Showing posts with label CORRUPTION. Show all posts
Showing posts with label CORRUPTION. Show all posts

May 18, 2023

PML N Corruption Stories & Record Burn every Time

 


یہ آگ صرف ریکارڈ کیوں جلاتی ہے؟

آصف محمود
مبارک ہو ، اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ پر بھی آگ لگ گئی ۔ آ گ میں نجی فضائی کمپنیوں کا ریکارڈ جل گیا ۔ جی ہاں وہی نجی فضائی کمپنیاں جن کے مالکان کو سپریم کورٹ نے طلب کیا تھا ۔ آپ تجربہ کار حکمرانوں کے بابرکت عہد میں بھڑکنے والی اس آگ کے کمالات دیکھیے جس معاملے پر تفتیش شروع ہوتی ہے یہ وہاں جا کر بھڑک اٹھتی ہے اور سارا ریکارڈ جلا دیتی ہے ۔
ندی پور پراجیکٹ کو دیکھ لیجیے۔ بڑا شور تھا اس پراجیکٹ کا ۔ اس پراجیکٹ پر 58 بلین کی لاگت آئی ۔ اتنی بھاری رقم برباد کر کے اس سے جو بجلی پیدا ہوئی اس کی قیمت 42 روپے فی یونٹ تھی ۔ یہ اب تک کی پیدا کی جانی والی مہنگی ترین بجلی تھی ۔
شہباز شریف نے اس پراجیکٹ میں اپنے کمالات دکھانا شروع کر دیے ۔ ایم ڈی کی پوسٹ ہی نہیں تھی وزیر اعلی نے یہ پوسٹ نکال لی ۔ یہی نہیں مرضی کے ایک گریڈ انیس کے افسر کو ایم ڈی تعینات کر دیا ۔ یہ افسر پارکس ہارٹیکلچر میں کام کر رہے تھے اور انہیں متعلقہ شعبے کا کوئی تجربہ نہ تھا ۔ بس خادم اعلی کے چہیتے تھے اس لیے منصب عطا فرما دیا گیا ۔ لاڈلے ایم ڈی کو تعریفی سرٹیفیکیٹ کے ساتھ ساتھ 1600 فیصد اضافی الاؤنس ( جی ہاں صرف 1600فیصد) بھی عطا فرما دیا گیا ۔ ایم ڈی نے خوب مزے کیے۔ ٹیکنیکل سٹاف کو کسی سے پوچھا تک نہیں لیکن ایم ڈی نے ٹریننگ کے نام پر امریکہ یاترا بھی کر لی ۔ نیپرا قوانین پامال کر دیے گئے ۔ ناقص فرنس آئل اورغلط پالیسیوں سے پراجیکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا اور یہ چالو ہونے کے پانچویں ہی روز بند ہو گیا ۔ بہت شور مچا ۔ چنانچہ مجبوری کے عالم میں تحقیقات شروع ہو گئیں۔
حکمرانوں کے پاس بچنے کا اب ایک ہی راستہ تھا ۔ آگ ۔ چنانچہ جہاں کروڑوں کے غبن اور کرپشن کا ریکارڈ پڑا تھا وہاں آگ لگا دی گئی ۔ کہا گیا چند نامعلوم لوگ آئے اور آگ لگا کر چلے گئے۔ خریدوفروخت کا تمام کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا ۔ گارڈ گرفتارر ہوا اس نے تسلیم کیا آگ سی ای او کے حکم پر لگائی گئی ۔ طویل چپ کے بعد ایک روز خواجہ آصف نے فرمایا تحقیقات ہوں گی اور مجرموں تک پہنچا جائے گا ۔ آج تک مگر کچھ سامنے نہیں آ سکا ۔ اب تو ڈر لگتا ہے یہ سوال اٹھایا جائے تو کہیں جمہوریت کو ڈینگی ہی نہ ہو جائے۔

لاہور میں میٹرو بنی ۔ کرپشن کی ہوشربا کہانیاں سامنے آنے لگیں ۔ آ ڈیٹر جنرل نے 2 بلین کی ناجائز اور غیر قانونی ادائیگیوں کی بات کر دی ۔ پنجاب اسمبلی میں شور اٹھ کھڑا ہوا ۔ نیب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ۔ نیب نے ریکارڈ طلب کر لیا ۔ اب قریب تھا کہ نامہ اعمال کھل کر سامنے آجائے چنانچہ جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں ایک بار آگ سامنے آئی ۔ آگ نے نعرہ لگایا ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ایل ڈی کے اس کمرے میں جا گھسی جس میں میٹرو کا ریکارڈ پڑا تھا ۔ یہ جمہوریت ہی کی برکات تھیں کہ آگ بھی اتنی سیانی ہو چکی تھی ۔ تب سے اب تک نیب سر پکڑ کر بیٹھی ہے کہ جن تجربہ کاروں کی آگ اتنی قابل ہے ان تجربہ کاروں کی اپنی فنکاریوں کا عالم کیا ہو گا۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے سر پیٹ لیا کہ اس با کمال آگ نے صرف میٹرو کا ریکارڈ ہی نہیں جلایا اس نے دانش سکول میں ہونے والی 750ملین کی کرپشن ، لیپ ٹاپ سکیم میں 70 ملین کی کرپشن اور سستی روٹی تنور میں 30 بلین کی مبینہ کرپشن سے متعلقہ ریکارڈ کو بھی جلا دیا ہے ۔ ڈاکیے کی طرح یہ آگ سیدھی اس کمرے میں گئی جہاں یہ ریکارڈ رکھا تھا۔
2013 کے انتخابات کی شفافیت پر جو طوفان اٹھا اس سے ہم آگاہ ہیں ۔ الیکشن کمیشن نے سنٹرل ماڈل سکول لاہور میں کچھ اہم ریکارڈ رکھا ہوا تھا ۔ ایک روز یہ تجربہ کار آگ وہاں بھی پہنچ گئے اور پورے سکول میں صرف اس کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں یہ ریکارڈ پرا ہوا تھا۔
ستمبر 2017 میں اس تجربہ کار آگ نے اسلام آباد کا رخ کیا ۔ یہ لہراتی بل کھاتی سیدھی عوامی مرکز جا پہنچی ۔ یہ اتنی نظریاتی آگ تھی کہ اس اس سارے مرکز کی بھول بھلیاں بھی اسی راستے سے بھٹکا نہ سکیں ۔ یہاں چار درجن کے قریب اداروں اور نجی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں لیکن آگ نے ان میں کسی کو چھوا تک نہیں ۔ یہ سیدھی وفاقی ٹیکس محتسب کے دفتر پہنچی اور سب کچھ جلا کر بھسم کر دیا ۔ وفاقی محتسب کے دفتر میں کیا کچھ نہیں پڑا ہو گا ۔ کس کس کا نامہ اعمال وہاں ہو گا ؟ کیا معلوم کتنے ہی اہم لوگوں کے کیسز کا ریکارڈ وہاں موجود ہو ۔ آگ آخر اتنی کثیر المنزلہ عمارت میں اتنے زیادہ دفاتر چھوڑ کر سیدھی وفاقی محتسب کے دفتر کو جلاتی ہے تو اس کی کچھ وجہ تو ہو گی۔
اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پنجاب میں تجربہ بیلے ڈانس کر رہا ہو اور سندھ پیچھے رہ جائے ۔ چنانچہ اب سندھ سیکرٹریٹ میں بھی آگ لگ جاتی ہے۔ جس کے شعلے پکار پکار کر اعلان کرتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے ۔ کیوں نہ صدر مملکت جناب قبلہ ممنون حسین صاحب سے درخواست کی جائے کہ عالی جاہ اس آگ کو بھی ایک عدد صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا فرما کر ممنون فرمائیں ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بھی درخواست کی جا سکتی ہے کہ حکمران لیگ کو آئندہ انتخابات میں انتخابی نشان کے طور پر ’’ آگ‘‘ الاٹ کی جائے۔ یہ تجربہ کاروں کے تجربے کے اعتراف میں ایک حقیر سا خراج عقیدت ہو گا۔
پی آئی اے کو زرداری حکومت نے بھی مال غنیمت ہی سمجھا لیکن جب سے ایئر بلیو کا مالک پاکستان کا وزیر اعظم بنا ہے تب سے تو لہک لہک کر اور مچل مچل کر قوم کو بتایا جا تا ہے کہ پی آئی اے کا تو بیڑا غرق ہو چکا ہے ۔ اس کی تو نجکاری کرنا پڑے گی ۔ ساتھ ہی چہروں پر مصنوعی سنجیدگی طاری کر کے فرمایا جاتا ہے اب معلوم نہیں کوئی اس کو خریدے گا بھی کہ نہیں ۔ مفتاح اسماعیل کی نا معلوم خدمات پر انہیں وزیر خزانہ بنایا گیا ہے۔ ایک روز کہنے لگے جو پی آئی اے خریدے گا اسے سٹیل مل مفت میں دیں گے۔ مفتاح نے یہ مُفتا کیا یہ سوچ کر آفر کیا کہ جو بیچ رہے ہیں وہی تو بھیس بدل کر خریدنے والے بھی ہوں گے اس لیے لوٹ سیل لگا کر ’’ ووٹ‘‘ کو عزت دی جائے۔
ایسے ارشادات بلا وجہ نہیں ادا ہوتے۔ کیا جان بوجھ کر پی آئی اے کی ساکھ تباہ کی گئی تا کہ نجکاری کے موقع پر کوئی سنجیدہ بولی دینے آئے ہی نہیں اور یہ ادارہ گھوسٹ بڈ کے ذریعے ہتھیا لیا جائے۔ یہ عجب حکومت ہے جو ایک چیز کی نجکاری کا منصوبہ دے رہی ہے لیکن اس کی اچھی قیمت وصول کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے خودہی کہے جا رہی ہے پتا نہیں اب اسے کوئی لیتا بھی ہے یا نہیں ۔ایسا تاجر کبھی مارکیٹ میں نظر آ جائے تو لوگ اسے پکڑ کر کسی نفسیاتی ہسپتال چھوڑ آئیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کے ہاتھ زمام اقتدار ہے۔ قریب تھا کہ ایئر بلیو کے مالک کے دور حکومت میں پی آئی اے کا سوا ستیا ناس ہو جاتا لیکن چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا اور نجی ایئر لائنز کے مالکان بشمول وزیر اعظم کو طلب کر لیا۔
اب چیف جسٹس ملک سے باہر ہیں اور اسلام آباد ایئر پورٹ پر صرف اسی کمرے میں آگ لگ گئی ہے جہاں نجی فضائی کمپنیوں کا ریکارڈ پڑا تھا ۔ واہ بھئی واہ۔کیا تجربہ ہے اور کیا آگ ہے۔

 

January 04, 2019

Orange Train In Lahore, White Elephant


مالٹا ٹرین لاہور ،  سفید ہاتھی ؟

آپ کو یاد ہوگا کہ جب جب پنجاب حکومت سے اورنج ٹرین کے معاہدے کی کاپی مانگی جاتی تھی، شہبازشریف ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کردیتا تھا کہ یہ حساس معاہدہ ہے اور اسے لیک کرنے سے چین کے ساتھ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ اپریل 2018 میں جب اس منصوبے کے حوالے سے کرپشن کی اطلاعات سامنے آئیں تو نیب نے پنجاب حکومت سے منصوبے کے تمام ڈاکومنٹس طلب کئے لیکن شہباز شریف نے انکار کردیا۔
اب خبر آئی ہے کہ اس معاہدے میں ایک خفیہ شق رکھی گئی تھی جس کے مطابق منصوبہ ایک خاص تاریخ تک مکمل نہ ہونے کی صورت میں پنجاب حکومت نے چینی کمپنی کو روزانہ کے حساب سے چھ ملین ڈالرز بطور جرمانہ ادا کرنا تھے اور آج سے جرمانے کا یہ میٹر چالو ہوگیا۔
یہ معاملہ صرف کمزور معاہدہ کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2017 میں ایک سکینڈل آیا تھا جس کے مطابق شہبازشریف نے چین میں اپنے فرنٹ مین کے ذریعے کمپنیاں بنا کر انہیں پاکستان میں پراجیکٹس ایوارڈ کئے تھے۔ ان کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں جب بھاری رقوم ٹرانسفر ہونا شروع ہوئیں تو چین کی حکومت نے تحقیقات لانچ کیں اور اس ضمن میں چین حکام نے کئی مرتبہ پاکستان کا دورہ بھی کیا۔
اب اگر تھوڑی دیر کیلئے آپ اپنے آپ کو شہبازشریف کی جگہ رکھیں اور اسی طرح حرامخور بن کر سوچیں کہ اپنی ہی کمپنیاں چین میں قائم کرکے ان کمپنیوں کو میگا پراجیکٹس ایوارڈ کردیئے جائیں اور معاہدے میں شق رکھ دی جائے کہ اگر فلاں تاریخ کو منصوبہ مکمل نہیں ہوتا تو روزانہ چھ ملین ڈالر کا ہرجانہ پاکستان ادا کرے گا۔
شہبازشریف اچھی طرح جانتا تھا کہ اس منصوبے میں موجود تکنیکی نقائص کی وجہ سے یہ وقت پر کسی بھی صورت مکمل نہیں ہوسکتا تھا، ماحولیات اور تاریخی ورثہ کے بچاؤ کی تنظیموں نے عدالتی کاروائی کی دھمکی دے رکھی تھی جس کی وجہ سے چھ ماہ کیلئے یہ منصوبہ شروع ہونے سے قبل ہی روکا جاچکا تھا۔
اگر آپ شہبازشریف بن کر سوچیں تو آپ کی نہ صرف پانچوں گھی میں ہیں بلکہ سر سمیت پورا جسم کڑاھی میں۔ ایک طرف آپ نے پچاس ارب کے منصوبے کو ڈیڑھ سو ارب کا کردیا اور اسے اپنی فرنٹ کمپنی کو ایوارڈ کرکے اربوں بنائے، دوسری طرف آپ نے معاہدے میں تاخیر کی شق رکھوا دی تاکہ ہر روز بغیر کسی محنت مشقت کے، آپ کی کمپنی کو چھ ملین ڈالرز ملنا شروع ہوجائیں۔
اس لیول کی کرپشن کو پکڑنا آسان نہیں، کیونکہ فرنٹ پر چینی کمپنی ہے اور سامنے ایک کانٹریکٹ اور اس کی تاخیری کلاز۔ نہ تو کسی نے رشوت لی اور نہ ہی میٹیریل غائب ہوا ۔ ۔ ۔ لیکن اربوں روپے بنا بھی لئے اور مزید کئی ارب بھی بٹور لئے جائیں گے۔
ان حرامزادوں نے ملک کو ایسے لوٹا ہے جیسے اس ملک کے ساتھ ان کی کوئی خاندانی دشمنی رہی ہو

August 02, 2017

ASIF Zardari Corruption Details

آصف زرداری کی دولت اور اثاثوں کا منی ٹریل؟؟؟
عمران خان کی کرکٹ کی کمائی، بنی گالہ کے اکلوتے گھر اور انتہائی محنت سے بنائے گئے پاکستان کے سب سے بڑے کینسر ہسپتال کا حساب کتاب اور منی ٹریل تو حاصل کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن زرداری کا پیٹ پھاڑنے کا دعوی کرنے والے نواز شریف نے مندرجہ ذیل دولت کا حساب نہیں مانگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں؟؟؟
ڈیلی پاکستان نے اپنی 2005 کی رپورٹ میں لکھا کہ آصف علی زرداری اپنی 1800 ملین ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ پاکستان کی دوسری امیر ترین شخصیت ہیں ۔ اس نے اس وقت بے پناہ دولت حاصل کی جب اسکی بیوی وزیراعظم پاکستان تھیں۔ تاہم کئی ذرائع زرادری کی اس حیثیت سے متفق نہیں اور ان کے مطابق آصف علی زرداری اس سے کئی گنا زیادہ مالدار ہیں ۔ مختلف حوالوں سے انکی دولت کے جو اعداوشمار دستیاب ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔
90ء کی دہائی میں معمر قذافی کے بھٹو کو دئیے گئے بلینک چیک پر خاندان میں جھگڑا ہوا جس میں زرداری نے مبینہ طور پر شاہنواز بھٹو کو قتل کر دیا اور اس چیک کو کیش کر کے سینکڑوں میلن ڈالرز حاصل کیے۔
1998 میں بے نظیر بھٹو کے ایک سوئس اکاؤنٹ کا انکشاف ہوا جس میں اس وقت 8500 ملین ڈالر کی رقم تھی۔ سوئس بینکوں کے اصول کے مطاق وہ رقم اب تک دو بار دگنی ہو چکی ہوگی۔
2007 میں اس نے اپنے سوئس بینک اکاؤنٹس میں کچھ نا معلوم کمپنیوں سے 60 ملین ڈالر کی رقم وصول کی۔
دنیا بھر میں جو بینک اکاؤنٹس ہیں ان میں سے کچھ کے نام اور نمبر مندرجہ ذیل ہیں۔
یونین بینک آف سویزرلینڈ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 552.343, 257.556.60Q, 433.142.60V, 216.393.60T۔
سٹی بینک پرائویٹ لیمٹڈ سویزرلینڈ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 342034۔
سٹی بینک این اے دبئی ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 818097۔
بارکلے بینک سوئس ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 62290209۔
بارکلے بینک سوئس ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔62274400۔
بینک لا ہینن پیرس ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔00101953552۔
بینک ناٹنڈی پیرس ان جنیوا ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 563.726.9۔
بارکلے بینک نائٹ برج برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔90991473۔
بارکلے بینک کنگسٹن اینڈ چیلی برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 20-47-34135۔
نیشنل ویسٹ منسٹر بینک ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 9683230۔
.نیشنل ویسٹ منسٹر بینک بارکنگ برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 28558999۔
ان کے علاوہ مندرجہ ذیل بینکوں میں بھی زرداری صاحب کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔
Habib Bank پال مال برانچ ۔۔۔۔۔
Habib Bank AG, Moorgate, London EC2
National Westminster Bank, Edgware Road, London
Banque Financiei E Dela Citee, Credit Suisse
Habib Bank AG Zurich, Switzerland
Pictet Et Cie, Geneva
Credit Agricole, Paris
Credit Agridolf, Branch 11, Place Brevier, 76440, Forges Les Faux
Credit Agricole, Branch Haute – Normandie, 76230, Boise Chillaum
Swiss Bank Corporation
Chase Manhattan Bank Switzerland
American Express Bank Switzerland
Societe De Banque Swissee
Banque Centrade Ormard Burrus S A
Banque Pache S A
Banque Pictet & Cie
جائداد ۔۔۔۔
آصف زرداری نے لندن میں جائداد اپنے نام پر نہیں رکھی ہے لیکن مختلف آف شور کمپنیوں ، فرموں اور ٹرسٹس کا نام استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل جائیداد خرید رکھی ہے۔
لندن کی سرے کاؤنٹی میں راک وڈ کے علاقے میں 365 ایکڑ یا 2700 کنال پر محیط 20 بیڈ روم کا ایک عالی شان گھر جس کو سرے محل کہا جاتا ہے ۔ اسکی تزئین آرائیش 1996 میں مکمل ہوئی جب بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت ختم ہوا ۔ پہلے وہ 8 سال تک اس جائداد کی ملکیت سے انکار کرتے رہے ۔ اس دوران اس گھر پر کام کے ذمے جو واجبات جمع ہو گئے تھے وہ کسی نے ادا نہیں کیے ۔ تب ان کمپنیوں نے اپنے واجبات کی وصولی کے لیے عدالت کے ذریعے گھر کو نیلام کرنے پر اصرار کیا۔ حکومت پاکستان نے اس گھر کی ملکیت کا دعوی کیا کیونکہ یہ یقین کیا جا رہا تھا کہ یہ محل کرپشن کی رقم سے خریدا گیا ہے ۔ تب آصف زرداری نے اس کی ملکیت تسلیم کی اور یہ کیس 2008 تک جاری رہا۔
اس گھر میں دو فارمز ، ملازمین کے لیے رہائش گاہ ، زیر زمین ایک شراب خانہ اور ایک انڈور سومنگ پول بھی ہے ۔ 1990 کی دہائی میں اس نے کراچی سے بحری جہاز کے ذریعے بے شمار سامان اس گھر کی تزئین و آرائش کے لیے بھیجا تھا ۔ اس گھر کے معاملے میں اس پر بے شمار الزامات لگے ۔ لیلا شہزادہ کی بیٹی نے دعوی کیا کہ آصف زرداری نے سرے محل کی تزئین و آرائیش کے لیے چوری کیا ہوا کروڑوں روپے کا آرٹ خریدا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری کا وہاں پر ایک ہیلی پیڈ ، ایک 9 ھولز کا گولف کلب اور ایک چھوٹا سا پولو گراؤنڈ بھی بنا چکا ہے۔
برطانیہ میں انکی بقیہ جائداد کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔
فلیٹ نمبر 6،11 کوئنز گیٹ ٹیرس لندن ایس ڈبلیو 7
۔26 پیلس مینشنز ، ہیمرز سمتھ روڈ لندن ڈبلیو 14
۔27 پونٹ سٹریٹ لندن ، ایس ڈبلیو 1
۔20 ولٹن کریسنٹ لندن ، ایس ڈبلیو 1
۔ 23 لارڈ چانسلر واک ، کومبی ہل ، کنگسٹن ، سرے
دی مینشن ، وارن لین ، ویسٹ ہیمپسٹڈ ، لندن
کوئنز سٹیج ، ٹیرس لندن میں فلیٹ
ہیمر سمتھ روڈ ، ولٹن کریسنٹ ، کنگسٹن اور ہیمپسٹڈ میں ایک مکان
امریکہ میں آصف علی زرداری کی جائداد کی تفصیل منررجہ ذیل ہے
نیویارک میں مین ہٹن میں واقع بلئیر اپارٹمنٹس آصف زرداری کا ایک پورا فلور ہے جہاں دنیا کے امیر ترین افراد کا ایک ایک فلیٹ ہے۔ ۔ ان اپارٹمنٹس کا شمار دنیا کے دوسرے مہنگے ترین اپارٹمنٹس میں کیا جاتا ہے ۔
ٹیکساس میں ایک بڑا فارم ھاؤس
ویلنگٹن کلب ایسٹ ویسٹ پام بیچ
۔ 12165 ویسٹ فارسٹ ہلز ، فلوریڈا
ایسکیو فارم 13524 انڈیا ماؤنڈ ، ویسٹ پام بیچ
۔3220 سانتا باربرا ڈرائیو ، ویلنگٹن فلوریڈا
۔ 13254 پولو کلب روڈ ، ویسٹ پام بیچ، فلوریڈا
۔3000 نارتھ اوشن ڈرائیو ، سنگر آئسلینڈ ، فلوریڈا
۔ 525 ساؤتھ فلیگر ڈرائیو، ویسٹ پام بیچ فلوریڈا
ھاؤسٹن میں ایک ھالی ڈے ان ھوٹل آصف علی زرداری ، اقبال میمن اور صدرالدین ھشوانی کی مشترکہ ملکیت ہے ۔
بیلجیئم میں آصف علی زرداری کی جائداد کی تفصیل
۔12۔3 بولیورڈ ، ڈی نیپرٹ، 1000 ، برسلز ۔ برسلز میں موجود یہ بلڈنگ 4 دکانوں اور دو بہت بڑے پارٹمنٹس پر مشتمل ہے ۔
چوسی ، ڈی مونس، 1670 ، برسلز
آصف زرداری کی فرانس میں جائداد کی تفصیل
لا مینیور ڈی لا رینی بلانچ اور پراپرٹی کینس میں
فرانس میں نارمنڈے میں انک 16 ویں صدی کی طرز تعمیر کا شاہکار ایک انتہائی مہنگا گھر ہے۔ اپنی ایک مخصوص طرز تعمیر کی وجہ سے فرانس میں اسکا شمار مہنگے ترین گھروں میں ہوتا ہے جسکی قیمت اربوں روپے ہے۔
انکے علاوہ دبئی میں ایک عالیشان گھر اور بہت بڑی کمرشل جائیداد موجود ہے۔
کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں ان کے عالیشان محل نما گھر ہیں جنکو بلاول ہاؤس کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے ایک گھر زرداری ھاؤس کہلاتا ہے۔
ان کے علاوہ پاکستان میں جائداد اور اثاثوں کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
پلاٹ نمبڑ 21 فیز 8 ڈی ایچ اے کراچی
دہدالی وادی تالکا ٹنڈو اللہ یار میں زرعی زمین
ضلع حیدر آباد تالکا ڈہ ٹوکی میں 65.15 ایکڑ کی زمین
نواب شاہ کے تعلقہ ڈہ 76 نصرت میں 827.14 کی ذرعی زمین
نواز شاہ کے اسی علاقے میں 293.18 ایکڑ کی زمین
رہائشی مکان پلاٹ نمبر 3، بلاک نمبر بی 1 ، سٹی سروے نمبر 2268 وارڈ اے نواب شاہ
ھما ھائٹس آصف اپارٹمنٹس 133 ڈپو لائنز کمسرئیت روڈ کراچی
ٹریڈ ٹاؤر بلڈنگ 3 سی ایل وی عبداللہ ہارون روڈ کراچی
ضلع نواب شاہ ڈہ 42 داد تعلقہ میں ذرعی زمین
ضلع نواب شاہ ڈہ 51 داد تعلقہ میں ذرعی زمین
نواب شاہ میں ھاؤسنگ سوسائیٹی لیمٹڈ کے نزدیک پلاٹ نمبر 3 اور 4 رہائشی پلاٹس
کافٹ شیراز سی ایس نمبر 2231-2 اور 2231۔3 نواب شاہ
ضلع نواب شاہ میں ڈہ 23 ڈہ تعلقہ میں زرعی زمین
نصرت تعلقہ ڈہ 72 اے نواب شاہ میں ذرعی زمین
نصرت تعلقہ 76 نواب شاہ میں ذرعی زمین
پلاٹ نمبر اے 136 سروے نمبر 2346 وارڈ اے گورنمنٹ ایمپلائیز کواپریٹیو ھاؤسنگ سوسائٹی لیمٹڈ نواب شاہ
ڈہ جریوں تلقہ ٹنڈو اللہ یار ضلع حیدر آباد میں 6 مقامات پر بہت بڑی ذرعی زمین جسکا کل رقبہ ہزاروں ایکڑ پر محیط ہے۔
ڈہ دغی تعلقہ ٹنڈو محمد خان میں ذرعی زمین
ڈہ رہوکی ،تعلقہ حیدر آباد میں ذرعی زمین
ڈہ چارو تعلقہ بدین میں جائداد
ڈہ دالی وادی تعلقہ حیدر آباد میں ذرعی زمین
پانچ ایکڑ پرائم لینڈ ڈی جی کے ڈی اے نے 1995/96 میں الاٹ کروائی۔
سملی ڈیم کے نزدیک 4000 کنال زمین
ھاکس بے میں 80 ایکڑ زمین
میجر گلداری " کے پی ٹی لینڈ " میں 13 ایکڑ زمین
کلفٹن جی سی آئی میں ایک ایکڑ کا پلاٹ
سٹیٹ لائف انٹرنیشل سنٹر صدر کے قریب ایک ایکڑ زمین
ایف ای بی سی ایس جسکی مالیت 40 لاکھ روپے ہے ۔۔۔۔
کاروبار
آصف زرداری مندرجہ ذیل کارخانوں میں حصہ دار ہیں
سرکنڈ شوگر مل نواب شاہ
انصاری شوگر مل
ملز حیدر آباد
مرزا شوگر مل بدین
پنگوریو شوگر ملز بدین
بچانی شوگر ملز سانگھڑ
پاکستان سے باہر جن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے
۔1۔ بومر فائنینس انک برٹس ورجن آئسلینڈ
۔ 2 ۔ میریز سٹون سیکیورٹی انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 3 ۔ مارلٹن بزنس ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 4 ۔ کیپریکون ٹریڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئدلینڈ
۔ 5 ۔ فیگریٹآ کنسلٹنگ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 6 ۔ مارول ایسوسی ایٹڈ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 7 ۔ پان بری فائنینس لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 8 ۔ آکسٹن ٹریڈنگ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 9 ۔ برن سلن انوسٹ اسی اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 10 ۔ چیمیٹک ھولڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 11۔ یالکنز ھولڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 12 ۔ منسٹر انوسٹ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 13 ۔ سلور نیٹ انوسٹمنٹ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 14 ۔ ٹیکولن انوسٹمنٹ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 15۔ مارلکورڈن انوسٹ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 16 ۔ ڈستن ٹریڈنگ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 17 ۔ ری کنسٹڑکشن اینڈ ڈیولپمنٹ فائنینس انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 18 ۔ناسم الیگزینڈر انک
۔ 19 ۔ ویسٹ منسٹر سیکویریٹز انک
۔ 20 ۔ لیپٹ ورتھ انوسٹمنٹ انک 202 ، سینٹ مارٹن ڈرائیو، ویسٹ جیکسن ویلی
۔ 21 ۔ انٹرا فوڈز انک 3376 ، لومرل گرو ، جیکشن ویلی فلوریڈا
۔ 22 ۔ ڈئنیٹل ٹریڈنگ کو ، فلوریڈا
۔ 23 ۔ اے ایس رئیلیٹی انک ، پام بیچ گارڈنز فلوریڈا
۔ 24 ۔ بون وئیج ٹریول کنسلٹنسی انک ، فلوریڈا
ایک بمبینو سینما سے آصف زرداری نے اتنی ساری دولت کیسے بنا لی؟؟
پاکستان میں منافقت کے شہنشاہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے کچھ دن پہلے آصف زرداری کو نواز شریف سے بڑا چور قرار دیا۔ لیکن اس کے اثاثوں کا منی ٹریل اور حساب کتاب نہیں مانگا۔
ہاں یاد آیا مولانا تو نواز شریف کے علاوہ زرداری کے بھی اتحادی ہیں۔۔  :)
عمران خان کی ایک ملین ڈالر کی دولت کی تفصیلات حاصل کرنے میں وزیراعظم پاکستان نے نہ صرف کروڑوں روپے خرچ کر دیئے بلکہ اپنی پوری کابینہ کے ساتھ ملکر ایک سال کا قیمتی وقت بھی ضائع کیا۔
زرداری کے 26000 ملین ڈالر کیوں نظر انداز کر دئیے؟؟

April 04, 2017

South Korean President Sent to Jailed on Corruption






SEOUL, South Korea (AP) — Thousands of supporters of arrested former President Park Geun-hye were expected to gather in South Korea’s capital on Saturday to call for her release.
Seoul police planned to deploy more than 10,000 officers to monitor the rally near City Hall amid concerns of clashes. Opponents and supporters of Park have divided the streets of Seoul in recent months with passionate rallies.
Park was jailed Friday over allegations that she colluded with a confidante to extort money from businesses, take bribes and allow the friend to unlawfully interfere with state affairs.
Dozens of her supporters rallied outside the detention center Friday, some of them crying and bowing toward the facility while vowing to “protect” her.
Three people died amid violent clashes between Park’s supporters and police on March 10 after the Constitutional Court decided to remove her from office.
Park’s presidential powers were suspended after lawmakers impeached her in December, following weeks of massive demonstrations by millions of people calling for her ouster.



December 02, 2016

November 24, 2016

UK Rushing Criminal Finances Bill Through Parliament

 Landmark proposals to allow U.K. authorities to pursue criminal charges against banks involved in tax evasion are being fast-tracked through Parliament, with the next stage of scrutiny due Tuesday.


Total Pageviews