکان کیوں گاہکوں سے بھری رہتی ہے؟
ظفر کے پاس بھی چائنہ شوز تھے لیکن گاہک متوجہ کیوں نہیں ہوئے؟
چھوٹے پیمانے پر کاروبار کیا ہے؟
ملازمت کے ساتھ کاروبار کیسے سنبھالا جائے؟
اور اس جیسے دوسرے سوالات کا آسان اور عام فہم زبان میں سلسلہ آج سے ان شاءاللہ شروع کیا ہے،
یہاں فیس بک پر ہی روزانہ آپ کو کاروبار کے متعلق ایک مختصر پوسٹ ملا کرے گی، آپ کے تمام سوالات کا جواب بھی پوسٹ کے اندر یا کمنٹس میں دیا جائے گا..
کوئی ان-باکس یا فیس وغیرہ یا کچھ بھی ایسا نہیں جس کا مطالبہ کیا جائے گا.. باقی میرے پاس ویڈیو بنانے اور اپلوڈ کرنے کا وقت نہیں ورنہ ویڈیو ضرور بناتا..
آپ جانتے ہیں تو راہنمائی کیجئے..
جاننا چاہتے ہیں تو سیکھیں اور شئر کریں..
فقیر کا کام ہے صدا لگانا وہ لگتی رہے گی..
توقیر بُھملہ

 Copy  from https://www.facebook.com/ToqeerBhumla


October 02, 2020

GOAT FARMING & BASIC FAULTS , بکریوں کی فارمنگ اور بنیادی غلطیوں کا ابتدا سے ہی ازالہ

 

بکریوں کی فارمنگ اور بنیادی غلطیوں کا ابتداء سے ہی ازالہ
کچھ سالوں سے بکریوں کا فارم بنانے کا رحجان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر ہمارے دوست اس فیلڈ میں آ رہے ہیں۔ اور لائف سٹاک میں یہ اچھا شگون ہے۔ دیار غیر میں یہ کام جا کر کرنا ہے تو کیوں نہ اپنے ملک میں رہ کر کیا جائے جس سے ملک کے زر مبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا اور ملک میں لحمیات کی کمی بھی دور ہوگی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسی نسل کا فارم بنایا جائے۔ تو میرا آپ تمام نئے بکریوں کے فارمر کو مشورہ ہے کہ اپنے مخصوص علاقے کی بریڈ پالی جائے۔ بکری بنیادی طور پر ایک نازک جانور ہے۔ تھوڑا سا موسم کا مزاج بدلہ نہیں اور بکری بیمار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تو میرے تجربے میں جو پندرا بیس فارم آئے ہیں وہ مکمل ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ تمام تر حفاضطی تدابیر کے باوجود وہ تمام فارم نقصان کا باعث ہوئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ دوسرے علاقے کی نسل کو اپنے علاقے میں لے کے آنا ہے۔ اور یہ اصول تمام نسلوں پے لاگو ہوتا ہے۔ مثلاً میرے ایک دو جاننے والوں نے راجن پوری نسل لے آئے تھے اپر پنجاب اور وسطی پنجاب میں ۔ایک بھائی کے ڈیڑھ سو جانور تھے جو اس علاقے کے موسم سے مطابقت نہ رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح دوسرے دوست نے 85 جانور ہلاک کروائے۔ ایک اور گوجرانولا کا فارمر ہے جس نے ہر چیز سائنسی طریقے سے سیٹ کی ہوئی تھی اور حتٰی کہ ویٹنری ڈاکٹر بھی باہر کا رکھا ہوا تھا۔ پرسوں اس کے فارم پے وزٹ کیا ہے تو 200 میں سے پچیس جانور بچے ہوئے تھے۔ اور اسی طرح پندرا بیس اور بھی ہیں جو راجن پوری سفید بکریوں کا نقصان کر چکے ہیں۔ تو میرے سینیئر ڈاکٹرز اور فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے ماہرین کی مشترکہ رائے یہی ہے کہ اس علاقے کی لوکل بریڈ کو زیادہ ترجیح دی جائے اگر نقصان سے بچنا ہے۔ پاکستان کی تمام نسلوں میں راجن پوری بیتل سفید زیادہ خوبصورت مانی جاتی ہے اور سب سے زیادہ نازک بھی یہی بریڈ ہے۔ یہ بریڈ صرف ڈی جی خان راجن پور اور مظفر گڑھ تک کامیاب ہے۔ اس سے آگے یا پیچھے یہ نسل جائے گی تو بکریوں فارمر کا نقصان کرے گی۔ اس نسل کی بیماری کے خلاف قوت مدافعت انتہائی کم ہے۔ اپنی پتلی چمڑی کی وجہ سے یہ نسل بہت جلد موسمی اثرات قبول کرتی ہے۔ اور اگر ملتان اور گھوٹکی تک اس نسل کو مصنوعی ماحول دیکر کچھ عرصہ برقرار بھی رکھتے ہیں تو جانور ویسا قد کاٹھ نہیں بنائے گا جس طرح وہ اپنے آبائی علاقے میں بناتے ہیں۔
دوسری بھائیوں کی بھلائی کے واسطے آگے شیئر کریں تاکہ کوئی دوسرا بھائی لا علمی کی وجہ سے عمر بھر کی کمائی کا نقصان نہ کر بیٹھے۔ ہو سکتا ہے وہ پتا نہیں کیا کیا چیز گھر کا بیچ کر یا گھر کے ضروری فرائض کو کچھ وقت کے لیے پینڈنگ کر کے یہ شوق کر رہا ہو اور نہ سمجھی میں نہ اِدھر کا رہے اور نہ اُدھر کا رہے۔ چالاک بیوپاری جو آجکل سوشل میڈیا پے چھائے ہوئے ہیں ، کبھی بھی یہ نہیں بتائیں گے کہ کون سی نسل کس علاقے کے لیے مخصوص ہے۔ ان کو اپنے نفع سے غرض ہے ۔ باقی ان کی بلا سے کسی کی منجی ٹُھک جائے۔ بکریوں کی فارمنگ ضرور کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسمیں منافع کافی ہے بشرطیکہ لوکل بریڈ کا فارم ہو۔ یہ پیغمبری پیشہ ہے ۔منافع کی تو یقیناً گارنٹی ہے۔ لیکن جو تحفظات اوپر بیان کیے ہیں ان کو مدِنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شیِر کریں۔ آپ کی یہ چھوٹی سی کوشش کسی کا گھر برباد ہونے سے بچا سکتی ہے۔
وطن عزیز پاکستان میں دن بدن کھلی جگہوں کی کمی ہورہی ہے، اور بکریوں فارمنگ جو کبھی فری آف کاسٹ چرائی کا نظام تھا وہ ختم ہورہا ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ گوشت کی طلب میں بھی دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ روایتی طریقےسے گوشت کی پیداوار خاطر خواہ نہیں بڑھائی جاسکتی ۔
ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں 19 نمبر پر آتے ہیں۔ لیکن بکریوں کی تعداد کے حوالے سے چین، انڈیا کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں بھیڑ بکری کے گوشت کی بہت زیادہ طلب ہے، جس کو پورا کرنے میں بکریوں فارمنگ بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بکریوں فارمنگ کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے، جس کے لیے کسی یونیورسٹی کی ڈگری کی ضرورت ہو، رات کو جاگ جاگ کر پڑھنا پڑھتا ہو، بکریوں فارمنگ ہر وہ انسان کر سکتا ہے ، جو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے حلال کی روزی کمانا چاہتا ہو
یہ درست یہ کہ بکریوں فارمنگ دیہاتی پیشہ ہے۔ اور دیہات میں رہنے والے بکریوں پروڈکشن سے اپنے لیے مناسب آمدن حاصل کرسکتے ہیں۔ اور شہروں میں رہنے والے حضرات بکریوں مارکیٹنگ سے اپنے لیے مناسب آمدن حاصل کرسکتے ہیںِ ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بکریوں کی فارمنگ کن لوگوں کے لیے باعث منافع ہے؟
بکریوں فارمنگ ان لوگوں کے بہت منافع کا باعث ہے جو دیہات میں رہائش پذیر ہیں۔
ان کے پاس فارمنگ کے لیے تین سے پانچ ایکڑ زمین موجود ہے، یا ابتدائی طور ایک سے دو ایکڑ زمین مناسب سالانہ کرائے یا ٹھیکہ پر حاصل کرسکتے ہیں۔
ابتدائی پر دس سے پندرہ ٹیڈی بکریاں خرید سکتے ہیں۔ ایک سال تک ان کو چارہ اور بوقت ضرورت ونڈا کھلا سکتے ہیں۔ وقت ڈی ورمنگ اور حفاظتی ٹیکہ جات لگوا سکتے ہیں۔
جانوروں کی جگہ کو صآف اور خشک رکھھ سکتے ہیں۔ دن میں دو سے تین گھنٹے کے لیے چرائی یا چہل قدمی کروا سکتے ہیں۔ دو سے تین کنال گوارہ اور جنتر لگا سکتے ہیں۔ ہر چھ ماہ کے بعد نر جانوروں کو مناسب قیمت پر لوکل سطح پر فروخت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
اگر مندرجہ بالا نکات کو ایک منصوبہ کے تحت اختیار کیا جائے تو بکریوں فارمنگ منافع بخش ہے۔
وہ دوست جو لائیوسٹاک فارمنگ کے شعبہ میں آنے چاہتے ہیں۔ اور ایک اچھا فارمر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اور ساتھ نقصان سے ڈرتے بھی ہیں تو بکریوں فارمنگ ان کو بہترین تربیت حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔ کہ ایسے دوست جو دیہات کی سطح پر فارمنگ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے پاس دو سے تین لاکھ روپے سرمایہ اور دو سے تین ایکڑ زمین اور وقت اور شوق ہے تو وہ بکریوں فارمنگ سے اپنے کام کی ابتداء کریں۔ اور ابتداء میں ایسی دس سے بیس بکریاں خرید لیں جو سال میں دو دفعہ بچے دیتی ہوں۔ ان کے بچے ہر چھ ماہ فروخت کرتے جائیں۔
ٹیڈی بکریوں کی عمر عام طور پر چھ سے سات سال ہوتی ہے۔ اور اپنی زندگی میں اوسط چودہ بچے جنم دیتی ہے۔ چھ سال کے بعد بکری بوڑھی ہوجاتی ہے۔ اس کی جگہ نئی جوان بکری لے آنی چاہیے ۔ اگر ہر چھ ماہ نر بکرے فروخت کرتے جائیں اور مادہ کو اپنے پاس رکھتے جائیں تو دوسرے چھ ماہ میں پہلے چھ ماہ میں جنم لینے والی مادہ بھی ماں بن جائے گی، اور فارم میں جانوروں کا اضافہ ہوگا۔
مارکیٹ میں ٹیڈی نسل کے جانور عام گوشت کی مارکیٹ میں فروخت کئے جاتے ہیں۔ اور عام گوشت کی مارکیٹ میں جانور پندرہ کلو وزن تک فروخت ہوتا ہے۔ اور سودا بازی سے مناسب قمیت پر فروخت کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پندرہ کلو کا جانور تین سو ساڑھے تین سو روپے فی کلو زندہ فروخت ہوتا ہے۔ اگر جانور کو وافر مقدار میں چارہ ، وقت پر ڈی وارمنگ ، حفاظتی ٹیکہ جات اور اچھی مینجمنٹ کی جائے تو پندرہ کلو وزن چار ماہ کے اندر باآسانی کرلیتے ہیںِ اور چھ ماہ کے اندر بیس سے پچیس کلو وزن ہوجاتا ہے۔ جو کہ اچھی قیمت دیتا ہے۔
ٹیدی نسل کے جانور پالنے میں کم محنت ، کم سرمایہ لگتا ہے۔ اگر بکریوں سے بچے حاصل کرکے فروخت کئے جائیں تو پھر بھی منافع ہوتا ہے۔
عام طور پر ہمارے ذہنوں میں تیس ہزار ، چالیس ہزار بکرے کی قیمت ہوتی ہے۔ کہ اس قمیت پر بکے تو منافع ہے اور ہم سوچتے ہیں کہ جی اگر دس بکرے بھی فروخت کئے تو چار لاکھ تو بن جائیں گئے۔ تیس چالیس ہزار خالص نسل کے بکروں کی قیمت لگتی ہے جن کا قد، رنگ، وزن زیادہ ہوتا ہے۔ اور ان کو پالنے کے اخراجات کافی زیادہ ہوتے ہیں
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ خالص نسل کے جانور بہت نخریلے ہوتے ہیں۔ اگر چارہ، ونڈا ان کی مرضی کے مطابق نہ ہو تو یہ کھانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اگر ان کی ڈی ورمنگ ، حفاظتی ٹیکہ جات اور موسم کی شدت سے بچاو کا انتظام نہ کیاجائے تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیںِ ۔ اس لیے اگر بکریوں فارمنگ کے کم از کم دو سال بعد نسلی بکروں کو پالا جائے تو پھر مناسب منافع ملتا ہے۔
اس کے برعکس ٹیڈی بکری کے بچے بہت تعاون کرنے والے ہوتے ہیںِ ۔ ان کو جو بھی ملے وہ کھا لیتے ہیں۔ اور ٹیڈی نسل کے بکروں کو اچھے چارے پر بھی پالا جاسکتا ہے۔ اور ونڈے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ اگر گھر میں بچی ہوئی روٹیوں کو گیلی کرکے باریک توڑی میں مکس کرکے کھلا دی جائیں تو پھر بھی ونڈے کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ کہ جو دوست بکریوں فارمنگ کرنا چاہتے ہیں تو وہ ابتداء ٹیڈی بکریوں سے کریں۔ اس سے کم محنت ، کم سرمایہ سے ایک سے دو سال میں اچھا خاصا جانوروں کی تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ جس سے اچھی نسل کے کم عمر بکرے ہر سال اچھی منڈی سے خرید کر ان کی پرورش کرکے عید قربان پر فروخت کرسکتے ہیں۔
قربانی کے جانور اپنے علاقے کی معاشی صورتحال کے مطابق قیمت دیتے ہیں۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر بیس سے پچیس ہزار تک ہی کے جانور خریدے جاتے ہیںِ ۔شاذونادر ہی چالیس سے پچاس ہزار تک کا جانور خریدا جاتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں پچیس سے تیس ہزار تک کا جانور خریدا جاتا ہے۔ جبکہ بڑے شہروں میں پنتیس سے چالیس تک کا جانور خرید جاسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک اچھی نسل کو وی آئی پی طریقے سے پالنے پر دس ہزار سے بارہ ہزار روپے خرچہ ایک سال کے اندر آتا ہے۔
اس لیے بکریوں فارمنگ شروع کرنے سے پہلے فروخت کے لیے علاقے کی معاشی صورتحال کا جائزہ لینا بھی بہت ضروری ہے۔ کہ لوگ مہنگا جانور خرید سکتے بھی ہیں یا نہیں۔ عام طور بکریوں فارمنگ میں ٹیڈی بکری کا کراس بتیل بکرے سے کروا لیا جاتا ہے ۔ اور اس سے حاصل ہونے والا جانور ٹیڈی جانور سے قد میں تھوڑا بڑا لیکن بتیل سے کم ہوگا۔ اور ایسا جانور دوغلا کہلاتا ہے۔ یہ جانور مناسب قیمت پر فروخت ہوجاتا ہے۔ اور ایسے جانور کو پالنے پر زیادہ اخراجات بھی نہیں آتے
اگر آپ کے پاس اپنی ذاتی زمین ہے اور مناسب سرمایہ ہے اور وقت ہے تو پھر یہ کام شوق سے کریں۔ اگر زمین اور سرمایہ تو ہے لیکن خود کوئی نوکری یا کاروبار کرتے ہیں تو پھر ایسے ملازم کا انتخاب کریں جو کام چھوڑ کر نہ بھاگے۔ زمینداری کے کاموں میں ورکر کا ہر وقت موجود ہونا بہت ضروری ہے، ورکر آپ کے فارم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی وقت ورکر بھاگ جائے اور آپ خود فارم پر کام نہ کرسکیں تو پھر سمجھیں کام ختم ، سرمایہ خلاص
اگر آپ اپنے فارم پر خود کام کریں تو اس سے اچھی بات اور کوئی نہیں۔ جس آپ کا تجربہ بھی بڑھے گا، اور ذہنی سکون بھی رہے گا ، اور اچھا منافع بھی حاصل ہوگا۔
بکریوں فارمنگ پارٹ ٹائم فارمنگ نہیں یہ فل ٹائم فارمنگ ہے۔ جو دوست بکریوں فارمنگ کی طرف آنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے بکریوں فارمنگ کی روٹین کو سمجھیں ، بکریوں فارمنگ کی ضروریات کو سمجھیں پھر اس پر خوب خوب سوچیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ جو بھی کام کیا جاتا ہے اس کی کامیابی نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔ اگر آپ فارمنگ میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کوپندرہ سے بیس سالوں میں زیادہ سے زیادہ بڑھا لیتے ہیں۔ آج آپ نے دس سے بیس جانوروں سے آغاز کیا ، اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ، اور اس کاروبار میں اضافے کے ساتھ ہی آپ کو زیادہ ورکروں کی ضرورت ہوگی۔
تو اگر اچھے طریقے سے اس کو چلایا گیا ہوگا تو اسی فارم کو گورنمنٹ سے بطور سنگل پرسن کمپنی رجسٹرڈ کرویا جاسکتا ہے۔ اگر آپ پانچ سے دس سال کامیاب فارمنگ کرلیتے ہیں اور مناسب تجربہ ہوجاتا ہے ، مناسب بنک بیلنس کے مالک ہوجاتے ہیں تو آپ بطور وزیٹر کسی بھی ملک کا ویزہ باآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔
بکریوں فارمنگ ایک ایسا بزنس بن سکتا ہے جو آپ کو پوری دنیا کی سیر کروا سکتا ہے۔ آپ کا فارم آپ کو دنیا کے ہرکونے میں لے جاسکتا ہے۔ یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔ بس ضرورت کس بات کی ہے، ضرورت اس بات کی کہ آپ درست وقت پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔
بکریوں پروڈکشن کرنے والے فارمر کے لیے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر وہ ان کی شرائط پر پورے اُترتے ہوں تو۔ میں آپ کو خواب نہیں دکھلا رہا بلکہ ایک خواب کی تعبیر پانے کے رستے کی نشان دھی کررہا ہوں۔ کہ گاؤں دیہات میں رہنے والے پڑھے لکھے دوست اگر کم از کم پانچ سال تک کامیاب بکریوں فارمنگ کرلیتے ہیں اور فارم بنانے کے دو سال کے بعد گورنمنٹ سے فارم بطور ایک پروڈکشن کمپنی رجسٹرڈ کروالیتے ہیں۔ تو پھر دنیا کی سیر ان کے لیے ناممکن نہیں۔
دوستو! حلال گوشت کی دنیا میں بہت ہی زیادہ ڈیمانڈ ہے۔ حلال گوشت کی دنیا کو بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ایسے فارمر جن کے پاس مناسب مقدار میں زمین ہے اگر نہ ہوتو ٹھیکے پر بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور ابتدائی طور مناسب سرمایہ موجود ہے ، تو پھر بکریوں فارمنگ سے منافع حاصل کرنے سے آپ کو کوئی نہیں روک سکتا ۔
اگر آپ بکریوں فارمنگ کے کاروبار کو سنجیدگی کے ساتھ شروع کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں اور آپ کے پا س کم ازکم ایک سے دو ایکڑ اراضی موجود ہے، اور چار سے پانچ لاکھ کا سرمایہ موجود ہے ، تو پھر یہ تحریر آپ کے لیےہے، دنیا کے دروازے آپ پر کھلنے کے لیے تیار ہیں۔

 

November 15, 2019

تجارت انبیاء علیہ سلام کا پیشہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ بہت برکت رکھی ہے۔





حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ

جب آپ کی وفات ہوئی تو ترکے میں صرف “کرنسی” کی مد میں 3 ارب 20 کروڑ 10 لاکھ دینار چھوڑے تھے۔ ایک دینار گول سونے کا کچھ بھاری سا سکہ ہوتا تھا جو کہ ساڑھے 4 ماشے کے برابر تھا اور اسوقت ایک ماشہ پاکستانی 6 یا 7 ہزار روپے کا ہے۔ ایک ہزار گھوڑے، ایک ہزار اونٹ اور 10 ہزار بکرے، بکریاں اور مویشی اس کے علاوہ تھے۔ مدینے اور اس کے اطراف میں بے شمار زمینیں تھیں، جبکہ آپ کی جائیداد میں سونے کی سلیں تک موجود تھیں ۔ وفات کے بعد ان سلوں کو کلہاڑوں سے کاٹا گیا۔ مزدوروں نے صبح کاٹنا شروع کیا تو شام ہوگئی اور مزدوروں کے ہاتھ تک سوج گئے۔آپ کی وفات کے وقت آپ کی چاروں ازواج حیات تھیں اور بیوی کے حصے میں جائداد کا آٹھواں حصہ آتا ہے۔ آپ کی ایک ایک بیوی کے حصے میں کرنسی کی صورت میں 4 لاکھ دینار یعنی 400 ملین درہم آئے۔


یہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ تھے جن کو نہ صرف بدری صحابی ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ یہ ان 10 صحابہ میں آٹھویں نمبر پر موجود ہیں جن کو رسول اللہﷺ نے دنیا میں ہی نام لے کر جنت کی بشارت دی تھی۔



حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اسلام سے پہلے بھی تجارت ہی کیا کرتے تھے اور حضرت عثمانؓ کے بہترین دوستوں میں شامل تھے۔ جب ہجرت کرکے مدینہ آئے تو بالکل مفلوک الحال ہوچکے تھے ۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان کی مواخات بھی ایک انصاری صحابی سے کروادی۔ آپ نے ان انصاری صحابی سے صرف دو سوال کئے: 1) بازار کہاں ہے؟ 2) کونسے کاروبار کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے؟



اس کے بعد سے عبدالرحمن بن عوفؓ نے جانوروں کے گلوں میں باندھنے والی گھنٹیوں کا کام شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصے میں مارکیٹ سے یہودیوں کی اجارہ داری اور قبضہ ختم کروا دیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے مدینے میں جو مارکیٹ قائم کی تھی آپ وہاں کے چھوٹے تاجروں کو کم منافع اور بلاسود مال بھی سپلائی کرتے تھے۔ آپ جو کماتے اس کے دو حصے کر دیتے تھے، ایک دفعہ 8 ہزار دینار کمائے تو 4 ہزار اللہ کے نبیﷺ کی خدمت میں پیش کر دئیے۔ آپﷺ نے پوچھا گھر پر کیا چھوڑا؟ فرمایا اتنا ہی ہے جتنا لے کر آیا ہوں۔ آپﷺ نے دعا فرمائی “اے اللہ! عبدالرحمن جو رحمان کا تاجر ہے اس کے دونوں مالوں میں جو یہاں لے کر آیا ہے اور جو گھر پر چھوڑ کر آیا ہے اس میں برکت عطا فرما”۔ عبدالرحمنؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میں مٹی کو بھی ہاتھ لگاتا تھا تو وہ سونا بن جاتی تھی۔



ایک دفعہ مدینے میں ریت کا طوفان آ گیا۔ لوگ حیران پریشان گھروں سے باہر نکل آئے، ام المومنین حضرت عائشہؓ بھی دروازے پر آ گئیں اور پوچھا یہ طوفان کیسا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عبدالرحمن بن عوفؓ کا تجارتی قافلہ آیا ہے۔ آپ نے حیرت سے دریافت کیا؛ بھلا تجارتی قافلہ بھی ایسا ہوسکتا ہے؟ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے عین وسط شہر میں 700 سامان سے لدے اونٹ کھڑے تھے۔ عبدالرحمن بن عوفؓ روتے جاتے اور لوگوں میں سامان بانٹتے جاتے تھے، حتی کہ پورے 700 اونٹوں کا سامان لوگوں میں تقسیم کر دیا۔



مجموعی طور پر اسلام اور اسلامی معاشرے کا مزاج یہی ہے کہ تجارت اور کاروبار کو فروغ دیا جائے جبکہ نوکری اور غلامی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ: رزق کے 10 دروازے ہیں جن میں سے 9 تجارت میں کھلتے ہیں اور باقی 1 میں دوسرے تمام شامل ہیں۔



لوگ اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اسلام تبلیغ سے پھیلا یا تلوار سے؟ میرا ماننا یہ ہے کہ اسلام تجارت سے پھیلا ہے۔ مسلمان بے انتہا وسیع سوچ کے مالک تھے۔ یہ خود کو “برانڈ” بنانا اور “برانڈ” کرنا جانتے تھے۔ مسلمانوں نے خود کو کبھی بھی مکہ، مدینہ یا عرب تک محدود نہیں کیا۔ یہ ایران، عراق اور ہندوستان سے ہوتے ہوئے جزائر غرائب الہند تک پہنچ جاتے تھے اور اپنی “برانڈ” ساری دنیا میں متعارف کرواتے تھے۔ ان کی برانڈ کا نام “اسلام” تھا۔ مقصد اسلام ہوتا تھا اور نتیجے میں پیسہ بھی ملتا تھا۔ یہ کپڑے میں نقص اور عیب بتا کر بیچتے تھے، یہ بارش کے بعد گاہک کو بتاتے تھے کہ بارش کی وجہ سے گندم گیلی ہو گئی ہے اسلئے ہم اس کو اس کی اصل قیمت سے کم پر بیچیں گے۔ یہ معمولی فائدے پر بھی گاہک کو اچھی چیز بیچ دیتے تھے اور بیچا ہوا مال واپس بھی لیتے تھے اور تبدیل بھی کرتے تھے۔



ہم ایسی دوغلی قوم ہیں کہ ہم دو دو روپے کمانے کے لیے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور چونا بھی لگاتے ہیں۔ لیکن کاروبار کرنے والوں کو چور لٹیرا بھی سمجھتے ہیں اور ان سے حسد بھی کرتے ہیں۔ آج ساری دنیا کو یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ امپورٹ، ایکسپورٹ، سرمایہ کاری اور تجارت کرنے والوں کو عزت دینے سے ملک اور قومیں ترقی کرتی ہیں، لیکن جن کے اباؤاجداد نے 3 براعظموں میں اپنا کاروبار متعارف کروایا وہی اس بات سے ناواقف ہیں۔دنیا میں 500 بڑی آئل کمپنیز ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی کسی بھی مسلمان ملک کی نہیں ہے جب کہ تیل پیدا کرنے والے 11 میں سے 10 ممالک عرب ہیں۔ آپ کو پاکستان کی بڑی بڑی نام نہاد فوڈ چینز اور ہوٹلز کا نام ونشان تک پاکستان سے باہر نظر نہیں آئیگا اور نہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں ہماری کوئی پروڈکٹ ملے گی۔ ہمارا چاول اور آم تک ہندوستان کے نام سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔



آپ کمال ملاحظہ کریں کہ مدینے میں یہودیوں کے مقابلے میں جو بازار رسول اللہﷺ نے قائم کیا وہاں پر باہر سے آنے والوں کو ”ٹیکس فری” ماحول دیا گیا۔ وہ وہاں اپنے خیمے لگاتے تھے لیکن ان سے کسی بھی قسم کی کوئی رقم نہیں لی جاتی تھی جب کہ اس کے مقابلے میں یہودی بھاری بھاری ٹیکس لیتے تھے۔ آج کاروباری لوگوں کے لیے اسرائیل ٹیکس فری ہے جبکہ ہمارے ملک میں کاروبار کرنا ہی عذاب بن گیا ہے۔



دنیا میں کوئی ریاست 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرتی ہے اور نہ کر سکتی ہے۔ یہ اپنے ملک میں مکیش انبانی، لکشمی متل ، بل گیٹس اور جیف بیزاس جیسے لوگوں کو پروموٹ کرتے ہیں۔ یہ امریکا کو “بل گیٹس کا امریکا ” کہتے ہیں، لیکن ایک ہم ہیں جو ملک چلانے والے 22 خاندانوں کو سڑک پر لے کر آجاتے ہیں اور دنیا میں پاکستان کا کاروباری چہرہ دکھانے والوں کو عدالتوں میں ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں۔



اوباما اور مٹ رومنی کی الیکشن کمپین میں اوباما نے ہر جگہ اپنی تقریر میں اس بات کو دہرایا کہ میں 3 ملین ڈالر پر 21 فیصد ٹیکس دیتا ہوں جبکہ رومنی 21 ملین ڈالر پر صرف 14 فیصد ٹیکس دیتا ہے اور یہ غریبوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ دنیا بھر میں غریب لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ امیروں نے ہماری دولت پر قبضہ کر رکھا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ساری دنیا کی دولت کو ہر انسان میں برابر کا تقسیم کردیں۔ یہ صرف 5 سال بعد ٹھیک انہی ہاتھوں میں دوبارہ آجائیگی ، غریب غریب ہی رہے گا اور امیر دوبارہ امیر بن جائیگا، کیونکہ غربت اور امارت کا تعلق پیسے سے نہیں “مائنڈ سیٹ” سے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکا سے لے کر کراچی تک MBA کرنے والوں کو دوسروں کی کمپنیوں کو بہترین انداز میں چلانے کی تربیت دی جاتی ہے، لیکن اپنی کمپنی شروع کرنے اور اسے آگے لے جانے کا کوئی پروگرام سرے سے ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کے پاس ہے ہی نہیں۔ ہمارا سارا تعلیمی نظام محض غلام اور نوکر پیدا کر رہا ہے اور اس کے دو بڑے نقصانات ہیں۔



1) پہلا نقصان یہ ہے کہ بندے کا توکل اللہ پر سے ختم ہو کر مالک، سیٹھ اور کمپنی پر ہوجاتا ہے، اس کو لگنے لگتا ہے کہ مجھے کھلانے، پہنانے اور پرورش کرنے والا میرا باس ہے، یہ عیاشیاں اور مہینے کا راشن اسی کا مرہون منت ہے اور جس دن اس خدا (باس، کمپنی، سیٹھ) کا سایہ نعوذ باللہ میرے اوپر سے اٹھ گیا میں کنگال ہوجاؤنگا یا شاید سڑک پر آجاؤنگا اور میرے بیوی بچے بھوکے مر جائینگے۔



2) دوسرا نقصان یہ ہے کہ بندے کو اپنی قدر و قیمت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو 60 لاکھ کمانے کے لیے پیدا کیا ہو اور وہ زندگی بھر 60 ہزار کو ہی اپنا مقدر سمجھتا رہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعے سے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدلنے والی ہوں اور وہ اپنی ساری صلاحیتیں بس اپنے بیوی بچوں کو ہی خوش کرنے میں لگا دے۔



بہرحال، ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نوکری اور غلامی کے بجائے کاروباری ذہن اور تجارتی مزاج پروان چڑھایا جائے تاکہ ہمارے بچے دولت کے خوف اور پیسے کی جکڑ بندیوں سے باہر نکل کر بھی کچھ سوچ سکیں

October 15, 2019

BUSINESS IDEAS, BE A ENTREPRENEUR


کاروبار، کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے

میرا ایک چائنیز کولیگ تھا، جو مجھ سے کئی سال چھوٹا تھا، مگر اس کا ذہن بہت کاروباری تھا۔ میرے ساتھ اکثر بزنس آئیڈیاز پر ہی بات کرتا تھا۔ مجھے ہمیشہ کہتا: ’’مسٹر خان اپنا پیسہ ایسی چیزوں میں کبھی نہ لگانا جن پر آپ خرچہ کریں۔ مثلاً ’’اگر آپ رہنے کے لیے گھر بناتے ہیں، تو آپ کا سرمایہ آپ کو کبھی فائدہ نہیں دے گا۔ الٹا آپ اس پر لگائیں گے۔ اگر آپ گاڑی لیتے ہیں، تو تیل خرچہ، مرمتی خرچہ اور ڈیپریشن سے آپ کا نقصان ہوگا۔ سرمایہ ان چیزوں میں لگانا جن سے آپ کو ریونیو ملے۔‘‘ میرا ایک اَن پڑھ رشتہ دار تھا، اس کا ذہن بھی چائنیز کی طرح تھا۔ وہ بھی اکثر یہی باتیں کرتا۔ اس رشتے دار کو تو میں جانتا تھا کہ اس نے ناخواندگی کے باجود اچھا خاصا سرمایہ اکھٹا کیا تھا، البتہ چائنیز کے بارے میں اس کے چائنیز دوستوں سے پوچھا، تو معلوم ہوا کہ چائنیز شہر “Nanjing” میں اس کے دو ذاتی گھر ہیں۔ بیجنگ اور شنگھائی کے بعد اقتصادی لحاظ سے یہ تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں دو ذاتی گھر معمولی بات نہیں۔
قارئین، چند روز قبل مائیکرو اکانومی پر میں نے لکھا تھا۔ زندگی میں کامیابی کا اصل راز ’’استقامت‘‘ ہے۔ کاروبار میں سرمایہ نہیں دیکھا جاتا۔ ایک مشہور و معروف کتاب لکھی گئی ہے “Seven Habbits of Most Successful people” اس میں کامیاب لوگوں کی سات صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان سات عادات میں سب سے زیادہ جو مجھے پسند آئی، وہ یہ ہے کہ ’’کامیابی کا اصل زینہ اپنے جذبات کو منیج کرنا ہے۔ کوئی بھی کام شروع کیا جائے، تو اس میں ذہانت و سرمایے سے زیادہ جذبات کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ مثلاً ’’آپ کے پاس بیس ہزار روپے ہیں۔ آپ نے عمران خان وِژن یا بل گیٹ وِژن کے عین مطابق مرغیوں اور انڈوں سے اپنے بزنس کی ابتدا کی۔ آپ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس کام پر بہت سارے لوگ آپ کا مذاق اڑائیں گے۔ رشتہ دار، محلے دار اور کزنز آپ کی تحقیر کریں گے۔ اب یہاں جذبات کو منیج کرنے سے ہی آپ آگے بڑھ سکیں گے۔ جذبات کو منیج نہ کیا گیا تو شدید مایوسی اور فرسٹریشن ہوگی۔ اور نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلے گا۔ اگر صبر، برداشت اور استقامت سے کام لیا گیا، تو کاروبار میں وسعت ہوگی، کامیابی ہوگی۔

پوری دنیا میں نے نہیں دیکھی، البتہ پاکستانی اور عرب معاشرت کو کنگالا ہے۔ پاکستان ہو یا عربستان، دونوں خطوں میں سرکاری بابو کی اہمیت کاروباری شخصیت سے زیادہ ہوتی ہے۔ عرب دوست مجھے بتاتے کہ یہاں کوئی ریالوں میں ارب پتی کیوں نہ ہو، لڑکیاں اس کو اتنا توجہ نہیں دیتیں جتنا ڈیمانڈ رشتوں میں ایک سرکاری بابو کا ہوتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عربوں میں بے پناہ دولت کے باجود معاشی عدم مساوات ہے۔ بے پناہ دولت کے ہوتے ہوئے بھی وہاں کے معاشرے غربت سے نہ نکل سکے۔ پاکستان میں بھی یہی حال ہے۔ 2004ء میں ہماری یونیورسٹی کے وائس چانسلر امتیاز گیلانی کا ایک انٹرویو ایک قومی اخبار میں شائع ہوا۔ گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ ’’دنیا کے بڑے شہروں میں تعلیم یافتہ لوگ کاروبار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب کہ پاکستان میں بالخصوص پختونخوا میں کروڑ پتی بزنس مین کو چھوڑ کر لوگ ایک سرکاری بابو کو رشتے میں ترجیح دیں گے۔‘‘ شائد یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت تعلیم یافتہ نوجوان شدید بے روزگاری کا شکار ہیں۔ یعنی تعلیم یافتہ نوجوان اس وقت معاشرے کے لیے “Asset” کی بجائے ایک “Liability” بنے ہیں۔
قارئین، مَیں نے یونیورسٹی میں پڑھنے والوں پر ایک چھوٹی سی تحقیق کی ہے۔ میں جس کسی سے بھی ملتا ہوں، ایک سوال پوچھتا ہوں کہ سچ سچ بتائیں، فارغ ہونے کے بعد آپ کے دماغ میں کیا آتا ہے؟ تقریبا ’’سو فیصد‘‘ سٹوڈنٹس کا ایک ہی ملتا جلتا جواب سننے کو ملتا ہے۔ ’’فارغ ہوتے ہی جاب ملے، اے سی والے آفس میں میرے دستخط سے کام ہوتا ہو۔ بڑی گاڑی ہو۔ اچھا گھر ہو۔ ساتھ میں کسی بڑے گھر کی حسینہ ہو۔ گپیں ہوں۔ مزے ہوں۔ آئس کریم اور کافی ہو، اور بس!‘‘

اس سوچ نے ہمارے نوجوانوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ صرف ہمارے معاشرے کا نہیں تمام دنیا کے مسلمان شدید تنزلی کا شکار ہیں۔ تن آسانی اتنی کہ الفاظ نہیں۔ اکتوبر 2011ء کی بات ہے، میں اپنے جاب سائڈ جا رہا تھا۔ منی بس میں بیٹھا تھا۔ پلانٹ بڑا تھا۔ اپنے آفس پہنچنے کے لیے پلانٹ کے اندر کمپنی کی منی بس میں جانا ہوتا۔ ڈرائیور نے ایک سٹاپ پر گاڑی روکی، مگر ایک سعودی اس کی منتیں کرنے لگ گیا۔ میں نے سوچا کوئی بڑا مسئلہ ہوا، مگر جب توجہ دی تو وہ ڈرائیور سے ریکوسٹ پر ریکوسٹ کر رہا تھا کہ اسے آفس تک گاڑی میں لے جائیں۔ وہ بالکل صحت مند اور ہٹا کٹا تھا، مگر اسے گرمی لگ رہی تھی۔ اس کا آفس سٹاپ سے صرف دس میٹر کے فاصلے پر تھا۔ مَیں اس وقت کوئی مبالغہ آرائی نہیں کر رہا۔ بحیثیت اُمہ ہم گدھ بن چکے ہیں۔ تن آسانی نے ہمیں مفلوج کر رکھا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے حالات نہیں بدل رہے بلکہ روزافزوں تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔
برسبیلِ تذکرہ، کل ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا کہ پوری دنیا کی معیشت اس وقت یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسرائیل کی آبادی 60 لاکھ ہے اور بہت ہی کم رقبہ، مگر وہ دنیا پر راج کر رہے ہیں۔ یہودی پیدائش کے ساتھ ہی بچوں کا ذہن کاروباری بناتے ہیں۔ سکولوں کالجوں میں یہی سکھاتے ہیں جب کہ مسلم معاشرے میں ’’سرکاری گدھ‘‘ بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ وائٹ کالر جاب سے کبھی معاشرے یا ریاستیں اوپر نہیں اٹھتے۔ کبھی ’’سرکاری گدھ گری‘‘ سے خاندان یا ریاستیں خود کفیل نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کاروبار کی اہمیت کو کس قدر خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے کہ ’’رزق کے دس میں سے نو حصے کاروبار میں ہیں۔‘‘ کاروبار کی اس سے زیادہ خوبصورتی کیا ہوگی، کہ اس میں بندے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے، نیچے نہیں۔

پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر ایک مشہور و معروف ریسٹورنٹ ہے جسے ہم ’’چیف برگرز‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کا مالک اس وقت ارب پتی ہے اور اس کے ارب پتی ہونے کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے ’’چیف برگرز۔‘‘ دو تین عشرے پہلے چیف برگرز کا مالک یہاں ایک تھال میں برگرز بیچتا تھا، مگر جس طرح شروع میں بات کی کہ کامیاب لوگ وہ ہیں جو اپنے جذبات کو منیج کریں اور اپنے شروع کردہ کام میں، پراجیکٹ میں صبر و برداشت اور استقامت سے کام لیں۔ کتنے لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا ہوگا۔ شائد کسی نے رشتہ دینے سے بھی اس وجہ سے انکار کیا ہو کہ وہ تھال میں یا ریڑھی میں سامان بیچتا ہے۔
ہمارا ایک عزیز تھا۔ اس کی بنوں سٹی میں مارکیٹ تھی۔ ایک روز اس کے پاس ایک سادہ بندہ آیا۔ پوچھا کہ مارکیٹ خریدنی ہے۔ کتنے میں بیچوگے؟ اس نے ویسے ہی ٹرخانے کے لیے قیمت تھوڑی زیادہ بتائی۔ بندے نے جواباً کہا کہ ’’اُو کے‘‘ میں مشورہ کرتا ہوں، مجھے قبول ہے۔ اس نے خریدنے والے سے پوچھا کہ کیا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ لکی گیٹ میں ’’بنوں والا میٹ‘‘ بیچتا ہوں۔ بنوں شہر میں جو پلاو بیچنے والے ہیں ان کی بڑے بڑے ٹینکرز اور بسیں چلتی ہیں۔ بنوں ٹاؤن شپ اور حیات آباد میں ان کے بنگلے ہیں جب کہ پی ایچ ڈی سکالرز سکوٹرز پر گھوم رہے ہیں اور ساری زندگی گزار کے ایک گھر نہیں بنا سکتے۔
پرسوں انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور میں ایک ورکشاپ تھی، اس میں لیکچر دینے والے پروفیسر نے بتایا کہ وہ 21 گریڈ میں یو ای ٹی سے ریٹائر ہوئے۔ ساری زندگی کی جمع پونجی اور چارسدہ میں اپنی ساری جائیداد بیچ کر حیات آباد کے ایک کونے کھدرے میں ایک پرانا گھر بمشکل خریدا۔ اب کوئی کہے گا کہ حیات آباد میں تو زیادہ تر گھر پٹواریوں، سی اینڈ ڈبلیو یا ایگریشن میں کام کرنے والے معمولی ملازمین یا ڈپلومہ ہولڈرز کے ہیں، یا ایس ایچ اوز کے ہیں، تو جناب! یہی المیہ ہے۔ ان سے پوچھنا چاہیے کہ معولی تنخواہوں کے ہوتے ہوئے تم لوگ کیسے کروڑوں کے گھر کے مالک بنے؟ ضرور فرائضِ منصبی کا غلط فائدہ اٹھایا ہوگا، اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا ہوگا۔
نشست کا حاصل یہ ہے کہ افراد، خاندان اور قومیں کاروباری سرگرمیوں سے ترقی پاتی ہیں۔ نسل درنسل ترقی دیکھنی ہو، تو معاشی گدھ بننے کی بجائے معاشی شاہین پیدا کرنا ہوں گے۔ معاشرے کو اسلام کے احکامات کی روشنی میں کاروبار کی طرف لانا ہوگا۔ اس سے سود سمیت معاشی بگاڑ کے کئی پہلوؤں کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے،

آمین یا رب العالمین

تحریر:انجینئر انتظار خان

Total Pageviews