Showing posts with label JAVED CHOUDHRY. Show all posts
Showing posts with label JAVED CHOUDHRY. Show all posts

October 16, 2025

Pakistan & Afghanistan Relations


"افغانستان"
جاوید چودھری 

لاہور میں میرے ایک دوست تھے، وہ افغانستان سے آئے تھے لہٰذا ہم انھیں افغان بھائی کہتے تھے، قالینوں کا کاروبار کرتے تھے اور ارب پتی تھے، ان کے پاس تیس چالیس ملازم تھے لیکن ان میں ایک بھی افغان نہیں تھا، دو تین کو چھوڑ کر سارے پنجابی تھے، میں نے ان سے ایک دن پوچھا "افغان بھائی آپ خود نیم روز سے ہیں لیکن آپ نے اپنے گھر اور دفتر میں کوئی افغان ملازم نہیں رکھا، آپ کے چوکی دار تک بلوچ ہیں۔

اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟" افغان بھائی نے مسکرا کر جواب دیا " ہم افغان فطرتاً اچھے لوگ ہیں لیکن ہمیں وفادار رکھنے کے لیے آپ کا امیر یا طاقتور ہونا ضروری ہے" وہ تھوڑی دیر رک کر بولے "افغان کی فطرت ہے یہ آپ کے ساتھ لالچ سے رہے گا یا پھر خوف اس کی بنیاد ہوگی، یہ برابری یا عزت کی وجہ سے کبھی آپ کے ساتھ نہیں رہتا، آپ انھیں دبا لیں یا پھر خرید لیں یہ آپ کے ساتھ چلتے رہیں گے مگر جس دن آپ کے پاس یہ دونوں ٹولز نہیں ہوں گے اس دن یہ آپ کا گلہ کاٹ دیں گے اور یہ اس وقت آپ کی ساری نیکیاں فراموش کر دیں گے" ان کا کہنا تھا آپ کو اگر دوست یا ملازم چاہیے تو آپ پنجابی کا انتخاب کریں، یہ آپ کو مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑے گا" میں نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور بات بدل دی، میرا خیال تھا افغان بھائی پنجاب میں سیٹل ہیں اور ہم پنجابیوں سے بات کر رہے ہیں چناں چہ یہ ہلکا پھلکا مکھن لگا رہے ہیں لیکن آپ یقین کریں جب سے افغانوں کا نیا چہرہ میرے سامنے آیا مجھے افغان بھائی کا ایک ایک لفظ یاد آ گیا۔

پاکستان نے افغانستان کے لیے کیا کیا نہیں کیا؟ ہم نے 80 کی دہائی میں افغانوں کے لیے اپنے سارے گیٹ کھول دیے اور ان دروازوں سے 50 لاکھ افغان پاکستان آ گئے، پاکستان نے انھیں پورے ملک میں آباد ہونے اور کاروبار کی اجازت دے دی، اس کے تین نتائج نکلے، پاکستان کا کلچر بدل گیا، ہم لبرل لوگ تھے، ہم مذہبی شدت پسند ہو گئے، دوسرا ملک میں کلاشنکوف اور منشیات آ گئیں اور اس نے ہماری تین نسلیں برباد کر دیں اور پاکستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا، کوئٹہ، پشاور اور کراچی کبھی پرامن اور صاف ستھرے شہر ہوتے تھے، لوگ چھٹیاں منانے وہاں جاتے تھے لیکن آج آپ ان کی حالت دیکھ لیں، یہ افغانوں کی مہربانی ہے۔

دوسرا افغان جنگ کی وجہ سے ہمارے اسکولوں کا سلیبس تبدیل ہوگیا، پاکستان میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان اسکولوں میں لازمی ہو گئے اور ان کا سلیبس امریکا میں تیار کیاگیا تھا اور اس میں افغان طالع آزماؤں کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا، اسلامیات میں بھی جہاد کی آیات اور احادیث شامل کی گئیں، مسجدوں کے اماموں کو بھی جہاد کی ترویج اور فرقہ پرستی پر لگا دیا گیا چناں چہ آپ آج کا پاکستان دیکھ لیں، تاریخ میں محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور احمد شاہ ابدالی کا کیا کردار تھا، یہ لوگ ہندوستان کیا لینے آتے تھے اور اسلام کے ساتھ ان کا کیا تعلق تھا؟ ہمیں ماننا ہوگا یہ طالع آزما تھے اور یہ ہر سال ہندوستان کو لوٹنے آتے تھے لیکن یونیورسٹی آف نبراسکا نے انھیں 1980میں اسلامی دنیا کے عظیم ہیرو بنا دیا اور ہماری نئی پود نے یہ "نیونارمل" تسلیم کر لیا لہٰذا آپ آج اس جعلی تاریخ کا نتیجہ دیکھ لیں، امریکا نے پروپیگنڈے سے افغانوں کویہ یقین بھی دلا دیا تھا تمہیں آج تک کوئی فتح نہیں کر سکا۔

یہ سراسر جھوٹ تھا، افغانستان کسی بھی دور میں آزاد نہیں رہا تھا، اشوکا سے لے کر امریکا تک یہ ہر دور میں کسی نہ کسی بیرونی طاقت کا مفتوح رہا اور اس وقت تک رہا جب تک کسی دوسرے نے اس پر قبضہ نہیں کیا، آپ تاریخ پڑھ لیں، کیا یہ آشوک، یونانیوں، منگولوں، ازبکوں، ایرانیوں، ترکوں، سکھوں، انگریزوں، روسیوں اور امریکیوں کے زیرتسلط نہیں رہے، حدتو یہ تھی سیالکوٹ کے ایک راجہ منندر عرف ملند نے بھی انھیں فتح کر لیا تھا، اس کی حکومت بھی کابل تک تھی، یہ افغان راجہ رنجیت سنگھ کا مقابلہ بھی نہیں کر سکے تھے، وہ بھی 31 سال خیبر پاس پر قابض رہا اور افغانوں نے چوں تک نہیں کی۔ "افغان ناقابل تسخیر ہیں" یہ فارمولہ بھی پاکستان اور یونیورسٹی آف نبراسکا نے ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے دیا تھا اور انھوں نے اسے سچ مان کر دنیا میں اپنے واحد دوست اور محسن پاکستان پر ہی حملے شروع کر دیے۔

طالبان کون ہیں؟ یہ پاکستان میں پرورش پانے والے افغان ہیں، ہم نے انھیں 1980کی دہائی میں پناہ اور تعلیم دونوں دیے، یہ 1994 میں بھی پاکستان کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے اور 2021میں بھی پاکستان ہی انھیں دوبارہ اقتدار میں لے کر آیا اور دونوں مرتبہ ان کے ہاتھوں ذلیل ہوا، پاکستان نے نائین الیون کے بعد انھیں 20 سال دنیا بھر سے بچا کر رکھا تھا، یہ کوئٹہ، کراچی اور راولپنڈی میں پاکستان کی پناہ میں رہے اور پاکستان نے ہی انھیں امریکا کے انخلاء کے بعد کابل کا تخت پیش کیا اور آپ آج اس کا نتیجہ دیکھ لیں، آپ طالبان کے وزیرخارجہ امیر متقی کی مثال لے لیں، یہ خاندان سمیت 1980 میں پاکستان آئے۔

آج بھی کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں ان کی اربوں روپے کی پراپرٹی ہے، یہ کاروباری لوگ ہیں، انھوں نے پاکستان سے کھربوں روپے کمائے لیکن آج یہ بھارت میں کھڑے ہو کر آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے رہے ہیں اور پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں، یہ کیا ہے؟ کیا اسے محسن کشی نہیں کہا جائے گا؟ دوسرا پاکستان نام نہاد ہی سہی لیکن مسلمان ملک ہے جب کہ بھارتی بت پرست اور مشرک ہیں لیکن آج طالبان مسلمان اور محسن پاکستان کو چھوڑ کر مشرکین کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ خود کو مومن بھی قرار دے رہے ہیں، یہ بھی کیا ہے؟

افغانستان کا اقتدار اس وقت 35 گورنرز، وزراء اور کمانڈرز کے ہاتھ میں ہے، ان میں سے 22 پاکستان کے ساتھ ہیں، ان کا خیال ہے ہم ہر مشکل گھڑی میں پاکستان میں پناہ لیتے ہیں، ہم نے اگر اسے ناراض کر دیا تو ہم کل کہاں جائیں گے جب کہ باقی 13 پاکستان کے سخت مخالف ہیں اور بدقسمتی سے یہ اس وقت فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں، آپ یہ جان کر حیران ہوں گے یہ 13 طالبان لیڈر بھی برس ہا برس پاکستان میں رہے اور پاکستان نے جی جان سے ان کی حفاظت کی، طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوانزادہ ہیں، یہ 1979 میں خاندان سمیت کوئٹہ شفٹ ہوئے اور 1996 تک کوئٹہ میں رہے، تعلیم بھی پاکستانی مدارس سے حاصل کی، یہ 2001 میں دوبارہ کوئٹہ میں پناہ گزین ہوگئے اور پاکستان نے انھیں دوبارہ 20 سال دنیا بھر سے چھپا کر رکھا لیکن یہ اس وقت پاکستان کے دشمن نمبر ون ہیں، یہ بھارت اور امریکا دونوں سے ڈالر وصول کرتے ہیں اور پاکستان پر حملوں کی اجازت دیتے ہیں۔

صدر ابراہیم طالبان کے نائب وزیر داخلہ ہیں، اصل وزیر داخلہ سراج الدین حقانی ہیں لیکن پاکستانی ہمدرد ہونے کی وجہ سے سپریم کمانڈر نے ان کے اختیارات سلب کرکے صدر ابراہیم کو دے دیے ہیں، یہ بھی پاکستان کے سخت مخالف ہیں، ان کی زندگی کا بڑا حصہ پشاور میں گزرا اور پاکستان نے ان کی میزبانی کی، ملا عبدالغنی برادر نائب وزیراعظم ہیں، انھوں نے ملاعمر کے ساتھ مل کر طالبان تنظیم بنائی تھی، یہ 21 سال کوئٹہ میں رہے لیکن یہ بھی آج انڈین اور امریکن نواز ہیں اور پاکستان سے نفرت کرتے ہیں۔

ملا یعقوب ملا عمر کے بڑے بیٹے جب کہ طالبان کے وزیر دفاع اور ڈپٹی کمانڈر ہیں، یہ بھی طویل عرصہ کوئٹہ میں رہے لیکن آج یہ بھی ہمارے مخالف ہیں جب کہ ان کا ذاتی کردار یہ ہے ڈاکٹر ایمن الظواہری سراج الدین حقانی کے گھر میں رہتے تھے، ملا یعقوب نے دوحا میں امریکیوں کو بتا دیا اور امریکا نے 31 جولائی 2022کو ڈرون حملے کے ذریعے انھیں مار دیا، کابل میں لوگ بتاتے ہیں ملایعقوب نے اس "وفاداری" کا بھاری معاوضہ وصول کیا، ملا عبدالحق واثق طالبان کے انٹیلی جنس چیف ہیں، یہ گوانتانا موبے میں قید تھے، ان کی رہائی میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن یہ بھی اب را کے ذریعے بی ایل اے کو ٹریننگ دے رہے ہیں اور اس کی حفاظت کر رہے ہیں، ملا محمد زئی ہلمند، قندہار اور نیم روز میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے کیمپس کے نگران ہیں، یہ بہرحال جلاوطنی کے زمانے میں ایران میں رہے تھے اور ملا عبدالقیوم ذاکر پاک افغان بارڈرز کا کمانڈر ہے۔

یہ قندہاری اور انتہائی سخت مزاج ہے، یہ پکتیا میں ٹی ٹی پی کا البدر ٹریننگ کیمپ چلا رہا ہے، اس نے پاکستان میں انگور اڈہ کے لیے 300، میران شاہ کے لیے 200 اور اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ کے لیے 500 دہشت گرد بھجوائے تھے، پاکستانی اداروں نے اس کی باقاعدہ گفتگو ریکارڈ کی جس میں یہ پاکستان میں ٹارگٹ بتا رہا تھا، قندہار میں اس وقت بھی ملا عمر کے گھر میں 300 خودکش حملہ آور تیار بیٹھے ہیں، ہلمند کا کور کمانڈر ملا شرف الدین تقی افغانستان کے بلوچوں کو بلوچستان میں لڑنے کی تربیت دے رہا ہے جب کہ قندہار اور کابل میں انڈین ماہرین طالبان کو میزائل بنا کر دے رہے ہیں۔

دو تین ماہ میں طالبان پاکستانی طیاروں پر میزائل داغیں گے، اس جنگ میں بھی طالبان نے دو روسی میزائل داغے، یہ انھیں انڈیا نے قابل استعمال بنا کر دیے تھے اور سرحد پار سے یہ خبریں بھی آرہی ہیں ڈاکٹر ایمن الظواہری نے بدخشاں میں روسی ساختہ جوہری بم چھپا رکھے تھے، یہ طالبان کے ہاتھ لگ گئے ہیں اوربھارتی ماہرین انھیں یہ چلانے کی ٹریننگ دے رہے ہیں لہٰذا اب پیچھے کیا رہ گیا؟

پاکستان کے پاس اب لڑنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ورنہ طالبان انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کو تباہ کر دیں گے، افغانستان تاریخ کے کسی بھی حصے میں آزاد نہیں رہا، یہ ہمیشہ کسی نہ کسی عالمی طاقت کے زیر تسلط رہے لہٰذا ان سے نبٹنے کا صرف ایک طریقہ ہے طاقت یا رقم، امریکا رقم دے کر جان چھڑا رہا ہے جب کہ ہمارے پاس طاقت کے سوا کوئی چارہ نہیں، آپ کو ان کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا ورنہ یہ آپ کو بیٹھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑیں گے۔

#story 
#columns

February 25, 2022

LAST CHANCE FOR PAKISTAN


یہ آخری موقع ہے، ہم نے اگر یہ موقع بھی کھو دیا تو ہم بحیثیت ریاست ماضی کا قصہ بن جائیں گے، قدرت نے ہمیں آخری موقع سے قبل تین مواقع دیے تھے مگر ہم نے قدرت کی مہربانی سے فائدہ نہیں اٹھایا، وہ مواقع کیا تھے، ہم آخری موقع کی طرف جانے سے قبل ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

ہمیں پہلا موقع صدر ایوب خان کے دور میں ملا، ایوب خان کے دور میں سوویت یونین اور امریکا دو سپر پاور تھیں اور برصغیر اس وقت دونوں سپر پاورز کا میدان جنگ تھا، خطے میں تین بڑی طاقتیں تھیں، چین، بھارت اور پاکستان۔ بھارت سوویت یونین کا اتحادی بن گیا، چین سوشلسٹ ملک تھا، یہ نظریاتی لحاظ سے روس کے قریب اور امریکا سے دور تھا، پاکستان غیر جانبدار تھا چنانچہ امریکا کے پاس پاکستان کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، امریکا نے پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔

ایوب خان نے یہ ہاتھ تھام لیا، ہم پر ترقی کے دروازے کھل گئے، پاکستان ساٹھ کی دہائی میں ایشیا میں ترقی کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا، ہمارے ملک میں ڈیم بنے، سڑکیں، پل اور نہریں بنیں، ہم نے ایشیا میں بجلی سے چلنے والی پہلی ٹرین چلائی، کراچی میں زیر زمین میٹرو کے لیے کھدائی ہوئی، پاکستان خطے میں فیملی پلاننگ شروع کرنے والا پہلا ملک تھا، ملک میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنیں، صنعتی یونٹس لگے، ٹیلی ویژن شروع ہوا۔

پی آئی اے ایشیا کی سب سے بڑی ائیر لائین بنی، ہم نے نئے بینک بھی بنائے، اسلام آباد کے نام سے ایشیا کا جدید ترین شہر بھی آباد کیا اور ہماری مرچنٹ نیوی دنیا کی تمام بڑی بندرگاہوں پر بھی دستک دینے لگی، ترقی کا یہ سفر جاری رہتا تو پاکستان 1980ء تک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتا لیکن پھر ہم نے ترقی کا میدان چھوڑ کر سیاست کی غلیظ نالی میں چھلانگ لگا دی، ہمارا ملک بھی ٹوٹ گیا، ہم دنیا بھر کی نظر میں بھی مشکوک ہو گئے اور ہماری ترقی کو ریورس گیئر بھی لگ گیا، بھٹو صاحب نے ایوب خان سے بدلہ لینے کے لیے پوری قومی پالیسی بدل دی، ہم امریکا سے روس چلے گئے۔

ملک میں اسلامی سوشلزم آیا اور پرائیویٹ ادارے قومیا لیے گئے، ہماری پالیسی کی اس شفٹ نے امریکا اور یورپی اتحادیوں کو پریشان کر دیا اور یہ پاکستان کا متبادل تلاش کرنے لگے، امریکا نے ہم سے مایوس ہو کر اپنے دروازے متحدہ عرب امارات اور ایران پر کھول دیے، امریکا نے انڈیا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات ٹھیک کر لیے اور یہ چین کے ساتھ بھی فاصلے کم کرنے لگا۔

ہم 1970ء تک خطے میں امریکا کے واحد اتحادی تھے لیکن 1972ء کے بعد متحدہ عرب امارات، بھارت اور چین بھی امریکا کی میز پر آگئے اور ایران بھی امریکا کا "بڈی" بن گیا جب کہ ہم باہر دہلیز کی طرف دھکیلے جانے لگے یوں ہم نے 1960ء اور 1970ء کی دہائی کا پہلا موقع ضایع کر دیا۔

ہمیں دوسرا موقع افغان روس جنگ کی صورت میں ملا، امریکا کے پاس 1980ء میں پاکستان کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، چین اور بھارت روس کے اتحادی تھے، ایران میں انقلاب آ چکا تھا اور سعودی عرب اور یو اے ای کے پاس فوج نہیں تھی چنانچہ ہم واحد ملک تھے جو اس نازک گھڑی میں امریکا کی مدد کر سکتے تھے لہٰذا ہم 1980ء میں اپنے سارے قرضے بھی معاف کرا سکتے تھے۔

پاکستان کو سنگا پور، تائیوان اور کوریا کی طرح سرمایہ کار ملک بھی بنا سکتے تھے اور امریکا سے ملک بھر میں جدید انفرا سٹرکچر بھی بچھوا سکتے تھے لیکن ہم نے جنرل ضیاء الحق کو یونیفارم میں صدر قبول کرانے کے سوا کچھ نہ کیا، ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ملک کو بارود، افغان مہاجرین، بم دھماکوں، ہیروئن اور قرضوں کی دلدل بنا دیا، ہمارے معاشرے کی جڑیں تک کھوکھلی ہو گئیں، ہم نے دوسرا موقع بھی کھو دیا۔

ہمیں تیسرا موقع نائین الیون کے بعد ملا تھا، امریکا ہر حال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا چاہتا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس، چین، بھارت، ترکی، سعودی عرب اور یو اے ای ہمارے خطے کے تمام ممالک امریکا کے ساتھی تھے، ایران بھی طالبان حکومت کے خلاف تھا چنانچہ یہ بھی امریکا کے خلاف ہونے کے باوجود طالبان کے معاملے میں امریکا کے ساتھ تھا لیکن ان تمام اتحادیوں کے باوجود امریکا پاکستان کے بغیر یہ جنگ نہیں لڑ سکتا تھا، ہم اگر اس وقت عقل سے کام لیتے تو ہم اپنے ملک کا مقدر بدل سکتے تھے۔

ہم قرضے معاف کراتے، ملک میں صنعتی یونٹس لگواتے، پاکستان کو عالمی منڈی بناتے اور غربت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باہر آ جاتے لیکن افسوس اس بار جنرل پرویز مشرف نے خود کو یونیفارم میں صدر منوا کر تیسرا موقع بھی ضایع کر دیا، ہم امریکا اور طالبان دونوں کو خوش رکھنے کے چکر میں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے، آج افغانستان میں امن ہو رہا ہے اور پاکستان عالمی دہشت گردوں کا میدان جنگ بن گیا ہے، ہم بارہ سال سے مر رہے ہیں لیکن امریکا سے فائدہ چین، بھارت، سعودی عرب، یو اے ای اور سینٹرل ایشیا کے ممالک اٹھا رہے ہیں۔

دنیا میں 60ء اور 70ء کی دہائیاں صنعتی انقلاب کا دور تھا، ہم نے وہ دور ضایع کر دیا، 1980ء کی دہائی سرمایہ کاری کا دور تھا، ہم نے وہ بھی ضایع کر دیا اور 2000ء سے 2010ء تک سروسز کے شعبے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور تھا، ہم نے یہ تینوں مواقع، یہ تینوں دور ضایع کر دیے، ہمارے پاس اب چوتھا اور آخری موقع بچا ہے، ہم نے اگر یہ بھی ضایع کر دیا تو ہم واقعی تاریخ کی اندھی گلیوں میں گم ہو جائیں گے، یہ آخری موقع کیا ہے؟ میں اس طرف آنے سے پہلے آپ کو پاکستان کی تازہ جغرافیائی پوزیشن سمجھانا چاہتا ہوں۔

پاکستان اس وقت تین اہم معاشی طاقتوں کے درمیان موجود ہے، ہمارے ایک طرف قدرتی وسائل سے مالامال سینٹرل ایشیا ہے، یہ خطہ تیل، گیس، معدنیات، پانی اور بجلی سے مالا مال ہے، سینٹرل ایشیا کے ممالک اپنے قدرتی وسائل فروخت کرنا چاہتے ہیں، یورپ 1980ء سے خام مال کے بجائے تیار شدہ مصنوعات خرید رہا ہے۔

یہ تیل، گیس، بجلی اور معدنیات کا خریدار نہیں رہا، دنیا میں اس وقت قدرتی وسائل کے تین بڑے خریدار ہیں، چین، امریکا اور بھارت۔ پاکستان چین، بھارت اور سینٹرل ایشیا کے درمیان واقع ہے چنانچہ پائپ لائین بنے، بجلی کے کھمبے لگیں یا پھر سڑک بنے ہم درمیان میں ہوں گے، دوم، چین اور بھارت دنیا کی دو بڑی صنعتی طاقتیں ہیں، سینٹرل ایشیا، مڈل ایسٹ، یورپ اور امریکا ان دونوں طاقتوں کی منڈیاں ہیں، چین دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے۔

یہ ہر سال شنگھائی پورٹ سے 466 بلین ڈالر کا سامان ایکسپورٹ کرتاہے، چین کی یہ پورٹ سینٹرل ایشیا، مڈل ایسٹ اور یورپ سے بہت دور ہے، چین کے بحری جہاز7ہزار چار سو دو کلو میٹر سفر کر کے مڈل ایسٹ، سینٹرل ایشیا اور یورپ پہنچتے ہیں، چین یہ فاصلہ کم کرنا چاہتا ہے اور پاکستان چین کی مدد کر سکتا ہے، بھارت بھی سینٹرل ایشیا کو اپنی مارکیٹ بنانا چاہتا ہے، یہ پاکستان سے گزر کر افغانستان، ایران اور سینٹرل ایشیا جانا چاہتا ہے۔

چین نے 1980ء کی دہائی میں گوادر کاشغر روٹ تیار کیا، چین کا منصوبہ تھا یہ گوادر پورٹ تیار کرے، کاشغر سے گوادر تک ریلوے لائین اور سڑک بنائے، کاشغر کو ملک کی سب سے بڑی ڈرائی پورٹ بنائے، چینی مصنوعات کاشغر آئیں، وہاں سے گوادر پہنچیں اور گوادر سے دنیا بھر کی منڈیوں میں پہنچا دی جائیں، کاشغر سے گوادر تک روٹ پر 32 ارب ڈالر خرچ ہوں گے، چین یہ سرمایہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہے، چینی صدر پاکستان آئیں گے، گوادر کاشغرمعاہدے پر دستخط ہوں گے اور کام شروع ہو جائے گا لیکن چینی صدر کے دورے سے قبل پاکستان میں چند نئے ایشوز سامنے آ رہے ہیں۔

چین اور پاکستان نے گوادر کاشغر کے لیے تین روٹس تیار کیے ہیں، مشرقی، مغربی اور متبادل روٹ، مشرقی روٹ میں سڑک گوادر سے گڈانی، خضدار، رتو ڈیرو، سکھر، ملتان، لاہور، اسلام آباد، حویلیاں اور حویلیاں سے کاشغر پہنچے گی، یہ روٹ پاکستان کے چاروں صوبوں سے گزرے گا، مغربی روٹ گوادر، آواران، رتو ڈیرو، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، ڈی جی خان، ڈی آئی خان، سوات اور گلگت سے ہوتا ہوا کاشغر جائے گاجب کہ تیسرا متبادل روٹ گوادر، تربت، پنجگور، قلات، کوئٹہ، ڈی آئی خان، سوات اور گلگت سے کاشغر پہنچے گا، چین کو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے حالات پر یقین نہیں، چین کا خیال ہے یہ اگر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے سڑک گزارتا ہے تو قافلے بھی لوٹ لیے جائیں گے۔

چینی لوگ بھی اغواء ہوں گے اور یہ سڑکیں بھی بلاک ہوتی رہیں گی یوں یہ وقت پر ڈلیوری نہیں دے سکے گا، چین کا یہ خدشہ غلط نہیں کیونکہ بلوچستان میں چینی انجینئرز کے اغواء اور قتل کی بے شمار وارداتیں ہو چکی ہیں، چین شروع میں وہ مشرقی روٹ بنانا چاہتا ہے جو سندھ اور پنجاب سے ہوکر کاشغر پہنچے گا لیکن بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی سیاسی قیادت کو یہ سودا منظور نہیں، اسفند یار ولی نے مشرقی روٹ کو "نیا کالا باغ" بنانے کی دھمکی دے دی جب کہ بلوچ لیڈر گوادر کو اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں، چینی حکام اس صورت حال کو خوف بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

دنیا میں راہ داریوں کا دور ہے اور ہم چین، بھارت اور سینٹرل ایشیا کے درمیان "چونگی ریاست" یا ٹول پلازہ بن کر اربوں ڈالر سالانہ کما سکتے ہیں، یہ روٹ ہمارے ملک میں ہزاروں گودام بھی بنوائے گا، نئی فیکٹریاں اور انڈسٹریاں بھی لگوائے گا، لاکھوں نئی نوکریاں بھی پیدا کرے گا اور ہمارے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہتر بنائے گا لیکن ہم نے اگر یہ موقع بھی کھو دیا تو پھر دنیا کے پاس یہ آپشن بچے گا، یہ پاکستان کو "مائینس" کر کے نیا روٹ بنائے، چین تاجکستان، افغانستان اور ایران سے سڑک گزارے اور بھارت بلوچستان کی افراتفری میں سرمایہ کاری کرے۔

پاکستان ٹوٹ جائے، بھارت سندھ اور بلوچستان نئی ریاستوں کے ساتھ معاہدہ کرے، بھارت سندھ اور بلوچستان روٹ بنائے اور چین تاجکستان اور افغانستان سے ہوتا ہوا ایران پہنچے اور یہ وہاں آپس میں مل جائیں، یہ روٹ بہر حال بن کر رہے گا کیونکہ یہ سینٹرل ایشیا، چین اور بھارت تینوں کی معاشی بقا کے لیے ضروری ہے۔

ہم نے اب یہ فیصلہ کرنا ہے، یہ روٹ موجودہ پاکستان سے گزرے گا یا پھر اس نئے پاکستان سے گزرے گا جو چار چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستوں میں تقسیم ہو چکا ہو گا، ہم وفاق کو بچا لیں یا وفاق کو توڑ دیں، ہمارے پاس اب صرف ایک آپشن باقی ہے اور اگر خدانخواستہ یہ ہو گیا تو ہم اس سلوک کو "ڈیزرو" کریں گے کیونکہ جو قوم ہر موقع ضائع کر دے، جو قوم ترقی کے خلاف ہو وہ قدرت کی نظر میں ٹوٹنا اور ذلیل ہونا ڈیزرو کرتی ہے۔

 

 

February 09, 2020

BUSINESS, INVESTMENT



سرمایہ کاری
‎بیٹا فرش پر بیٹھا تھا‘ والد کے پاؤں گرم پانی کی بالٹی میں تھے‘ وہ والد کے پاؤں باہر نکالتا تھا‘ تپائی پر رکھتا تھا‘ روئی سے صاف کرتا تھا‘ سکرب کرتا تھا اور دوبارہ پانی میں رکھ دیتا تھا‘ وہ مساج والا لگ رہا تھا‘ اس نے اگر سوٹ نہ پہنا ہوتا یا اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا یہ اس دفتر‘ اس کمپنی اور اس فیکٹری کا مالک ہے تو میں اسے ملازم یا مساج والا ہی سمجھتا‘ وہ مالک تھا لیکن وہ زمین پر بیٹھا تھا‘ اس کا والد کرسی پر تھا اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے پاؤں دھو رہا تھا۔
وہ فارغ ہوا‘ اس نے تولیے سے والد کے پاؤں صاف کیے‘ بالٹی اٹھائی‘ باتھ روم میں گیا‘ پانی الٹا‘


‎ہاتھ دھوئے‘ خشک کیے اور میرے سامنے بیٹھ گیا۔میں نے مدت بعد کسی شخص کو اپنے والد کی اتنی خدمت کرتے دیکھا تھا‘ میں حیران بھی تھا اور شرمندہ بھی‘ میرے والد پوری زندگی میرے ساتھ رہے تھے‘ میں ان کی اس طرح خدمت کرنا چاہتا تھا لیکن میں شرمیلے پن اور سستی کی وجہ سے ان کے پاؤں نہ دھو سکا‘ میں مصروفیت کی وجہ سے آخری دنوں میں ان سے روزانہ ملاقات بھی نہ کر سکا لہٰذا میں جب بھی اور جہاں بھی کسی کو اپنے بوڑھے والد کا ہاتھ پکڑے دیکھتا ہوں یا ان کے پاؤں دھوتے یا کندھے دباتے دیکھتا ہوں تو میرے افسوس میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ میں اس وقت بھی دکھی اور خاموش بیٹھا تھا‘ وہ دونوں باپ بیٹا تھوڑی دیر مجھے دیکھتے رہے اور پھر بیک وقت بول پڑے ”جاوید صاحب اصل زندگی یہی ہے“ میں نے چونک کر پہلے بیٹے کی طرف دیکھا اور پھر باپ کی طرف‘ وہ دونوں مسکرا کر میری طرف دیکھ رہے تھے‘ دونوں کے چہروں پر سکون اور خوشی تھی‘ میں نے مدت بعد کسی کے چہرے پر اتنی خوشی اور اتنا سکون دیکھا تھا۔والد نے ہاتھ ملے اور میری طرف دیکھ کر بولا ”میں نے یہ اپنے باس سے سیکھا تھا‘ میں جوانی میں فیصل آباد کی ایک مل میں اکاؤنٹنٹ بھرتی ہو گیا‘ میں مالک کے قریب تھا لہٰذا میری اس سے روز ملاقات ہوتی تھی۔
‎میں نے دیکھا میرا مالک سرمایہ کاری کے خبط میں مبتلا ہے‘ اس کی جیب میں دس روپے بھی بچ جاتے تھے تو وہ انہیں بھی کاروبار میں لگا دیتا تھا‘ وہ دن رات کام کرتا تھا‘ فیکٹری کے بعد امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس‘ شاپنگ پلازے اور کرائے کے مکان اور اگر وقت بچ جاتا تو وہ یہ وقت گاڑیوں کی خریدوفروخت اور جائیداد کے لین دین میں صرف کر دیتا‘ وہ پیسے بنانے کی مشین تھا‘ وہ ہر ملاقات‘ ہر کام کے بعد سوچتا تھا مجھے اس کا کیا فائدہ ہوا؟ لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے وہ پیسوں کے بغیر چھینک بھی نہیں مارتا۔
‎اسے اگر خارش بھی ہوتی تھی تو وہ خارش پر وقت ضائع کرنے کی بجائے نوٹ گنتا تھا‘ وہ ان کاروباری مصروفیات کی وجہ سے بچوں پر توجہ نہ دے سکا‘ اس نے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کرایا مگر بچے پڑھ نہ سکے‘ آپ یہ بات ذہن میں رکھیں بچوں کو ٹیوٹر‘ سکول یا کالج نہیں پڑھاتے والدین پڑھاتے ہیں‘ والدین اگر بچوں پر توجہ نہ دیں‘ یہ اگر انہیں وقت اور محبت نہ دیں تو آپ انہیں خواہ آکسفورڈ میں داخل کرا دیں یہ تعلیم مکمل نہیں کر سکتے‘ بچوں کو والدین کی توجہ اور محبت چاہیے ہوتی ہے۔


‎بچے پھل ہوتے ہیں اور والدین کی محبت اور توجہ سورج اور چاند‘ یہ دونوں جب تک انہیں روشنی نہیں دیتے پھلوں میں اس وقت تک رس نہیں آتا‘ یہ نہیں پکتے‘ میرے سیٹھ کے بچے بھی والد کی توجہ اور محبت سے محروم تھے چناں چہ وہ کچے رہ گئے‘ بڑا بیٹا تعلیم کے لیے امریکا گیا‘ گوری سے شادی کی‘ کرسچین ہوا اور کبھی واپس نہ آیا‘ دوسرا نشے کی لت کا شکار ہو گیا‘ بیٹی نے مرضی کی شادی کر لی‘ والد نے رو پیٹ کر شادی قبول کر لی‘ وہ داماد کو کاروبار میں لے آیا۔
‎داماد کاروبار اور بیٹی دونوں کو کھا گیا‘ آخر میں نتیجہ طلاق نکلی اور سب سے چھوٹا بیٹا نالائق تھا‘ وہ دن رات فضول اور نالائق دوستوں میں بیٹھا رہتا تھا اور دونوں ہاتھوں سے والد کی دولت اڑاتا رہتا تھا‘ والد روکتا تھا تو وہ اس کے گلے پڑ جاتا تھا اور سیٹھ کے بھائی‘ سالے اور بہنوئی تمام لفنگے اور فراڈیے تھے‘ وہ بار بار اسے دھوکا دے چکے تھے‘وہ ان سے الرجک تھا‘ یہ تمام ایشوز اکٹھے ہوئے‘ سیٹھ سٹریس میں گیا‘ بیمار ہوا اور تیزی سے میڈیکل سٹور بنتا چلا گیا‘۔
‎اس نے شراب پینا بھی شروع کر دی یہاں تک کہ ایک دن اسے ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ فیکٹری کے گیٹ پر گر کر انتقال کر گیا‘ بس سیٹھ کے مرنے کی دیر تھی اس کی ہر چیز تباہ ہو گئی‘ وراثت تقسیم ہوئی اور بچوں نے وہ ساری دولت چند ماہ میں اڑا دی جسے جمع کرنے اور سنبھالنے میں سیٹھ نے پوری زندگی لگا دی تھی‘ اس کی بیگم نے بھی بڑھاپے میں اپنے منیجر سے شادی کر لی‘ بھائیوں کے پاس جو کچھ تھا وہ اس پر قابض ہو گئے‘ جو کچھ نشئی بیٹے کو ملا اس نے وہ نشے میں ڈبو دیا اور جو نالائق بیٹے کے ہاتھ آ گیا اس نے وہ مجروں میں ضائع کر دیا چناں چہ میری آنکھوں کے سامنے وہ ساری ریاست‘ وہ ساری ایمپائر زمین بوس ہو گئی۔
‎اکاؤنٹس میں تنخواہوں اور بجلی کے بل تک کے پیسے نہ بچے‘ میں نے استعفیٰ دیا اورنوکری چھوڑ کر آ گیا‘ میں جب فیکٹری کے گیٹ سے نکل رہا تھا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا ”محمد صفدر دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کیا ہے“ میرے اندر سے آواز آئی ”بھلائی کے کام اور نیک اولاد“ چناں چہ میں نے فیصلہ کیا ”میں باقی زندگی دوسروں کے ساتھ بھلائی کروں گا اور اپنی ساری توجہ اپنی اولاد پر دوں گا“۔وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”جاوید صاحب! آپ یقین کریں میں نے اس کے بعد زندگی میں کبھی ایک پیسے کی بچت نہیں کی۔
‎میں نے گاڑی تک نہیں خریدی اور گھر تک نہیں بنایا‘ میں جو کماتا تھا وہ میں اپنے خاندان پر لگا دیتا تھا‘ میں اپنے بچوں کو روز سکول چھوڑ کر آتا تھا‘ لنچ بریک کے دوران دوبارہ سکول جاتا تھا اور اپنے بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا کر واپس آتا تھا‘ میرے بچے جانتے تھے اگر یہ کھانا نہیں کھائیں گے تو میں بھی اس دن لنچ نہیں کروں گا لہٰذا یہ میری اور میں ان کی خاطر لنچ کرتا تھا‘ میں روز ان کے جوتے بھی پالش کرتا تھا‘ ان کی یونیفارم بھی دھو کر استری کرتا تھا‘ میں روز انہیں گراؤنڈ بھی لے کر جاتا تھا۔
‎ان کے ساتھ کھیلتا بھی تھا اور واپسی پر گرم پانی سے ان کے پاؤں بھی دھوتا تھا‘ میں اپنے ہاتھ سے اپنی بیٹی کے سر میں تیل بھی لگاتا تھا اور کنگھی بھی کرتا تھا‘ میری ساری خوشیاں‘ میرے سارے غم میرے بچے تھے‘ یہ ہنستے تھے تو میں ہنستا تھا‘ یہ پریشان ہوتے تھے تو میں پریشان ہو جاتا تھا‘ اس محبت اور اس توجہ نے میرے اور ان کے درمیان ایک مضبوط بانڈ بنا دیا‘ ہم سب ایک یونٹ ہو گئے‘ یہ بڑے ہوئے‘ تعلیم مکمل کی اور اپنے اپنے کام شروع کر دیے‘ اللہ نے کرم کیا اور یہ ترقی کرنے لگے۔
‎یہ آج خوش حال بھی ہیں اور کام یاب بھی‘ میں آج بھی ان کے ساتھ لنچ کرتا ہوں‘ میں جس دن اس دفتر نہ آؤں میرے بچے اس دن لنچ نہیں کرتے‘ بچوں نے شیڈل بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی ایک روز میرے پاؤں دھوتا ہے اور دوسرا شام کو مجھے دباتا ہے اور میری بیٹی روز کھانا پکا کر مجھے بھجواتی ہے‘یہ میری زندگی کی سرمایہ کاری تھی جب کہ میں نے پوری زندگی کسی کے ساتھ زیادتی‘ کسی کے ساتھ ظلم نہیں کیا‘ میں نے جب بھی کی لوگوں کے ساتھ بھلائی کی‘ میرا خیال ہے میری بھلائی میری آخری زندگی کی سرمایہ کاری ہے“۔
‎وہ خاموش ہو گئے‘ ملازم نے اس دوران میز پر کھانالگا دیا‘ بیٹے نے والد کی ویل چیئر کھینچی‘ میز کے ساتھ لگائی‘ گلے میں نیپکن باندھا اور ہاتھ سے پہلا لقمہ توڑ کر اس کے منہ میں رکھا‘ والد نے اس لقمے کے بعد اپنے ہاتھ سے کھانا شروع کر دیا‘ میں دونوں کو رشک سے دیکھنے لگا‘ والد کے دوسرے دونوں بیٹے بھی اس دوران آ گئے اور وہ بھی کھانے میں شریک ہو گئے‘ ایک بیٹا بینک میں منیجر تھا اور دوسرا ملٹی نیشنل کمپنی میں اکاؤنٹنٹ تھا۔
‎یہ دونوں روز لنچ بریک کے دوران تیسرے بھائی کے دفتر میں آتے ہیں اور یہ چاروں اکٹھے کھانا کھاتے ہیں‘ میں نے کھانے کے دوران میزبانوں سے ان کی والدہ کے بارے میں پوچھا‘ پتا چلا وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ میں دو گھنٹے ان کے ساتھ رہا‘ ملازم بیٹے کھانے کے بعد اپنے دفتروں میں چلے گئے جب کہ بزنس مین بیٹا اور وہ دیر تک میرے ساتھ بیٹھے رہے‘ میں رخصت ہونے لگا تو والد میرا ہاتھ دبا کر بولا ”جاوید بیٹا! انسان کی اصل سرمایہ کاری اولاد اور نیکی ہوتی ہے لیکن زیادہ تر لوگ دولت کی جمع ضرب کے دوران یہ سرمایہ منفی کر بیٹھتے ہیں اور یوں خسارے میں جا گرتے ہیں۔
‎آپ لوگوں کو بتائیں ان کا اصل سرمایہ ان کی اولاد اور بھلائی ہے‘ یہ ان دونوں قسم کے سرمائے کو کسی قیمت پر ضائع نہ ہونے دیں‘ ان کی زندگی بھی جنت بن جائے گی اور آخرت بھی‘ یہ دونوں جہاں میں سرخرو ہو جائیں گے ورنہ دنیا میں دولت سے بڑی حماقت اور مصروفیت سے بڑی بے وقوفی 

October 19, 2018

CLEAN AND GREEN PAKISTAN



کلین اینڈ گرین پاکستان

لندن کی آبادی 1750ءسے 1810ءکے درمیان 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ شہرمیں ان دنوں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں کا دباﺅ برداشت نہیں کر پا رہی تھیں‘ لندن میں سیوریج سسٹم نہیں تھا‘ ہر گھر کے سامنے سپٹک ٹینک ہوتا تھا‘ڈیٹا کے مطابق شہر میں دو لاکھ گٹڑ تھے اور یہ گٹڑ صبح شام ابلتے رہتے تھے‘ گندا پانی لندن کی گلیوں میں بہتا تھا‘
بارش اس غلیظ پانی کو بہا کر دریائے تھیمز میں لے جاتی تھی‘ میٹرو پولیٹن بعدازاں دریا کا پانی پمپ کر کے گھروں کو سپلائی کر دیتی تھی اور یوں شہری اپنا سیوریج پیتے تھے‘ شہر کے غرباءعموماً تہہ خانوں میں رہتے تھے‘ گھروں کے یہ حصے اکثر اوقات سیوریج کے پانی سے بھرے رہتے تھے یا پھر وہاں گندے پانی کی سیلن ہوتی تھی‘ یہ گندگی بیماری میں تبدیل ہوئی اور1831ءمیں لندن میں ہیضے کی خوفناک وباءپھوٹ پڑی‘ 55 ہزار لوگ مارے گئے‘ یہ وبائ‘ گندگی اور بدبو سفر کرتے کرتے ہاﺅس آف کامنز کے اندر تک پہنچ گئی‘ 1858ءمیں سیلن کے اثرات برطانوی پارلیمنٹ کے فرش‘ دیواروں اور ستونوں میں بھی دکھائی دینے لگے‘ ہاﺅس آف کامنز کے پردے تک بدبودار پانی میں بھیگ گئے اور ارکان پارلیمنٹ ناک پر رومال رکھ کر اسمبلی آنے پر مجبور ہو گئے‘ یہ صورت حال ناقابل برداشت تھی چنانچہ گورنمنٹ نے اس کے تدارک کا فیصلہ کیا‘ حکومت کو مختلف ماہرین نے مختلف تجاویز دیں لیکن یہ تمام علاج عارضی تھے‘ حکومت اس کا کوئی مستقل حل نکالنا چاہتی تھی‘حکومت نے یہ ذمہ داری جوزف بازل گیٹ  کو دے دی‘ وہ اس وقت میٹرو پولیٹن کا چیف انجینئر تھا‘ وہ ذہین‘ معاملہ فہم اور لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا ماہر تھا‘ جوزف نے پورے لندن کا سروے کرایا‘تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیااور ہر شخص سے پوچھا وہ کتنی بار واش روم استعمال کرتا ہے‘ استعمال اور تعداد کو بعد ازاں آپس میں ضرب دی‘ اسے تین سے ضرب دی اور پھر اس ڈیٹا کو پائپوں سے ضرب دے کر لندن میں سیوریج کا سسٹم بچھانا شروع کر دیا‘ جوزف نے پورے شہر کو سیوریج سے جوڑا‘
شہر سے دس کلو میٹر دور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا‘ سیوریج لائین کو اس پلانٹ سے منسلک کیا‘ سیوریج کا پانی صاف کیا اور پھروہ صاف پانی دریا میں ڈال دیا‘ لندن کا سیوریج ایشو ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو گیا‘ جوزف کا سسٹم کس قدر مکمل اور شاندار تھا حکومت کو اس کا اندازہ 1960ءکی دہائی میں ہوا‘ لندن میں1960ءمیں پراپرٹی کا بوم آیا‘ اپارٹمنٹس ٹاورز اور ہائی رائز بلڈنگز بنیں اور سیاحوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہو گیا‘ حکومت کا خیال تھا شہر کا سیوریج سسٹم چوک ہو جائے گا اور میٹرو پولیٹن اس کی توسیع پر مجبور ہو جائے گی لیکن میئریہ جان کر حیران رہ گیا جوزف بازل گیٹ کا سسٹم یہ دباﺅ آسانی سے برداشت کر گیا‘
شہر میں کسی جگہ سیوریج چوک ہوا اور نہ ہی بہاﺅ میں رکاوٹ آئی‘ جوزف بازل گیٹ کا یہ سسٹم بعد ازاں پورے برطانیہ اور پھر یورپ کے تمام ملکوں کے تمام بڑے شہروں میں بچھایا گیا‘ فرانس‘ جرمنی اور سپین نے اس سسٹم میں ایک اضافہ کر دیا‘ یہ ملک سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کر کے گھروں میں واپس بھجواتے تھے‘ یہ پانی کموڈز میں دوبارہ استعمال ہوتا ہے‘ یورپ کے نوے فیصد گھروں میں پانی کی دو لائین بچھائی جاتی ہیں‘ پہلی لائین صاف پانی سپلائی کرتی ہے‘
لوگ یہ پانی پیتے اور اس سے کھانا پکاتے ہیں جبکہ دوسری لائین میں ٹریٹمنٹ شدہ پانی ہوتا ہے‘ یہ پانی باتھ رومز‘ ٹوائلٹس‘ لانڈری‘ لانز اور گیراج میں استعمال ہوتا ہے‘ یورپ میں حکومتیں ہر گھر سے پانی کا بل بھی وصول کرتی ہیں‘ یہ بل پانی میں کفایت شعاری کی عادت بھی ڈالتا ہے اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔آپ مجھ سے اگر پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پوچھیں تو میں گندگی کو کرپشن‘ ناانصافی اور عدم مساوات سے بھی بڑا مسئلہ کہوں گا‘ ہم من حیث القوم گندے لوگ ہیں‘
معاشرہ کچن سے شروع ہوتا ہے اور واش روم میں ختم ہوتا ہے اور ہماری یہ دونوں جگہیں انتہائی گندی ہوتی ہیں‘ آپ خواہ کروڑ پتی لوگوں کے گھروں میں بھی چلے جائیں‘ آپ خواہ کسی شہر کی کسی گلی میں نکل جائیں‘ آپ کو وہاں گندگی کے ڈھیر ملیں گے‘ ہماری مسجدوں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں بھی گندگی ہوتی ہے‘ آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے واش رومز دیکھ لیجئے‘ آپ کو وہاں بھی صابن نہیں ملے گا‘ حکومت کے سارے واش رومز گندے ہوتے ہیں‘ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی میں بھی کچرہ ٹھکانے لگانے کا کوئی ٹھوس بندوبست نہیں‘ اسلام آباد کا آدھا سیوریج نالوں اور ڈیم میں جاتا ہے‘
لاہور کا گند راوی اور کراچی کا کچرہ سیدھا سمندر میں گرتا ہے‘ آپ ملک کے کسی سیاحتی مقام پر چلے جائیں‘ آپ کو وہاں گند کے ڈھیر ملیں گے‘ ہم 21 ویں صدی میں بھی لوگوں کو واش روم استعمال کرنے کا طریقہ نہیں سکھا سکے‘ ہم لوگوں کو یہ نہیں بتا سکے صابن سے ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے‘ ہم انہیں یہ نہیں سمجھا سکے آپ جو گند سڑکوں پر پھینک رہے ہیں وہ اڑ کر دوبارہ آپ کے گھر آئے گا‘وہ آپ کی سانس کی نالیوں کے ذریعے آپ کے جسم میں جائے گا‘ ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے گٹڑ کا پانی زمین میں موجود پانی میں شامل ہو جاتا ہے‘ یہ غلیظ پانی صاف پانی میں شامل ہوتا ہے‘
ہم اور ہمارے خاندان یہ پانی پیتے ہیں اور یوں ہم مہلک امراض کا نشانہ بن جاتے ہیں اور ہم لوگوں کو آج تک یہ بھی نہیں بتا سکے ہمارا ملک اگر ہائیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے ‘ ٹی بی میں پانچویں‘ شوگر میںساتویںاور گردے کے امراض میں آٹھویں نمبر پر ہے یا ہمارے ملک میں ہر سال تین لاکھ لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو اس کی اصل وجہ گند ہے‘ ہم لوگ گندے ہاتھوں سے گندے برتنوں میں کھاتے اور گندا پانی پیتے ہیں چنانچہ ہم صحت مند کیسے ہو سکتے ہیں؟۔
میں نئی حکومتوں کی حماقتوں کا ناقد ہوں لیکن حماقتوں کے اس انبار میں یہ لوگ کلین اور گرین پاکستان کے نام سے ایک اچھا کام بھی کر رہے ہیں‘ یہ کام ستر سال پہلے شروع ہونا چاہیے تھا تاہم دیر آید‘ درست آید‘ یہ کام اگر آج بھی شروع ہو جائے تو یہ بیمارستان صحت مندستان میں تبدیل ہو جائے گا لیکن آپ کو اس کےلئے جوزف بازل گیٹ کی طرح لمبی پلاننگ کرنا ہوگی‘ گندگی کینسر کی طرح ہوتی ہے‘ آپ زخم پر پٹی باندھ کراس کا علاج نہیں کر سکتے لہٰذا وزیراعظم یا وزراءاعلیٰ صاف سڑک پر صاف جھاڑو پھیر کر پوری قوم کو صاف ستھرا نہیں بنا سکیں گے‘ گند ہماری فطرت‘ ہماری عادت ہے‘
آپ کو یہ عادت بدلنے کےلئے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا‘ آپ کو پرسنل ہائی جین سے لے کر ماحولیات تک صفائی کا سلیبس بھی بنانا ہوگا اور یہ سلیبس پہلی سے دسویں جماعت تک سکولوں میں بھی متعارف کرانا ہوگا‘ آپ کو پورے پاکستان میں پبلک ٹوائلٹس بھی بنوانے ہوں گے اور عوام کو ان کے استعمال کا طریقہ بھی سکھانا ہوگا‘ ہم آج بھی پینے کا صاف اور میٹھا پانی فلش میں بہاتے ہیں‘ ہمیں یہ ٹرینڈ بھی فوراً بدلنا ہوگا‘ حکومت فوری طور پر نئی تعمیرات کےلئے نئے بائی لاز بھی بنائے‘
فلش اور صاف پانی کی لائین بھی الگ الگ کرے اور یہ ہر گھر میں چھوٹے سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بھی لازمی قرار دے‘ یہ پلانٹ استعمال شدہ پانی صاف کر کے دوبارہ فلش کے ٹینکوں میں ڈالے اور پھر صاف کرے اور پھر مین سیوریج لائین میں ڈالے‘ ہم اگریہ بندوبست پورے ملک میں نہیں کر سکتے تو نہ سہی لیکن ہم یہ قانون ملک کے دس بڑے شہروں میں تو بنا سکتے ہیں‘ ہم ان شہروں کی حالت تو بدل سکتے ہیں‘ حکومت اسی طرح کچرہ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی ٹھیک کرے‘
ہر شہر میں صفائی کے ڈائریکٹوریٹ بنائے جائیں‘ لوگ بھرتی کئے جائیں‘ گھروں سے فیس لی جائے اور پھر اگر کسی شہر کی کسی گلی میں کچرہ نظر آئے تو آپ ذمہ داروں کو الٹا لٹکا دیں‘ دنیا میں کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹس بھی آ چکے ہیں‘ حکومت ہر شہر میں یہ پلانٹس بھی لگوا سکتی ہے یوں بجلی کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا اور کچرہ بھی ٹھکانے لگ جائے گا اور حکومت ہر کچے اورپکے مکان کےلئے باتھ روم کا سائز اور ڈیزائن بھی فائنل کر دے‘ پلمبرز کو اس ڈیزائن کی ٹریننگ دی جائے اور انہیں پابند بنایا جائے‘
جو پلمبر خلاف ورزی کرے گا اسے سات سال قید بامشقت دے دی جائے گی‘ ریستورانوں اور دکانوں میں بھی باتھ روم لازمی ہوں اور ان کا باقاعدہ سٹینڈرڈ ہو‘ موٹروے پولیس کی طرح سینیٹری پولیس بھی بنائی جائے اور یہ پولیس گند پھیلانے والوں کو بھاری جرمانہ کرے‘ یہ گھروں اور پبلک باتھ رومز کا معائنہ بھی کرے اور اسی طرح ملک میں زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نظر نہیں آنا چاہیے‘ زمین کی ایک ایک انچ پر پودا ہونا چاہیے‘ وہ خواہ پھول ہو‘ گھاس ہو یا پھر درخت ہو‘ پاکستان کے ہر طالب علم‘ ہر ملازم اور ہر کمپنی کےلئے درخت لگانا لازمی قرار دے دیا جائے‘
لوگ ہر سال ٹیکس ریٹرن کی طرح گرین ریٹرن بھی فائل کریں اور حکومت اس کا بھی آڈٹ کرے اور آخری تجویز ‘برادر اسلامی ملک ازبکستان نے دس سال میں ملک کو صاف کر کے کمال کر دیا‘ آپ دس بڑے شہروں کی کارپوریشنز کے دو دو لوگ ازبکستان بھجوائیں‘ یہ لوگ ان سے صفائی کا طریقہ سیکھیں اورکام شروع کرا دیں‘ ہمارا ملک دو تین برسوں میں کلین بھی ہو جائے گا اور گرین بھی ورنہ پھر اسی طرح ہمارے وزیراعظم ہر سال جھاڑو دیتے رہیں گے‘ سڑکوں پر گند میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ہم اسی طرح بیمار ہوتے چلے جائیں گے۔

February 17, 2018

تحریک انصاف لودھراں این۔اے۔ 154 ضمنی الیکشن کیوں ہاری Why Tehrek e Insaf Fail in Lodhran NA.154













لودھراں سیمپل    NA-154

 تحریر : جاوید چوہدری
ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گی لودھراں میاں نواز شریف کےلئے غیبی مدد اور عمران خان کےلئے آخری کیل ثابت ہوا‘ این اے 154 ریفرنڈم نکلا اور اس ریفرنڈم نے میاں نواز شریف کی تمام غلطیوں‘ کوتاہیوں اور سیاسی بد اعمالیوں پر پردہ ڈال دیا‘ میاں نواز شریف کونئی لائف لائین مل گئی‘ یہ درست ہے پاکستان مسلم لیگ ن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمزور ہو رہی تھی ‘ یہ دیمک لگی چوکھٹ بنتی جا رہی تھی لیکن پھر آخری ضمنی الیکشن ہوا اور میاں
نواز شریف کو نئی زندگی مل گئی‘ جس کے ساتھ ہی عمران خان کے اقتدار کی آخری امید بھی دم توڑ گئی ‘2018ءکاسیاسی نقشہ سامنے آ گیا‘ ہم آگے بڑھنے سے پہلے این اے 154 کا ذرا سا جائزہ لیں گے۔لودھراں کا این اے 154 پانچ برسوں میں بدقسمت حلقہ ثابت ہوا‘ یہ بنیادی طور پر جہانگیر ترین کا حلقہ تھا‘ ترین صاحب نے حلقے میں ذاتی اخراجات سے بے شمار کام کرائے ‘ جس نے کھمبا مانگا ترین صاحب نے دے دیا‘ جس نے ٹرانسفارمر مانگا‘ جس نے سڑک مانگی اور جس نے نوکری مانگی جہانگیر ترین نے ذاتی جیب سے دے دی‘ یہ علاقے کے تمام بااثر لوگوں سے بھی واقف تھے‘ یہ قومی سطح کے لیڈر بھی تھے لیکن جب 2013ءکے الیکشنوں کے نتائج نکلے توصدیق بلوچ نے آزاد حیثیت میں86 ہزارایک سو77اورجہانگیر ترین نے 75 ہزار 9سو 55 ووٹ لئے‘ یہ اچنبھے کی بات تھی‘ یہ اچنبھہ پی ٹی آئی کو پورے ملک میں نظر آیا‘ عمران خان کو 2013ءمیں کامیابی کا یقین تھا‘ یہ یقین انہیں روحانی طاقتوں کے ساتھ ساتھ فیصلہ کن قوتوں نے بھی دلا رکھا تھا لیکن جب نتائج آئے تو عمران خان سکتے میں چلے گئے ‘ خان صاحب نے 2013ءہی میں دھاندلی کا واویلہ شروع کر دیا‘ 2014ءکا دھرنا ہوا اور یہ دھرنا ملک کی ہر چیز بدل گیا‘ جہانگیر ترین نے الیکشن ٹریبونل ملتان میں دھاندلی کے خلاف پٹیشن دائر کر رکھی تھی‘ 26 اگست 2015ءکو فیصلہ آ گیا‘ الیکشن ٹریبونل نے این اے 154 کے نتائج
کالعدم قرار دے دیئے یوں صدیق بلوچ اور جہانگیر ترین ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے‘ وہ الیکشن عمران خان اور میاں نواز شریف کی فلاسفی کا امتحان تھا‘ حکومت نے الیکشن جیتنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا‘ میاں نواز شریف نے 6نومبر 2015ءکو لودھراں میں خطاب کیا اور لودھراں کے عوام کےلئے اڑھائی ارب روپے کے ترقیاتی پیکج
کا اعلان کر دیا‘ پیکج میں دو فلائی اوورز ‘ زرعی یونیورسٹی اورکامرس کالج بھی شامل تھا لیکن حکومت کی طرف سے بھرپور زور کے باوجود صدیق بلوچ ہار گئے‘
جہانگیر ترین نے 38ہزار7سو86ووٹوں کی لیڈلی‘ پاکستان تحریک انصاف نے بھرپور جشن منایا‘ یہ جشن 15دسمبر 2017ءتک جاری رہا‘سپریم کورٹ نے15 دسمبر کو50 سماعتوں اور 101 گھنٹے کی عدالتی کارروائی کے بعد جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا‘ الیکشن کمیشن نے این اے 154 میں تیسری بار الیکشن کا اعلان کر دیا‘ پاکستان تحریک انصاف نے جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی ترین کو ٹکٹ دے دیا جبکہ دوسری طرف کوئی شخص پاکستان مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لینے کےلئے تیار نہیں تھا
 

میاں نواز شریف نے صدیق بلوچ کو الیکشن لڑنے کا حکم دیا لیکن انہوں نے جواب دیا میاں صاحب میں پچھلے دو الیکشنوں میں ٹھیک ٹھاک خرچ کر چکا ہوں‘ میں اگر فروری میں بھی الیکشن لڑتا ہوں اور جولائی اگست میں بھی تو یہ میرے لئے مشکل ہو جائے گا‘ میاں نواز شریف نے صدیق بلوچ کے بیٹے کو ٹکٹ دینے کی کوشش کی لیکن اس کا کہنا تھا‘ سر میں 2018ءمیں ایم پی اے کا الیکشن لڑنا چاہتا ہوں‘ میں اگر ضمنی الیکشن ہار گیا تو مجھے جنرل الیکشنمیں ووٹ نہیں ملیں گے‘میاں نواز شریف نے مجبوراً پیر اقبال شاہ کو ٹکٹ دے دیا‘
میاں صاحب اقبال شاہ کونہیں جانتے تھے‘ انہوں نے صرف جہانگیر ترین کو ٹف ٹائم دینے کےلئے پیر اقبال شاہ کو ٹکٹ دیا‘ پیر اقبال شاہ ان پڑھ اور قومی سطح پر غیر معروف شخص ہیں‘ میاں نواز شریف کو ان سے کامیابی کی کوئی توقع نہیں تھی‘ ن لیگ کا خیال تھا یہ جہانگیر ترین کی سیٹ ہے‘ یہ انہیں ہی ملے گی تاہم یہ چاہتے تھے علی ترین اور پیر اقبال شاہ کے درمیان کم سے کم مارجن ہو‘ یہ بھی حقیقت ہے پاکستان مسلم لیگ ن الیکشن سے قبل یہ توقع بھی کھو بیٹھی تھی‘ آپ پارٹی کی مایوسی کا اندازہ کیجئے
میاں نواز شریف نے اس دوران پانچ بڑے جلسے کئے لیکن یہ خود لودھراں گئے اور نہ ہی حکومت کے کسی لیڈر‘ وزیر اور جادوگر نے حلقے میں قدم رکھا‘ پارٹی کے 99 فیصد رہنما پیر اقبال شاہ کے نام اور شکل سے واقف نہیں تھے‘ ن لیگ نے این اے 154کےلئے ووٹ تک نہیں مانگے‘ میاں نواز شریف نے کسی میڈیا ٹاک‘ کسی پریس کانفرنس اور کسی میٹنگ میں این اے 154 اور پیر اقبال شاہ کا نام نہیں لیا‘ یہ ٹکٹ دینے کے بعد اپنے امیدوار کومکمل طور پر بھول چکے تھے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے 10 فروری کو لودھراں میں جلسہ کیا
عمران خان نے اس جلسے میں دعویٰ کیا ”میں نے نواز شریف کو نکال دیا اب شہباز شریف کی باری ہے“۔ جہانگیر ترین خود بھی حلقے میں بیٹھے رہے اور پاکستان تحریک انصاف کے درجن بھر بڑے لیڈر بھی‘ ترین خاندان کو اپنی فتح کا اس قدر یقین تھا کہ علی ترین سرعام دعویٰ کر رہے تھے ہم نے 2015ءمیں 40 ہزار کی لیڈ لی‘ ہم اب 50 ہزار کی لیڈ لیں گے‘ عمران خان نے بھی بڑے یقین سے کہا‘ این اے 154 کے نتائج کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن ٹوٹ جائے گی‘ آپ علی ترین کا اعتماد دیکھئے‘
یہ الیکشن کے دن اپنا پولنگ بوتھ چھوڑ کر پاکستان مسلم لیگ ن کے خیمے میں بیٹھ گئے‘ یہ وہاں چائے پیتے اور ووٹروں کے ساتھ گپ شپ کرتے رہے‘ پاکستان تحریک انصاف نے حلقے کو ن لیگ کے اثرورسوخ سے بچانے کےلئے فوج کی نگرانی میں الیکشن کرانے کا مطالبہ بھی کیا‘ الیکشن کمیشن نے یہ مطالبہ مان لیا اوریوں یہ الیکشن فوج کی نگرانی میں ہوا لیکن 12 فروری کی شام جب نتائج آئے تو دونوں جماعتیں ششدر رہ گئیں‘ پیر اقبال شاہ نے ایک لاکھ13ہزار 8سو27 ووٹ لئے اور علی ترین کے 87ہزار 5سو71ووٹ نکلے یوں میاں نواز شریف کا کھمبا 26ہزار 2سو56ووٹوں کی لیڈ سے جیت گیا۔
ہم اگر این اے 154 کے نتائج کا تجزیہ کریں تو ہم چند دلچسپ فیصلوں تک پہنچیں گے‘ یہ درست ہے عمران خان نے میاں نواز شریف کو کرپشن کے الزامات میں فارغ کرا دیا‘ یہ اس وقت نیب کورٹ میں مقدمات بھی بھگت رہے ہیں‘ میاں نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزا بھی ہو جائے گی‘ میاں نواز شریف کو اگلے الیکشن جیل میں رہ کر لڑنا پڑیں گے تاہم کیس کمزور ہیں یوں یہ اعلیٰ عدالتوں سے بری ہو جائیں گے لیکن یہ معجزہ اگلی حکومت کے دور میں ہی ہو گا‘
میاں نواز شریف کو فارغ کرانا عمران خان کی بہت بڑی کامیابی تھی مگربدقسمتی سے عمران خان اپنی اس کامیابی کو ووٹوں میں تبدیل نہیں کر سکے‘ وجہ ان کا لائف سٹائل ہے‘ عمران خان نے خود کو بنی گالہ‘ میڈیا ٹاک‘ سوشل میڈیا‘ جلسوں اور اپنے چند نالائق حواریوں تک محدود کر رکھا ہے‘ یہ انٹرویو بھی صرف اپنے پسندیدہ اینکرز کو دیتے ہیں‘ عمران خان کی میڈیا ٹیم اس نیک کام کیلئے بھی خواتین اینکرز کو اہمیت دیتی ہے‘ عمران خان چند اینکرز کے علاوہ کسی کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے‘
خان صاحب کے حواری ایم این اے بھی ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں‘ آپ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کے پروگراموں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو پوری جماعت کا مائینڈ سیٹ معلوم ہو جائے گا چنانچہ آپ خود سوچئے جو لوگ میڈیا کے معاملے میں اتنے سلیکٹو ہوں وہ ملک کے ستر فیصد دیہی ووٹروں کو کتنا وقت دیتے ہوں گے؟چنانچہ عمران خان اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود ملک کے 80 فیصد ووٹروں تک نہیں پہنچ سکے‘ لودھراں کے لوگوں نے 2015ءمیں جہانگیر ترین کے سر پر تاج رکھا لیکن ترین صاحب نے جیتنے کے بعد دو سال مڑ کر اپنے حلقے کی طرف نہیں دیکھا‘
حلقہ ان کے منشیوں کے رحم و کرم پر رہا جبکہ اس کے مقابلے میں میاں شہباز شریف نے لودھراں کےلئے ترقیاتی کاموں کا انبار لگا دیا‘ پنجاب حکومت نے 48 بیسک ہیلتھ یونٹس میں سے 28 کی سروسز کو چوبیس گھنٹے کر دیا‘ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو بھی جدید کر دیا گیا‘ یونیورسٹی کا کیمپس بھی بن گیا ‘ طالبات کو ماہانہ وظائف بھی دیئے گئے‘ لودھراں سے خانیوال تک سڑک بھی بنا دی اور سکول اور کالج بھی اپ گریڈ ہو گئے‘ میاں نواز شریف بھی بار بار ”مجھے کیوں نکالا“ پوچھ کر عوام کی ہمدریاں حاصل کر تے رہے چنانچہ میاں نواز شریف کا بیانیہ اور شہباز شریف کے ترقیاتی کام اور عمران خان کے بنی گالہ‘ عون چودھری کی سروسز‘ دن میں ایک بار میڈیا ٹاک ‘ کسی پسندیدہ خاتون اینکر کو انٹرویو اور ہیلی کاپٹر اور جہازوں میں سیروںنے رنگ دکھایا‘ عمران خان لودھراں میں بری طرح ہار گئے اور میاں نواز شریف کا کھمبا جیت گیا‘
لودھراں دونوں کےلئے سیمپل ثابت ہوا‘ مجھے خطرہ ہے عمران خان نے اگر اپنی روش نہ بدلی‘ یہ بنی گالہ سے نہ نکلے‘ انہوں نے عون چودھری جیسے لوگوں سے جان نہ چھڑائی‘ انہوں نے اپنا طرز عمل تبدیل نہ کیا توجنرل الیکشن میں ملک کا ہر حلقہ ان کےلئے لودھراں ثابت ہو گا اور میاں نواز شریف جیل میں بیٹھ کر بھی اگلا الیکشن جیت جائیں گے‘ یہ تاریخی طاقت کے ساتھ واپس آئیں گے اور تمام فیصلہ ساز قوتوں کی قوت کچل کر رکھ دیں گے‘ہمیں ماننا پڑے گامیاں نوازشریف کا بیانیہ کامیاب ہوتا اور عمران خان کے دعوے ناکام ہوتے چلے جارہے ہیں۔

ASMA JAHANGIR HUMAN RIGHTS LAWYER عاصمہ جہنگیر









ہم ہوں یا نہ ہوں (تحریر  جاوید چوہدری)    

  ‬‮
عاصمہ جہانگیر 11 فروری 2018ءتک معمول کے مطابق زندگی گزار رہی تھیں‘ وہ صبح اٹھیں تو وہی جذبہ‘ وہی اعتماد اور وہی جوش موجود تھا جس نے عاصمہ جیلانی کو عاصمہ جہانگیر بنایا تھا‘ میاں نواز شریف کا فون آیا‘ میاں صاحب انہیں طلال چودھری کی وکالت کےلئے راضی کرتے رہے‘ وہ نیم رضا مند ہو گئیں لیکن پھر اچانک لمبی سانس لی‘ چیخ ماری‘ فون پھسل کر نیچے گرا اور وہ بے ہوش ہو گئیں‘ وہ ہسپتال پہنچائی گئیں مگر وہ بے ہوشی کے دوران ہی زندگی کی سرحد پار کر گئیں‘ عاصمہ جہانگیر ہے سے تھی بن گئیں۔
پاکستان میں 10کروڑ‘13 لاکھ‘ 15 ہزارخواتین ہیں لیکن عاصمہ جہانگیر صرف ایک تھیں‘ وہ ملک میں خواتین‘ جمہوریت‘ انسانی حقوق اور مظلومیت کی توانا آواز تھیں‘میں دل سے سمجھتا ہوں اگر خواجہ سراﺅں کے اس ملک میں کوئی شخص مرد کہلانے کے لائق تھا تو وہ صرف اور صرف عاصمہ جہانگیر تھیں‘ پاکستان میں جس مقام پر بڑ ے سے بڑے مرد حُر کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں وہاں عاصمہ جہانگیر مرد بن کر میدان میں ڈٹ جاتی تھیں لیکن آپ المیہ ملاحظہ کیجئے‘ عاصمہ جہانگیر کے بعد بھی ٹریفک چلتی رہی‘ لوگ قہقہے لگاتے رہے اور ریستوران اور چائے خانے آباد رہے‘ ان کے بعد بھی شام ہوئی‘ رات آئی اور اگلے دن کا سورج طلوع ہوا‘ بارش بھی ہوئی‘ پہاڑوں پر برف بھی پڑی‘ عدالتیں بھی کھلیں‘ سماعتیں بھی ہوئیں‘ فیصلے بھی ہوئے اور ٹیلی ویژن سکرینیں بھی آباد ہوئیں غرض زندگی کے قدم ان کے بعد بھی رواں دواں رہے‘ کسی جگہ‘ کسی مقام پر کوئی چیز کم ہوئی اور نہ ہی وقت کو ٹھوکر لگی‘ بس عاصمہ جہانگیر دنیا میں موجود نہیں تھیں‘ یہ موت ہم جیسے لوگوں کو زندگی کی حقیقت سمجھانے کےلئے کافی ہے‘ ہم اگر سیکھنا چاہیں تو ہمیں مزید کسی استاد‘ کسی کتاب اور کسی درس کی ضرورت نہیں‘بس ہمارے لئے یہ جان لینا کافی ہو گا یہ دنیا اگر عاصمہ جہانگیر کے بغیر بھی چل سکتی ہے تو پھر یہ ہمارے بعد بھی زیادہ بہتر انداز سے چلے گی‘بس ہمارے لئے یہ جان لینا کافی ہو گا ہم اور ہمارے جیسے لوگ
زندگی کا ایک غیر ضروری پرزہ ہیں‘ ہم ہوں یا نہ ہوں مشین کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ یہ بس اسی طرح چلتی رہتی ہے اور یہ بس اسی طرح چلتی رہے گی‘ آپ اگر اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی زندگی کے
ہر ناگزیر شخص کے انتقال کے بعد اپنے دائیں بائیں دیکھیں‘ آپ کو اگر اس شخص کے بعد بھی دنیا چلتی ہوئی نظر آئے تو آپ اپنی مہلت پر خدا کا شکر ادا کریں‘ توبہ کریں اور وہ تمام اچھے کام جو آپ نے کل کےلئے چھوڑ رکھے ہیں آپ اسی وقت اٹھ کر مکمل کر لیں‘ آ پ کا آج کا دن ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔

عاصمہ جہانگیر پہلی مرتبہ 1970ءمیں سامنے آئیں‘ جنرل یحییٰ خان نے 1969ءمیں ملک میں مارشل لاءلگا دیا‘ فوجی ڈکٹیٹر نے لاہور کی مشہورسیاسی شخصیت ملک غلام جیلانی اور نامور بیورو کریٹ الطاف گوہر کو گرفتار کر لیا‘ ملک غلام جیلانی کی صاحبزادی عاصمہ جیلانی اس وقت سٹوڈنٹ تھی‘ یہ والد کی فائل اٹھا کر لاہور کے مشہور وکلاءکے پاس گئیں‘ غلام جیلانی معروف اور ہردل عزیز شخصیت تھے‘ ملک کے بڑے صحافی‘ وکلائ‘ اداکار‘ فلم ساز اور بزنس مین سارا سارا دن ملک صاحب کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے رہتے تھے لیکن جب ملک صاحب پر برا وقت آیا تو ان میں سے کوئی شخص مدد کےلئے آگے نہیں آیا‘
عاصمہ جیلانی جس وکیل سے والد کا مقدمہ لڑنے کی درخواست کرتی تھی وہ معذرت کر لیتا تھا‘ لاہور کا کوئی شیردل وکیل جنرل یحییٰ خان سے ٹکرانے کےلئے تیار نہیں تھا‘ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال تھی‘ اس صورتحال میں سٹوڈنٹ عاصمہ جیلانی نے اپنے والد کا مقدمہ خود لڑنے کا فیصلہ کیا‘ وہ عدالت میں پیش ہوئیں‘ جج سے درخواست کی‘ جج نے اپیل منظور کرلی اور یوں پورے ملک میں 52 کلو گرام کی ایک دھان پان سی لڑکی ہمالیہ جتنے اونچے اور وزنی چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان سے ٹکرا گئی‘
عاصمہ جیلانی نے عدالت میں نقطہ اٹھایا پاکستان کوئی مفتوحہ ملک ہے اور نہ ہی جنرل یحییٰ خان فاتح جرنیل ہیں چنانچہ پھر ملک میں مارشل لاءکیوں ہے؟ وہ دھان پان سی لڑکی جب بھی عدالت میں یہ دلائل دیتی تھی انصاف کے ترازو کو پسینہ آ جاتا تھا‘ عدالتیں اس وقت بھی اتنی ہی آزاد تھیں جتنی یہ آج ہیں‘ آپ انصاف کا کمال دیکھئے سپریم کورٹ شہریوں کو صاف پانی دینے کےلئے وزیراعلیٰ کو طلب کر لیتی ہے لیکن حنیف عباسی سات سال سے صاف انصاف کےلئے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں‘
ایفی ڈرین کیس کے فیصلے سے پہلے جج بدل جاتا ہے یا پھر سرکاری وکیل چھٹی پر چلا جاتا ہے‘ حنیف عباسی دہائیاں دے رہے ہیں مائی لارڈ مجھے صاف پانی سے پہلے صاف انصاف دے دیں لیکن ان کی دہائیاں عدالت کے کانوں تک نہیںپہنچ پا رہیں‘ کیا یہ بھی انصاف کےلئے فیض آباد میں دھرنا دے دیں‘ بھوک ہڑتال کر دیں یا پھر سپریم کورٹ کے سامنے خودسوزی کر لیں‘ یہ کیا کریں‘ عدالت انہیں انصاف نہیں دیتی تو کم از کم مشورہ ہی دے دے‘ عاصمہ جیلانی کے ساتھ بھی یہی ہوا‘
ان کا کیس بھی حنیف عباسی کی طرح چلتا رہا‘ ججز فیصلے کی بجائے انہیں داد دیتے رہے یہاں تک کہ ملک ٹوٹ گیا‘ مارشل لاءختم ہوگیا‘ جنرل یحییٰ خان ہاﺅس اریسٹ ہو گئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے عنان اقتدار سنبھال لی‘ عاصمہ جیلانی نے نئے حالات میں ذوالفقار علی بھٹو کو ہدف بنا لیا‘ یہ عدالت میں چیختی رہیں یہ ملک مفتوحہ نہیں اور آزاد ملک میں ایک سویلین شخص مارشل لاءکیسے لگا سکتا ہے؟ بہرحال یہ چیخ و پکار بارآور ثابت ہوئی‘
انصاف نے انگڑائی لی اور کیس کا فیصلہ ہو گیا‘ ملک غلام جیلانی بھی رہا ہو گئے اور عدالت نے ذوالفقار علی بھٹو کو مارشل لاءاٹھانے اور نیا آئین بنانے کا حکم بھی دے دیا‘ بھٹو صاحب نے عدالتی حکم پر مارشل لاءختم کیا اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر 1973ءکا آئین تیار کر لیا چنانچہ ہم اگر کسی کو 1973ءکے آئین کا کریڈٹ دے سکتے ہیں تو وہ کل کی عاصمہ جیلانی اور آج کی عاصمہ جہانگیر تھیں‘ عاصمہ جہانگیر کا وہ تاریخی مقدمہ آج بھی تاریخ میں عاصمہ جیلانی کیس کے نام سے مشہور ہے۔
عاصمہ جہانگیر اس کے بعد ملک میں انسانی حقوق اور مظلوموں کی آواز بن گئیں‘ 1983ءمیں صفیہ نام کی ایک تیرہ سالہ بچی جنسی زیادتی کا نشانہ بنی‘ حاملہ ہوئی‘ مقدمہ بنا‘ ملزموں نے عدالت میں زیادتی کو ”رضا مندی“ ثابت کر دیا‘ بچی کو جیل بھجوا دیا گیا‘ عاصمہ جہانگیر نے مقدمہ لڑا اور جنرل ضیاءالحق کی کھوکھلی شریعت پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی‘ 1993ءمیں 14 برس کے سلامت مسیح کو توہین مذہب پر سزائے موت ہو گئی‘ پورے ملک میں کوئی وکیل سلامت مسیح کا کیس لینے کےلئے تیار نہیں تھا‘
عاصمہ جہانگیر نے کیس لڑا اور عدالت میں ثابت کر دیا سلامت مسیح کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا تھا‘ یہ مذہب کے ٹھیکیداروں کی شرپسندی تھی‘عدالت نے سلامت مسیح کو رہا کر دیا‘ عاصمہ جہانگیر کا کنٹری بیوشن صرف یہاں تک محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے پاکستانی عورت کو مرضی کی شادی کا آئینی اور مذہبی حق بھی لے کر دیا‘ بھٹہ مزدوروں کوعام شہریوں کے برابر حقوق بھی لے کر دیئے اور گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کو تحفظ بھی دیا‘ یہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک پاکستان کے ہر مارشل لاءکے مقابلے کیلئے میدان میں اتریں‘
یہ افتخار محمد چودھری کی بحالی کےلئے سڑکوں پر آئیں اور یہ بعد ازاں افتخار محمد چودھری کے آمرانہ فیصلوں کے خلاف بھی منہ کھول کر بولتی رہیں‘ یہ سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس کے خلاف تھیں‘ یہ کھلے عام کہتی تھیں اگر سپریم کورٹ کسی ایشو پر اپنی رائے دے دے گی تو پھر ماتحت عدالت انصاف کے تقاضے کیسے پورے کرے گی‘ یہ جوڈیشل ایکٹو ازم کے بھی خلاف تھیں‘ یہ موجودہ چیف جسٹس کے فیصلوں اور تقریروں پر بھی اعتراض کرتی تھیں‘ یہ مسنگ پرسنز اور سیاست میں فوجی مداخلت کے بھی خلاف تھیں اور یہ ہر جمہوری حکومت کے غیر جمہوری اقدامات پر بھی بولتی رہیں

میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو دونوں عاصمہ جہانگیر کو پسند کرتے تھے لیکن یہ دونوں کے ادوار میں حکومتی فیصلوں پر احتجاج کرتی رہیں‘ آصف علی زرداری نے اپنے دور میں ”ٹروتھ اینڈ ری کن سیلیشن کمیشن“ بنانے کا فیصلہ کیا‘ یہ عاصمہ جہانگیر کو کمیشن کا سربراہ بنانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے اس پر بڑا خوبصورت تبصرہ کیا‘ ان کا کہنا تھا ”اوہ دن ڈبا جدوں گھوڑی چڑھیا کبا“ ان کا کہناتھا یہ کمیشن بنے گا اور نہ ہی میں سربراہ بنوںگی اور ان کی یہ پیشن گوئی سو فیصد سچ ثابت ہوئی۔
وہ مجھے مولوی سمجھتی تھیں‘ وہ مجھے ناپسند بھی کرتی تھیں‘ وہ میرے پروگرام میں نہیں آتی تھیں لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ مروت اور احترام کا رشتہ تھا‘ میں اکثرانہیں قانونی اور آئینی ایشوز سمجھنے کےلئے فون کرتا تھا ‘ وہ بڑی شفقت سے فون اٹھا کرکہتی تھیں ”ہاں مولوی بولو“ وہ مجھ سے مختلف ملکوں کی اچھی جگہوں‘ ریستورانوں اور لوگوں کے بارے میں بھی پوچھتی رہتی تھیں‘ وہ کبھی کسی کالم پر داد بھی دے دیتی تھیں لیکن یہ مواقع بہت کم آتے تھے۔میں نے 11 فروری کی شام عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر سنی اور پھر 13 فروری کو ان کے جنازے کی کوریج دیکھی اور پھر اس کے بعد دوڑتی بھاگتی زندگی پر نظر ڈالی تو ہر چیز اپنے اپنے مقام پر تھی‘
ٹیلی ویژن پر جنازے کی خبر کے بعد اشتہار بھی چل رہے تھے اور اگلے دن عدالتیں بھی کھلیں‘سڑکیں بھی آباد ہوئیں اور بازاروں میں بھی رونق جاگی‘ بس دنیا میں اگر کوئی چیز کم تھی تو وہ عاصمہ جہانگیر تھیں‘ وہ نہیں تھیں اوریہ ہے زندگی اور اس کی اصل حقیقت‘ ہم ہوں یا نہ ہوں‘ کرہ ارض کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ دنیا اسی طرح دوڑتی بھاگتی رہتی ہے‘ وقت کی لہر وقت کی لہروں میں مل کر وقت بن جاتی ہیں‘ پانی اپنا خلاءخود پُر کر لیتا ہے اور بس‘ ہم ہوں یا نہ ہوں زندگی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Total Pageviews