Showing posts with label PAKISTAN. Show all posts
Showing posts with label PAKISTAN. Show all posts

September 02, 2025

PUNJABI ARE BRAVE PEOPLES, MANY PERSONS ASK AGAINST THEM -پنجابیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ بہادر نہیں، کیا کسی کو پنجابیوں کی بہادری پر شک ہے۔ تو میں بتاتا ہوں،





 کیا پنجابی اپنے اجداد پر فخر کر سکتے ہیں ؟؟۔

پنجابیوں کے لئیے اک متھ بنائی گئی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ حملہ آوروں کا ساتھ دیا اور مزاحمت سے گریز کیا۔ اور اس سلسلے میں  1857 کی جنگ آزادی میں ان کے کردار کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔

پنجابیوں کی بدقسمتی رہی کہ ان کو اپنا  دفاع کرنے اور تاریخ مرتّب کرنے کے لئیے اپنی زبان میّسر نہیں ریی کیونکہ سب سے موثر دفاع اپنی زبان میں ہی کیا جاسکتا ہے۔  پنجابی کو نہ کبھی سلیبس کی زبان کا درجہ مل سکا اور نہ ہی اسے کبھی تحریری زبان کے طور پر سند قبولیّت ملی ۔ اس لئیے زیادہ تر روایات اور لوک داستانیں ہی ملتی ہیں۔

لیکن کچھ غیر پنجابیوں نے ضرور اس پر قلم اٹھایا ہے اور پنجابیوں کا مقدّمہ لڑا اور ان کی ترجمانی کی ہے
مشہور تاریخ دان عزیزالدین صاحب کی کتاب "پنجاب اور بیرونی حملہ آور" 
اس مقدمے پر اک بہترین کاوش ہے

عزیز الدین ایک اردو اسپیکنگ لکھاری ھیں اور غیر جانبدار شخصیت ھیں۔ اُن کے مطابق پنجابیوں نے راجہ پورس سے لیکر بھگت سنگھ اور پھر بھنڈرانوالہ تک پنجاب کی سر زمین کے ایک ایک اِنچ پر مزاحمت کی ھے۔

دنیا کی مشہور قتل گاہ جلیانوالہ باغ ' جہاں پنجابیوں نے مزاحمت کا ریکارڈ قائم کیا ' کتاب میں اِسے "پنجاب کی کربلا "کہا گیا ہے
دُلا بھٹی پنجاب کا رابن ھُڈ ' پنجابیوں کی مزاحمت کی ایک لافانی مثال ھے۔ 
1857 کی جنگ ازادی شروع دلی سے ھوتی ھے ' لیکن اس کا انت پنجاب میں ھوتا ھے ' جب گوجرانوالہ پر انگریز بمباری کرتا ھے۔

برصغیر کے بہت کم علاقے ھیں جو انگریز سامراج نے لڑ کر حاصل کیے۔ بیشتر پر معاھدوں اور سازشوں کے ذریعے قبضہ کیا گیا۔ لیکن دیس پنجاب کے معاملے میں ایسا نہیں ھوا۔ سازشیں  تو برطانوی سامراج کا طرہءِ امتیاز تھیں۔ وہ پنجاب میں بھی ھوئیں۔ لیکن پنجاب میں فقط سازشوں سے کام نہ چل سکا اور برصغیر کے دیگر علاقوں کے برعکس نہ صرف یہاں دیس پنجاب پر قبضہ کرنے کے لئیے انگریزوں کو لڑنا پڑا۔ بلکہ پنجاب میں انہیں زبردست مزاحمت اور نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

پنجاب ' ھندوستان کا وہ خطہ تھا جو انگریز کے دور میں بھی آزاد حثیت برقرار رکھے ھوئے تھا۔  ایک آزاد ریاست تھا اور یہ سب سے آخر میں انگریزوں کی گرفت میں آیا۔ 
مھاراجہ رنجیت سنگھ کی 1839 میں وفات کے بعد پنجاب پر انگریز کا قبضہ 29 مارچ 1849 میں ھوتا ھے۔ جب پنجاب پر ایک 10 سالہ کم سن بچے مھاراجہ دلیپ سنگھ کا راج تھا۔

پنجابی فوج 1849 میں انگریز فوج کے ساتھ ھونے والی جنگ میں نہایت دلیری سے لڑی۔ ھندو  ' سکھ  اور مسلمان پنجابی مل کر متحدہ انگریز فوج جس میں غیر مُلکی  اترپردیش کے بھیا ' بہار کے بہاری اور کرائے کے غنڈے شامل تھے کے ساتھ لڑے۔ لیکن یہ جنگ ہار گئے

پنجابیوں کی انگریزوں کے ساتھ 10 بڑی لڑائیاں (01) مُدکی (02) فیروز شہر (03) بدووال (04) علی وال (05) سبھراواں (06) ملتان (07) رسول نگر (08) سعد اللہ پور (09) چیلیانوالہ (10) گجرات میں ھوئیں اور متعدد چھوٹی لڑائیوں میں اٹک اور جالندھر کی لڑائیاں زیادہ مشہور ھیں۔ یوں دیس پنجاب پر غاصبانہ قبضے کی خاطر انگریز سامراج کو پنجابی سرفروشوں سے کم و بیش 12 لڑائیاں لڑنا پڑیں۔ ان میں سے چیلیانوالہ کی لڑائی کو غیر پنجابی تاریخ دان سید سبط حسن نے برصغیر کی سب سے خوفناک لڑائی قرار دیا ھے۔ جس میں انگریز فوجی افسروں کی بہت بڑی تعداد ماری گئی۔ 

  آج شائد موّرخ کا یہ کہنا درست لگے کہ پنجابیوں کی طرف سے جنگ آزادی میں انگریزوں کی مدد کرنا ان کی  تاریخی غلطی یا غلط حکمت عملی تھی۔ 
لیکن اس حکمت عملی کو سمجھنے کے لئیے دو بنیادی وجوہات کو دیکھنا ہو گا
 مغلوں کا پنجابیوں سے روا بے رحمانہ سلوک جس میں سکّھوں کے متعدد گُرو مارے گئے اور پنجابی ہیرو دُلّا بھٹّی اور اس کے ساتھیوں کا بے رحمانہ قتل سرفہرست یے  ۔ یہ پنجابیوں کی مغلوں کے خلاف اک مسلسل لڑائی تھی جس کا انجام پنجاب کی مغلوں سے آزادی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں پنجاب کی آزاد ریاست کی صورت میں ہوا  ۔

سولھویں صدی میں سکھ مذھب کے بانی بابا گرو نانک دیو نے مغل حکمرانوں کی مذھبی جنونیت کی مذمت کی اور مغل شہنشاہ بابر کی ظلم اور بربریت کی کاروائیوں کا مقابلہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ کئی سکھ گرو مغل بادشاھوں کے ھاتھوں مارے گئیے ۔

دُلا بھٹی نے اکبر بادشاہ کے خلاف علمِ حق بلند کیا اور سولھویں صدی کے مشھور صوفی بزرگ شاہ حسین نے دُلا بھٹی کے اکبر بادشاہ کے خلاف علمِ حق بلند کرنے پر دُلا بھٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ھوئے کہا کہ ؛ 
کہے حسین فقیر سائیں دا - 
تخت نہ ملدے منگے

دوسری بڑی وجہ پوربی سپاھیوں (بنگال آرمی کے بھیا اور بہار کے بہاری سپاھی) کا برطانوی فوج میں شامل ھو کر پنجاب کی سکھ سلطنت پر حملہ آور ھونا تھا۔ پنجابی سمجھتے تھے کہ اگر یہ بھیّے اور بہاری انگریزوں کا ساتھ نہ دیتے تو اکیلے انگریز پنجاب فتح نہیں کر سکتے تھے اس لئیے وہ ان دونوں کو مغلوں کی طرح اہنا دشمن سمجھتے تھے۔

انگریزوں کے ساتھ بھیا اور بہاری کے تعاون کی تلخ یادیں پنجابیوں کے ذھنوں میں اس قدر تازہ تھیں کہ؛ انکے درمیان کسی بھی طرح سے اتحاد ناممکن بن گیا تھا۔ کیونکہ جو لوگ اب آزادی کے لیے جنگجو ھونے کا دعویٰ کر رھے تھے ' یہ وھی لوگ تھے جنہوں نے آٹھ سال پہلے انگریزوں کی طرف سے پنجابی خودمختار ریاست کو ھڑپ کرنے میں انگریزوں کی بھرپور مدد کی تھی۔ اس کے علاوہ ' وہ اسی مغلیہ سلطنت کو  بحال کروا کر واپس لانے کی کوشش کر رھے تھے جس نے سالہا سال سے  پنجابیوں پر زندگی تنگ کی ھوئی تھی
برطانوی مسلح افواج میں بغاوت بھیا اور بہاری سپاھیوں کی طرف سے کی گئی اور سینکڑوں انگریز خواتین اور بچوں کو قتل کردیا گیا۔ جبکہ شمالی بھارت میں اسی سالہ بہادر شاہ ظفر کو مغل بادشاہ ھونے کی نسبت  سے باغیوں کی قیادت کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا
شاعر خازان  سنگھ نے 1858 میں لکھے گئے اپنے " جنگ نامہ دلی" میں ذکر کیا ھے کہ پوربی فوجیوں کے خلاف پنجابیوں کی شرکت کی وجہ 
"بھیا اور بہاری سپاھیوں کی طرف سے اس بات پر فخر کرنے کا ردِ عمل تھا کہ انہوں نے 46-1845 میں اور 49-1848 میں پنجابیوں کو شکست دی تھی

  پنجابیوں کو ایسی کسی تحریک کے مقصد سے کوئی ھمدردی نہ تھی جس کی سرپرستی کرنے والا ایک مغل بادشاہ تھا۔ اور بہاری اور بھئیے اس کا ساتھ دے ریے تھے۔  

پنجابیوں کی طرف سے بھیا اور بہاری کے خلاف غصّہ اور ناراضگی کا انگریزوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 

 پنجاب پر انگریز کے قبضے کی وجہ سے رائے احمد کھرل ' نطام لوھار ' مراد فتیانہ ' خانو ' مُلا ڈولا اور بھگتاں والا بھگت سنگھ ایسے نسم ھیں ' جنہوں نے  پنجاب کی آزادی کی لڑائی میں لازوال کردار ادا کیا اور بغاوت کا علم بُلند کیا

August 15, 2025

WHAT IS CLOUD BURSTS, KPK BONIR HEAVEY RAINS FLOODS, LOT OF DEATHS

 


 

 گذشتہ کئی سالوں سے ان موضوعات کو پڑھ رہی اور لکھ رہی ہوں۔۔۔ یہ تحریر میرا حاصل مطالعہ ہے۔۔ 

کلاؤڈ برسٹ اب افسانہ نہیں رہا 
ملیحہ سید 

خیبر پختونخوا کے پہاڑی اضلاع۔۔۔خصوصاً بونیر اور سوات۔۔۔گزشتہ دنوں جس تباہ کن بارش اور اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کا شکار ہوئے، اس کے اسباب سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ کی واضح تعریف ضروری ہے۔ 

موسمیات میں کلاؤڈ برسٹ اس انتہائی شدید اور مقامی بارش کو کہا جاتا ہے جو عموماً پہاڑی یا وادی علاقوں میں قوی ابھری ہوئی ہواؤں (orographic lift) اور طاقتور کنویکشن کے باعث بہت کم وقت میں ایک چھوٹے رقبے پر برستی ہے۔ 

 عالمی ماہرین اسے عموماً ایسے واقعے کے طور پر بیان کرتے ہیں جس میں 30 مربع کلومیٹر یا اس سے بھی کم علاقے میں بارش کی شدت 100 ملی میٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ ہو۔یہ وہ شدت ہے جو چند منٹوں میں برساتی نالوں کو دریا بنا دیتی ہے اور ڈھلوان علاقوں میں مٹی کے تودے گرا دیتی ہے۔

 ورلڈ میٹیورولوجیکل آرگنائزیشن کے حوالہ جاتی معیارات بھی اس طرح کی بارشوں کو عام ’’ہیوی رین‘‘ سے الگ درجہ دیتی ہیں اور انہیں پرتشدد موسلا دھار شاورز کی حد تک رکھتی ہیں۔ کلاؤڈ برسٹ اکثر کُول ایئر ماس میں گرم مرطوب ہوا کے اچانک اٹھنے اور بلند بادلوں (کومولونمبس) میں بڑے قطروں کے تیزی سے جڑنے کے عمل سے بنتا ہے، اس لیے اس کا دورانیہ مختصر مگر اثر تابناک ہوتا ہے۔ 

ایسے واقعات وادیِ سوات اور بونیر جیسے خطوں میں کیوں زیادہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں؟ وجہ یہ کہ تنگ و عریض وادیوں، ڈھلوانی بستیاں، دریا کے کنارے آباد کاری، اور ندی نالوں کی قدرتی گزرگاہوں پر تجاوزات پانی کے بہاؤ کو محدود کرتی ہیں۔ 

جب انتہائی قلیل وقت میں بہت زیادہ بارش گرتی ہے تو پانی کو پھیلنے کی جگہ نہیں ملتی، نتیجتاً دباؤ اچانک بڑھتا ہے، کٹاؤ تیز ہوتا ہے، پل، سڑکیں اور کچے گھر بہہ جاتے ہیں، اور لینڈ سلائیڈنگ سلسلہ وار شروع ہو جاتی ہے۔ یہی کچھ حالیہ دنوں میں ہوا۔

 شمال مغربی پاکستان میں غیر معمولی موسلا دھار بارشوں اور کلاؤڈ برسٹس نے اچانک سیلاب پیدا کیے جن میں درجنوں بستیاں متاثر ہوئیں، لینڈ سلائیڈز اور ریلوں نے جانیں لیں اور مواصلات منقطع ہوئے۔ 

مستند خبررساں اداروں اور صوبائی اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان خیبر پختونخوا میں ہوا، جہاں بونیر ضلع میں اموات کی تعداد غیر معمولی رہی اور سوات میں گھروں، اسکولوں اور ڈھانچوں کی تباہی ریکارڈ ہوئی۔ 

خبر رساں اداروں کے مطابق 15 اگست 2025 تک صرف شمال مغرب میں بارش اور اچانک سیلاب کے تازہ سلسلے میں درجنوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ مجموعی طور پر موسمِ برسات کے آغاز (اواخر جون) سے ملک بھر میں سینکڑوں اموات ہو چکی تھیں۔ اسی دوران ریسکیو مشن پر مامور ایک ہیلی کاپٹر بھی خراب موسم کے باعث حادثے کا شکار ہوا جس میں عملہ جاں بحق ہوا۔

یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدید موسمی واقعات کے دوران رسائی، مواصلات اور مدد رسانی خود کتنا بڑا چیلنج بن جاتے ہیں۔ سوات دریا کے مقامات پر بھی پانی کی سطح میں خطرناک اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اور سیاحتی وادیوں میں پھننسے لوگوں کی بڑی تعداد کو نکالنا پڑا۔ 

پاکستان میں ایسے سانحات اب ’’غیر معمولی‘‘ نہیں رہے۔عالمی موسمیاتی ادارہ (WMO) واضح کر چکا ہے کہ 2024 کرۂ ارض کا اب تک کا گرم ترین سال رہا، جبکہ ایشیا کا خطہ مسلسل غیر معمولی حدت، ریکارڈ سمندری درجہ حرارت اور اوسط سے زیادہ سمندری سطح کے اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔ شدید بارشیں اور سیلاب 2024 میں ایشیا کے سب سے زیادہ نمایاں خطرات میں شمار ہوئے۔

 بین الاقوامی سائنسی جائزوں کے مطابق حدت میں اضافے سے فضا میں نمی زیادہ رُکی رہتی ہے اور جب وہ گِرتی ہے تو بارش کے واقعات مزید شدید ہوتے ہیں۔یعنی "جب برستی ہے تو ٹوٹ کر"۔ یہی رجحان جنوبی ایشیا کے مون سون خطے میں مختصر مگر شدید بارشی جھکڑوں اور کلاؤڈ برسٹس کے امکانات کو بڑھا رہا ہے۔ 

ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کے حالیہ اور سابقہ مطالعات نے پاکستان میں شدید بارشوں کے بعض سلسلوں میں انسانی وجہ سے ہونے والی حدت کے واضح اثرات دکھائے ہیں۔ 

تازہ تجزیوں میں 2025 کے وسطِ مون سون میں پاکستان کے کئی شہروں اور شمالی علاقوں میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور شہری سیلاب میں انسانی سرگرمیوں سے پیدا شدہ حدت کو ایک اہم عنصر قرار دیا گیا۔

جبکہ 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بارے میں اسی نیٹ ورک کی تحقیق نے 5 روزہ شدید بارش کے واقعات میں بارش کی شدت کو بعض ماڈلز میں 50 فیصد تک زیادہ بتایا یعنی اسی نوعیت کے نظام اب پہلے سے کہیں زیادہ نمکیات اور توانائی لے کر برستے ہیں اور مروجہ ڈھانچوں کی برداشت سے باہر ہو جاتے ہیں۔ 

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ’’ایمیشنز گیپ رپورٹ 2024‘‘ خبردار کرتی ہے کہ اگر عالمی درجۂ حرارت کو 1.5°C تک محدود رکھنے کے تقاضے پورے نہ کیے گئے تو 2°C یا اس سے زیادہ گرم دنیا میں انتہائی موسمی واقعات،جن میں مختصر مگر شدید بارشیں بھی شامل ہیں مزید کثرت اور شدت سے آئیں گے۔ 

اسی طرح آئی پی سی سی کی تازہ جامع رپورٹ واضح کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں انتہائی بارش اور متعلقہ سیلابی خطرات بڑھ رہے ہیں اور کمزور ڈھانچوں، دریا کے کنارے آبادی اور غریب طبقوں پر ان کے اثرات غیر معمولی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک جو عالمی اخراج میں کم حصہ ڈالتے ہیں، سب سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ 

کلاؤڈ برسٹ کے بعد زمینی سطح پر تباہی کے بنیادی میکانزم واضح ہیں ،انتہائی قلیل وقت میں بہت زیادہ بارش، ڈھلوانوں پر مٹی کا اچانک بھربھرا جانا، لینڈ سلائیڈنگ، نالوں کا پلک جھپکتے میں سیلابی ریلوں میں بدل جانا، اور دریا کے کناروں پر تیز کٹاؤ۔ بونیر اور سوات جیسی وادیوں میں گھروں اور انفراسٹرکچر کی تباہی اسی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ 

حالیہ رپورٹوں میں خیبر پختونخوا کے اضلاع میں اموات، گھروں اور سکولوں کی تباہی کے اعدادوشمار سامنے آئے، جو اس بات کی گواہی ہیں کہ موسمیاتی خطرات اب ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے معمولات سے آگے کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ 

پالیسی اور عمل کی سطح پر کیا ضروری ہے؟ 

* سب سے پہلے، ہنگامی وارننگ اور کمیونٹی رسپانس۔خاص طور پر وادیوں اور ندی نالوں کے قریب آبادیوں کے لیے،کو حد درجہ مقامی بنایا جائے۔ 

* دوسری بات، دریا اور برساتی نالوں کی قدرتی گذرگاہوں سے تجاوزات ہٹانا، خطرے کے نقشوں کے مطابق غیر محفوظ علاقوں سے محفوظ جگہوں پر منصوبہ بند منتقلی اور مقامی تعمیرات کے معیارات میں بارشی لوڈ کے مطابق بہتری لانا۔ 

* تیسری بات، سیلابی میدانوں میں کچے گھروں کی ازسرِنو تعمیر کے بجائے بلند پلینتھ اور سیلاب سے محفوظ ڈیزائن اپنانا۔ 

* چوتھی بات، سیلابی بیمہ، کمیونٹی فنانس، اور مقامی حکومتوں کے لیے موسمیاتی فنڈنگ تک رسائی۔

•  پانچویں بات، سیاحتی وادیوں کے لیے "ریئل ٹائم رسک انفارمیشن" سڑک بندشیں، دریا کی سطح، لینڈ سلائیڈ الرٹس ۔۔۔کو موبائل اور ایف ایم چینلز پر لازماً نشر کرنا۔
 کیونکہ مقامی معیشتیں سیاحت پر انحصار کرتی ہیں اور بروقت معلومات جانیں بچاتی ہیں۔

 یہ سب اقدامات اسی وسیع تر پس منظر میں معنی رکھتے ہیں جہاں عالمی درجۂ حرارت تاریخی بلند ترین سطح پر ہے اور ایشیا بھر میں سیلابی خطرات ڈیٹا کے ساتھ بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ 

بالائی پاکستان۔۔۔۔خاص طور پر گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) اور مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیشِ نظر خیبر پختونخوا اور پنجاب کے دریا بھی اچانک بہاؤ میں اضافے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

 حالیہ ہفتوں میں قراقرم ہائی وے پر بار بار تعطل اور جانی نقصان نے دکھایا کہ ایک خطے کا خطرہ دوسرے خطوں کی رسد، تجارت اور سیاحت تک کو مفلوج کر دیتا ہے۔ اس لیے بین الاضلاعی رابطہ کاری، موسمیاتی ڈیٹا کی فوری ترسیل، اور متبادل راستوں و سپلائی چین کی پیشگی منصوبہ بندی اب لازمی ہے۔ 

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ کوئی افسانوی اصطلاح نہیں بلکہ ایک موسمیاتی حقیقت ہے جس کے پیچھے ٹھوس طبیعیات اور گرم ہوتی ہوئی دنیا کی سخت حقیقت موجود ہے۔ بونیر اور سوات میں حالیہ تباہی ہمیں بتاتی ہے کہ جب پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر چند گھنٹوں میں مہینوں جتنی بارش گرتی ہے تو کمزور ڈھانچے اور بے ہنگم آباد کاری سب سے پہلے ٹوٹتے ہیں۔ 

عالمی رپورٹس مسلسل متنبہ کر رہی ہیں کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے موافقت (Adaptation) اور لچکدار ڈھانچے بنانا اب اختیار نہیں، مجبوری ہے اور جب تک عالمی سطح پر اخراج کم نہیں ہوتے، ایسے سانحے بار بار سر اٹھاتے رہیں گے۔

صورتِ حال ہنگامی بھی ہے اور ساختی بھی، اس لیے حکمتِ عملی کو تین دائروں میں بیک وقت چلانا چاہیے۔۔۔ جیسے 

 فوری ردِعمل، قلیل/درمیانی مدت کی تیاری، اور طویل مدتی ساختی اصلاح۔ 

ذیل میں ایک عملی روڈ میپ ہے جو خیبر پختونخوا بالخصوص سوات، بونیر اور ملحقہ وادیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، مگر اسے صوبائی وفاقی سطح پر بھی اپنایا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے ایک واضح اصول: کلاؤڈ برسٹ کم وقت میں غیرمعمولی بارش ہے، اس لیے "چند گھنٹے پہلے" درست وارننگ، "چند منٹ" میں محفوظ جگہ منتقل ہونے کے راستے، اور "چند دن" میں بحالی کی فوری صلاحیت۔۔ یہ تین ستون کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

فوری اور آئندہ مون سون کے لیے لازمی اقدامات
ہنگامی انتباہ کو آخری میل تک لے جائیں۔۔۔ موبائل سیل براڈکاسٹ، ایف ایم ریڈیو، مساجد کے لاؤڈ اسپیکر، اور مقامی والینٹیئر نیٹ ورک ایک ہی متن کے ساتھ ایک ہی وقت میں الرٹ جاری کریں۔ پیغام صرف تین چیزیں بتائے۔۔ کہ 

* خطرہ کیا ہے ؟

* محفوظ مقام کہاں ہے؟ 

* پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا؟

✓"ریڈ الرٹ پروٹوکول"طے کریں۔۔۔

•  مخصوص تھریش ہولڈ (مثلاً فی گھنٹہ غیر معمولی بارش/ندیوں کی سطح میں تیز اضافہ) ملتے ہی سکول بند، سیاحت عارضی معطل، دریا کنارے کاروبار و تعمیرات فوراً خالی، اور بستی وار محفوظ مراکز کھول دیے جائیں۔

* انخلا کے راستوں کی پیشگی نشاندہی اور نشانات: ہر یونین کونسل میں کم از کم دو متبادل راستے، راستوں پر فاصلہ/وقت کے سائن بورڈ، رات میں نظر آنے والی ریٹرو ریفلیکٹو پٹی اور پلوں کے قریب گائیڈ پوسٹس۔

* نالوں کی فوری ڈیسِلٹنگ اور قبضہ ختم کرنا۔۔۔ مون سون کے دوران ہنگامی اختیارات کے تحت برساتی گزرگاہوں سے رکاوٹیں، بجری، اور عارضی تعمیرات فوراً ہٹائی جائیں۔۔ خلاف ورزی پر موقع پر جرمانہ اور بھاری ضبطی۔

* قبل از حادثہ طبی و ریسکیو تیاری: تحصیل سطح پر ایمبولینس، کشتی، رسیاں، لائف جیکٹس، سیٹلائٹ فونز، جنریٹر، اور ادویات کا اسٹاک؛ مقامی ڈاکٹرز اور رضاکاروں کی 48 گھنٹے کی ڈیوٹی روٹیشن۔

* سیاحتی نظم و ضبط: دریا کے کنارے ہوٹلز/کیمپس پر رئیل ٹائم الرٹ اسکرینیں، خطرے کے وقت فوراً مہمانوں کی اندراجی فہرست اور اجتماعی انخلا کی مشق۔۔ غیرمحفوظ مقامات پر سیلفی/کیپنگ پر جرمانہ۔

✓ قلیل اور درمیانی مدت (۳–۱۲ ماہ)

* خطرے کے نقشے اور قانون سازی :  وادی وار فلڈ پلین/لینڈ سلائیڈ رسک میپنگ کروا کر ’’نو-بلڈ زون‘‘ قانونی طور پر مقرر کریں۔ دریاکنارے 50–200 میٹر (مقامی ہائیڈرولوجی کے مطابق) کا کوریڈور بطور ’’قدرتی گزرگاہ‘‘ محفوظ کیا جائے۔

* عمارات کے ہِل ایریا بائی لاز: نچلے فرش کی بلند بنیاد (raised plinth)، پائل/راک بولٹنگ، ریٹیننگ والز کے انجینئرڈ ڈیزائن، بڑے کلورٹس و کراسنگز کی گنجائش کو 1-in-50 یا 1-in-100 سالہ بارش کے مطابق اپڈیٹ کرنا؛ خلاف ورزی پر تعمیر سیل اور فوری مسماری کے اخراجات مالک پر۔

* ڈھیٹ بہاؤ اور ملبہ روکنے کے ڈھانچے: نالوں میں ڈیبرِس فلو بیریئرز، چیک ڈیمز، گابیون وال/ٹو وائر بنڈز، اور دریا میں ساحلی کٹاؤ روکنے کے اسمارٹ اسپَرز، مگر صرف اُن جگہوں پر جہاں ہائیڈرولک ماڈلنگ اسے مؤثر بتائے۔

* بارش و دریا کی رئیل ٹائم نگرانی: آٹومیٹڈ ویدر اسٹیشنز اور دریا سطح گیجز کی کثافت بڑھا کر ڈیٹا کو آن لائن ڈیش بورڈ/ایپ میں کھولا جائے؛ مقامی زبان (پشتو/اردو) میں الرٹس۔

* سکول و کلینک بطور پناہ گاہ: کم از کم ایک محفوظ فلور، ایڈجسٹ ایبل بیڈز، خواتین و بچوں کے لیے علیحدہ کمروں کی گنجائش، سولر بیک اپ، اور محفوظ پانی/سینی ٹیشن کے مستقل انتظامات۔

* مالیاتی تحفظ: صوبائی ڈیزاسٹر رسک فنانسنگ فریم ورک۔۔ہنگامی فنڈ، کنٹینجنسی بجٹ، اور " پیرامیٹرک مائیکرو انشورنس" ۔ جس کے تحت مخصوص بارش/دریا سطح پر کسان/دکاندار کو خودکار ادائیگی ہو۔ بنکوں کے ذریعے کم سود بحالی قرض، اور سیلابی علاقوں کے لیے ٹیکس و فیس میں عارضی ریلیف۔

* محفوظ روزگار و بحالی: "کیَش فار ورک" کے تحت نالوں کی صفائی، سڑکوں کی بحالی، سبزی/پولٹری کٹس، اور خواتین کے گھریلو روزگار پیکجز ۔۔۔ متاثرہ گھرانوں کے لیے شفاف فہرستیں اور موبائل منی ادائیگیاں۔

* کمانڈ اینڈ کنٹرول: ضلعی سطح پر "انسیڈنٹ کمانڈ سسٹم" کی باقاعدہ تربیت، سال میں کم از کم دو بڑے فلڈ ڈرلز، اور ریسکیو، پولیس، محکمۂ صحت، لوکل گورنمنٹ، سیاحت اور ہاؤسنگ کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ آپریشن روم۔

طویل مدت (۱–۳ سال اور آگے)

* زمین کے استعمال کی اصلاح: دریا کے قدرتی کوریڈور کی مکمل بحالی، بڑے ہوٹل/مارکیٹس کی مرحلہ وار محفوظ منتقلی، نالوں پر مستقل تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس، اور نئی ہاؤسنگ اسکیموں کی مشروط منظوری صرف خطراتی نقشے کے مطابق۔

* جامع انفراسٹرکچر ریزیلینس: پلوں کو اوورٹاپنگ سے بچانے کے لیے فری بورڈ بڑھانا، سیلابی پانی کے متبادل راستے (relief culverts)، لینڈ سلائیڈ پرن زونز میں روڈ الائنمنٹ کی تبدیلی، اور اہم سڑکوں/پُلوں کے نیچے ملبہ پھنسنے سے روکنے کے لیے ڈیٹریٹس کیچمنٹ ڈیزائن۔

* قدرتی حلوں کا مرکزی دھارا: مقامی نوع کے درختوں کے ساتھ ڈھلوانوں کی بایو انجینئرنگ، اسپرنگز اور واٹر کیچمنٹس کی بحالی، ویٹ لینڈز اور فلڈ پلین ری اسٹوریٹو پروجیکٹس تاکہ اچانک بارش کا دباؤ قدرتی طور پر تقسیم ہو۔

* گلیشیائی وادیوں کے لیے خصوصی پروگرام: GLOF مانیٹرنگ، برفانی جھیلوں کی ڈرینیج/اسپل ویز، اور قراقرم/ہندوکش ہائی ویز پر لینڈ سلائیڈ ارلی وارننگ۔

* تعلیم اور رویّہ: سکول نصاب میں مقامی ڈیزاسٹر آگہی، ہر بستی میں خواتین و نوجوانوں کی رضاکار ٹیمیں، سالانہ مشقیں، اور سیاحوں کے لیے " ڈو نَو ہارم" رہنما اصول (پلاسٹک/کچرا، دریا کنارے غیرمحفوظ سرگرمیاں، آتش بازی وغیرہ پر پابندی)۔

* ڈیٹا، تحقیق اور احتساب

 ہر واقعے کے بعد 30 دن میں ’’لَیسن لرنٹ‘‘ رپورٹ، نقصان کی کھلی ڈیٹاسیٹ اور عوامی سماعت؛ سالانہ "ریزیلینس اسکورکارڈ " جس میں الرٹ کی رفتار، انخلا کی کامیابی، ڈھانچوں کی مزاحمت، اور بحالی وقت کی پیمائش ہو۔

* ادارہ جاتی اور مالیاتی بندوبست

صوبائی/ضلعی سطح پر ایک ’’کلاؤڈ برسٹ سیفٹی سیل‘‘ بنایا جائے جس میں موسمیات، آبپاشی، پبلک ہیلتھ، پی اینڈ ڈی، لوکل گورنمنٹ، ریسکیو 1122 اور ٹورزم سب شامل ہوں۔ یہ سیل وارننگ، رسک میپنگ، اور نافذ العمل بندوبست کا نگہبان ہو۔

* فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع کریں

سالانہ ترقیاتی پروگرام میں "کلائمیٹ ایڈاپٹیشن ونڈو"، بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز تک رسائی (گرین کلائمیٹ فنڈ/ایڈاپٹیشن فنڈ)، ڈونر پارٹنرشپس، اور ڈیزاسٹر بانڈز/انشورنس پول کے ذریعے بڑے انفراسٹرکچر کی مالیاتی حفاظت۔

* شفاف خریداری و عملدرآمد

ای ٹینڈرنگ، تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ، اور کرپشن/بدانتظامی پر فوری سزا؛ "پراجیکٹ میپ" عوام کے لیے آن لائن تاکہ ہر بند، اسپل وے، پل اور ڈرین کی حالت اور مرمت کی تاریخ نظر آ سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ ساتھ مقامی سطح کی چھوٹی مگر فیصلہ کن تبدیلیاں،ہر گھر کے لیے ایمرجنسی کٹ (ٹارچ، ریڈیو، پاور بینک، پہلی امداد، گرم کپڑے، خشک راشن) اور خاندان کا انخلا منصوبہ۔
گھروں کی بُنیاد بلند اور دروازوں/ونڈوز پر فلڈ اسٹاپرز؛ چھت کا پانی محفوظ کرنے والے ٹینک تاکہ اچانک بہاؤ نالیوں پر کم دباؤ ڈالے۔
کمیونٹی سطح پر ’’بارش گھنٹی‘‘ یا سائرن؛ رضاکاروں کے پاس بنیادی رَسی اور لائف جیکٹ کی دستیابی؛ دیہات میں ٹریکٹر/چار پہیہ گاڑی بطور ہنگامی نقل و حمل۔

الغرض کلاؤڈ برسٹ کے دور میں کامیابی کا راز " سیکنڈز اور منٹس" کو جیتنے میں ہے ۔۔۔ یعنی وارننگ تیز، انخلا آسان، راستے کھلے، اور ڈھانچے لچکدار۔ اگر ہم قانون، انجینئرنگ، فنانس اور سماجی نظام کو ایک لڑی میں پرودیں تو سوات، بونیر اور پورا کے پی نہ صرف کم نقصان اٹھائے گا بلکہ ہر اگلے مون سون کے ساتھ زیادہ محفوظ ہوتا جائے گا۔



September 06, 2024

BLACK PEPPER PRICE & IMPORTANCE,

 


 کالی مرچ کے نخرے تو دیکھیں۔۔۔ کالی ہے پھر بھی 3800 سو روپے کلو ہے، اگر گوری ہوتی تو۔۔۔ ؟

کالی مرچ وہ مسالا جس کی تلاش میں انڈیا یورپ والوں کے ہاتھ آ گیا تھا۔ کالی مرچ ہمارے پسندیدہ اور مزیدار کھانوں میں اکثر استعمال ہوتی ہے. شاید بعض لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کہاں سے آتی ہے اور کس طرح پیدا ہوتی اور کس طرح تیار کی جاتی ہے؟ لیکن کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس مسالے کی کشش یورپی قوموں کو انڈیا کھینچ لائی تھی اور بالآخر وہ ہمارے حاکم بن بیٹھے تھے؟

آج کل کالی مرچ اکثر گھروں کے باورچی خانوں میں پائی جاتی ہے اور یہ اتنی آسانی سے دستیاب ہے کہ ہم اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ البتہ کسی زمانے میں یہ اتنی قیمتی تھی کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا اور مہمانوں کے لیے تیار کردہ کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال میزبان کی دولت اور طاقت کا بلا انکار ثبوت تسلیم کیا جاتا تھا۔

یورپ میں اس قیمتی اور نایاب مسالے کی ہر کسی کو تلاش تھی۔ لیکن ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کہاں پیدا ہوتا ہے اور اسے کیسے تیار کیا جاتا ہے؟ اس کے متعلق وہاں کئی بے بنیاد کہاوتیں مشہور تھیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ اڑنے والے انتہائی زہریلے سانپ کالی مرچ کے جنگلوں کی رکھوالی کرتے ہیں اور مقامی لوگ جنگلات کو آگ لگا کر ان سانپوں کو عارضی طور پر بھگانے کے بعد اس مسالے کو حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا رنگ کالا ہوتا ہے اور اس میں آگ کا ذائقہ پایا جاتا ہے۔

کالی مرچ کا مقام پیدائش انڈیا میں کیرلا کے علاقے میں ہے جہاں یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے۔ یہاں کے لوگ ہزاروں سالوں سے ان بیریوں کو چن کر ان سے مسالہ تیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کئی صدیوں تک یورپ میں بیچنے اور اس سے بے شمار دولت کمانے والے صرف عرب تاجر تھے کیونکہ اس علاقے کا راستہ صرف وہی جانتے تھے اور وہ اپنے گاہکوں تک اس راز کو پہنچنے نہیں دے رہے تھے اور اوپر سے اس راز کو محفوظ رکھنے میں یورپی لوگوں کی بے بنیاد کہاوتیں بھی ان تاجروں کے لیے مدد گار ثابت ہو رہی تھیں۔ اس طرح انہیں اس مسالے کی تجارت پر مکمل تسلط حاصل تھا لیکن اس کے ختم ہونے کا وقت زیادہ دور نہیں تھا۔

یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے۔ تین دن کے لیے سبز بیریوں کو دھوپ میں سُکھا کر کالی مرچ تیار جاتی ہے۔
اس مسالے کا یورپ میں استعمال رومن دور میں شروع ہوا تھا البتہ پندرویں صدی عیسوی کے دوران یورپی امیر گھروں کے کھانوں کے علاوہ کالی مرچ کا استعمال 'کالی موت' یا طاعون کے علاج کے لیے بھی شروع ہوگیا جس کے پھیلنے سے وہاں لوگ بڑی تعداد میں مر رہے تھے۔ اس قیمتی مال کی سخت ضرورت اور شدید مانگ کی وجہ سے 8 جولائی 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلا سمندری جہازراں واسکوڈے گاما (Vasco da Gama) کو کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا۔ گاما کا فلاٹیلا مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے سمندری ہواؤں کی مدد سے افریقی ساحلوں کے کٹھن بحری راستے سے مئی 1498 میں انڈیا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس طرح اسے یورپ میں سب سے پہلے انڈیا تک سمندری راستہ تلاش کرنے کا مقام بھی حاصل ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ گاما کے اس کارنامے سے پرتگال کا جیک پاٹ نکل آیا تھا۔

گاما انڈیا پہنچنے سے پہلے یہاں بے دین جنگلی وحشی دیکھنے کی امید لگائے بیٹھا تھا جو بيکار یورپی اشیا کے بدلے اپنا کالا سونا بخوشی اس کے حوالے کر دیں گے۔ جب گاما کیرلا کے شہر Kochi کوچی پہنچا تو اس کے بالکل برعکس لوگوں کو sophisticated اور بہت دولت مند پایا۔ دور دور سے عرب، چینی اور کئی دوسرے تاجر صدیوں سے اس ہر دیسی یا cosmopolitan مرکز پر تجارت کے لیے آ رہے تھے۔ پندرہیویں صدی میں کیرلا کے لیے کالی مرچ وہی مالی مقام رکھتی تھی جو آج کل گلف کی ریاستوں ے لیے تیل رکھتا ہے۔

گاما کے کیرلا میں آنے کے آٹھ سال کے اندر ہی پرتگال نے اس علاقے میں اپنے قدم اچھی طرح سے جما لیے تھے۔ انہوں نے یہاں ایک قلعہ بھی تعمیر کر لیا تھا جہاں انہوں نے انڈیا میں اپنے پہلے وائسرائے کو قیام دیا۔ سولھویں صدی کے آغاز سے پہلے ہی پرتگالی مسالوں کی تجارت میں سب سے آگے نکل چکے تھے اور جو مال وہ تجارت سے حاصل نہیں کر سکتے تھے، اپنی طاقت سے چھین لیتے تھے۔ کالی مرچ کی خاطر پرتگال نے انڈیا کے مسالے والے ساحلی علاقوں کو اپنے محاصرہ میں لے لیا تھا۔

ایک مرتبہ جب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ انڈیا میں کالی مرچ کی تجارت اب ان کے مکمل قابو میں ہے تو انہوں نے اپنی توجہ دوسرے مسالوں کو ڈھونڈنے کی طرف کر دی۔ ان کی تلاش کے لیے اگلا مسالہ دار چینی تھا جو سولھویں صدی کے یورپی امیر لوگوں میں بے حد مقبول تھا۔ یہ کالی مرچ سے بھی زیادہ نایاب تھا اور اس کا منبع بھی ان کے لیے نامعلوم تھا۔

کیرلا کے آس پاس کے سمندر میں عرب تجارتی جہازوں پر مسلسل چھاپوں میں انہیں بار بار ان پر لدے مال میں دار چینی مل رہی تھی اس لیے انہیں شک تھا کہ یہ مسالہ کہیں آس پاس ہی پایا جاتا ہے لیکن کیرلا کے سمندر سے آگے کے علاقے سے وہ بالکل ناواقف تھے۔ 1506 میں پرتگالی ایک عربی جہاز کا پیچھا کرتے ہوئے طوفان میں راستہ بھٹک گئے اور انہوں ایک انجان ساحل پر پناہ لی۔ یہ سری لنکا کا ساحل تھا اور دار چینی یہاں ہی پائی جاتی تھی اور یوں انہیں دار چینی کا منبع بھی مل گیا۔

کالی مرچ اور دار چینی جیسے مسالے دینا بھر میں کھانے کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیوں کے باعث بنے ہیں اور آج بھی مقبول ہیں لیکن ان کی تلاش نہ صرف ہماری تاریخ کا رخ بدلنے کا باعث بنی بلکہ اس نے جدید دینا کی شکل بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان مسالوں کی مدد سے شہنشاہی سلطنتیں بنیں اور ٹوٹیں، ان کی خاطر قوموں کی آزادی چھن گئی اور قتل و غارت میں بے شمار انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

کالی مرچ اور دار چینی دو معمولی سے مسالے اور ایک غیر معمولی ماضی کے مالک ہیں جن کی تلاش سے یورپی لوگوں کے دولت سے خزانے بھر گئے لیکن جن لوگوں نے انہیں اپنی محنت سے بنایا ان کو اور ان کی قوم کو اس کے بدلے میں کیا حاصل ہوا؟

کالی مرچ کے فوائد:
کالی مرچ کے پانچ دانے روز کھائیے اور کمال دیکھیے۔
اعضائے رئیسہ، جگر اور دماغ کو تقویت دیتی ہے دمہ و کھانسی زکام اور بدہضمی میں نہایت مفید ہے,ل۔ کالی مرچ میں غذائی فوائد کے ساتھ ساتھ قدرت نے شفائی خصوصیات بھی رکھی ہیں اپنی شفائی خصوصیات کی بنا پر 70 سے زیادہ داخلی اور خارجی امراض میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔

کالی مرچ ہمارے ملک میں کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں۔ اکثر کھانوں میں اسے لازمی جز قرار دیا جاتا ہے اس کو فلفل اسود یا فِلفل سیاہ بھی کہا جاتا ہے۔ کالی مرچ گرم مسالے کا ایک لازمی جز ہے۔ یہ ریاح کو خارج کرتی ہے، ورم کو گھلاتی اور بلغم کی اصلاح کرتی ہے۔ یہ حافظے اور اعصاب کو بھی تقویت بخشتی ہے۔

اگر اس کا چھلکا اتار دیا جائے تو یہ سفید مرچ بن جاتی ہے. چھلکا اتارنے کے لیے کالی مرچ کو پانی میں بھگو کر رکھتے ہیں جب چھلکا نرم ہو جاتا ہے تو کپڑے سے رگڑ کر چھلکا اتار دیتے ہیں۔ تقریباً تمام بادی کھانوں مثلاً کچی سبزیوں ، ککڑی ، کھیرا وغیرہ میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس کے زیادہ استعمال سے معدے کا السر ہو سکتا ہے۔

یہ غذ ا کو بخوبی ہضم کر دیتی ہے اور کھانے میں بے حد لذیذ ہوتی ہے اس کے علاوہ پیٹ کے درد اور بھوک نہ لگنے کی شکایت کے لیے بے حد مفید شے ہے۔ قوت بصارت میں اضافے کے لیے گھی اور شکر کے ساتھ کھلایا جاتا ہے۔ کالی مرچ 150 گرام ، شکر 30 گرام تک میں چمکنی (ایک بوٹی) پیس کر شامل کر لی جائے، پانچ گرام سفوف ایک کپ میٹھے دودھ کے ساتھ صبح نہار منہ کھا لیا جائے اور ایک گھنٹے تک پانی نہ پیا جائے۔ کالی مرچ کا یہ مرکب نہ صرف دماغی امراض بلکہ دوسری سرد بیماریوں میں بھی فائدہ دیتا ہے۔

کھانسی، دمہ اور سینے کے درد کے لیے نصف گرام کالی مرچ کا سفوف شہد کے ساتھ شامل کر کے چاٹنا مفید ہے۔ معدے کی تقویت ، ضعف ہضم اور بھوک کی کمی دور کرنے کے لیے کالی مرچ،  ہینگ اور سونٹھ ہم وزن لے کر چنے کے برابر گولیاں بنا لی جائیں۔ ایک ایک گولی تینوں وقت کھانے کے بعد استعمال کی جائے۔ گلا بیٹھنے کی صورت میں گیارہ کالی مرچیں بتاشے میں رکھ کر چبائی جائیں۔

لقوے کے مرض میں کوئی بھی دوا کالی مرچ سے زیادہ مفید نہیں سمجھی جاتی۔ کالی مرچوں کو باریک پیس کر کسی روغن میں ملا کر ماؤف مقام پر لیپ کیا جائے۔ جن مرکبات میں کالی مرچ شامل ہوتی ہے ان کے استعمال سے بھوک میں اضافہ ہوتا ہے چنانچہ جوارش کمونی جو طب یونانی کا مشہور مرکب ہے اس میں کالی مرچ شامل کی جاتی ہے چنانچہ اس کے کھانے سے بھوک بڑھ جاتی ہے اور کھانا ہضم ہو جاتا ہے۔

کالی مرچ کھانے والا خراب سے خراب آب و ہوا میں بھی بیمار نہیں ہوتا۔ اطباء کا کہنا ہے کہ کالی مرچ روزانہ کھانے کا طریقہ یوں ہے کہ طلوع آفتاب سے پہلے یا سورج طلوع ہونے تک کالی مرچ کے دانے چبائے جب اچھی طرح دانتوں میں باریک ہوجائیں تو بعد میں دودھ یا چائے پی لے یا انڈا کھالے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی عمر کے حساب سے اس کو استعمال کرے۔

بچے کو روزانہ ایک دانہ دیں جبکہ بڑے روزانہ پانچ دانے چبا کر اور چوس کر کھائیں۔ کالی مرچ کے سونگھنے (نسوار کی شکل) سے درد شقیقہ کو بے حد فائدہ ہوتا ہے۔ شہد میں ملا کر کھانا باعث مقوی باہ ہے۔ سینے کا درد دور کرنے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کرنے کے لیے شہد میں ملا کر چاٹنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
اس میں فولاد اور وٹامن بی اور ای شامل ہوتے ہیں۔ کالی مرچ کے استعمال سے بند پیشاب کھل جاتا ہے۔

نوٹ: درد گردہ کی بیماری میں مبتلا مریضوں کو کالی مرچ کا استعمال مناسب نہیں، گرم مزاج والے لوگ کم سے کم استعمال کریں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانے میں ڈالنے سے ہٹ کر بھی یہ کتنی فائدہ مند ہے؟ جی ہاں مختلف امراض کے ساتھ ساتھ یہ بہت کچھ ایسا کرتی ہے جو آپ کو حیران کردے گا۔

پیٹ کے مسائل دور کرے:
غذا میں کالی مرچ کا زیادہ استعمال معدے کے لیے بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ یہ معدے کے ایسے تیزاب کو بھی حرکت میں لاتی ہے جس سے کھانے جلد ہضم ہوتا ہے اور قبض ختم ہوجاتا ہے۔

گیلی کھانسی سے آرام:
گیلی کھانسی پر قابو پانا چاہتے ہیں تو کالی مرچ کو شہد کے ساتھ چائے میں استعمال کریں۔ کالی مرچ بلغم کو حرکت میں لائے گی جبکہ شہد کھانسی سے آرام دلانے والی قدرتی چیز ہے۔ ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی کالی مرچ اور دو چائے کے چمچ ایک کپ میں ڈالیں، اس کے بعد اسے ابلتے ہوئے پانی سے بھردیں اور پندرہ منٹ بعد ہلا کر پی لیں۔ ایک اور گھریلو ٹوٹکا یہ ہے کہ لیموں کی قاش پر کالی مرچ چھڑکیں اور اس قاش کو جتنا ہوسکے چوسیں تاکہ کھانسی سے فوری ریلیف مل سکے۔

کپڑوں کے رنگ مدھم نہ ہونے دے:
دھونے سے آپ کی پسندیدہ شوخ رنگ کپڑوں کا رنگ مدھم ہوگیا ہے؟ اگر ہاں تو اگلی بار دھوتے ہوئے ایک چائے کا چمچ کالی مرچیں واشنگ مشین میں ڈالے گئے کپڑوں پر چھڑک دیں، جس کے بعد مشین کو چلائیں۔ یہ رنگوں کو برقرار رکھے گی۔

تمباکو نوشی ترک کریں:
ایک تحقیق کے مطابق نکوٹین استعمال کرنے والے کالی مرچ کے تیل کی مہک کو سونگھتے ہیں تو تمباکو نوشی کے لیے ان کی خواہش میں کمی آتی ہے۔ ایسے کرنے سے لوگوں کے گلے میں ایک جلن سی پیدا ہوتی ہے جو کہ کچھ ایسا لطف پہنچاتی ہے جیسے سگریٹ پیتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔

تھکے ہوئے مسلز کو آرام پہنچائیں:
ورزش کے بعد عدم اطمینان محسوس ہورہا ہے؟ تنے ہوئے مسلز کو ڈھیلا کرنے کے لیے سیاہ مرچ کے تیل سے مالش کریں، یہ ایک گرم تیل مانا جاتا ہے جو اس جگہ خون کی گردش اور حرارت بڑھا دیتا ہے جہاں اسے لگایا جائے۔ دو قطرے سیاہ مرچ کے تیل کو چار قطرے روز میری آئل میں ملائیں اور پھر اسے براہ راست جہاں لگانا ہو لگالیں۔

جلدی نگہداشت کے لیے فائدہ مند:
کالی مرچ جراثیم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو شفاف جلد کے حصول میں مدد دیتی ہے۔ یہ مرچ خون کی گردش کو قدرتی طور پر بڑھا دیتی ہے اور اپنی حرارت سے جلد میں مساموں کو کھول کر ان کی صفائی کرتی ہے۔

کالی مرچ کا پودا آپ گھر میں گملے یا زمین میں بھی لگا سکتے ہیں اور اس کے بے شمار فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن خیال رکھنا نرسری والے آپ کو غلط پودا نہ پکڑا دیں۔ جسے وہ کالی مرچ کہتے ہیں وہ اصلی نہیں بلکہ سجاوٹی پودا ہے جس کے پتوں سے کالی مرچ کی خوشبو آتی ہے۔

مفاد عامہ کے لیے پیش کیا گیا۔۔۔ اپنے معالج سے مشاورت ضرور کریں.۔
CnC. #MQS

January 08, 2024

Hybrid Seeds & Our Bahaviour Future Loss

 

ہائبرڈ بیج:
(Hybrid Seed)
ہائبرڈ بیج مخصوص مطلوبہ خصوصیات کے ساتھ ایک فصل کے دو مختلف پودوں کے درمیان کراس پولینیشن کا نتیجہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہتر خصوصیات جیسے زیادہ پیداوار، بیماری کے خلاف قوت مزاحمت، یا بہتر موافقت وغیرہ پیدا ہوتی ہے۔
ہائبرڈ بیج کے کچھ فوائد اور کچھ نقصانات ہیں
فوائد:
پیداوار میں اضافہ:
ہائبرڈ بیج اپنی بنیادی اقسام کے مقابلے میں زیادہ پیداوار کے ساتھ پودے تیار کرتے ہیں، جس سے زرعی پیداوار میں بہتری آتی ہے۔
یکسانیت:
ہائبرڈ پودے سائز، شکل اور پختگی جیسی خصوصیات کے لحاظ سے زیادہ یکسانیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
بیماریوں کے خلاف مزاحمت:
ہائبرڈائزیشن مختلف بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت فراہم کرتی ہے، جس سے پودوں میں مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
بھرپور نشوونما:
ہائبرڈ پودے زیادہ مضبوط نشوونما کی خصوصیات ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے غیر ہائبرڈ اقسام کے مقابلے میں تیزی سے نشوونما اور پختگی ہوتی ہے۔
نقصانات:
لاگت/قیمت:
ہائبرڈ بیج عام طور پر روایتی بیجوں سے زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔ کسانوں کو ہر فصل کے لیے نئے ہائبرڈ بیج خریدنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بیجوں پر انحصار:
چونکہ ہائبرڈ پودوں کی خصوصیات اگلی نسلوں میں مستحکم نہیں ہوتیں، اس لیے کاشتکار بیج کو دوبارہ لگانے کے لیے اپنی فصل سے بچا نہیں سکتے۔ نئے بیجوں کی خریداری پر یہ انحصار مالی بوجھ بنتا ہے۔
ہائبرڈ بیجوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اپنے دیسی بیجوں سے کنارہ کشی کر لیتے ہیں اور پھر دیسی بیجوں کا وجود ہی ختم ہو جاتا ہے۔
(مثال کے طور پر جس طرح ہماری گائیوں کی چولستانی، ساہیوال وغیرہ نسل کے ساتھ ہوا ہے۔
آج آپ کو گاؤں کے پر گھر میں غیر ملکی نسل کی گائے نظر آۓ گئی لیکن اپنی گائیوں کی نسل شائد ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے)
اب ہم دوسرے ممالک سے سبزیوں اور دوسری فصلوں کا ہاٸبریڈ بیج خریدتے ہیں۔
اگر یہ ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے دیسی بیجوں سے بھی محروم ہو جاٸیں گۓ۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہو گا۔
مثلاً
امریکن بال ورم آۓ گا۔
فال آرمی ورم آۓ گا۔
اور طرح طرح کی بیماریاں آٸیں گٸ۔
جیسے ملیریا آیا
ڈینگی آیا۔
اور پھر ہم دوسرےممالک سے ہی دواٸیاں خریدیں گۓ۔
کیونکہ 75 سالوں میں ہم اس قابل بھی نہیں ہو سکے کہ ایک انٹرنیشنل پیسٹی ساٸیڈ کی کمپنی ہی بنا لیں۔
دوسرے ممالک بشمول انڈیا نے سیڈ بنک
(Seed Bank)
بناۓ ہوۓ ہوٸے ہیں۔
کہ اگر کسی آسمانی آفت، جنگ یا کسی اور وجہ سے اُس ملک کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
تو وہ ملک سیڈ بنک سے سیڈ لے کر دوبارہ فصلیں اُگا سکیں تاکہ دوسرے ممالک پر مُنحصر نہ ہونا پڑے۔
سیڈ بنک پہاڑوں میں ایسی جگہ پر بنایا جاتا ہے جہاں درجہ حرارت اور کوٸی آسمانی آفت یا جنگ وغیرہ کے اثرات نہ ہوں یا کم سے کم ہوں۔
(گوگل پر سرچ کیا جا سکتا ہے)
لیکن اس سب کے برعکس ہم کہاں کھڑے ہیں۔
آگے ہم اپنی ملکی گائیوں کی نسل سے تقریباً ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اب کہیں ہم اپنے دیسی بیجوں سے ہی محروم نہ ہو جائیں۔
آخر ہم اور ہمارے ارباب اختیار کی سمجھ میں کب یہ بات آے گئی؟؟
مگر ہم لوگ پتہ نہیں کونسی دنیا میں رہتے ہیں
شاٸد علامہ اقبال نے یہ شعر ہمارے لیے ہی لکھا تھا کہ۔
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو اپنی حالت بدلنے کا
یہ حقیت ہے
اور حقیت ہمیشہ سخت ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں نہ کہ
لمحوں نے خطا کی تو صدیوں نہ سزا پاٸی۔
(اصلاحات کا خیر مقدم کیا جاتا ہے)

 

April 27, 2023

Why isn't Karachi the capital of Pakistan?

 کراچی پاکستان کا دارالحکومت کیوں نہیں ہے؟

 کراچی پاکستان کا پہلا دارالحکومت تھا اور یہ اسلام آباد کے مقابلے میں دارالحکومت کے لیے بہت آئیڈیل جگہ تھی۔لیکن پہلے یہ معلوم کریں کہ دارالحکومت اسلام آباد کیوں منتقل ہوا۔
ایوب خان ایک ایسا شخص تھا جو اپنی پسند کے حصول کے لیے عملی طور پر کچھ بھی کر سکتا تھا۔وہ ڈکٹیٹر تھا جس نے فاطمہ علی جناح پر پاکستان کو توڑنے اور پشتونستان کی تعمیر میں پشتونوں کی مدد کرنے کا الزام بھی لگایا۔ فاطمہ جناح ایک قابل احترام خاتون تھیں اور ان کے عنوان سے "مادر ملت" : مدر آف دی نیشن کا لقب ملا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی بھی ان کے خلاف ووٹ نہیں دے گا۔(وہ پشتونستان بنانے میں پشتونوں کی مدد کیوں کرنا چاہیں گی؟ وہ پشتون نہیں تھیں، پاکستان بنانے میں اس کا بڑا حصہ تھا، وہ اپنی تخلیق کے دو ٹکڑے کیوں کرنا چاہیں گی؟)
اور وہ یہاں تک گرا کہ اس نے قوم کی ماں سمجھی جانے والی خاتون کا ’’کردار کشی‘شروع کر دی۔
یہ وہ آرمی جنرل تھا جس نے پاکستان کے پہلے الیکشن میں دھاندلی کی اور آئی بی والوں نے مشرقی پاکستان میں کسی کو ایوب خان کے ووٹروں کو خریدنے کی کوشش میں گرفتار کر لیا جس سے مشرقی پاکستانیوں میں مغربی پاکستانیوں کے لیے نفرت پیدا ہوئی۔
اس سب پر پردہ ڈالنے کا نکتہ یہ ہے کہ ایوب خان کو کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی وہ جو چاہے کر لے اب اس نکتے پر کہ کس طرح کراچی دارالحکومت کے لیے زیادہ آئیڈیل جگہ تھی۔کراچی بہت بڑا ہے اگر کوئی کراچی پر حملہ کرتا ہے تو اسے کراچی پر قبضہ کرنے کے لیے اسلام آباد جیسے چھوٹے شہر کے  مقابلے میں زیادہ طاقت اور زیادہ کوششیں کرنا پڑیں گی جس کی جڑواں شہر راولپنڈی کے ساتھ بھی مقررہ حدود نہیں ہیں۔
کراچی کا سمندر کے قریب ہونا اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے کیوں کہ سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے تصور کریں کہ سمندر سے 100 ٹینک ایک بڑے جہاز پر آتے ہیں اور تصور کریں کہ زمینی راستے سے آتے ہیں؟ ایک کو صرف کیریئرز کو تباہ کرنا ہے ۔ٹینک فوجیوں سمیت خود ہی ڈوب جائیں گے۔1965 کی جنگ میں جب بھارتی طیاروں نے کراچی پر بمباری کی کوشش کی تو ایئرفورس نے بڑے علاقے میں سمندر پر بڑی  روشنی ڈالی اور بھارتی طیارے ہائی ٹیک کیمروں سے لیس نہ ہونے کے باعث بمباری کرتے رہے اور ان کا بارود ضائع ہو گیا ۔ اور پی اے ایف کا آسان ہدف بن گئے۔
اگر آپ میں سے کسی نے ایوب خان کی کتاب "فرینڈز ناٹ ماسٹرز" پڑھی ہے تو اس نے اس کتاب میں 12 نکات لکھے ہیں کہ
انہوں نے کیپٹل کیوں منتقل کیا اور اس نے ایک لفظ بھی نہیں لکھا جیسے کراچی لوکیشن آئیڈیل نہیں تھا، اس وقت ان کے پاس بڑے لنگڑے بہانے تھے۔ کراچی کے لوگ دیر سے جاگتے ہیں جس سے کاروبار وغیرہ متاثر ہوتے ہیں۔ایوب خان کے دور سے کراچی کو نظر انداز کیا گیا اور اب بھی کیا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی بنیادوں پر بڑے پیمانے   پر کرپشن کی گئی۔جبکہ کراچی ایئرپورٹ پہلے سے ہی A380 لینڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا درحقیقت کراچی ایئرپورٹ پاکستان کا   واحد ایئرپورٹ ہے جس کے پاس an-225 کو ہینڈل کرنے کا تجربہ ہے یہاں تک کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کبھی نہیں کرسکا

March 29, 2023

Molana Fazal ur Rehman and his family enjoying

 
واہ مولانا واہ!!!!!!
10/08/2018 آصف محمود
فضل الرحمن صاحب نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے اپنے ہی صاحبزادے اسد محمود کو نامزد کر دیا تو حیرت کیسی؟راہ حق میں استقامت کی یہ کہانی بہت طویل ہے۔ متحدہ مجلس عمل کا دور اقتدار تو آپ کو یاد ہی ہو گا جب یہ سب اکابرین بقلم خود کے پی کے میں نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مصروف تھے۔یہ انہی مبارک دنوں کی بات ہے۔
مولانا کے چھوٹے بھائی ضیاء الرحمن ان دنوں پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے۔مارچ 2005ء میں اچانک وزیر اعلیٰ کے حکم پر انہیں افغان ریفیوجیز کمیشن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔یہ سب اتنی عجلت میں کیا گیا کہ پہلے سے موجود پراجیکٹ ڈائریکٹر فیاض درانی کو ان کے منصب سے الگ کیے بغیر مولانا کے بھائی کو یہاں تعینات کر دیا گیا۔
فیاض درانی پوچھتا ہی رہ گیا کہ جو سیٹ خالی ہی نہیں اس پر کسی کو کیسے تعینات کر دیا گیا۔لیکن تعینات ہونے والا مولانا کا بھائی تھا اس لیے فیاض درانی دیواروں سے ٹکریں ہی مارتا رہ گیا۔ دو سال مزید گزرے۔
مولانا کے بھائی کو شاید یہ محکمہ کچھ زیادہ ہی پسند آ گیا۔چنانچہ وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے ایک خصوصی سمری تیار کی ،اکتوبر 2007 ء میںگورنر علی محمد جان اورکزئی نے اس سمری کو منظور کر لیا اور یوں ایک اسسٹنٹ انجینئر کو سپیشل کیس کے طور پر صوبائی سول سروس کا حصہ بنا دیا گیا اور انہیں اسی افغان ریفیوجیز کمیشن میں ایڈیشنل کمشنر لگا دیا گیا۔
2013ء میں مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو جے یو آئی اس حکومت کا حصہ بن گئی۔درانی صاحب نے وزیر کا حلف اٹھا لیا۔ 25 فروری 2014ء کو ایک نیا نوٹیفیکیشن جاری ہوا اور مولانا کے بھائی کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سپرد کر دی گئیں۔اور انہیں ڈی سی او خوشاب بنا دیا گیا۔
ایک اسسٹنٹ انجینئر مقابلے کا امتحان دیے بغیر سول سروس کا حصہ بھی بن گیا اور ڈی سی او بھی لگ گیا۔ اپریل 2016ء میں اسسٹنٹ انجینئر ، معاف کیجیے ڈی سی او صاحب ، کی خدمات سیفران کے حوالے کر دی گئیں اور سیفران نے انہیں کمشنر افغان ریفیوجیز کے عہدے پر تعینات کر دیا۔ یہ گریڈ 20 کی پوسٹ تھی جو مولانا کے بھائی کی خدمت میں پیش کر دی گئی۔
محمد عباس خان چیختا رہ گیا کہ یہ اس کی حق تلفی ہے۔ اس نے سی ایس ایس کر رکھا ہے، 19ویں گریڈ کا افسر ہے ، اٹلی سے ریفیوجی لاء کورس کر رکھا ہے ، آ کسفورڈ یونیورسٹی سے ’ فورسڈ مائیگریشن‘ کا سمر سکول اٹینڈ کیا ہوا ہے ۔اس منصب پر ایک ایسا شخص کیسے تعینات ہو سکتا ہے جس نے نہ سی ایس ایس کیا ہے ، نہ وہ اس گریڈ کا استحقاق رکھتا ہے ، نہ ریفیوجیز کے حوالے سے اس کے پاس کوئی مہارت ہے۔لیکن مولانا کے بھائی جان اس منصب پر تعینات فرما دیے گئے۔
مولانا کے ایک اور بھائی مولانا عطاء الرحمن ہیں۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب مولانا فضل الرحمن آصف زرداری کے ساتھ مل کر اسلامی انقلاب لانے کی کوششیں کرتے رہے تو ان دنوں مولانا عطا ء الرحمن وفاقی وزیر بنا دیے گئے۔2008ء سے 2010ء تک وہ وزیر سیاحت رہے۔ 1988ء میں پارٹی کے انتخابات ہوئے تو انہی کو الیکشن کمشنر بنا دیا گیا۔
جے یو آئی کے پی کے ، کے جوائنٹ سیکرٹری بھی انہی کو بنا دیا گیا۔ 2002ء میں یہ پارٹی کے ڈپٹی الیکشن کمشنر بنے ، اس کے بعد انہیں کے پی کے جماعت کا نائب امیر بھی بنا دیا گیا۔ 2003 ء اور 2008ء میں جب اسلامی انقلاب لانے کے لیے الیکشن لڑ کر اسمبلی میں جانے کا وقت آیا تو علمائے اسلام کی جمعیت میں کوئی اس قابل نظر نہ آ یا چنانچہ اس بھاری ذمہ داری کے لیے ایک بار پھر انہی کو چنا گیا۔
2013ء کے انتخابات میں مولانا فضل الرحمن نے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ضمنی الیکشن کا مرحلہ آیا تو ایک بار پھر نظر انتخاب اپنے ہی بھائی پر پڑی اور انہیں لکی مروت این اے 27 سے ٹکٹ جاری فرما دیا گیا۔یہ الگ بات کہ صاحب ہار گئے۔ سینیٹ کے انتخابات کا مر حلہ آیا تو مولانا نے ان کو ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں تک لا پہنچایا اور سینیٹر بنوا دیا۔
اس وقت مولانا صاحب سینیٹر ہیں۔ ایک مولانا اور بھی ہیں۔ یہ مولانا لطف الرحمن ہیں۔ کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو قائد حزب اختلاف کے لیے بھی علمائے اسلام کی جمعیت میں مولانا فضل الرحمن کے بھائی جان کے علاوہ کوئی بندہ نہ ملا چنانچہ مولانا لطف الرحمن اپوزیشن لیڈر قرار پائے۔
ایک اور مثال حاجی غلام علی صاحب کی ہے جو مولانا کے سمدھی ہیں اور سینیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ ہمارے دوست ذبیح اللہ بلگن نے خبر دی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے اپنے صاحبزادے کو ڈپٹی سپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے پر مجلس عمل میں تنائو ہے اور سراج الحق سمیت کچھ رہنما اس سے خفا ہیں۔
یہ ہمارے دوست کی خواہش تو ہو سکتی ہے ، اسے خبر ماننا بہت مشکل ہے۔سراج الحق کیسے خفا ہو سکتے ہیں؟ ان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی ہی کتنی ہے؟شاید صرف ایک ایم این اے؟ اپنی لایعنی اور بے سمت پالیسیوں سے انہوں نے جماعت اسلامی کا آملیٹ بنا دیا ہے اور ابھی تک استعفی نہیں دیا۔
وہ اگر اعتراض کریں اور آ گے سے مولانا پوچھ لیں کہ قاضی حسین احمد کے دور میں ان کی صاحبزادی کو آپ نے ایم این اے کیوں بنا یا تھاتو سراج الحق کے پاس کیا جواب ہو گا؟ صوبائی اور قومی اسمبلی تو اب ان کے لیے ایک خواب سا بن کر رہ گیا ہے حالت یہ ہے کہ کونسلر کا انتخاب ہوتا ہے اور لیاقت بلوچ اور فرید پراچہ کے صاحبزادے شیر اور بلے کے نشان پر الیکشن لڑتے ہیں۔
تو کیا شاہ اویس نورانی مولانا فضل الرحمن سے سوال کریں گے؟ اگر مولانا نے آگے پوچھ لیا کہ بیٹے کیا شاہ احمد نورانی مر حوم کے بعد پاکستان کے علماء کی جمعیت میں کوئی ایسا رجل رشید باقی نہ تھا جو آپ کو یہ ذمہ داری اپنے نازک کندھوں پر اٹھانا پڑی تو اویس نورانی کیا جواب دیں گے؟ یا اگر مولانا نے اویس نورانی اور سراج الحق کو اکٹھے بٹھا کر پوچھ لیا کہ حضرت آپ دونوں بتا دیں آپ میں سے یا آپ کی جماعتوں میں سے کس کو ڈپٹی سپیکر کے لیے نامزد کروں تو ان دونوں شخصیات کا متفقہ جواب کیا ہو گا؟
اب آپ بتائیے مولانا نے اپنے صاحبزادے اسد محمودکو ڈپٹی سپیکر کے لیے نامزد کر دیا ہے تو اس میں حیرت کیسی؟سیاست یہاں ایک کاروبار بن چکا ہے۔ کارکن مدرسے کا ہو یا سکول کا ، اس کا کام صرف نعرے لگانا اور اپنے اپنے قائدین کی مہم جوئی کا ایندھن بننا ہے۔
قائد محترم ایک طویل عرصے سے کشمیر کمیٹی کے چیئر مین تھے۔ سوال یہ ہے کہ کشمیر کاز سے آپ کی جو وابستگی ہے وہ تو سارے جہاں کو معلوم ہے اس کے باوجود کشمیر کمیٹی ہی آپ کا انتخاب کیوں ٹھہری؟ اور بھی تو بہت ساری کمیٹیاں تھیں ، مزاج اور ذوق کے مطابق کسی اور کو چن لیا ہوتا، مسلسل کشمیر کمیٹی ہی پر نظر کرم کیوں فرمائی جاتی رہی؟اس کا شاید سب سے آسان جواب یہ ہے کہ یہ صرف کشمیر کمیٹی ہے جس کے چیئر مین کا مرتبہ وزیر نہ ہوتے ہوئے بھی وفاقی وزیر کا ہوتا ہے۔
یہ واحد کمیٹی ہے جس کا سربراہ وفاقی وزراء کے لیے مختص کالونی میں قیام پزیر ہوتا ہے۔گاڑی ملتی ہے اور پٹرول بھی۔اب اگر صاحبزادے ڈپٹی سپیکر بن جاتے ہیں تو سرکاری مراعات اور نوازشات کا ایک جہان ہے جو پھر سے آباد ہو سکتا ہے۔
کیا آپ نے حمزہ شہباز صاحب کی گفتگو کبھی سنی؟یہ صاحب ابھی کل تک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے۔ کبھی آپ نے سوچا موصوف شریف خاندان میں پیدا نہ ہوتے تو کیا کر رہے ہوتے؟یہی سوال ان صاحب کے لیے بھی ہے جو ڈپٹی سپیکر کے امیدوار ہیں۔
سیاست شاید ان خاندانوں کا کاروبار ہے جو وراثت میں نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔اس وراثت میں اپنے حصے کے بے وقوف بھی تقسیم کیے جاتے ہیں ۔معلوم نہیں، یہ سیاست ہے یا کاروبار ۔۔۔۔۔۔
کاپی پیسٹ ۔۔

 

September 02, 2022

Chicken Dak Bungalow A Signature Bengali Delicacy

 

چکن ڈاک بنگلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Chicken Dak Bungalow
A Signature Bengali Delicacy:
ایک مزے دار اور اصلی چکن کری جس کی جڑیں برطانوی راج سے ملتی ہیں اور اس ڈش کو پہاڑی علاقوں کے ریسٹ اسٹاپ ڈاک بنگلوں میں بنایا جاتا تھا۔
ڈاک بنگلے ہمیشہ سے میری بہت پسندیدہ جگہیں رہے ہیں۔ انگریز دور کے زرد پتھروں سے بنے یہ بنگلے، بوگن ویلیا کی بیلوں سے گھرے ہوئے، اکثر نہروں کے کنارے قائم انگلش انداز تعمیر، ان کے بیڈ رومز، برآمدے، کچن، بالکونیاں۔ لکڑی کی بنی سفید جالیاں، کھپریل کی چھتیں، یہ سب مجھے انگریز کا دور یاد دلا دیتی ہیں۔ کاش کہ میں بھی اسی دور میں پیدا ہوا ہوتا جب کوئلے سے چلنے والے انجن دھواں اڑاتے کھیت کھلیانوں سے چھک چھک کرتے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوتے تھے۔ راستے میں جگہ جگہ وہی زرد پتھر سے تعمیر شدہ ریلوے اسٹیشنز، جھنڈی ہلاتا گارڈ، ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک فولادی اسٹینڈ پر لٹکی سرخ بالٹیاں جن میں ریت بھری ہوتی تھی۔ یہ اس زمانے میں آگ بجھانے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ ذرا آگے پانی کی ٹنکی جس سے آگے کو نکلا ہوا لمبا سا فولادی پائپ جس سے انجن میں پانی بھرا جاتا تھا۔ کیا زمانہ تھا؟ جب کرپشن کے بھوت نےسرکاری تعمیرات کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع نہ کیا تھا۔ اسی لیے برٹش دور کی یہ یادگاریں آج بھی فخر سے سر اٹھائے کھڑی ہیں اور موجودہ سرکاری منصوبوں کا مذاق اڑا رہی ہیں۔
یہ ڈاک بنگلے آج بھی ایسے علاقوں میں موجود ہیں جہاں آزادی حاصل کرنے کے ستر برس گزر جانے کے باوجود ہماری نام نہاد حکومتیں ڈھنگ کی سڑکیں تک نہیں بنا سکی ہیں لیکن یہ شاندار ڈاک بنگلے آج بھی ماضی کی شاندار داستان سنا رہے ہیں۔ ہندوستان کے جنگلات میں دور دراز علاقوں اور گھنے جنگلات کے درمیاں یہ ڈاک بنگلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انگریز کتنے قابل ایڈ منسٹریٹر تھے۔ ان کی تعمیر کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی سرکاری افسر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرے تو قیام و طعام کے لیے ایک آرام دہ رہائش اور گرم تازہ کھانا مہیا کرنے کے لیے ایک خادم موجود ہو۔ اس مقصد کے لیے ان ڈاک بنگلوں میں باقاعدہ چوکیدار اور خانساماں ملازم رکھے جاتے تھے جو کہ مقامی لوگ ہوتے تھے۔ یہ چوبیس گھنٹے اسی ڈاک بنگلے میں اپنے لیے مختص کوارٹروں میں رہتے تھے۔ کچھ چوکیدار اور خانساماں اپنی فیملی کے ساتھ سکونت پذیر ہوتے۔ اس کے علاوہ ان ڈاک بنگلوں میں کچھ بکریاں، گائے یا بھینس اور مرغیاں وغیرہ بھی مناسب تعداد میں پالی جاتی تھیں تاکہ صاحب کی آمد کی صورت میں طعام کے لیے تازہ انڈے اور دودھ و گوشت کے انتظام میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ ڈاک بنگلے اکثر مکمل فرنشڈ بیڈرومز، ڈائننگ روم اور بالکونی وغیرہ پر مشتمل ہوتے تھے بلکہ اکثر تو ان میں ہرے بھرے لان، پھلدار و پھولدار درخت، بیڈمنٹن کورٹ اور تفریح کے دیگر سامان بھی ہوتے تھے۔ ان ڈاک بنگلوں سے جڑی بے شمار داستانیں آپ آج بھی مختلف کتب میں پڑھ سکتے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں قائم ان ڈاک بنگلوں میں سے کچھ آسیبی بھی مشہور ہیں جہاں انگریز مرد و خواتین کے بھوت نظر آتے ہیں۔ کچھ ڈاک بنگلوں کے عقبی احاطوں میں انگریزوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔ اکثر شکاری پارٹیاں بھی اپنی مہم کے دوران ان ڈاک بنگلوں میں قیام کیا کرتی تھیں۔ ایسے ڈاک بنگلے اب بھی پاکستان کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں جن کا انتظام محکمہ جنگلات یا محکمہ انہار کے پاس ہے۔
آپ نے اکثر پرانی فلموں میں ایسی رومینٹک داستانیں دیکھی ہوں گی کہ ایک شہری بابو کی سرکاری نوکری بطور پولیس انسپکٹر یا ڈپٹی کمشنر کسی دور دراز کے گاؤں میں ہو گئی۔ شمی کپور اسٹائل کا ھیرو اپنے ماتھے پر پڑی لٹ اڑاتا جب وہاں اپنی جیپ لے کر پہنچتا ہے تو ڈاک بنگلے میں اس کی رہائش کا انتظام ہوتا ہے۔ ڈاک بنگلے کا بوڑھا چوکیدار اپنی جوان بیٹی کے ساتھ ایک کواٹر میں رہتا ہے۔ حسب معمول شہری بابو اس گاؤں کی الھڑ دوشیزہ کو دل دے بیٹھتے ہیں۔اور یوں اس فلم میں گاؤں کے پر فضا ماحول اور خوبصورت نظاروں کے درمیان تین چار طربیہ اور دو تین المیہ گیتوں بمع ہیروئن کے ڈانس کی گنجائش نکال لی جاتی ہے۔
چاندنی رات میں ایک کھجور کے درخت کے نیچے ہیرو ہیروئن کو اپنی بانہوں میں لیے اس کی آنکھوں میں جھانک رہا ہے اور ہیروئن جھکی جھکی نظروں اور رکی رکی سانسوں کے درمیان اس سے سوال کرتی ہے۔
’’سہر جا کے ہم کا بھول تو نہ جاؤ گے بابو؟‘‘
جس پر بابو تڑپ کر دو جھٹکے کھا کر اپنی نم آنکھوں جن میں آنسووں سے زیادہ ہوس ہوتی ہے بھرائ ہوئ آواز میں کہتا ہے۔’’گوری اگر تیرے لیے یہ جہان بھی چھوڑنا پڑے تو میں چھوڑ سکتا ہوں لیکن تیرا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
اس کے بعد دونوں مل کر “آرے آرے دل کے سہارے ، دل کی ہر دھڑکن تجھ کو پُکارے “ ٹائپ
کوئی دوگانا گاتے ہیں اور تماشائی خود کو ہیرو کی جگہ تصور کر کے محظوظ ہوتے ہیں۔ کئ ماہ گزر جاتے ہیں اور ابھی بابو کی خرمستیاں جاری ہوتی ہیں کہ بابو کا تبادلہ کسی دوسرے شہر ہو جاتا ہے۔ بابو جاتے جاتے چھم چھم روتی گوری کو چوم چاٹ کر وعدہ کر کے جاتا ہے کہ وہ شہر پہنچتے ہی اپنی والدہ کو سب کچھ بتا کر اس کا رشتہ لے کر آئے گا اور اس کو اپنی دلہنیا بنا کر ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جائے گا۔
بابو کو گئے سال بھر بیت جاتا ہے۔ گوری روزانہ کھڑکی سے بابو کی راہ تکتی ہے۔ ادھر شہر میں بابو کی شادی دھوم دھام سے ہو چکی ہے۔ آخر ایک بنگلہ، نئی چمچماتی کار، اور شہر کے مشہور سیٹھ کی ماڈرن بیٹی کا ہاتھ جب دستیاب ہو تو کون الو کا پٹھا ڈاک بنگلے کے چوکیدار کی بیٹی سے وفاداریاں نبھانے کی حماقت کرے گا۔ گاؤں میں گوری کا باپ شدید بیماری کی حالت میں ہے۔ اپنی زندگی سے نا امید ہو کر وہ گوری کی شادی اپنے بھتیجے سے کر دیتا ہے جو گاؤں میں تانگہ چلاتا ہے۔ شادی کی رات گوری کا شوہر دیسی دارو کے دو گلاس چڑھا کر وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے بعد تھک ہار کر خراٹے بھرنے لگتا ہے اور گوری کمرے کی کھڑکی سے لگ کر رم جھم برستے نینوں کے ساتھ ایک دلدوز قسم كا المیہ گیت گاتی ہے۔ کھڑکی کے سامنے چاند اب بھی کھجور کے درخت کی شاخوں میں اٹکا ہوا ہے۔
جی تو بات ہو رہی تھی ڈاک بنگلوں کی اور کہاں سے کہاں جا نکلی۔
میرا مقصد دراصل ایک انڈین سول سرونٹ کی اس تحریر سے آپ کا تعارف کروانا تھا جس کو انگریز دورحکومت میں ایسے ہی ایک ڈاک بنگلے میں قیام و طعام کا موقع ملا تھا۔ اس کو ڈاک بنگلے میں بطور ڈنر جو ڈش پیش کی گئی اسے ڈاک بنگلو کری کہا جاتا تھا۔ اور یہی کری اس تحریر کو آپ تک پہنچانے کا باعث بنا۔
اردو ترجمہ حاضر ہے۔۔۔
چکن ڈاک بنگلو
ڈاک بنگلو کری ایک ایسی ڈش ہے جو انگریزوں کے دور سے مقبول ہے۔
مجھے آج بھی اپنے بچپن میں چھٹیوں کے دوران ایک جنگل کے درمیان قائم ڈاک بنگلے میں گزاری ہوئی رات یاد ہے۔ سارا دن کی آوارہ گردی کے بعد شام سے زرا پہلے شدید تھکن کی حالت میں جب ہم ڈاک بنگلے پہنچے تو بنگلے کے چوکیدار نے ہماری تواضع چکن کری سے بھرے پیالے، ابلے ہوئے چاول، گرما گرم روٹیوں اور سلاد سے کی۔۔نہ جانے اس سالن میں کیا تھا، یا تو ہم بہت بھوکے تھے، یا شاید دیسی مرغ کا ذائقہ یا مومی شمعوں کی روشنی جو رومان پرور ماحول کی تخلیق کے لیے نہیں بلکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے روشن کی گئی تھیں۔ لیکن وہ ذائقہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ اس سالن کا ذائقہ مختلف ڈاک بنگلوں میں دستیاب اجزا کی فراہمی پر منحصر تھا۔ بد قسمتی سے اس سالن کی ترکیب اب شاید ہی کوئی جانتا ہو البتہ کچھ پرانے اینگلو انڈین خاندان یا ان خانساموں کی اولادیں اس کی ترکیب جانتے ہوں۔ میں کلکتہ کے ایک ریسٹورنٹ کا مشکور ہوں کہ اس میں ڈاک بنگلو کری کو کم و بیش اسی ترکیب سے تیار کیا جاتا ہے اور عوام میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
ڈاک بنگلو گوشت کے سالن عام طور پر دیسی مرغ،گائے کے گوشت، بکرے کے گوشت یا بھیڑ کے گوشت سے تیار کئے جاتے تھے، لیکن میں عموما دیسی مرغ پسند کرتا ہوں۔ اس سالن میں گوشت کے ساتھ ابلے ہوئے سالم انڈے اور آلو بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ تمام مصالحے تازہ کوٹ پیس کر شامل کیے جاتے ہیں۔ بازاری پسے مصالحوں سے وہ ذائقہ نہیں آئے گا۔ ڈاک بنگلے کے خانساماں تو مصالحے پیسنے کے لیے سل بٹہ یا کونڈی اور موصل کا استعمال کرتے تھے لیکن آپ گرائنڈر استعمال کر سکتے ہیں۔
آئیے آپ کو ڈاک بنگلو کری کی ترکیب بتاتے ہیں تاکہ آپ بھی انگریز دور کے اس لذیذ کری کا لطف اٹھا سکیں جو آج نایاب ہے۔
اجزا:
ایک کلو دیسی چکن، اگر دیسی نہ ملے تو کے اینڈ این ( K&N) کا بوٹی کٹ ایک کلو۔ چکن کو آٹھ سے دس بوٹیوں میں کاٹ لیں۔
پیاز باریک کٹی ہوئی دو کپ۔
ادرک کا پیسٹ دو ٹیبل اسپون۔
لہسن کا پیسٹ دو ٹیبل اسپون۔
زیرہ ایک چائے کا چمچ۔
ثابت دھنیا ایک چائے کا چمچ۔
ثابت سرخ مرچ پانچ سے دس عدد۔
تیج پات یا تیز پتہ دو سے تین عدد۔
دار چینی ایک انچ کے تین ٹکڑے۔
چھوٹی الائچی تین سے چار عدد۔
لونگ چھ عدد۔
دہی چھ ٹیبل اسپون۔
ہلدی پاوڈر ایک چائے کا چمچ۔
بڑی الائچی ایک عدد۔
دو درمیانے سائز کے آلو، آلو کے درمیان سے دو ٹکڑے کر لیں۔
سخت ابلے ہوئے انڈے چار عدد۔
کوکنگ آئل
نمک حسب ذائقہ۔
ترکیب:
مرغ کے ٹکڑوں کو دھو کر خشک ہونے کے لیے رکھ دیں۔
زیرہ، دھنیا، سرخ مرچ، ہلدی پائوڈر کو گرائنڈر میں ڈال کر ذرا سے پانی کی مدد سے پیسٹ بنا کر الگ رکھ دیں۔
دار چینی، چھوٹی بڑی الائچی،لونگ،کا گرئنڈر میں پیسٹ بنا کر الگ رکھ دیں۔
ایک بڑے بھاری تلے والے برتن میں تیل خوب تیز گرم کریں۔
اب اس تیل میں آلو فرائی کر کے ہلکا گولڈن برائون کرلیں۔اب آلو نکال کر الگ رکھ دیں اور اسی طرح ابلے ہوئے انڈوں کو گولڈن براؤن فرائی کر کے ایک طرف رکھ دیں۔
اب اسی تیل میں تیج پتہ اور پیاز ڈال کر گولڈن براؤن کریں۔
اب اسی پیاز میں لہسن ادرک کا پیسٹ شامل کر کے درمیانی آنچ پر دو سے تین منٹ بھونیں۔
اب اس میں زیرہ، دھنیا اور مرچ والا پیسٹ شامل کر کے ہلکی آنچ پر تین سے چار منٹ بھونیں۔ اب اس میں تھوڑے سے پانی میں پھینٹی ہوئی دہی شامل کر کے دو تین منٹ بھونیں، اب اس میں مرغ کے ٹکڑے اور نمک ڈال کر میڈیم آنچ پر مستقل چمچہ چلاتے ہوئے پانچ سے چھ منٹ بھونیں۔ اب آنچ ہلکی کر کے ذرا سا پانی ڈال کر ڈھک کر بارہ سے پندرہ منٹ اتنا پکائیں کہ چکن تقریبا گل جائے۔
اب اس میں ایک کپ گرم پانی اور فرائی آلو ڈال کر ڈھک دیں اور ہلکی آنچ پر اتنا پکائیں کہ آلو اور مرغ اچھی طرح گل جائیں۔
اب اس میں انڈے اور لونگ الائچی والا پیسٹ شامل کر کے اچھی طرح مکس کریں۔ دو سے تین منٹ ہلکی آنچ پر دم کریں۔
گرم نان اور ابلے چاول کے ساتھ پیش کریں۔
یہ چکن آج بھی کلکتہ اور مغربی بنگال کے معروف ریسٹورنٹس کی اسپیشلٹی ہے۔
اگر صحیح طریقے سے بنایا گیا تو یقین جانیے ایسا سالن آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔
تحریر✍🏻
ثنااللہ خان احسن
 








 

 

April 06, 2022

Paulownia, Empress Tree Very Important Timber High Price

 #پلونیا9501

پلونیا جاپان کا مقامی درخت ہے۔ یہ چائنہ اور کوریا میں بھی بکثرت پایا جاتا ہے۔ اسکی لکڑی ایک ہزار سال سے استعمال ہوتی آرہی ہے۔ اسکو کیری ٹری یا ایمپرس ٹری بھی کہتے ہیں۔ اسکی لکڑی بہت پائیدار,قیمتی اور بہت سی خصوصیات کی حامل ہوتی ہے۔ پائولونیا کو چائنہ کی ساگوان بھی کہتے ہیں کیونکہ اسکی لکڑی کو بھی دیمک نہیں لگتی نہ نمی جذب کرتی ہے اور نہ آگ پکڑتی ہے۔ اسکی لکڑی میں گانٹھیں نہیں ہوتیں۔ اور ایسی لکڑی ہی فرنیچر بنانے کے لیے چائہیے ہوتی ہے۔پلونیا کی 15 سے زیادہ اقسام دنیا میں پائی جاتی ہںیں جن میں کچھ اقسام خوبصورتی, لینڈسکیپ, پھولوں یا چھائوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور چند ہائبرڈ اقسام بھی ہیں جو خاص ٹمبر یعنی لکڑی کے حصول کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
پلونیا دنیا کا سب سے تیزی سے بڑا ہونے والا درخت ہے جس کا نام گینس ورلڈ ریکارڈ بک میں دیا ہوا ہے۔ پلونیا ایک ڈسیڈیس پودا ہے جو سردیوں میں اپنے پتے گرا دیتا ہے اور شدید سردی منفی 20 ڈگری درجہ حرارت میں بھی زندہ رہتا ہے۔ اور گرمی کی بات کریں تو 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک بہترین چلتا ہے۔ یعنی پاکستان کے تقریباً تمام علاقوں میں لگایا جا سکتا ہے۔ ۔
پلونیا کی لکڑی انتہائی ہلکی لیکن مضبوط ہوتی ہے۔ اسکو لکڑیوں کی ایلومینیم کیا جاتا ہے کیونکہ یہ مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی ہلکی ترین عمارتی لکڑی ہے۔ اسکی ایک کیوبک میٹر لکڑی کا وزن 310 کلوگرام ہے۔اس درخت کی لکڑی کاٹنے اور خشک ہونے کے بعد سکڑتی نہیں۔ جبکہ کچھ درختوں کی لکڑی خشک ہونے کے بعد سکڑ جاتی ہے اور ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ -پلونیا کی کاشت دنیا کے بہت سارے ملکوں میں ہو رہی ہے جس میں امریکہ, چائنہ, جاپان, کوریا, متحدہ عرب امارات, یورپ کے تقریبا تمام ملک اور مصر میں اسکی بہت بڑے پیمانے پے کاشت ہوتی ہے اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایکڑوں پے اسکی کاشت ہوتی ہے۔ پلونیا کی لکڑی کا استعمال امریکہ اور یورپ کے ممالک میں بہت زیادہ ہے۔پلونیا کی لکڑی فرنیچر کا سامان بنانے, لکڑی کے گھر, گھروں کی پینلنگ , الماریاں , کھیلوں کا سامان, میوزک کے آلات, لکڑی کے برتن, کشتیاں اور پلائی بنانے کے کام آتی ہے۔ اس لکڑی کی بنی ہوئی پلائی مہنگی ہوتی ہے کیونکہ اسکی پلائی کی کور بہت صاف اور لمبی ہوتی ہے اور اسکو نمی نہیں لگتی نہ دیمک لگتی ہے اور نا اسکو آگ لگتی ہے۔ اس کے علاوہ اسکو ہوائی جہازوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے کیونکی اسکا وزن بہت کم ہوتا ہے۔ پلونیا کی لکڑی کو آگ نہیں لگتی اور ڈائریکٹ اسکو جلایا نہیں جا سکتا اس لیے اسکی لکڑی کے چھوٹے ٹکڑے کر کے اور پیلٹ بنا کے اسکو بھٹوں اور چولہوں میں جلایا جاتا ہے پھر یہ بہت تیز شعلے کے ساتھ جلتی ہے۔
اس درخت کو انتہائی خوبصورت ہلکے گلابی رنگ کے پھول لگتے ہیں جن سے بڑی مقدار میں شہد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ موسم بہار میں پھول کھلتے ہیں اور ایک ایکڑ سے 500 کلو تک شہد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں پلونیا کا شہد بھی مہنگا ملتا ہے۔ خوبصورت پھول لگنے کی وجہ سے اسکو آرائشی پودے کے طور بھی لگایا جاتا ہے۔
پلونیا کے جنگل میں انٹرکراپنگ بھی کر سکتے ہیں جس میں آپ چارہ وغیرہ لگا سکتے ہیں۔ اس درخت کے پتے جانور خصوصاً بھیڑ بکریاں بڑے شوق سے کھاتی ہیں۔ یعنی درختوں کے ساتھ ساتھ چند بھیڑ بکریاں بھی اس کے ساتھ پالی جا سکتی ہیں۔
پلونیا کا ایک پودا جب ایک جگہ پے لگ جاتا ہے پھر وہاں پر دوبارہ پودا لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ جب پودا زمین لے لیول کے برابر رکھ کے درخت کو کاٹ لیں تو یہ دوبارہ پودا بن کر نکل آتا ہے اور دوبارہ پودا لگانے کی ضرورے نہیں ہوتی اور اس طرح یہ 8 فصلیں دیتا ہے یعنی 40 سے 50 سال تک دوبارہ پودے لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
یہ ایک ماحول دوست درخت ہے جو دوسرے درختوں کی نسبت 6 گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ اگر اسکو بڑے پیمانے پے لگا لیا جائے تو دنیا کی تیزی سے بڑھتی گرمی کو کم کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسکی لکڑی بیچ کر پیسا کمایا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں یہ درخت پہلے سے موجود نہیں ہے اس لیے لوگوں اس کا پتا نہیں اور نا اسکی لکڑی کی مارکیٹ ہے۔ لیکن جتنی مہنگی اسکی لکڑی ہے یہ جب مارکیٹ میں آئے گا تو فرنیچر اور پلائی میں بہت مانگ ہو گئی
پلونیا بہت مضبوط اور لچکدار درخت ہوتا ہے۔ شدید طوفان کو برداشت کرتا ہے اس لیے اسکو ونڈ بریکر کے طور پر بھی لگایا جاتا ہے۔ آپ اسکو اپنی زمینوں کے چاروں طرف لگا سکتے ہیں جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ آندھی اور طوفان سے آپ کی فصلیں اور باغ محفوظ رہیں گے۔
پلونیا کے درخت کی جڑیں مضبوط اور گہری ہوتی ہیں جو زمینی کٹائو کو روکنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ نہروں اور دریائوں کے کناروں کے ساتھ زمینی کٹائو کو روکنے کے لیےلگایا جا سکتا ہے۔
موسم کے حساب سے پاکستان کے تقریبا تمام علاقوں میں پلونیا لگایا جا سکتا ہے۔ میرا زمین اس کےلیے سب سے اچھی ہے۔ ریتلی زمینوں میں بھی لگایا جاتا ہے۔ ہلکی پتھریلی زمینوں ہلکی کڑوے پانی والی زمینوں میں بھی لگایا جا سکتا ہے۔ کم ذرخیر اور تھوڑے خراب پانی والی زمینوں میں بھی لگایا جاتا ہے۔ صحرائی علاقوں میں بھی لگایا جا سکتا ہے پر ایسے علاقوں میں پودا ڈرپ سسٹم پے لگایا جائے تو بہتر ہے اگر ڈرپ سسٹم میسر نہیں تو پانی کا بندوبست ہونا چائہیے۔ مصر میں یہ ڈرپ اریگیشن کے تحت صحرائی علاقوں میں بھی لگایا جاتا ہے۔ اسکی جڑیں زمین میں 45 فٹ کی گہرائی تک چلی جاتی ہہیں اور گہری زمین سے بھی پانی اور خوراک حاصل کر لیتی ہے۔
چھ سال میں ہائبرڈ پودا تیار ہوتا ہے اور ایک ایکڑ میں اگر 420 پودے لگائے گئے ہیں تو 6 سال میں ایک ایکڑ میں سے 280 کیوبک میٹر یعنی 9885 کیوبک فٹ لکڑی حاصل ہوتی ہے۔
پلونیا کے درخت کا لپیٹ 6 سال میں 4 فٹ ہو جاتا ہے اورصاف گیلی30 سے 35 فٹ کی ہوتی ہے۔ اگر پلونیا کا ایک درخت بھی دس ہزار کا بکے تو بھی ایک ایکڑ سے چالیس لاکھ سے زیادہ منافع حاصل کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی بغیر محنت کیے۔ یہ تو کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اسکا ایک ایکڑ کتنے میں بکے گا لیکن انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمتیں آپ خود چیک کر لیں.
پلونیا 9501 ورائٹی کے پودے دستیاب ہیں
اس ورائٹی کو پورے پاکستان میں لگایا جا سکتا ہے
اس کی لکڑی دنیا کی مہنگی ترین لکڑیوں میں شامل ہے
یہ 17- سینٹی گریڈ سے لے کر 55 سینٹی گریڈ تک کے علاقوں میں لگایا جا سکتا ہے
ندیم_احمد خاں
03003548444
نعیم احمد خاں
03477565266

 

Total Pageviews