November 15, 2019

تجارت انبیاء علیہ سلام کا پیشہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ بہت برکت رکھی ہے۔





حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ

جب آپ کی وفات ہوئی تو ترکے میں صرف “کرنسی” کی مد میں 3 ارب 20 کروڑ 10 لاکھ دینار چھوڑے تھے۔ ایک دینار گول سونے کا کچھ بھاری سا سکہ ہوتا تھا جو کہ ساڑھے 4 ماشے کے برابر تھا اور اسوقت ایک ماشہ پاکستانی 6 یا 7 ہزار روپے کا ہے۔ ایک ہزار گھوڑے، ایک ہزار اونٹ اور 10 ہزار بکرے، بکریاں اور مویشی اس کے علاوہ تھے۔ مدینے اور اس کے اطراف میں بے شمار زمینیں تھیں، جبکہ آپ کی جائیداد میں سونے کی سلیں تک موجود تھیں ۔ وفات کے بعد ان سلوں کو کلہاڑوں سے کاٹا گیا۔ مزدوروں نے صبح کاٹنا شروع کیا تو شام ہوگئی اور مزدوروں کے ہاتھ تک سوج گئے۔آپ کی وفات کے وقت آپ کی چاروں ازواج حیات تھیں اور بیوی کے حصے میں جائداد کا آٹھواں حصہ آتا ہے۔ آپ کی ایک ایک بیوی کے حصے میں کرنسی کی صورت میں 4 لاکھ دینار یعنی 400 ملین درہم آئے۔


یہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ تھے جن کو نہ صرف بدری صحابی ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ یہ ان 10 صحابہ میں آٹھویں نمبر پر موجود ہیں جن کو رسول اللہﷺ نے دنیا میں ہی نام لے کر جنت کی بشارت دی تھی۔



حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اسلام سے پہلے بھی تجارت ہی کیا کرتے تھے اور حضرت عثمانؓ کے بہترین دوستوں میں شامل تھے۔ جب ہجرت کرکے مدینہ آئے تو بالکل مفلوک الحال ہوچکے تھے ۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان کی مواخات بھی ایک انصاری صحابی سے کروادی۔ آپ نے ان انصاری صحابی سے صرف دو سوال کئے: 1) بازار کہاں ہے؟ 2) کونسے کاروبار کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہے؟



اس کے بعد سے عبدالرحمن بن عوفؓ نے جانوروں کے گلوں میں باندھنے والی گھنٹیوں کا کام شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصے میں مارکیٹ سے یہودیوں کی اجارہ داری اور قبضہ ختم کروا دیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے مدینے میں جو مارکیٹ قائم کی تھی آپ وہاں کے چھوٹے تاجروں کو کم منافع اور بلاسود مال بھی سپلائی کرتے تھے۔ آپ جو کماتے اس کے دو حصے کر دیتے تھے، ایک دفعہ 8 ہزار دینار کمائے تو 4 ہزار اللہ کے نبیﷺ کی خدمت میں پیش کر دئیے۔ آپﷺ نے پوچھا گھر پر کیا چھوڑا؟ فرمایا اتنا ہی ہے جتنا لے کر آیا ہوں۔ آپﷺ نے دعا فرمائی “اے اللہ! عبدالرحمن جو رحمان کا تاجر ہے اس کے دونوں مالوں میں جو یہاں لے کر آیا ہے اور جو گھر پر چھوڑ کر آیا ہے اس میں برکت عطا فرما”۔ عبدالرحمنؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میں مٹی کو بھی ہاتھ لگاتا تھا تو وہ سونا بن جاتی تھی۔



ایک دفعہ مدینے میں ریت کا طوفان آ گیا۔ لوگ حیران پریشان گھروں سے باہر نکل آئے، ام المومنین حضرت عائشہؓ بھی دروازے پر آ گئیں اور پوچھا یہ طوفان کیسا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عبدالرحمن بن عوفؓ کا تجارتی قافلہ آیا ہے۔ آپ نے حیرت سے دریافت کیا؛ بھلا تجارتی قافلہ بھی ایسا ہوسکتا ہے؟ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے عین وسط شہر میں 700 سامان سے لدے اونٹ کھڑے تھے۔ عبدالرحمن بن عوفؓ روتے جاتے اور لوگوں میں سامان بانٹتے جاتے تھے، حتی کہ پورے 700 اونٹوں کا سامان لوگوں میں تقسیم کر دیا۔



مجموعی طور پر اسلام اور اسلامی معاشرے کا مزاج یہی ہے کہ تجارت اور کاروبار کو فروغ دیا جائے جبکہ نوکری اور غلامی کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے کہ: رزق کے 10 دروازے ہیں جن میں سے 9 تجارت میں کھلتے ہیں اور باقی 1 میں دوسرے تمام شامل ہیں۔



لوگ اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اسلام تبلیغ سے پھیلا یا تلوار سے؟ میرا ماننا یہ ہے کہ اسلام تجارت سے پھیلا ہے۔ مسلمان بے انتہا وسیع سوچ کے مالک تھے۔ یہ خود کو “برانڈ” بنانا اور “برانڈ” کرنا جانتے تھے۔ مسلمانوں نے خود کو کبھی بھی مکہ، مدینہ یا عرب تک محدود نہیں کیا۔ یہ ایران، عراق اور ہندوستان سے ہوتے ہوئے جزائر غرائب الہند تک پہنچ جاتے تھے اور اپنی “برانڈ” ساری دنیا میں متعارف کرواتے تھے۔ ان کی برانڈ کا نام “اسلام” تھا۔ مقصد اسلام ہوتا تھا اور نتیجے میں پیسہ بھی ملتا تھا۔ یہ کپڑے میں نقص اور عیب بتا کر بیچتے تھے، یہ بارش کے بعد گاہک کو بتاتے تھے کہ بارش کی وجہ سے گندم گیلی ہو گئی ہے اسلئے ہم اس کو اس کی اصل قیمت سے کم پر بیچیں گے۔ یہ معمولی فائدے پر بھی گاہک کو اچھی چیز بیچ دیتے تھے اور بیچا ہوا مال واپس بھی لیتے تھے اور تبدیل بھی کرتے تھے۔



ہم ایسی دوغلی قوم ہیں کہ ہم دو دو روپے کمانے کے لیے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور چونا بھی لگاتے ہیں۔ لیکن کاروبار کرنے والوں کو چور لٹیرا بھی سمجھتے ہیں اور ان سے حسد بھی کرتے ہیں۔ آج ساری دنیا کو یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ امپورٹ، ایکسپورٹ، سرمایہ کاری اور تجارت کرنے والوں کو عزت دینے سے ملک اور قومیں ترقی کرتی ہیں، لیکن جن کے اباؤاجداد نے 3 براعظموں میں اپنا کاروبار متعارف کروایا وہی اس بات سے ناواقف ہیں۔دنیا میں 500 بڑی آئل کمپنیز ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی کسی بھی مسلمان ملک کی نہیں ہے جب کہ تیل پیدا کرنے والے 11 میں سے 10 ممالک عرب ہیں۔ آپ کو پاکستان کی بڑی بڑی نام نہاد فوڈ چینز اور ہوٹلز کا نام ونشان تک پاکستان سے باہر نظر نہیں آئیگا اور نہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں ہماری کوئی پروڈکٹ ملے گی۔ ہمارا چاول اور آم تک ہندوستان کے نام سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔



آپ کمال ملاحظہ کریں کہ مدینے میں یہودیوں کے مقابلے میں جو بازار رسول اللہﷺ نے قائم کیا وہاں پر باہر سے آنے والوں کو ”ٹیکس فری” ماحول دیا گیا۔ وہ وہاں اپنے خیمے لگاتے تھے لیکن ان سے کسی بھی قسم کی کوئی رقم نہیں لی جاتی تھی جب کہ اس کے مقابلے میں یہودی بھاری بھاری ٹیکس لیتے تھے۔ آج کاروباری لوگوں کے لیے اسرائیل ٹیکس فری ہے جبکہ ہمارے ملک میں کاروبار کرنا ہی عذاب بن گیا ہے۔



دنیا میں کوئی ریاست 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرتی ہے اور نہ کر سکتی ہے۔ یہ اپنے ملک میں مکیش انبانی، لکشمی متل ، بل گیٹس اور جیف بیزاس جیسے لوگوں کو پروموٹ کرتے ہیں۔ یہ امریکا کو “بل گیٹس کا امریکا ” کہتے ہیں، لیکن ایک ہم ہیں جو ملک چلانے والے 22 خاندانوں کو سڑک پر لے کر آجاتے ہیں اور دنیا میں پاکستان کا کاروباری چہرہ دکھانے والوں کو عدالتوں میں ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں۔



اوباما اور مٹ رومنی کی الیکشن کمپین میں اوباما نے ہر جگہ اپنی تقریر میں اس بات کو دہرایا کہ میں 3 ملین ڈالر پر 21 فیصد ٹیکس دیتا ہوں جبکہ رومنی 21 ملین ڈالر پر صرف 14 فیصد ٹیکس دیتا ہے اور یہ غریبوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ دنیا بھر میں غریب لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ امیروں نے ہماری دولت پر قبضہ کر رکھا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ ساری دنیا کی دولت کو ہر انسان میں برابر کا تقسیم کردیں۔ یہ صرف 5 سال بعد ٹھیک انہی ہاتھوں میں دوبارہ آجائیگی ، غریب غریب ہی رہے گا اور امیر دوبارہ امیر بن جائیگا، کیونکہ غربت اور امارت کا تعلق پیسے سے نہیں “مائنڈ سیٹ” سے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکا سے لے کر کراچی تک MBA کرنے والوں کو دوسروں کی کمپنیوں کو بہترین انداز میں چلانے کی تربیت دی جاتی ہے، لیکن اپنی کمپنی شروع کرنے اور اسے آگے لے جانے کا کوئی پروگرام سرے سے ہمارے کالجز اور یونیورسٹیز کے پاس ہے ہی نہیں۔ ہمارا سارا تعلیمی نظام محض غلام اور نوکر پیدا کر رہا ہے اور اس کے دو بڑے نقصانات ہیں۔



1) پہلا نقصان یہ ہے کہ بندے کا توکل اللہ پر سے ختم ہو کر مالک، سیٹھ اور کمپنی پر ہوجاتا ہے، اس کو لگنے لگتا ہے کہ مجھے کھلانے، پہنانے اور پرورش کرنے والا میرا باس ہے، یہ عیاشیاں اور مہینے کا راشن اسی کا مرہون منت ہے اور جس دن اس خدا (باس، کمپنی، سیٹھ) کا سایہ نعوذ باللہ میرے اوپر سے اٹھ گیا میں کنگال ہوجاؤنگا یا شاید سڑک پر آجاؤنگا اور میرے بیوی بچے بھوکے مر جائینگے۔



2) دوسرا نقصان یہ ہے کہ بندے کو اپنی قدر و قیمت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو 60 لاکھ کمانے کے لیے پیدا کیا ہو اور وہ زندگی بھر 60 ہزار کو ہی اپنا مقدر سمجھتا رہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعے سے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدلنے والی ہوں اور وہ اپنی ساری صلاحیتیں بس اپنے بیوی بچوں کو ہی خوش کرنے میں لگا دے۔



بہرحال، ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نوکری اور غلامی کے بجائے کاروباری ذہن اور تجارتی مزاج پروان چڑھایا جائے تاکہ ہمارے بچے دولت کے خوف اور پیسے کی جکڑ بندیوں سے باہر نکل کر بھی کچھ سوچ سکیں

MARTYRS OF PAK ARMY LIFE





سر مجھے چھٹی چاھیے ایک مہینے کی....
خیر ہے کیپٹن شارق اس سے پہلے آپ نے اتنی چھٹیاں نہیں لیں...؟
جی سر سب ٹھیک ہے... اماں ہمیشہ گلہ کرتی ہیں تھوڑے دن کے لیے آتے ہو اس لیے... اور... اور میری شادی ہے شارق نے کچھ جھجک کے کہا.....
اچھا... مبارک ہو جوان.... زبردستی ہو رہی ہے...؟؟
نی.... نہیں سر زبردستی کیوں...؟
آپ کی شکل سے یہی لگ رہا ہے....
نہیں سر یہ بات نہیں ہے میں ابھی شادی کرنا نہیں چاہ رہا ایک بار وزیرستان سے آجاوں پھر اور پتہ نہیں آوں بھی کے نہیں میں نہیں چاھتا سر کسی کی زندگی خراب ہو....
ہمممم تو یہ بات ہے.... اس پاکستانی آرمی میں لاکھوں فوجی ہیں تو اب وہ کیا سب شادی نہ کریں....؟
سر وہ ابھی ٹین ایجر ہے.....
تو کیا ہو جوان ہم فوجی تو وطن پہ قربان ہو جاتے ہیں اصل حوصلہ تو ہماری فیملیز کا ہوتا ہے جو بعد میں پوری زندگی ہمارے بغیر گزارتے ہیں دل ٹوٹے ہوتے ہیں آنکھ بھری ہوتی ہے مگر زبان پہ صرف الحمداللہ ہوتا ہے.....
آج ہی جاو اور شادی کرو.....
یس سر تھینکیو سر...
اور ہاں گھر جا کے ویٹ مت کرنا فورا بارات لے جانا....
یس سر... شارق مسکرایا....
اسلام علیکم....کیسی ہیں اماں...؟
ہممم کب آنا ہے... تجھے یاد ہے نا پرسوں تیری بارات ہے...؟
جی اماں کل آجاوں گا پکا....
ہمممم آجانا تمھارہ ہونا ضروری ہے ورنہ تیرے بغیر ہی شادی کر لیتی....
ہاہاہاہا اماں آپ میری ہی شادی کی بات کر رہی ہیں نا...؟
دوسری طرف خاموشی چھا گی....
اچھا سوری اماں...اس بار پورا مہینہ رہوں گا.... اب تو خوش ہوجائیں... اماں.... اماں آپ کو پتہ ہے نا میں ایک " فوجی" ہوں......؟
ہاں پتہ ہے اماں کی آواز بھرائی اور تجھے پتہ ہے نا تو میری اکلوتی اولاد ہے...؟
اماں میں ہمیشہ دھرتی ماں کے لیے آپ کا دل دکھا دیتا ہوں پر کیا کروں... میری اس ماں کو بھی میری بہت ضرورت ہے.
ہممممم
جی اماں...
اچھا اماں ہم میری " شادی " کی بات کر رہے تھے....
اماں مسکرائی اچھا...؟ کب...؟
ہاہاہاہا اماں آپ بھی نا....
میری دلہن کا تو بتائیں کیسی ہے وہ....؟
جیسی دلہنیں ہوتیں ہیں وہ بھی شارق کی ماں تھیں....
اماں....
پیاری ہے بہت پیاری.... خوبصورتی میں تیری ٹکڑ کی ہے....
اچھا پھر تو ابھی آنا پڑے گا ویٹ نہیں کر سکتا.....
تو آجا....
آگیا دروازا کھولیں...
ہیں کونسا...؟ گیٹ..؟
نہیں اپنے روم کا.....
اووووووو میرا لال کیسا ہے تو کیوں تنگ کرتا ہےماں کو...؟ بتا کے کیوں نہیں آیا....؟
بتا کے آتا تو اتنی خوشی کیسے دیکھتا آپ کے چہرے پہ....
چل ہٹ شریر.....
میں کھانا لاتی ہوں...
نہیں کھانے کو چھوڑے آپ چلیں....
کدھر ....؟
دلہن لینے.....
کیا....؟ تو پاگل ہوگیا ہے آج کیسے.... بارات تو....
اماں آپ نے انھیں بتایا نہیں میں فوجی ہوں..... ؟؟
بتایا ہے میرا بیٹا کیپٹن ہے اماں نے فخر سے کہا....
تو پھر انھیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا آپ بات کریں....
لے بھلا یہ کیسی باتیں کر رہا ہے....
اماں آپ بات کریں نا....
اماں نے واقعی فون کیا تو وہ لوگ مان گے ایک گھنٹے میں بارات لے کے آجائیں ہم انتظار کر ریے ہیں....
یاہو.... مایک آن تھا شارق بچوں کی طرح خوش ہوا...
اچھا چل جا اپنے ابا سے مل لے اور چاچو , پھوپھو سے کہہ سب تیار ہو کے آجائیں...
آدھے گھنٹے میں بارات رئیڈی تھی....
راستے میں گاڑی روک کے شارق نے کھانا پیک کروا لیا سب نے مل کے کھانا کھایا دلہن بھی تیار بیٹھی تھی نکاح ہوا اور دو گھنٹے میں دلہن شارق کے بیڈروم میں تھی....
ماشاءاللہ... آپ میری سوچ سے بھی زیادہ پیاری ہیں....
اور آپ پہ آ کے خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے.....
وہ دونوں ایسے گھل مل گے تھے جیسے برسوں سے ساتھ تھے.....
وہ جو مہینے کی چھٹی پہ آیا تھا تیسرے دن ہی کال آگی....
اماں... سائرہ.... مجھے جانا ہو گا.... اچانک کال آئی ہے.... اماں خاموش ہو گئیں... پر سائرہ ہمت کر کے بولی تو ٹھیک ہے نا تین دن بہت ہیں اب لمبی چھٹی پہ آئیے گا....
کیا ہوگیا ہے شارق آپ اتنے سیڈ کیوں ہو رہے ہیں.... مجھ سے محبت ہوگی ہے چھوڑنے کو دل نہیں مان رہا...؟ اماں مسکرائیں....
ہماری یونٹ وزیرستان موو ہو رہی ہے....
اماں اور سائرہ کی ہنسی سیکنڈز میں غائب ہوئی....
ابھی سے....
اماں میں جلد آجاوں گا.....
وہ لوٹ گیا تھا....
اماں اور سائرہ سارہ سارہ دن بولائی بولائی پھرتیں....
ابا تو پہلے ہی خاموش رہتے تھے ابھی اور خاموش ہوگے تھے...
سائرہ کو دیکھ دیکھ اماں کو خفگی ہوتی بائیس کا وہ اور اٹھارہ کی یہ ابھی تو جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ رہے ہیں اللہ جوڑی سلامت رکھے....
ان کی شادی کو مہینہ ہوگیا تھا. مگر سائرہ کو سال لگتا تھا.... کبھی منٹ دو منٹ فون پہ بات ہو جاتی تھی اس سے زیادہ اجازت نہ ملتی.....
سائرہ اماں کے ساتھ سو رہی تھی
ابا ڈیرے پہ تھے......
اماں کا موبائل بجا ہڑبڑا کے دونوں اٹھ بیٹھیں....
اللہ خیر....
اسلام علیکم... زندگی سے بھر پور آواز....
ماں صدقے....
اماں دروازا کھولیں میری بیوی اندر ہے....شارق مسکرایا تھا....
ہاۓ تو اندر کیسے آیا....؟؟
اماں اور سائرہ دروازے کی طرف لپکیں....
دیوار پھلانگ کے....
بتا کے کیوں نہیں آۓ آپ.... سائرہ کی آنکھیں چمکیں....
شارق نے نرمی سے سائرہ کی آنکھیں صاف کیں.... اتنی محبت کیسے دیکھنے کو ملتی اگر بتا کے آتا تو....
میں کھانا لاتی ہوں....
ہاں اماں بہت بھوک لگی ہے....جلدی کریں مل کے کھاتے ہیں.....
اماں گئیں تو سائرہ شارق کے سینے پہ سر رکھ کے سسک پڑی....
یہ کیسا استقبال ہے بھئ شارق نے اپنے بازو پھیلاے....؟؟
بہت برے ہیں آپ کوئی ایسے چھوڑ کے جاتا ہے نئ نویلی دلہن کو .....
اب میں آپ کو دو مہینے سے پہلے نھی جانے دوں گی....
میرے پاس صرف دو دن ہیں شارق کی گرفت ڈھیلی ہوئی.... سائرہ خاموشی سے کمرے میں چلی گی....
شارق بھی پریشان ہوگیا.....
شارق پریشان نہ ہو سائرہ ابھی بچی ہے آہستہ آہستہ تیری مصروفیت سمجھ جاۓ گی جی اماں...
کمرے میں آیا تو وہ لائٹ آف کر کے لیٹی ہوئی تھی....
شارق مسکرایا... مگر ساتھ ہی چینخ نکل گی کمرے کی شاید سیٹنگ چینج کی گی تھی بیڈ کی پائنتی سے ٹکرا گیا.... ہاۓ میرا گوڈا... (گھٹنہ)
ہاہاہاہا سائرہ بھاگی آئی....
دیکھائیں کدھر لگی ہے...
پہلے لائٹ آن کرو....دیکھائیں... پہلے تم اپنے دانت اندر کرو.... ہاۓ امی... اچھا اب بس بھی کریں اب اتنا بھی زور سے نہیں لگا کیپٹن صاحب
.ناراضگی ختم ہوچکی تھی وہ دونوں ڈھیر ساری باتیں کرتے رہے.....
دو دن بعد وہ چلا گیا...
اس کے ساتھ گھر کی ساری رونق بھی چلی گی تھی پھر خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے تھے.....
----------------------------------------------------
سر آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں.....
ہمممم.....
کیا بات ہے سر....؟
یار وہ نہیں سمجھتی اداس رہتی ہے تو میرا دل بھی پریشان ہی رہتا ہے.....
ڈونٹ وری سر بھابھی وقت کے ساتھ ساتھ یوز ٹو ہو جاۓ گئیں........
----------------------------------------------------
کافر سے لڑنا آسان ہوتا ہے مگر مذہب کا لبادہ اوڑ کر جب ہمارے ہی لوگ ہمارے سامنے کر دیے جاتے ہیں تو لڑنا مشکل ہو جاتا ہے....
مگر " پاک فوج " کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں....
ان کا پورا پلین رئیڈی تھا اور آسانی علی کی وجہ سے ہوگی تھی وہ دہشتگردوں میں ان کا ساتھی بن کے شامل ہوا تھا مین ایریا میں کیمرے لگا دیے تھے جس سے لوگوں اور اسلحے کی تعداد کا تعین ٹھیک سے ہو گیا تھا....
بس کل فائنل آپریشن اسٹارٹ کرنا ہے.....
---------------------------------------------------
وہ لیٹا ہوا تھا جب واٹس اپ پہ ٹیکسٹ ٹیون بجی....
سائرہ کی پریگنینسی رپورٹس تھیں.....پوزٹیو پہ سرکل کیا ہوا تھا.....
یاہووووووووو ہاہاہاہاہاہاہا.... سب اندر آگے سر خیریت ہے سب ٹھیک ہے نا...؟ قاسم کو اس کی دماغی حالت پہ شک ہوا.....
ہاں.... سب ٹھیک ہے.... میں جنت کا دروازا بننے والا ہوں.....
جنت کا دروازا....؟؟
ہاں نا ماں کے قدموں تلے جب جنت آجاتی ہے باپ بھی تو جنت کا دروازا ہے نا.....
اوووووووو مبارکا سر مبارکا.... سب اس سے گلے ملے.....
سر اب منہ کیسے میٹھا کریں.... پیٹو... تم کھانے کا ہی سوچنا قاسم نے اسے ڈانٹا....
ہاں تو ٹھیک ہے نا پتہ نہیں واپس جانا بھی ہے کے نہیں ابھی منہ میٹھا کر لیں.....
سب خاموش ہو گے....
یہ ممکن نہیں ہے اب....
قاسم منع مت کرو روحان کا دل چاہ رہا
ہے تو منع مت کرو....
بٹ شارق سر ایسا پوسیبل نہیں ہے ہم خود اس وقت اس سرنگ میں چھپے ہوۓ ہیں....
ہاں پر روحان کو انکار مت کرو....
قاسم روحان کو ایک تگڑی گھوری سے نواز کے باہر چلا گیا.....
دو گھنٹے ہوگے ہیں سر ابھی تک قاسم واپس نہیں آیا اب روحان کو یہ فکر لگ گی تھی.... ادھر قدم قدم پہ موت ہے...موت سے ڈر نہیں لگتا ضرور آۓ مگر میشن کمپلیٹ ہونے کے بعد......
شارق نے بڑی خاص نظروں سے روحان کو دیکھا کچھ نہیں ہوگا آجاۓ گا ابھی تم لوگ نماز پڑھو میں آتا ہوں....
----------------------------------------------------
اماں کیسی ہیں آپ.....؟
ٹھیک ہوں تو کیسا ہے....؟
ٹھیک ہوں.... بہت بہت مبارک ہو میرا پوتا آنے والا ہے....
ہممممم اماں میں بہت خوش ہوں میری جگہ فل ہو جاۓ گی....
تیری جگہ کون لے سکتا ہے شاقی....
اماں.... اپنا بہت خیال رکھیے گا.....
اور سائرہ کا بھی....
تو ایسی باتیں کیوں کر رہا ہے...؟
کچھ نہیں بس ایسے ہی....
اچھا لے سائرہ سے بات کر....
اسلام علیکم.....
وعلیکم السلام کیسی ہو ؟
ٹھیک ہوں اور آپ...؟
میں بھی... مبارک ہو بہت بہت....
آپ کو بھی...شارق....
پلیز آپ آجاۓ مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے....
آؤں گا جلد آجاؤں گا.... اچھا سنو فجر ٹائم میں فون کروں گا.... فون پاس ہی رکھنا....
اچھا ٹھیک ہے....
سائرہ اپنا بہت خیال رکھنا....
---------------------------------------------------
قاسم مٹھائی لے آیا تھا شارق نے اپنے ہاتھوں سے سب کو کھلائی.....
فجر کے وقت پوری ٹیم نکل گی تھی...
علی کی وجہ سے رستہ بلکل کلئیر تھا....
علی نے کمال مہارت سے کیمرے ہر جگہ لگاۓ تھے میجر طلال فجر کے وقت ہی لیپ ٹاپ لے کے بیٹھ گے تھے انھیں
شارق پہ پورا بھروسہ تھا....
شارق نے انھیں شرمندہ نہیں کیا تھا ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا تھا.....
جیسے ہی یہ لوگ انٹر ہوۓ نعرہ تکیبر لگا کے سب سے پہلا فائر علی نے کیا تھا یہ گیارہ تھے اور وہ لوگ کمانڈر سمیت پینتیس لوگ تھے.....
سارے کے سارے دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے تھے....
ان لوگوں میں سے آٹھ لوگ شہید ہوۓ تھے اور روحان شدید زخمی ہوا تھا....
شارق اور قاسم ٹھیک تھے.....
روحان کو ایک سائیڈ پہ لیٹا کے یہ دونوں اندر آگے....
اندر کوئی بھی نہیں تھا یہ مین ایریہ تھا جسے اب آزاد کروا لیا گیا تھا...
دونوں بہت خوش تھے.....
قاسم جوش سے آگے بڑھ کے شارق کے گلے لگنے لگا تھا جب شارق نے اسے زور سے دھکا دیا گولی شارق کے عین دل کے قریب لگی تھی.....
تقریبا دس لوگ اندر داخل ہوۓ تھے قاسم نے دھڑا دھڑ فائر کیے شارق کا پسٹل بھی رکا نہیں تھا سب کو مار کے ہی رکا.....
دونوں لیٹے ہوۓ تھے ہلنے کی بھی ہمت نہیں تھی دور سے ہی ایک دوسرے کو وکٹری بنا کے دیکھائی اور کیمرے میں دیکھ کے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا..... اور آنکھیں بند کر لیں....
میجر طلال کی آنکھیں بھیگی تھیں مگر انھوں نے بے دردی سے آنسووں روکے....
----------------------------------------------------
سائرہ ایسی سوئی کہ صبح آٹھ بجے آنکھ کھلی.....
شارق.... شارق نے فون کرنا تھا فجر ٹائم موبائل اٹھایا تو اس پہ ایک مس کال اود ایک میسج تھا.....
اپنا خیال رکھنا اور ایک آنسو نہ بہانا.....
پھر وہ فون کرتی رہی بار بار مگر نمبر بند تھا......
پریشان ہو کے اماں کی طرف بھاگی اماں شارق کا فون کیوں بند یے....
ابھی رات کو تو بات ہوئی تھی کر لے گا فون نہیں اماں میں نے ابھی بات کرنی ہے......
سائرہ پتر وہ آپریشن پہ ہے.....
اماں ابھی اسی وقت بات کرنی ہے....
اچھا چل ٹھیک ہے وہ فون کرتی رہیں بار بار مگر نہیں ہوا....
ایک گھنٹے بعد میجر طلال کا فون آگیا....
لے دیکھ سائرہ وہ غصہ کر گے ہونگے شکایت کے لیے فون کیا ہو گا....
اماں نے فون اٹھایا....
کیسی ہیں ماں جی....؟
ٹھیک ہوں....بیٹا وہ بچی بار بار فون کر رہی تھی...
ماں جی اس وقت گھر کون کون ہے...؟؟
میں ہوں... سائرہ ہے اور شارق کے ابا....
اور باقی چچا لوگ...؟؟
جی بیٹا ساتھ ہی گھر ہے....
آپ میری ان سے بات کروایں....
اچھا..... چاچو سے بات کروائی....
سر شارق بیٹا شہید ہوگیا ہے آپ ان کی فیملی کو آہستہ آہستہ بتائیں....
اور میشن....؟
مشن سکسیسفل....میجر صاحب کی آواز بھرائی....
الحمداللہ.....
ڈئیڈ باڈی کل تک پہنچے گی....
ٹھیک ہے ہم استقبال کی تیاری کرتے ہیں....
اماں نے سہارے کے لیے چئیر پکڑی....
چاچو کی آنکھیں بھر آئیں....
کب آۓ گا وہ...؟
کل......
اماں یہ شارق اس بار پھر سرپرائز کے چکروں میں تھا چلو اچھا ہوا میجر صاحب نے بتا دیا....
میں نے اپنے بری کے تمام کپڑے سلائی کروانے ہیں اور کالج سے بھی چھٹیاں لینی ہیں....
چلیں گھر....
گھر میں لوگوں کی آمد شروع ہوگی تھی اور ٹینٹ لگنے لگ گے....
سائرہ نے کپڑے واپس رکھے اور صحن میں آکے بیٹھ گی....
اماں اللہ کی یہی مرضی تھی... آنسووں مت بہایے گا آپ کا بیٹا فرض پورا کر کے گیا اس کا بیٹا آپ کا سہارا بنے گا.....
اماں کے آنسووں لڑھکے.....
اللہ کی مرضی اماں سسکی تھیں....
یہ آپ کا منی آڈر اس مہینے کا خرچہ اور یہ میرا......
میرا با اصول فوجی....
سائرہ اپنے کمرے میں چلی گی....
اپنا خیال رکھنا اور رونا مت..... نہیں رووں گی میری جان.....آنسووں لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے....
کبھی نہیں رووں گی.....
جوان شہادت پہ پورا علاقہ رویا تھا مگر گھر والوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا تھا....
پورے فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین کی گی....
""""کبھی پرچم میں لپٹے"'"""
""""کبھی ہم غازی ہوتے ہیں""""
""""جو ہو جاۓ ماں راضی """
"""تو بیٹے راضی ہو جاتے ہیں """"

---------------------------------------------------
لوگ کہتے ہیں فوجیوں کے دل سخت ہوتے ہیں بلکہ ان کے سینوں میں دل نہیں ہوتے.... اگر ایسا ہوتا تو میجر صاحب فون کر کے ماں جی کو یہ نہ کہتے کہ کسی اور سے بات کروایں چاچو کو بھی نہ کہتے کہ انھیں آرام سے سب بتائیں اور ان کی آواز بھرائی تھی.........
اور اکیس توپوں کی سلامی ان کے لیے جو کہتے ہیں پاکستانی فوج سارا بجٹ کھا جاتی ہے...
یہ پاکستانی فوج کا ہی حوصلہ ہے جو شارق جیسے ہزاروں بیٹے قربان کر کے بھی باہمت ڈٹ کے کھڑی ہے....
پاکستان  آرمی زندہ باد
پاکستان_پائندہ_باد



November 14, 2019

SECOND MARRIAGE/ WIFE IN ISLAMIC CULTURE

 

دوسری شادی کے وہ فائدے جس کے بارے میں آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا !!!
اسلام نے مرد کے طبعی و فطری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چار شادیوں تک کی اجازت دے رکھی ہے جس کہ تہہ میں کئ حکمتیں پوشیدہ ہیں. بادی النظر میں اگر اس سہولت کا جائزہ لیا جائے تو ہم اللہ تعالٰی کی حکمتوں پہ حیران ہوئے بنا نہیں رہ سکتے کہ کس طرح ایک جائز عمل کی بدولت مسلم معاشرہ بہت سی مثبت تبدیلیوں سے روشناس ہوتا ہے. ستم ظریفی یہ ہے کہ آج کے دور میں دوسری شادی کو ایک شجر ممنوعہ کی حیثیت دے دی گئی ہے آج کی عورت اگر مرد کی شادی کو شرک کا درجہ دیتی ہے تو اس نے نعوذ باللہ خود کو خدا کے رتبے پر فائز کر رکھا ہے .....میرا گھر، میرا شوہر، میری راج دھانی ، میری سلطنت ، میری کائنات . یہی وجہ ہے جس سے مسلم معاشروں میں بے راہ روی و بے حیائی کو فروع مل رہا ہے. آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا عمل کس طرح معاشرے پہ مثبت اثرات ڈال کر کن رحمتوں اور برکتوں کا موجب بنتا ہے مگر مجھے امید ہے جو لوگ اپنے ذہن سے ہندووانہ معاشرتی رسوم و رواج کے زہریلے اثرات جھٹک کر یہ تحریر پڑھیں گے ان ہی کے دل میں یہ دلائل گھر کریں گے.
1: اس عمل کی بدولت مسلم معاشرے کی بےشمار بن بیاہی لڑکیاں اپنے والدین کے گھروں میں اپنے بالوں میں چاندی کے تار نہیں اترتے دیکھتیں ،نہ ہی والدین راتوں کو اپنی بچیوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہ کر جاگتے ہے. ذات باری تعالٰی کی دی گئی اس چھوٹ سے لڑکیوں اور ان کے ولی کے سامنے رشتوں کی کثرت کے باعث انہیں اپنی سماجی اور معاشرتی سطح کے مطابق اپنی مرضی کے انتخاب میں بھی آسانی رہتی ہے
2: رزق کی ذمہ داری خدا تعالی نے اپنے ذمے لے رکھی ہے. لہذا اس معاملے میں پریشان ہوئے بنا جب ازواج فیملی پلاننگ کے عفریت سے بچتے ہوئے اپنے کنبے میں اضافہ کرتے ہیں تو مسلمانوں کو معاشی ، عسکری اور جہادی لحاظ سے مزید افرادی قوت میسر آتی ہے . دوسری شادی سے شوھر کی آمدنی تقسیم ہونے کا ڈر رکھنے والیاں پھر بچے بھی پیدا نہ کریں . صحابہ کرام تو عسرت اور تنگی کی حالت میں بھی دوسری ، تیسری اور چوتھی شادی کرکے مطلقہ اور بیواؤں کا سہارا بنتے تھے. اور آج کے دور میں تو اوسط درجے کے ایک غریب کے گھر بھی ہفتے میں کئی بار تازہ سالن اور مرغی بن جاتی ہے. یہاں پھر یہی مثال صادق آتی ہے کہ عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے. دوسری شادی کی مخالف بہنیں خود غرض بن کر دوسری بہنوں کا دکھ سمجھتے ہوئے بھی جان بوجھ کر انجان بنتی ہیں
3: اسلام بیک وقت دو، تین یا چار بیویوں کی کفالت کا بوجھ مرد پہ ڈال کر گویا عورت کو وہ احساس تحفظ فراہم کرتا ہے جو وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے نوکری یا کاروبار کرتے ہوئے بھی حاصل نہیں کر سکتی.
4: تمام دنیا میں عورتوں کی تعداد کا تناسب مردوں سے زیادہ ہے. اگر عورتوں کی پیدائش کا تناسب کم ہو تب بھی مرد حضرات مختلف حادثات جیسے.... ایکسیڈنٹس، بم دھماکوں، جنگوں اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو کر زیادہ تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں. بچ جانے والے مردوں میں سے کچھ فیصد مختلف وجوہات کی بنا پر ہیروئن، شراب، چرس جیسے نشوں کے عادی ہونے کے باعث عورت کی کفالت کرنے کے قابل نہیں رہتے. کیونکہ نشہ اور دیگر بری عادات میں مبتلا مرد عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں. بفرض محال اگر انکی شادی ہو بھی جائے تب بھی اپنی لاپرواہی، آوارگی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی بدولت ایسی شادیوں کا انجام اکثر و بیشتر طلاق ہی نکلتا ہے. جس کا مطلب عورت کا پھر سے بے گھر و بے سہارا ہو جانا ہے .
جو مرد حضرات ان بری عادات سے بچ جائیں تو انکی ایک معقول تعداد تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باعث بر سر روزگار نہیں ہو پاتی یا اتنے ذرائع آمدن پیدا نہیں کر سکتی کہ اپنے کنبے کا بوجھ اٹھا سکیں. فی زمانہ کوالیفائیڈ اور روزگار کے قابل جوان ڈگریاں ہاتھ میں پکڑے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں. بےروزگاری اور عدم قناعت کے باعث کی جانے والی ایسی شادیاں اکثر طلاق پہ منتج ہوتی ہیں. اور آج کے دور میں خواتین کی تعلیمی میدان میں مردوں پر برتری اور ملازمتوں پہ قبضے کے باعث مردوں میں بےروزگاری کی شرح میں تیزی سے مزید اضافہ ہو رہا ہے
5: مسلمان مردوں کی ایک کثیر تعداد اپنے ممالک میں ملازمتوں کی کمی کے باعث بیرون ملک سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں جن میں سے کچھ مردوں کو بعض ترجیحات و وجوہات غیر مسلم لڑکیوں سے شادی پہ مجبور کردیتی ہیں جس کا خمیازہ مسلمان لڑکیوں کو بن بیاہی رہ جانے کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے
6: ایک تحقیق کے مطابق نومولود بچیوں میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کا تناسب لڑکوں سے زیادہ ہے. اس لئے کچھ لڑکے کم عمری میں ہی بیماریوں کا شکار ہو کر یا تو معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں . مردوں عورتوں کی آبادی میں تناسب کے فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہے
7: بہت سے برسرروزگار مرد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی خاطر مناسب عمر میں نکاح پہ آمادہ نہیں ہوتے یا ایک طویل عرصے تک شادی کرنے سے اجتناب کرتے ہیں جس کا نقصان انکی ہم عمر بچیاں اٹھاتی ہیں
8: مردوں میں مردانہ کمزوری کا مرض اس بےحیائی اور فحاشی کے دور میں تیزی سے بڑھ رہا ہے کیونکہ نشے یا بے راہ روی کا شکار اکثر مرد جنسی قوت سے عاری ہو جاتے ہیں. یہ بات موجودہ دور میں طلاق کے واقعات میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہے. جس کی وجہ سے ایسی مسلمان لڑکیاں دوبارہ اپنے والدین کی دہلیز پہ آ بیٹھتی ہیں
9 : ہر مرد فطرتا عاشق مزاج ہوتا ہے عورت کے معاملے میں الله نے مرد کو ورائٹی پسند رکھا ہے تبھی اس کی فطرت کے حساب سے الله نے اسے جنت میں 70 حوروں کا ترغیب دی ہے جبکہ عورت کو بناؤ سنگھار سے فطری رغبت کی بنا پر زیور ، کپڑوں وغیرہ کا. یہ ایک بیوی رکھنے کا ہی نقصان ہے کہ بسا اوقات اکتاہٹ کی بنا پر دونوں بڑھاپے میں ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہیں ہوتے.
ان سب حقائق کو سامنے رکھ کر یہ تجزیہ کرنا مشکل نہیں کہ مسلم معاشروں میں مسلم بچیوں کی ایک کثیر تعداد مناسب رشتوں کی عدم دستیابی کے باعث سخت پریشانی کا شکار ہے. "گرل فرینڈ کلچر" نے مرد کے لئے ناجائز راستوں پر چلنے کے مواقع آسان کر دئیے ہیں کیونکہ اس صورت میں مرد کو نان نفقے جیسا بوجھ گلے میں نہیں ڈالنا پڑتا. دوسری شادی کے معاملے میں ہمارا رویہ ہندووانہ معاشرے کی پیداوار ہے . باقی رہی انصاف کی بات تو بے انصاف مرد ایک شادی کرکے بھی بے انصاف ہی رہے گا اور انصاف پسند مرد چار رکھ کر بھی بخوبی نبھا سکتا ہے.
اس پرفتن دور میں امت کا درد رکھنے والے علماء کو مردوں کو دوسری شادی کی بھرپور ترغیب دینی چاہیے تاکہ مسلمان عورتیں اور بچیاں اپنی عفت و پاکدامنی کو بچاتے ہوئے ایک بھرپور مسلم معاشرے کی تشکیل و تکمیل میں اپنا بنیادی کردار ادا کر سکیں. اسی صورت میں غیر مسلموں کے فنڈز سے چلنے والی این جی اوز اور مشنری اداروں کو ہماری مسلمان بچیوں کی عزتوں سے کھیلنے کا موقع بھی نہیں مل سکے گا. سعودی عرب کے ایک ممتاز عالم دین عبداللہ بن عبدالرحمن بن جبرین نے مردوں کی ایک سے زیادہ شادیوں کو واجب قرار دے دیا ہے.
مختصراً یہ کہ عورت کنواری ہو، یا مطلقہ ، بیوہ ہو اپنی رہائش، لباس و خوراک کیلئے مرد پہ انحصار کرتی ہیں. لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ صالح مردوں سے انکے پہلے، دوسرے، تیسرے یا چوتھے نکاح کر دئیے جائیں تاکہ وہ کسی فحاشی میں مبتلا نہ ہو کر معاشرے اور مردوں کو پاک رکھ سکیں اور یہ امید بھی رکھی جائے کہ اس نکاح کی برکت سے اللہ تعالٰی نیک اور صالح اولاد بھی عنایت فرمائیں گے. لہٰذا آج کے فتنہ و فساد کے دور میں مرد و زن کو مزید نکاح سے روکنا یا نکاح ہو جانے کے بعد طلاق دینے پہ اصرار کرنا یا بیوہ و مطلقہ کی دوسری شادی کو معیوب سمجھنا اللہ تعالٰی کی مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی اور معاشرے میں فتنہ پھیلانے کا موجب ہے

October 18, 2019

LUNCH BOX


لنچ بکس
"اسد زکاء آپ لنچ نہیں کر رھے" مس راحیلہ نے روز کی
طرح آج بھی اسد زکاء کو لنچ نہ کرتے دیکھ کر پوچھا۔
" میم مجھے بھوک نہیں ھے" اسد زکاء نے بھی روز کی طرح وھی جواب دیا۔
کلاس فور کو شروع ھوئے دو ہفتے ھو چکے تھے ان دو ہفتوں میں روز مس راحیلہ اسد زکاء کو لنچ نہ کرتے دیکھ کر پوچھتی اور وہ بھی روز ایک ھی جواب دیتا۔ اسد زکاء کلاس تھری میں ٹاپ کرکے کلاس فور میں آیا تھا۔ بلکہ نرسری سے لےکر کلاس تھری تک ھر کلاس میں ھر ٹرم میں وھی ٹاپ کرتا تھا۔ اس لیے مس راحیلہ نے آج طے کیا تھا کہ وہ آج بریک میں ضرور اسد زکاء سے پوچھیں گی کہ وہ لنچ کیوں نہیں کرتا۔ اور اسکے والدین کو بھی بلا کر بات کریں گی کہ وہ بچے کو لنچ کیوں نہیں دے کر بھیجتے۔ مس راحیلہ کو لگ رھا تھا کہ قصور ماں باپ کا ھے وہ شاید لنچ دے کر ھی نہیں بھجیتے۔ یہ سب بات کرنے کے لیے بریک کی بیل کے بعد مس راحیلہ نے اسد زکاء کو کہا کہ آپ میری بات سن کر باھر جایئے گا۔
ساری کلاس کے باھر جانے کے بعد مس راحیلہ نے اسد زکاء سے پوچھا" بیٹا میں دو ہفتے سے دیکھ رھی ھوں آپ لنچ کیوں نہیں کرتے۔"
" وہ میم مجھے بھوک نہیں ھوتی۔ " اسد زکاء نے وھی رٹا ھوا جملہ بول دیا۔
"بیٹا یہ کیسے ھو سکتا ھے۔ آپ صبح سات بجے ناشتہ کرتے ھو گے۔ گیارہ بجے تک یہاں سکول میں پڑھ پڑھ کے آپ کو ذرا بھی بھوک نہ لگے۔ آپ جاؤ اپنا لنچ بکس لے کر آؤ۔ " مس راحیلہ نے اپنا شک دور کرنے کے لیے کہا۔ کیونکہ انھیں یقین تھا کہ اسد ذکاء کے پاس لنچ ھے ھی نہیں۔ اسد اپنی جگہ سے نہیں ھلا۔ وہ وھی کھڑا رھا۔
مسں راحیلہ نے کچھ دیر انتظار کیا پھر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا۔ " یعنی میرا شک ٹھیک نکلا۔ بلاتی ھوں آپ کے والدین کو کہ آپ بچے کو لنچ تک نہیں دے کر بھیجتے اتنی لا پرواھی۔ " مس راحیلہ کو سخت غصّہ آگیا۔
انکی یہ بات سن کر اسد کے پاؤں تلے جیسے زمین نکل گئی ھو۔ وہ انتہائی پریشانی سے بولا " نہیں میم میرے پاس لنچ ھے۔ الله کی قسم میرے پاس لنچ ھے۔ " وہ جیسے رونے لگا تھا۔ مس راحیلہ اسکی پریشانی پر حیران اور پریشان ھو گئیں۔ اور بولیں" اچھا دکھاؤ کہاں ھے۔" ان کے کہتے ھی اسد فوراً جاکر اپنے بیگ سے اپنا لنچ بکس لے کر آگیا۔ اس کے لنچ بکس میں پراٹھا اور اچار تھا۔ مس راحیلہ کو سمجھ نہیں آئی کہ پھر وہ لنچ کرتا کیوں نہیں۔ انھوں نے پھر بڑے پیار سے پوچھا۔ " بیٹا لنچ ھے تو آپ کرتے کیوں نہیں۔ کیوں بھوکے رھتے ھو۔ زیادہ نہیں تو تھوڑا تو کھا لیا کرو۔" انھوں نے پیار سے سمجھایا۔
جی میم آئندہ ضرور کھا لیا کروں گا۔ بس آپ میری امّی بابا کو مت بتائیے گا۔" اسد نے روھانسی آواز میں کہا۔ مس راحیلہ کو لگا کہ کوئی بات ضرور ھے۔ وہ پھر پوچھنے لگ گئیں۔ " اچھا بیٹا نہیں بتاؤں گی۔ پر آپ مجھے بتاؤ اصل بات کیا ھے۔ آپ لنچ کرتے کیوں نہیں۔"
"وہ میم سب بچے پھر مزاق اڑاتے ھیں۔ میں بس اچار پراٹھا ھی لیکر آتا ھوں تو سب مزاق اڑاتے ھیں۔ اس لیے نہیں کھاتا۔" اسد نے اب اصل وجہ بتائی اور ساتھ اپنی آنکھوں میں آنے والے ھلکے سے آنسو بھی صاف کیے۔ مس راحیلہ کا دل کیا کہ اسے اپنے گلے سے لگا کر پیار کریں۔ وہ اسکے سر پر ھاتھ پھیرتے ھوئے بولیں۔
" بیٹا آپ اپنی امّی سے بولا کریں وہ آپکو کچھ اور بنا دیا کریں۔ " مس راحیلہ نے بڑے پیار سے حل بتایا۔
"کلاس ون میں کہا تھا میم۔ کہ مجھے نہیں پراٹھا لیکر جانا۔ سب مذاق اڑاتے ھیں۔ " اسد نے معصومیت سے بتایا۔ "پھر" مس راحیلہ کو بھی اب تجسس ھونے لگا تھا۔ اسد نے ایک نظر انھیں دیکھا۔ پھر اسی طرح نظر جھکا کر بولنے لگا۔ " پھر میم۔ مجھے کچھ عرصے بعد میری آپی نے کہا کہ۔ وہ نائتھ کلاس میں جاتی ھیں۔ نائتھ اور ٹینتھ کے بعد وہ محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیں گی۔ پھر جیسا لنچ میں کہوں گا ویسا آپی بنا دیا کریں گی۔ مگر ابھی میں امّی سے کہوں کے بریڈ اور کباب یا نگٹس کھانے سے میرے پیٹ میں درد ھو جاتا ھے۔ اس لیے مجھے یہ نہ دیا کریں۔" اسد ابھی بول ھی رھا تھا کہ مس راحیلہ اس کی بات کاٹتے ھوئے بولیں۔ مگر آپ کی بہن نے ایسا کیوں کہا۔"
" کیونکہ جب سے امّی نے مجھے بریڈ سینڈوچ کباب وغیرہ لنچ میں دینے شروع کیے تھے۔ تب سے بابا رات کو دو کی بجائے تین بجے گھر آنا شروع ھو گئے تھے۔ میرے بابا ایک کلرک ھیں۔ وہ دن کو دفتر میں کام کرتے ھیں اور رات کو ٹیکسی چلاتے ھیں۔ تاکہ میری بیکن ھاؤس کی فیس اور باقی خرچہ کر سکیں۔ میرے ایک لنچ کے لیے وہ پورا ایک گھنٹہ لیٹ آنے لگ گئے تھے۔ حالانکہ اگلے دن سات بجے انھوں نے پھر اٹھنا ھوتا تھا دفتر جانے کے لیے۔اس لیے میری آپی نے کہا ایسے بابا بیمار ھو جائیں گے۔ تو میں امّی سے کہوں مجھے یہ لنچ نہ دیں۔ اور جب آپی میڑک کر لیں گی تو وہ ٹیوشن پڑھا کر میرے لنچ کے پیسے بنا لیا کریں گی۔ تو میں نے امّی سے وھی کہہ دیا۔ پہلے بھی بس میں ھی بیکن ھاؤس پڑھتا ھوں۔ میری بہنیں تو گورنمنٹ سکول میں پڑھتی ھیں۔ اور میرے لنچ کے لیے بابا کو نیند کی مزید قربانی دینی پڑھ رھی تھی جو مجھے اچھا نہیں لگا۔ تو میں کہہ دیا کہ مجھے یہ سب نہیں کھانا۔ " اسد نے آج اپنے اندر کی ساری باتیں کر ڈالیں۔
" تو کیا ابھی تک آپ کی آپی نے میڑک نہیں کیا۔" مس راحیلہ کو چھوٹے سے اسد کی بڑی باتوں میں دلچسپی پیدا ھو گئی تھی۔ اس لیے وہ مزید جاننے کی کوشش کر رھی تھیں۔
"میڑک تو اس نے پچھلے سال کر لیا تھا میم۔ اور پتا ھے اس نے بورڈ میں ٹاپ کیا تھا۔ اس نے بابا سے کہا کہ وہ اسے کنیٹ کالج میں داخلہ لینے دیں۔ کچھ تو سکالر شپ مل جائے گا۔ باقی وہ ٹیوشن پڑھا کے انتظام کر لے گی۔ بابا کو پریشان نہیں کرے گی۔ بابا اس کے بھی تو بابا ھیں نا۔ اور اس نے کیا بھی ٹاپ تھا۔ بابا نے اسکا کنیٹ کالج میں ایڈمیشن کرا دیا۔ اسے جب پہلی ٹیوشن فیس ملی تو اس نے کہا چلو اسد آج جو میرا بھائی کہے گا وہ سب لے کر آؤں گی اور وھی لنچ میں لے کر جائے گا میرا بھائی اسے اب پراٹھا اچار نہیں لے کر جانا پڑے گا۔ مگر میں نے آپی سے کہہ دیا۔ آپی قسم سے وہ بازار کی چیزوں سے واقعی ھی میرے پیٹ میں درد ھو جاتا تھا۔ ویسے بھی تو اب میں بڑی کلاس میں آگیا ھوں۔ اب تو کوئی میرا مذاق بھی نہیں اڑاتا۔ میں روز پراٹھا کھا کر آتا ھوں۔ میم پتا ھے میں نے ایسے کیوں کہا۔ کیونکہ میں نے اکثر آپی کو چھوٹی آپی کو بتاتے سنا تھا کہ کنیٹ کالج میں بہت امیر لڑکیاں پڑتی ھیں ان کے پاس بہت مہنگی چیزیں ھوتی ھیں۔ تو آپی ٹیوشن کے پیسوں سے اپنے لیے کچھ لے سکتی تھیں۔ لنچ تو اتنا ضروری نہیں تھا نا۔ تو میں نے آپی کو بھی منع کر دیا۔ ویسے بھی کلاس تھری تک تو عثمان میرا دوست تھا وہ میرے لیے اکثر الگ لنچ لے آتا تھا۔ اسکی ماما میرے لیے بہت مزے کا لنچ بنا کر دیتی تھیں۔ اسکے بابا کی اب پوسٹنگ کراچی ھو گئیں ھے۔ وہ لوگ اب وھاں چلے گئے ھیں۔ اس لیے مجھے ابھی کوئی نیا دوست نہیں ملا۔ ویسے میم اچھا ھوا وہ چلا گیا"۔ اسد کچھ اداسی سے بولا مگر مس راحیلہ کو اس کے آخری فقرے کی وجہ سمجھ نہیں آئی کے دوست کا جانا اچھا کیوں تھا۔ وہ پھر بولیں۔" اچھا کیوں ھوا۔ آپکا دوست آپکے ساتھ رھتا تو زیادہ اچھا نہیں تھا۔ " مس راحیلہ نے وضاحت سے پوچھا۔ اور اسد ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولا۔ " اس طرح سے تو بہت اچھا تھا میم وہ میرا بہت اچھا دوست تھا۔ مگر جب وہ میرے لیے لنچ لاتا تھا تب بھی کچھ بچے تنگ کرتے تھے۔ اوہ آج عثمان پھر اسد کے لیے لنچ لایا ھے۔ کھاؤ کھاؤ۔ ماں باپ غریب ھیں تو کیا ھوا دوست امیر ھیں نا۔ تو میرا دل دکھتا تھا۔ میں اکثر کھانا چھوڑ دیتا تھا مگر عثمان کے کہنے پر پھر کھا لیتا تھا۔ میرے امی بابا غریب نہیں ھیں میم۔ بس انکے پاس پیسے تھوڑے کم ھیں۔ میرے بابا کہتے ھیں انشا الله میرا اسد ڈاکڑ بنے گا اور اسکے پاس بہت پیسے ھوں گے اور انشا الله میں انکا خواب ضرور پورا کروں گا۔ بس اس لیے کبھی کبھی میرا دل کرتا تھا کہ عثمان کہیں چلا جائے تاکہ کوئی میرے امی بابا کو ایسے نہیں بولے۔" وہ چھوٹا سا بچہ اپنے ھر رشتے کے لیے اتنا حساس تھا یہ دیکھ کر مس راحیلہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ " مگر بیٹا آپ لنچ تو کرتے نہیں۔ آپکی امی یا آپی آپکا لنچ بکس چیک کرکے پوچھتی نہیں کے لنچ کیوں نہیں کیا۔ " مس راحیلہ بولیں۔ اسد ہلکا سا مسکرایا اور بولا۔ " میم میں نا اپنی وین میں لنچ کر لیتا ھوں۔ اس وین میں سب پراٹھا ھی لیکر جاتے ھیں۔ اس لیے کوئی میرا مذاق بھی نہیں اڑاتا اور امی کو پتا بھی نہیں چلتا کے میں نے سکول میں لنچ نہیں کیا۔ " اسد نے فخر سے بتایا۔ مس راحیلہ کو اسکی اس ادا پہ بہت ھی پیار آیا۔ اور ساتھ ھی بریک ختم ھونے کی بیل بج گئی۔ "چلو باقی باتیں پھر کبھی کریں گے۔" مس راحیلہ نے کہا اور اسد بھی جاکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ باقی دن نارمل کلاسز میں گزر گیا۔ مس راحیلہ اسد سے اسکی سوچ اور اسکی حساسیت سے بہت متاثر ھوئیں۔ وہ اس کے لیے کچھ کرنا چاھتی تھیں۔ اگر وہ خود اس کے لیے لنچ بنا کر لے جائیں۔ مگر اسے تو عثمان کا لنچ نہیں نہیں یہ ٹھیک نہیں ھے۔ وہ بہت سے خیالات اپنے ذھن میں بن رھی تھیں۔ پھر ایک طریقہ انکے ذھن میں آگیا۔
اگلے روز بریک سے کچھ دیر پہلے گیٹ کیپر نے آکر کلاس کے دروازے پہ دستک دی اور کہا کہ "اسد زکاء کا لنچ آیا ھے"۔ اسد حیرانی و پریشانی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر گیا اور لنچ بکس لے لیا۔ لنچ بہت مزے کا تھا وہ سارا کھا گیا۔ اس کے بعد یہ روز کا معمول بن گیا۔ روز بریک سے پہلے گیٹ کیپر آ کر لنچ دے جاتا اور وہ لنچ کھا لیتا۔ کلاس فور ، فائیو، سکس حتی کہ اسد زکاء نے میڑک کے پیپر دیے اور اپنی بہن کی طرح اس نے بھی بورڈ میں ٹاپ پوزیشن لی۔ اور سکول سے فخر سے نکلا۔ کلاس ٹین تک اسکا وہ لنچ بکس آتا رھا وہ بند نہیں ھوا۔
مس راحیلہ اس سکول سے ریٹائر ھو کر فارغ ھو گئیں۔ وہ اب تک سوچتی تھیں کہ اسد زکاء نے کبھی گیٹ کیپر سے پوچھا نہیں کہ اسے لنچ کون دیتا ھے۔ جبکہ انکا خیال تھا کہ اسد زکاء اسی دن جب جاکر گھر پوچھے گا کہ لنچ کس نے بھیجا اور اسے پتا چلے گا کہ گھر سے کسی نے نہیں بھیجا تو وہ شاید اگلے دن وہ لنچ لے ھی نہ یا گیٹ کیپر سے ضد کرے کہ بتائیں یہ لنچ بکس کس نے دیا ھے۔ مگر مس راحیلہ نے سوچا کہ جب یہ ھوگا تب دیکھیں گے لنچ بکس دینا تو شروع کروں۔ مگر اسد زکاء نے کبھی گیٹ کیپر سے یہ نہیں پوچھا بلکہ وہ روز چھٹی ٹائم وہ لنچ بکس گیٹ کیپر کو دے جاتا تھا۔ کبھی کبھی مس راحیلہ کو تجسس ھوتا تھا کہ وہ کیا سوچتا ھو گا۔ کہ یہ کون دیتا ھے۔ مگر وہ اب یہ کس سے پوچھتی۔ شروع کے دو تین سال تو اسد زکاء سکول آتا رھا ملتا بھی رھا۔ اسکا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ھو گیا ھے۔ یہ وہ انھیں خود بتا کر گیا تھا۔ مگر اسکے بعد وہ دوبارہ سکول نہیں آیا۔ مس راحیلہ اس کو یاد کرتی اور اس کے لیے دعا کر دیا کرتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" سر پلیز آپ جلدی سے چار لاکھ جمع کرا دیں تاکہ آپکی امّی کا آپریشن شروع ھو سکے۔ " نرس پچھلے آدھ گھنٹے میں یہ تیسری بار بول کر گئی تھی۔ مگر وہ دونوں کچھ نہیں کر پا رھے تھے۔ اپنی ساری جمع پونچھی اور ھر رشتے دار سے مدد مانگنے کے بعد بھی بس ڈھائی لاکھ کا بندوبست ھو سکا تھا۔ ڈیڑھ لاکھ ابھی بھی کم تھا۔ اور آپریشن تب شروع ھونا تھا جب چار لاکھ جمع ھو جاتے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچتے دو کمپوڈرذ آئے اور انکی امی کو لے کر جانے لگے۔
" یہ کیا کر رھے ھیں آپ"۔ ان بہن بھائی کو سمجھ نہیں آئی کہ انکی امی کو کہاں لے کر جایا جا رھا ھے۔ "انکا آدھ گھنٹے میں آپریشن ھے۔ آپریشن تھیڑ لے کر جا رھے ھیں۔" ان میں سے ایک کمپوڈر بولا۔
"مگر ھم نے ابھی فیس جمع نہیں کرائی ۔ آپریشن کیسے ھو سکتا ھے" بھائی نے استفسار کیا۔
" انکی فیس جمع ھو گئی ھے۔" اسی کمپوڈر نے بے نیازی سے جواب دیا۔ اور وہ بہن بھائی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ " دیکھیں انکا نام راحیلہ امجد ھے۔ انکی فیس ابھی جمع نہیں ھوئیں۔ آپکو کوئی غلط فہمی ھوئی ھے"۔ اس بار بہن نے تفصیل سے بات بتائی۔
"جی راحیلہ امجد انکا بائی پاس ھے۔ کل یہ ایڈمیٹ ھوئیں تھیں۔ انھی کی فیس جمع ھوئیں ھے۔ مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ھوئیں۔ آپ پلیز جانے دیں ڈاکڑ صاحب خفا ھو گے۔ " اس کمپوڈر نے تفصیل سے ساری بات بتائی اور انھیں راستے سے ھٹاتے ھوئے انکی بیڈ کو آپریشن تھیڑ کی طرف لے کر جانے لگا۔ مس راحیلہ سو رھی تھیں۔ انھیں اس سب کی کوئی خبر نہ تھی۔
" سسڑ آپکے کمپوڈرز کو کوئی غلط فہمی ھوئی ھے۔ ھماری مدر کی فیس ابھی ھم جمع نہیں کرا سکے۔ تو آپریشن کیسے ھو سکتا ھے۔ " بھائی اس نرس کے پاس گیا جو پہلے تین دفع انکے پاس آئی تھی اور پوچھنے لگا۔ " جی انکی فیس تھوڑی دیر پہلے جمع ھو گئی ھے۔ آپ پریشان نہ ھوں۔" نرس نے اپنے پیپرز ٹھیک کرتے ھوئے بتایا۔
"لیکن کس نے کرائی۔" وہ دونوں حیران پریشان ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ نرس آپریشن تھیڑ کی طرف جانے لگی تو بہن نے اسے روک کر دوبارہ پوچھا۔
" پلیز بتائیں کس نے کرائی ھے۔" بہن اسکے آگے آ گئ۔
"جی ھمیں سختی سے منع کیا گیا ھے کہ کسی کو مت بتایا جائے۔ پلیز آپ مجھے جانے دیں"۔ نرس نے بہن کو ھاتھ سے پیچھے کیا اور آگے بڑھ گئ۔
اب وہ دونوں آپریشن تھیڑ کے باھر کھڑے تھے۔ انھیں فل حال اپنی امّی کے آپریشن کی زیادہ فکر تھی۔ فیس کس نے دی یہ تو بعد میں پتا لگ سکتا تھا۔ کچھ دیر بعد سرجن صاحب باھر آئے اور بتایا کہ ان کی مدر کا آپریشن کامیاب ھو گیا ھے۔ آج کا دن وہ under observation رھے گی پھر انھیں روم میں شفٹ کر دیں گے۔ ان دونوں نے الله کا شکر ادا کیا کہ آپریشن ٹھیک ھو گیا ھے۔ جتنے دن مس راحیلہ ھسپتال رھی انکے بیٹے نے ھر ممکن کوشش کر ڈالی یہ جاننے کی کہ انکی مدر کی فیس کس نے ادا کی ھے۔ مگر کچھ پتا نہ چل سکا۔ یہ بات اس نے مس راحیلہ کو بھی بتائی وہ بھی حیران تھی کہ کون ایسا ھے جو اتنا بڑا احسان بھی کر رھا ھے مگر سامنے بھی نہیں آ رھا۔ آج مس راحیلہ کو فارغ کردیا گیا تھا۔ ان کا بیٹا ھسپتال کے واجبات ادا کرنے گیا تو اسے پتا چلا کہ وہ پہلے ھی ادا ھو چکے ھیں اور جواب پہلے والا ھی تھا کہ نہیں بتا سکتے کس نے کیے ھیں۔ اس نے یہ بات جاکر مس راحیلہ کو بتائی وہ سب حیران پریشان تھے کہ وہ کون ھے۔ انھیں بالکل سمجھ نہیں آرھا تھا۔ خیر وہ سامان اٹھا کر جانے کی تیاری کرنے لگے۔ انھیں اندازہ تھا کہ اتنے دنوں سے اصرار کر رھے ھیں کسی نے کچھ نہیں بتایا تو اب کیا بتائیں گے۔
سب سامان گاڑی میں رکھ کر گاڑی میں بیٹھتے ھوئے مس راحیلہ کی نظر ھسپتال کے اوپر لکھے ھوئے بڑے سے بورڈ پر پڑی اور وہ جیسے اپنی جگہ پر جامد ھو گئ ھوں۔ بورڈ پہ لکھا تھا ہارٹ سپیشلسٹ ڈاکڑ اسد زکاء۔ یہ نام پڑتے ھی نجانے کتنے سال مس راحیلہ کے دماغ میں لمحے کا سفر طے کر گئے۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے اصرار کیا کہ انھیں ڈاکڑ اسد زکاء سے ملنا ھے۔ انکا بیٹا انھیں واپس ھسپتال کے اندر لے گیا۔وھاں کچھ اصرار کے بعد نرس نے ڈاکڑ اسد زکاء سے بات کی۔ ڈاکڑ نے انھیں الگ کمرے میں بٹھانے کو کہا اور کہا کہ وہ تھوڑی دیر میں آتے ھیں۔ وہ تینوں ماں بیٹا اور بیٹی اس کمرے میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔
تقریبًا پانچ منٹ گزرے ھوں گے کہ دروازہ کھلا ایک انتہائی شاندار شخصیت کا مالک شخص کمرے میں داخل ھوا۔ اور مس راحیلہ کے پاس آکر اس نے انتہائی ادب سے سلام کیا۔
" یہ کلاس فور میں میرے سٹوڈنٹ تھے۔ " مس راحیلہ نے اپنے بیٹا اور بیٹی کو فخریہ انداز میں بتایا۔
"بیٹا مجھ پہ اتنا بڑا احسان کر کے تم منظر سے غائب کیوں رھنا چاھتے تھے۔ " اس بار وہ ڈاکڑ اسد سے مخاطب تھیں۔ جو سر جھکائے انتہائی ادب سے کھڑا تھا۔
"میم پہلے تو آپ سب بیٹھیں آرام سے بات کرتے ھیں۔ اس نے مس راحیلہ کے بچوں کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ سب بیٹھ گئے۔ اور اب ڈاکڑ اسد نے بولنا شروع کیا۔
" پہلے تو آپکی امی نےمیرا تعارف نامکمل کرایا ھے۔ میں انکا کلاس فور کا وہ سٹوڈنٹ ھوں جسے یہ کلاس ٹین تک لنچ بکس بنا کر دیتی رھی ھیں۔ " ڈاکڑ اسد نے یہ بات کی تو مس راحیلہ حیرانگی سے اسکا منہ دیکھنے لگی۔ یعنی وہ جانتا تھا کہ وہ لنچ بکس مس راحیلہ بنا کر دیتی تھیں۔ وہ بے ساختہ بول پڑیں۔
" آپ جانتے تھے مگر کیسے"۔ وہ حیران پریشان اسکا منہ دیکھ رھی تھی۔ ڈاکڑ اسد ہلکا سا مسکرایا اور بولا
" میم کلاس ون میں میں نے لنچ کرنا چھوڑا تھا۔ کلاس ون سے لیکر آپکی کلاس تک کبھی کسی ٹیچر نے پوچھا ھی نہیں تھا کہ آپ لنچ کیوں نہیں کر رھے۔ اس دن آپ نے پوچھا اور اگلے دن لنچ آ گیا۔ میم بات یہ ھے کہ ھماری کلاس کے بچوں کو لوگ اور حالات بڑی جلدی سمجھ آ جاتے ھیں۔ اور میں بھی سمجھ گیا تھا۔ جب پہلے دن لنچ آیا تھا نا میم اس دن تو غضب کی بھوک لگی ھوئی تھی۔ اس دن تو رھا ھی نہیں گیا۔ پھر گھر ساری رات سوچتا رھا کہ آپکو کیسے منع کروں۔ پھر طے کیا کہ میں بڑا ھو کر آپکو سارے پیسے واپس کر دوں گا۔ جتنے پیسے آپ نے میرے لنچ پہ لگائے ھوں گئے۔ اور پتا ھے میم پہلے دن سے لیکر آخری دن تک کے لنچ کا حساب آج بھی میرے پاس لکھا ھوا ھے۔ نوے ھزار چھ سو اسی روپے۔ " وہ یہ رقم بول کر ایک بار مسکرایا اور پھر بولنے لگا۔ " آپ جو بھی لنچ میں دیتی تھیں بیکری سے گزرتے ھوئے اسکی قیمت پوچھ کر رف اندازہ لگایا کرتا تھا کہ اتنے کا ھو گا میرا لنچ اور گھر جا کر نوٹ کر لیتا تھا تاریخ کے ساتھ آج بھی وہ ڈائری میرے پاس ھے۔ مگر جوں جوں وقت گزرا تو احساس ھوا کہ شاید ساری دنیا کی دولت دے کر بھی میں اس لنچ کے پیسے نہ چکا پاؤں گا۔ کیونکہ اس لنچ کی قیمت نوے ھزار چھ سو اسی روپے نہیں بلکہ وہ خلوص تھا جس سے آپ وہ لنچ بنایا کرتی تھیں۔ بس اسکے بعد میں نے کبھی اس لنچ بکس کی قیمت چکانے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا تھا۔ ھاں دعا کرتا تھا کبھی کوئی ایسا موقع آئے کہ میں بھی آپکے کسی کام آ سکوں۔ اور اپنے بچوں کو کہا ھوا ھے اگر آپکی کلاس میں کوئی ایسا بچہ ھو جو لنچ نہ لاتا ھو تو مجھے ضرور بتانا۔ اس دن جب آپکو دیکھا تو فوراً پہچان گیا۔ جب نرس نے بتایا کہ آپکی فیس جمع نہیں ھوئی تو لگا الله نے میری دعا سن لی۔ سامنے اس لیے نہیں آیا کہ آپ نے بھی تو گیٹ کیپر کو منع کیا تھا کہ مجھےکبھی نہ بتائے کہ کون لنچ بکس دیتا ھے۔" اب وہ مس راحیلہ کی طرف دیکھ کر مسکرا رھا تھا۔
مس راحیلہ اسکی ساری باتیں بہت گم ھو کر سن رھی تھیں۔ جب وہ چپ ھوا تو بڑی ٹھنڈی آہ بھر کر بولیں
" تو اس لیے تم چھٹی کے وقت وہ لنچ بکس گیٹ کیپر کو دے دیا کرتے تھے۔ " وہ کچھ سوچتے ھوئے بولیں۔ اور ڈاکڑ اسد زکاء نے انکی بات سن کر مسکرا کر سر جھکا دیا۔ مس راحیلہ اسے ڈھیروں دعائیں دے کر اپنے بیٹا بیٹی کے ساتھ چلیں گئیں۔ آج ڈاکڑ اسد زکاء بہت مطمئن محسوس کر رھا تھا۔
میری اس پوسٹ کا مقصد یہ ھے کہ اپنے بچوں کو شیئر کرنا سکھائیں۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنی کلاس کے ایسے بچے کا مذاق اڑائیں جس کے پاس ان جیسا لنچ نہیں ھے وہ اس کے ساتھ شیئر کریں۔ ھمارے بڑے جب کہتے ھیں تو مجھے اور آپکو برا لگتا ھے۔ مگر یہ سچ ھے کہ جیسے جیسے ھمارے گھر بڑے ھو رھے ھیں ھمارے دل چھوٹے ھوتے جا رھے ھیں۔ قاسم علی شاہ صاحب کے ایک لیکچر میں مَیں نے سنا تھا کہ اپنے بچے کو ایکسڑا لنچ بکس دے کر تو دیکھو اسکی شخصیت میں کتنا نکھار آتا ھے۔ مجھے بھی یہی لگتا ھے جس دن ھمارے بچے لنچ شیئر کرنا سیکھ لیں گے۔ ھمارا ملک ترقی کرنے لگ جائے گا۔ کیونکہ ھمارا المیّہ ھی یہی ھے کہ ھم کسی دوسرے کو اپنے جیسا یا اپنے سے بہتر کھاتے نہیں دیکھ سکتے۔ پھر آگے نکلنے کی دوڑ میں ھم ایسا پڑتے ھیں کہ پھر ھمیں صحیح غلط کا فرق محسوس ھونا بند ھو جاتا ھے۔ اور احساس تب ھوتا ھے جب بہت دیر ھو چکی ھوتی ھے۔ تو اپنے بچے کو لنچ شیئر کرنا ضرور سکھائیں۔
دوسرا یہ کہ الله آپکی نیکی کا صلہ ضرور دیتا ھے جلد یا با دیر نیکی کا صلہ ضرور ملتا ھے۔ الله ھمارے لیے آسانیاں پیدا کرے اور ھمیں آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے۔ امین

October 15, 2019

BUSINESS IDEAS, BE A ENTREPRENEUR


کاروبار، کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے

میرا ایک چائنیز کولیگ تھا، جو مجھ سے کئی سال چھوٹا تھا، مگر اس کا ذہن بہت کاروباری تھا۔ میرے ساتھ اکثر بزنس آئیڈیاز پر ہی بات کرتا تھا۔ مجھے ہمیشہ کہتا: ’’مسٹر خان اپنا پیسہ ایسی چیزوں میں کبھی نہ لگانا جن پر آپ خرچہ کریں۔ مثلاً ’’اگر آپ رہنے کے لیے گھر بناتے ہیں، تو آپ کا سرمایہ آپ کو کبھی فائدہ نہیں دے گا۔ الٹا آپ اس پر لگائیں گے۔ اگر آپ گاڑی لیتے ہیں، تو تیل خرچہ، مرمتی خرچہ اور ڈیپریشن سے آپ کا نقصان ہوگا۔ سرمایہ ان چیزوں میں لگانا جن سے آپ کو ریونیو ملے۔‘‘ میرا ایک اَن پڑھ رشتہ دار تھا، اس کا ذہن بھی چائنیز کی طرح تھا۔ وہ بھی اکثر یہی باتیں کرتا۔ اس رشتے دار کو تو میں جانتا تھا کہ اس نے ناخواندگی کے باجود اچھا خاصا سرمایہ اکھٹا کیا تھا، البتہ چائنیز کے بارے میں اس کے چائنیز دوستوں سے پوچھا، تو معلوم ہوا کہ چائنیز شہر “Nanjing” میں اس کے دو ذاتی گھر ہیں۔ بیجنگ اور شنگھائی کے بعد اقتصادی لحاظ سے یہ تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہاں دو ذاتی گھر معمولی بات نہیں۔
قارئین، چند روز قبل مائیکرو اکانومی پر میں نے لکھا تھا۔ زندگی میں کامیابی کا اصل راز ’’استقامت‘‘ ہے۔ کاروبار میں سرمایہ نہیں دیکھا جاتا۔ ایک مشہور و معروف کتاب لکھی گئی ہے “Seven Habbits of Most Successful people” اس میں کامیاب لوگوں کی سات صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان سات عادات میں سب سے زیادہ جو مجھے پسند آئی، وہ یہ ہے کہ ’’کامیابی کا اصل زینہ اپنے جذبات کو منیج کرنا ہے۔ کوئی بھی کام شروع کیا جائے، تو اس میں ذہانت و سرمایے سے زیادہ جذبات کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ مثلاً ’’آپ کے پاس بیس ہزار روپے ہیں۔ آپ نے عمران خان وِژن یا بل گیٹ وِژن کے عین مطابق مرغیوں اور انڈوں سے اپنے بزنس کی ابتدا کی۔ آپ تعلیم یافتہ ہیں۔ اس کام پر بہت سارے لوگ آپ کا مذاق اڑائیں گے۔ رشتہ دار، محلے دار اور کزنز آپ کی تحقیر کریں گے۔ اب یہاں جذبات کو منیج کرنے سے ہی آپ آگے بڑھ سکیں گے۔ جذبات کو منیج نہ کیا گیا تو شدید مایوسی اور فرسٹریشن ہوگی۔ اور نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلے گا۔ اگر صبر، برداشت اور استقامت سے کام لیا گیا، تو کاروبار میں وسعت ہوگی، کامیابی ہوگی۔

پوری دنیا میں نے نہیں دیکھی، البتہ پاکستانی اور عرب معاشرت کو کنگالا ہے۔ پاکستان ہو یا عربستان، دونوں خطوں میں سرکاری بابو کی اہمیت کاروباری شخصیت سے زیادہ ہوتی ہے۔ عرب دوست مجھے بتاتے کہ یہاں کوئی ریالوں میں ارب پتی کیوں نہ ہو، لڑکیاں اس کو اتنا توجہ نہیں دیتیں جتنا ڈیمانڈ رشتوں میں ایک سرکاری بابو کا ہوتا ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عربوں میں بے پناہ دولت کے باجود معاشی عدم مساوات ہے۔ بے پناہ دولت کے ہوتے ہوئے بھی وہاں کے معاشرے غربت سے نہ نکل سکے۔ پاکستان میں بھی یہی حال ہے۔ 2004ء میں ہماری یونیورسٹی کے وائس چانسلر امتیاز گیلانی کا ایک انٹرویو ایک قومی اخبار میں شائع ہوا۔ گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ ’’دنیا کے بڑے شہروں میں تعلیم یافتہ لوگ کاروبار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب کہ پاکستان میں بالخصوص پختونخوا میں کروڑ پتی بزنس مین کو چھوڑ کر لوگ ایک سرکاری بابو کو رشتے میں ترجیح دیں گے۔‘‘ شائد یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت تعلیم یافتہ نوجوان شدید بے روزگاری کا شکار ہیں۔ یعنی تعلیم یافتہ نوجوان اس وقت معاشرے کے لیے “Asset” کی بجائے ایک “Liability” بنے ہیں۔
قارئین، مَیں نے یونیورسٹی میں پڑھنے والوں پر ایک چھوٹی سی تحقیق کی ہے۔ میں جس کسی سے بھی ملتا ہوں، ایک سوال پوچھتا ہوں کہ سچ سچ بتائیں، فارغ ہونے کے بعد آپ کے دماغ میں کیا آتا ہے؟ تقریبا ’’سو فیصد‘‘ سٹوڈنٹس کا ایک ہی ملتا جلتا جواب سننے کو ملتا ہے۔ ’’فارغ ہوتے ہی جاب ملے، اے سی والے آفس میں میرے دستخط سے کام ہوتا ہو۔ بڑی گاڑی ہو۔ اچھا گھر ہو۔ ساتھ میں کسی بڑے گھر کی حسینہ ہو۔ گپیں ہوں۔ مزے ہوں۔ آئس کریم اور کافی ہو، اور بس!‘‘

اس سوچ نے ہمارے نوجوانوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ صرف ہمارے معاشرے کا نہیں تمام دنیا کے مسلمان شدید تنزلی کا شکار ہیں۔ تن آسانی اتنی کہ الفاظ نہیں۔ اکتوبر 2011ء کی بات ہے، میں اپنے جاب سائڈ جا رہا تھا۔ منی بس میں بیٹھا تھا۔ پلانٹ بڑا تھا۔ اپنے آفس پہنچنے کے لیے پلانٹ کے اندر کمپنی کی منی بس میں جانا ہوتا۔ ڈرائیور نے ایک سٹاپ پر گاڑی روکی، مگر ایک سعودی اس کی منتیں کرنے لگ گیا۔ میں نے سوچا کوئی بڑا مسئلہ ہوا، مگر جب توجہ دی تو وہ ڈرائیور سے ریکوسٹ پر ریکوسٹ کر رہا تھا کہ اسے آفس تک گاڑی میں لے جائیں۔ وہ بالکل صحت مند اور ہٹا کٹا تھا، مگر اسے گرمی لگ رہی تھی۔ اس کا آفس سٹاپ سے صرف دس میٹر کے فاصلے پر تھا۔ مَیں اس وقت کوئی مبالغہ آرائی نہیں کر رہا۔ بحیثیت اُمہ ہم گدھ بن چکے ہیں۔ تن آسانی نے ہمیں مفلوج کر رکھا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے حالات نہیں بدل رہے بلکہ روزافزوں تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔
برسبیلِ تذکرہ، کل ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا کہ پوری دنیا کی معیشت اس وقت یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسرائیل کی آبادی 60 لاکھ ہے اور بہت ہی کم رقبہ، مگر وہ دنیا پر راج کر رہے ہیں۔ یہودی پیدائش کے ساتھ ہی بچوں کا ذہن کاروباری بناتے ہیں۔ سکولوں کالجوں میں یہی سکھاتے ہیں جب کہ مسلم معاشرے میں ’’سرکاری گدھ‘‘ بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ وائٹ کالر جاب سے کبھی معاشرے یا ریاستیں اوپر نہیں اٹھتے۔ کبھی ’’سرکاری گدھ گری‘‘ سے خاندان یا ریاستیں خود کفیل نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کاروبار کی اہمیت کو کس قدر خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے کہ ’’رزق کے دس میں سے نو حصے کاروبار میں ہیں۔‘‘ کاروبار کی اس سے زیادہ خوبصورتی کیا ہوگی، کہ اس میں بندے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے، نیچے نہیں۔

پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر ایک مشہور و معروف ریسٹورنٹ ہے جسے ہم ’’چیف برگرز‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کا مالک اس وقت ارب پتی ہے اور اس کے ارب پتی ہونے کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے ’’چیف برگرز۔‘‘ دو تین عشرے پہلے چیف برگرز کا مالک یہاں ایک تھال میں برگرز بیچتا تھا، مگر جس طرح شروع میں بات کی کہ کامیاب لوگ وہ ہیں جو اپنے جذبات کو منیج کریں اور اپنے شروع کردہ کام میں، پراجیکٹ میں صبر و برداشت اور استقامت سے کام لیں۔ کتنے لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا ہوگا۔ شائد کسی نے رشتہ دینے سے بھی اس وجہ سے انکار کیا ہو کہ وہ تھال میں یا ریڑھی میں سامان بیچتا ہے۔
ہمارا ایک عزیز تھا۔ اس کی بنوں سٹی میں مارکیٹ تھی۔ ایک روز اس کے پاس ایک سادہ بندہ آیا۔ پوچھا کہ مارکیٹ خریدنی ہے۔ کتنے میں بیچوگے؟ اس نے ویسے ہی ٹرخانے کے لیے قیمت تھوڑی زیادہ بتائی۔ بندے نے جواباً کہا کہ ’’اُو کے‘‘ میں مشورہ کرتا ہوں، مجھے قبول ہے۔ اس نے خریدنے والے سے پوچھا کہ کیا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ لکی گیٹ میں ’’بنوں والا میٹ‘‘ بیچتا ہوں۔ بنوں شہر میں جو پلاو بیچنے والے ہیں ان کی بڑے بڑے ٹینکرز اور بسیں چلتی ہیں۔ بنوں ٹاؤن شپ اور حیات آباد میں ان کے بنگلے ہیں جب کہ پی ایچ ڈی سکالرز سکوٹرز پر گھوم رہے ہیں اور ساری زندگی گزار کے ایک گھر نہیں بنا سکتے۔
پرسوں انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور میں ایک ورکشاپ تھی، اس میں لیکچر دینے والے پروفیسر نے بتایا کہ وہ 21 گریڈ میں یو ای ٹی سے ریٹائر ہوئے۔ ساری زندگی کی جمع پونجی اور چارسدہ میں اپنی ساری جائیداد بیچ کر حیات آباد کے ایک کونے کھدرے میں ایک پرانا گھر بمشکل خریدا۔ اب کوئی کہے گا کہ حیات آباد میں تو زیادہ تر گھر پٹواریوں، سی اینڈ ڈبلیو یا ایگریشن میں کام کرنے والے معمولی ملازمین یا ڈپلومہ ہولڈرز کے ہیں، یا ایس ایچ اوز کے ہیں، تو جناب! یہی المیہ ہے۔ ان سے پوچھنا چاہیے کہ معولی تنخواہوں کے ہوتے ہوئے تم لوگ کیسے کروڑوں کے گھر کے مالک بنے؟ ضرور فرائضِ منصبی کا غلط فائدہ اٹھایا ہوگا، اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا ہوگا۔
نشست کا حاصل یہ ہے کہ افراد، خاندان اور قومیں کاروباری سرگرمیوں سے ترقی پاتی ہیں۔ نسل درنسل ترقی دیکھنی ہو، تو معاشی گدھ بننے کی بجائے معاشی شاہین پیدا کرنا ہوں گے۔ معاشرے کو اسلام کے احکامات کی روشنی میں کاروبار کی طرف لانا ہوگا۔ اس سے سود سمیت معاشی بگاڑ کے کئی پہلوؤں کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے،

آمین یا رب العالمین

تحریر:انجینئر انتظار خان

Total Pageviews