August 25, 2024

Basil Seeds (تخم ملنگا کی کاشت اور فائدہ )

تخم ملنگا :-
اسلام علیکم
جیسا کہ ہر فارمر چاہتا ہے کہ اسکا خرچ کم محنت کم اور فصل منافع بخش ہو تو دوستو آج ہم ایسی ہی اک فصل کی بات کرتے ہیں جسکا خرچ آٹے میں نمک کے برابر ہے اور دام سونے کے ۔ دوسرے لفظوں میں آپ اسے بلیک گولڈ بھی کہہ سکتے ہیں
دوستو تخم ملنگا کی فصل پروفٹ ایبل فصل ہے جسکا خرچ بہت کم اور آمدن زیادہ ہے
آج کل مہنگائی کا دور ہے اور عموماً چھوٹے کاشتکار کے پاس فصل کو مکمل تیار کرنے کےلئے سرمایہ کی کمی ہوتی ہے کھاد پہلے تو ملتی نہیں اگر مل بھی جائے تو بلیک میں ڈبل دام پہ لینا پڑتی ہے ہمارے اکثر علاقوں میں نہری پانی نہیں ہے اگر ہے بھی تو پورا رقبہ سیراب نہیں ہو پاتا اور ہمیں ٹیوب ویل وغیرہ پہ انحصار کرنا پڑتا ہے جہاں ہزار روپے فی گھنٹہ ریٹ ملتا ہے ان سب اخراجات کے علاؤہ رسٹ سمٹ جیسی بیماری کسان کی تیار فصل چھین لیتی ہے اگر بچ بھی جائے تو گورنمنٹ فصل کا وہ ریٹ نہیں دیتی جو کسان کا حق ہے
میری تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ گندم کاشت نہ کی جائے گندم کاشت کریں ضرور کریں کیونکہ گندم کے بغیر ہمارہ گزارا نہیں ہے لیکن میرا ہر اس چھوٹے فارمر کو یہ مشورہ ہے کہ اپنی ضرورت کی گندم کاشت کر کے آپ باقی زمین پر تخم ملنگا کاشت کریں تاکہ آپ کا خرچ بھی بچے اور پرافٹ بھی ہو تاکہ آپ کا معاشی بیک اپ آپ کو سپورٹ کرے آپ اپنی زندگی گزار سکیں آئیے اسکے خرچ کا جائزہ لیتے ہیں:-
خرچ ###
زمین کی تیاری=14000
سیڈ تخم ملنگا=12000
پانی۔              =3000
جڑی بوٹی سپرے=1800
لیبر کٹائی=8000
تھریشر=11500
ٹوٹل خرچ=50300
ایوریج تخم ملنگا* ایوریج ریٹ 8سے10من*30سے 50 ہزار فی من
تھریشر کٹ توڑی=8000
ٹوٹل آمدن=
یہ تمام تر ڈیٹیل ایک ایکڑ کی کاشت پر آج کے اخراجات کو مدنظر رکھ کر بتائی گئی ہے باقی مختلف علاقوں میں اس میں کچھ فرق ہو سکتا ہے
اب آتے ہیں اسکی کاشت کی طرف تاکہ جو دوست اسکی کاشت سے واقف نہیں انکو انکے سوالات کے جوابات مل سکیں
1-تخم ملنگا کی کاشت کے لیے تمام تر زمینیں جنکا نظام نقاسی بہتر ہے موزوں ہیں سوائے شورزدہ اور برفانی اور بارشی علاقے۔
2-زمین کی تیاری عام گندم،لوسن اور برسین وغیرہ کی فصل کی کاشت کی طرح ہوتی ہے خشک زمین تیار کر کے پانی لگائیں آبپاشی اچھی کریں کیونکہ کہ یہ پہلی اور آخری آبپاشی ہے اسکے بعد کوئی آبپاشی نہیں کرنی پڑتی البتہ ریتلی زمین کی اک آبپاشی ہو سکتی ہے فصل کی ضرورت کو دیکھ کر. جب زمین مکمل پانی جذب کر لے تو 6کلو سیڈ فی ایکڑ چھٹہ کر دیں زمین کی وٹیں مضبوط بنائیں تاکہ کھیت میں پانی داخل نہ ہو۔
ایسی زمین میں کاشت نہ کریں جس میں چوڑے پتے والی جڑی بوٹی زیادہ ہوتی ہو کیونکہ چوڑے پتے کی جڑی بوٹی کا سپرے نہیں کیا جاسکتا.
3.جب فصل 40 دن کی یا 2 انچ کی ہو جائے تو نیا سویرا کا ایکسل سپرے کریں۔
4۔ ایسی زمین جو بہت زیادہ کمزور ہو اس میں اگر دوسری آبپاشی کرنا مناسب ہو یا بارش ہو جائے تو20کلو یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرسکتے ہیں یاد رہے میرا اور زرخیز زمین کو بلا وجہ کھاد اور آبپاشی کی ضرورت نہیں ہوتی یا اسکا آپ فصل کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بعض اوقات نقصان ہو رہا ہوتا ہے.
4۔ جب فصل 110 دن کی ہو جائے یا خشک ہونے لگے تو کٹائی کرا لیں خشک کرکے تھریشر کرا لیں۔
کٹائی یکمشت نہیں ہوتی جو جو حصے تیار ہوتے جائیں کٹائی کراتے جائیں ۔
5۔سیڈ کی مقدار طریقہ کاشت کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے لیکن یہ طریقہ کاشت کم خرچ اور زیادہ پیداوار دینے والا ہے ہم نے تین طریقے اختیار کیے لیکن سب سے زیادہ بہتر یہ طریقہ رہا یہ تمام تر معلومات میری اپنی کاشت اور اپنے تجربات کی بنیاد پر دی گئی ہے باقی مختلف علاقوں میں مختلف دوستوں کا مختلف تجربہ ہو سکتا ہے
نوٹ:- تخم ملنگا کی کاشت اکتوبر سے شروع ہو جائے گی  
بیسک سیڈ منگوانےکسی بھی معلومات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں شکریہ
03075592298  
 محمد آصف اعوان 


January 25, 2024

Army Chief Said Imran Khan Sale the Pakistan ہم غیر سیاسی ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے

 

 غیر سیاسی لوگوں کے بیان  ملک کے مقبول لیڈر عمران خان کے بارے میں جس پر 200 کے لگ بھگ جعلی مقدمات بنا کر اڈیالہ جیل میں بند کر رکھا ہے۔

کہا گیا وہ ملک توڑنا چاہتا ہے۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ ملک چلانے کے لیے کون بہتر ہے پچھلا حکمران ملک توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ سب فرمانے والے صاحب شاید گجنی فلم سے متاثر ہیں ورنہ ابھی چند برسوں پہلے آواری ہوٹل میں نواز شریف نے  ایک پریس کانفرنس کی تھی۔

سر

آپ کی ایک سیاسی جماعت کی مخالفت نے آپ کے کردار کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ جو لوگ پاک آرمی کو خوشی سے سیلیوٹ کرتے تھے اُن کے دلوں میں نفرت پیدا ہو گئی ہے۔ 

آپ جیسے چند جرنیلوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں۔ پاک فوج میں ہمارے جو بھائی بیٹے نوکری کر تے ہیں وہ خوش ہیں۔ نہیں صاحب وہ آپ کے اقدامات سے بہت مایوس ہیں۔ 

اگر اُن کا بس چلے تو وہ آپ کی غیر قانونی  چالوں کا جواب دیں۔ مگر وہ ملک اور آئین کے لیئے اطاعت کر رہے ہیں۔ کیونکہ  وہ حکم عدولی کریں گے تو ملک کا دفاع خطرے میں پڑ جائے گا۔ 

آپ اندھے بیل کی طرح طاقت کے نشے میں دھت عمران خان اور اُس کی پارٹی کے خلاف غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ اُن کا جائز اور قانونی حق چھین کر غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔  پلیز  سر  ابھی بھی وقت ہے سنبھل جائیں۔ 

یہ نہ ہو کہ عوام آپ کے مد مقابل کھڑے ہو جائیں پھر کیا کریں گے۔  جن کی حفاظت کے لئے آپ کو بھرتی کیا گیا ہے۔ اُن کے خلاف آپ کہاں تک جائیں گے۔  یہ انجام پاکستان کے لیئے تباہ کن ہو گا۔

سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں صرف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں۔  آپ کو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔

شکریہ سر   




 

 

 

Malik Riaz Behria Town Announcement for Public

 


سربراہ بحریہ ٹاﺅن ملک ریاض کا اہم بیان

 بسم اللہ الرحمن الرحیم میرے عزیز ہم وطنوں اسلام علیکم :۔

 میں آج بہت مجبور ہوکر بحریہ ٹاﺅن کے تمام ملازمین ،مکینوں ،بزنس مینوں اور دیگر تمام شراکت داروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سے مخاطب ہوں اور اپنا موقف اور مقدمہ بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔

ارباب اختیار کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ دنوں مجھ پر ایک سیاستدان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے حد سے زیادہ دباﺅ ڈالا گیا تاکہ میں بھی ایسا کرکے باقی سب لوگوں کی طرح کلیئر ہوجاﺅں لیکن میں نے اپنے ضمیر کی آواز کو سنتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ میں سیاست بازی میں کسی کا بھی فریق نہیں بننا چاہتا میں ذاتی طور پر بھی یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے کسی بھی قسم کی سیاسی کارروائی میں ملوث نہیں ہونا چاہیے ۔

 جو کچھ بحریہ ٹاﺅن ، میرے اور میرے خاندان کے ساتھ اس وقت ہورہا ہے اس پر انتہائی رنجیدہ ہوں کیونکہ یہ صرف مجھ پر اثرانداز نہیں ہوگا بلکہ اس کا اثر ان ہزاروں ملازمین اور کاروباری افراد پر بھی پڑے گا جو اس عظیم الشان منصوبے کے ساتھ منسلک ہیں میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں بحریہ ٹاﺅن کے اکاﺅنٹس منجمند کرکے اور پراپرٹیز ضبط کرکے ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں

 جس سے ان ملازمین سے منسلک لاکھوں خاندان کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں نے سخت محنت سے پاکستان میں جدید رہائشی منصوبوں کومتعارف کروایا اور دنیا بھر میں رئیل اسٹیٹ کے بزنس میں بحریہ ٹاﺅن کا ایک منفرد مقام ہے ۔ 

میں ارباب اختیار کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے یا بحریہ ٹاﺅن کو آپ جس طریقے سے ڈبونا اور ضبط کرنا چاہتے ہیں تو پھر شائد ہی پاکستان میں کوئی بزنس کرنے آئے ۔ میں یہ بھی واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہر دور میں مختلف حیلوں بہانوں سے مجھے بلیک میل کیا گیا میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ پاکستان میں کاروبار کرنا کتنا مشکل ہے

 ہر شخص جو اقتدار میں رہا یا ارباب اختیار کا حصہ رہا وہ منہ کھول کر اپنا حصہ مانگتا ہے ۔ اب میں عوام کے سامنے 190ملین پاﺅنڈ اور القادر ٹرسٹ کیس کی بھی حقیقت رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ریکارڈ درست ہومجھے جب 190ملین پاﺅنڈ واپس ملے تو وہ اس بات کا ثبوت تھا کہ برطانوی ایجنسی این سی اے نے مجھے ہر قسم کے الزام سے کلیئر کردیا اور مجھ پر کسی قسم کا کوئی مجرمانہ فعل کا الزام بھی عائد نہ کیاگیا تو یہ 190ملین پاﺅنڈ سپریم کورٹ کو دینے کیلئے خود کہا تاکہ میں اس زمین کی ادائیگی کرسکوں جس کا ریٹ مارکیٹ ریٹ سے بھی چار گنا زیادہ لگایا گیا ۔

 میں آپ سب کو یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ نہ تو میں کوئی ہیروئن سمگلرز ہوں نہ پیسے کسی غلط کاروبار سے کمائے اور یہی وجہ تھی کہ تمام تحقیقات مکمل کرنے کے بعد برطانوی کرائم ایجنسی نے مجھے تمام الزامات سے کلیئر کیا ۔ اب مجھے اور میری فیملی کو تنگ کیا جارہا ہے پورے ملک میں بحریہ ٹاﺅن کے ہاﺅسنگ منصوبے بند کردیئے گئے ہیں صرف اس وجہ سے کہ میں وعدہ معاف گواہ کیوں نہیں بنا 

میں عمر کے جس حصے میں ہوں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اگر اسی طریقے سے پاکستان میں بزنس مینوں کے ساتھ سلوک روا رکھا گیا تو پھر ملک میں سرمایہ کاری کوئی بھی نہیں لائےگا ۔

 آپ سب جانتے ہیں کہ میں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھی غیر معمولی کردار ادا کیا زلزلہ ہو یا سیلاب ، تعلیم کا معاملہ ہو یا صحت کا ، غریب لوگوں کی مدد کرنی ہو یا انہیں باعزت طریقے سے تین وقت کا کھانا کھلانا ہو ، کھیل کا شعبہ ہو یا فلاحی کام کوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس میں بحریہ ٹاﺅن نے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا نہ کیا ہو ۔

بحریہ ٹاﺅن کے ملک بھر میں دسترخوانوں پر آج بھی لاکھوں افراد مفت کا کھانا باعزت طریقے سے کھاتے ہیں میں نے اپنی والدہ کے نام پر ٹرسٹ قائم کیا ، ہسپتال ، سکولز عام لوگوں کیلئے فری میں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کررہے ہیں ۔

 میری گزارش ہے کہ میری وجہ سے ان لوگوں کا نقصان نہیں ہونا چاہیے جو بحریہ ٹاﺅن سے منسلک ہیں ۔ میں اپنی صفائی میں تو تب کیس لڑوں جب مجھے انصاف ملنے کی امید ہو لہذا میں اپنا ،مظلوموں کا ، مزدوروں کا اور ان یتیم بچوں کا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش کرتا ہوں جو اس عظیم منصوبے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں

 اور اللہ نے مجھے استطاعت دی کہ میں ان کی خدمت کررہا ہوں ۔ میرا مقصد آپ کو صرف حقائق بتانا تھا جو کہ میں نے من وعن آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں میرا قصور کیا ہے ؟ 

پاکستان زندہ باد

January 20, 2024

مرتکز شمسی توانائی کا جادو

 

مرتکز شمسی توانائی کا جادو
تحریر انجینیئر ظفر وٹو
کیا آپ یقین کریں گے کہ شمسی توانائی سے رات کوبھی بجلی بنانا ممکن ہے؟ سولر پینلز پر سورج کی روشنی پڑتی ہے تو براہِ راست بجلی پیدا ہوتی ہے اور یہ سورج کے بغیر بجلی نہیں پیدا کرسکتے لیکن مرتکز شمسی توانائی کے پلانٹ کی مدد سے دن اور رات کے کسی بھی وقت بجلی بنانا ممکن ہے جس کا پاکستان میں بے انتہا پوٹینشئئل ہے۔
کہا جاتا ہے کہ 212 قبل مسیح میں ارشمیدس نے ایک بہت بڑے آئینے سے سورج کی روشنی کو حملہ آور رومن بحری بیڑے پر مرتکز کرکے اسے آگ لگا کر سیرا کیوز (Syracuse) شہر سے پسپائی پر مجبور کردیا تھا۔
اس افسانے کی سچائی کو چانچنے کے لئے کہ واقعی ارشمیدس ایک آئینے کی طاقت سے رومی بحری بیڑے کو تباہ کر سکتا تھا سنہ 1973 میں ایک متجسس یونانی سائنسدان ڈاکٹر لوآنس سکاس (Dr. Loannis Sakkas) نے 60 یونانی ملاحوں کو ایک قطار میں کھڑا کردیا جن میں سے ہر ایک ملاح نے ایک لمبا آئینہ پکڑا ہوا تھا جو کہ سورج کی شعاعوں کو 160 فٹ دور کھڑے ایک بحری جہاز پر مرتکز کررہا تھا۔ اس جہاز نے چند منٹوں کے اندر ہی آگ پکڑ لی۔ یہ مرتکز شمسی توانائی کی دُنیا میں ایک بڑی دریافت تھی۔
مرتکز شمسی توانائی کے پلانٹ سولر پینلز کے برعکس تھرمل پاور پلانٹ کے اصول پر کام کرتے ہیں ۔انہیں ہم سولر تھرمل پاور پلانٹ (CSP)بھی کہہ سکتے ہیں ۔ مرتکز شمسی توانائی کے پلانٹ سے بننے والی بجلی کا ہر 1 میگاواٹ ہمیں 6,000 بیرل سے زیادہ تیل کی درآمد بچا سکتا ہے۔ پاکستان کی وزارت ِ توانائی کے مطابق پاکستان میں 60 فی صد بجلی تیل ، کوئلہ اور گیس سے پیدا ہوتی ہے۔ تیل اور کوئلہ نہ صرف ڈالر کھاتے ہیں بلکہ پاور پلانٹ کا دھواں ماحول کو بھی تباہ کرتا ہے۔
پاکستان دنیا کی “سن بیلٹ “ پر واقع ہے جہاں سال میں 300 دن بھرپور سورج چمکتا ہے جس سے USAID کی ایک اسٹڈی کے مطابق ہم 2.9 ملیئن میگاواٹ بجلی بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کے ہر مربع میٹر پر اوسطاً 5kWh کی شدت سے شمسی توانائی (DNI) روزانہ پڑتی ہے جوکہ عالمی اوسط 3.5 kWh سے بہت زیادہ ہے۔
دنیا میں کے کئی ممالک میں سولر تھرمل پاور پلانٹ پچھلی دو دہائیوں سے کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ہمارے پڑوس میں انڈیا نے بھی 100Gw تک سولر تھرمل پاور پلانٹ لگا نے پر اس سال کام شروع کردیا ہے۔ دبئی میں DEWA پہلے ہی 700MW کیپیسٹی کا سولر تھرمل پاور پلانٹ چلا رہاہے۔
پاکستان میں بلوچستان کا علاقہ تو شمسی توانائی کی سمندر ہے جہاں ہر مربع میٹر پر توانائی کی شدت 7kWh روزانہ ہے۔ یہ سولر تھرمل پاور پلانٹ لگانے کے لیے آئیڈیل ہے۔اس کے علاوہ جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ کے علاقے بھی بہت زیادہ موزوں ہیں۔ صادق آباد، نواب شاہ اور کوئٹہ شہر سولر تھرمل پاور پلانٹ لگانے کے لئے سب سے موزوں ہیں جو نہ صرف نیشنل گرڈ سے منسلک ہیں بلکہ سڑک کے ذریعے بھی رسائی آسان ہے۔ گوادر کے اندھیرے بھی ایسا ہی پلانٹ لگا کر دور کئے جاسکتے ہیں۔
سولر تھرمل پاور پلانٹ سورج کی روشنی/ توانائی کو ایک ریسیور پر مرکوز کرنے کے لیے آئینے کا استعمال کرتے ہیں۔ مرتکز توانائی کا استعمال ایک سیال مادے (HTF)کو گرم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جو بجلی پیدا کرنے والی ٹربائن کو چلانے کے لیے بھاپ پیدا کرتا ہے۔ یہ سیال مادہ عام طور پر پگھلا ہوا نمک (نائٹریٹ) ہوتا ہے جس کو حرارت برقرار رکھنے والے کنٹینرز میں رکھا جاتا ہے تاکہ بلا تردد دن رات ٹربائن چلا کر بجلی پیدا کرنے کے لئے بھاپ پیدا کی جاسکے۔یہ کنٹینر دراصل وہ دیوہیکل بیٹریاں ہیں جن سے ہم کسی بھی وقت بجلی حاصل کرسکتے ہیں۔
پاکستان میں ابھی تک کوئی سولر تھرمل پاور پلانٹ نہیں لگا لیکن کئی منصوبوں کی ابتدائی فیزیبیلٹی ہوچکی ہے جیسا کہ نواب شاہ میں 50MW کا پلانٹ 2014 میں تجویز کیا گیا تھا جس نے سالانہ 54GWh بجلی پیدا کرنا تھی۔دیکھیں اس ماحول دوست ذریعہ توانائی پر کب کام شروع ہوتا ہے۔

January 08, 2024

Hybrid Seeds & Our Bahaviour Future Loss

 

ہائبرڈ بیج:
(Hybrid Seed)
ہائبرڈ بیج مخصوص مطلوبہ خصوصیات کے ساتھ ایک فصل کے دو مختلف پودوں کے درمیان کراس پولینیشن کا نتیجہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہتر خصوصیات جیسے زیادہ پیداوار، بیماری کے خلاف قوت مزاحمت، یا بہتر موافقت وغیرہ پیدا ہوتی ہے۔
ہائبرڈ بیج کے کچھ فوائد اور کچھ نقصانات ہیں
فوائد:
پیداوار میں اضافہ:
ہائبرڈ بیج اپنی بنیادی اقسام کے مقابلے میں زیادہ پیداوار کے ساتھ پودے تیار کرتے ہیں، جس سے زرعی پیداوار میں بہتری آتی ہے۔
یکسانیت:
ہائبرڈ پودے سائز، شکل اور پختگی جیسی خصوصیات کے لحاظ سے زیادہ یکسانیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
بیماریوں کے خلاف مزاحمت:
ہائبرڈائزیشن مختلف بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت فراہم کرتی ہے، جس سے پودوں میں مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
بھرپور نشوونما:
ہائبرڈ پودے زیادہ مضبوط نشوونما کی خصوصیات ظاہر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے غیر ہائبرڈ اقسام کے مقابلے میں تیزی سے نشوونما اور پختگی ہوتی ہے۔
نقصانات:
لاگت/قیمت:
ہائبرڈ بیج عام طور پر روایتی بیجوں سے زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔ کسانوں کو ہر فصل کے لیے نئے ہائبرڈ بیج خریدنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بیجوں پر انحصار:
چونکہ ہائبرڈ پودوں کی خصوصیات اگلی نسلوں میں مستحکم نہیں ہوتیں، اس لیے کاشتکار بیج کو دوبارہ لگانے کے لیے اپنی فصل سے بچا نہیں سکتے۔ نئے بیجوں کی خریداری پر یہ انحصار مالی بوجھ بنتا ہے۔
ہائبرڈ بیجوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم آہستہ آہستہ اپنے دیسی بیجوں سے کنارہ کشی کر لیتے ہیں اور پھر دیسی بیجوں کا وجود ہی ختم ہو جاتا ہے۔
(مثال کے طور پر جس طرح ہماری گائیوں کی چولستانی، ساہیوال وغیرہ نسل کے ساتھ ہوا ہے۔
آج آپ کو گاؤں کے پر گھر میں غیر ملکی نسل کی گائے نظر آۓ گئی لیکن اپنی گائیوں کی نسل شائد ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے)
اب ہم دوسرے ممالک سے سبزیوں اور دوسری فصلوں کا ہاٸبریڈ بیج خریدتے ہیں۔
اگر یہ ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اپنے دیسی بیجوں سے بھی محروم ہو جاٸیں گۓ۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہو گا۔
مثلاً
امریکن بال ورم آۓ گا۔
فال آرمی ورم آۓ گا۔
اور طرح طرح کی بیماریاں آٸیں گٸ۔
جیسے ملیریا آیا
ڈینگی آیا۔
اور پھر ہم دوسرےممالک سے ہی دواٸیاں خریدیں گۓ۔
کیونکہ 75 سالوں میں ہم اس قابل بھی نہیں ہو سکے کہ ایک انٹرنیشنل پیسٹی ساٸیڈ کی کمپنی ہی بنا لیں۔
دوسرے ممالک بشمول انڈیا نے سیڈ بنک
(Seed Bank)
بناۓ ہوۓ ہوٸے ہیں۔
کہ اگر کسی آسمانی آفت، جنگ یا کسی اور وجہ سے اُس ملک کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
تو وہ ملک سیڈ بنک سے سیڈ لے کر دوبارہ فصلیں اُگا سکیں تاکہ دوسرے ممالک پر مُنحصر نہ ہونا پڑے۔
سیڈ بنک پہاڑوں میں ایسی جگہ پر بنایا جاتا ہے جہاں درجہ حرارت اور کوٸی آسمانی آفت یا جنگ وغیرہ کے اثرات نہ ہوں یا کم سے کم ہوں۔
(گوگل پر سرچ کیا جا سکتا ہے)
لیکن اس سب کے برعکس ہم کہاں کھڑے ہیں۔
آگے ہم اپنی ملکی گائیوں کی نسل سے تقریباً ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اب کہیں ہم اپنے دیسی بیجوں سے ہی محروم نہ ہو جائیں۔
آخر ہم اور ہمارے ارباب اختیار کی سمجھ میں کب یہ بات آے گئی؟؟
مگر ہم لوگ پتہ نہیں کونسی دنیا میں رہتے ہیں
شاٸد علامہ اقبال نے یہ شعر ہمارے لیے ہی لکھا تھا کہ۔
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو اپنی حالت بدلنے کا
یہ حقیت ہے
اور حقیت ہمیشہ سخت ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں نہ کہ
لمحوں نے خطا کی تو صدیوں نہ سزا پاٸی۔
(اصلاحات کا خیر مقدم کیا جاتا ہے)

 

Total Pageviews