"افغانستان"
جاوید چودھری
لاہور میں میرے ایک دوست تھے، وہ افغانستان سے آئے تھے لہٰذا ہم انھیں افغان بھائی کہتے تھے، قالینوں کا کاروبار کرتے تھے اور ارب پتی تھے، ان کے پاس تیس چالیس ملازم تھے لیکن ان میں ایک بھی افغان نہیں تھا، دو تین کو چھوڑ کر سارے پنجابی تھے، میں نے ان سے ایک دن پوچھا "افغان بھائی آپ خود نیم روز سے ہیں لیکن آپ نے اپنے گھر اور دفتر میں کوئی افغان ملازم نہیں رکھا، آپ کے چوکی دار تک بلوچ ہیں۔
اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟" افغان بھائی نے مسکرا کر جواب دیا " ہم افغان فطرتاً اچھے لوگ ہیں لیکن ہمیں وفادار رکھنے کے لیے آپ کا امیر یا طاقتور ہونا ضروری ہے" وہ تھوڑی دیر رک کر بولے "افغان کی فطرت ہے یہ آپ کے ساتھ لالچ سے رہے گا یا پھر خوف اس کی بنیاد ہوگی، یہ برابری یا عزت کی وجہ سے کبھی آپ کے ساتھ نہیں رہتا، آپ انھیں دبا لیں یا پھر خرید لیں یہ آپ کے ساتھ چلتے رہیں گے مگر جس دن آپ کے پاس یہ دونوں ٹولز نہیں ہوں گے اس دن یہ آپ کا گلہ کاٹ دیں گے اور یہ اس وقت آپ کی ساری نیکیاں فراموش کر دیں گے" ان کا کہنا تھا آپ کو اگر دوست یا ملازم چاہیے تو آپ پنجابی کا انتخاب کریں، یہ آپ کو مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑے گا" میں نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور بات بدل دی، میرا خیال تھا افغان بھائی پنجاب میں سیٹل ہیں اور ہم پنجابیوں سے بات کر رہے ہیں چناں چہ یہ ہلکا پھلکا مکھن لگا رہے ہیں لیکن آپ یقین کریں جب سے افغانوں کا نیا چہرہ میرے سامنے آیا مجھے افغان بھائی کا ایک ایک لفظ یاد آ گیا۔
پاکستان نے افغانستان کے لیے کیا کیا نہیں کیا؟ ہم نے 80 کی دہائی میں افغانوں کے لیے اپنے سارے گیٹ کھول دیے اور ان دروازوں سے 50 لاکھ افغان پاکستان آ گئے، پاکستان نے انھیں پورے ملک میں آباد ہونے اور کاروبار کی اجازت دے دی، اس کے تین نتائج نکلے، پاکستان کا کلچر بدل گیا، ہم لبرل لوگ تھے، ہم مذہبی شدت پسند ہو گئے، دوسرا ملک میں کلاشنکوف اور منشیات آ گئیں اور اس نے ہماری تین نسلیں برباد کر دیں اور پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا، کوئٹہ، پشاور اور کراچی کبھی پرامن اور صاف ستھرے شہر ہوتے تھے، لوگ چھٹیاں منانے وہاں جاتے تھے لیکن آج آپ ان کی حالت دیکھ لیں، یہ افغانوں کی مہربانی ہے۔
دوسرا افغان جنگ کی وجہ سے ہمارے اسکولوں کا سلیبس تبدیل ہوگیا، پاکستان میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان اسکولوں میں لازمی ہو گئے اور ان کا سلیبس امریکا میں تیار کیاگیا تھا اور اس میں افغان طالع آزماؤں کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا، اسلامیات میں بھی جہاد کی آیات اور احادیث شامل کی گئیں، مسجدوں کے اماموں کو بھی جہاد کی ترویج اور فرقہ پرستی پر لگا دیا گیا چناں چہ آپ آج کا پاکستان دیکھ لیں، تاریخ میں محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور احمد شاہ ابدالی کا کیا کردار تھا، یہ لوگ ہندوستان کیا لینے آتے تھے اور اسلام کے ساتھ ان کا کیا تعلق تھا؟ ہمیں ماننا ہوگا یہ طالع آزما تھے اور یہ ہر سال ہندوستان کو لوٹنے آتے تھے لیکن یونیورسٹی آف نبراسکا نے انھیں 1980میں اسلامی دنیا کے عظیم ہیرو بنا دیا اور ہماری نئی پود نے یہ "نیونارمل" تسلیم کر لیا لہٰذا آپ آج اس جعلی تاریخ کا نتیجہ دیکھ لیں، امریکا نے پروپیگنڈے سے افغانوں کویہ یقین بھی دلا دیا تھا تمہیں آج تک کوئی فتح نہیں کر سکا۔
یہ سراسر جھوٹ تھا، افغانستان کسی بھی دور میں آزاد نہیں رہا تھا، اشوکا سے لے کر امریکا تک یہ ہر دور میں کسی نہ کسی بیرونی طاقت کا مفتوح رہا اور اس وقت تک رہا جب تک کسی دوسرے نے اس پر قبضہ نہیں کیا، آپ تاریخ پڑھ لیں، کیا یہ آشوک، یونانیوں، منگولوں، ازبکوں، ایرانیوں، ترکوں، سکھوں، انگریزوں، روسیوں اور امریکیوں کے زیرتسلط نہیں رہے، حدتو یہ تھی سیالکوٹ کے ایک راجہ منندر عرف ملند نے بھی انھیں فتح کر لیا تھا، اس کی حکومت بھی کابل تک تھی، یہ افغان راجہ رنجیت سنگھ کا مقابلہ بھی نہیں کر سکے تھے، وہ بھی 31 سال خیبر پاس پر قابض رہا اور افغانوں نے چوں تک نہیں کی۔ "افغان ناقابل تسخیر ہیں" یہ فارمولہ بھی پاکستان اور یونیورسٹی آف نبراسکا نے ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے دیا تھا اور انھوں نے اسے سچ مان کر دنیا میں اپنے واحد دوست اور محسن پاکستان پر ہی حملے شروع کر دیے۔
طالبان کون ہیں؟ یہ پاکستان میں پرورش پانے والے افغان ہیں، ہم نے انھیں 1980کی دہائی میں پناہ اور تعلیم دونوں دیے، یہ 1994 میں بھی پاکستان کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے اور 2021میں بھی پاکستان ہی انھیں دوبارہ اقتدار میں لے کر آیا اور دونوں مرتبہ ان کے ہاتھوں ذلیل ہوا، پاکستان نے نائین الیون کے بعد انھیں 20 سال دنیا بھر سے بچا کر رکھا تھا، یہ کوئٹہ، کراچی اور راولپنڈی میں پاکستان کی پناہ میں رہے اور پاکستان نے ہی انھیں امریکا کے انخلاء کے بعد کابل کا تخت پیش کیا اور آپ آج اس کا نتیجہ دیکھ لیں، آپ طالبان کے وزیرخارجہ امیر متقی کی مثال لے لیں، یہ خاندان سمیت 1980 میں پاکستان آئے۔
آج بھی کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں ان کی اربوں روپے کی پراپرٹی ہے، یہ کاروباری لوگ ہیں، انھوں نے پاکستان سے کھربوں روپے کمائے لیکن آج یہ بھارت میں کھڑے ہو کر آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے رہے ہیں اور پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں، یہ کیا ہے؟ کیا اسے محسن کشی نہیں کہا جائے گا؟ دوسرا پاکستان نام نہاد ہی سہی لیکن مسلمان ملک ہے جب کہ بھارتی بت پرست اور مشرک ہیں لیکن آج طالبان مسلمان اور محسن پاکستان کو چھوڑ کر مشرکین کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ خود کو مومن بھی قرار دے رہے ہیں، یہ بھی کیا ہے؟
افغانستان کا اقتدار اس وقت 35 گورنرز، وزراء اور کمانڈرز کے ہاتھ میں ہے، ان میں سے 22 پاکستان کے ساتھ ہیں، ان کا خیال ہے ہم ہر مشکل گھڑی میں پاکستان میں پناہ لیتے ہیں، ہم نے اگر اسے ناراض کر دیا تو ہم کل کہاں جائیں گے جب کہ باقی 13 پاکستان کے سخت مخالف ہیں اور بدقسمتی سے یہ اس وقت فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں، آپ یہ جان کر حیران ہوں گے یہ 13 طالبان لیڈر بھی برس ہا برس پاکستان میں رہے اور پاکستان نے جی جان سے ان کی حفاظت کی، طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوانزادہ ہیں، یہ 1979 میں خاندان سمیت کوئٹہ شفٹ ہوئے اور 1996 تک کوئٹہ میں رہے، تعلیم بھی پاکستانی مدارس سے حاصل کی، یہ 2001 میں دوبارہ کوئٹہ میں پناہ گزین ہوگئے اور پاکستان نے انھیں دوبارہ 20 سال دنیا بھر سے چھپا کر رکھا لیکن یہ اس وقت پاکستان کے دشمن نمبر ون ہیں، یہ بھارت اور امریکا دونوں سے ڈالر وصول کرتے ہیں اور پاکستان پر حملوں کی اجازت دیتے ہیں۔
صدر ابراہیم طالبان کے نائب وزیر داخلہ ہیں، اصل وزیر داخلہ سراج الدین حقانی ہیں لیکن پاکستانی ہمدرد ہونے کی وجہ سے سپریم کمانڈر نے ان کے اختیارات سلب کرکے صدر ابراہیم کو دے دیے ہیں، یہ بھی پاکستان کے سخت مخالف ہیں، ان کی زندگی کا بڑا حصہ پشاور میں گزرا اور پاکستان نے ان کی میزبانی کی، ملا عبدالغنی برادر نائب وزیراعظم ہیں، انھوں نے ملاعمر کے ساتھ مل کر طالبان تنظیم بنائی تھی، یہ 21 سال کوئٹہ میں رہے لیکن یہ بھی آج انڈین اور امریکن نواز ہیں اور پاکستان سے نفرت کرتے ہیں۔
ملا یعقوب ملا عمر کے بڑے بیٹے جب کہ طالبان کے وزیر دفاع اور ڈپٹی کمانڈر ہیں، یہ بھی طویل عرصہ کوئٹہ میں رہے لیکن آج یہ بھی ہمارے مخالف ہیں جب کہ ان کا ذاتی کردار یہ ہے ڈاکٹر ایمن الظواہری سراج الدین حقانی کے گھر میں رہتے تھے، ملا یعقوب نے دوحا میں امریکیوں کو بتا دیا اور امریکا نے 31 جولائی 2022کو ڈرون حملے کے ذریعے انھیں مار دیا، کابل میں لوگ بتاتے ہیں ملایعقوب نے اس "وفاداری" کا بھاری معاوضہ وصول کیا، ملا عبدالحق واثق طالبان کے انٹیلی جنس چیف ہیں، یہ گوانتانا موبے میں قید تھے، ان کی رہائی میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن یہ بھی اب را کے ذریعے بی ایل اے کو ٹریننگ دے رہے ہیں اور اس کی حفاظت کر رہے ہیں، ملا محمد زئی ہلمند، قندہار اور نیم روز میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے کیمپس کے نگران ہیں، یہ بہرحال جلاوطنی کے زمانے میں ایران میں رہے تھے اور ملا عبدالقیوم ذاکر پاک افغان بارڈرز کا کمانڈر ہے۔
یہ قندہاری اور انتہائی سخت مزاج ہے، یہ پکتیا میں ٹی ٹی پی کا البدر ٹریننگ کیمپ چلا رہا ہے، اس نے پاکستان میں انگور اڈہ کے لیے 300، میران شاہ کے لیے 200 اور اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ کے لیے 500 دہشت گرد بھجوائے تھے، پاکستانی اداروں نے اس کی باقاعدہ گفتگو ریکارڈ کی جس میں یہ پاکستان میں ٹارگٹ بتا رہا تھا، قندہار میں اس وقت بھی ملا عمر کے گھر میں 300 خودکش حملہ آور تیار بیٹھے ہیں، ہلمند کا کور کمانڈر ملا شرف الدین تقی افغانستان کے بلوچوں کو بلوچستان میں لڑنے کی تربیت دے رہا ہے جب کہ قندہار اور کابل میں انڈین ماہرین طالبان کو میزائل بنا کر دے رہے ہیں۔
دو تین ماہ میں طالبان پاکستانی طیاروں پر میزائل داغیں گے، اس جنگ میں بھی طالبان نے دو روسی میزائل داغے، یہ انھیں انڈیا نے قابل استعمال بنا کر دیے تھے اور سرحد پار سے یہ خبریں بھی آرہی ہیں ڈاکٹر ایمن الظواہری نے بدخشاں میں روسی ساختہ جوہری بم چھپا رکھے تھے، یہ طالبان کے ہاتھ لگ گئے ہیں اوربھارتی ماہرین انھیں یہ چلانے کی ٹریننگ دے رہے ہیں لہٰذا اب پیچھے کیا رہ گیا؟
پاکستان کے پاس اب لڑنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ورنہ طالبان انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کو تباہ کر دیں گے، افغانستان تاریخ کے کسی بھی حصے میں آزاد نہیں رہا، یہ ہمیشہ کسی نہ کسی عالمی طاقت کے زیر تسلط رہے لہٰذا ان سے نبٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے طاقت یا رقم، امریکا رقم دے کر جان چھڑا رہا ہے جب کہ ہمارے پاس طاقت کے سوا کوئی چارہ نہیں، آپ کو ان کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا ورنہ یہ آپ کو بیٹھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑیں گے۔
#story
#columns
#
October 16, 2025
Pakistan & Afghanistan Relations
February 25, 2022
LAST CHANCE FOR PAKISTAN
یہ آخری موقع ہے، ہم نے اگر یہ موقع بھی کھو دیا تو ہم بحیثیت ریاست ماضی کا قصہ بن جائیں گے، قدرت نے ہمیں آخری موقع سے قبل تین مواقع دیے تھے مگر ہم نے قدرت کی مہربانی سے فائدہ نہیں اٹھایا، وہ مواقع کیا تھے، ہم آخری موقع کی طرف جانے سے قبل ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
ہمیں پہلا موقع صدر ایوب خان کے دور میں ملا، ایوب خان کے دور میں سوویت یونین اور امریکا دو سپر پاور تھیں اور برصغیر اس وقت دونوں سپر پاورز کا میدان جنگ تھا، خطے میں تین بڑی طاقتیں تھیں، چین، بھارت اور پاکستان۔ بھارت سوویت یونین کا اتحادی بن گیا، چین سوشلسٹ ملک تھا، یہ نظریاتی لحاظ سے روس کے قریب اور امریکا سے دور تھا، پاکستان غیر جانبدار تھا چنانچہ امریکا کے پاس پاکستان کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، امریکا نے پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔
ایوب خان نے یہ ہاتھ تھام لیا، ہم پر ترقی کے دروازے کھل گئے، پاکستان ساٹھ کی دہائی میں ایشیا میں ترقی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا، ہمارے ملک میں ڈیم بنے، سڑکیں، پل اور نہریں بنیں، ہم نے ایشیا میں بجلی سے چلنے والی پہلی ٹرین چلائی، کراچی میں زیر زمین میٹرو کے لیے کھدائی ہوئی، پاکستان خطے میں فیملی پلاننگ شروع کرنے والا پہلا ملک تھا، ملک میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنیں، صنعتی یونٹس لگے، ٹیلی ویژن شروع ہوا۔
پی آئی اے ایشیا کی سب سے بڑی ائیر لائین بنی، ہم نے نئے بینک بھی بنائے، اسلام آباد کے نام سے ایشیا کا جدید ترین شہر بھی آباد کیا اور ہماری مرچنٹ نیوی دنیا کی تمام بڑی بندرگاہوں پر بھی دستک دینے لگی، ترقی کا یہ سفر جاری رہتا تو پاکستان 1980ء تک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتا لیکن پھر ہم نے ترقی کا میدان چھوڑ کر سیاست کی غلیظ نالی میں چھلانگ لگا دی، ہمارا ملک بھی ٹوٹ گیا، ہم دنیا بھر کی نظر میں بھی مشکوک ہو گئے اور ہماری ترقی کو ریورس گیئر بھی لگ گیا، بھٹو صاحب نے ایوب خان سے بدلہ لینے کے لیے پوری قومی پالیسی بدل دی، ہم امریکا سے روس چلے گئے۔
ملک میں اسلامی سوشلزم آیا اور پرائیویٹ ادارے قومیا لیے گئے، ہماری پالیسی کی اس شفٹ نے امریکا اور یورپی اتحادیوں کو پریشان کر دیا اور یہ پاکستان کا متبادل تلاش کرنے لگے، امریکا نے ہم سے مایوس ہو کر اپنے دروازے متحدہ عرب امارات اور ایران پر کھول دیے، امریکا نے انڈیا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات ٹھیک کر لیے اور یہ چین کے ساتھ بھی فاصلے کم کرنے لگا۔
ہم 1970ء تک خطے میں امریکا کے واحد اتحادی تھے لیکن 1972ء کے بعد متحدہ عرب امارات، بھارت اور چین بھی امریکا کی میز پر آگئے اور ایران بھی امریکا کا "بڈی" بن گیا جب کہ ہم باہر دہلیز کی طرف دھکیلے جانے لگے یوں ہم نے 1960ء اور 1970ء کی دہائی کا پہلا موقع ضایع کر دیا۔
ہمیں دوسرا موقع افغان روس جنگ کی صورت میں ملا، امریکا کے پاس 1980ء میں پاکستان کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، چین اور بھارت روس کے اتحادی تھے، ایران میں انقلاب آ چکا تھا اور سعودی عرب اور یو اے ای کے پاس فوج نہیں تھی چنانچہ ہم واحد ملک تھے جو اس نازک گھڑی میں امریکا کی مدد کر سکتے تھے لہٰذا ہم 1980ء میں اپنے سارے قرضے بھی معاف کرا سکتے تھے۔
پاکستان کو سنگا پور، تائیوان اور کوریا کی طرح سرمایہ کار ملک بھی بنا سکتے تھے اور امریکا سے ملک بھر میں جدید انفرا سٹرکچر بھی بچھوا سکتے تھے لیکن ہم نے جنرل ضیاء الحق کو یونیفارم میں صدر قبول کرانے کے سوا کچھ نہ کیا، ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ملک کو بارود، افغان مہاجرین، بم دھماکوں، ہیروئن اور قرضوں کی دلدل بنا دیا، ہمارے معاشرے کی جڑیں تک کھوکھلی ہو گئیں، ہم نے دوسرا موقع بھی کھو دیا۔
ہمیں تیسرا موقع نائین الیون کے بعد ملا تھا، امریکا ہر حال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا چاہتا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس، چین، بھارت، ترکی، سعودی عرب اور یو اے ای ہمارے خطے کے تمام ممالک امریکا کے ساتھی تھے، ایران بھی طالبان حکومت کے خلاف تھا چنانچہ یہ بھی امریکا کے خلاف ہونے کے باوجود طالبان کے معاملے میں امریکا کے ساتھ تھا لیکن ان تمام اتحادیوں کے باوجود امریکا پاکستان کے بغیر یہ جنگ نہیں لڑ سکتا تھا، ہم اگر اس وقت عقل سے کام لیتے تو ہم اپنے ملک کا مقدر بدل سکتے تھے۔
ہم قرضے معاف کراتے، ملک میں صنعتی یونٹس لگواتے، پاکستان کو عالمی منڈی بناتے اور غربت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باہر آ جاتے لیکن افسوس اس بار جنرل پرویز مشرف نے خود کو یونیفارم میں صدر منوا کر تیسرا موقع بھی ضایع کر دیا، ہم امریکا اور طالبان دونوں کو خوش رکھنے کے چکر میں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے، آج افغانستان میں امن ہو رہا ہے اور پاکستان عالمی دہشت گردوں کا میدان جنگ بن گیا ہے، ہم بارہ سال سے مر رہے ہیں لیکن امریکا سے فائدہ چین، بھارت، سعودی عرب، یو اے ای اور سینٹرل ایشیا کے ممالک اٹھا رہے ہیں۔
دنیا میں 60ء اور 70ء کی دہائیاں صنعتی انقلاب کا دور تھا، ہم نے وہ دور ضایع کر دیا، 1980ء کی دہائی سرمایہ کاری کا دور تھا، ہم نے وہ بھی ضایع کر دیا اور 2000ء سے 2010ء تک سروسز کے شعبے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور تھا، ہم نے یہ تینوں مواقع، یہ تینوں دور ضایع کر دیے، ہمارے پاس اب چوتھا اور آخری موقع بچا ہے، ہم نے اگر یہ بھی ضایع کر دیا تو ہم واقعی تاریخ کی اندھی گلیوں میں گم ہو جائیں گے، یہ آخری موقع کیا ہے؟ میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کو پاکستان کی تازہ جغرافیائی پوزیشن سمجھانا چاہتا ہوں۔
پاکستان اس وقت تین اہم معاشی طاقتوں کے درمیان موجود ہے، ہمارے ایک طرف قدرتی وسائل سے مالامال سینٹرل ایشیا ہے، یہ خطہ تیل، گیس، معدنیات، پانی اور بجلی سے مالا مال ہے، سینٹرل ایشیا کے ممالک اپنے قدرتی وسائل فروخت کرنا چاہتے ہیں، یورپ 1980ء سے خام مال کے بجائے تیار شدہ مصنوعات خرید رہا ہے۔
یہ تیل، گیس، بجلی اور معدنیات کا خریدار نہیں رہا، دنیا میں اس وقت قدرتی وسائل کے تین بڑے خریدار ہیں، چین، امریکا اور بھارت۔ پاکستان چین، بھارت اور سینٹرل ایشیا کے درمیان واقع ہے چنانچہ پائپ لائین بنے، بجلی کے کھمبے لگیں یا پھر سڑک بنے ہم درمیان میں ہوں گے، دوم، چین اور بھارت دنیا کی دو بڑی صنعتی طاقتیں ہیں، سینٹرل ایشیا، مڈل ایسٹ، یورپ اور امریکا ان دونوں طاقتوں کی منڈیاں ہیں، چین دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے۔
یہ ہر سال شنگھائی پورٹ سے 466 بلین ڈالر کا سامان ایکسپورٹ کرتاہے، چین کی یہ پورٹ سینٹرل ایشیا، مڈل ایسٹ اور یورپ سے بہت دور ہے، چین کے بحری جہاز7ہزار چار سو دو کلو میٹر سفر کر کے مڈل ایسٹ، سینٹرل ایشیا اور یورپ پہنچتے ہیں، چین یہ فاصلہ کم کرنا چاہتا ہے اور پاکستان چین کی مدد کر سکتا ہے، بھارت بھی سینٹرل ایشیا کو اپنی مارکیٹ بنانا چاہتا ہے، یہ پاکستان سے گزر کر افغانستان، ایران اور سینٹرل ایشیا جانا چاہتا ہے۔
چین نے 1980ء کی دہائی میں گوادر کاشغر روٹ تیار کیا، چین کا منصوبہ تھا یہ گوادر پورٹ تیار کرے، کاشغر سے گوادر تک ریلوے لائین اور سڑک بنائے، کاشغر کو ملک کی سب سے بڑی ڈرائی پورٹ بنائے، چینی مصنوعات کاشغر آئیں، وہاں سے گوادر پہنچیں اور گوادر سے دنیا بھر کی منڈیوں میں پہنچا دی جائیں، کاشغر سے گوادر تک روٹ پر 32 ارب ڈالر خرچ ہوں گے، چین یہ سرمایہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہے، چینی صدر پاکستان آئیں گے، گوادر کاشغرمعاہدے پر دستخط ہوں گے اور کام شروع ہو جائے گا لیکن چینی صدر کے دورے سے قبل پاکستان میں چند نئے ایشوز سامنے آ رہے ہیں۔
چین اور پاکستان نے گوادر کاشغر کے لیے تین روٹس تیار کیے ہیں، مشرقی، مغربی اور متبادل روٹ، مشرقی روٹ میں سڑک گوادر سے گڈانی، خضدار، رتو ڈیرو، سکھر، ملتان، لاہور، اسلام آباد، حویلیاں اور حویلیاں سے کاشغر پہنچے گی، یہ روٹ پاکستان کے چاروں صوبوں سے گزرے گا، مغربی روٹ گوادر، آواران، رتو ڈیرو، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، ڈی جی خان، ڈی آئی خان، سوات اور گلگت سے ہوتا ہوا کاشغر جائے گاجب کہ تیسرا متبادل روٹ گوادر، تربت، پنجگور، قلات، کوئٹہ، ڈی آئی خان، سوات اور گلگت سے کاشغر پہنچے گا، چین کو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے حالات پر یقین نہیں، چین کا خیال ہے یہ اگر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے سڑک گزارتا ہے تو قافلے بھی لوٹ لیے جائیں گے۔
چینی لوگ بھی اغواء ہوں گے اور یہ سڑکیں بھی بلاک ہوتی رہیں گی یوں یہ وقت پر ڈلیوری نہیں دے سکے گا، چین کا یہ خدشہ غلط نہیں کیونکہ بلوچستان میں چینی انجینئرز کے اغواء اور قتل کی بے شمار وارداتیں ہو چکی ہیں، چین شروع میں وہ مشرقی روٹ بنانا چاہتا ہے جو سندھ اور پنجاب سے ہوکر کاشغر پہنچے گا لیکن بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی سیاسی قیادت کو یہ سودا منظور نہیں، اسفند یار ولی نے مشرقی روٹ کو "نیا کالا باغ" بنانے کی دھمکی دے دی جب کہ بلوچ لیڈر گوادر کو اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں، چینی حکام اس صورت حال کو خوف بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔
دنیا میں راہ داریوں کا دور ہے اور ہم چین، بھارت اور سینٹرل ایشیا کے درمیان "چونگی ریاست" یا ٹول پلازہ بن کر اربوں ڈالر سالانہ کما سکتے ہیں، یہ روٹ ہمارے ملک میں ہزاروں گودام بھی بنوائے گا، نئی فیکٹریاں اور انڈسٹریاں بھی لگوائے گا، لاکھوں نئی نوکریاں بھی پیدا کرے گا اور ہمارے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہتر بنائے گا لیکن ہم نے اگر یہ موقع بھی کھو دیا تو پھر دنیا کے پاس یہ آپشن بچے گا، یہ پاکستان کو "مائینس" کر کے نیا روٹ بنائے، چین تاجکستان، افغانستان اور ایران سے سڑک گزارے اور بھارت بلوچستان کی افراتفری میں سرمایہ کاری کرے۔
پاکستان ٹوٹ جائے، بھارت سندھ اور بلوچستان نئی ریاستوں کے ساتھ معاہدہ کرے، بھارت سندھ اور بلوچستان روٹ بنائے اور چین تاجکستان اور افغانستان سے ہوتا ہوا ایران پہنچے اور یہ وہاں آپس میں مل جائیں، یہ روٹ بہر حال بن کر رہے گا کیونکہ یہ سینٹرل ایشیا، چین اور بھارت تینوں کی معاشی بقا کے لیے ضروری ہے۔
ہم نے اب یہ فیصلہ کرنا ہے، یہ روٹ موجودہ پاکستان سے گزرے گا یا پھر اس نئے پاکستان سے گزرے گا جو چار چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستوں میں تقسیم ہو چکا ہو گا، ہم وفاق کو بچا لیں یا وفاق کو توڑ دیں، ہمارے پاس اب صرف ایک آپشن باقی ہے اور اگر خدانخواستہ یہ ہو گیا تو ہم اس سلوک کو "ڈیزرو" کریں گے کیونکہ جو قوم ہر موقع ضائع کر دے، جو قوم ترقی کے خلاف ہو وہ قدرت کی نظر میں ٹوٹنا اور ذلیل ہونا ڈیزرو کرتی ہے۔
February 09, 2020
BUSINESS, INVESTMENT
October 19, 2018
CLEAN AND GREEN PAKISTAN
کلین اینڈ گرین پاکستان
لندن کی آبادی 1750ءسے 1810ءکے درمیان 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ شہرمیں ان دنوں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں کا دباﺅ برداشت نہیں کر پا رہی تھیں‘ لندن میں سیوریج سسٹم نہیں تھا‘ ہر گھر کے سامنے سپٹک ٹینک ہوتا تھا‘ڈیٹا کے مطابق شہر میں دو لاکھ گٹڑ تھے اور یہ گٹڑ صبح شام ابلتے رہتے تھے‘ گندا پانی لندن کی گلیوں میں بہتا تھا‘بارش اس غلیظ پانی کو بہا کر دریائے تھیمز میں لے جاتی تھی‘ میٹرو پولیٹن بعدازاں دریا کا پانی پمپ کر کے گھروں کو سپلائی کر دیتی تھی اور یوں شہری اپنا سیوریج پیتے تھے‘ شہر کے غرباءعموماً تہہ خانوں میں رہتے تھے‘ گھروں کے یہ حصے اکثر اوقات سیوریج کے پانی سے بھرے رہتے تھے یا پھر وہاں گندے پانی کی سیلن ہوتی تھی‘ یہ گندگی بیماری میں تبدیل ہوئی اور1831ءمیں لندن میں ہیضے کی خوفناک وباءپھوٹ پڑی‘ 55 ہزار لوگ مارے گئے‘ یہ وبائ‘ گندگی اور بدبو سفر کرتے کرتے ہاﺅس آف کامنز کے اندر تک پہنچ گئی‘ 1858ءمیں سیلن کے اثرات برطانوی پارلیمنٹ کے فرش‘ دیواروں اور ستونوں میں بھی دکھائی دینے لگے‘ ہاﺅس آف کامنز کے پردے تک بدبودار پانی میں بھیگ گئے اور ارکان پارلیمنٹ ناک پر رومال رکھ کر اسمبلی آنے پر مجبور ہو گئے‘ یہ صورت حال ناقابل برداشت تھی چنانچہ گورنمنٹ نے اس کے تدارک کا فیصلہ کیا‘ حکومت کو مختلف ماہرین نے مختلف تجاویز دیں لیکن یہ تمام علاج عارضی تھے‘ حکومت اس کا کوئی مستقل حل نکالنا چاہتی تھی‘حکومت نے یہ ذمہ داری جوزف بازل گیٹ کو دے دی‘ وہ اس وقت میٹرو پولیٹن کا چیف انجینئر تھا‘ وہ ذہین‘ معاملہ فہم اور لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا ماہر تھا‘ جوزف نے پورے لندن کا سروے کرایا‘تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیااور ہر شخص سے پوچھا وہ کتنی بار واش روم استعمال کرتا ہے‘ استعمال اور تعداد کو بعد ازاں آپس میں ضرب دی‘ اسے تین سے ضرب دی اور پھر اس ڈیٹا کو پائپوں سے ضرب دے کر لندن میں سیوریج کا سسٹم بچھانا شروع کر دیا‘ جوزف نے پورے شہر کو سیوریج سے جوڑا‘
شہر سے دس کلو میٹر دور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا‘ سیوریج لائین کو اس پلانٹ سے منسلک کیا‘ سیوریج کا پانی صاف کیا اور پھروہ صاف پانی دریا میں ڈال دیا‘ لندن کا سیوریج ایشو ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو گیا‘ جوزف کا سسٹم کس قدر مکمل اور شاندار تھا حکومت کو اس کا اندازہ 1960ءکی دہائی میں ہوا‘ لندن میں1960ءمیں پراپرٹی کا بوم آیا‘ اپارٹمنٹس ٹاورز اور ہائی رائز بلڈنگز بنیں اور سیاحوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہو گیا‘ حکومت کا خیال تھا شہر کا سیوریج سسٹم چوک ہو جائے گا اور میٹرو پولیٹن اس کی توسیع پر مجبور ہو جائے گی لیکن میئریہ جان کر حیران رہ گیا جوزف بازل گیٹ کا سسٹم یہ دباﺅ آسانی سے برداشت کر گیا‘
شہر میں کسی جگہ سیوریج چوک ہوا اور نہ ہی بہاﺅ میں رکاوٹ آئی‘ جوزف بازل گیٹ کا یہ سسٹم بعد ازاں پورے برطانیہ اور پھر یورپ کے تمام ملکوں کے تمام بڑے شہروں میں بچھایا گیا‘ فرانس‘ جرمنی اور سپین نے اس سسٹم میں ایک اضافہ کر دیا‘ یہ ملک سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کر کے گھروں میں واپس بھجواتے تھے‘ یہ پانی کموڈز میں دوبارہ استعمال ہوتا ہے‘ یورپ کے نوے فیصد گھروں میں پانی کی دو لائین بچھائی جاتی ہیں‘ پہلی لائین صاف پانی سپلائی کرتی ہے‘
لوگ یہ پانی پیتے اور اس سے کھانا پکاتے ہیں جبکہ دوسری لائین میں ٹریٹمنٹ شدہ پانی ہوتا ہے‘ یہ پانی باتھ رومز‘ ٹوائلٹس‘ لانڈری‘ لانز اور گیراج میں استعمال ہوتا ہے‘ یورپ میں حکومتیں ہر گھر سے پانی کا بل بھی وصول کرتی ہیں‘ یہ بل پانی میں کفایت شعاری کی عادت بھی ڈالتا ہے اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔آپ مجھ سے اگر پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پوچھیں تو میں گندگی کو کرپشن‘ ناانصافی اور عدم مساوات سے بھی بڑا مسئلہ کہوں گا‘ ہم من حیث القوم گندے لوگ ہیں‘
معاشرہ کچن سے شروع ہوتا ہے اور واش روم میں ختم ہوتا ہے اور ہماری یہ دونوں جگہیں انتہائی گندی ہوتی ہیں‘ آپ خواہ کروڑ پتی لوگوں کے گھروں میں بھی چلے جائیں‘ آپ خواہ کسی شہر کی کسی گلی میں نکل جائیں‘ آپ کو وہاں گندگی کے ڈھیر ملیں گے‘ ہماری مسجدوں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں بھی گندگی ہوتی ہے‘ آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے واش رومز دیکھ لیجئے‘ آپ کو وہاں بھی صابن نہیں ملے گا‘ حکومت کے سارے واش رومز گندے ہوتے ہیں‘ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی میں بھی کچرہ ٹھکانے لگانے کا کوئی ٹھوس بندوبست نہیں‘ اسلام آباد کا آدھا سیوریج نالوں اور ڈیم میں جاتا ہے‘
لاہور کا گند راوی اور کراچی کا کچرہ سیدھا سمندر میں گرتا ہے‘ آپ ملک کے کسی سیاحتی مقام پر چلے جائیں‘ آپ کو وہاں گند کے ڈھیر ملیں گے‘ ہم 21 ویں صدی میں بھی لوگوں کو واش روم استعمال کرنے کا طریقہ نہیں سکھا سکے‘ ہم لوگوں کو یہ نہیں بتا سکے صابن سے ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے‘ ہم انہیں یہ نہیں سمجھا سکے آپ جو گند سڑکوں پر پھینک رہے ہیں وہ اڑ کر دوبارہ آپ کے گھر آئے گا‘وہ آپ کی سانس کی نالیوں کے ذریعے آپ کے جسم میں جائے گا‘ ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے گٹڑ کا پانی زمین میں موجود پانی میں شامل ہو جاتا ہے‘ یہ غلیظ پانی صاف پانی میں شامل ہوتا ہے‘
ہم اور ہمارے خاندان یہ پانی پیتے ہیں اور یوں ہم مہلک امراض کا نشانہ بن جاتے ہیں اور ہم لوگوں کو آج تک یہ بھی نہیں بتا سکے ہمارا ملک اگر ہائیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے ‘ ٹی بی میں پانچویں‘ شوگر میںساتویںاور گردے کے امراض میں آٹھویں نمبر پر ہے یا ہمارے ملک میں ہر سال تین لاکھ لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو اس کی اصل وجہ گند ہے‘ ہم لوگ گندے ہاتھوں سے گندے برتنوں میں کھاتے اور گندا پانی پیتے ہیں چنانچہ ہم صحت مند کیسے ہو سکتے ہیں؟۔
میں نئی حکومتوں کی حماقتوں کا ناقد ہوں لیکن حماقتوں کے اس انبار میں یہ لوگ کلین اور گرین پاکستان کے نام سے ایک اچھا کام بھی کر رہے ہیں‘ یہ کام ستر سال پہلے شروع ہونا چاہیے تھا تاہم دیر آید‘ درست آید‘ یہ کام اگر آج بھی شروع ہو جائے تو یہ بیمارستان صحت مندستان میں تبدیل ہو جائے گا لیکن آپ کو اس کےلئے جوزف بازل گیٹ کی طرح لمبی پلاننگ کرنا ہوگی‘ گندگی کینسر کی طرح ہوتی ہے‘ آپ زخم پر پٹی باندھ کراس کا علاج نہیں کر سکتے لہٰذا وزیراعظم یا وزراءاعلیٰ صاف سڑک پر صاف جھاڑو پھیر کر پوری قوم کو صاف ستھرا نہیں بنا سکیں گے‘ گند ہماری فطرت‘ ہماری عادت ہے‘
آپ کو یہ عادت بدلنے کےلئے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا‘ آپ کو پرسنل ہائی جین سے لے کر ماحولیات تک صفائی کا سلیبس بھی بنانا ہوگا اور یہ سلیبس پہلی سے دسویں جماعت تک سکولوں میں بھی متعارف کرانا ہوگا‘ آپ کو پورے پاکستان میں پبلک ٹوائلٹس بھی بنوانے ہوں گے اور عوام کو ان کے استعمال کا طریقہ بھی سکھانا ہوگا‘ ہم آج بھی پینے کا صاف اور میٹھا پانی فلش میں بہاتے ہیں‘ ہمیں یہ ٹرینڈ بھی فوراً بدلنا ہوگا‘ حکومت فوری طور پر نئی تعمیرات کےلئے نئے بائی لاز بھی بنائے‘
فلش اور صاف پانی کی لائین بھی الگ الگ کرے اور یہ ہر گھر میں چھوٹے سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بھی لازمی قرار دے‘ یہ پلانٹ استعمال شدہ پانی صاف کر کے دوبارہ فلش کے ٹینکوں میں ڈالے اور پھر صاف کرے اور پھر مین سیوریج لائین میں ڈالے‘ ہم اگریہ بندوبست پورے ملک میں نہیں کر سکتے تو نہ سہی لیکن ہم یہ قانون ملک کے دس بڑے شہروں میں تو بنا سکتے ہیں‘ ہم ان شہروں کی حالت تو بدل سکتے ہیں‘ حکومت اسی طرح کچرہ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی ٹھیک کرے‘
ہر شہر میں صفائی کے ڈائریکٹوریٹ بنائے جائیں‘ لوگ بھرتی کئے جائیں‘ گھروں سے فیس لی جائے اور پھر اگر کسی شہر کی کسی گلی میں کچرہ نظر آئے تو آپ ذمہ داروں کو الٹا لٹکا دیں‘ دنیا میں کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹس بھی آ چکے ہیں‘ حکومت ہر شہر میں یہ پلانٹس بھی لگوا سکتی ہے یوں بجلی کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا اور کچرہ بھی ٹھکانے لگ جائے گا اور حکومت ہر کچے اورپکے مکان کےلئے باتھ روم کا سائز اور ڈیزائن بھی فائنل کر دے‘ پلمبرز کو اس ڈیزائن کی ٹریننگ دی جائے اور انہیں پابند بنایا جائے‘
جو پلمبر خلاف ورزی کرے گا اسے سات سال قید بامشقت دے دی جائے گی‘ ریستورانوں اور دکانوں میں بھی باتھ روم لازمی ہوں اور ان کا باقاعدہ سٹینڈرڈ ہو‘ موٹروے پولیس کی طرح سینیٹری پولیس بھی بنائی جائے اور یہ پولیس گند پھیلانے والوں کو بھاری جرمانہ کرے‘ یہ گھروں اور پبلک باتھ رومز کا معائنہ بھی کرے اور اسی طرح ملک میں زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نظر نہیں آنا چاہیے‘ زمین کی ایک ایک انچ پر پودا ہونا چاہیے‘ وہ خواہ پھول ہو‘ گھاس ہو یا پھر درخت ہو‘ پاکستان کے ہر طالب علم‘ ہر ملازم اور ہر کمپنی کےلئے درخت لگانا لازمی قرار دے دیا جائے‘
لوگ ہر سال ٹیکس ریٹرن کی طرح گرین ریٹرن بھی فائل کریں اور حکومت اس کا بھی آڈٹ کرے اور آخری تجویز ‘برادر اسلامی ملک ازبکستان نے دس سال میں ملک کو صاف کر کے کمال کر دیا‘ آپ دس بڑے شہروں کی کارپوریشنز کے دو دو لوگ ازبکستان بھجوائیں‘ یہ لوگ ان سے صفائی کا طریقہ سیکھیں اورکام شروع کرا دیں‘ ہمارا ملک دو تین برسوں میں کلین بھی ہو جائے گا اور گرین بھی ورنہ پھر اسی طرح ہمارے وزیراعظم ہر سال جھاڑو دیتے رہیں گے‘ سڑکوں پر گند میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ہم اسی طرح بیمار ہوتے چلے جائیں گے۔
February 17, 2018
تحریک انصاف لودھراں این۔اے۔ 154 ضمنی الیکشن کیوں ہاری Why Tehrek e Insaf Fail in Lodhran NA.154
لودھراں سیمپل NA-154


ASMA JAHANGIR HUMAN RIGHTS LAWYER عاصمہ جہنگیر
ہم ہوں یا نہ ہوں (تحریر جاوید چوہدری)














































