July 01, 2022

تمام والدین اپنی اولاد کے لئے دعا کریں

والدین اپنی اولاد کے لئے دُعا کریں۔

 
ان مبارک دنوں میں آپ اپنی اولاد کے اچھے اور کامیاب مستقبل کیلئے بھرپور اور روزانہ ہر نماز کے بعد دعائیں کریں۔
اے الله! 🤲
میں تیرے صمد نام کے ساتھ ، تیرے عظمت والے نام کیساتھ دعا کرتی / کرتا ہوں کہ اے رب کریم میری اولاد کے احوال کو درست فرما کر مجھ پر احسان فرما 💕
اے اللہ! ان کے ایمان، جان، مال و آبرو کی حفاظت فرما، ان کو کسی کا محتاج نہ بنائیں، معذوری سے محفوظ فرمائیں، تنگدستی اور فقر و فاقہ سے محفوظ فرما، لاعلاج تکلیف دہ بری بیماریوں سے محفوظ فرما۔
ستر اور شرم گاہ کی تکلیف پریشانیوں بیماریوں اور گناہوں سے محفوظ فرمائے۔
حاسدین کے حسد،شریر لوگوں کے شر، بری نظر، برے لوگوں سے، بری عادتوں سے حفاظت فرمائے۔
برے وقت بری تقدیر اور بری گھڑی سے محفوظ فرمائے۔
کبیرہ گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ گناہوں کو معاف فرمائے اور مقبول نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
موت کے،قبر کے،حشر کے، میزان کے اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے
اور مرنے سے پہلے پہلے اپنے ذمہ تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہمارے لئے توشہ آخرت بنائے۔ آمین
💞💞
اے الله ! انکی عمر میں صحت و عافیت اور اپنی اطاعت و رضا کیساتھ برکت پیدا فرما دے ۔
اے الله! انکے ضعف اور مرض کو قوة اور شفا میں بدل دے،
انکے بدن و کان و آنکھ و جان و اعضاء میں عافیت پیدا فرما
۔ اور اپنی رحمت سے انکی ہر بلا ، گناہ ، گمراہی اورغلطیوں سے حفاظت فرما
اے الله ! انکو اپنا فرمانبردار بنا 💕
اے الله ! انکی تربیت کرنے میں انکی نیکی میں اور انکو مؤَدب بنانے میں میری مدد فرما💕
اے الله انکو میرے لئے خیر بنا دے
اے الله ! میں اپنی اولاد کو تیری ضمانت و امانت میں دیتی / دیتا ہوں
، اے وہ عظیم ذات کہ جو أمانت کو ضائع نہیں کرتا،🌹
میں ہر آفت و ہر بری بیماری اور رات و دن کے شر اور ہر حاسد کی آنکھ کے شر سے حفاظت کا سوال کرتی /کرتا ہوں 🌹
اے الله ! انکی حفاظت فرمائیے سامنے سے ، پیچھے سے،دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے، اور نیچے سے 🌹
💕
اے الله !میری اولاد کو دین و علم و اخلاق اور لوگوں کی محبت میں سے حصہ عطا فرما 🌹
ان کی توانائیوں ، صلاحیتوں، اوقات، مال، رزق میں آپ کے دین کا حصہ ہو، دین کےدشمنوں کا کوئی حصہ نہ ہو۔
یااللّہ انکو سخی کر غنی کر دیے انکو نعمتوں سے مالا مال کر دیے 🌹
اے الله، میری اولاد کو دو نو جہاں میں کامیابی اور بلند مقام عطا فرما 💕
اے الله! انکو نیک بخت اور أتقیاء و أغنیاء اور أسخیاء و بردبار و علم والے اور نصیحت کرنیوالوں میں سے بنا دے ۔💕💕
آمین یارب العالمین.

 

June 26, 2022

رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم اللہ پاک کی طرف سے ہے ۔ خلاف ورزی پر


میرے ایک  کولیگ ایک سرکاری ادارے میں اچھی پوسٹ پر ہیں۔ تنخواہ لاکھوں میں ہے۔ ایک بڑے شہر میں ایک گھر اور تین دکانیں کرائے پر دے رکھی ہیں۔ اپنے ایک بچے اور بیوی کے ساتھ ایک اچھی کالونی میں اپنے ذاتی گھر میں  رہائش ہے۔ بیوی شوقیہ کسی کالج میں پڑھاتی تھی، پچیس ہزار کے قریب اس کی تنخواہ بھی تھی۔ سب کچھ بہترین چل رہا تھا۔
ہمارا وہ کولیگ ایک خدا ترس آدمی ہے اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہتا ہے۔ اس کی بیوی کو کسی طرح معلوم ہو گیا کہ وہ کئی سالوں سے اپنے رشتہ داروں میں دو بیوہ بوڑھی خواتین اور ان کے یتیم بچوں کی کفالت کر رہا ہے۔ اس بات پر اس کی بیوی نے لڑائی شروع کر دی کہ مجھے بتائے بغیر تم اتنے پیسے ان پر کیوں لٹا رہے ہو۔
شوہر نے اسے سمجھایا کہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے ہمارے پاس۔ آپ لوگوں کی تمام جائز ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد بھی کافی بچ جاتا ہے۔ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور پھر اپنے ہی رشتہ داروں پر خرچ کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ لیکن بیوی اسی بات پر اڑی رہی کہ اپنا پیسہ رشتہ داروں پر لٹانا بند کرو۔ بات اتنی بڑھی کہ بیوی نے اسی بات پر خلع کا دعویٰ دائر کر دیا۔ اس کی بیوی کے ایک بھائی سے میری کافی اچھی سلام دعا ہے۔ اس نے مجھے اس معاملے کو سلجھانے کے لیے کہا۔ میں نے ایک اور دوست کو ساتھ لیا اور اس کے بھائی سے ملے۔ اس نے کہا کہ میں خود بھی سمجھا چکا ہوں۔ میری بات کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ اب یہ کرتا ہوں کہ  امی ابو کی موجودگی میں بہن سے  ہم سب مل کر بات کر لیتے ہیں۔ اللہ کرے کے یہ گھر اجڑنے سے بچ جائے۔ ہم سب ان کے گھر ملے۔ ان کا چھوٹا سا گھر تھا جس میں تین بھائی اپنے درجن بھر بچوں اور والدین کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ لڑکی سے ہم نے پوچھا کہ شوہر سے کیا شکایت ہے اور اس کے ازالے کی کوئی صورت ممکن ہے؟
کہنے لگی کہ وہ اپنی ساری آمدن اپنے رشتہ داروں پر لٹا دیتا ہے۔ یہی شکایت ہے مجھے۔
میں نے پوچھا کہ کیا آپ کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتا ہے؟
کہنے لگی کہ رکھتا ہے۔
ہمارے بزرگ دوست نے پوچھا کہ کیا آپ کو پیسے کی تنگی دیتا ہے کہ آپ کسی چیز کے لیے کہو یا پیسوں کا کہو اور وہ منع کر دے؟
کہنے لگی کہ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ میرے کہے بغیر ہی میرے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے بھیج دیتا ہے کہ مجھے کبھی کہنا ہی نہیں پڑا۔ شاپنگ بھی ساری کرواتا ہے۔
ہم نے کہا کہ پھر جو بچ جائے اس پر آپ کو اعتراض کیوں ہے۔ وہ اپنی مرضی سے جہاں بھی خرچ کرے۔
کہنے لگی کہ ایسے کیسے میں اسے رشتہ داروں پر لٹانے دوں۔
میں نے پوچھا کہ اچھا جو آپ کی تنخواہ ہے کیا آپ اسے دے دیتی ہویا اس کی مرضی سے خرچ کرتی ہو؟
ایک دم اونچی آواز میں بولی کہ وہ میری کمائی ہے تو اپنی کمائی اسے کیوں دونگی؟ وہ میری ہے تو اپنی مرضی سے ہی خرچ کروں گی۔
اس کے بعد ہم نے اسے کافی سمجھایا کہ آپ کی جائز ضروریات پوری کرنا شوہر کا فرض ہے لیکن اس کی ساری کمائی پر آپ کا حق نہیں ہے۔ اس کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اس میں سے اللہ کی راہ میں اور اپنے دوسرے رشتہ داروں پر، غریبوں رشتہ داروں پر جیسے چاہے خرچ کرے۔ لیکن اس کا تھا کہ مجھے ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہنا جسے اپنی تنخواہ دوسرے رشتہ داروں پر لٹانے کا شوق ہو۔ اس میں اس کی والدہ اس کا ساتھ دے رہی تھیں۔
جب کسی بھی طرح بات نہ بنی تو ہم نے اسے اٹھتے ہوئے کہا کہ خلع لینے کی صورت میں ان ساری مراعات سے محروم ہو جاؤ گی جو ابھی تمہیں حاصل ہیں۔ والدین کا گھر بھی چھوٹا ہے تمہارے لیے یہاں رہنا بہت مشکل ہوگا۔ علیحدگی کے بعد اپنے قریبی بھی آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ لیکن اس کا یہی تھا کہ میں خود کماتی ہوں، میں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں۔
ہم نے اپنے کولیگ کو بھی کہا کہ فی الحال ان کا کوئی اور انتظام کر لو۔ ہم ان کی کفالت کا ذمہ لے لیتے ہیں۔ آپ گھر بچا لو۔ لیکن اس کا یہی تھا کہ اصل بات تو یہ ہے کہ میں اپنی آمدن پر بھی اپنا حق نہیں رکھتا ، یہ تو ایسے سمجھتی ہے کہ میں شوہر نہیں اس کا غلام ہوں کہ جو کماؤں اس کے ہاتھ پر لا کر رکھ دوں اور پھر جیسے وہ کہے ویسے خرچ کروں۔ وہ اپنی کٹی پارٹیز پر لاکھوں اڑا دے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن میں اپنے غریب رشتہ داروں کی کفالت کروں تو طوفان آجائے۔ میری کوئی بھی غلطی ہے تو بتائیں لیکن غلط بات نہیں مان سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بھی کئی لوگوں نے کوشش کی۔ عدالت نے بھی مصالحت کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوئی۔ بالآخر خلع کی صورت میں ہی انجام ہوا۔ بچے کا خرچ باپ دیتا رہا۔ کچھ دن والدین کے گھر رہی۔ وہاں بھابیوں نے نوکرانیوں جیسا سلوک کیا تو قریب ہی ایک گھر کرائے پر لیا۔ لاکھوں والے ٹھاٹھ پچیس ہزار میں کہاں پورے ہونے تھے۔ ہمارے کولیگ نے کچھ عرصے بعد دوسری شادی کر لی۔ اس کا گھر پھر سے بس گیا جب کہ اس عورت کی حالت دیکھتا ہوں تو ترس آتا ہے۔ خود بھی رل گئی اور اپنے بچے کو بھی رول دیا۔ کچھ عرصے بعد باپ بچے کو اپنے پاس لے بھی آئے تب بھی ویسے حالات تو نہیں ہو سکتے جیسے اس کی اپنی ماں کے اس گھر میں ہونے سے اس کو ملنے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔
چند سال قبل تک ہمارے معاشرے میں طلاق کو انتہائی معیوب چیز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر پچھلے کچھ عرصے میں اس میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تعلیم و روزگار کی وجہ سے عورتوں میں خود اعتمادی کے نام پر پیدا ہونے والا غرور بھی ہے۔ عدالتوں میں خلع کے کیس دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی چھوٹی چھوٹی  باتوں پر کیس کیے ہوئے ہیں۔ اس میں زیادہ تر انا اور غرور کا دخل ہے۔ رہی سہی کسر میڈیا پر چلنے والے ڈراموں نے پوری کر دی ہے۔ اس معاشرے میں اکیلے مرد کے لیے رہنا ایک عذاب ہے ، عورت تو پھر عورت ہے۔ خدارا اپنے گھروں کو خراب نہ کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

June 14, 2022

لاوا پک رہا ہے. احمد جمال نظامی

 
لاوا پک رہا ہے.....؟

احمد جمال نظامی
لاوا پک رہا ہے اور کب پھٹ پڑے، کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن اسکی ہولناکی معمولی نہ ہوگی، یہ بات اظہر من الشمس ہے! آخر ایک دو دن کی بات نہیں، پون صدی پر محیط مظالم ہیں، قوم کو ایک سوچی سمجھی ذہنیت کیساتھ آگے بڑھنے سے روکا گیا، 2015 میں سندھ کے شہر نوشہرو فیروز کے علاقہ ٹھارو شاہ میں چند روز قیام کرنے کا اتفاق ہوا، علاقہ مکینوں میں سے بہت کم لوگوں کو اردو میں بات کرنا آتی تھی، حتیٰ کے اردو میں بات سمجھنے والے بھی خاصے کم تھے، ٹھارو شاہ کی ایک مسجد میں حیدر آباد سے ریٹائر ماسٹر صاحب نماز پڑھنے آیا کرتے، ان سے علاقہ کی سیاسی صورتحال کے بارے میں بات چیت ہوتی رہی، وہ پیپلز پارٹی کو دل سے انتہائی ناپسند کرتے تھے مگر پیپلز پارٹی کے پکے ووٹر تھے، 
ان سے ہمت کر کے دریافت کیا: جناب اس امر میں کیا راز پنہاں ہے کہ آپ جس جماعت کے خلاف ہیں، ووٹ بھی اسی کو دیتے ہیں؟ ماسٹر صاحب نے سر تا پاؤں غصے سے مجھے گھورنے کے بعد جواب دیا کہ اندرون سندھ میں عوام کا ذریعہ معاش دوسرے شعبوں کی نسبت زراعت سے براہ راست منسلک ہے اور یہاں زرعی زمینوں کے مالکان کی اکثریت ان وڈیروں اور جاگیر داروں کی ہے جو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز ہیں، ان کے علاؤہ عوام کے پاس کوئی متبادل نہیں کیونکہ عوام تعلیم یافتہ نہیں اور نہ ہی نسل نو کو تعلیم کے ذرائع دستیاب ہیں، لہذا یہ وڈیرے عوام کو سالانہ راشن، عید و دیگر تہواروں پر کپڑے، زندہ رہنے کیلئے ضروری خرچہ، خدانخواستہ بیمار ہونے پر ادویات وغیرہ لے دیتے ہیں، 
سر ڈھانپنے کیلئے چھت بھی زرعی زمینوں میں مہیا کر دیتے ہیں، کیا حکومت یہ وسائل سندھ کے عوام کو فراہم کرسکتی ہے یا کوئی دوسری جماعت؟ ماسٹر صاحب کے اس سوال نے مجھے لاجواب کردیا، میں ٹھارو شاہ کے تاحد نگاہ پھیلے خوبصورت کیلے کے باغات اور ان میں سے پنجاب کی نسبت انتہائی کشادہ نہری کھالہ جات کو دیکھتا رہ گیا، جب اس علاقے میں داخل ہوا تو دیہات سے تھوڈا دور چھوٹے سے مگر گنجان آباد شہر کے گھروں اور قطار در قطار انکی چھتوں پر نصب ڈش انٹیناز کے بعد ماسڑ صاحب کی گفتگو نے لاجواب اور ورد حیرت میں ڈبو دیا تھا، سارا دن ٹھارو شاہ میں کوئی لوکل یا قومی اردو اخبار تلاش کر کر بھی حاصل نہ ہوسکا، آخر ایک اخبار فروش سے ملاقات ہوئی، جس نے بتایا کہ پورے قصبہ میں صرف ایک انگریزی اور تین اردو اخبارات آتے ہیں،
 ٹھارو شاہ کے دیہی علاقوں کی سڑکیں کارپیٹ روڈز تھیں، شہر کے بازار اور سیون شریف تک ایک آدھی ٹوٹی پھوٹی سڑک کے علاؤہ سب کشادہ اور بہتریں لیکن سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کا سراغ نہ مل سکا، اتنا معلوم ہوا کہ چھوٹی موٹی ڈسپنسریاں موجود ہیں، البتہ ایمرجنسی کی صورت میں نوشہرو فیروز جانا پڑتا ہے، دیہی ٹھارو شاہ میں عوام کو ایک سوچی سمجھی ذہنیت کیساتھ آگے بڑھنے سے روکا گیا تھا، یہ واضح طور پر عوام کے رہن سہن، سوچ، فکر اور محدود وسائل سے جھلک رہا تھا، اس علاقہ میں بیتے دنوں کی جب بھی یاد آتی ہے تو ایک مخصوص ذہنیت سے گھن آنے لگتی ہے.
 جو اتنے سادہ، خالض اور کشادہ دل لوگوں کو آگے بڑھنے سے نہ صرف دور رکھتی ہے بلکہ مواقعے حاصل کرنے کے شعور سے بھی کوسوں دور رکھے ہوئے ہے، ہم ان حالات کا وسطی پنجاب، سندھ، کے پی کے کے بڑے شہروں سے موازنہ کریں تو اندورنی کہانی زیادہ مختلف نہیں نظر آئے گی، علامتی طور پر حکمرانوں نے ہر صوبے کے بڑے شہروں میں چند ایک بڑی یونیورسٹیوں کو قائم کر رکھا ہے، نئی یونیورسٹیوں کا دائرہ کار دیگر شہروں تک وسیع نہیں کیا جارہا، آبادی کے پھیلاؤ کے تناسب سے نئے سرکاری سکول قائم نہیں کیے گئے اور نہ ہی قائم کیے جارہے ہیں، اگر شہروں کے مضافاتی علاقوں میں نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں تعمیر ہورہی ہیں تو متوسط اور پہلے سے وہاں موجود غریب عوام کو تعلیمی اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا بھی تو حکومت کا کام ہے، 
یہ سوچنا تو درکنار نئے شہر خاموشاں تک قائم نہیں کیے جارہے، سرکاری ہسپتالوں کا عالم یہ ہے کہ ضلعی ہیڈ کوارٹرز بڑی دور کی بات ہیں، 200 سے 300 کلومیٹر دور سے مسافت کر کے عوام بڑے شہروں کے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں اور وہاں سہولیات کا کیا معاملہ ہے، کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، شاید اسی لیے ہمارے حکمران گھانسی آنے پر بھی اپنی ذات گراں قدر کیلئے بیرون ممالک کا رخ کر لیتے ہیں جبکہ دوسری طرف اشرافیہ کے پروردہ یا خود اشرافیہ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو اپنے کاروباری نیٹ ورک میں لاتے چلے جارہے ہیں 
لیکن یہ غریب اور متوسط کی دسترس سے دور ہیں، اسے سوچی سمجھی حکمت عملی کا نام نا دیا جائے تو کیا کہا جائے، حقیقی طور پر نظر آتا ہے کہ عام پاکستانی کو ان بنیادی ضروریات میں اتنا الجھایا جارہا ہے کہ وہ ذہنی ترقی اور سوچ و فکر کے اس معیار تک نہ پہنچ پائے، جہاں سے قوموں، معاشروں اور مملکتوں کی ترقی کا ارتکا ہوتا ہے، ہم میں سے بیشتر احباب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نہیں چاہتے کہ ترقی پذیر ممالک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکیں، لہذا طے شدہ حکمت عملی کے تحت ایسی شرائطِ ایسے حکمرانوں سے طے کی جاتی ہیں جو رعایا کو کبھی عوام نہ بننے دیں، ان دنوں بھی وطن عزیز مہنگائی کی اس نہیج پر کھڑا ہے جہاں غریب، متوسط طبقہ کسی بھی عملی کاوش سے محروم ہے، اس کو اتنا زیر عتاب رکھا گیا ہے کہ وہ اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنے سے بھی عاری ہے،
 سیاسی گفتگو چند لوگوں کیلئے فیشن ہے، عام پاکستانی کو ایک مخصوص سیاسی تربیت کے زیر سایہ معاشرے میں پرورش دیکر اس غلط اصطلاح پر قائل کر دیا گیا ہے کہ اپنی جماعت کو تبدیل نہیں کیا جاتا، لہذا وہ کارکردگی کو بنیاد بنانے کی بجائے جہالت کو اکثر نظریہ مان کر اس کی گردان کرتا ہے،
 تاہم اس تناظر میں موجودہ وقت میں عوام کا مزاج بدلا ہوا ہے، عوامی جذبات ابل رہے ہیں اور وہ معاشرتی انصاف کے خواہاں ہیں، مہنگائی اور اشرافیہ کے ظلم نے اسے آخری حد تک بیزار کر دیا ہے، گویا موجودہ حالات قیامت خیز ہیں، کسی خطرناک طوفان کا عندیہ دے رہے ہیں، پالیسی ساز، سول و ملٹری بیوروکریسی نوشتہ دیوار پڑھیں، معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے، نفرتوں کے بازار پہلے ہی گرم ہیں، لاوا پک رہا ہے اور کب پھٹ پڑے، کچھ کہا نہیں جاسکتا.

 

June 13, 2022

Electrice Vehicles VS Petrol, Diesel Vehicles

 
*ڈاکٹر عطاء الرحمن کا انقلاب کو دستک دیتا کالم*

*اگلے 8 سال میں دنیا میں کہیں بھی کوئی نئی پٹرول یا ڈیزل کی موٹر گاڑیاں، بسیں، یا ٹرک فروخت نہیں کئے جائیں گے۔*
*پورے خطے کا نظام نقل وحمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہو جائیگا نتیجتاً تیل کی قیمتوں میں شدید کمی پیٹرولیم کی صنعت کی تبا ہی کا باعث بنے گی۔*
*ساتھ ہی موٹر گاڑیاں اوربسیں بنانے کی وہ صنعتیں تباہ ہو جائیں گی جنہوں نے اس جدید صنعتی انقلاب کو اختیار کرنے میں دیر کی خام تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہوجائے گی. پٹرول اسٹیشنوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا اور لوگ اپنی گاڑیوں کے مقابلے میں کرائے کی گاڑیوں پرسفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔*
*موٹرگاڑیاں بنیادی طور پر "بھاگتےہوئے کمپیوٹر" بن جائیں گی*
*اسقدر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیا ں موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی بقا کیلئے خطرہ بن رہی ہیں کیونکہ انہیں اب اس کمپنی کے مقابلے میں برقی گاڑیاں تیار کرنے پر توجہ دینی پڑےگی۔*
پروفیسر شبا کی رپورٹ نے بین الاقوامی موٹر گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور تیل پیداواری ممالک میں شدید بے چینی کو جنم دیا ہے۔
اس طرح تیل پیدا کرنے والے *عرب ممالک دوبارہ غربت کے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے جیسےوہ 1950 تک گھرے ہوئے تھے* افسوس کہ وہ تاریخ سے سبق لینے میں بالکل ناکام ہیں۔ بجائے اس کے کہ کوریا، فن لینڈ اور د یگر ممالک کی طرح مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کرتے ، انہوں نےاپنی تمام دولت آرام و آسائش یا مغر ب سےحاصل شدہ ہتھیاروں کوخریدنے میں لٹا دی ہے۔
*اسی دوڑ کی اہم ترین پیش رفت نئی قسم کی بیٹری ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑیاں طویل فاصلے طے کر سکتی ہیں اور بیٹری کو بار بار چارج نہیں کرنا پڑتا۔*
*گزشتہ ہفتے ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اب بیٹریوں کو دو منٹ میں چارج کیاجاسکتا ہے۔* یہ بیٹری کے اندر کا الیکٹرو لائٹ فوری طور پر تبدیل کرکے کیا جاتا ہے۔یعنی آئندہ پیٹرول اسٹیشن کی جگہ ایسے بیٹری اسٹیشن قائم ہو جائینگے جہاں پیٹرول ڈلوانے کے بجائے آپ بیٹری کے پانی کو تبدیل کیا کریں گے ان کو ’فلو بیٹریز‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ طریقہ جامعہ پرڈیوکے پروفیسر نے ایجاد کیا ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمت کا تقریبا 40 فیصد بیٹریوں پر مشتمل ہے لہٰذا اب کم قیمت اور زیادہ طاقتور بیٹریاں بنانے پر زور دیا جا رہاہے
۔بین الاقوامی اطلاعات کے مطابق ان بیٹر یو ں سےبجلی کی پیداوار فی کلو واٹ گھنٹے کی قیمت 2012 میں 542 ڈالرسے کم ہوکر اب صرف 139 ڈالر ہو گئی ہے اور 2020تک 100ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچنےکی امید ہے۔
*برقی موٹرگاڑیاںj پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کی حامل ہوتی ہیں جو سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرسکتی ہیں* اور بیٹری ایک ہی چارج میں تقریبا 650 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہے ۔ برقی موٹر گاڑیوں کی قیمتیں کافی تیزی سے کم ہو رہی ہیں --
2022 تک سب سے کم قیمت برقی موٹر گاڑی کی قیمت 20,00امریکی ڈالر تک ہو جائیگی ۔اس کے بعد پیٹرول کی گاڑیا ں جلد ہی نا پید ہو جائیں گی۔
پروفیسر شبا کی ایک اور پیشں گو ئی کے مطا بق 2025 تک تمام نئی چار پہیوں پر چلتی گاڑیاں عالمی سطح پر بجلی سے چلیں گی چین اور بھارت جدت کی اس نئی لہر کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔
بھارت کا منصوبہ ہے کہ 2032 تک تمام پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیاں ختم کر دی جائیں۔ بھارت میں فوسل تیل سےچلنے والی گاڑیو ں اور تمام پٹرول اور ڈیزل کاروں پر مرحلہ وار پابندی عائد کرنے کا عمل تیز کیا جارہا ہے۔
چین2025 تک 70 لاکھ برقی گاڑیوں کی سالانہ پیدا وارکا ارادہ رکھتا ہے ۔ اس وقت ہم تاریخ کے اس باب کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو جدت طرازی کی بہت بڑی تاریخی مثال ثابت ہوگاکہ کس طرح جدت طرازی کے ذریعے موٹر گاڑیوں کی صنعت اور پیٹرولیم صنعتوں پر زوال آیا او ر کس طرح بہت سی قومی معیشتیں تباہ ہوئیں۔
ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

 

Total Pageviews