Showing posts with label HUMANITY. Show all posts
Showing posts with label HUMANITY. Show all posts

April 25, 2025

بانسری کی عجیب و غریب داستان بانسری والے نے 180 بچے غائب کر دیئے۔

 



 


عجیب و غریب تاریخ

 "آپ نے Peek Freans Gluco Biscuits

 کا وہ مشہور اشتہار تو ضرور دیکھا ہوگا، جس میں ایک رنگین لباس پہنے بانسری بجانے والا شخص بچوں کو اپنے پیچھے لگائے لے جا رہا ہوتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ منظر صرف ایک تخیلی اشتہار نہیں بلکہ ایک صدیوں پرانے، حیران کن اور پراسرار سچے واقعے سے متاثر ہے؟"

1284 کے موسم گرما میں جرمنی کے چھوٹے سے قصبے ہیملن میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف اس زمانے کے لوگوں کو حیران کر دیا بلکہ صدیوں بعد تک محققین، مورخین اور ادیبوں کے لیے ایک پراسرار پہیلی بنا رہا۔ یہ کہانی ایک انوکھے کردار "پیڈ پایپر" کے گرد گھومتی ہے - ایک رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس پراسرار بانسری نواز جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پہلے تو شہر کو چوہوں کے عذاب سے نجات دلائی، مگر جب اسے اس کا معاوضہ نہ ملا تو اس نے انتقاماً شہر کے 130 بچوں کو اپنی جادوئی بانسری کے ساتھ لے کر غائب ہو گیا۔  

شہر ہیملن کی تباہی اور چوہوں کا عذاب
تیرہویں صدی کے آخر میں ہیملن شہر چوہوں کی ایک بہت بڑی آبادی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر تھا۔ یہ چوہے نہ صرف فصلوں اور گوداموں کو تباہ کر رہے تھے بلکہ طاعون جیسی مہلک بیماریاں بھی پھیلا رہے تھے۔ شہر کے باشندے بے بسی کا شکار تھے اور کسی معجزے کے منتظر تھے۔  

پراسرار شخصیت کا ظہور  
ایک دن شہر میں ایک عجیب و غریب شخص داخل ہوا۔ وہ "پیڈ" یعنی رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک چمکدار چاندی کی بانسری تھی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ چوہوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے۔ میئر اور شہر کے معززین نے اسے 1,000 گِلڈر (اس زمانے کی ایک بڑی رقم) کا لالچ دیا اگر وہ شہر کو اس آفت سے نجات دلا دے۔  

جادوئی بانسری کا کمال  
پیڈ پایپر نے اپنی بانسری بجانا شروع کی۔ ایک عجیب سی دھن تھی جو سنتے ہی تمام چوہے اپنے بلوں سے نکل آئے اور اس کے پیچھے ہو لیے۔ وہ انہیں شہر کی گلیوں سے گزارتا ہوا دریائے ویسر کے کنارے لے گیا جہاں تمام چوہے دریا میں چھلانگ لگا کر ڈوب گئے۔ شہر والے خوشی سے نہال ہو گئے۔  

وعدہ خلافی اور پیڈ پایپر کا غصہ  
لیکن جب معاوضہ دینے کا وقت آیا تو میئر اور شہر کے معززین نے رقم دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف 1,000 گِلڈر دینے سے انکار کیا بلکہ اسے صرف 50 گِلڈر دیے اور یہاں تک کہا کہ شاید یہی شخص چوہے لایا تھا تاکہ رقم بٹورے۔ پیڈ پایپر خاموشی سے چلا گیا، لیکن اس کی آنکھوں میں انتقام کی آگ تھی۔  

بچوں کا پراسرار غائب ہونا
26 جون 1284 کو، جب تمام بڑے گرجا گھر میں سنت جان اور پال کے دن کی عبادت میں مصروف تھے، پیڈ پایپر واپس آیا۔ اس بار اس کا لباس شکار کے جیسا سبز تھا۔ اس نے اپنی بانسری کی وہی پراسرار دھن بجائی، لیکن اس بار اس کی تان بچوں کے لیے تھی۔  

شہر کے 130 بچے، جو کھیل رہے تھے یا گھروں میں تھے، اچانک اس کے پیچھے ہو لیے۔ وہ ناچتے گاتے شہر کے مشرقی دروازے سے نکل گئے اور کاپنبرگ پہاڑی کی طرف چل دیے۔ وہاں ایک غار کے منہ پر پہنچ کر وہ سب غائب ہو گئے۔ صرف تین بچے پیچھے رہ گئے:  
- ایک لنگڑا بچہ جو تیز نہیں چل سکتا تھا  
- ایک بہرا بچہ جس نے بانسری نہیں سنی تھی  
- ایک اندھا بچہ جو راستہ نہیں دیکھ سکتا تھا  

یہی تینوں بچے بعد میں بڑے ہو کر اس واقعے کے چشم دید گواہ بنے۔  

تاریخی شواہد اور دستاویزات  
یہ صرف ایک افسانہ نہیں بلکہ ہیملن شہر کے تاریخی ریکارڈز میں درج ہے:  
- 1300 کے قریب ہیملن کے گرجا میں ایک کھڑکی بنائی گئی تھی جس پر یہ واقعہ نقش تھا۔ بدقسمتی سے یہ 1660 میں تباہ ہو گئی۔  
- 1370 میں راہب ہائنرک آف ہیرفورڈ نے اپنی لاطینی کتاب "کیٹینا آوریا" میں اس واقعے کا ذکر کیا۔  
- ہیملن کے "ریٹنفینگر ہاؤس" پر لگی تختی پر یہ واقعہ درج ہے۔  
- 1556 میں بنائے گئے شہر کے دروازے پر بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔  

مختلف نظریات  
1. ہجرت کا نظریہ: کئی مورخین کا خیال ہے کہ یہ دراصل نوجوانوں کے ایک گروہ کی مشرقی یورپ کی طرف ہجرت تھی۔ لسانیات کے ماہر یورگن اڈولف نے پایا کہ ہیملن کے کئی خاندانی نام آج پولینڈ کے علاقوں میں ملتے ہیں۔  
2. بچوں کی صلیبی جنگیں: کچھ کا خیال ہے کہ یہ بچے کسی مذہبی مہم کا حصہ بن گئے ہوں گے۔  
3. طبیعیاتی وجوہات: ممکن ہے کہ یہ بچے کسی بیماری یا قدرتی آفت کا شکار ہوئے ہوں۔  
4. نفسیاتی نظریہ: بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعی نفسیاتی کیفیت (جیسے ڈانسنگ مینیا) کا واقعہ ہو سکتا ہے۔  

ثقافتی اثرات  
یہ کہانی گوئٹے، گریم برادرز، اور رابرٹ براؤننگ جیسے عظیم ادیبوں کی تحریروں میں زندہ ہے۔ براؤننگ کی نظم "دی پیڈ پایپر آف ہیملن" خاصی مشہور ہوئی۔ آج بھی ہیملن شہر میں "بنگیلوسن اسٹراسے" (بغیر ڈھول کی گلی) نامی جگہ پر موسیقی یا رقص پر پابندی ہے، کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے بچے آخری بار دکھائی دیے تھے۔  

آخری بات
چاہے یہ ایک سچا واقعہ تھا یا علامتی داستان، پیڈ پایپر آف ہیملن کی کہانی صدیوں سے انسانی تخیل کو مسحور کرتی آ رہی ہے۔ کیا واقعی کوئی جادوئی بانسری نواز تھا؟ یا پھر یہ تاریخ کا کوئی اور ہی راز ہے؟ شاید ہم کبھی پورے یقین سے نہیں جان پائیں گے، لیکن یہ پراسرار کہانی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی۔


April 12, 2025

Change the Education System of Pakistan


  نظام کو بدلو تا کہ اپاہج نہیں ہنر مند پیدا ہوں 

میٹرک تک  سلیبس اس طرح ہونا چاہیے کہ بچے کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر آ  جائے اور بچے کو پتہ چل جائے کہ اس نے میٹرک کے بعد کون سے فیلڈ اختیار کرنی ہے یعنی اس کی  کس فیلڈ میں دلچسپی ہے ۔
میرا خیال ہے اب رٹا سسٹم ختم ہونا چاہیے بچوں کو دسویں تک زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل تعلیم دینی چاہیے ۔۔
جمعہ اور ہفتہ دو دن ایسے ہوں جس میں نصابی کتابیں بالکل بند کر دی جائیں اور بچوں کو ہنر سکھائے جائیں
ایسے کون سے ہنر ہیں جو بچے دسویں کلاس تک سیکھ سکتے ہیں ۔۔

1- آٹو مکینک
خصوصی طور پر موٹر سائیکل کے بارے میں بچوں کو تربیت دی جائے اس کے انجن کے بارے میں پرزے تبدیل کرنے کے بارے میں انہیں چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک مرحلہ وائز موٹرسائیکل کا کام سکھایا جائے وہ اس قدر ماہر بن جائیں کہ دسویں کلاس کے بعد پرزے خرید کر پورا موٹر سائیکل اسمبل کر سکیں ۔۔

2- بجلی کا کام الیکٹریشن

بچوں کو عملی طور پر بجلی کا کام سکھایا جائے انڈر گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے اوپن گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے موٹر وائنڈ کیسے کی جاتی ہے مکمل طور پر بچوں کو کام سکھایا جائے اور یہ شعبہ اور یہ ہنر خود میں پوری ایک سائنس ہے فزکس میں اس کے چیپٹر تو ہیں تھیوری کے طور پر میں کہنے سے چاہتا ہوں کہ بچوں کو پریکٹیکلی کام سکھایا جائے صحیح معنوں میں

3- گھر کا ڈاکٹر

چھٹی کلاس سے لے کے دسویں کلاس تک کے تمام بچوں کو گھر ڈاکٹر بنا دیا جائے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے
بچے کو بلڈ پریشر مانیٹر کرنا آنا چاہیے ۔۔
وین میں انجیکشن لگانا سکھائیں گوشت میں انجیکشن لگانا سکھائیں بوقت ضرورت ڈرپ کیسے لگائی جاتی ہے ۔
ایمرجنسی کی صورت میں بینڈج کرنا سکھائیں ۔۔
ضروری نہیں یہ کام اس نے لوگوں کے لیے کرنے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بچے کی ساری زندگی اس کے کام آنے والی ہیں۔۔۔

4- موبائل ریپیئرنگ اور سافٹ ویئر

بچوں کو موبائل ریپیئرنگ کے بارے میں تربیت دی جائے ان کو موبائل ریپیئر کرنا سکھایا جائے موبائل میں سوفٹ ویئر کیسے اپڈیٹ کیا جاتا ہے سافٹ ویئر انسٹال کیسے کیا جاتا ہے ۔۔

5- خود سے پیسے کمانا

گرمی کی چھٹیوں میں بچوں کو ٹاسک دیا جائے کہ پانچ پانچ بچے مل کر تھوڑے تھوڑے پیسے ڈال کر کوئی کاروبار کریں کوئی چیز لے کر فروخت کریں تاکہ وہ عملی زندگی میں اس طرح کی صورتحال میں پریشان نہ ہو مطلب ان کو کمانا سکھائیں ( ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں یہ پریکٹیکل کئی سالوں سے ہو رہا ہے )

6- فری لانسنگ

ویڈیو گیم کھیلنے کے علاوہ کمپیوٹر اور بھی بہت سے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ بچوں کو عملی طور پر باور کروایا جا سکتا ہے انہیں بتائیں کہ انٹرنیٹ کا دور ہے اپ اپنی چیزیں انٹرنیٹ پر کس قدر اسانی کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں ۔۔
اپنی خدمات کو انٹرنیٹ پر فروخت کرنا سکھائیں ۔۔

مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ دیہاتی ہے اور اس کے گھر میں دیسی گھی ہے تو اس کا استاد بتائے کہ وہ دیسی گھی کا پیج بنا کر انٹرنیٹ پر ایمانداری کے ساتھ کس قدر کامیاب کاروبار  کر سکتا ہے ایلسی کی پنیا فروخت کر سکتا ہے مکئی کا اٹا فروخت کر سکتا ہے سردیوں میں ساگ بنا کر فروخت کر سکتا ہے مکھن فروخت کر سکتا ہے اور بھی بہت کچھ یہ اسے سکھایا جائے  ۔۔!!

7- نرسری اگانا

بچوں کو بیج لگانے کی تربیت دی جائے پھولوں کے بیج  سبزیوں کے بیج  درختوں کے بیج  اور یہ کام سکول میں بہت اسانی کے ساتھ ہو سکتے ہیں کہ اگر مستقبل میں اس کا رجحان نیچر کی طرف بڑھ جائے تو وہ نرسری کا اپنا کاروبار کر سکتا ہے اسے یہ ہنر ضرور سکھانے چاہیے ۔۔

8- چھوٹے پیمانے پر صابن سازی

9- بیچنا آنا چاہیے بچوں کو مارکیٹنگ

بچوں کے اندر اس قدر اعتماد پیدا کیا جائے کہ وہ بہترین مارکیٹر بن سکے ان کو اپنی چیزیں بیچنا آنا چاہیے اور اساتذہ سے بڑھ کر کوئی ایسی ہستی نہیں جو بچوں میں اس قدر اعتماد پیدا کر سکے والدین سے بھی زیادہ اعتماد بچوں کو سکول میں ماحول سے ملتا ہے اساتذہ سے ملتا ہے

اب وقت ہے کہ سلیبس میں موجود فضول کہانیوں کو یکثر مسترد کر کے ہمارے انے والے بچوں کو دسویں تک مکمل پریکٹیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنا باعزت روزگار کما سکے اور وطن عزیز کے باعزت شہری بن سکیں ۔۔
تحریر
عاطف سہیل آرائیں ۔۔!!!

...کاپیڈ...
#k4kasim

April 07, 2025

MARRIED LIFE : HOW TREATS WIFE



 ازدواجیات!

مرد بہت ساری بری عادتیں والدین سے کاپی کرتا ہے باقی بیوی اس میں کوٹ کوٹ کر بھرتی ہے،پہلے وہ بس بڑے جھوٹ بولتا تھا اب بات بات پر بولتا ہے.

 ماں اور بہن بھائیوں سے بھی بات کر کے یوں چھپاتا ہے جیسے گرل فرینڈ سے کر لی ہو، بیوی جب چھوٹی چھوٹی باتوں پر Attitude  دکھانا شروع کر دیتی ہے تو وہ چھوٹی چھوٹی چیز پر بھی جھوٹ بول کر گھر کے ماحول کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتا ہے، یہانتک کہ خریدے گئے سودے سلف کی قیمت بھی کم بتاتا ہے تا کہ بیوی ڈسٹرب نہ کرے. چیزوں پر سے قیمت کے اسٹکر پھاڑ کر گھر آتا ہے مگر بیوی نے بھی قسم کھائی ھوتی ہے کہ کوئی بھی ایشیو کھڑا کر کے اس کی کلاس لینی ہے.

بیوی کے لئے 80 درھم کا سوٹ لائے گا اور بیوی کو 60 کا بتائے گا اور بیوی کہے گی یہ تو میری سہیلی 40 کا لائی ہے.

 ایک پاکستانی نژاد امریکی جوڑا ٹی وی پر انٹرویو دے رہا تھا دونوں امریکہ میں کنسلٹنٹ ڈاکٹر تھے.  شوھر نے بیوی سے ڈر کی مثال دی کہ میں سیب لایا 50 روپے درجن وائف کی چخ چخ کے ڈر سے اس کو بتایا کہ 36 روپے درجن لایا ہوں  . اس نے پڑوسن کو بتایا اور پڑوسن کا شوھر سارا دن بازار میں دھکے کھاتا رھا اس ریٹ پر  کہیں نہ ملے، میری وائف نے اپنے سیب پڑوسن کو دے کر 36 روپے لے لئے کہ میرے میاں اور لے آئیں گے پھر مجھے اپنا بھرم رکھنے کے لئے مزید لانے پڑے. ایک دفعہ وائف کا سوٹ لایا جو اس کو آدھی قیمت کا بتایا اور اس نے وہ سوٹ اٹھا کر اسی قیمت میں سہیلی کو پکڑا دیا کہ مجھے اس کا پرنٹ پسند نہیں دوسرا منگوا لونگی. اب تنگ آ کر میں نے اس کو اصل قیمت بتا دی اور پھر اگلی دو راتیں یہ سوئی نہیں اور اس سہیلی سے بولنا بھی چھوڑ دیا - شوہر فطرتا کمپرومائزنگ ہوتا ہے کیونکہ اس کو سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے جبکہ وائف پرسنل ہوتی ہے صرف ذاتی سوچ سوچتی ہے. اپنے گھر کی حد تک.  

بیوی پوری کوشش کرتی ہے کہ وہ شوھر کی تعریف نہ کرے یہانتک کہ شوہر کے جاننے والوں تک کے سامنے بھی نہیں کرتی کہ وہ اس تک پہنچا نہ دیں. وہ کبھی یہ نہیں کہتی کہ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ مجھے مل گئے ورنہ تو بڑے بڑے کمینے شوھر آج کل مارکیٹ میں آئے ہیں. البتہ وہ یہ جملہ شوھر سے ضرور سننا چاہتی ہے کہ تم نے میری زندگی جنت بنا دی ہے  (جہاں بندہ مرضی سے مر بھی نہیں سکتا ) شوھر اللہ کی ایک نعمت ہے اور اللہ کے رسول کا حکم ہے کہ نعمت کو شکر کے ذریعے محفوظ کرو کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ تم شکر کرو گے تو ہم نعمت میں اضافہ کریں گے.  گھر کی بربادی میں ناشکری کا بہت بڑا ہاتھ ہے.

 عرض کیا تھا کہ شوھر اپنی فطرت میں پالتو جاندار ہے. پہلے اس pet کو ماں پالتی ہے پھر بیوی کے حوالے کر دیتی ہے، بیوی اس کو لدو جانور سمجھ کر بس دھونس اور دھاندلی سے قابو  میں رکھنے کی کوشش کرتی ہے جیسے کرائے کی بےبی سیٹر بچوں کو پٹاخ پٹاخ کر چپ کرانے کی کوشش کرتی ہیں.  ایسی بیوی کے ہاتھ لگنے والا شوھر بس ایک مسکراہٹ کی مار ہوتا ہے اور یہی اکثر ھوتا ہے کہ کالی پٹا کر لے جاتی ہے اور گوری زیور سجائے بیٹھی رہ جاتی ہے  ' بقول استاد قمر جلالوی _

چرچے سنے جو راہزن روز آشکار کے -
تو لیلئ شب نے رکھ دئیے زیور اتار کے -

آخری بات یہ کہ شوھر کو یہ بات زہر لگتی ہے کہ بیوی اس کو تو جوتی کی نوک پہ رکھے. مگر اس کے والدین پر اپنی مظلومیت کی دھاک جما کر ان کے ذریعے اس کے گھٹنے ٹکوانے کی سیاست کرے. بجائے اس کے کہ شوھر پر واضح کرے کہ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے وہ اس کے سامنے تو کے- ٹو کی طرح تن کر کھڑی ہو اور دوسروں کو بیچ میں ڈال کر اپنا مکو ٹھپ لے.  یہ اصل میں شرک فی المحبت ہے.

March 22, 2025

Terminalia Arjuna Combretaceae (Arjun Tree) ارجن

ارجن: دل کا محافظ درخت*

تریفل(ترپھلہ) کے جزو ہریڑ اور بہیڑہ کے خاندان کمبری ٹیسی سے تعلق رکھنے والے اس درخت کا نباتاتی نام ٹرمینالیا ارجونا ہے
ارجن (Arjun)ایک قد آور درخت ہے۔ جو ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، میانمار اور کچھ دوسرے ایشیائی ممالک میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ پتے امرود کے پتوں جیسے قریبا چار پانچ انچ لمبے اور ایک سے دو انچ چوڑے ہوتے ہیں اور دس پتوں سے لے کر پندرہ پتے ایک شاخ میں لگتے ہیں۔اسکے پھول لمبے اور گچھے نما ہوتے ہیں اور اسکے بیج لکڑی کی طرح اور پانچ کونوں والے ہوتے ہیں۔اس کے پھل لمبے اورسبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ ماہ جولائی میں اس کو پھل کثرت سے لگتے ہیں۔اسکو بیج اور قلم دونوں طریقوں سے لگایا جا سکتا ہے۔
لاہور کے لارنس باغ میں بھی ارجن کے کئی درخت ہیں۔آج سے چالیس پچاس سال پہلے یہ درخت شہروں میں سڑک کنارے اکثر لگائے جاتے تھے لیکن بعد میں کسی دور میں ہزاروں کی تعداد میں ان پرانے درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ لیکن اب گذشتہ دس پندرہ سال میں محکمہ جنگلات پنجاب اور خصوصا موٹر وے اتھارٹی والوں نے اسکے سینکڑوں درخت لاہور۔اسلام آباد موٹر وے کے اطراف میں لگائے ہیں۔
اسکی لکڑی کافی ٹھوس قسم کی ہوتی ہے اوریہ ان درختوں میں شامل ہے جن کی لکڑی فی کیوبک میٹر ایک ٹن کے قریب ہوتی ہے۔یہ درخت سینکڑوں سال تک قائم رہتا ہے اور بظاہر اسے کوئی بیماری بھی نہیں لگتی۔
ایک اعلیٰ قسم کا ریشم کا کیڑاجسے Tussar silk کہا جاتا ہے، اس ریشم کے کیڑے اس درخت کے پتوں پر پالے جاتے ہیں۔
اس درخت کو طب میں بہت اہمیت حاصل ہے اور ہزاروں سال سے اس درخت کے مرکبات مختلف ادویات اور بیماریوں سے بچاؤ کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔خاص طور پر دل سے متعلقہ بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کیلئے اسکی چھال کو ابال کر پیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس درخت کو ''دل کا محافظ'' درخت بھی کہا جاتا ہے۔
ارجن کو ہندی میں ارجنا،سنسکرت میں ارجن پرکھش، تامل میں مردتنے، بنگالی میں ارجن، گجراتی میں ساجد ان اور انگریزی میں بھی Arjun Tree ہی کہتے ہیں، اسکا نباتاتی نام Terminalia arjuna ہے۔
ارجن میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا: ارجن کی چھال میں پندرہ فیصد ٹے نین، تیس فیصد کیلشِیم کاربونیٹ، سوڈیم اور گلوکوسائیڈ پایا جاتا ہے۔انکے علاوہ بیٹا سائیٹو سیٹرول،ٹرائی ٹرپی نائیڈسیونین،ارجونین،ارجونیٹین،ارجو نولک ایسڈ،فراری تیل،شکر،کے ساتھ تھوڑی مقدار میں میگنیشیم اور ایلومینیم کے نمکیات بھی ملتے ہیں۔
ارجنا کے پتوں سے ہومیوپیتھک میں مدر ٹنکچر (Q) تیار کی جاتی ہے۔ جو کہ دل کو طاقت دیتا ہے۔اس کی دھڑکن کو کم کرتا ہے۔ ارجن زہریلے اثرات سے پاک ہے۔
ارجن کے طبی فوائد:
دل کے امراض: ارجن کو دل کا محافظ درخت کہا جاتا ہے۔ اس کی چھال میں پایا جانے والا گلوکو سائیڈ انگریزی دواڈیجی ٹیلس (Digitalis)کی طرح دل کی دھڑکن کو ختم کرتا ہے اور دل کو طاقت دیتا ہے۔ تاہم ڈیجی ٹینس میں زہریلے ا ثرات ہوتے ہیں اور ارجن کی چھال کا گلو کو سائڈ بالکل بے ضرر ہوتاہے۔
اس کو دل کے فعلی اور عضویاتی امراض میں جیسے کہ درددل، انجائینا،خفقان،ورم بطانہ قلب،ورم غلاف القلب میں استعمال کیا جاتا ہے،اس کی سب سے اچھی خوبی اس کا بے ضرر ہونا ہے۔ اس کے دل پر کوئی زہریلے اثرات نہیں ہوتے۔ یہ ہائیپرٹینشن میں خاص طور پر مفید ہے۔
ارجن میں پائے جانے والے اجزاء دل کے نازک پٹھوں خون کی نالیوں کو مظبوط کرنے کے ساتھ خون میں چکنائی کو ہضم کرنے والے نظام کی اصلاح کر کے اسے فعال بناتے ہیں۔اینٹی اوکسیڈنٹ بطور دوا ایسے جزو کا نام ہے جو دوسرے اجزاء کو اکسیجن سے مل کر ٹھوس ہونے سے روکے جیسے کہ خون کی نالیوں میں چکنائی کا جمنا،ارجن کی چھال سے بننے والا قہوہ اپنی اینٹی اوکسیڈنٹ صلاحیت کی وجہ سے دل کے امراض میں انتہائی مفید ہے۔
ڈی این اے تحفظ: ارجن میں ایسے مرکبات ہیں جو ڈی این اے کو مختلف وجوہات سے پہنچنے والے نقصان سے بچانے میں معاون ہیں۔
قلبی صحت: یہ دل کے پٹھوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور خون کو پمپ کرنے کی دل کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں کارڈیو حفاظتی اقدامات ہیں، جو دل کے زیادہ سے زیادہ افعال کو محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے اور کارڈیک چوٹ کی بحالی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ عام طور پر مایوکارڈیل انفکشن (ہارٹ اٹیک) سے بچاؤ کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں اینٹی ایٹروجینک پراپرٹی ہے، جو کورونری شریانوں میں پیدا ہونے والی سختی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور دل کے ٹشووں میں خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کا علاج: ہائی بلڈ پریشر کیلئے ارجن ایک بہترین گھریلو علاج ہے۔ ہائی بلڈ پریشر ایک انتہائی سنگین طبی حالت ہے جو دل کی ناکامی، فالج، دل کا دورہ، گردے کی خرابی اور دیگر سنگین پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی عام علامات میں شدید سردرد، متلی، الٹی، الجھن، ناک سے خون بہنا وغیرہ شامل ہیں۔ لہذا قدرتی طور پر ہائی بلڈ پریشر کا علاج کرنے کے لئے ارجن سے بہتر کوئی قدرتی دوا نہیں ہے۔
بواسیر اور خون بہہنے والی امراض: ارجن میں پائے جانے والے قدرتی مادے میں اینٹی ہیمرجک پراپرٹی ہے، جس سے بہتے خون کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ یونانی طب میں عام طور پر دیگر جڑی بوٹیوں کے ساتھ خون بہہ جانے والی عوارض کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
ارجن کے دیگر استعمال: ارجن قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ارجن کی چھال کا جوشاندہ دست، پیچش، جریان خون اور جریان منی میں مفید ہے۔ اگر اس کی چھال کے جوشاندہ سے زخموں کو دھویا جائے تو جلدی مندمل ہو جاتے ہیں۔ اس کی چھال کے سفوف کو کیل مہاسے اور چھائیوں میں استعمال کرنا مفید ہے۔ معمولی چوٹ میں چھال کو پانی میں پیس کر لیپ کر لینا کافی ہے۔ اس کی چھال سے بہترین کھاد بنائی جاتی ہے۔ بنگال (مدنا پور) میں اس کی چھال خاکی کپڑہ رنگنے میں کام آتی ہے۔ ارجن کی چھال کا سفوف دودھ یا پانی کے ہمراہ چو ٹ لگنے اور ہڈی ٹوٹنے میں کھلاتے ہیں۔ جب کے خون جمنے سے جلد پر سرخ یا نیلے رنگ کے داغ پڑ گئے ہوں۔ پتے تیل میں جلا کر کان میں ڈالنا کان درد کے لئے مفید ہے۔ پھل کا سفوف چار گرام ہمراہ پانی قبض کو کھولتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

 copy paste from facebook


March 11, 2025

Husband & Wife Relationship بیوی کو شوہر کی عزت کرنی چاہیئے۔

   بیوی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے شوہر کو وہ مقام حاصل ہے جو نہ باپ کو ہے اور نہ ہی ماں کو، حالانکہ ان دونوں کی عزت اپنی جگہ مسلم ہے۔ شوہر گھر کا سربراہ ہوتا ہے، دیواروں کی حرارت، قربانی اور استحکام کی علامت ہوتا ہے۔ اس کی شرعی حیثیت محفوظ ہے، اور مغربی نظریات یا فیمینزم کی کوششیں درحقیقت خاندان کو کمزور بنانے کے حربے ہیں، تاکہ بیوی کے دل میں شوہر کی عزت کم ہو جائے، یہاں تک کہ وہ یہ سمجھنے لگے کہ وہ شوہر کے بغیر بہتر ہے، بغیر کسی پابندی کے، بغیر کسی ذمہ داری کے، بغیر کسی مردانہ اقتدار کے!

یہ سوچ پہلے احساساتی علیحدگی کا سبب بنتی ہے، اور پھر حقیقی علیحدگی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد، جب عمر بڑھتی ہے، دوست اپنی اپنی مصروفیات میں کھو جاتے ہیں، قریبی لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، تب عورت خود کو اکیلا پاتی ہے، نہ شوہر، نہ اولاد، نہ کوئی ہمدرد!

لہٰذا، ازدواجی زندگی کا احترام عورت کے شوہر کے احترام سے شروع ہوتا ہے۔ اگر بیوی شوہر کو اس کا جائز مقام دے اور اس کی خوشنودی کے لیے کوشش کرے، تو بچے بھی باپ کی قدر کریں گے، اور بیٹیاں اپنے مستقبل کے شوہر کا احترام کرنا سیکھیں گی۔ کیونکہ ایک اچھی بیوی اپنی اولاد کے لیے بہترین درسگاہ ہوتی ہے۔

یہاں اُس شوہر کی بات ہو رہی ہے جو معتدل مزاج، نیک خصلت اور متوازن شخصیت رکھتا ہو— جو کبھی کامیاب ہوتا ہے، کبھی ناکام، کبھی درست فیصلے کرتا ہے، کبھی غلطی کر بیٹھتا ہے، جو کوشش کرتا ہے، کبھی سستی دکھاتا ہے، گناہ کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے، زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتا ہے، بھولتا ہے اور یاد کرتا ہے، کیونکہ وہ ایک انسان ہے اور انسان سے خطا بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کی اصل نیت نیک اور کردار عزت دار ہوتا ہے، لہٰذا اس کے ساتھ نرمی اور محبت کے ساتھ پیش آنا چاہیے، کیونکہ وہ بھی احترام اور حسن سلوک کا مستحق ہے۔

لیکن جو شوہر ظالم، مغرور، بخیل، جھوٹا، بددیانت، یا مسلسل خیانت کرنے والا ہو، وہ اپنے خاندان میں عزت کھو دیتا ہے، چاہے ظاہری طور پر ایسا نہ لگے۔ شرع نے ہمیشہ عدل اور حسن سلوک کا حکم دیا ہے، لیکن اس کا اطلاق تبھی ممکن ہوتا ہے جب دونوں فریق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

جو شوہر اپنی بیوی اور اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے، اسے محبت ملے گی، اور جو باپ اپنے بچوں کی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے گا، اسے وہ عزت دیں گے جس کا وہ حقدار ہے۔ یہی اصول ماں، بیٹے، بیٹی اور تمام رشتوں پر لاگو ہوتا ہے۔

شرعی طور پر جن رشتوں کے احترام اور محبت کا حکم دیا گیا ہے، اگر وہ اچھے کردار کے حامل ہوں، تو لوگ خودبخود ان کی عزت کرتے ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہی رشتے بدسلوکی، ناانصافی یا برے رویے کا مظاہرہ کریں، تو اردگرد کے لوگ الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ شرعی ذمہ داری کیسے پوری کریں۔ وہ بظاہر عزت تو کرتے ہیں، لیکن یہ عزت محبت کے بجائے صرف ایک فرض کی ادائیگی بن جاتی ہے۔

نتیجہ

بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کا احترام کرے اور اللہ کے احکامات کے مطابق اس کے حقوق ادا کرے۔
شوہر کو بھی چاہیے کہ وہ عملی طور پر اپنی بیوی کو محبت اور حسن اخلاق سے وہ سہولت دے، جو اسے اس راہ پر گامزن کرے۔

اور اگر دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ کوتاہی کرتا ہے، تو یہ دوسرے کے لیے بھی غلط رویہ اپنانے کا جواز نہیں بنتا۔
سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کی کوتاہی کے باوجود، اچھے اخلاق کے ساتھ اپنے فرائض پورے کرے، تاکہ ازدواجی زندگی مکمل اور متوازن رہے۔

February 14, 2025

Stress induced gastritis? انزائٹی معدے کے مسائل کا سبب ؟ انزائٹی کی ادویات، سائڈ ایفکٹس، اور فائدہ

Stress induced gastritis کی علامتیں، وجہ اورحل؟
Stress induced gastritis?
👈 آج کے دور عموماً ہر بندے کو کسی وجہ سے سٹریس یا انزائٹی کا مسلئہ ہو جاتا ہے , چند دنوں کے لیے یہ سب ہونا نارمل سمجھا جاتا ہے،لیکن دائمی سٹریس بہت سے جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا سبب بن سکتا ہے، دائمی سٹریس معدے اور پیٹ کے مسائل کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے مسائل کا سبب یا رسک فیکٹر بن سکتا ہے جیسے کہ موٹاپا ، شوگر کا زیادہ ہونا ، بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا ،بے خوابی ، ڈیپریشن ، ایمون سسٹم کو کمزور کرنا اور انفیکشنز کے خطرے کو بڑھانا ، اعصابی کمزوری کا ہونا ،ہڈیوں اور یاداشت کا کمزور ہونا، مردانہ جنسی کمزوری یا نا مردی کا سب بننا وغیرہ وغیرہ
باقی آج کے دور میں سٹریس سے متاثر معدے کا مسلئہ بھی کافی عام ہے ، اور بہت لوگوں کو بدہضمی اور معدے کے مسلئے کی کوئی وجہ بھی نہیں مل رہی ہوتی ، مطلب ایسے مریضوں میں ایچ پیلوری ٹیسٹ اور گیسٹروسکوپی ٹیسٹ نیگیٹو آتے ہیں، اور اس بیماری میں مبتلا مریض مہینوں سالوں ڈاکٹرز کے پیچھے خوار ہوتا ہے، کیونکہ ڈاکٹر کو بھی کوئی معدے کی بیماری نہیں مل پاتی، اور دوسرا مریض بھی ڈاکٹر بدلتے رہتے ہیں۔
باقی سٹریس یا ڈیپریشن سے متاثر معدے کے مسلئے کو non ulcer dyspepsia بھی کہتے ہیں۔

👈۔Stress induced gastritis کی علامتیں
اسکی علامتیں ہر مریض میں کچھ مختلف ہو سکتی ہیں ، کچھ لوگوں کو صرف کسی ٹیشن یا تناؤ کے ٹائم ہی زیادہ علامتیں آتی ہیں تو کسی مریض کو کسی بھی ٹائم معدے کی علامتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سٹریس سے متاثر معدے کی عام علاماتِ میں جیسے
1: سینے اور معدے یا پیٹ میں جلن، درد کا ہونا
2:اپھارہ یا گیس کا مسلئہ ہونا،
3: بدہضمی اور بھوک میں کمی کا ہونا
4:کھانا کھانے کے بعد پیٹ پھول جانا
5: زیادہ بھوک کے باوجود تھوڑا کھانا کھا پانا
6: سر درد اور گیس دماغ میں چڑھنا جیسا لگنا
7: قے اور برپنگ کا ہونا، کھٹے ڈکار کا ہونا
8:بے چینی اور کمزوری محسوس کرنا
9:موڈ کا خراب ہونا ،
10: مزید اسے مریضوں کے ساتھ ڈیپریشن انزائٹی کی علامتیں واضح ہو سکتی ہیں جیسے  نیند کا مسلئہ ہونا یا گہری نیند کا نہ آنا ، چڑچڑاپن, ،ناامیدی ، مایوسی ، وزن میں کمی ، وہم و گمان کا شکار ہونا،ہیلتھ انزائٹی کا ہونا ,خود کو خطرناک ترین بیماریوں کا شکار سمجھنا ، اور ،ڈر، خوف میں مبتلا رہنا وغیرہ وغیرہ

(دائمی سٹریس یا تناؤ سے آئی بی ایس یا سنگرہنی یا اپھاڑا کا مسلئہ بھی ہو سکتا ہے، اور آئی بی ایس  بڑی آنت کو متاثر کرتی ہے، آئی بی ایس کی عام علاماتِ جیسے کھانے کے بعد فوری پاخانہ آنا ، پتلے موشن کا ہونا، یا قبض کا ہونا، کبھی قبض تو کبھی موشن کا ہونا، اپھارہ یا پیٹ میں گیس کا  بھرنا،  پیٹ میں درد اور مروڑ کا ہونا کبھی کچھ دن کے لیے توکبھی مہینوں تک ،تیزابیت، جلن کا ھونا اور اس کی وجہ سے منہ میں چھالے بھی  پڑ جاتے ہیں اور جنسی خواہش کی کمی بھی ہو سکتی ہے)

👈 سٹریس کی وجہ یا رسک فیکٹر
اس کی وجہ ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہیں جیسے کہ
1:ماحولیاتی عوامل: جیسے کسی صدمے کا سامنا کرنا ،کوئی حادثہ دیکھنا ، کسی عزیز کا وفات پا جانا، وغیرہ وغیرہ

2:نیند کی خراب عادات کا ہونا اور موباٸل کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا کسی سکرین کا کثرت سے استعمال کرنا

3:کسی جسمانی تکلیف یا درد کا ہونا جیسے جوڑوں یا پٹھوں میں درد کا مسلئہ ہونا ، کمر درد کا مسلئہ ہونا اور عورتوں میں حمل یا ماہواری کے مسائل کا ہونا وغیرہ وغیرہ

4: گھریلوں ،کاروباری یا مالیاتی مسائل کا ہونا

5:جینیاتی رجحان :کچھ لوگ وراثتی طور پر بھی سٹریس کا جلدی شکار ہوتے ہیں ، مطلب چھوٹے سے مسلئے کو بہت بڑا مسلئہ سمجھ کر سٹریس میں مبتلا رہتے ہیں۔
(ہمارے ہاں کافی نوجوان احتلام ، جریان یا قطروں کا نکلنا کو لے کر بھی سٹریس تنائو کا شکار ہوتے ہیں)

👈 تشخیص و علاج
سٹریس سے متاثر معدے کے مسلئے کی تشخیص ڈاکٹرز  کلینیکلی کر تے ہیں، وہ بھی کچھ ضروری ٹیسٹ کروانے کے بعد ، کیونکہ یہی معدے کی علامتیں اور بھی درجنوں بیماریوں میں ہوتی ہیں جیساکہ H pylori infection, اور  معدے کا السر یا زخم ،یرقان، ایسڈ ریفلیکس ، گندم سے الرجی والی بیماری وغیرہ وغیرہ
پہلے مریض کو antacid اور PPI میڈیسن دی جاتی ہیں اور اگر کسی مریض کو گیس اور معدے کے کیپسول سے فاہدہ نہ ہو رہا ہو یا زیادہ سٹریس کا مسلئہ ہو تو پھر مریض کو ڈیپریشن کی میڈیسن دی جا سکتی ہے، اور جس کو وہم یا سائیکی کا مسلئہ ہو پھر اس کو اینٹی سائیکوٹک میڈیسن بھی دی جا سکتی ہے، اور سٹریس کو کم یا کنڑول کرنے کے لیے سائیکالوجسٹ سے سیشن بھی لیے جا سکتے ہیں۔ اور اپنے ڈاکٹر کے …
[9:14 AM, 2/15/2025] Saira: اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے اقسام اور ان کا استعمال

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات بنیادی طور پر دماغ میں نیوروٹرانسمیٹرز (خصوصاً سیروٹونین) کے عدم توازن کو درست کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد ڈیپریشن، انزائٹی، اور دیگر نفسیاتی مسائل کا علاج ہے۔ کیمیکل ساخت اور کام کے طریقہ کار کے لحاظ سے انہیں پانچ بڑے گروپس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1. ٹرائی سائیکلک اینٹی ڈپریسنٹس (TCAs)

ادویات:
Imipramine
Amitriptyline
Nortriptyline
Dothiepin
Clomipramine
طریقہ کار:
یہ دوائیاں دماغ میں سیروٹونین، نارایڈرینالین اور ڈوپامین کے لیول کو بڑھاتی ہیں، جبکہ کچھ ریسیپٹرز کو بلاک بھی کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے سائیڈ ایفیکٹس زیادہ ہو سکتے ہیں۔

استعمال:
ڈیپریشن
انزائٹی
اوبسیسیو کمپلسیو ڈس آرڈر (OCD)
فوبیاز
سرعت انزال
ممکنہ نقصانات:
دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی
بلڈ پریشر میں کمی
زیادہ مقدار لینے پر بے ہوشی، جھٹکے، یا دل کا دورہ
موجودہ رجحان:
ان شدید سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے اب ان کا استعمال کم ہو گیا ہے۔
---
2. سیروٹونن ری اپ ٹیک انہیبیٹرز (SSRIs)
ادویات:
Fluoxetine
Paroxetine
Sertraline
Citalopram
Escitalopram
Fluvoxamine
طریقہ کار:
یہ دوائیاں دماغ میں صرف سیروٹونین کی مقدار کو بڑھاتی ہیں اور نسبتاً محفوظ مانی جاتی ہیں۔
استعمال:
ڈیپریشن انزائٹی پینک ڈس آرڈر
اوبسیسیو کمپلسیو ڈس آرڈر (OCD)
ماہواری سے متعلقہ ذہنی دباؤ (PMDD)
سرعت انزال
ممکنہ نقصانات:
وزن میں اضافہ, جنسی خواہش میں کمی
شروع میں بے چینی یا انزائٹی
موجودہ رجحان:
یہ ادویات ڈیپریشن کے علاج کے لیے "فرسٹ لائن" سمجھی جاتی ہیں۔
---
3. سیروٹونن-نورایڈرینالین ری اپ ٹیک انہیبیٹرز (SNRIs)
ادویات:
Venlafaxine
Duloxetine
طریقہ کار:
یہ دوائیاں سیروٹونین اور نورایڈرینالین کی مقدار کو بڑھاتی ہیں اور ٹرائی سائیکلک ادویات سے زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔

استعمال:
ڈیپریشن
انزائٹی
شوگر کے مریضوں میں اعصابی درد
فائبرومائی الجیا (پٹھوں میں درد)
ممکنہ نقصانات:
بلڈ پریشر میں اضافہ
سر درد
متلی
---
4. مونوامین آکسیڈیز انہیبیٹرز (MAOIs)
ادویات:
Phenelzine
Tranylcypromine
طریقہ کار:
یہ دوائیاں دماغ میں موجود ایک مخصوص انزائم کو بلاک کرتی ہیں جو نیوروٹرانسمیٹرز کو توڑتا ہے، جس سے ان کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔
استعمال:
ڈیپریشن
انزائٹی
ممکنہ نقصانات:
اگر یہ ادویات پنیر یا دیگر "ٹائرامین" والی غذاؤں کے ساتھ لی جائیں تو شدید بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے، جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔

موجودہ رجحان:
سخت پرہیز اور سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے آج کل ان کا استعمال بہت کم ہو گیا ہے۔

5. نارایڈرینالین اور اسپیسفک سیروٹونرجک اینٹی ڈپریسنٹ (NaSSA)
ادویات:
Mirtazapine
طریقہ کار:
یہ دوائی نارایڈرینالین اور سیروٹونین کے مخصوص ریسیپٹرز کو متحرک کرتی ہے، جس سے نیوروٹرانسمیٹرز کا توازن بحال ہوتا ہے۔
استعمال:
ڈیپریشن
انزائٹی
ممکنہ فوائد:
جنسی خواہش کو متاثر نہیں کرتی
نیند بہتر بناتی ہے
---
6. ایٹیپیکل اینٹی ڈپریسنٹ
ادویات:
Bupropion
استعمال:
ڈیپریشن
سگریٹ چھوڑنے میں مددگار
---نوٹ۔۔۔۔
سیلف میڈیکیشن خطرناک ہو سکتی ہے، کسی ماہر نفسیات یا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی دوا نہ لیں۔
زیادہ مقدار لینے سے "سیروٹونن سنڈروم" ہو سکتا ہے، جس کی علامات میں تیز بخار، تیز دل کی دھڑکن، متلی، پیٹ درد، اور بے ہوشی شامل ہیں۔
بعض ادویات کو اچانک بند کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے، ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
یہ معلومات تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں، کسی بھی دوا کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔

August 03, 2023

انسانیت اور اخلاقیات ہر مذہب کی بنیادی تعلیم ہے۔ HUMANITY

تحریر: مہد ی بخاری

Syed Mehdi Bukhari

میرا بچپن بھی ویسا ہی گزرا جیسے آپ میں سے اکثر کا گزرا ہو گا۔ گھر میں عبادات کی سخت تلقین اور محلے کی مسجد میں قاری صاحب سے قرآن پاک پڑھنے کو روز شام چار بجے جانا۔ قاری صاحب قرآن کو رٹا لگواتے اور باقاعدہ سُنتے اور تلفظ غلط ہونے پر ایسی ایسی سزا دیتے کہ ڈر کے مارے یاد ہوا سبق بھی بھول جاتا۔ یکدم بھاری ہاتھ منہ پر پڑتا۔پھر اس تشدد سے تنگ آ کر ابا نے مسجد بدلوا دی۔   

محلے کی مسجد سے دور دوسرے محلے کی مسجد جانا شروع ہوا۔ وہاں قاری صاحب بہت بزرگ انسان تھے یعنی بوڑھے تھے۔ وہ بہت نرم انسان تھے۔ ہاں جھڑکتے ضرور تھے مگر شاذ و ناذر ہی مارتے تھے۔ اور جب مارتے تھے تو زیادہ سے زیادہ کمر پر جھانپڑ رسید کرتے تھے۔ البتہ مسجد کے صحن کی صفائی جھاڑو سے باقاعدگی سے کرواتے۔ ان دنوں پی ٹی وی پر بچوں کا ڈرامہ “عینک والا جن” نشر ہوا کرتا اور وہ بھی عین ساڑھے چار بجے۔ اس ڈرامے کے سبب کئی بار بہانہ کر کے چھُٹی مار لیتا۔ اماں ابا سے ڈانٹ تو پڑتی مگر قاری صاحب سے ڈانٹ کا ڈر نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے اگلے روز بس پوچھنا ہوتا تھا کہ کیوں نہیں آئے ؟ اور کوئی بھی بہانہ چل جایا کرتا تھا۔

شاید آج بھی یہ رواج ہو، ان دنوں رواج یہ تھا کہ بچہ جیسے ہی قرآن مجید ختم کرتا قاری صاحب کو ایک عدد سوٹ بمعہ مٹھائی بھجوائی جاتی۔ میں نے دو بار ختم کیا اور پھر قاری صاحب انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر جس دن ملی میں اتنا رویا کہ دو دن تک عینک والا جن بھی نہیں دیکھا۔ بس اداسی طاری رہی۔

پھر مجھے نئے قاری صاحب کے پاس جانا پڑا جو انتقال کے بعد آئے تھے۔ یہ قاری صاحب تھوڑے متشدد خیالات کے تھے حالانکہ مجھے اتنا شعور تو نہیں تھا مگر یہ سُن کر بُرا لگتا جب وہ درس دینے بیٹھ جاتے اور کبھی کسی فرقے کا نام لے کر ان کے اعمال کو شرک قرار دیتے تو کبھی کسی کی کلاس لگ جایا کرتی۔ وہ بچوں کے ذہن میں باتوں باتوں میں نفرت بھرتے رہے۔ اللہ کا کرنا یہ ہُوا کہ وہ زیادہ عرصہ نہ چل سکے اور نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر رخصت ہو گئے یا کر دئیے گئے۔

اس کے بعد میں محلے میں ایک خالہ کے ہاں ڈال دیا گیا جو گھر میں بچوں کو فی سبیل اللہ پڑھاتی تھیں۔ تیسری بار قرآن ان سے ختم کیا اور پھر گھریلو حالات کے سبب مجھے سب کچھ بھول کر سکول و گھر کو دیکھنا پڑا۔ بڑا ہوا تو جوانی کاوش روزگار کی نذر ہوتی گئی۔ عمر پچیس سال ہوئی تو ایک بار مجھے خود سے شوق ہوا کہ قرآن کو صرف ترجمے کے ساتھ پڑھوں۔ جیسے جیسے پڑھنا شروع کیا مجھے معلوم ہوا کہ تمام الہامی مذاہب کی بنیاد وہی بنیادی اخلاقیات ہیں جو قرآن بھی تعلیم کر رہا ہے۔ بچپن میں تو رٹا تھا۔ جوانی میں شعور تھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اس دور میں کچھ نوٹس بنائے تھے جو وقت کے ساتھ ضائع ہو گئے۔

میں کبھی بھی مذہبی آدمی نہیں رہا۔ مجھے یہ اقرار کرنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ میں نے عبادات یعنی نماز و روزہ میں بہت کوتاہی برتی ہے۔ نہ میرا مذہبی ہونے کا دعویٰ ہے اور نہ ہی میں نے اپنی امیج بلڈنگ کے واسطے مذہب کا لبادہ اوڑھا ہے۔ ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب میں مذہبی رجحانات سے یکسر باغی رہا ہوں اور مذہب کو ایک سائیڈ پر رکھ چھوڑا مگر کچھ باتیں ہمیشہ سے میرے ذہن میں رہی اور ان باتوں پر اس واسطے عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ بنی نوع انسان کے تمام مذاہب میں کم و بیش متفرق ہیں اور یہ بنیادی انسانی اخلاقیات ہیں۔ ان اصولوں کو توڑنا یا ان سے صرفِ نظر برتنا انسانیت کی توہین ہے۔ جانور اور انسان میں جو فرق ہے وہ انہی اصولوں کی بدولت ہے۔

زمانہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے تمام مذاہب اس کی لپیٹ میں ہیں اور انسان مذاہب کی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ انسان ترقی کر رہا ہے مگر انسانیت ترقی نہیں کر رہی۔ یہ کچھ نقاط قرآن حکیم سے پیش ہیں۔ مدعا میرا اتنا ہے کہ آپ جو چاہیں کریں کہ مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے اور ہر انسان اپنے خدا کو خود جوابدہ ہے مگر ہو سکے تو ان نقاط کو ذہن میں رکھیں تاکہ زندگی انسانوں کی مانند بسر ہو سکے۔ان قرآنی احکامات کے کسی کو حوالے (آیات) چاہئے ہوں تو پوچھ سکتا ہے۔


۔گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو

۔غصے کو قابو میں رکھو

۔دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو

۔ تکبر نہ کرو

۔دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو

۔لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو

۔اپنی آواز نیچی رکھا کرو

۔ والدین کی خدمت کیا کرو

۔والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو

۔لین دین کا حساب لکھ لیا کرو

۔کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو

۔اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو

۔سود نہ کھاؤ

۔رشوت نہ لو

۔وعدہ نہ توڑو

۔دوسروں پر اعتماد کیا کرو

۔سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو

۔انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو

۔مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو

۔یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو

۔یتیموں کی حفاظت کرو

۔دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو

۔لوگوں کے درمیان صلح کراؤ

۔بدگمانی سے بچو

۔غیبت نہ کرو

۔جاسوسی نہ کرو

۔خیرات کیا کرو

۔غرباء کو کھانا کھلایا کرو

۔ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کرو

۔مہمانوں کی عزت کیا کرو

۔نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو

۔صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں

۔کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو

۔کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو

۔ اگر تم قدرت رکھتے ہو تو زمین و آسمان کو مسخر کر لو

۔ زمین پر پھرو تاکہ تم قدرت ملاحظہ کر پاؤ اور اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

۔ بخیل نہ بنو

۔حسد نہ کرو

۔ قتل نہ کرو

۔فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو

۔گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو

۔اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں

۔ چغلی نہ کھاؤ

۔جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس پر گفتگو نہ کرو

۔کسی کی ٹوہ میں نہ رہا کرو

۔اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو

۔زمین پر عاجزی کے ساتھ چلو

۔ہم جنس پرستی میں نہ پڑو

۔فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو

۔اسلام میں ترک دنیا نہیں ہے

۔غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ

۔لالچ سے بچو

۔جو دستِ سوال دراز کرے اسے نہ جھڑکو بلکہ حسب توفیق کچھ دے دو

 

 

June 13, 2023

BROWN RICE IS VERY BENEFICIAL THAN WHITE RICE

   لوجی نوی گل سن لو
           بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ چاول جب چھلکے میں نکالا جاتا ہے تو یہ براؤن ہوتا ہے. پھر چھلکا اتارنے کے بعد اسے ایک عمل میں سے گذارا جاتا ہے جسے رائس پولیشنگ rice polishing کہتے ہیں. اس عمل میں چاول کے باہری طرف  موجود باریک جھلی نما براؤن غلاف اتار دیا جاتا ہے. اور یہ سفید چاول وجود میں آتا ہے جسے ہم سب جانتے ہیں یا بصد شوق کھاتے ہیں.

      اگر پالش کے بغیر براؤن چاول کی غذائیت کا جائزہ لیں تو اس میں میگنیشیم، سیلینیم، پوٹاشیم، کیلشیم آئرن ،پروٹینز، فیٹس ،وٹامنز خاص طور پر وٹامن بی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں. جبکہ پالش کرنے کے بعد تقریباً تمام پروٹین، تمام فیٹ، سارے وٹامنز اور تین چوتھائی منرلز ضائع ہوجاتے ہیں. غیر پالش شدہ چاول چاول دنیا میں اوٹ کے بعد سب سے زیادہ غذائیت والا غلہ ہے

      جبکہ دوسری طرف پالش شدہ چاول کو غذائی ماہرین اور امریکی ادارہ FDA غلہ ہی تسلیم نہیں کرتے. اس میں صرف میدہ اور قلیل مقدار میں منرلز ہوتے ہیں. ایک لاکھ تیس ہزار لوگوں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سفید چاول ذیابیطس کی بیماری کی بڑی وجہ ہیں.

      اب سوال یہ ہے کہ اگر چاولوں کو پالش کرنا اتنا ہی احمقانہ فعل ہے تو اس کی ابتدا کیسے ہوئی. تو جناب جان لیں دنیا بھر میں چاولوں سے بنائی گئی شراب کو ایک خاص مرتبہ حاصل ہے. جاپان کے لوگ چاولوں سے شراب کشید کرنے کے ماہر ہیں اسے وہاں sake سیک کہتے ہیں. سیک کی تیاری کے لیے چاول کا نشاستہ چاہیے ہوتا ہے. پرانے وقتوں میں جب چاول پالش نہیں کئے جاتے تھے تو اس کی باہری براؤن پرت سیک کی تیاری میں رکاوٹ کا باعث بنتی تھی.
 
     تب چاولوں کو خشک یا بھگو کر تھیلوں میں ڈال کر آپس میں رگڑتے تھے تاکہ وہ پالش ہوجائیں. یہ بہت مشقت طلب کام تھا.  انیسویں صدی کے وسط میں جب مشینوں کا چلن عام ہورہا تھا تو سیک بنانے والے بھی چاول پالش کرنے والی مشین کی جستجو میں لگے تھے. ایسے میں سال 1860 کے اس پاس شاید پہلی پالشنگ مشین بنائی گئی تھی.  پالش شدہ چاولوں کی شکل اور ذائقہ لوگوں کو بھاگیا اور بنا اس کی غذائیت کی طرف دھیان دیئے عوام کی اکثریت اسی کی دلداہ ہوگئی. آج عالم یہ ہے کہ بصد خواہش و سعی بازار سے براؤن چاول نہیں ملتے.

      ہمارا بس چلے تو بہت سے دیگر غذائی جرموں کے ساتھ چاولوں کو پالش کرنا اور گنے کے رس سے شکر یا گڑ کی بجائے چینی کشید کرنے پر مکمل پابندی عائد کردیں.

                    (  ابن فاضل )
#ابن_فاضل
#Ibn_e_fazil

حسد کیا ہے کس طرح حاسد اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے

 
حاسد کے سر سے اللہ اپنا ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔

اللہ حاسد کا پردہ کبھی نہیں رکھتا حاسد کا حسد ظاہر ہو جاتا ہے۔
حاسد لاکھ کوشش کر کے بھی حسد کو چھپا نہیں سکتا یا تو اسے حسد ختم کرنا پڑے گا یا پھر حسد ظاہر ہو گا حسد کو چھپایا نہیں جا سکتا یہ شکل سے ٹپکتا ہے۔
آپ نوٹ کر کے دیکھ لیں حاسد کے چہرے پہ حسد رقم ہوتا ہے۔
اس کو پڑھنے کے لیے فیس ریڈنگ کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
حاسد کا چہرہ ہمیشہ بجھا ہوا ہوتا ہے ایک کلونس ایک نحوست ہمیشہ طاری رہتی ہے۔
رنگت کتنی بھی سفید ہو چہرہ کبھی روشن نہیں ھوگا بلکہ ایک سیاہی ہوگی۔
حاسد کبھی آنکھ ملا کے بات نہیں کرئے گا نظریں چرائے گا.
حاسد کی شخصیت میں اضطراب ہو گا یہ ٹک کے ایک جگہ نا بیٹھ سکتا ہے نا کھڑا ہو سکتا ہے نہ ایک جگہ قیام کر سکتا ہے اس کی شخصیت میں بے چینی ہو گی۔ یہ کھڑا ہوا بھی ہلتا رہے گا بیٹھا ہوا بھی پہلو بدلتا رہے گا۔
حاسد کبھی تنہائی پسند نہیں ہوتا تنہائی اس کو کاٹتی ہے یہ در در پھرتا ہے۔
حاسد دہری آگ میں جلتا ہے اور حاسد بے ہدایت ہوتا ہے۔
اپنے آپ کو حسد سے بچائیں یہ نہیں کہ ہمیں کبھی بھی کسی کی کامیابی،خوبصورتی، خوش بختی متاثر نہیں کرتی جب بھی دل میں منفی خیالات آئیں شروع میں ہی اس عادت کو پختہ کریں کہ لوگوں کی کامیابی پہ انکو گلے لگا کے مبارکباد دیں، تالی بجائیں، سلیوٹ کریں، تعریف کریں اوردعا دیں۔
یقین مانیں دعا اتنی بڑی طاقت ہے کہ جب ھم کسی کے لیے دعا کرتے ہیں تو ہمارے دل سے تمام منفیت جیسے دھل جاتی ہے اس کی طرف سے دل گداز ہوتا ہے نرم ہوتا ہے اور اپنے دل کو راحت اور خوشی ملتی ہے۔
بد دعا دینا دل کو سخت کرتا ہے دل میں منفیت کو خوراک ملتی ہے اور وہ پنپنے لگتی ہے۔ منفیت پھلتے پھولتے ہمارے دل کے سکون، اطمینان اور ہماری خوشیوں کو کھا جاتی ہے۔
ہمیں اپنے جذبات پہ پہلے دن سے بند باندھنے ہیں ورنہ منفیت ایسا ریلا ہے جو بہت جلد ہمیں بہا کے تباہی کے دہانے پی لے جاتا ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا۔
اپنے بچوں کو بچپن سے دعا دینا سیکھائیں۔
سڑک پہ جاتے کسی کی اچھی گاڑی دیکھیں یا کسی کا شاندار گھر تو با آواز بلند دعا کریں اللہ اسکو خوشیوں میں برتنا نصیب کر۔
کسی کا بچہ دیکھیں تو اس کے اچھے نصیب کی دعا کریں۔
کسی کی کامیابی کا سنیں تو مبارک باد دیں خوشی کا اظہار ریں۔
منفی خیال آ بھی جائیں تب بھی انہیں مثبت راستہ دکھلائیں۔
اللہ ہم سب کو حاسدوں سے ، ان کے شر سے اور خود کو حسد میں مبتلا ہونے سے اپنی امان میں رکھے۔
آمین ثم آمین یارب
جـͣوͥیͬــͥــͣرᷱیـᷧــᷯـــہ ســاجͩــͥـᷯــⷶــ᩺ــد
3 اگست 2022
نشر مکرر
13 جون 2023

March 15, 2023

BLESSINGS OF AMIGHTY ALLAH, Business with Allah

 

میں لاہور میں سعودی عرب کے تعلیمی اتاشی کے سامنے بیٹھا تھا، میرے کاغذات اور جدہ یونیورسٹی کا ویزا اسکے ہاتھ میں تھا- وہ کافی دیر تک کاغذات کو دیکھتا رہا پھر بولا لیکن میں اس ویزے کو نہیں مانتا- میں نے پوچھا وجہ؟ اس نے کہا تعلیم تو ٹھیک ہے مگر تمھارا تجربہ انڈسٹری کا ہے تدریس کا تجربہ تو صفر ہے، جسکو پڑھانے کا کوئی تجربہ ہی نہ ہو وہ کیا پڑھائے گا-

میں نے کہا سر لیکن جدہ میں رئیس القسم نے میرا ٹیسٹ اور پڑھائی کا طریقہ دیکھ کر میری سفارش کی ، پھر میرا ڈین سے انٹرویو ہوا اسکے بعد یہ ویزا دیا گیا ہے- اسکےہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی بولا ضروری نہیں کہ اگر انھوں نے غلطی کی ہو تو میں بھی غلطی کروں- میں نے کہا سر یہ ویزا وائس چانسلر نے جاری کیا ہے جسکی پوسٹ وزیر کے برابر ہوتی ہے، وہ پھر مسکرایا اور بولا اور مجھکو ایسے 15 وزیروں کے کاموں کو چیک کرنے کے لیئے بٹھایا گیا ہے اگرآپ چاہیں تو میں آپ کے کاغذات پر لکھ کر دے سکتا ہوں کہ آپ کو ویزا نہیں دیا جاسکتا۔ میں نے اس سے مزید حجت کی تو اس نے کہا جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے – میرے ذہن میں اپنی پرانی کمپنی کے

مسٹر فریڈرک کیسے کے الفاظ گونجے ” مسٹر رضوان ۔۔ تم نوکری چھوڑ کر بڑی غلطی کررہے ہو، میں نے ان لوگوں کے ساتھ 20 سال کام کیا ہے، انکا ہر وعدہ غلط ہوتا ہے” اور میں نے غصہ میں جواب دیا تھا ” یہ لوگ ہمارے لئیے بڑے مقدس ہیں تم انکی توہین کررہے ہو، اس نے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا ایک وقت آئے گا تم میرے الفاظ کو یاد کروگے- شاید وہ وقت آگیا تھا- پھر اس کے بعد میں نے دو اور چکر لگائے ہوائی جہاز سے اور ہر بار اتاشی کا وہی جواب تھا ” کہ جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے” میرے لئیے یہ بڑا سخت وقت تھا نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔ دو مہینے بےروزگاری کے ہوچکے تھےمیں سخت ٹینشن میں بیٹھا تھا کہ بیل بجی دروازے پر ٹین ڈبےوالا تھا، کوئی ستر سال کا ہوگا بالکل ہڈیوں کا ڈھانچا، میلا کچیلا پیوند لگے کپڑے، پسینے میں نہایا ہوا- کہنے لگا صاحب دس سال ہوگئے ہیں ان گلیوں میں چکر لگاتے آج پہلی بار کسی کے گھر کی بیل بجائی ہے میں نے حیرت سے کہا ہاں ۔۔ بولو، کہنے لگا یہاں نہیں وہاں نیم کے پیڑ کے نیچے چبوترے پر بیٹھ کر آرام سے بات کرنی ہے- میں تذبذب کے عالم میں اس کے ساتھ چل پڑا-

کہنے لگا صاحب میری اکلوتی بچی کی شادی ہونے والی ہے شادی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے مگر میرے پاس ایک پیسہ نہیں ہے آج کل کام بھی بہت مندا ہےکئی لوگوں سے ادھار مانگا سب نے منع کردیا، کل رات بہت دیر تک مسجد میں رویااور دعا مانگی تو رات میں خواب میں آپ کی گلی اور گھر نظر آیا اور آواز آئی ان سے جا کر مانگ لے اس لئیے صرف آپکا دروازہ کھٹکھایا ہے- مجھے اس کی کہانی پر یقین نہیں آیا اور ہنسی بھی آئی کہ لوگ کیسی کیسی چار سو بیسی کرنے لگے ہیں- میں نےازراہ مذاق پوچھا کتنے پیسے کی ضرورت ہے بولا صاحب سادگی سے رخصتی کرنی ہے، زیور تو میں اپنے بیوی کا چڑھا دوں گا، مگر پانچ چھ جوڑے اور شادی کا کھانا تو کرنا ہوگا، کوئی تیس ہزار کا خرچہ ہوگا-

میں نے سوچا 50000 تو آج کل صرف دلہن کے بیوٹی پارلرمیں ہی خرچ ہوجاتے ہیں- یہ رقم میرے لئیے بہت معمولی تھی اگر میں باہر کام کررہا ہوتا، مگر اب اس بے روزگاری میں یہ میرے لئیے بہت بڑی رقم تھی- میں خاموش سا ہوگیا وہ بولا صاحب آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں اور میرے محلے والوں سے پوچھ لیں یہ جھوٹی کہانی نہیں ہے، میں غریب ضرور ہوں مگر ایماندار ہوں قسطوں میں آپ کی رقم لوٹا دوں گا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر بےچارگی اور لجاجت- وہ پھر بولا میں کبھی بیل نہ بجاتا اگر یہ خواب نہ دیکھتا۔ میں عجیب شش و پنج میں تھا پھر مجھے یاد آیا کہیں پڑھا تھا کہ جب تنگی ہو تو خدا سے تجارت کیا کرو وہ کبھی نا امید نہیں کرتا۔۔۔ تیس ہزار دینے کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی کی کوئی امید نہیں – خیر میں گیا اور تیس ہزار اس کے ہاتھ میں رکھ دئیے- اس نے میرے ہاتھ چوم لئیے اور رونے لگا۔۔۔

کوئی پندرہ دن بعد پھر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا میں نے غصہ سے پوچھا اب کیا مسئلہ ہے کیا پھر کوئی خواب دیکھا ہے بولا ہاں مگر آپ کو کیسے پتہ چلا ؟ میں نے جنجھلا کر کہا ظاہر ہےپہلے خواب دیکھا تھا تو بیل بجائی اب پھر خواب دیکھا ہوگا جو بیل بجائی ہے- جلدی بتاؤ مجھے بہت کام ہیں-

کہنےلگا صاحب کل عشاء کی نماز پڑھ کر بڑی دعا کی کہ مولا قرض تو دلا دیا ہے اب ادائیگی میں بھی مدد کردے اور سوگیا تو پھر آپ کا گھر نظر آیا آواز آئی کہ تیرا قرض ادا کردیا گیا ہے جاکر بتادے کہ اسکا بھی کام کردیا گیا ہے- میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا- میں نے کہا ٹھیک ہے جاؤ میں نے تم سے کون سا قرض وصول کرنا تھا- لیکن کمرہ میں آکر میں کافی دیر تک سوچتا رہا پھر والدہ سےمشورہ کیا تو وہ بولی تم کل ہی لاہور جاؤ ہوسکتا ہے قدرت کوئی راستہ نکالے میں نے تنک کر کہا تین بار تو جا چکا ہوں وہ تو بس ایک ہی بات کہتا ہے” جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے” اب تو اس کو میرا چہرا بھی زبانی یاد ہوگیا ہوگا- والدہ نے کہا میں پیسے دیتی ہوں تم اللہ کا نام لے کر جاؤ تو سہی، کچھ لوگ خدا کےبہت قریب ہوتے ہیں یہ بات عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔

خیر میں اگلےدن لاہور پہنچا موسلا دھار بارش ہورہی تھی، ڈرتے ڈرتے اتاشی کے کمرہ میں داخل ہوا دیکھا کرسی پر ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہے، میں نے کہا یہاں تو ایک اور صاحب ہوتے تھے بولا ہاں انکو ایک ہفتہ ہوا واپس وزارت خارجہ میں بلا لیا گیا ہے اور میں نے چارج سنبھال لیا ہے- میں نے کاغذات اسکو دیئے بولا آپ بہت لیٹ آئے اب تو یونیورسٹی کھلنے میں چند دن رہ گئےہیں- پھر اس نے سکریٹری کو بلایا کہا کہ پرسوں سےیونیورسٹی شروع ہورہی ہے یہ پہلے ہی لیٹ ہوچکے ہیں فورا ٹکٹ بناؤ پاسپورٹ پر ویزا لگاؤ اورسالانہ ھاؤس رینٹ، ایک ماہ کی سلیری کا چیک بنا کر لے آؤ، اور سنو چائے بھجوادینا-

میں ایک لمحہ کے لئیے گم سم سا ہوگیا، قدرت اس طرح بھی مہرباں ہوسکتی ہے ؟، پرانے اتاشی کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہےتھے- اوپر والے نے اس مغرور شخص کی کرسی چھین لی تھی کیا صرف میرا کام کروانے کے لئیے؟ پھر موسم پر میں نے گفتگو شروع کی بتایا کہ بہت موسلادھار بارش ہورہی تھی بڑی مشکل ہوئی آنے میں تو اس نے بڑی شائستہ اردو میں جواب دیا کہ آپ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں ہم تو ایسے موسم کو ترستے ہیں، مجھ پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے اس کی اردو سن کر- میرا حیران چہرہ دیکھ کر وہ ہنسا بولا میں نے یہیں سے تعلیم حاصل کی ہے پاکستانی ایک ذہین ، محنتی اور بڑی مہمان نوازقوم ہے میں ان سے محبت کرتا ہوں خاص طور پر استادوں سے۔۔۔ چائے ختم ہوگئی تھی، پاسپورٹ، ٹکٹ اور چیک میرے ہاتھ میں تھا۔۔۔ مجھے ٹین ڈبے والے کے خواب کےالفاظ یاد آئے کہ تمھارا قرض ادا کردیا گیا ہے- لیکن ایسی ادائیگی کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا

 

March 06, 2023

BRAIN INVESTMENT , دماغ پر سرمایہ کاری کرنا۔

 

ہ آئیڈیل شخص ڈاکٹر فاروق القاسم, عراقی نژاد نارویجن ماہر ارضیات (پٹرولیم) ہیں۔ انہوں نے ناروے کو پٹرولیم مصنوعات میں دنیا کی چھٹی بڑی طاقت بنانے میں کلیدی کردار کیا تھا۔
انہوں ایک مضمون لکھا جس کا عنوان ہے:
"دماغ پر سرمایہ کاری کرنا"
وہ لکھتے ہیں کہ مجھ سے جو شخص بھی بات کرتا ہے میں اسے کہتا ہوں کہ مجھ سے کسی بھی ایسے ملک اور اسکے قدرتی ذخائر جیسی قدرتی دولت کے متعلق سوال نہ کریں جہاں کے لوگ نفرت، نسل پرستی، قبائلی تقسیم، جہالت اور جنگوں کے دلدادہ ہیں ۔
نائیجیریا دولت اور دیگر معدنیات کے لحاظ سے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے۔
یہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سے بھی ایک ہے۔ لیکن اس کی عوام کی حالت اور ملکی صورت حال پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ نہایت ہی مایوس کن ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نائیجیریا کے لوگ نسلی گروہ بندی اور مذہبی تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔
جبکہ سنگاپور وہ ملک ہے جس کے صدر ایک دن رو پڑے، کیونکہ وہ اس ملک کے صدر ہیں جہاں پینے کے صاف پانی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، مگر پھر آج ان کا ملک فی کس آمدنی کے لحاظ سے جاپان سے بھی آگے ہے۔
آج کل صرف پسماندہ لوگ ہی رہ گئے ہیں جو کسی بھی قسم کی ترقی کرنے یا دنیا کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کی بجائے اب بھی زمین اور اس کی معدنیات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں.
میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس میں سے اب ایسا کیا نکالنا چاہتے ہیں جس کے سہارے وہ محض زندہ رہنے کا خواب دیکھ رہے ہیں؟
یہ ایک ایسا وقت ہے جس کے ادراک سے وہ غافل ہیں، اس وقت سب سے کامیاب اور منافع بخش سرمایہ کاری کا درجہ خود انسان اختیار کرچکا ہے۔ اگر کوئی اپنے اوپر سرمایہ کاری نہیں کرے گا تو اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔
کیا آپ نے گلیکسی فون یا آئی فون خریدتے وقت سوچا ہے کہ اس فون کو کتنے قدرتی وسائل کی ضرورت ہے؟
آپ دیکھیں گے کہ اس میں قدرتی دولت کے چند ڈالر بھی خرچ نہیں ہوتے ۔
سادہ سا چند گرام لوہا, ایلومینیم اور تانبہ، شیشے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا اور تھوڑا سا پلاسٹک وغیرہ، لیکن آپ اسے سینکڑوں ڈالر میں خریدتے ہیں، ایک موبائل فون کی قیمت تیل اور گیس کے درجنوں بیرل سے بھی زیادہ ہے۔
وجہ یہ ہے کہ اس میں انسانی ذہنوں کی تخلیق کردہ تکنیکی فکری دولت ہے. اور یہی مستقبل کی سب سے بڑی دولت ہوگی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس جیسا شخص 226 ڈالر فی سیکنڈ کماتا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے امیر ترین لوگ اب قدرتی دولت کے مالک نہیں رہے؟
لیکن وہ اب آپ کے موبائل پر سادہ سی چند ایپلی کیشنز کے مالکان ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ سام سنگ جیسی کمپنی کا ایک سال میں منافع 327 ارب ڈالر ہے؟
جی ڈی پی کی اتنی رقم جمع کرنے کے لیے ہمیں سو سال درکار ہیں.
آپ کو محض یہ وہم ہے کہ آپ کے پاس قدرتی وسائل سے حاصل کردہ دولت ہے جو آپ کو آپ کے دماغ کا استعمال کے بغیر امیر بناتی رہے گی۔
اپنا وہم ترک کردو، بیل جیسی کند ذہنیت کے ساتھ دولت کو استحکام نہیں دیا جاسکتا۔
دوسری جنگ عظیم میں جاپان کو شکست ہوئی اور پچاس سال سے بھی کم عرصے میں اس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا سے اپنی تباہی کا بدلہ لے لیا اور آپ ابھی تک اس جہالت سے نکلنے کے لیے تیار نہیں جہاں آپ کی شناخت اور آپ کا سب سے اہم مسئلہ آپ کا مسلک، ذات یا آپ کا قبیلہ ہے۔
عربی زبان سے اردو ترجمہ: مترجم توقیر بُھملہ

 

February 22, 2023

BIWI SE ISHAQ ? بیوی سے عشق

  بیوی سے عشق کب ہوتا ہے

ایک خاتون نے نہایت دلچسپ سوال کیا، کہنے لگیں ’’تارڑ صاحب میں نے آپ کا حج کا سفرنامہ ’’منہ ول کعبے شریف‘‘ پڑھا ہے جس میں آپ نے اپنی بیگم کا تذکرہ اس طرح کیا ہے جیسے وہ آپ کی بیوی نہ ہوں گرل فرینڈ ہو‘‘۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’خاتون جب میں اپنے سفرناموں میں غیرمنکوحہ خواتین کا تذکرہ کرتا تھا تب بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہےاور اب اگر اپنی منکوحہ کے ساتھ چہلیں کرتا ہوں تو بھی اعتراض ہوتا ہے۔

اگر آخری عمر میں بالآخر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہوں تو بھی آپ کو منظور نہیں‘‘۔ وہ خاتون نہایت پُرمسرت انداز میں کہنے لگیں ’’آخری عمر میں ہی کیوں؟‘‘ ۔۔۔ میں نے انہیں تو جواب نہیں دیا محض مسکرا دیا لیکن میں آپ کو رازداں بناتا ہوں۔۔۔ آخری عمر میں بیوی کے عشق میں مبتلا ہو جانا ایک مجبوری ہے کہ اتنی طویل رفاقت کے بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس بھلی مانس نے مجھ پر بہت احسان کئے۔۔۔ میری بے راہرو حیات کو برداشت کیا۔۔۔ کبھی شکایت نہ کی البتہ ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ بہت کی تو بس یہی عشق میں مبتلا ہونے کے لائق ہے۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ جوانی میں بیوی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، مرد آخر مرد ہے.دل میں خیال آتا تھا کہ اگر یہ مر جائے تو سبحان اللہ میں دوسری شادی کر لوں۔

اب اس بڑھاپے میں ہر نماز کے بعد میں دعا مانگتا ہوں کہ یا اللہ اسے سلامت رکھنا، یہ م ر گئی تو میں دربدر ہو جاؤں گا، مجھے تو کوئی پانی بھی نہیں پوچھے گا۔۔۔ مجھے پہلے لے جانا اِسے سلامت رکھنا۔ ویسے یہ میرا نصف صدی کا پاسے سونے کی مانند کھرا تجربہ ہے کہ نوجوانی میں اپنی بیویوں سے ع ش ق کرنے والے اور اُس کا چرچا کرنے والوں نے ہمیشہ اُن بیویوں سے چھٹکارا حاصل کر کے دوسری ش ادی اں کیں۔۔۔ مجھ سے پانچ چھ برس جونیئر ایک مناسب شاعر اور ان دنوں بہت دھانسو کالم نگار نے کہا ’’تارڑ بھائی۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے عشق کی شادی کی ہے۔۔۔ میں اپنی بیوی سے ایک ایسا عشق کرتا ہوں.جس کی مثال روئے زمین پر نہ ملے گی۔ میں اُس کی پرستش کرتا ہوں، وہی میرا مذہب ہے اور میں نے اُسے جو خطوط لکھے، جاں نثار اختر نے کہاں لکھے ہوں گے، یہ خطوط تاج محل سے بھی عظیم تر ہیں۔۔۔ میں یہ خطوط کتابی صورت میں شائع کروا رہا ہوں تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو کہ عشق کیا ہوتا ہے۔۔۔ اور اس شہر میں صرف تین لوگ ہیں جنہیں میں اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خطوط کی اس کتاب کا فلیپ تحریر کریں۔۔۔ اعتزاز احسن، منو بھائی اور آپ اُنہوں نے لکھ دیا ہے آپ بھی لکھ دیں۔۔۔ میں نے لکھ دیا اور پھر کتاب کا انتظار کرنے لگا۔

چار پانچ ماہ کے بعد میں نے اس کتاب کے ناشر سے پوچھا کہ خطوط کی وہ کتاب کیاہوئی تو وہ کہنے لگے ’’موصوف تو اپنے عشق کو طلاق دے چکے ہیں اور ان دنوں دوسری بیوی کے عشق میں سرشار ہو رہے ہیں‘‘۔ میرے ابّا جی کے ایک دوست نسبت روڈ چوک کے قریب حکمت کی دکان کرتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اتنا عشق کرتے تھے کہ دکان کی دیواروں پر اُس کی تصویریں سجا رکھی تھیں اور کہتے تھے ’’چوہدری صاحب۔۔۔ میں لمحہ بھر کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ اُس کا چہرہ دیکھتا رہتا ہوں تب دن گزرتا ہے‘‘۔۔۔ جانے کیا ہوا کہ اُن کی بیوی ناگہانی م وت سے دوچار ہو گئیں، اُن کو اتنا ص دم ہ ہوا کہ بہت دنوں تک کچھ کھایا پیا نہیں اور لاغر ہو گئے۔۔۔ مرحومہ کی قبرکے برابر میں ایک جھونپڑا ڈال کر اُس میں فروکش ہو گئے۔۔۔ گھر ترک کر کے قبرستان میں بسیرا کر لیا، درویشی اختیار کر لی، بیوی کی قبر کے ساتھ لپٹ کر روتے رہتے۔۔۔ایک دو ماہ بعد میں نے ابّا جی سے پوچھا کہآپ کے اُس دوست کا کیا حال ہے جو بیوی کی ق ب ر کے ساتھ رہتے ہیں تو ابّا جی کہنے لگے اور مسکرا کر کہنے لگے ’’ اُس نے اپنی چھوٹی سالی سے شادی کر لی ہے اور ان دنوں ہنی مون منانے مری گئے ہوئے ہیں‘‘۔ جوانی میں اپنی بیویوں سے محبت کرنے والے لوگ ۔۔۔ ہمیشہ دوسری شادی کرتے ہیں۔۔۔ آزمائش شرط ہے۔۔۔ چونکہ میں نے اپنی اہلیہ سے ج وان ی میں محبت نہیں کی اس لئے میں نے دوسری ش ادی بھی نہیں کی۔ ویسے اس عمر میں آ کر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو کر اُس کے ساتھ فلرٹ کرنا نہایت ہی شاندار تجربہ ہے۔ میں اُسے ’’ڈارلنگ‘‘ یا ’’سویٹ ہارٹ‘‘ کہتا ہوں تو وہ ناک چڑھا کر کہتی ہے

 

February 08, 2023

Love of Mother


اس دن میرے بیٹے کی سالگرہ تھی ، میں کام سے جلدی گھر آ گیا ، گھر داخل ہوتے ہی صحن میں چار پائی پر بیٹھی بوڑھی ماں پر نظر پڑی مگر مجھ کو لگا کہ شاید ماں کی نظریں پہلے سے ہی دروازے پر جمی ہوئی تھیں..مگر میں نظر چراتے ہوۓ سر جھکاتے ہوۓ السلام کر کے اپنے کمرے کی طرف چل دیا ،

اور ماں کا ہاتھ اُٹھا ہُوا ہوا ہی میں معلق ریہہ گیا ، میں اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ شاید…

ماں نے کچھ کہنا تھا….

میری بیوی جو کے پہلے ہی کمرے میں موجود تھی مجھ کو یُوں دیکھ کر بولی کیا ہُوا ، کس سوچ میں ہیں ، آج تو بیٹے کی سالگرہ ہے خوش ہو جائیں… سارا انتظام میں نے کردیا ہے ،میں نے ہڑبڑا کے کہاں ہاں ہاں بالکل…

مگر میری نظروں کو وہی ہاتھ معلق دکھائی دے رہا تھا…

بیوی کی محبت بچوں کی رونق زمانے کی الجھنوں نے مجھ کو شاید ماں سے کچھ دور کردیا تھا….

اسی سوچ میں تھا کہ ماں میرے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوۓ بولی ، راشد ، پُتر میں آ جاں….

ماں کا یہ جملہ سنتے ہی میں کانپ گیا…

بیوی بولی کیا ہُوا کیا ہُوا… ؟

میں کانپتے ہوۓ بولنے کی کوشش کرنے لگا ….اتنے میں ماں اندر آ کے بولی…

پُتر اَج بڑی جلدی آ گیا ایں اللہ خیر کرے ماں صدقے…

میں بولا میں ویسے ہی جلدی آ گیا…

ماں بولی پُتر تیرے نال اک گل کرنی ایں…. یک دم میری بیوی بولی ماں جی تُسی جاؤ سانوں پہلے ای بڑے کم نیں ماں بولی پُتر اَج کوئی خاص دن اے…

میں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور نظروں ہی نظروں میں پوچھا کہ ….کیا ماں کو نہیں بتایا….

اتنے میں ماں باہر چلی گئی…. میں تھوڑی دیر سر جھکاۓ بیٹھا رہا اور پھر اُٹھا اتنے میں بیوی بولی کوئی ضرورت نہیں باہر جانے کی ، میں نے اُس کا بازو پکڑ کر زور کا جھٹکا دیا اور باہر چلا گیا..

صحن میں چار پائی پر بیٹھی ماں کے پاس بیٹھ گیا ماں اُٹھی ۔..میں نے کہا ماں مجھے معاف کردیں ، میں نے ساری تفصیل ماں پر واضح کردی…. اور پوچھا آپ میرے کمرے میں خیر سے آۓ تھیں… ماں تھی نا… ایک دم سے معاف کرتے ہوۓ سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولی… پُتر تیرے باپ دے مرن تُوں بعد میں کلی ریہہ گئی آں تے جدوں تک تینوں مل کے پیار نہ کر لاں سکون نئی ملدا…. تھوڑا ویلا کڈ کے میرے کول وی بے جایا کر…

میں ماں کا ہاتھ پکڑ کر چومتے ہوۓ دھاڑیں مار کے رونے لگا… اور بار بار معافی مانگتا رہا… یہ سب میری بیوی ہمارے بچے کو اُٹھاۓ دیکھتی رہی جس کی آج پہلی سالگرہ تھی….

اور ماں میرے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوۓ دھیمی سی آواز میں کہتی رہی ، بس پُتر میں تے ایہی گل کرنی سی بس میں تے ایھو گل کرنی سی…

کدی مینوں وی پُچھ لیا کر…

کدی میرے کول وی بہیہ جایا کر….

اپنی امی کے پاس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جایا کریں

کیوں کہ مجھے میری امی سے ملنے قبرستان جانا پڑتا ہے

آپکی دعاؤں کا طالب


February 04, 2023

پٹھان لڑکی جس نے 4 مردوں کو شادی کی پہلی رات ہی مار کر FOUR YOUNG MEN DIED AND THERE GRAVE ....



 میر انام انور ہے میں ایک گورگن تھا اپنی مرضی سے نہیں اپنی قسمت سے کیوں کہ میرے والد صاحب بھی یہی کام کرتے تھے اور ان کے جانے کے بعد مجھے بھی یہی کام کرنا تھا کیونکہ اور کوئی کام مجھے آتا نہیں تھا میں ہمیشہ یہی سوچتا رہا کہ پڑھ لکھ کے بڑا آدمی بنوں گا لیکن اللہ نے اتنی عقل بھی نہیں دی تھی 6دفعہ میٹرک کرنے کی کو شش کی پر میٹرک پورا نہیں ہوا ہم لوگ  سرگودھا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے یہاں پے ویسے بھی کوئی زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا بس پھر بابا کے جانے کے بعد میں اسی کام میں لگ گیا مجھے قبرستان کے باہر ہی ایک چھوٹا سا کمرہ بھی ملا ہو ا تھا جس کی کھڑکیوں سے قبرستان نظر آتا تھا۔

میرا اب اس دنیا میں کوئی بھی نہیں تھا بس یہی میرا کام تھا پر ایک دن گاؤں میں کچھ ایسا ہوا کہ ہم حیران رہ گئے دراصل ایک دن پہلے ہی ایک جوان لڑکے کی موت ہوئی تھی اس کو کیا ہوا یہ کوئی نہیں جانتا تھا بس وہ اپنے کمرے میں مردہ حالت میں ملا تھا اس کو دفنا دیا گیا تھا اور آج صبح یہ دیکھ کر سب حیران تھے کہ اس کی قبر کی کسی نے بے حرمتی کی تھی اور اس کی لاش کی بھی ہم لوگ حیران رہ گئے کیونکہ آج سے پہلے ایسا کبھی بھی نہیں ہوا تھا۔پورے گاؤں میں ایک ہی قبرستان تھا اور گورکن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قبرستان میں ہونے والے تمام معاملات پر نظر بھی رکھے اسی لئے لوگ مجھ سے ہی سوال کر رہے تھے میں نے کہا کہ بھائی میں بھی انسان ہوں ساری رات جاگتا نہیں رہتا میں نے کون سا کوئی چلا کاٹنا ہوتا ہے میں اپنے کمرے میں جا کر سو گیا تھا مجھے کیا پتا تھا کہ یہ کب ہوا ہے میری بات اپنی جگہ ٹھیک تھی لیکن لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور جس نے بھی یہ کام کیا تھا وہ انسان نہیں ہو سکتا کسی انسان کو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی لواحقین بھی بہت پریشان تھے اور پہلے سے ہی صدمے میں تھے ایک تو ان کا جوان بیٹا اس دنیا سے چلا گیا اور پھر اس کی لاش اور قبر کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا گیا یہ بات پورے گاؤں میں پھیل گئی اور ہر کسی کے لیے ایک موضوع بن گیا ابھی اس بات کو دو تین دن ہی ہوئے تھے کہ ایک  اور بات سامنے آگئی اور وہ یہ کہ اس گاؤں میں ایک چڑیل آگئی ہے اسی نے یہ کام کیا ہے کیونکہ لاش کے اوپر ناخن بھی مارے گئے تھے یہ کام کسی انسان کا نہیں ہو سکتا تھا اور ویسے بھی رات کے اندھیرے میں کوئی انسان اس قبرستان میں نہیں آتا تھا میں تو یہی پلا بڑھا تھا اس لئے مجھے ڈر نہیں لگتا تھا لیکن یہ قبرستان کافی پرانا تھا اور یہاں سے بہت سے بھوتوں کی کہانیاں بھی منسوب  تھی اسی لیے کسی عام انسان کا یہاں آنا ہی بہت مشکل تھا پھر قبر کھودنا اور لاش کے ساتھ یہ سب کچھ کرنا بہت دور کی بات تھی جن لوگوں کی میت تھی ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بیٹے کی تو کسی کے ساتھ بھی دشمنی نہیں تھی ایسی دشمنی تو ہر گز بھی نہیں تھی کہ مر جانے کے بعد بھی وہ اپنا غصہ نکالتا ہمارا بیٹا تو بہت شریف تھا پھر یہ سب کچھ کیا تھا کوئی بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔

یہ بات کے گاؤں میں چڑیل آگئی ہے اس کو آدھے لوگوں نے تسلیم کیا تھا لیکن آدھے لوگوں نے ابھی اس کو مانا نہیں تھا کہ یہ ایک ہوائی ہے جو صرف کسی دماغ سے نکلی اور زیادہ تر گاؤں کی عورتوں نے ادھر ادھر کر دی تھی لیکن تین چار دن کے بعد پھر ایک اور ایسا واقعہ ہوا یہ واقعہ ہوا کہ ایک اور جوان انسان اس دنیا سے چلا گیا اور پھر اس کو جب دفنا دیا گیا تو اگلے دن پھر سے اس کی لاش کے ساتھ بھی یہی سب کچھ کیا گیا تھا مجھے نہیں لگتا تھا کہ اللہ نہ کرے اب کسی تیسرے واقعے کی ضرورت تھی کیونکہ لوگوں نے اس بات پر یقین کر لیا تھا کہ اس گاؤں میں کوئی چڑیل آگئی ہے اور وہ یہ صرف مردوں کی لاشوں کے ساتھ ہی کر رہی ہے اور وہ بھی جو ان مردوں کی لاشوں کے ساتھ گاؤں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شام ہوتے ہی مردوں نے گھروں سے نکلنا بھی

چھوڑ دیا لیکن میں تو یہ سوچ رہا تھا کہ میں بھی تو مرد ہوں اور میری بھی تو ابھی کوئی اتنی عمر نہیں تھی میں تو اس کے قریب بیٹھا تھا سب سے آسان شکار سمجھ کے بھلا مجھ پر ہی حملہ کر دیتی تو پھر میں کیا کرتا اس سے زیادہ تو مجھے ہی ڈرنا چاہیے تھا لیکن میرے پاس اور کوئی ٹھکانہ نہیں تھا جانے کا کوئی مجھے اپنے گھر میں گھنے بھی نہیں دیتا میں پناھ لینے کے لیے کہاں جا سکتا تھا میری تو مجبوری

تھی اور اب مجھے بھی تھوڑا تھوڑا ڈر لگنے لگا تھا لیکن ابھی بھی مجھے اس بات کا یقین تھا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا ہے پر میرے بابا ہمیشہ سے کہا کرتے تھے کہ یہ جن بھوت چڑیل جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی یہ صرف کہانیوں میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ساری زندگی ہی قبرستان میں گزر گئی تھی اسی لیے وہ بہادر تھے اور کسی چیز سے ڈرتے نہیں تھے ہر رات انہوں نے قبرستان

میں گزاری قبرستان ہی تو ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں پر لوگ جانے سے ڈرتے ہیں جہاں پر لوگ کہانیاں بناتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہاں پر بھوت ہوتے ہیں جبکہ وہاں پر صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو بیچارے اس دنیا سے جاچکے ہوتے ہیں اور ان کی باقیات کو قبر میں دفنا دیا جاتا ہے لیکن اب میری بہادری بھی تھوڑی تھوڑی ڈگمگانے لگی تھی اگلے دن مجھے خبر ملی کہ کوئی اور

اس دنیا سے چلا گیا اور اس کے لیے قبر کھودنی ہے لیکن یہ کوئی بوڑھا انسان تھا اسی لیے میں نے زیادہ دھیان نہیں دیا میں نہیں جوان لڑکا اس دنیا سے چلا گیا ہے لیکن آج کے دن مجھے یہ ضرور دیکھنا تھا اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے میں نے جاگنے کی کو شش تو بہت کی لیکن مجھے بہت سخت نیند آگئی اور میں سکون سے سو گیا پر صبح آنکھ کھلی تو قبر چاہتا تھا کہ پھر سے مجھے یہ خبر ملی

بالکل صحیح سلامت پڑی تھی اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہوا تھا اس کا مطلب کہ یہ جو بھی چڑیل تھی اسے کسی بوڑھے کی قبر سے کوئی واسطہ نہیں تھا اس کا شکار صرف جوان مرد ہی تھے ایک دن میں دکان سے کوئی چیز لینے جا رہا تھا جب ایک آدمی سے ٹکرا گیا اس آدمی کے ہاتھوں میں کچھ سامان تھا جو زمین پر گر گیا جب میں نے وہ سامان اٹھا کر دیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ رو

رہا تھا لیکن میں اس کو جانتا تھا وہ تو محلے کا بڑا ہی مہذب شخص تھا میں نے کہا کہ میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں اب رو کیوں رہے میں اس نے کہا کہ نہیں بیٹا کوئی بات نہیں کوئی بات نہیں میں ٹھیک ہوں میں نہیں ہو رہا وہ یہ کہتا ہوں وہاں سے چلا گیا اور میں حیران رہ گیا کہ اس کو کیا ہوا ہے یہ واقعی رو رہا تھا پھر سوچا کہ نہ جانے کس کے کتنے مسائل میں سفید پوش لوگ تو کسی سے بیان بھی

نہیں کر سکتے دعا کر دی کے اللہ اسکے لیے آسانی کرے لیکن اس کی وہ بے بسی بھری آنکھیں دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے میرا دل بڑا ہی خراب ہو گیا تھا اور میں اسی کے بارے میں سوچتا رہا تھا کچھ دن اسی طرح گزر گئے آج کل شام ہوتے ہی گاؤں خالی ہو جاتا تھا سارے بچے جو ان سب اپنے اپنے گھروں میں چلے جاتے تھے ظاہر ہے کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا تھا سب کو ہی اپنی

جان پیاری تھی میں اپنے لئے کھانا لینے رات کو نکلتا تو سارا علاقہ خالی ہو تا تھا لوگوں کے کاروبار بھی خراب ہو رہے تھے میں کھانا لے کر واپس آجاتا تھا اور کھانا کھانے کے بعد سکون سے سو جاتا تھا میری یہی روٹین تھی اور میں اسی میں خوش تھا ایک ہفتے کے بعد پھر سے کچھ ایسا ہوا کہ ایک اور لڑکا اس دنیا سے چلا گیا جب مجھے بتایا گیا کہ کسی جوان کی میت ہے تو میں سمجھ گیا کہ اس

کے بعد کیا ہونے والا ہے پر کیا میں کچھ کر سکتا تھا کیا مجھے کچھ کرنا چاہیے کیونکہ اگر وہ چویل تھی تو پھر میں کیا کر سکتا تھا میں تو کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا میں نے قبر تو کھود دی تھی اور لوگوں نے میت بھی دفنا دی تھی سب لوگ یہی باتیں کر رہے تھے کہ پھر سے نہ کچھ ہو جائے مجھے کہا کہ تم نے ساری رات جاگ کر پہرا دینا ہے

مجھ پر سب لوگ اس طرح چلا رہے تھے جیسے یہ سب کچھ  میری وجہ سے ہو رہا ہے میری تو کوئی صورت نہیں تھی جاتی بھی رہا اور میں نے کسی کا سایہ بھی دیکھا یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی عورت کا ہی سایہ تھا لیکن اس کے بعد میں اس اس قدر ڈر گیا تھا کہ آگے بڑھنے کی یا اسے بلانے کی یا اسے کسی طرح روکنے کی میری کوئی ہمت نہیں ہوئی بلکہ یہ بات میں نے صبح نہیں بتائی گاؤں والوں کو

لیکن مجھے چکر بھی آگئے تھے ڈر کے مارے میں بے  ہوش ہو گیا تھا کیونکہ لوگوں کی بات بلکل ٹھیک تھی میں نے سایہ تو دیکھا ہی تھا اور وہ بھی کسی عورت کا جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے اور اس ٹائم یہاں پر کوئی لڑکی نہیں آسکتی تھی گاؤں کی لڑکیاں ویسے ہی کافی ڈرپوک ہوتی تھی وہ تو اپنے گھر سے باہر نکلتی تھی تو پھر اس قبرستان میں آدھی رات کو کیوں آتی تو پھر وہ کوئی چڑیل ہی ہو سکتی تھی صبح میں نے گاؤں والوں نہیں کو یہ بتا دیا کہ وہ چڑیل ہے اور میں نے کسی چوڑیل کو ہی دیکھا ہے اس کے بعد گاؤں والوں کو یقین ہو گیا اور مسجد میں اعلان تک

ہو گیا کہ اس گاؤں میں کوئی چڑیل آئی ہوئی ہے اپنی حفاظت کریں کلمہ درود پڑھیں گھر سے بلاوجہ نہ نکلے اور خاص کر مردوں کا کہا گیا کہ وہ گھر سے بالکل ہی نہ نکلے لوگوں نے اپنے گھر کو راشن سے بھر لیا تھا کہ بار بار باہر نہ جانا پڑے لیکن میرے پاس تو فریج بھی نہیں تھا جس میں ایک ساتھ ہی راشن لے کے رکھ سکتا ہے مجھے تو لگتا تھا کہ اگلا نمبر میرا کیونکہ میں سب سے زیادہ آسان شکار تھا بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا بہت ہی پریشان تھا سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں مجھے بابائی بہت یاد آرہی تھی بابا ہوتے تو وہ اس معاملے کو اچھی طرح سنبھال لیتے میرے بابا تو اتنے بہادر تھے کہ جیسے انھوں نے اس چڑیل کو دیکھا وہ ڈنڈالے کر اس کے پیچھے پڑ جاتے لیکن میں اتنا ڈر پوک تھا کہ اس کو دیکھتے ہی بے ہوش ہو گیا یہ تو شکر ہے کہ کسی نے مجھے بے ہوش ہوتے نہیں دیکھا نہیں تو میری کیا عزت رہ جانی تھی کچھ دن کے بعد پھر سے ایک شخص دنیا سے چلا گیا اور مجھے بلایا گیا لیکن میں نے بہانہ کر دیا کہ میں وہاں پہ ہوں ہی نہیں میں نے ایک مالی کو کہا کہ تم کہہ دینا کہ وہ تو اپنے دوسرے گاؤں چلا گیا کیونکہ میں بہت زیادہ ڈر گیا تھا اسی لیے میں نے یہ بات کی تھی تھوڑی دیر اسی طرح اپنے کمرے میں چھپ کے بیٹھا رہا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ جب اندھیرا ہو جائے گا تو ویسے بھی گھر سے کوئی باہر نہیں نکلے تو پھر میں آرام سے باہر آسکتا ہوں اپنے لیے کھانا لینے گیا ابھی تو یہ سوچ رہا تھا کہ کیسے دن آگئے ہیں مجھ پہ کے اپنے ہی گاؤں میں مجھے چھپنا پڑ رہا ہے لیکن آج رات کو میں نے ایسا منظر دیکھا کہ میں حیران رہ گیا میں نے دیکھا کہ کوئی لڑکی کا سایہ قبر کی طرف آیا ہے لیکن اچانک سے وہ سایہ زمین پر گر گیا اور اس کے منہ سے آہ نکل گئی میرے بابا کہتے تھے کہ جن بھوتوں کو کبھی بھی چھوٹ نہیں لگتی ہے لیکن اس لڑکی کی آہ مجھے سنائی دی تھی اس کا مطلب یہ چڑیل نہیں تھی میں نے اس طرف لائٹ ماری میں نے کہا کون ہو تم اور اس نے بھی میری طرف دیکھا تو میں حیران رہ گیا کیونکہ وہ کوئی لڑکی ہی تھی جو صرف 16سال کی ہو گئی اور قبر کھودنے کی تیاری میں تھی کہ میں نے اسے پکڑ لیا اور میں نے کہا کون ہو تم یہاں کیا کر رہی ہو جب میں اسے روشنی میں لے کر آیا تو میں حیران رہ گیا اس کے چہرے پر بہت پرانے اور بڑے بڑے زخموں کے نشان تھے وہ بری طرح رونے لگی ۔

میں نے کہا کون ہوں ہو تم یہاں کیا کر رہی ہو اس قبر سے تمہارا کیا تعلق  ہے کیا تم نے ہی وہ سب کچھ کیا ہے جب اس نے ہاں میں سر ہلایا تو میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی ہے یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ وہ کوئی چڑیل نہیں تھی لیکن لڑکی ہو کر وہ یہ سب کیوں کر رہی تھی یہ نہیں پتا تھا میں نے اس سے کہا کہ تم میرے کوارٹر میں آ جاؤ اور مجھے پوری بات بتاؤ وہ اندر آنے سے گھبرانے لگی میں نے کہا دیکھو تم میری چھوٹی بہن جیسی ہو آجاؤ اور بس مجھے بتاؤ تم یہ سب کیوں کرتی ہو اندر آئی اور کھانے کی طرف دیکھنے لگی اسے بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی میں نے اسے اپنے حصے کا کھانا کھلا دیا اب اسے میرے اوپر تھوڑا سا بھروسہ ہو گیا کہ یہ واقعی اچھا انسان ہے میں نے کہا کہ بتاؤ کیا بات ہے تمہارے ساتھ کیا ہوا تو اس نے کہا کہ میں انور علی کی بیٹی ہوں یہ وہی انور تھا جو کسی سکول میں ٹیچر ہے اس نے کہا کہ جی یہ اسی انسان کی بات کر رہی تھی جس کو میں نے سڑک پر دیکھا تھا جو بہت زیادہ دکھی تھا اور جس کی شکل ابھی تک میری آنکھوں میں آرہی تھی اس نے کہا کہ جن چار لوگوں کو تم نے دفنایا وہ ملک کے بیٹے کے دوست تھے اور ملک کا بیٹا مجھے پسند کرتا تھا آتے جاتے میرا راستہ روکتا تھا اس نے کئی دفعہ پیغام بھی بھیجا تھا لیکن جب مجھے وہ پسند ہی نہیں تھا تو میں اس کا کیا جواب دیتی اس لیے میں نے انکار کر دیا مجھے نہیں پتا تھا کہ میرے لیے وہ اس قدر پاگل ہو جائے گا کیونکہ اس کے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں تھی وہ یہاں پر زیادہ وقت رہتا بھی نہیں ہے کبھی کبھی آتا تھا جب آتا ہے اس کا یہی کام ہوتے ہیں کوئی بھی اسے پسند نہیں کرتا ہے اس نے اپنے انہیں 4 دوستوں کے ساتھ مل کر مجھ اٹھ والیا اور سب نے مل کر میری عزت لوٹ لی اور مجھے جان سے مارنے کی کوشش بھی کی ان کو لگا کہ میں مر گئی ہوں لیکن میں بچ گئی تھی یہ مجھے اس قبرستان میں پھینک گئے تھے میرے اندر اتنی زندگی باقی نہیں تھی لیکن بدلے کی آگ ضرور تھی اسی لیے شاید میری جان بچ گئی اور آہستہ آہستہ وہ چاروں خود ہی مرنے لگے نہ جانے ان کو کس نے مار دیا یہ مجھے نہیں پتا لیکن میرا ابدلہ کسی اور نے لیا اسی لیے میرے اندر بھی آگ بھری ہوئی تھی جس کو  ختم کرنے کے لیے میں اپنا غصہ ان کی لاش پر نکال دیتی تھی میں اس بات پر حیران رہ گیا میں نے کہا کہ انہوں نے تمہارے ساتھ برا کیا لیکن اگر تم نے ان کو نہیں مارا تو پھر کس نے مارا اس نے۔ کہا کہ یہ بات میں بھی نہیں جانتی میں ویسے بھی میں کیا کر سکتی میں کیا کر لیتی میرے اندر اتنی طاقت نہیں تھی مجھے پتا تھا کہ میں نہیں کر پاؤں گی لیکن جس نے بھی یہ کیا ہے اس نے میرا بہت بھلا کیا اور لوگوں کو مار کے میر ابد لا پورا کر دیا ہے اب آخری شکار رہ گئی اور مجھے لگتا ہے کہ جس طرح سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ بھی ضرور مرجائے گا اس نے کہا کہ میرے بابا یہ جانتے ہیں کہ مر گئی ہوں اس لئے آج کل بہت اداس ہے میں ان کے سامنے نہیں جانا چاہتی جب تک کہ میر ابدلہ پورا نہ ہو جائے۔

تبھی وہ انسان اتنا زیادہ پریشان تھا میں نے اس سے کہا کہ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں اس نے کہا کہ بس یہ ہی کرو کہ چڑیل کی اس کہانی کو پھیلاتے رہو تا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ کام کسی چڑیل کا ہے تاکہ مجھ پر اس انسان پر کوئی بات نہ آئے جو میری مدد کر رہا ہے اور یہ سب کچھ کر رہا ہے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگلے دن نے شور ڈال دیا کہ انہوں نے چڑیل کو دیکھا اس دفعہ میں لوگوں کو اس کا حلیہ بھی بتایا کہ اس کے لمبے لمبے ناخن  تھے بڑا قد تھا اس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے اور جب میں گیا تو اس نے مجھے ایسا دھکا دیا کہ میں اُڑ سے زمین پر گر گیا میری کہانی سب عورتیں ایسے سن رہی تھی کہ جیسے کوئی بہت بڑی داستان سنار رہا تھا لیکن ابھی بھی میں یہ سن کر حیران تھا کہ وہ انسان کون ہے جو اس لڑکی کی مدد کر رہا تھا کیونکہ واقعی ان لوگوں کو مارتے  اس لڑکی کے بس کی بات نہیں تھی مجھے گاؤں میں ایک  شخص نظر آیا جو بہت ہی زیادہ طاقتور اور شکل سے امیر اور خوبصورت لگ رہا تھا اس کو میں نے اس گاؤں میں کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا وہ اجنبی تھا اور جس دن میں نے دیکھا اسی دن ملک کے بیٹے کی جان چلی گئی اور وہ اس دنیا سے چلا گیا اس لڑکی نے اپنا نام صائمہ بتایا تھا اس کا بدلہ پورا ہو گیا لیکن یہ آدمی کون تھا یہ بھی کسی کو نہیں پتا تھا وہ بھی وہاں سے غائب ہو گیا مجھ کو بہت باتیں  سنائی گئی کہ تم کچھ نہیں کر سکتے میں نے کہا کہ میں بھی آپ لوگوں کی طرح انسان ہوں اور گورکن بھی انسان ہوتا ہے میں اس سے لڑ نہیں سکتا اگر میں قبرستان میں رہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میرے اندر کوئی طاقت ہے میں نے ان لوگوں کو یہ کہہ دیا کہ اب وہ چڑیل یہاں پر نہیں آئے گی میں  نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ میرابدلہ پورا ہو گیا وہاں سے چلی گئی ہے کیونکہ مجھے لوگوں کے دماغ سے ڈر نکالنا بھی تھا اس کے بعد واقعی ایسا کچھ نہیں ہوا کافی وقت گزر گیا لیکن وہ انسان کون تھا جس نے ان سب کو مارا تھا جب کہ وہ اس لڑکی کو جانتا بھی نہیں تھا اس لڑکی کا باپ بھی اس گاؤں سے چلا گیا تھا لڑکی نے کہا تھا کہ جب میں اپنا بدلہ لے لوں گی تو میں اپنے باپ کو اپنے بارے میں بتا دوں گی۔

اور اس کا اپنے باپ کے علاوہ اس دنیامیں کوئی بھی نہیں اسی لیے شاید وہ لوگ یہاں سے چلے گئے تھے کچھ عرصہ کے بعد میں نے اس کے باپ اپنے گھر کے باہر کھڑے دیکھا میں نے کہا کہ آپ یہاں پر تو لڑکی اُن کے ساتھ نہیں تھی اس نے کہا کہ تمہیں سب کچھ پتہ ہے نا میں نے کہا کہ جی مجھے پتا ہے اس نے کہا کہ میری بیٹی نے تمہیں سب کچھ بتایا تھا اور اسی نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے اس کی مدد بھی کی تھی میں چاہتاہوں کہ تم میری بیٹی کے ساتھ شادی کر لو اور تم بھی میرے ساتھ چلو میں نے کہا کیا مطلب ہے اس نے کہا کہ اگر تم میری بیٹی سے شادی کرنا چاہتے ہو تو کر لو کیونکہ تم وہ پہلے انسان ہوں جس کو اس کے بارے میں سب کچھ پتہ ہے میں نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں مردوں میں سے نہیں اگر آپ کو منظور ہے تو مجھے واقعی کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ان سب کو مارا کس نے تو اس کے باپ نے مجھے ایسی بات بتائی کہ میں حیران رہ گیا اس نے کہا کہ میں نے ایک ایسے انسان کو پیسے دیے تھے جس کا کام ہی یہی تھا یہ بات میری بیٹی کو نہیں پتا ہے دراصل وہ کرائے کا غنڈا تھا میں نے اسے اپنا سب کچھ بیچ کے اتنے پیسے دیے کہ وہ ان 5 لوگوں کی جان لے سکے اور اس کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں تھا میں نے اپنی بیٹی کیعزت لوٹنے والوں سے بدلہ لیا ہے لیکن میری بیٹی کو یہ بات بتانی نہیں ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ کوئی اس کے ساتھ شادی کر لی کیونکہ اگر کسی کو یہ پتہ چل گیا اور میں پولیس کے ہاتھ لگ گیا اور جیل میں چلا گیا تو میری بیٹی اکیلی رہ گئی میں نے کہا کیا ہے ایسا کچھ نہیں ہو گا اور میں ہمیشہ اس کا خیال رکھوں گا اس نے اس اسی لڑکی کے ساتھ میرا نکاح کر وا دیا اور میں بھی وہاں سے چلا گیا اب میں ایک کرانے کی دکان پر کام کرتا ہوں جو میں نے خود بنا لی ہے اور صائمہ میری بیوی ہے مجھے واقعی اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ عورت کی عزت ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتا ہے جب لوگ کہتے ہیں کہ فلاں عورت کی عزت لٹ گئی ہے کیونکہ اس کے ساتھ غلط کاری ہوئی ہے تو عزت اس کی نہیں بلکہ اس انسان کی جاتی ہے جس نے غلطی کی ہے

کیونکہ غلط اس نے کیا ہوتا ہے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ جس کے ساتھ ظلم ہوا ہے اس کو کیوں مجرم بنا دیا جاتا ہے بہر حال میری زندگی کا رخ بدل گیا ہے گاؤں والے اس بات کو شاید بھول گئے ہونگے یا صرف کہانی سناتے ہو گے کہ اس گاؤں میں ایک چڑیل آئی تھی جس نے 5 جو ان لوگوں کو مار کے ان کی لاشوں کو برباد کر دیا تھا لیکن دراصل ان کے ساتھ جو ہوا بالکل

ٹھیک ہوں انہوں نے کسی کی بیٹی کی زندگی برباد کی تھی اور ایسے لوگوں کے ساتھ اس سے بھی برا ہونا چاہیے میں سلام کرتا ہوں اس آدمی کو جس نے اپنی بیٹی کی عزت لوٹنے والوں سے بدلہ لیا لیکن کسی کو یہ بات بتائی نہیں کہ کسی کی بیٹی کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے اور ہر غریب انسان ہر بارڈر پوک نہیں ہوتا ہے پر میں نہیں جانتا تھا کہ میں اس کہانی کا حصہ تھا یہ مجھے معلوم ہی

نہیں تھا لیکن میری زندگی پوری طرح سے بدل گئی ہے اور اب میں بہت خوش ہوں میں ساری زندگی قبر نہیں کھود نا چاہتا تھا اب میں ایک دکاندار ہوں میری ایک بیوی ہے ایک بچہ ہے اور میں ایک اچھی زندگی گزار رہا ہوں اس سے زیادہ مجھے اور کچھ چاہیے بھی نہیں چاہیے اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں اور اپنے بابا کو یاد کرتا ہوں آخری وقت میں انھوں نے مجھے بہت دعائیں دی تھی ان کی دعائیں ہی مجھے لگ گئی اور اب میری زندگی بہت اچھی ہے

Total Pageviews