July 03, 2019

اپنے نام کا اسم اعظم معلوم کیجئے


اپنے نام کا اسم اعظم معلوم کیجئے.
(اس مضمون میں نام کے اعداد نکالنے کا طریقہ مفصل اور مثالوں کے ساتھ بتادیا گیا ہے۔ اگر آپ سمجھ کر خود اپنا اسم اعظم نکال سکتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے ورنہ کسی علم جفر کے ماہر یا عالم کی مدد حاصل کیجئے۔ عامل و جفار حضرات پہلی بات تو یہ کہ اس علم کو عام نہیں کرتے اور اسی نام کےعدد اور اسم اعظم بتانے کی بھاری فیس وصول کرتے ہیں۔
سیکھنے کی کوشش کیجئے۔ معمولہ شد بد رکھنے والا فرد بھی اس مضمون کو پڑھ کر اپنے نام کا اسم اعظم حاصل کرسکتا ہے۔ شکریہ)
ڈاکٹر غلام جیلانی برق اپنی کتاب "من کی دنیا”میں اپنی زندگی کا ایک واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ میں 40 سال تک ایک ناکام زندگی گزارتے گزاتے سخت پریشان تها کہ ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی،انهوں پوچها کہ تم کب پیدا ہوئے تهے ؟جب انهیں معلوم ہوا کہ مییں ہفتے کے روز پیدا ہوا تها تو بولے کہ تم پر وقت کی سختی ہے،پهر مشورہ دیا کہ اپنے نام کے اعداد معلوم کرو اور اللہ کے ایسے نام منتخب کرو جن کے اعداد تمهارے نام کے اعداد کے برابر ہوں،میں نے اس مشورے پر عمل کیا اور پهر میرے حالات بدلنے لگے اللہ نے بہت نوازا.
واضح رہے کہ وہ بعد میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہ کر ریٹائر ہوئے تهے. اب یہ نام کے اعداد کے مطابق اللہ تعالی کے اسما کیسے حاصل کئے جائیں؟ ‎ کسی نام کا اسم اعظم کیسے بنتا ہے؟
‎ اللہ کریم نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ مجھے میرے پسندیدہ ناموں سے پکارو میں تمہاری پکار سنتا ہوں۔ اگر کوئی اسمائے الٰہی کو اپنے نام کے اعداد کے موافق کر کے پڑھے تو اس کا ایک خاص اثر پڑھنے والے کی ذات پر پڑتا ہے اور ایسا ناممکن ہے کہ اس کا اثر خالی جائے یہی تو اسلام کی حقانیت ہے کہ یہ مذہب زندہ و جاوید اور جاری و ساری ہے۔ اس کی کوئی بھی چیز عقائد ، اعمال ، معاملات تاثیر سے خالی نہیں ہیں۔ جس کے دل اور روح کو یہ تاثیر چھو جائے وہی جانتا ہے کہ اس پر کیا گزری
‎ الٰہی غم عشق کیا بلا ہے ہر شخص کا تجربہ نیا ہے
‎کائنات میں دو ہی قوتیں سرگرم عمل ہیں ایک رد کی قوت یعنی Reject) اور دوسری قبول کی طاقت یعنی ( accept)۔ کائنات میں بہت ساری اشیاء ، عناصر، طبیعتیں اور معاملات وغیرہ ایکدوسرے کی ضد ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو (reject) کرتے ہیں۔ ایسی متضاد قوتوں کا ملاپ بسا اوقات خطرناک نتائج پیدا کرتا ہے۔ آپ کو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو یہ شکوہ کرتے نظر آئیں گے کہ میں نے فلاں وظیفہ پڑھا لیکن مجھے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بعض لوگ تو وظائف پڑھنے پر الٹا نقصان کی شکایت کرتے ملیںگے۔ اصل میں یہ حضرات کوئی ایسا وظیفہ منتخب کر بیٹھتے ہیں جو ان کی کیمسٹری کی ضد ہوتا ہے۔ اس طرح دو متضاد قوتوں کا تصادم ہو جاتا ہے جس میں بے چارے وظیفہ پڑھنے والے لا علمی کی وجہ سے پس جاتے ہیں۔ کائناتی نظام میں توازن کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایٹم سے لیکر نظام شمسی تک اور نظام شمسی سے لیکر کہکشاﺅں تک ساری کائنات اللہ کے قائم کردہ توازن پر کھڑی ہے اور توازن کا نام ہی زندگی ہے۔ اپنے ذاتی نام کا اسم اعظم چونکہ ایک متوازن وظیفہ ہے اس لیے یہ پڑھنے والے کے تمام معاملات کو متوازن کرکے اسے ایک کامیاب اور مطمئن انسان بنا دیتا ہے۔
‎ جس نام کا اسم اعظم نکالنا مقصود ہو اس کے اعداد بحساب ابجد نکالیں۔ اعداد نکالنے کا مفصل طریقہ آگے درج ہے۔ علماءنے ہر حرف کی ایک عددی قیمت مقرر کر رکھی ہے جو صدیوں سے رائج اور ہر میزان پر پوری اترتی ہے۔ نام میں جتنے حروف تہجی ہوں ان سب کے اعداد کو آپس میں جمع کرلیں جو بھی مجموعہ بر آمد ہو اللہ کے جمالی ناموں میں سے دیکھیں کہ کسی اسمائے الٰہی کے اعداد کا مجموعہ اتنا بنتا ہے جتنا نام کے اعداد کا مجموعہ نکلا ہے۔ اگر ایک اسم الٰہی مل جائے تو کیا کہنے یہی اس نام کے حامل کیلئے اسم اعظم ہے۔ اگر نہیں تو اللہ کے جمالی ناموں میں سے دو ایسے نام ڈھونڈیں جن کے اعداد کا مجموعہ نام کے اعداد کے مطابق ہو۔ ان دو اسمائے الٰہی کو ملا کر پڑھنا اس شخص کیلئے اسم اعظم بن جائے گا۔
‎ اس کا آسان سا کلیہ یہ ہے کہ نام کے اعداد کو سامنے رکھیں اور اللہ کے جمالی ناموں میں سے کوئی ایسا نام لیں جس کے اعداد نام کے اعداد سے کم ہوں پھر ان کم اعداد کو نام کے اعداد میں سے کم کر دیں جو اعداد باقی بچیں پھر اس کے مطابق اللہ کا جمالی نام ڈھونڈیں اگر نہ ملے تو باقی بچنے والے اعداد میں سے پھر کم اعداد نفی کردیں اور تیری مرتبہ باقی بچنے والی میزان کے مطابق اللہ کا نام تلاش کریں اس طرح متعدد مرتبہ جوڑنے توڑنے سے امید ہے کہ آپ نام کے اعداد کی میزان اللہ کے ناموں سے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے بس یہی اسماءاس شخص کیلئے اسم اعظم ہو نگے۔ یہ جتنے بھی اسمائے الٰہی ہوں ان کو ترتیب دیں لیں ان سب کو ملا کر پڑھنا ایک مرتبہ شمار ہوگا۔ اب نام کے اعداد میں اسمائے الٰہی کے اعداد ملا دیں یعنی نام کے اعدا کو دوگنا کردیں یہ وظیفے کی پڑھائی کی تعداد نکل آئے گی۔ ‎مثال۔۔ محمد ارشد کے نام کا اسم اعظم ‎م ح م د ا ر ش د 597=4+300+200+1+4+40+8+40
‎اس طرح ہمارے پاس محمد ارشد کے اعداد آ گئے جو کہ597 ہیں اب ہم اللہ کے جمالی ناموں میں سے دیکھیں گے کہ کس اسم پاک کے اعداد597بنتے ہیں چونکہ ایسا کوئی اسم اعظم نہیں جس کے اعداد597بنتے ہوں اس لیے ہم اسمائے جمالی میں سے ایسا نام منتخب کرینںگے جس کے عدد597سے کم بنتے ہوں اسے محمد ارشد کے اعداد سے منفی کردیں گے مثلاً فتاح کے اعداد489بنتے ہیں ان اعداد کو محمد ارشد کے اعداد597سے منفی کیا تو باقی 108بچ گئے یہ اعداد اللہ کے نام پاک حق کے بنتے ہیں۔ 108اور489کو آپس میں جمع کردیں تو محمد ارشد کے نام کے اعداد597کی میزان پوری ہو جاتی ہے اب ہمیں محمد ارشد کے نام کا اسم اعظم معلوم ہوگیا جو کہ یا حق یا فتاح ہے۔ چونکہ محمد ارشد کے نام کا پہلا حرف میم آتشی ہے اور فتاح کا پہلا حرف ف بھی آتشی ہے لہٰذا فتاح کو پہلے کریں گے اور حق کو بعد میں یوں یہ اسم اعظم اس طرح پڑھا جائے گا یا فتاح یا حق۔ ‎دوسری مثال۔۔ بابر شاہین ۔۔۔ ب ا ب ر ش ا ہ ی ن 571=50+10+5+1+300+200+2+1+2
‎اب چونکہ571اللہ کے کسی جمالی نام کے عدد نہیں بنتے اس لیے اس سے کم اعداد اس میں سے نفی کریں گے فتاح کے اعداد489کو571میں سے نفی کیا تو باقی بچے82چونکہیہ بھی کسی اللہ کے نام کے اعداد نہیں بنتے اس لیے اس میں سے 68نفی کیے جو اللہ کے نام حکم کے اعداد ہیں باقی بچے 14یہ وہاب کے عدد ہیں اس طرح بابر شاہین کے نام کا اسم اعظم بن گیا یا وہاب یا فتاح یا حکم ۔ان تینوں اسمائے پاک کے اعداد کو اگر جمع کیا جائے تو بابر شاہین کے نام کے اعداد571کا مجموعہ بر آمد ہوتا ہے
‎ اسم اعظم سے متعلق ایک اور اصول
‎جس نام کا اسم اعظم نکالنا ہو اسے دیکھیں کہ اس کا پہلا حرف کون سے عنصر سے متعلق ہے پھراللہ کے ناموں کو اس طرح ترتیب دیں کہ پہلے وہ اسم پاک آئے جس کا پہلا حرف نام کے پہلے حرف کے مطابق ہو یا موافق ہو مخالف نہ ہو ذیل میں حروف اور ان کے عناصر کی جدول اور عناصر کی دوستی دشمنی کا حال تحریر کیا جاتا ہے۔
‎آتشی حروف ا ہ ط م ف ش ذ ۔۔۔ بادی حروف ب و ی ن ص ت ض ۔۔۔ ‎آبی حروف ج ز ک س ق ث ظ ۔۔۔ ‎خاکی حروف د ح ل ع ر خ غ ۔۔۔ ‎ عناصر کی دوستی اور دشمنی ۔۔۔عنصر دوست موافق دشمن۔۔۔ ‎ آتش ہوا خاک پانی۔۔۔ ہوا آتش پانی خاک ۔۔۔ پانی خاک ہوا آتش ۔۔۔ خاک پانی آتش ہوا
‎اس قاعدے کو مندرجہ ذیل مثال سے سمجھیں طارق عزیز کے نام کا اسم اعظم
‎ ط ا ر ق ع ز ی ز 404=7+10+7+70+100+200+1+9 چونکہ 404کسی اللہ کے نام کے عدد نہیں بنتے اس لیے ان اعداد میں سے اللہ کے نام کریم کے عدد نفی کیے جو کہ270ہیں باقی بچے 134یہ اللہ کے پاک نام صمد کے عدد ہیں لہٰذا اسم اعظم بنا یا کریم یا صمد چونکہ کریم کا پہلا حرف آبی ہے اور طارق کا پہلا حرف ط آتشی ہے پانی اور آگ کی مخالفت ضرب المثل ہے چونکہ صمد کا پہلا حرف بادی ہے اور ہوا اور آگ کی آپس میں دوستی ہے آگ ہوا سے گلے ملتے ہی یوں بھڑک اٹھتی ہے جیسے بچھڑے ہوئے ساتھی ملتے ہوں اس لیے یا صمد کو پہلے کریں گے اور یا کریم کو بعد میں اس طرح طارق عزیز کے نام کا اسم اعظم متوازن ہو کر یوں ہو جائے گا یا صمد یا کریم۔
‎ حروف تہجی کے اعداد بلحاظ ابجد ۔۔۔ ا ب ج د ہ و ز ح 1 2 3 4 5 6 7 8
‎ ط ی ک ل م ن س ‎ 9 10 20 30 40 50 60 ع ف ص ق ر ش ت 70 80 90 100 200 300 400 ‎ ث خ ذ ض ظ غ 500 600 700 800 900 1000 نوٹ: کسی بھی ورد یا وظیفے کو موثر ہونے کی پہلی شرط پانچ وقت نماز کی پابندی تلاوت قران اور حتی الامکان گناہوں سے اجتناب و رزق حلال ہے۔ ۔۔۔ ‎کتاب”نام کا اسم اعظم“ ‎مصنف۔طارق عزیز واقف
‎اسمائے جمالی معہ خواص ۔۔۔ ‎اسماءالحسنٰی اعداد معانی خواص ۔۔۔ ‎یا رحمٰن 66 بلا مزد رحمت کرنے والا رحمت ، تسخیر فتوحات ۔۔۔ یا رزاق 308 رزق دینے والا برائے توسیع رزق ۔۔۔ یا لطیف 129 پاکیزہ اور مہربان برائے دفع شدت و سختی ۔۔۔ یا حکیم 78 صاحب حکمت برائے تنگی معیشت ادائے قرض و غربت ۔۔۔ یا معطی 129 عطا کرنے والا برائے حصول مراد ۔۔۔ یا ماجد 48 بزرگی عطا کرنے والا برائے نور باطن ۔۔۔۔ ‎یا نور 256 روشن کرنے والا برائے نور قلب ۔۔۔۔ یا احد 13 خدائی میں تنہا برائے ظہور ملائکہ۔۔۔ یا رحیم 258 رحمت سے اجر دینے والا برائے فلاح دارین ۔۔۔ یا فتاح 489 ہر کار بستہ کھولنے والا برائے انشراح قلب و فتوح کارہا ‎یا غفور 1286 بخشنے والا برائے عفو گناہاںو دفع وسواس
‎ یا حلیم 88 بردبار برائے دفع غضب و جور وتسخیر خلق یا نافع 201 نفع پہنچانے والا برائے حصول منفعت یا صمد 134 پاک بے نیاز برائے وسعت رزق یا ہادی 20 راہ دکھانے والا برائے حصول حکمت

یا نعیم 170 نعمت دینے والا برائے حصول دولت ۔ یا سلام 131 سلامت رکھنے والا برائے شفائے مریض و سلامتی۔ یا باری 213 پیدا کرنے والا برا ئے سکون در قبر و طلب حقیقت
‎یا شکور 526 نیکوں کا شکر قبول کرنے والا برائے شفائے امراض ۔ ‎ یا ودود 20 نیکوں کا دوست برائے الفت و محبت ۔‎ یا رشید 514 رہنما یا عالم برائے فتوح امور کلیةً ۔ یا بر 202 نیکو کار برائے نجات آفات و حصول مراد ہر قسم ۔ یا باقی 113 ہمیشہ رہنے والا برائے بقائے ملکِ و محبوبیت۔یا ضار 1001 زیاں کرنے والا برائے دفع ضرر دشمن۔یا مہیمن 145 جمیع نہاں و آشکار کا شاہد برائے اطلاع و اسرار حقائق۔ ‎ یا باسط ` 72 رزق کھولنے والا برائے وسعت رزق ۔ ‎یا کریم 270 کرم کرنے والا برائے بزرگی و وسعت رزق ۔ ‎ یا ولی 46 نیکوں کا دوست برائے فتوح غیبی ۔ یا حی 18 ہمیشہ زندہ رہنے والا برائے حصول شفا و تحفظ مرگ مفاجات
‎ یا عفو 156 گناہ معاف کرنے والا برائے عفو گناہاں ۔ یا واحد ` 14 یکتا وتنہا برائے مہمات و شفائے بیمار ۔ یا وہاب 14 بے غرض بخشنے والا برائے توسیع رزق و حصول مقاصد ۔ ‎یا معز 117 عزت دینے والا برائے عزت و ہیبت ۔ ‎یا واسع 137 وسعت دینے والا برائے وسعت رزق و فتوح کارہا ۔ ‎یا غنی 1060بے پرواہ برائے حصول تمنا ۔ ‎ یا قیوم 156 ہمیشہ قائم برائے قبولیت دعا و حصول راحت ۔ ‎ یارﺅف 286 درگزر کرنے والا برائے لطف و مہربانی ۔ ‎یا وکیل 66 کام کرنے والا نگہبان مقاصد بزرگ و کفایت دشمناں ۔ ‎یا مومن 136 بے خوف کرنے والا برائے تحفط اشرار جن و انس ۔ ‎یا غفار 1281 بخشنے والا برائے عفو گناہاںو مغفرت ۔ یا حفیظ 998 نگہبان برائے تحفظ آسیب جن و دشمناں ۔ ‎یا کفیل 140 ۔ ‎یا محی 58 زندہ کرنے والا برائے توہم از سلطان و دفع ہموم ۔ ‎ یا تواب 409 توبہ قبول کرنےوالا برائے عفو گناہاں و تحفظ بلاہا ۔ یا صبور 298 عذاب نازل کرنے میں 
برد بار برائے حصول صبر.
بشکریہ: ‎کتاب ”نام کا اسم اعظم“ ‎مصنف۔۔طارق عزیز
نوٹ:- اگر کسی کو پھر بھی مشکل پیش آرہی ہے اپنے نام کا عدد نکالتے ہوئے کسی دقت یا رہنمائی کی ضروت ہو تو اپنا مکمل نام میسج کردیں پوری کوشش ہوگی کے اللہ کی رضا کے لئے جلد از جلد آپ کی رہنمائی کی جاسکے .
جزاک اللہ

GUEST FROM ALLAH


#کبھی_کبھی_لیکچر_نہ_دیا_کریں_بلکہ

کچھ دن پہلے میں ایک شاپنگ مال کے باہر کھڑا اپنی بیگم کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک بہت خوش پوش اور شستہ زبان بولنے والے صاحب نے میری گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا۔ میں نے شیشہ نیچے کیا اور ان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ انھوں نے بہت محبت سے مجھ سے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کروایا، اور کہا کہ 
محترم ...آئی ایم طیب.. کیا ہم آپ سے بات کر سکتے ہیں؟
میں گاڑی سے اترا اور ان کی جانب متوجہ ہوا اور کہا "جی فرمائیے". طیب خان ہے میرا نام، میں 78 سال کا ہوں۔میری کچھ خواہشیں ہیں۔ کیا آپ پوری کر دیں گے؟ میں نے بھی کچھ ویسا ہی سوچا جو آپ سوچ رہے ہیں کہ ابھی یہ بابا مانگنا شروع ہو جائے گا رونا دھونا شروع ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ خیر میں بھی ان کو لیکچر دینے کے موڈ میں تھا کہ اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔ مگر میں نے سوچا کہ یہ جو بھی ہے۔ سچا ہے یا مکار، اسے میرے پاس اللہ پاک نے ہی بھیجا ہے۔ تو کیوں نہ پہلے اس سے اس کی بات سن لوں۔ میں نے کہا جی میں کوشش کروں گا، آپ حکم فرمائیں۔ ان کے چہرے پر ایک حیرت اور خوشی کے ملےجلے اثرات ابھرے۔ انھوں نے کہا، کیا واقعی آپ کوشش کریں گے؟
میں نے انھیں یقین دلایا اور تحمل سے ان کی بات سننے کے لیے ان کی جانب متوجہ ہوا۔ تو وہ بولے بیٹا میں ایک ٹیکسٹائل مل کا مالک تھا۔ پچھلے سیاسی دور میں بھتہ نہ دینے پر مجھے قتل کی دھمکیاں ملیں تو سب کچھ چھوڑ کر بنگلہ دیش چلا گیا اور وہاں گارمنٹس فیکٹری لگا لی۔ کچھ عرصہ تو سسٹم ٹھیک چلا مگر پھر مجھے میرے بنگالی پارٹنر نے دھوکہ دیا اور مجھے نہ صرف وہاں سے بھگا دیا بلکہ میرا سب کچھ کھا گیا۔ پاکستان واپس آیا تو میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا مل بند پڑی تھی اور سرمایہ کاری کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔
 بڑے بیٹے نے مل اپنے نام کروائی اور مجھے گھر سے نکال دیا۔ مل کی جگہ اس نے کالونی بنا دی۔ میں کچھ عرصہ تو اپنی بہن کے ساتھ رہا مگر ان کے شوہر کو اچھا نہیں لگتا تھا اس لیے میں وہاں سے بھی نکل آیا۔ بیٹے سے ملا مگر اس نے ذلیل کرکے نکال دیا۔ پھر میں ایک مسجد میں گیا اور وہاں کے امام صاحب سے مسجد کی خدمت اور بچوں کو پڑھانے کی درخواست کی اور رہنے کے لیے جگہ مانگی تو وہ مان گئے۔ چار سال سے وہیں ہوں۔ 
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بن ٹھن کر نکلوں اور کافی پی لوں۔ میں دن میں تین کپ کافی پیتا تھا۔ کافی کا مجھے جنون تھا۔ اب جب بھی کبھی ایک دو ماہ بعد دل کرتا ہے تو اپنی واحد پوشاک یہ کپڑے پہن کر یہاں آتا ہوں اور کسی ایک شخص کو جو مجھے امیر لیکن اللہ والا دکھتا ہے. میں کافی پلانے کی درخواست کرتا ہوں۔ مان جائے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور نہ مانے تو واپس چلا جاتا ہوں۔ تو بیٹا کیا آپ مجھے کافی پلا سکتے ہیں؟
میں زمین سے جیسے چپک کر رہ گیا تھا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ آنکھیں نم تھیں۔ میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور بیگم کو فون کیا کہ وہ میرے فون پر ہی لوٹے کیونکہ میں ایک دوست کے ساتھ کافی پینے جا رہا ہوں۔ پاس ہی گلوریا جینز کے کیفے پر لے جا کر میں نے طیب صاحب کو ان کی پسند کی کافی پلائ اور کیک کھلایا۔ انھوں نے دو تین مگ پیئے۔ ہم نے مزید باتیں نہیں کی اور خاموشی سے کافی پینے کے بعد باہر نکل آئے۔ میں نے ان کو مسجد تک چھوڑنے اور ان کی کچھ مالی امداد کرنے کی اجازت چاہی تو بولے بیٹا اب اور کوئی خواہش باقی نہیں رہی۔ اللہ پاک آپ کو بہت زیادہ عطا فرمائے آمین۔ مجھ سے مصافحہ کیا اور چلے گئے۔ 

میں کھڑا ان کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور وہ بغیر پیچھے مڑے بہت شان سے چلتے ہوئے میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔ کسی کی خواہش کی تکمیل کے لیے سوچا نہ کریں اور لیکچر نہ دیا کریں۔ یہ جو آپ کے در پر دستک دیتے ہیں اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ ان کی قدر کیا کریں۔ کیونکہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔۔


 مجھے یہ تحریر متاثر کن لگی اسی لئے کاپی کر لی۔  شاید کسی دوست کو استفادہ ہو جائے۔ اور اللہ کے مہمان کی خدمت کا موقع مل جائے۔

July 01, 2019

Difference Between Degree Holders & Skilled Persons


ڈگری زدہ قوم اور ہنر مند قوم میں فرق

آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں — بی ای، بی کام ، ایم کام ، بی بی اے ، ایم بی اے، انجینئیرنگ کے سینکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں GP کے لئیے خوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کونسا تیر مار رہے ہیں؟ آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر " ڈگری شدہ " انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔
ٹیوٹا ، ڈاہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے ۔ آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہیں ؟ آئی – ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے ۔
ایل جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے۔2014 میں سام سنگ کا ریوینیو 305 بلین ڈالرز تھا ۔ " ایسر " لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے۔ جبکہ ویتنام جیسا ملک بھی " ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن " کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے ۔ محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے ۔ اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے- خدا کو یاد کرنے کے لئیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ، دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں " کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں " ٹیکنیکل " کرنا شروع کردیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی ممالک میں نظر آئینگے۔
وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اسوقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گذرتا ہے باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی – ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گذارتے ہیں ۔
دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔
ہم اسقدر "وژنری " ہیں کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 200 ارب روپے خرچ کررہے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ ہمارے " وژنری پن " کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی – پیک کے انتظار میں صرف اسلئیے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائینگی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائینگے۔اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں " ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی " کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں ۔ اور دنیا میں اسوقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتی کے ہمارا دشمن بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے ۔ آئی – ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں ۔جبکہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں ۔
چینی کہاوت ہے کہ " اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو "۔ چینیوں کو یہ بات سمجھ آگئی۔ کاش ہمیں بھی آجائے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ " ہنر مند آدمی کبھی بھوکا نہیں رہتا۔ "۔ خدارا ! ملک میں " ڈگری زدہ " لوگوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہنر مند پیدا کیجئیے ۔ دنیا کے اتنے بڑے " ہیومن ریسورس " کی اسطرح بے قدری کا جو انجام ہونا تھا وہ ہمارے سامنے ہیں
copy paste

KALSOOM NAWAZ LETTER FROM GRAVE TO NAWAZ SHARIF عالم ارواع سے بیگم کلثوم کا میاں نواز شریف کے نام پہلا خط




، *عالم ارواع سے بیگم کلثوم کا میاں نواز شریف کے نام پہلا خط*
*باؤ جی،*
*میں ِخیریت سے پہنچ آئی ہوں ۔اور آپ کی جدائی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔روانگی پر پٹواریوں کا خلوص بہت یاد آتا ہے کہ کس طرح انہوں نے میری تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے ، اور میں خود اپنی ان تعریفوں سے ناواقف رہی ۔میں آپ کی جان بخشی کے لیئے مشرف کے ِخلاف نکلی تھی، اور مجھے مادر جمہوریت بنا دیا ۔ بہرحال مجھے آچھا لگا۔ یہاں آتے ساتھ ہی فرشتوں نے منی ٹریل مانگنی شروع کر دی۔ میں نے کہا کہ منی ٹریل بابو جی کے پاس ہے اور وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں ۔


 بڑی مشکل سے مہلت ملی ہے۔ یہاں آپ کے وکلاء کی کمی بہت محسوس ہوئی ہے کہ کس طرح سیدھے سادے کرپشن کے کیس کو الجھا دیا تھا۔ شاید یہاں بھی میری مدد ہو جاتی ۔ یہاں کاُفی لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں آپ کے والد میاں شریف، جرنل ضیاء الحق ، بےنظیر بھٹو، ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور وہ تمام لوگ بھی مل رہے ہیں، جنہیں آپ نے پوری زندگی گمراہ کیا ۔ فرشتے کہہ رہے تھے کہ نوازشریف نے پاکستانی قوم کو شیطان سے زیادہ گمراہ کیا ہے ۔ بہرحال ، تمام متاثرین آپ پر لعنت بھیج رہے ہیں ۔ خصوصی طور پر جرنل ضیاء الحق کا پیغام تھا کہ بابو جی کو کہنا کہ لعنتی کردار ، تم نے مجھے ِاور میرے ادارے کو خلائی مخلوق کہنا شروع کر دیا ہے۔

 سسر صاحب بھی سخت خفا ہیں البتہ اپنے پوتوں پر بہت خوش ہیں کہ کس طرح انہوں نے آپ کی عزت کا جنازہ نکالا ۔مجھے افسوس ہے کہ میری اولاد نے میرا قبرستان تک بھی ساتھ نہی دیا ۔ پوری زندگی میں نے اور آپ نے حرام کمائی سے ان نمک حراموں کی پرورش کی، مگر آپنی جان بچانے کے لیے بے وفائی کر گئے ۔ کل بےنظیر سے مختصر ملاقات ہوئی تھی، آصف کی جدائی میں بہت رو رہی تھی ، وہ بھی کہہ رہی تھی، ڈاکو اتنے پیسوں کا کیا کرے گا؟؟ یہاں پاکستانی کرنسی کوئی قبول نہیں کرتا ۔ ایک تو ماڈل ٹاؤن کے شہداء میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ جہاں جاتی ہوں ، پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ بڑی مشکل سے شہباز پر الزام لگا کر جان بچاتی ہوں ۔ بہرحال ، مجھے شہباز پر بہت دکھ ہے کہ اس نے آپ کو گھیر کر اڈیالہ کی جیل میں پہنچا دیا ۔
 لندن سے جب آپ اور مریم روانہ ہو رہے تھے ، تو میں نے آپ کو بہت روکنے کی کوشش کی، جب آپ بابو جی، بابوجی، آنکھیں کھولو۔۔، پکار رہے تھے۔ میں نے تو آنکھیں نہیں کھولیں مگر پاکستانی قوم نے آنکھیں کھول کر آپ کو الیکشن سے باہر کردیا ۔ میں نے بہت بار آپ کو سمجھایا تھا کہ آپ لیڈر نہیں ہیں۔ جرنل ضیاء الحق کی مہربانی سے آپ یہاں تک پہنچ گئے ، ورنہ آپ تو چپڑاسی بھی نہیں لگ سکتے تھے۔ آپ نے میری باتوں پر عمل نہیں کیا اور شہباز شریف کے دھوکے میں آ گئے کہ پاکستانی عوام آپ کو نیلسن منڈیلا بنا دے گی ۔ 

ائرپورٹ پر جو استقبال اس نے آپکا کیا تھا، وہ یاد ہی ہوگا،۔برحال اس نے برادران یوسف والا کردار ادا کیا ہے۔ مریم پر میں سخت خفا ہوں، اس بیغیرت نے جوانی میں صفدر کے ساتھ ہماری عزت کا جنازہ نکالا ، اور ہمارے بڑھاپے میں ہماری سیاست کا۔۔۔۔جنازے والی آپکی تصویریں دیکھتے ہوئے ایک آس سی بندھ گئی ہے کہ ہماری ان شاءاللہ جلدی ملاقات ہو گی ۔ دو مہینے کی جیل نے آپ کی تو شکل بیمار کتے جیسی کر دی ہے۔ بہرحال ، جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔ اب بھی وقت ہے آپ قوم سے معافی مانگ لیں اور لوٹی ہوئی رقم واپس کر دیں، کیونکہ اولاد اس حرام کمائی کی وجہ سے آپ کا جنازہ بھی نہیں پڑھے گی۔

پٹواریوں پر میں بہت خوش ہوں کہ وہ آپ کے جھوٹوں پر مکمل ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات کا خیال رکھنا بابوجی، نادان دوست سے عقلمند دشمن اچھا ہوتا ہے۔ کہیں پٹواری آپ کو منڈیلا بنانے کے چکروں میں مروا ہی نہ دیں۔ اپنا اخروٹی دماغ استعمال کر کے این آر او لے لیں۔ جس طرح مشرف سے ڈیل کی تھی ۔ میں ہاتھ جوڑ کے کہتی ہوں، عزت بچانے کے لیے حرام کمائی واپس کر دیں ۔مگر کیا کیا جائے آپ نے تو عزت بیچ کر ہی حرام مال اکٹھا کیا تھا۔ بابو جی، اب اجازت چاہوں گی۔ منی ٹریل والے فرشتے دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں ۔ مجھے پوری امید ہے آگر اپ اپنی ھٹ دھرمی پر قائم ریے تو پھر ھماری جلدی ملاقات ہو گی ، بابو جی ۔۔۔ فقط پٹواریوں کی... اماں کلثوم*

June 30, 2019

AFGHANISTAN RELATIONS WITH PAKISTAN



افغانستان کی پاکستان میں مداخلت کی تاریخ

پی ٹی ایم بضد ہے کہ میچ میں اگر افغانیوں نے چند پاکستانیوں کو مار بھی دیا تو کون سی قیامت آگئی۔ پاکستان اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہے جو اس نے افغانستان میں آج تک کیا!
پاکستان نے کیا یا افغانستان نے؟
آئیں آج آپ کو اس کا تسلی بخش جواب دیں۔
 تیس ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک بنا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔
ستمبر 1947ء میں ہی افغان حکومت نے کابل میں افغان جھنڈے کے ساتھ " پشتونستان" کا جعلی جھنڈا لگا کر آزاد پشتونستان تحریک کی بنیاد رکھی۔
 ایلچی نجیب اللہ  1947 ء میں ہی افغان نے نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کو فاٹا سے دستبردار ہونے اور سمندر تک جانے کے لیے ایک ایسی راہداری دینے کا مطالبہ کیا جس پر افغان حکومت کا کنٹرول ہو بصورت دیگر جنگ کی دھمکی دی۔
قائداعظم محمد علی جناح صاحب نے اس احمقانہ مطالبے کا جواب تک دینا پسند نہ کیا۔
1948ء میں افغانستان نے " قبائل " کے نام سے ایک نئی وزارت کھولی جس کا کام صرف پاکستان کے قبائلیوں کو پاکستان کے خلاف اکسانا تھا۔
سن 1948ء میں افغانستان میں پاکستان کے خلاف پرنس عبدلکریم بلوچ کے دہشت گردی کے ٹریننگ کمیپ بنے۔
 روس بنائی ہوئی افغان فضائیہ نے  1949  میں طیاروں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے پمفلٹ گرائے جن میں قبائلی عوام کو پشتونستان کی تحریک کی حمایت کرنے پر ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔
 بارہ اگست 1949ء کو فقیر ایپی نے باچا خان کے زیر اثر افغانستان کی پشتونستان تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ افغان حکومت نے پرجوش خیر مقدم کیا۔
 اگست31، 1949ء کو کابل میں افغان حکومت کے زیر اہتمام ایک جرگہ منعقد کیا گیا جس میں باچا خان اور مرزا علی خان عرف فقیر ایپی دونوں نے شرکت کی۔ اس جرگے میں ہر سال "31 اگست" کو یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسی جرگہ میں پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
افغانستان کی پشت پناہی میں فقیر ایپی نے 1949ء میں پاکستان کے خلاف پہلی گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ اس کے جنگجو گروپ کا نام غالباً "سرشتہ گروپ" تھا۔
اس کی دہشت گردانہ کاروائیاں وزیرستان سے شروع ہو کر کوہاٹ تک پھیل گئیں۔
فقیر ایپی نے چن چن کر ان پشتون عمائدین کو قتل کیا جنہوں نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کی تھی۔
ء 1949 میں افغانستان نے اپنی پوری فورس اور لوکل ملیشیا کے ساتھ چمن کی طرف سے پاکستان پر بھرپور حملہ کیا۔ جس کو نوزائیدہ پاک فوج نے نہ صرف پسپا کیا بلکہ افغانستان کے کئی علاقے چھین لیے۔
جو افغان حکومت کی درخواست پر واپس کر دئیے گئے۔
ء میں ایپی فقیر کے گروپ کمانڈر " مہر علی " نے ڈپٹی کمشنر بنوں کے سامنے 1954 ہتھیار ڈالتے ہوئے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا جس کے بعد اس تحریک کا خاتمہ ہوا۔
ء میں افغانستان نے انڈیا کے ساتھ 1950 میں دوستی کا معاہدہ کیا جس کا ایک نقاطی ایجنڈہ تھا کہ پاکستان کو کسی بھی طرح گھیر کر ختم کرنا ہے۔
ستمبر 1950 میں افغان فوج نے بغیر وارننگ کے بلوچستان میں دوبندی علاقے میں بوگرہ پاس پر حملہ کردیا۔ جس کا مقصد چمن تا تاکوئٹہ ریلوے لنک کو منقطع کرنا تھا۔ ایک ہفتے تک پاکستانی و افغانی افواج میں جھڑپوں کے بعد افغان فوج بھاری نقصان اٹھاتے ہوئے پسپا ہوگئی۔ اس واقعہ پر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا۔
16 اکتوبر 1951 کو ایک افغان قوم پرست دہشتگرد "سعد اکبر ببرج" مردود نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں گولی مار کرشہید کردیا۔ یہ قتل افغان حکومت کی ایماء پر ہوا تاہم عالمی دباو سے بچنے کے لیے کسی بھی انوالومنٹ سے انکار کردیا۔
لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کا پہلا واقعہ تھا یعنی پاکستان میں دہشتگردی کا آغاز افغانستان نے کیا۔
 جنوری6، 1952 کو برطانیہ کے لیے افغانستان کے ایمبیسڈر "شاہ ولی خان" نے بھارت کے اخبار "دی ہندو" کو انٹرویو دیتے ہوۓ یہ ہرزہ سرائی کی کہ "پشتونستان میں ہم چترال، دیر، سوات، باجوڑ، تیراہ، وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے شامل کرینگے"
نومبر26، 1953 کو افغانستان کے کےنئے سفیر "غلام یحیی خان طرزی" نے ماسکو روس کا دورہ کیا جس میں روس (سوویت اتحاد) سے پاکستان کے خلاف مدد طلب کی۔ جواباً انہوں نے افغانستان کو مکمل مدد کی یقین دہانی کروائی۔
 مارچ28، 1955 میں افغانستان کے صدر "داؤد خان" نے روس کی شہ پا کر پاکستان کے خلاف انتہائی زہر آمیز تقریر کی جس کے بعد 29 مارچ کو کابل، جلال آباد اور کندھار میں افغان شہریوں نے پاکستان کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا آغاز کردیا جس میں پاکستانی سفارت خانے پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی اور پاکستانی پرچم کو اتار کر اس کی بے حرمتی کی گئی۔ جس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔
ء 55میں سردار داؤود وغیرہ نے پاکستان کے بارڈر پر بہت بڑے بڑے کھمبے لگائے جن پر اسپیکر لگا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا۔
یہ غالباً افغانستان کی پاکستان کے خلاف پشتونوں کو بھڑکانے کے لیے پہلی ڈس انفارمیشن وار تھی جس میں ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا۔ اس کی جدید ترین شکل ڈیوہ اور مشال ریڈیو ہیں جنہوں نے پی ٹی ایم کو جنم دیا۔
مئی 1955ء میں افغان حکومت نے افغان فوج کو متحرک ہونے کا حکم دے دیا۔ جس پر جنرل ایوب خان نے نے بیان جاری کیا کہ " اگرافغانستان نے کسی قسم کی جارحیت کا ارتکاب کیا تو اسے وہ سبق سکھایا جائے گا جو وہ کھبی نہ بھول سکے"۔ جس کے بعد وہ رک گئے۔
انہی دنوں افغانستان کے لیے روس کے سفیر "میخائل وی۔ ڈگٹائر" نے جنگ کی صورت میں افغانستان کو مکمل عسکری امداد کی یقین دہانی کرائی۔
نومبر1955ء میں چند ہزار افغان مسلح قبائلی جنگجووں نے گروپس کی صورت میں 160 کلومیٹر کی سرحدی پٹی کے علاقے میں بلوچستان پر حملہ کر دیا۔ پاک فوج سے ان مسلح افغانوں کی چھڑپیں کئی دن تک جاری رہیں۔
مارچ 1960ء میں افغان فوج نے اپنی سرحدی پوزیشنز سے باجوڑ ایجنسی پر مشین گنوں اور مارٹرز سے گولی باری شروع کر دی۔ جس کے بعد پاکستانی ائیر فورس کے 26 طیاروں نے افغان فوج کی پوزیشنز پر بمباری کی۔
 ستمبر 1960،28، کو افغان فوج نے چند ٹینکوں اور انفینٹری کی مدد سے باجوڑ ایجنسی پر حملہ کردیا۔
پاکستان آرمی نے ایک مرتبہ پھر افغان فوج کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوۓ واپس دھکیل دیا۔
ء 1960کے دوران پاکستانی فضائیہ کی افغان فوج پر بمباری وقفے وقفے سے جاری رہی۔
ء 1960میں ہی افغانستان میں پاکستان کے خلاف شیر محمد مری کے دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپس بنے۔
مئی 1961ء میں افغانستان نے باجوڑ، جندول اور خیبر پر ایک اور محدود پیمانے کا حملہ کیا۔
اس مرتبہ اس حملے کا مقابلہ فرنٹیر کور نے کیا اور اس دفعہ بھی پاکستانی فضائیہ کی بمباری نے حملے کا منہ موڑ دیا۔
افغان حکومت نے حملے کی حقیقت سے انکار کردیا۔
جولائی 1963ء میں ایران کے بادشاہ رضاشاہ پہلوی کی کوششوں سے پاکستان و افغانستان نے اپنی سرحدیں کھول کر تعلقات بحال کر لیے۔
اس کے بعد دو سال تک امن رہا۔
ء 1965میں انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو افغانستان نے موقع غنیمت جان کر دوبارہ مہند ایجنسی پر حملہ کر دیا۔
لوگ حیران رہ گئے کہ انڈیا نے افغانستان کی طرف سے کیسے حملہ کر دیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ افغانیوں نے کیا ہے۔ اس حملے کو مقامی پشتونوں نے پسپا کر دیا۔
ء1970 میں افغانستان نے اے این پی والوں کے " ناراض پشتونوں" اور بلوچوں کے ٹریننگ کیمپس بنائے۔ عدم تشدد کے نام نہاد علمبردار اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک ان کیمپس کا حصہ تھے۔
ء1971 میں جب کے جی بی انڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان کو دولخت کر رہی تھی تو اس کے ایجنٹ افغانستان میں بیٹھا کرتے تھے۔
اس وقت افغانی اعلانیہ کہا کرتے تھے کہ دو ہونے کے بعد اب پاکستان کے چار ٹکڑے ہونگے۔
ء 1972میں اے این پی کے اجمل خٹک نے افغانستان کی ایماء پر دوبارہ پشتونستان تحریک کو منظم کرنے پر کام شروع کر دیا۔
تاہم اس وقت تک افغانستان کو اندازہ ہوچکا تھا کہ پشتونستان تحریک بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے اس لیے اس نے اب بھارت کے ساتھ مل کر "آزاد بلوچستان" تحریک کو بھڑکانا اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی عسکری تربیت شروع کردی۔ تاہم پشتونستان کے نام پر بھی افغان تخریب کاریاں جاری رہی۔
افغانستان کی طرف سے مسلسل سازشوں اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کے بعد بالآخرپاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار بھٹو نے پہلی مرتبہ جواباً افغانستان کے خلاف منظم خفیہ سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
ء1973 میں پشاور میں افغان نواز عناصر نے پشتونستان تحریک کے لیے "پشتون زلمی" کے نام سے نئی تنظیم سازی کی۔
ء 1974میں افغانستان نے " لوئے پشتونستان" کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ تصویر پوسٹ کے ساتھ ہے۔
فروری 1975ء میں افغان نواز تنظیم "پشتون زلمی" نے خیبرپختونخواہ کے گورنر حیات خان شیرپاو کو بم دھماکے میں شہید کردیا۔
(بحوالہ کتاب "فریب ناتمام" از جمعہ خان صوفی)
 اپریل28، 1978ء میں روسی پروردہ کمیونسٹ جماعت "پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی افغانستان" نے روسی اسلحے اور چند روسی طیاروں کی مدد سے کابل میں بغاوت برپا کردی جسے "انقلاب ثور" کا نام دیا گیا۔
اس کے نتیجے میں صدر داؤد سمیت ہزاروں افغانوں کو بیدردی سے ہلاک کردیا گیا اور افغانستان پر کمیونسٹ حکومت قائم کردی گئی۔
کمیونسٹ صدر نجیب نے اقتدار سنبھالتے ہی " لوئے پشتونستان" کی عام حمایت کا اعلان کردیا۔
ء 1979میں افغان عوام کمیونسٹ حکومت کے خلاف پوری طاقت سے کھڑے ہوگئے اور کمیونسٹ نجیب ہزاروں افغانوں کا قتل عام کرنے کے باوجود عوامی انقلاب کو روک نہ سکا۔ اپنی حکومت کو خطرے میں دیکھ کر نجیب نے روس کو افغانستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے دی۔
 دسمبر24، 1979ء کو روس نے افغانستان پر حملہ کردیا۔
روسی پورے افغانستان کو روندتے ہوئے تورخم بارڈر تک پہنچ گئے اور اعلان کیا کہ وہ دریائے سندھ کو اپنا بارڈر بنائیں گے۔
یعنی بلوچستان اور کے پی کو لے لینگے۔
روسی و افغان کمیونسٹ افواج نے افغانستان میں قتل و غارت کا وہ بازار گرم کیا جسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔پاکستان نے اس موقع پر تیس لاکھ سے زیادہ افغانوں کو پناہ اور تحفظ دیا اور روس کے خلاف برسرپیکار افغان مجاہدین کی مکمل مدد کی۔
ء 1980میں افغانستان میں پیپلز پارٹی کی الذولفقار نامی دہشت گرد تنظیم کے ٹریننگ کیمپس بنے۔ اسی تنظیم نے مبنیہ طور پر پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق کو پاک فوج کے سترہ جرنیلوں سمیت شہید کر دیا۔
ء 79سے 89ء تک روسی فضائیہ نے کئی مرتبہ پاکستانی سرحدی علاقوں پر بمباری کی۔ کے جی بی اور افغان ایجنسی خاد نے اے این پی کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانی زیادہ تر پشتون شہید ہوۓ۔
ء 2006سے اب تک افغانستان کی نئی ایجنسی این ڈی ایس بھارتی ایجنسی را کے ساتھ ملکر پاکستان میں ٹی ٹی پی سمیت کوئی پچاس کے قریب مختلف دہشت گرد تنظیموں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
ان تمام تنظیموں کی مشترکہ کارائیوں میں اب تک 60،000 پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں بڑی تعداد پشتون، تین لاکھ سے زائد زخمی ہوئے اور ہزاروں اب بھی آئی ڈی پیز کی شکل میں بے گھر ہیں۔ پاکستان کو کم از کم 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔
ان پندرہ سالوں میں افغانستان نے پاکستان میں جو دہشت گردانہ حملے کرائے ان کا احاطہ کرنا ایک مضمون میں ممکن نہیں۔
اسی عرصے میں امریکہ نے افغانستان میں فاٹا اور بلوچستان کی سرحدوں پر ڈیوہ اور مشال کے نام سے اپنی خصوصی ریڈیو سروس کا آغاز کیا جن کا تقریباً سارا عملہ افغانیوں پر مشتمل ہے یا لوئے پشتونستان کے علمبرداروں پر۔
ان ریڈیو چینلز نے ان دونوں علاقوں میں پشتونوں کو پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بھڑکانا شروع کردیا۔
افغانستان نے پاکستان میں جو دہشت گردانہ حملے کیے ان میں سب سے بڑا حملہ 16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس پر کیا گیا جس میں بھارتی را اور افغان این ڈی ایس کے پلان پر7 افغان دہشتگردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا جس میں 150 بچوں اور اساتذہ کو بیدردی سے شہید کردیا۔
جون 2016ء میں افغان نیشنل آرمی نے تورخم بارڈر پر گیٹ لگانے والی پاک فوج پر حملہ کر دیا اور پاک فوج کے میجر علی جواد خان کو شہید کر دیا۔
پاک فوج کے جوابی حملے میں افغان فورسز اپنی چیک پوسٹیں اور قلعہ تک چھوڑ کر فرار ہوگئیں۔
بعد میں زخمی فوجیوں کا علاج کرنے پاکستان سے درخواست کی جو پاکستان نے قبول کر لی۔
5 مئی 2017ء کو بھارت کی شہ پاکر افغان نیشنل آرمی نے چمن، بلوچستان پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس میں 2 پاکستانی فوجی اور 9 پاکستانی سویلینز ( پشتون) شہید جبکہ 40 کے قریب زخمی ہوۓ۔
جواباً پاک فوج کے حملے میں 50 افغان فوجی ہلاک اور 5 ملٹری پوسٹس تباہ ہوئیں۔
اس کے علاوہ ہر چند دن کے وقفےکے بعد دہشتگرد افغان سرزمین سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔
فاٹا، بلوچستان اور کے پی کے میں آپریٹ کرنے والی تمام دہشت گرد تنظمیوں کے مراکز افغانستان میں ہیں اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔
دوسری جانب ڈیوہ اور مشال کی مسلسل محنت رنگ لے آئی۔
اور عین اس وقت جب افغانستان کی بہت بڑی پراکسی کو شکست دینے کے بعد فاٹا میں دوبارہ آباد کاری اور تعمیر نو کا عمل جاری تھا 2018ء میں ایک بار پھر وزیرستان سے پشتونوں کی نئی تحریک لانچ کی گئی پی ٹی ایم کے نام سے۔ افغان صدر اور افغان پارلیمنٹ نے ان کی اعلانیہ حمایت کی۔
افغانیوں نے افغانستان سمیت دنیا بھر میں اس تحریک کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا۔ یوں اس کو پشتونوں کی عالمی تحریک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
اسی تحریک میں " پاکستان مردہ باد" ۔۔ " اسرائیلی آرمی زندہ باد" ۔۔ " دہشت گردی کے پیچھے وری" ۔۔ " لرو بر یو پشتون ( لوئے پشتونستان ) اور پاکستان سے آزادی کے نعرے لگانے شروع کر دئیے گئے۔
افغان شعراء نے اس کے حق میں شاعری کی، غزلیں لکھیں، افغان مصوروں نے تحریک کے لیے مفت میں آرٹ تخلیق کرنا شروع کیا۔ جس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔
پونی والی تاجک ٹوپی جو اس سے پہلے پاکستانی پشتون علاقوں میں نہ کبھی کسی نے دیکھی نہ پہنی کو تحریک کی علامت بنا کر مفت تقسیم کیا گیا۔
وہ افغانی جو پاکستان میں رہتے ہیں یا جنہوں نے پاکستانی یونیورسٹیوں میں پڑھ کر اردو سیکھ لی ہے نے جعلی اکاؤنٹس بنا کر بہت بڑے پیمانے پر اس نئی تحریک کو سپورٹ کرتے ہوئے پاکستان مخالف پراپیگینڈا شروع کردیا۔
پی ٹی ایم مخالفین یا پاکستان کے حامیوں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔ ملک ماتوڑکے، ملک عباس اور ایس پی طاہر داؤڑ اس کی چند مثالیں ہیں۔
ایس پی طاہر داؤڑ کو این ڈی ایس کا اہلکار ورغلا کر افغانستان لے گیا اور پھر افغان حکومت نے اس کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش پاکستان کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ لاش پی ٹی ایم کے حوالے کی گئی۔
چند دن پہلے جب پاک فوج نے انڈین طیارے گرائے تو تمام افغان سوشل میڈیا نے انڈیا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور جنگ کی صورت میں انڈیا کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔
افغانستان میں ہی این ڈی ایس اور ملا تور کے زیر قیادت ایک خفیہ میٹنگ کا انکشاف ہوا جس میں ٹی ٹی پی نے انڈین جہاز گرانے پر پاکستان سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔
فاٹا طلباء کے لیے مفت داخلوں کا اعلان کیا۔ جو طلباء اس جھانسے میں آکر افغانستان گئے انکا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا۔
دو دن پہلے پکتیکا میں وزیرستان کے اٹھ لوگوں کو محض اس لیے شہید کر دیا گیا کہ وہ پاکستانی تھے۔ ایک دو سال پہلے بھی ایک افغانی فوجی نے اسی طرح پاکستانی پشتونوں کو قتل کر دیا تھا جو مزدوری کرنے افغانستان گئے تھے اور پھر اس کی ویڈیو بنا کر شیر کر دی تھی۔
بقول حسن خان صاحب کے" کسی کا صرف پاکستانی پشتون ہونا افغان فوج کو اس کے قتل کا لائسنس دے دیتا ہے" ۔۔
یہ ہے افغانستان کی پاکستان میں دہشت گردیوں اور دراندازیوں کی تاریخ جنہوں نے نہ کبھی پاکستان کو سکھ کا سانس لینے دیا نہ پشتونوں کو۔
اگر پی ٹی ایم کو افغانستان کی یہ دراندازیاں نظر نہیں آرہیں تو مان لیجیے کہ پی ٹی ایم درحقیقت سرشتہ گروپ، پشتون زلمی اور ٹی ٹی پی کی تازہ قسط ہے۔
اس پوسٹ کو اپنی ٹائم لائن، پیجز اور گروپس میں زیادہ سے زیادہ پھلائیں۔ اور
افغانیوں، اچکزئیوں اور پی ٹی ایم والوں سےسوال کریں۔

Total Pageviews