February 01, 2018

بیٹیاں گھر کی زینت




ایک علاقہ میں ایک بابا جی کا انتقال ہو گیا ، جنازہ تیار ہوا اور جب اٹھا کر قبرستان لے جانے لگے تو ایک آدمی آگے آیا اور چارپائی کا ایک پاوں پکڑ لیا اور بولا کہ مرنے والے نے میرے 15 لاکھ دینے ہیں۔ پہلے مجھے پیسے دو پھر اس کو دفن کرنے دوں گا۔
اب تمام لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں، بیٹوں نے کہا کہ مرنے والے نے ہمیں تو کوئئ ایسی بات نہیں کی کہ وہ مقروض ہے، اس لیے ہم نہیں دے سکتے، متوفی کے بھائیوں نے کہا کہ جب بیٹے ذمہ دار نہیں تو ہم کیوں دیں۔
اب سارے کھڑے ہیں اور اس نے چارپائی پکڑی ہوئی ہے۔ جب کافی دیر گزر گئی تو بات گھر کی عورتون تک بھی پہنچ گئی۔
مرنے والے کی اکلوتی بیٹی نے جب بات سنی تو فورا اپنا سارا زیور اتارا اور اپنی ساری نقد دقم جمع کر کے اس آدمی کے لیے بھجوا دی اور کہا کہ اللہ کے لیے یہ رقم اور زیود بیچ کے اس کی رقم رکھو اور میرے ابو جان کا جنازہ نہ روکو۔ میں مرنے سے پہلے سارا قرض ادا کر دوں گی۔ اور باقی رقم کا جلد بندوبست کر دوں گی۔
اب وہ چارپائی پکڑنے والا شخص کھڑا ہوا اور سارے مجمع کو مخاطب ہو کے بولا۔۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے مرنے والے سے 15 لاکھ لینا نہیں بلکہ اسکا دینا ہے اور اس کے کسی وارث کو میں جانتا نہ تھا تو میں نے یہ کھیل کیا۔ اب مجھے پتہ چل چکا ہے کہ اس کی وارث ایک بیٹی ہے اور اسکا کوئی بیٹا یا بھائی نہیں ہے۔
اب بھائی منہ اٹھا کے اسے دیکھ رہے ہیں اور بیٹے بھی۔
سبق۔1۔ بیٹی والے خوش نصیب ہیں۔ لہذا بیٹی کی پیدائش پہ خوش ہونا چاہیے نہ کہ غمگین۔
2۔ بیٹیوں کی شریعت میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔

#Copy

GOOD WIFE



 میرے محلے میں ماسٹر عتیق صاحب رہتے ہیں، 44 سال کی عمر میں اُن کی شادی ہوئی
ایک دن فرماتے ہیں کہ جب میں 23 سال کا تھا تو ڈائری میں 40 ایسی خوبیاں نوٹ کی جو میری مُتوقع بیوی میں ہونی چاہیے
وقت گزرتا گیا لیکن ایسی بیوی نہ مِل سکی جس میں 40 خوبیاں ہوں،  اور ماسٹر عتیق ہر سال ایک دو خوبیاں کاٹتے رہے کہ چلو یہ خوبیاں نہ بھی ہوں تو لڑکی قبول ہے
بالاآخر 40 سال کے ہوگئے اور ڈائری میں صرف ایک خوبی لکھی رہ گئی
"عورت ہو" 😂😂😂

محرم رشتے جنسی درندے کیونکر بنتے ہیں؟




🛑محرم رشتے جنسی درندے کیونکر بنتے ہیں؟🛑

⭕کیا آج کی بچیاں اپنے محرم رشتوں سے بھی محفوظ نہیں؟
⭕ماحول یا معاشرے میں یہ بگاڑ کیونکر پیدا ہو رہا ہے؟
⭕بچیاں جائیں تو کہاں جائیں؟


📛 ان سوالات کے پیدا ہونے کی وجہ کے پیچھے کچھ وجوہات و واقعات ہیں ۔

✍🏻جن کا ذکر آگے ہوگا. ہم سب اپنے تئیں ایک اسلامی معاشرے کے باسی ہیں جہاں ہمیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے. ہمارے نام مسلمانوں والے اور کام بھی کسی حد تک مسلمانوں والے ہیں. باقی بھول چوک اللہ معاف کرنے والا ہے.

🔺میری یہ سوچ تب تک تھی
جب تک میری والدہ نے محلے کی مسجد کی انتظامیہ کی اجازت سے اپنے محلے کی عورتوں کو نماز و سورتیں سکھانے اور بچیوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کا آغاز نہیں کیا تھا.

 🌴عورتوں کی آمد شروع ہوئی اور والدہ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر دل کے پھپھولے پھوٹنے لگے. ان کے گھروں کی ایسی بھیانک کہانیاں سننے کو ملیں کہ والدہ سکتے میں آ جاتیں، اور تمام دن پریشان اور غمزدہ رہتیں.

📛 کئی عورتوں کے مطابق ان کے شوہر انھیں کئی بار طلاق دے چکے ہیں، مگر جانے نہیں دیتے.
وہ خود بھی اتنی ہمت جتا نہیں پاتیں کہ اپنے بچے اور گھر بار چھوڑ کر بے آسرا ہو جائیں.

نتیجتا خاموشی سے حرام کاری کی زندگی بسر کر رہی ہیں. کچھ کے مطابق وہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہ رہی ہیں۔
 اور کبھی ان کی بچی کسی کزن کے "ہتھے" چڑھ گئی یا کبھی چچا تایا ان سے "چھیڑ چھاڑ" کرتے ہیں، اور شوہر کو اپنے بھائی پر پورا "بھروسہ" ہے، تو اسے بتانے کی ہمت نہیں،
اور ان کی سردیاں گرمیاں راتوں کو بچیوں کی چوکیداری میں گزرتی ہیں، جبکہ کچھ کے مطابق بچیوں کا باپ ہی گندی نظر رکھتا ہے.

🔺سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس راستے پر کیوں جا رہا ہے؟
🔺اور اس صورتحال سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

✍🏻مفہوم حدیث ہے کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو.

📛اور انٹرنیٹ میڈیا اس وقت ہمارے گھروں کی حیا ختم کر کے بیٹیوں اور باپوں، بہنوں اور بھائیوں، چچاؤں اور بھتیجیوں، ماموؤں اور بھانجیوں کو ایک ساتھ بٹھا کر اخلاق باختہ ڈرامے اور فلمیں دکھانے میں کامیاب ہو چکا ہے.

🔺کچھ عرصہ قبل جسٹس سعید الزمان صدیقی کے ایک بیان پر کافی لے دے ہوئی، اور مذاق اڑایا گیا کہ باپ اور بیٹی کا ایک کمرے میں تنہا بیٹھنا اسلامی اعتبار سے درست نہیں،
 جبکہ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے. میں یہ نہیں کہتی کہ ہمارے معاشرے کا ہر باپ جنسی درندہ ہوتا ہے مگر اس سچائی سے بھی انکار نہیں کہ جب کچھ ذہنی و جنسی بیمار مردوں پر شہوت کا غلبہ ہوتا ہے،
 تب وہ باپ بھائی، چچا یا ماموں نہیں رہتے،

 اورشیطان کے وار سے بلعم باعور جیسے بڑے بڑے عابد نہیں بچ سکے تو ہم کیا ہیں؟ میری خالہ کے گھر ایک غریب دائی صدقہ لینے آتی ہے.
ایک بار میری موجودگی میں وہ آئی، اور باتوں باتوں میں خالہ کو کوڈ ورڈز میں کہنے لگی کہ اس ماہ میں نے تین کیس "خراب" کیے، جن میں سے ایک باپ، دوسرا بھائی اور تیسرا ایک چچا کا تھا.

🔺یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے نو بالغ لڑکوں یا گھر کے مردوں میں ہیجان سب سے پہلے اپنے گھر کی مستورات کے نامناسب لباس دیکھ کر پیدا ہوتا ہے.

🔺مائیں، بیٹیاں اور بہنیں گہرے گلے، آدھی آستینوں، اور چھوٹے چاکوں والی قمیضوں کے ساتھ چست پاجامے پہن کر بنا دوپٹے کے گھر میں پھریں گی تو شیطان کو اپنا وار کرنے کا بھر پور موقع ملے گا.

🌴اسی لیے اسلام نے عورت کو سینہ چھپانے اور اوڑھنی ڈالنے کا حکم دیا ہے.گھر کا ماحول ماں پاکیزہ بنائے گی تو اولاد حیا دار ہوگی. حیا اپنے ساتھ انوار و برکات لازما لاتی ہے ورنہ جو تربیت میڈیا ہمارے گھروں کی کر چکا ہے، اس کے یہی ثمرات اور نتائج دیکھنے کو ملیں گے.

 🔺ایسے معاشرے میں جہاں شادی کی عمر 28، 30 سال ہو، وہاں 14 سال کا ایک نو عمر لڑکا گھر کی عورتوں کے حلیوں سے حظ کشید کرکے مشترکہ خاندانی نظام کا "فائدہ" کیونکر نہ اٹھائے گا.

🔺اس تحریر میں طبقہ اشرافیہ کی بات نہیں ہو رہی کیونکہ
ان کے ہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے.
یہاں موضوع بحث لوئر یا مڈل کلاس دنیا دار گھر ہیں جن میں پرائیویسی کا تصور نہیں،
 وہاں ایسے واقعات رونما ہوجا تے ہیں اور "ڈھانپ" دیے جاتے ہیں،
کیونکہ زنان خانہ اور مردان خانہ اب ہمارے نزدیک آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا ہے،

اور ایک یا دو کمروں میں رہائش پذیر خاندان پرائیویسی کے مفہوم سے بھی واقف نہیں. جدیدیت کی دوڑ میں حیا سے غفلت برت کر جو نتائج سامنے آ رہے ہیں، ان کا سدباب نہ کیا گیا تو حالات مزید بھیانک ہوتے جائیں گے.

🛑 اس سلسلے میں کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں:
بچیاں اور مائیں ساتر لباس استعمال کریں. فیشن کریں مگر ستر ڈھانپنے کے اہتمام کے ساتھ. فیشن صرف ہاف سلیوز، گہرے گلوں یا چست پاجاموں کا نام نہیں. 🛑

🌴حرمت مصاہرت کے مسائل بچیوں، بچوں اور باپوں کو ازبر ہونے چاہییں. 🌴

بچیاں بلوغت کے بعد والد کو نہ دبائیں نہ ہی کوئی اور جسمانی خدمت کریں یا لپٹیں. جسمانی خدمت بیٹے یا مائیں کریں اور اگر اشد ضرورت یا مجبوری ہو تو اس بارے میں گنجائش کی تفصیلات و مسائل کے لیے مفتیان کرام سے رجوع کریں.

📛بیٹیاں باپ کے ساتھ بیٹھ کر اکیلے یا سب کے ساتھ ٹی وی دیکھنے سے پرہیز کریں. اور مائیں بھی اپنے چودہ پندرہ سال کے بیٹوں سے جسمانی کنکشن یعنی گلے لگانے یا ساتھ لٹانے سے پرہیز کریں.

📛 باپ بیٹیوں کے کمرے میں دروازہ کھٹکھٹا کر آئیں یا دور سے کھنکھارتے ہوئے آئیں،
تاکہ بچیاں اپنا لباس درست کر لیں. یہی صورت ایک یا دو کمروں کے گھر میں رہائش پذیر ہو کر بھی اختیار کی جا سکتی ہے.

📛 باپ بچیوں کو سوتے سے مت جگائیں، اور یہ ذمہ داری والدہ سر انجام دے، کیونکہ سوتے میں لباس بےترتیب ہو سکتا ہے.

📛بھائیوں یا محرم رشتوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں ہاتھ مارنا، پیار میں گلے لگنا یا سلام کے لیے ہاتھ ملانا صرف ڈراموں فلموں کی حد تک ہی رہنے دیں.

 ایک اسلامی معاشرے کے مکینوں کے لیے اس کی کوئی گنجائش نہیں.
 مگر اب یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بہنوئیوں یا کزنز سے ہاتھ ملانا اور شادی بیاہ میں ان کے یا محرم رشتوں کے ساتھ ناچناگانا معیوب نہیں سمجھا جاتا، تبھی شیطان اپنے داؤ پیچ آزما لیتا ہے.

📛لاڈ میں چچاؤں کے گلے جھول جانا، ماموؤں سے بغل گیر ہونا، باپ بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر انڈین ڈرامے دیکھنا جن کی کہانی ہی ناجائز معاشقوں سے شروع ہو کر ناجائز بچوں کے جنم سے آگے بڑھتی ہے، اور حمل و زچگی کے مناظر عام سی بات ہیں، ان سب سے بچیں.

🌷بچیوں کو سکھائیں کہ وہ خود کو جتنا ڈھانپ کر رکھیں گی اور ریزرو رہیں گی، اتنا ہی ان کے ایمان، قلب و چہرے کے نور میں اضافہ ہوگا اور کسی کو ان سے "چھیڑ چھاڑ" کی بھی جرات نہ ہوگی.

یاد رہے کہ یہ سب اقدامات حرف آخر نہیں، بلکہ احتیاطی تدابیر ہیں، جنہیں اپنانے کے باوجود اگر کوئی محرم رشتہ جنسی درندہ بن جائے تو اس کا علاج سنگساری یا بندوق کی ایک گولی ہے تاکہ بقیہ درندوں کی حیوانیت کو لگام دی جا سکے.....⚠
‏‎…

اجنبی تحریر   (کاپی پیسٹ)

January 06, 2018

Online Business


یہ تحریر میں کاپی پیسٹ کررہا ہوں الحمداللہ میرا اپنا آن لائن لیڈیز شوز برانڈ ھے جس کی انفارمیشن انشاءاللہ جلد میں اپنی وال پر پوسٹ کرونگا تاکہ میرے بہن بھائی اس سے مستفید ہوسکیں اور جان سکیں کہ اپنا کاروبار شروع کرنا کس قدر آسان ھے
یہ تحریر مکمل طور پر نا سہی لیکن کافی حد تک آن لائن کام شروع کرنے کے متعلق معلومات دیتی ھے جس بھائی کی یہ تحریر ھے اگر میں اسکو جانتا ہوتا تو ضرور ٹیگ کرکے داد و تحسین دیتا!

ازقلم: احسان شیخ
آن لائن پیسے کمانا تقریبا ہر پاکستانی کاخواب ہے۔۔لیکن اس خواب کی تکمیل کیسے کی جائے۔۔اس کا انھیں علم نہیں ۔۔لہذا کبھی تو وہ کلکس کے پیچھے بھاگتے ہیں کہ فلاں سائٹ پر بیٹھ کر ایڈز کلک کرتے رہو پیسے ملیں گے اور کبھی کوئی طریقہ اپناتے ہیں۔۔لیکن ہاتھ کچھ نہیں آتا۔۔
آن لائن پیسے کمانے کا سب سے آزمودہ اور کارگر ایک ہی نسخہ ہے جس کی مدد سے آپ ماہانہ چالیس ہزار سے پانچ لاکھ بھی کما سکتے ہیں۔۔اور وہ ہے" آن لائن بزنس۔"
فیس بک کو آپ ہزار برائیوں کی جڑ کہہ سکتے ہیں لیکن اپنی زندگی یا اپنا ہر قسم کا کیرئیر سنوارنے کا جتنا موقع فیس بک دیتی ہے آپ کو کوئی دوسرا پلیٹ فورم نہیں دے گا۔۔
اس تحریر میں ، میں آپ کو بتاوں گا کہ کن اصول و ضوابط پر عمل پیرا رہ کر آپ آن لائن بزنس شروع کر سکتے ہیں۔۔۔اور اسے کامیاب بنا سکتے ہیں۔۔

نمبر ایک۔۔۔۔۔۔ریسرچ
سب سے پہلے اپنا فوکس تلاش کریں۔۔کہ آپ آن لائن بزنس میں کیا بیچنا چاہتے ہیں۔اس کے لیے آپ اپنے شہر یا کسی قریبی بڑے شہر کا دورہ کریں۔۔مختلف لوگوں سے ملیں،۔ریسرچ کریں کہ کون سی ایسی چیز ہے جو یہاں بنتی ہے اور کہیں اور نہیں بنتی یا اگر کہیں اور بنتی ہے تو اس جیسی نہیں ہے۔۔جیسا کہ کمالیہ کا کھدر مشہور ہے۔۔فیصل آباد کا چیئرمین کا لٹھا مشہور ہے۔۔۔دیہی علاقوں کا خالص شہد مشہور ہوتا ہے۔ملتان کی سردیوں والی شال مشہور ہیں۔۔۔اپنا پورا ریسرچ ورک کریں اور فیصلہ کر لیں کہ کیا بیچنا ہے یا کیا کیا بیچنا ہے۔یعنی ایک پراڈکٹ پر فوکس کرنا ہے یا مختلف چیزیں بیچنی ہیں۔۔

۔۔۔
نمبر دو۔۔۔فیس بک پیج
اپنے بزنس کے حساب سے یعنی جو کچھ بھی بیچنے کا آپ نے سوچا ہے اس کے حساب سے اپنے بزنس کا ایک اچھا سا نام سوچ لیں اور اسی نام کا فیس بک پر ایک پیج بنا لیں۔۔پیج بنانے کے بعد اگلے دن اس پیج پر ایک اچھا سا لوگو (پروفائل پکچر) لگوائیں جو کہ آپ خود بھی ڈیزائن کر سکتے ہیں یا کسی سے کروا سکتے ہیں۔۔یہ یاد رہے کہ پروفائل پکچر یعنی لوگو پر آپ کے بزنس یا کمپنی کا نام لکھا ہونا چاہیے۔۔اس سے اگلے دن آپ اپنے پیج کا ڈیزائن شدہ فیس بک کور اپ لوڈ کریں۔۔۔اور فیس بک کور پر آپ کے بزنس یعنی کمپنی کا نام، آپ کی پراڈکٹس کا نام، آپ کا موبائل نمبر اور پراڈکٹس کی ایک آدھی تصویر ضرور ہونی چاہیے۔۔اور اس ے اگلے دن اپ اس پیج پر اپنی پہلی پراڈکٹ بیچنے کے لیے لگا دیں۔۔۔میں نے یہ سب کام ایک ایک دن کے فرق سے اس لیے کہے ہیں کہ اگر آپ ایک ہی دن میں پیج بنا کر اسی دن کور اور لوگو لگا کر اسی دن بیچنا شروع کر دیں گے تو بہت سے لوگ آپ کے پیج کو ایک دھوکے کے سواء کچھ نہیں سمجھیں گے ،،وہ یہی کہیں گے کہ آج ہی پیج بنا ہے کہیں فیک نہ ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔
نمبر تین۔۔۔کانٹینٹ رائٹنگ
جس وقت آپ پیج پر اپنی کوئی پراڈکٹ بیچنے کے لیے اس کی تصاویر اپ لوڈ کر رہے ہیں آپ نے کوشش کرنی ہے کہ اس پراڈکٹ سے متعلق اچھا سا مفصل تعارف لکھیں اور اس پراڈکٹ کی خوبیوں کو واضح کریں ۔۔ اور لوگوں کو بتائیں کہ مارکیٹ میں موجود اس سے ملتی جلتی چیزوں سے آپ کی چیز کیسے برتر ہے۔۔۔اور کیسے یہ آپ کے یا آپ کے قریبی شہر کی خاص پراڈکٹ ہے۔۔پاکستان کی شاید دس فیصد آبادی انگلش پڑھ سکتی ہے لیکن پچانوے فیصد آبادی اردو پڑھ سکتی ہے۔۔اپنی پوسٹ اردو میں لکھیں ۔۔۔پچانوے فیصد کو اپنی مارکیٹ بنائیں نا کہ پانچ فیصد کو۔۔
۔۔۔۔۔
نمبر چار۔۔۔۔۔۔ایمانداری
جب آپ کو آپ کی پراڈکٹ کے لیے کوئی رابطہ کرے تو کبھی بھی ،کبھی بھی، گاہگ سے جھوٹ مت بولیں۔۔اپنی چیز کی جو خامی ہو انھیں کھل کر بتائیں۔۔چاہے گاہگ جاتا ہے تو جائے لیکن جھوٹ اور بددیانتی مت کریں۔۔آپ میرا یقین کریں کہ ایک جائے گا تو سو آئیں گے۔۔۔کوئی بھی چیز خامیوں سے پاک نہیں ہوتی۔۔۔آپ کی پراڈکٹ کی خامی کے بارے اگر کوئی پوچھے تو بتائیں۔۔جیسے اگر آپ کپڑا سیل کر رہے ہیں تو گاہگ کو بتائیں کہ ایک یا دو سیزن بعد اس کپڑے کا رنگ اترنا شروع ہو جائے گا۔۔لیکن وہیں اسے یہ بھی کہیں کہ سر پندرہ سو کا سوٹ ایک یا دو سیزن نکال جائے گا کیا یہ کافی نہیں۔۔۔آن لائن اسٹورز کو پاکستان میں دھوکہ سمجھا جاتا ہے۔۔کوشش کریں کہ آپ ان لوگوں میں سے بنیں جو اپنی عوام کا آن لائن اسٹورز پر اعتماد بحال کر سکیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمبر پانچ۔۔۔۔فری ڈیلیوری۔۔کیش آن ڈیلیوری
آپ نے اپنی پراڈکٹ کا ریٹ ایسا رکھنا ہے کہ ڈیلیوری چارجز اس میں شامل ہوں۔۔گاہگ کو جب آپ قیمت بتائیں گے تو وہ پریشان ہو جائے گا کہ اتنا مہنگا لیکن جب آپ بتائیں کہ فری ڈیلیوری ہے اس کا دکھ آدھا کم ہو جائے گا۔۔ویسے بھی پاکستانی عوام کو سب سے زیادہ جو لفظ ٹریگر کرتا ہے وہ ہے "فری"۔۔۔۔
کیش آن ڈیلیوری رکھیں۔۔بہت کم لوگ ہوں گے جو آپ کو پہلے پیسے بھیج کر آپ پر اعتماد کریں گے۔۔۔ایک یا دو کلو ہو تو ٹی سی ایس سے بھیجیں۔۔ٹی سی ایس کا ریٹ ایک کلو کا دو سو تیس روپے ہے۔۔آپ ٹی سی ایس میں اپنا اکاونٹ کھلوا لیں۔۔وہ آپ کے نمائندے کے طور پر مال دے کر پے منٹ لے لیا کریں گے۔۔اگر کوئی آڈر کر کے مکر جائے اور وصول نہ کرے تو مال واپس آ جائے گا۔۔زیادہ سے زیادہ نقصان آپ کے ڈیلیوری چارجز کا ہو گا جو کہ ایک کلو کا دو سو تیس روپے ہیں۔۔مال دو کلو سے زیادہ ہو تو ڈاکخانے سے بھیجیں تا کہ آپ کا زیادہ خرچہ نہ ہو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نمبر چھے۔۔۔۔۔۔۔ پوسٹ بوسٹ۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بک کا بہترین آپشن ہے کہ یہاں پوسٹ بوسٹ ہو جاتی ہے یعنی جن لوگوں نے آپ کا پیج نہیں بھی لائک کر رکھا ان کی وال پر بھی شو ہو گی۔۔پانچ یا دس ڈالر کی پے منٹ لگا کر (پے منٹ لگانے کا طریقہ گوگل کر لیں) اپنی پوسٹ کو بوسٹ کریں۔۔اور بوسٹ کے دوران اپنی آڈینس (ٹارگٹ مارکیٹ) پاکستان منتخب کریں۔۔اگر آپ کی پراڈکٹ خواتینی ہے تو صرف خواتین کی جنس منتخب کریں اگر مردانہ ہے تو مرد ورنہ دونوں کو منتخب کریں۔۔۔اٹھارہ سال سے ساٹھ سال تک کی عمر منتخب کریں۔۔۔اب پاکستان میں اٹھارہ سے ساٹھ سال والے جتنے لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں ان میں سے چند (جتنے پیسوں کی بوسٹ ہو گی اس حساب سے) سینکڑوں یا ہزاروں کی وال پر آپ کی پراڈکٹ کی مشہوری شو ہو گی۔۔جہاں آپ کے پیج کے لائکس بڑھیں گے وہیں آپ کے بزنس کے لیے کالز یا میسجز بھی آئیں گے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
نمبر سات ۔۔۔۔۔موبائل ایپس۔۔۔۔
فیس بک پیجز کے لیے پیجز نام کی ایک ایپ ہے اسے انسٹال کریں اور ہمہ وقت اپنے پیج پر ایکٹو رہیں۔۔۔آپ کی کوشش ہو کہ آپ اس ایپ کو دکان سمجھیں اور وہاں جم کر بیٹھ جائیں۔جو بندہ کمنٹ کرے اس کا کمنٹ لائک کریں اور اس کا لازمی جواب دیں۔۔کوئی نائس کولیکشن یا نائس بھی لکھے تو اس کا کمنٹ لائک کر کے آپ جواب میں شکریہ لکھیں۔۔۔اگر کوئی آپ کی پراڈکٹ خریدنے میں دل چسپی ظاہر کرے۔۔۔اسے فورا ان باکس میں میسج کریں اور کمنٹ کے جواب میں لکھیں کہ چیک ان باکس۔۔۔ان باکس میں اس بندے کا سب سے پہلے شکریہ ادا کریں کہ اس نے آپ کی پراڈکٹ میں دل چسپی دکھائی پھر اس سےایک یا د ومنٹ ان باکس میں بات کر کے اس بندے کا نمبر لیں اور فورا کال کریں۔۔کمنٹس اور ان باکس کی نسبت بہترین ڈیلنگ کال پر ہوتی ہے۔۔۔آپ اوپنلی کسی کا نمبر مت مانگیں۔۔۔ان باکس میں نمبر مانگیں۔۔لیکن ان باکس میں مکمل ڈیلنگ مت کریں۔۔ڈیلنگ فون پر کریں اور ایمانداری سے اپنے کسمٹر کو یقین میں لائیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمبر آٹھ۔۔۔۔۔۔صبر و تحمل۔۔۔۔۔۔
چائنہ کی ایک کہاوت ہے کہ "اگر آپ کو مسکرانا نہیں آتا تو دکان مت کھولیں۔۔" آپ کی پرادکٹس والی پوسٹ پر ایسے ایسے فضول اور دل جلا دینے والے کمنٹس آئیں گے کہ آپ کو بہت غصہ آئے گا لیکن پریشان نہیں ہونا۔۔یہ بزنس ہیں۔۔۔اس میں صبر و تحمل سب سے زیادہ ضروری ہے۔۔جو یہ لکھے کہ بکواس مال، لوٹ رہے ہو،،،انھیں سکون سے وہیں جواب دیں کہ ہم شرمندہ ہیں آپ کے معیار کا کچھ نہیں لا سکے۔۔۔فون پر بھی اگر کسٹمر گرم ہو تو خود کو قابو میں رکھیں۔۔آپ کے والدین یا آپ کی اولاد کے رزق کا سوال ہے۔۔۔برداشت کا دائرہ بڑھانا ہو گا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمبر نو۔۔۔۔۔۔۔واپسی پالیسی۔۔
آپ اپنی واپسی پالیسی نرم رکھیں۔۔گاہگ کو کہیں کہ اگر میرا مال آپ کو پسند نہیں آیا تو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اسی حالت میں جیسا آپ کے پاس گیا تھا۔۔مجھے واپس بھیج دیں۔۔آپ کا سارے پیسے واپس مل جائیں گے۔۔یہ بات آپ نے مال بھیجنے سے پہلے ڈیلنگ کے دوران کہنی ہے اور اس پر عمل بھی کرنا ہے۔۔۔یہ بات کسٹمر کے آپ پر یقین میں اضافہ کرے گی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
نمبر دس۔۔۔۔پرموشنز۔۔۔

کبھی کسی خوشی کے موقع کی مناسبت سے جیسا کہ عید ہو یا آپ کے پیج کے دس یا بیس ہزار لائکس ہو جائیں تو کسٹمرز کے لیے پرموشنز لگائیں ایسے موقع پر اپنا پرافٹ چاہے تو سو روپے یا ڈیڑھ سو روپے کم کر دیں۔۔۔۔ایسے میں پیج کے لوگ بھی یکسانیت سے بور نہیں ہوں گے کہ آپ صرف ایک ہی چیز ایک ہی ریٹ پر بیچے جا رہے ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
نمبر گیارہ۔۔۔۔۔۔فیڈ بیک
جب آپ کا مال کسٹمر تک پہنچ جائے تو فون کر کے ان سے فیڈ بیک لیں کہ کیا انھیں چیز مل گئی ہے اور وہ مطمئن ہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ اگر آپ کے پاس چار سے پانچ ہزار روپے ہیں تو اپنے وزٹینگ کارڈز چھپوائیں۔۔اپنی کمپنی کے شاپر(پلاسٹک بیگز) چھپوائیں اور جب پراڈکٹ بھیجیں تو اپنی کمپنی کے پلاسٹک بیگ میں بھیجیں اور اندر اپنا ایک کارڈ رکھ دیں۔۔اس سے کسٹمر پر اچھا امپریشن پڑے گا کہ یہ کوئی عام سی کمپنی یا پیج نہیں ہے اور آپ کی کمپنی یا پیج کی پبلسٹی بھی ہو گی۔۔
...............
اور میں یہ سب محض باتیں نہیں کر رہا ۔۔پچھلے جمعتہ المبارک ستائیس اکتوبر دو ہزار سترہ تک میں ایک جاب لیس انجینیئر تھا۔لیکن میں اپنا پورا ریسرچ ورک کر چکا تھا کہ میں نے کیا بیچنا ہے ۔۔سوموار کے روز میں نے "الحرم فیبرکس" کے نام سے ایک پیج بنایا۔اور سب سے پہلے کمالیہ کا مشہور کھدر بیچنا شروع کیا۔۔۔۔اور اللہ پاک کے کرم سے ان چار دنوں میں، میں ایک سو اڑتالیس سوٹ بیچ چکا ہوں۔الحمد للہ علی کل حال۔
۔۔۔۔۔۔
پاکستانیوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔۔یہ کسی کو سیدھے راہ نہیں ڈالتے۔۔۔ جیسے یہ پوسٹ مجھ پر قرض تھی کہ میں لوگوں کو ایک اچھے راستے ڈالوں جس کا مجھے فائدہ ہو رہا ہے باقیوں کو بھی فائدہ ہو ویسے ہی یہ پوسٹ ہر پڑھنے والے پر ایک قرض ہے۔۔۔اسے اپنے بے روزگار بہن بھائیوں، دوست و احباب یا پھر پارٹ ٹائم کام کی چاہ رکھنے والے لوگوں تک پہنچائیں۔۔۔اور اس منفی رائے کو بدل دیں کہ پاکستانی کسی کو سیدھے راہ نہیں

January 02, 2018

ہر انسان اپنی کمپنی سے پہچانا جاتا ہے


کمپنی
انسان اپنی کمپنی سے پہچانا جاتا ہے . آپ کس طرح کے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں. کس طرح کے لوگ آپ کے دوست ہیں. اس سے دوسرے لوگ آپ کے بارے میں اندازہ لگاتے ہیں کہ آپ کیسے ہیں . آپ جیسے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں ، آپ کچھ ویسے ہی ہو جاتے ہیں. اگر آپ کے دوست اچھے ہیں تو ان کا آپ پہ بھی اثر ہوتا ہے . اگر آپ کے دوست برے ہیں تو آپ بھی کچھ نہ کچھ برے بن جائیں گے. میں نے بہت اچھے اچھے نوجوانوں کو خراب ہوتے دیکھا ہے .. صرف اس لئے کیونکہ ان کی کمپنی بری تھی . اسی طرح میں نے ایورج قسم کے نوجوانوں کو بہت اچھا بنتے بھی دیکھا ہے . وجہ پھر سے وہی .. کہ ان کی کمپنی اچھی تھی . اور یہ بات لڑکے لڑکیوں ، دونوں پہ صادق آتی ہے .
اگر آپ نوجوان ہیں تو کوشش کریں کہ اچھے لوگوں میں اٹھیں بیٹھیں جو پڑھنے اور کام کرنے والے ہوں. اگر آپ والدین ہیں تو اپنے بچوں کے دوستوں پہ کڑی نظر رکھیں کہ وہ کون ہیں . اگر آپ والد یا والدہ ہیں اور آپ کے پاس وقت ہی نہیں اپنے بچوں کو وقت دینے کا یا یہ جاننے کا کہ آپ کا بچہ کیسے دوست بنا رہا ہے تو آپ بطور والد یا والدہ ، اپنے فرائض سے بدترین غفلت کا ارتکاب کر رہے ہیں. میں بچپن سے ہی پڑھائی میں بہتر تھا ،بچپن میں سرکاری اسکول کے چھپن بچوں کی کلاس میں اکثر فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتا . کالج میں آئے تو سائنس رکھ کے اپنے کیریئر کا بیڑا غرق کر لیا. یہ سوچے بغیر کہ فزکس کیمسٹری میں اپنا دماغ چلتا بھی ہے یا نہیں . اس کے بعد کراچی آنا ہوا . میں ہمیشہ سے اپنے ہم عصر لوگوں سے اپنا موازنہ کرتا رہتا ہوں. میرا ایک کزن پڑھائی میں بہت اچھا تھا . اس نے میٹرک میں مجھ سے زیادہ نمبر حاصل کئے تھے . مجھے یقین تھا کہ یہ آگے چل کے پڑھائی کے میدان میں بہت زیادہ کامیاب ہو گا. لیکن پھر وہ لڑکا ایسے دوستوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا جو میٹرک کے بعد سے ہی کام کرنا شروع کر چکے تھے .پڑھائی کے نام سے ہی ان لڑکوں کو دندل پڑ جاتی . یہ لڑکے چھوٹی موٹی نوکریاں کرتے ، اور منہ میں پان گٹکا رکھ کے کہتے ... چھوڑو یار پڑھائی میں کیا رکھا ہے . کوئی کام کرو . ان کی دیکھا دیکھی میرے کزن نے پڑھائی چھوڑی اور کراچی کے ریگل سینٹر میں کمپیوٹر کی دکان پہ ایک معمولی نوکری کرنا شروع کر دی .اتنا ہونہار سٹوڈنٹ تھا اور پڑھائی چھوڑ کے ایک معمولی نوکری پہ لگ گیا . میرا بھی حال کچھ اچھا نہ تھا.٢٠٠٢ میں بی کام شروع کیا لیکن پڑھائی سے زیادہ ویڈیو گیمز اور آوارہ گردی میں لگا رہتا . جیب میں پلا دھیلا نہیں ہوتا تھا . والد سے پیسے لے لے کے خرچ کرتا . میرے خاندان کا مستقبل میں انحصار مجھ پہ تھا لیکن مجھے پتا نہیں تھا کہ میں آگے کیریئر کیسے بناؤں. نہ کوئی گائیڈ کرنے والا تھا . دوسری طرف رحیمیارخان میں میرے دوست جو ہمیشہ پڑھائی میں مجھ سے پیچھے رہتے تھے . پڑھ لکھ کے خوب ترقی کر گے. کوئی امریکہ میں جاب کر رہا ہے کوئی سعودیہ، میں کوئی ڈینٹسٹ بن گیا کوئی ڈالرز میں کما رہا ہے . اور میں ان سے ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا تھا .وہ پڑھ لکھ گے ، میں دریا کے کنارے بیٹھا ڈرتا رہا کہ اگر میں نے دریا کو عبور کرنے کی کوشش کی تو میں ڈوب جاؤں گا . میں سوچتا تھا کہ پہلی بات ... والدین کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں پڑھا نے کے لئے . لیکن اس سے بھی بڑا مسلہ یہ تھا کہ فیل ہونے سے ڈرتا تھا . میں ایسی ٹیم تھی جو ڈر کے مارے میدان میں ہی نہیں اترتی تھی. میرے باقی کزنز پڑھائی میں تو ویلے تھے لیکن ان کے والد نے ان کو بزنس کروا دیے تھے . میرے کزنز خوب پیسے کماتے اور پھر پورے خاندان میں شوخیاں مارتے . اپنے پیسوں کی ، اپنے مہنگے موبائل فونز کی . میں نے اتنے میں رو دھو کے بی کام کر لیا .بی کام کے دوران میں نے کلاس کے سب سے ہونہار طالب علم اویس سے دوستی لگا لی . اویس چند مارکس سے کراچی یونیورسٹی میں پوزیشن مارنے سے رہ گیا. لیکن پھر بھی اس نے اوور بہت اچھا سکور کیا . اویس پڑھائی تو میں ہونہار تھا ہی لیکن انگلش اس کی کمال تھی . میری انگلش انتہائی خراب تھی . اویس ...بطور دوست ... اچھی کمپنی تھا اور میری اور اس کی دوستی آج تک قائم ہے . اس نے مجھے بہت سی اچھی باتیں سکھائیں . آج اویس فیصل بنک ہیڈ آفس کراچی میں ایک اچھی مینجمنٹ لیول کی پوزیشن پہ کام کر رہا ہے . وہ ہمیشہ سے ٹاپ لیول کا کام کرتا .کلرکوں والا کام نہیں کرتا تھا . اس کے ساتھ کے لوگ آج بھی بنکوں کی برانچوں میں کلائنٹس کی منتیں ترلے کر رہے ہوتے ہیں کہ کچھ ڈپازٹ جمع کروا دیں. خیر جناب .. ٢٠٠٦ آیا . میں اب بھی یہی سوچتا تھا کہ میں کر کیا رہا ہوں . میں صرف اپنا وقت ضائع کر رہا ہوں . اور انہی دنوں میں مجھے بریک تھرو مل گیا . میرے کزن نے کوشش کر کے میری جاب ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں کروا دی . میں ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کا اسسٹنٹ تھا . میری جاب انٹرنل آڈٹ کے شعبہ میں تھی. کمپنی میں لوگ بہت اچھے تھے . انتہائی نائس ، پڑھے لکھے لوگ. یہ ورک پلیس انتہائی مزے کی جگہ تھی .بات پھر وہی آ جاتی ہے کہ انسان پہ اس کی کمپنی کا اثر ہوتا ہے . ہمارے آفس میں دس اکاؤنٹس کے ایمپلائیز تھے . میرا باس اندر اپنے روم میں بیٹھتا بڑی شان سے کیوں کہ وہ چیف فنانشل آفیسر تھا . دیکھنے میں ایک دم ڈاکٹر شاہد مسعود جیسا لیکن بھرم اس کے آسمانوں پہ ہوتے تھے . میں نے سوچا ... بننا ہے تو بندہ اس جیسا بنے ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ . یہ کیا اکاؤنٹس کلرک بن کے رہنا .
اب میں نے فیصلہ کیا کہ میں دوبارہ پڑھائی شروع کروں گا . پارٹ ٹائم پڑھوں گا . جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا .. وہیں سے جوڑوں گا . چاہے میں دس دفع فیل کیوں نہ ہوں .. میں نے پڑھائی نہیں چھوڑنی .. جب تک کوالیفیکیشن مکمل نہ کر لوں. میں وہ ٹیم بنوں گا جو کبھی ہار نہیں مانے گی .اگر ہاریں گے تو پھر سے حملہ کریں گے اور دوسری بار ... تیسری بار ... یا چوتھی بار میں جیت کے دکھائیں گے .. qualify کر کے دکھاؤں گا .
دنیا کو ہے دکھانا ... ہم سے ہے یہ زمانہ ...
ان سب کے منہ بند کروں گا جو کہتے ہیں کہ تم کچھ نہیں کر سکتے .
دو سال کے بریک کے بعد پڑھائی دوبارہ سٹارٹ کی . انتہائی کمزور انگلش کو امپروو کیا ، قلیل تنخواہ سے پڑھائی کا خرچہ کیسے خود پورا کیا ، چارٹرڈ اکاونٹینسی کے انتہائی مشکل پپیرز ... سٹریٹ اٹمپٹس میں بنا فیل ہوۓ پاس کئے . اور وہاں سے پھر میں یہاں تک آیا .
تو یہ تھی میری کہانی . تو دوستو .. اپنی کمپنی صیحح رکھو . اچھے لوگوں کی کمپنی میں رہو . اگر آپ والدین ہو تو بچوں کو بھی اسی طرف لے کے آؤ. انشا الله کامیابی آپ کے ... یا آپ کے بہنوں بھائیوں یا بچوں کے قدم چومے گی .

تحریر : احمد فہیم

Total Pageviews