Showing posts with label EDUCATION. Show all posts
Showing posts with label EDUCATION. Show all posts

October 04, 2020

Technical Education, Finish un-employment, انڈسٹری کو ترقی دینے کے لئے ہنر مند افراد کی تیاری بہت ضروری ہے۔

   تقدیر بدلنے کا نسخہ

          ایک بوائلر بنانے والے دوست کی ورکشاپ میں جانا ہوا. کوریا سے درآمدہ استعمال شدہ  بوائلرز قطار اندر قطار پڑے تھے. بہت سا سازوسامان دیواروں کے ساتھ بے ترتیب بکھرا پڑا تھا. پوچھا اس قدر کارآمد، بیش قیمت اشیاء یوں پراگندہ حال کیوں پڑی ہیں. کہنے لگے صاحب کوئی کاریگر ہی نہیں ملتا کہ ان کو ٹھیک ٹھاک کرکے الماریوں میں لگائیں.

     ایک بڑے سے بوائلر کے پاس دوتین لوگ کام کررہے تھے. پوچھا یہ کاریگر تو ہیں. کہنے لگے نہیں یہ آٹومیشن والےہیں، پی ایل سی (ایک طرح کا کمپیوٹر سمجھ لیں جو آجکل ہو مشین کے ساتھ لگا ہوتا ہے جو اس کو خودکار انداز میں چلنے کیلئے ہدایات دیتا ہے) ٹھیک کرنے کیلئے آئے ہیں. یہ بھی چند کاریگر ہیں بہت بار فون کرنے پر اور بہت منت سماجت کرنے پر آتے ہیں.

        کہنے لگے اب اپنے بچے کو ساتھ لیکر آیا ہوں کہ یہ خود پی ایل سی کا کام سیکھ لے اور کچھ محتاجی ختم ہو، مگر کوئی اس کو کام سکھانے پر آمادہ ہی نہیں. عرض کیا حضور نظام کو سمجھیں جس نے خود آدھی زندگی خرچ کرکے بمشکل تمام ایک کام سیکھا ہے وہ بھلا کیوں آسانی سے کسی کو سکھائے گا. یہ کام تو تعلیمی اداروں کے کرنے کے ہیں. جہاں سے ہمیں ہر میدان کے وافر ہنر مند ملنا چاہیے مگر وہاں تو سب ایف اے ایف ایس سی مشغول ہیں. اس کے بعد بے اے کریں گے پھر پکوڑوں کی ریڑھی لگا کر سماجی ذرائع پر تصاویر لگائیں گے کہ ایم. پاس بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے پکوڑے بیچ رہا.

       بھائی کس نصاب حیات میں درج ہے کہ ہر شخص نے ضرور ہی میٹرک ، ایف اے، بی اے کرنا ہے. ٹیکنیکل کورسز کرو. ہنرسیکھو توجہ اور شوق سے کام کرو عزت سے روزگا کماؤ.

      وزیراعظم صاحب اگلے روز فرما رہے تھے کہ سب ایکسپورٹ کے پیچھے پڑ جاؤ. حضور سپنے ایکسپورٹ نہیں ہوتے. کارآمد اشیاء ہوتی ہیں. اور ان کو بنانے کیلئے ہنرمند ہاتھ چاہئیں. آپ پرائمری مڈل تعلیم سب پر لازم کریں اس میں انہیں، اخلاقیات مذہب، معاشرت اور خوراک کے متعلق ضروری تربیت کے بعد ساٹھ فیصد سے کم نمبر والوں کو کام سیکھنے پر لگائیں.  ہر ہائی سکول اس کے ضلع کی انڈسٹری کے حساب سے دوسال کے کورسز کروائے. جہاں پوری نیک نیتی سے انہیں مکمل ہنرمندی سکھائی جائے. فیکٹری میں کام کرنے کی عمر کی حد اٹھارہ سال سے کم کرکے پندرہ سال کریں. اور سکول سے نکلنے والا ہر ہنرمند پہلے روز کسی فیکٹری میں کم از کم بیس ہزار پر ملازم ہو.

      فیکٹریاں لگانے والوں کو یہ فکر نہ ہو کہ  مشینیں توخرید لیں گے کاریگر کہاں سے آئیں گے، ماں باپ کو یہ دباؤ نہ  ہو کہ بچہ کام تو سیکھ لے گا نوکری کہاں ملے گی. جی چاہتا ہے فی الفور ایک ایسا سکول بنادوں، مگر ابھی وسائل کی کمی آڑے آتی ہے. مگر کوئی دن جاتا ہے کہ انشاء اللہ اس کا آغاز کریں گے. آپ بھی غور کریں اگر بات منطقی لگے تو ارباب اختیار تک پہنچانے میں مدد کریں. کہ جہاں کورسز پر کام کررہے ہیں وہاں سکولوں کا نظام کو بھی ایک باربدل ہی  دیں. کہ شاید وطن عزیز کی تقدیر بدل جائے.

                            (ابن فاضل)


January 02, 2020

EDUCATION, ETHICS TRAINING , MORAL HONOR IN THE WORLD




اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ ” سپر پاور ” امریکا 20ویں نمبر پر ہے۔2020ء تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون ( سبجیکٹ ) نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جاتی، فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔
دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو ” پڑھانے” کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے ” پڑھائی ” ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی ” اسکلز ” بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔
سات سال سے پہلے بچوں کے لیےپورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ” میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں “۔
آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ ” اخلاقیات ” اور ” آداب ” ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا “جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں “۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔
ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔اشفاق احمد صاحب مرحوم کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔
جاپان میں معاشرتی علوم ” پڑھائی” نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہےپڑھانے کی نہیں اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔
دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں
جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ” پبلشرز ” بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیںاور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں،
بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو ” کوڑھ مغز ” اور ” کند ذہن ” کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔
طالبعلموں کا اسکول میں سارا وقت سائنس ” رٹتے ” گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی ” سائنس دان ” نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس ” سیکھنے ” کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی ” رٹّا” لگواتے ہیں۔آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس ” پاسنگ مارکس ” 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور ہم میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں
۔  علامہ اقبال ؒ کے شعر کا یہ مصرعہ اس تمام صورتحال کی صیح طریقے سے ترجمانی کرتا نظر آتا ہے کہ
۔۔شاخ نازک پر بنے گا جو آشیانہ ، ناپائیدار ہو گا۔
منقول

December 21, 2019

Education Urdu Language, and Moral Values decreasing

اُردو   زبان  ، ہمارے بچے اور تعلیمی اداروں کا کردار
کہنے کو تو بحیثیت پاکستانی ہماری قومی زبان اردو ہے۔یہاں لاکھوں ایسے بھی ہوں گے جن کی مادری زبان بھی اردو ہے۔ کراچی اردو بولنے والوں کے اعتبار سے بھی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ لیکن ایک المیہ ہے۔ اب اردو بولنے والوں کے بچے اردو پڑھتے بڑی دشواری سے ہیں۔ گرامر کی تو بات ہی نہیں کرتا ، اردو املاء تک لکھ نہیں سکتے۔ اگر یقین نہیں آ رہا تو اپنے گھر کے کسی بچے کو بلائیں ، اردو کی کوئی کتاب، اخبار یا میگزین اٹھائیں اور انہیں پڑھنے کو بولیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گاکہ ہمارے بچوں کے اردو پڑھنے لکھنے کی قابلیت کس قدر ہے۔ اپنے نونہالوں کی یہ حالت دیکھ کر آپ سوچیں گے کہ ایسا کیوں ہے۔ یہ ہر کلاس میں تو بڑے اعلیٰ نمبروں سے امتحان پاس کرتے ہے۔ ہمیشہ اے ون اور اے گریڈ لے کر آتا ہے۔

اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہم انگریزی سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اتنے متاثر کے ہمارے بچے ماہانہ ہزاروں روپے فیس دے کر انگلش میڈیم اسکول میں ہی پڑھیں گے۔ اب انگلش ان کو آئے نہ آئے ان کا نصیب ، لیکن انگلش میڈیم اسکولز کے باعث ہمارے بچے اردو سے نابلد ہو چکے ہیں۔ صورتحال یہی رہی تو اگلی نسل کو اردو سکھانے کے لیے ہمیں ہر شہر میں اردو لینگویج سینٹر کھولنے پڑیں گے۔ میں نے اردو کی بات اس لیے کی ہے کہ یہ ہماری عام بول چال کی زبان ہے۔ اگر باقی مضامین کی صورتحال دیکھی جائے تو وہ بھی آپ کو ابتر ہی نظر آئے گی۔ ایک اور تجربہ کریں، کسی اسکول یا کالج میں جائیں۔ وہاں زیرتعلیم بچوں سے سوال کریں کہ آپ پڑھ کر کیا بنیں گے۔؟ جواب میں آپ کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان،سیاست دان،صحافی،مینیجر، آپ کو یہ سب بننے والے ملیں گے۔ لیکن کوئی کہ دے کہ میں استاد بنوں گا۔ ایسا شاذونادر ہی ہو سکتا ہے۔

پھر آپ مختلف اسکولز کے مالکان کے پاس جائیں۔ ان سے پوچھیں کہ آپ نے یہ اسکول کیوں کھولا ہے۔ ممکن ہے وہ اپنے آپ کو فروغ تعلیم کے لیے فکر مند ظاہر کرے۔ لیکن آپ اگر دوچار باتیں ہی ان سے کر لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ اسکول کھولنے کے پیچھے سب سے بڑا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ ہر گلی میں کھلے ہوئے دس بارہ پرائیوٹ اسکولز کے نام کتنے بڑے ہیں اور وہاں کا معیار تعلیم کیسا ہے۔ وہاں پڑھانے والے تدریس اور بچوں کی نفسیات کا تجربہ کتنا رکھتے ہیں؟۔ ان اسکولوں میں تدریس جیسا اہم فریضہ انجام کون دے رہا ہے۔ وہ نوجوان جنہوں نے تعلیم تو حاصل کر لی ہے مگر انہیں کہیں ملازمت نہیں مل رہی۔ تو جب تک کہیں اور ملازمت نہ مل جائے اتنے دنوں تک ٹیچنگ کر کے ٹائم پاس کر رہے ہیں۔ یا وہ لڑکیاں جو تعلیم مکمل کر چکی ہیں اور ابھی تک ان کی شادیاں نہیں ہوئیں وہ اس دورانیے میں کسی اسکول میں پڑھانے چلی جاتی ہیں۔

گلی گلی کھلے پرائیویٹ اسکولز میں اساتذہ کو تین ہزار سے سات ہزار اور اگر کوئی بڑے نام والا اسکول ہو گا تو وہ دس یا بارہ ہزار تنخواہ دے رہا ہے۔ اس صورتحال میں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسکول کھولنے والے اور پڑھانے والے تعلیم اور حصول تعلیم والوں کے ساتھ کتنے مخلص ہوں گے اور کتنی محنت سے وہ تدریس کا فریضہ انجام دیتے ہوں گے۔ نہ تدریس کا کوئی تجربہ اور نہ کوئی تربیت!ایسے میں ہماری نسلیں کیا پڑھ اور سیکھ رہی ہیں؟ ایسے میں جب امتحانات ہوتے ہیں تو پرائیوٹ اسکولز میں پرچے انتہائی آسان بنائے جاتے ہیں۔ پھر بھی کوئی ان کو پاس نہ کر سکے تو اضافی نمبر دے کر پاس کیا جاتا ہے۔ چاہے بچے کو کچھ پڑھنا لکھنا آئے نہ آئے۔ ہم بھی رزلٹ کارڈ دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔ کبھی بھی یہ نہیں چیک کرتے کہ ہمارا بچہ لکھ پڑھ کیسا رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اور رہے سرکاری تعلیمی ادارے تو ان کی صورتحال پہلے سے ہی بہت ابتر ہے۔ کسی ایک اسکول یا ادارے کا نام کیوں لیں۔ محکمہ تعلیم سندھ کو ہی دیکھ لیں۔

کراچی کے ساڑھے سات ہزار اساتذہ انصاف کے لیے دھکے کھانے پر مجبورہیں تاحال ان کے مستقبل کا فیصلہ نہ ہو سکا۔ دو سال سے مختلف اسکولوں میں تعینات اساتذہ کے بارے میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ان کو ملازمت پر رکھنا ہے یا ان کی ملازمت ختم کرنی ہے۔ سندھ حکومت نے بھرتیاں جعلی قرار دے کر تنخواہیں دینے سے انکاری ہے۔ اورہزاروں اساتذہ سیاسی اختلافات کے بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں۔ کل اسی کیس کے ایک متاثرہ دوست کا پیغام ملا کہ بھائی دعا کرو ہمارے حق میں جلد فیصلہ ہو جائے اور ہمیں ہماری رکی ہوئی تنخواہیں مل جائیں۔ کیوں کہ گھر کا خرچ اور بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جن لوگوں سے تخواہ ملنے کی امید پر قرض لے کر گزارا کر رہے تھے۔ اب وہ بھی قرض کی واپسی کا تقاضا کرنے لگ گئے ہیں۔ ایسے میں یہ اساتذہ تعلیم کی فکر کریں گے یا اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے دوڑ دھوپ کریں گے۔

آپ اپنے اردگر نظر دوڑائیں ،ہمیں پڑھے لکھے افراد تو بہت زیادہ ملیں گے۔ لیکن مہذب بہت کم،نہ بات کرنے کی تمیز، نہ اٹھنے بیٹھنے کی۔ بات کریں گے تو ایک جملے میں کئی گالیاں ہوں گی۔ روڈ پر چلیں گے تو کوئی ضابطہ نہیں ہو گا۔ نہ اساتذہ کا ادب نہ والدین کا احترام، یہ اسی وجہ سے ہو رہا کہ ہم نے تعلیم پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بہترین نمبر لے، اچھے گریڈ میں پاس ہو کر کوئی ڈگری حاصل کرے اور پھرکوئی اچھی سے نوکری کر لے۔ ہم خالصتاً کاروباری ذہن رکھ کر اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے پیسہ خرچ کر رہے ہیں کہ آج اس کو فلاں تعلیم دلوانے پر اتنے خرچ کریں گے اور کل یہ اتنے کما کر دے دے گا۔ ہمیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ یہ تعلیم اس بچے کی کوئی تربیت بھی کر رہی ہے یا نہیں۔

November 07, 2016

Pakistan In Education Field

                          Pakistan In  Education Field


Total Pageviews