ایک دردناک اور ہولناک حقیقی انکشافات بھری تحریر۔
اسے مکمل لازمی پڑھیں۔۔۔۔
ایک صاحب جو کینیڈین نیشنل ہیں اور وہاں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ہیں اب پاکستان واپس شفٹ ہونے کے لیے کوشاں ہیں، ان سے جب اس کی وجہ دریافت کی تو ان کے انکشافات انتہائی خوفناک تھے، کہنے لگے کہ کالجوں یونیورسٹیوں میں بہت کانفرنسوں میں شرکت کی جن میں چند ایک اسلام پر بھی تھیں ان میں سے ایک کانفرنس کے بعد جب کچھ پروفیسر اور دیگر بیٹھے کھانے پینے میں مشغول تھے اور گپیں لگ رہی تھیں تو باتوں باتوں میں انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگ اسلام کے اتنے پیچھے بھی ہیں اور مسلمان ملکوں کے لوگوں کو نیشنلسٹی بھی دیتے ہیں تو ایک پروفیسر بولا کہ ہم مسلمانوں کو نیشنلسٹی دیتے ہیں وہ یہاں آتے ہیں ہماری خدمت کرتے ہیں اور اس کے بدلے معاوضے کو اپنا اعلیٰ کیریئر مانتے ہیں جیسے آپ آئے ہیں، آپ یہاں ہماری حکومت کی نوکری کر رہے ہیں اور ہمارے بچوں کو وہ پڑھا رہے ہیں جو ہم پڑھوانا چاہتے ہیں۔ اس کے بدلے آپ کو اچھی تنخواہ ملتی ہے اور آپ فیملی سمیت اچھی زندگی گزار رہے ہیں جو پیچھے آپ کے دیگر لوگوں کے لیے بڑی کشش رکھتی ہے اور ان میں بہت سے ہماری نوکریوں کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ یہ ہمارا پہلا مقصد ہے اور دوسرا یہ ہے کہ آپ جیسے زیادہ تر لوگ اپنے مذہب قائم رہیں گے پر کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی اگلی نسل بھی آپ جیسی مذہب پر قائم رہنے والی ہو گی؟۔ ہمارے اندازے کے مطابق یورپی اور امریکہ کینیڈا آنے والے 70 سے 75 فی صد مسلمان اپنے عقیدے پر کسی نہ کسی طرح قائم رہتے ہیں پر اگلی نسل میں اسلام پر قائم رہنا صرف 20-25 فی صد رہ جائے گا اور اس کے بعد بس نام ہی مسلمانوں والا ہو گا اور ہو گا وہ ایسا لبرل مسلمان جو ہم بنانا چاہتے ہیں اس لیے ہماری نظر تم لوگوں کی تیسری اور چوتھی نسل پر ہے جو صرف نام کی مسلمان ہو گی بلکہ اصل اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہوں گے جو کفار کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف دلائل دیتے اور ذہن سازی کرتے نظر آئیں گے۔
ہمارا پہلا مقصد تمہارے اعلیٰ دماغوں کو اچھے کیرئیر کا لالچ دے کر اپنا غلام بنانا ہے اور یہ کیرئیر ہماری نوکری کے بدلے ہے کوئی مفت میں نہیں ہے۔ دوسرا مقصد تمہاری نسلوں سے اسلام کو نکالنا ہے اور 'لبرل اسلام' کو لانا ہے اور یہ کام تمہاری آنے والی نسلیں خود کریں گی۔
وہ صاحب کہنے لگے کہ اس انگریز پروفیسر کی باتیں سن کر میں نے جب اپنے بچوں کا تجزیہ کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس پروفیسر کی باتیں اور اندازے ناقابلِ یقین حد تک درست ہیں۔ مجھے اپنے بچوں میں دنیاوی معاملات میں کیرئیر بنانے کی، آگے بڑھنے کی اور اس ماحول میں رچ بس جانے کی لگن نظر آئی اور نہیں نظر آیا تو دین نظر نہیں آیا۔ اب میرے پاس ہاتھ ملنے اور پشیمانی کے علاؤہ کچھ نہیں ہے کیونکہ دنیاوی معاملات میں الجھ کر اپنی اولاد کو نہ دین کی روشنی پہنچا سکا اور نہ ہی اپنی سماجی اقتدار سے بہرہ مند کروا سکا۔ اب واپس جانا پڑا تو خود ہی جا سکتا ہوں کیونکہ اولاد تو کینڈین شہری ہے اور ان پر اب میرا کوئی زور نہیں ہے۔
میں ان کی باتیں سن کر سوچ میں پڑھ گیا کہ اس انگریز پروفیسر کی باتیں صرف باتیں نہیں ہیں بلکہ اسلام دشمنی اور ہماری سماجی، معاشرتی اقتدار کو توڑنے کا کئی دھائیوں پر مشتمل ایک پلان ہے۔ 80/90 کی دھائیوں تک پرائیویٹ سکولوں میں داخلے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا پھر ہوا کا رخ بدلا گیا اور اب سرکاری سکولوں میں داخلے کو نیچ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا نظام برباد کر دیا گیا۔ انگریز نے ہمارے تعلیمی نظام کو ایسا بنوا دیا کہ سرکاری سکولوں میں انگریزوں کے پالتوں کے ووٹروں اور سپوٹروں کی کھیپ تیار ہو اور پرائیویٹ سکولوں میں اچھے کیرئیر کا لالچ دے کر اپنی خدمت کے لیے غلاموں کو تیار کیا جا سکے اور ان غلاموں کے ذہنوں میں نقش ہو کہ انگریز ان سے افضل ہیں۔ آج کل کے حالات میں اپنی استعداد کے مطابق بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا بہت ضروری ہے پر ان نظر رکھنا کہ کہیں کوئی غلط عقیدہ یا نظریہ تو ان کے دماغوں میں نہیں ڈالا جا رہا یہ بھی بہت ضروری ہے اور ان کو دینی تعلیم دلوانا ہم پر لاگو ہے سکولوں کالجوں پر نہیں اس لیے ان کی دینی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا اشد ضروری ہے۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام اشرفیہ اور یہود ونصاریٰ کا غلام تو تیار کر رہا ہے پر وہ مسلمان تیار نہیں کر رہا جس کی 'خودی' کا، 'حرمت' کا، 'عشق' کا، 'ولولہ' کا اور 'جوشِ ایمانی' کا اظہار علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے جابجا کیا ہے۔ ہم لوگ جنت اور حوروں کے طلب گار بھی ہیں اور دعویٰ دار بھی ہیں کہ یہ سب کچھ صرف ہمیں ملے گا اور کفار کو کچھ نہیں ملے گا پر زندگیوں میں اسلام کو صرف اتنا لانا چاہتے ہیں جو ہمارے مفادات کے آڑے نہ آئے۔ امن پسند اتنے ہو گے ہیں کہ عزت و ناموس پر حملوں کے وقت بھی امن ہی یاد آتا ہے۔ انسانیت کا درس دیتے نہیں تھکتے پر جب یہود ونصاریٰ مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے ہیں تب کبھی کبھار کوئی مذمتی بیان جاری کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جائے 1952 کی پہلی تحریک ختم نبوت سے لے کر آج تک ہر لیڈر اور حاکم میں اسلام اور عشاق کے لیے بغض اور کفار و گستاخوں کے لیے ہمدردی نظر آتی ہے۔ بدقسمتی سے ہزاروں لاکھوں کلمہ گو، علماء اور نام نہاد عاشق بھی ان لیڈروں، حاکموں کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ اس لیے ہی آج قوم ذلت ورسوائی کی گہرائیوں میں ڈوب چکی ہے۔
اسلامی تاریخ بانگ درا بتا رہی ہے کہ عزت صرف اس کی ہوئی جس نے عزت و ناموس اور ختم نبوت پر پہرہ دیا اور وہی قوم کامیاب ہوئی جو دین حق اسلام کے قوانین پر چلی۔
September 14, 2025
American, Europe Nationality Programme for Muslims, after two decades they forget islam
July 01, 2022
تمام والدین اپنی اولاد کے لئے دعا کریں
March 21, 2022
خوارزم شاہ کا شیر۔۔۔سلطان جلال الدین خوارزم شاہ
24نومبر 1221 ء بروز بدھ، دن کا آخری پہر ہے، نیلاب کا میدان لاشوں سے اٹا پڑا ہے ،ہر سمت انسانی اعضاء ڈھیریوں کی صورت میں نظر آرہے ہیں ، زخمیوں کی آہ و بکا سے کان پڑی آوازیں سننا دشوار ہے۔آسمان پر منڈلاتے گدِھوں کے غول جگہ جگہ گھومتے بغیر سواروں کے گھوڑے کہ جن کے سوار قتل ہوچکے ہیں، بکھری ہوئی شمشیریں اور ڈھالیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ تاریخ اسلام کا ایک عظیم الشان معرکہ آج اس میدان میں پیش آیا ہے۔
مگر یہ معرکہ ابھی ختم نہیں ہوا ،ساحل کے ساتھ جہاں پہاڑی سلسلہ ختم ہوتا ہے وہاں اب بھی شمشیریں میان سے باہر ہیں ،گھوڑے پر سوار ایک آہن پوش جواں مرد اب بھی دشمن سے مدمقابل ہے۔شمشیرزنی کا مقابلہ جاری ہے۔ سوار اگرچہ مکمل طور پر جنگی لباس میں ہے مگر اس کی وجاہت،دلیری اور اس کے گرد موجود حفاظتی دستہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سوار اپنے لشکر کا سالار ہے۔ دفعتاًقریب موجود خیموں میں سے ایک عورت نکل کر چلاتی ہے ’’جلال! جلال! تجھے اللہ کا واسطہ ہمیں قتل کردے جلال ہمیں تاتاریوں کی قید سے بچا لے ! ‘‘
یہ سالار سلطان جلال الدین خوارزم شاہ ہے! صدیوں پرانی سلطنت خوارزم کا سلطان جو کئی سال سے تاتاریوں سے نبرد آزما ہے ۔جلال الدین نے کئی دفعہ تاتاریوں کے لشکر کو شکست سے دوچار کیا ۔مگر اس دفعہ تاتاریوں کا سالار چنگیز خان بذات خود اس کا مدمقابل ہے ۔چنگیز خان صحرائے گوبی سے یلغار کرتا اور سلطان جلال الدین کا تعاقب کرتا دریائے سندھ کے کنارے اس وقت سلطان سے برسرِ پیکارہے۔
شاہی خیمہ سے پھر اس عورت کی صدا آتی ہے ،یہ خاتون سلطان کی والدہ ہیں اور خیمہ میں سلطان کی ازواج اور شاہی خاندان کی دیگر عورتیں اور بچے ہیں ۔انہیں نظر آرہا ہے کہ سلطان جلال الدین کو شکست ہوچکی ہے اور وہ مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ تاتاریوں سے زیادہ دیر تک نہیں لڑسکتا ۔شاہی خواتین چنگیز خان کی قید میں جانے سے مرجانا زیادہ بہتر سمجھتی ہیں ۔سلطان شش و پنج میں مبتلا ہے کہ خونی رشتہ داروں کو اپنے ہاتھ سے وہ کس طرح موت سے ہمکنار کرے۔ سلطان کے محافظ سپاہیوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے اور تاتاریوں کا گھیرا تنگ سے تنگ ہوتا جارہا ہے، سامنے ہی ظلم اورو ستم کا نشان بنا چنگیز خان موجود ہے اور وہ اس آخری معرکہ آرائی کو دلچسپی سے دیکھ رہا ہے۔ اس کا حکم ہے کہ سلطان کو زندہ گرفتار کیا جائے اسی لئے تاتاری سپاہی سلطان کو تھکا کر گرفتار کرنا چاہتے ہیں ۔
شاہی خیمہ سے سلطان کی والدہ کی صدا ایک دفعہ پھر بلند ہوتی ہے۔ اس دفعہ سلطان جلال الدین فیصلہ کرلیتا ہے۔ وہ شاہی خیموں کی طرف بڑھتا ہے اور پھر تاریخ ایک عجیب منظر دیکھتی ہے۔ سلطان شاہی خواتین کوجس میں اس کی والدہ اور بیویاں شامل ہیں یکے بعد دیگرے دریائے سندھ کی موجوں کے سپرد کر دیتا ہے ۔
اہل و عیال سے بے پرواہ ہو کر سلطان ایک بار پھر تاتاریوں کی افواج سے نبرد آزما ہوجاتا ہے ۔اس کے ساتھیوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ۔تاتاری سپاہ کا گھیرا تنگ ہوچکا ہے۔سلطان کے پیچھے دریائے سند ھ کی موجیں اپنی جولانی دکھارہی ہیں ۔سامنے کی طرف سے تاتاریوں کا لشکر سیلاب کے مانند بڑھتا چلا آرہا ہے ۔ سلطان لبِ دریاچٹانوں کی بلندی پر چڑھ جاتا ہے ۔(چنگیز خان کا منشی عطاء الملک الجوینی لکھتا ہے کہ اس مقام پر دریا کی گہرائی بہت زیادہ تھی) چٹان پر موجود جلال الدین اپنا تھکا ماندہ گھوڑا تبدیل کرتا ہے ،تیر اندازوں سے محفوظ رہنے کیلئے ڈھال کمر پر لٹکا لیتا ہے ،نیزہ، ترکش اور کمان ساتھ لیتا ہے ایک مسکراتی نگاہ چنگیز خان کی طرف ڈالتا ہے جو سلطان کو زندہ گرفتار کرنے کی فکر میں ہے۔ اس سے پہلے کہ چنگیز خان سلطان کا ارادہ بھانپ لے سلطان گھوڑے کو چابک رسید کرتے ہوئے خطرناک بلندی سے دریا سندھ کی سرکش اور تیز و تند موجوں میں چھلانگ لگا دیتا ہے !
موجوں میں گرجدار آواز پیدا ہوتی ہے ،پانی کئی فٹ اوپر اچھلتا ہے ،چند ثانیوں کیلئے سلطان پانی میں غائب ہو جاتا ہے مگر اگلے ہی لمحے سلطان جلال الدین گھوڑے کی پشت سے چمٹا نظر آتا ہے ۔نومبر کا مہینہ ہے، دریا کا پانی یخ بستہ ہے، اوپر سے سلطان کا جسم زخموں سے چور ہے مگر سلطان کمال ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھوڑے کی پشت سے چمٹا رہتا ہے ۔وفادار گھوڑا اپنے سوار کو لے کر تیرتے ہوئے کنارے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔پانی کی لہریں کبھی اسے ساحل کے قریب کردیتی ہیں تو کبھی دور۔ لہروں سے لڑتے ہوئے آخر کار سلطان کا گھوڑا دوسرے کنارے پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔
کنارے پر پہنچ کر سلطان اپنا نیزہ زمین میں گاڑ دیتا ہے اور ایک نگاہ دوسرے کنارے پر موجود فاتح مگر بے بس چنگیز خان کے چہرہ پر ڈالتے ہوئے ایک قہقہہ بلند کرتا ہے۔ وہ چنگیز خان جس کا نام ظلم اوستم کی علامت ہے ،جس کے کا ن چیخیں اور آہیں سننے کے عادی ہیں ۔ وہ جس سلطا ن کی موت کی تمنا لئے دریائے سندھ تک کا سفر طے کرکے آیا ہے وہ سلطان اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے قہقہہ لگا رہا ہے۔ عجیب منظر ہے، انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنانے کا شوقین چنگیز خان شاید اس سے پہلے اتنا بے بس کبھی نہ ہوا ہو۔ جنگ جیت کر بھی وہ سلطان پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے اور سلطان دریا کے دوسرے کنارے پر بیٹھا قہقہہ لگا رہا ہے ۔
چنگیز خان کے منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے ’’بیٹا ہو تو ایسا ہو ، وہ باپ بڑا خوش قسمت ہے کہ جس کا بیٹا اتنا بہادر ہے۔‘‘
(چنگیز خان کے یہ جملے اس کے منشی الجوینی اور علامہ ابن خلدون نے اپنی تصنیف میں قلم بند کئے ہیں)
چند جوشیلے سردار چنگیز خان سے تیر کر دریا عبور کرنے کی اجازت طلب کرتے ہیں مگر دریا کی تیزی دیکھتے ہوئے چنگیز خان انہیں منع کردیتا ہے ۔
اوپر تحریر کردہ منظر1221 ء میں دریا ئے سندھ کے کنارے پیش آنے والے اس جنگی معرکے کو پیش کرتا ہے کہ جس میں سلطان جلال الدین خوارزم شاہ نے دلیری اور جوانمردی کی وہ اعلیٰ مثال قائم کی کہ جس کی نظیر آج تک تاریخ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے ۔بیسیوں فٹ بلندی سے گہرے اور تیز رفتار دریا میں زخمی حالت میں چھلانگ لگانا اور پھر بخیر و عافیت دوسرے کنارے تک زندہ سلامت پہنچ جانا انسانی عقل و شعور سے باہر ہے ۔
سلطان جلال الدین وہ جوان مرد ہے کہ جس نے منگولیا سے اٹھنے والے تاتاری سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی ، چنگیز خان کی قیادت میں منظم ہونے والی تاتاری وحشی قبائل اس وقت کی آباد دنیا کے تقریباً آدھے حصے کو متاثر کرگئے۔
سلطنت خوارزم :
وسط ایشیاء میں دو بڑے تاریخی اور مشہور دریا بہتے ہیں ’دریائے جیحوں‘ جسے اب’ دریائے آمو‘ کہا جاتا ہے اور دوسرا دریائے’ سیحوں‘ جسے اب ’سیردریا‘ بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں دریا ؤں کے درمیانی علاقہ’ ’ماوورا النہر ‘‘کہلاتا ہے ۔ سمر قند، قوقند، بخارا اور ترمذ جیسے مشہورتاریخی شہر اسی علاقے میں واقع ہیں۔اسی دریائے آمو کے کنارے موجودہ ازبکستان میں’ اورگنج‘ نام کا شہر بھی آباد ہے ۔یہی اور گنج سلطنت خوارزم کا درالحکومت تھا۔
سلطنت خوارزم کی تاریخ سکندر اعظم سے بھی تقریباً ہزار سال پرانی ہے۔یعنی خوارزم شاہ کا لقب سکندر اعظم سے بھی قریباً ہزار برس قدیم ہے ۔
زمانہ اسلام میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے سپہ سالار فاتح ترکستان ‘قتیبہ بن مسلم باہلیؒ کے ہاتھوں سلطنت خوارزم اسلامی مملکت میں شامل ہوئی ۔خوارزم کے حکمران خلافت اسلامیہ کے صوبے دار یا گورنر کی حیثیت رکھتے تھے۔ امویوں کے بعد سلطنت خوارزم عباسیوں کے ماتحت آگئی ۔عباسیوں کے دور زوال میں جب بغداد کا خلیفہ کمزور ہوگیا اور مملکت اسلامیہ کے علاقے یکے بعد دیگرے خود مختاری کا اعلان کرنے لگے تو خوارزم شاہ نے بھی اپنی خودمختار حیثیت کا اعلان کردیا۔ بغداد کی مرکزیت سے الگ ہوجانے کے بعد خوارزم کے حکمرانوں نے آس پاس کے علاقے فتح کرنا شروع کردیئے ۔ خلافت عباسیہ کے علاقے جو مرکز کمزور ہونے کے سبب آزاد ہوگئے تھے وہ رفتہ رفتہ سلطنت خوارزم میں شامل ہوتے گئے ۔خوارزم کی سرحدیں وسیع ہوتی چلی گئی اور آخر کار1200 ء میں سلطان علاؤالدین محمد شاہ کے خوارزم شاہ بن جانے کے بعد سلطنت خوارزم کی سرحدیں تیزی سے وسیع ہونے لگی ۔ماورا النہر کے اکثر علاقے جن میں سمر قند، بخارا، قوقند، ترمذ، بلخ، تاشقند اور فرغانہ وغیرہ شامل تھے اورگنج کی سلطنت کے اندر آگئے۔ علاؤ الدین محمدخوارزم شاہ نے ترکان خطاء کے خلاف عظیم کامیابی حاصل کی ۔اسی طرح سلجوقی ترکوں کی مقبوضات بھی خوارزم شاہ کے پاس آگئیں۔ ادھر افغانستان کی غوری سلطنت کاسلطا ن ’شہاب الدین غوری‘ اسمعیلی باطنی فرقہ حسن بن صباح کے فدائیوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا ،اس طرح غوری سلطنت انتشار کا شکار ہوگئی اور پھر خوارزم شاہ نے افغانستان پر حملہ کرکے غوری سلطنت پر بھی قبضہ کرلیا۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں تک خوازم شاہ کی مملکت پہنچ گئی۔ اسی طرح موجودہ سرحدی اعتبار سے سلطنت خوارزم اپنے زمانہ عروج میں موجودہ ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان، افغانستان، ایران، پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ اور صوبہ بلوچستان کے کچھ حصہ پر محیط تھی۔
علاؤ الدین خوارزم شاہ اور خلیفہ بغداد میں چپقلش:
اب سلطان علاؤ الدین خوارزم شاہ نے خلافت عباسیہ کو بھی اپنی سلطنت کا باجگزار بناناچاہا ۔اس نے خلیفہ بغداد کو پیغام بھیجا کہ خوارزم شاہ کا نام جمعہ کے خطبہ میں خلیفہ کے ساتھ شامل کیا جائے اور خلیفہ بغدادسلطنت خوارزم کا مطیع ہوجائے۔
علاؤ الدین خوارزم شاہ کے والد کے زمانے میں بھی خوارزم اور بغداد میں لڑائیاں ہوچکی تھیں مگر اب خوارزم شاہ بغداد کو اپنا مطیع کرنا چاہتا تھا ،اس طرح خلیفہ بغداد اور خوارزم شاہ میں شدید نوعیت کے اختلافات پیدا ہوگئے اور تاریخ نے دیکھا کہ ان اختلافات کے نتیجہ میں مملکت اسلامیہ کے بڑے بڑے شہر تاتاریوں کے ہاتھوں برباد ہوگئے ،لاکھوں مسلمانوں کا خون بہا ،ان کے سروں سے کھوپڑیوں کے مینار بنائے گئے ۔آخر کار نہ خوارزم شاہ بچا اور نہ ہی خلیفہ بغداد ۔ دونوں ہی تاتاریوں کے ہاتھوں نیست و نابود ہوگئے ۔
تاتاری قبائل کی چنگیز خان کی سربرادہی میں یلغار:
کمزور اور ناتواں خلیفہ بغداد کو اپنا رقیب اور دشمن سمجھنے والا علاؤالدین خوارزم شاہ احمق تھا۔ اس کا اصل دشمن تو صحرائے گوبی میں مسلمانوں کا خون پینے کی تیاریوں میں مصروف تھا اور موقع کی تلاش میں تھا۔
چین کے شمالی علاقے میں ایک وسیع و عریض صحرا واقع ہے۔ جسے صحرا گوبی کہا جاتا ہے ۔ اس کا کچھ حصہ منگولیا میں بھی شامل ہے۔ زمانہ قدیم میں اس صحرا میں وحشی اورجنگجو قبائل آباد تھے۔ صحرا کی سختی سے یہ قبائل بہت سخت مزاج ہوگئے تھے۔ آس پاس کے علاقوں میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری کرنا انہیں مرغوب تھا۔ چین کی تاریخی خطائی سلطنت کے حکمرانوں نے دیوار چین قائم کرکے انہیں صحرا تک محدود کردیا تھا۔
قبائلی طرز زندگی میں مرکزیت نہیں ہوتی بلکہ طاقت ہی اصل سر چشمہ ہوتی ہے۔ صحرا گوبی میں مغل قبیلہ سب سے طاقتور تھا۔ 1154 ء میں اس قبیلے کے سردار کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام تموجن رکھا گیا۔ جوان ہو کر تموجن نے مغل قبیلے کے تمام دشمنوں کو شکست دے دی اور ایک طویل اور صبر آزما جدو جہد کے بعد گوبی اور منگولیا کے آوارہ قبائل کو ایک جھنڈے تلے منظم کرتے ہوئے ان سب کا سردار بن گیا۔ صحرائے گوبی میں واحد علاقہ جو کچھ سر سبز اور شہری بود باش لئے ہوئے تھا وہ قرا قرم کے نام سے مشہور تھا۔ تموجن نے تمام قبائل جن میں مغل، ایغور وغیرہ شامل تھے ان کی سربراہی اور مرکزیت کا اعلان کرتے ہوئے قراقرم کو اپنا دارالحکومت قرار دیا اور چنگیز خان کا لقب اختیار کیا۔
چنگیز خان کا چین پر حملہ اور خطائی سلطنت کا خاتمہ:
چنگیز خان کو علم تھا کہ سرکش منگول صرف اسی صورت میں قابو میں آسکتے ہیں جب انہیں جنگ و جدل میں مصروف رکھا جائے ۔ اسے معلوم تھا کہ اگر انہیں فارغ چھوڑدیا گیا تو وہ آپس میں لڑنے لگیں گے۔ کچھ اس وجہ سے اور کچھ ہوسِ مال و زرکے تحت چنگیز خان نے منگولیا کی حدود سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔اس کا پہلا شکار پڑوس میں واقع چین کی خطائی سلطنت بنی۔ کئی سال کی خونریزی کے بعد چین کا شہنشاہ ’’دائی دانگ‘‘ دارالحکومت بیجنگ چھوڑ کر فرار ہوگیا اور چین کا وسیع و عریض ملک چنگیز خان کی مملکت میں شامل ہوگیا۔
چنگیز خان کی سلطنت خوارزم پر نگاہیں:
چین کی فتح کے بعد سلطنتِ قراقرم کی سرحدیں خوارزم کے مسلمان علاقوں کو چھونے لگی تھیں۔ ملک گیری کی ہوس چنگیز خان کو سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہی تھی۔ دوسری طرف وہ تاتاری قبائل کو مسلسل جنگ و جدل میں بھی مصروف رکھنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اب اس کی نگاہیں سلطنت خوارزم کے علاقوں کی طرف مرکوز ہوگئیں۔ خوارزم کے شہر سمر قند، بخارا، تاشقند اور گنج وغیرہ اس وقت عالم اسلام کی تہذیب اور تمدن کا مرکز تھے۔ علم وہنر میں یکتا افراد دنیا بھر سے ان علاقوں میں اپنے فن کی داد حاصل کرنے آتے تھے۔ تجارت کا مرکز ہونے کے سبب ماورا النہر کے یہ شہر مال و دولت کی فراوانی رکھتے تھے۔ چنگیز خان نے اسی مال و دولت اور ہوس اقتدار کے تحت ان سرسبز و شاداب شہروں کو برباد کردیا۔
1218ء میں سلطنت قراقرم اور سلطنت خوارزم کے درمیان آزادانہ تجارت اور آمدو رفت کا معاہدہ طے پایا۔ چنگیز خان مسلم علاقوں پر حملہ آور ہونے سے پہلے ان شہروں کے محل وقوع اور جغرافیائی حالات سے مکمل آگاہی چاہتا تھا۔ چنگیز خان کا طریقہ کار یہی تھا کہ جاسوسوں کے ذریعے ان علاقوں سے متعلق مکمل آگاہی حاصل کرلی جائے، جن پر حملہ آور ہونا مقصود ہو۔ تجارت کے معاہدے کے تحت تاجروں کے روپ میں تاتاری جاسوس سلطنت خوارزم میں پھیل گئے اور سلطنت کے جغرافیائی حالات کے بارے میں معلومات قراقرم پہچانے لگا۔
خلیفہ بغداد ناصر الدین کی چنگیز خان کو عالم اسلام
پر حملہ آور ہونے کی دعوت:
اس ساری داستان میں سب سے المناک پہلو خلیفہ بغداد ناصر الدین کا شرمناک کردار ہے۔ اس کی دعوت پر چنگیز خان عالم اسلام پر فوری حملہ آور ہوگیا ورنہ شاید عالم اسلام کو چند عشرے اس بربادی سے بچنے کیلئے مل جاتے۔
تفصیل اس حادثے کی کچھ یوں ہے کہ خوارزم شاہ سلطان علاؤالدین کا خلیفہ ناصر کو اپنی اطاعت کا پیغام دینا اس بات کا غماز تھا کہ وہ خلیفہ ناصر کی اطاعت سے آزاد ہوچکا ہے۔(اس واقعے کی تفصیل پہلے آچکی ہے) اب خلیفہ بغداد کو براہ راست خوارزم شاہ سے خطرہ لاحق تھا۔ چنگیز خان کا خوارزم شاہ سے معاہدہ دوستی بھی خلیفہ ناصر الدین کیلئے باعث پریشانی تھا۔ دوسری طرف خلیفہ کا زبردست جاسوسی نظام اسے بتارہا تھا کہ حقیقت میں چنگیز خان کا معاہدہ دوستی اور تجارت ایک فریب ہے اور اصل میں چنگیز خان کی نظریں سلطنت خوارزم کے شہر پر ہیں۔ خلیفہ ناصر الدین کے جاسوسوں نے اسے یقین دلایا کہ اگر چنگیز خان کو یہ پیغام پہنچادیاجائے کہ خوارزم پر حملہ کرنے کی صورت میں خلافت بغداد غیر جانبدار رہے گی تو وہ خوارزم پر فوراًحملہ کردے گا۔ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ چنگیز خان کو مسلمان علاقوں پر حملہ آور ہونے کی صورت میں عالم اسلام کی طرف سے مشترکہ مزاحمت کا شدید خوف لاحق تھا۔
اس پس منظر میں خلیفہ بغداد ناصر الدین نے وہ اقدام اٹھایا جو اس کے منصب کے شایان شان ہر گز نہ تھا۔ خوارزم کے سلطان سے لاکھ خطرہ سہی مگر وہ بہر حال مسلمان حکمران تھا اور اس سے معاملات گفت و شنید سے حل کرنا بہتر تھا۔مگر خلیفہ بغداد نے قراقرم ایک سفارتی وفد روانہ کیا اور ایک خفیہ پیغام چنگیز خان کو بھجوایا کہ اگر وہ خوارزم پر حملہ آور ہوگا تو بغداد کی خلافت اس ضمن میں غیر جانبدار رہے گی۔ یعنی خلیفہ نے چنگیز خان کو عالم اسلام پر حملہ آور ہونے کی دعوت دی اور اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ بغداد کی خلافت جو عالم اسلام کا سیاسی مرکز ہے اس سلسلے میں خاموش رہے گی۔
یہ سفارت کاری بڑے ڈرامائی انداز میں کی گئی۔ چونکہ بغداد کے ایلچی کو قراقرم کیلئے خوارزم کے علاقے سے گزرنا تھا۔ اس لیے خلیفہ کا خفیہ خط جو سلطنت خوارزم کیلئے موت کا پیغام تھا اسے چھپانا ممکن نہ تھا۔ خوارزم کے حکام ویسے ہی بغداد والوں سے مشکوک تھے ۔ اس خفیہ پیغام کو پوشیدہ رکھنے کیلئے عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا گیا۔ قاصد کے سر کو مونڈھ دیا گیا اور گنجے سر پر سوئی کو گرم کرکے خلیفہ کا پیغام لکھوایا گیا۔ پیغام کے ساتھ خلیفہ کی مہر کو بھی انگارہ کرکے ثبت کردیا گیا ۔ اس تحریر کو کسی خاص تیل سے چھپا دیا گیا ۔ جب قاصد کے بال اچھی طرح بڑھ گئے تو اسے قراقرم روانہ کردیا گیا۔ اس طرح تاریخ کا یہ خفیہ ترین پیغام چنگیز خان کو پہنچ گیا۔
(اس پورے واقعہ کی منظر کشی قاسم جلالی کے ڈرامے آخری چٹان میں بہت خوبصورتی سے کی گئی ہے۔)
خوارزم شاہ کے ہاتھوں چنگیزی قاصد کا قتل:
ادھر خلیفہ بغداد سازشوں میں مصروف عمل تھا ادھر خوارزم شاہ کی حماقت نے اس سے وہ کام کروادیا جس نے عالم اسلام کے وسیع رقبے پر تباہی و بربادی کی داستانیں رقم کردیں۔تفصیل اس کی کچھ اس طرح ہے کہ تجارتی معاہدے کے تحت قراقرم اور خوارزم کے درمیان تجارتی فاصلوں کی آمد و رفت جاری تھی۔ ادھر اور گنج کے دربار میں خوارزم شاہ کو متواتر خبریں مل رہی تھیں کہ تجارتی قافلوں کی آڑ میں تاتاری جاسوس بھی مملکت خوارزم میں اپنا نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ اسی دوران خوارزم کے سرحدی علاقے اترار کے حاکم ینال خان نے قراقرم سے آنے والے ایک تجارتی قافلے کو جاسوسی کے الزام میں روک لیا۔ اس قافلے میں اکثریت بخارا کے تاجروں کی تھی یعنی یہ قافلہ خوارزم کے رہائشی افراد کا تھا اور قراقرم سے واپس آرہا تھا۔ حاکم اترار نے اورگنج میں خوارزم شاہ کو اطلاع دی۔ خوارزم شاہ نے حکم دیا کہ قافلہ کو گرفتار کرلیا جائے اور جاسوسی کے الزام کی تحقیقات کی جائیں ۔ حاکم اترار ینال خان خوارزم شاہ کا رشتہ دار تھا کچھ اس وجہ سے اور کچھ قافلے میں موجود مال و متاع کے لالچ میں ینال خان نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قافلے والوں کو قتل کردیا اور مال و متاع پر قبضہ کرلیا۔
چنگیز خان کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو اس نے اپنا سفارتی وفد خوارزم شاہ کے دربار میں بھیجا۔ اپنے خط میں چنگیز خان نے سخت احتجاج کرتے ہوئے حاکم اترار ینال خان کی حوالگی کا مطالبہ کردیا۔ مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں جنگ کی کھلی دھمکی دی۔ یہ دھمکی سن کر خوارزم شاہ آپے سے باہر ہوگیا۔اس نے کہا کہ مقتول تاجروں کی اکثریت خوارزم کے باشندوں پر مشتمل تھی۔ چنگیز خان کا احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ ان پر جاسوسی کا الزام غلط نہیں تھا ۔ علاؤالدین خوارزم شاہ نے فہم و فراست سے معاملہ نمٹانے کے بجائے غصے میں آکر چنگیز خان کے قاصد کو قتل کروادیا اور قاصد کے ساتھیوں کی داڑھیاں مونڈھ کر انہیں واپس بھیج دیا۔ قاصد کا قتل بین الاقوامی اصولوں کے تحت حالت جنگ میں بھی جائز نہیں ہوتا۔ قراقرم اور خوارزم اسی وقت حالت امن میں تھے۔ ایسے میں قاصد کو قتل کرکے خوارزم شاہ نے وہ بھیانک غلطی کی جس کا خمیازہ عالم اسلام کو ایک کروڑ مسلمانوں کی قربانی دے کر بھگتنا پڑا۔اس کے نتیجے میں خوارزم کی سلطنت ہی برباد ہوگئی اور تاریخ میں قصہ پارینہ بن گئی۔
چنگیز خان کی یلغار:
قراقرم کے دربار میں چنگیزی وفد شکستہ حالت میں واپس پہنچا اور جب اس نے قاصد کے قتل کی اطلاع چنگیز خان کو دی تو چنگیز خان غصے سے کانپ اٹھا۔ تاریخ جہاں کشائی کا مصنف عطاء الملک الجوینی لکھتا ہے ’’چنگیز خان آگ بگولہ ہوگیا اور پھر تاتاری عقائد کے حساب سے مقدس پہاڑی پر چڑھ گیا اور اپنے فرضی معبور کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا۔ اس نے تین دن اور رات اسی طرح گزارے اور پھر نیچے آکر اعلان کیا کہ’’ جس طرح آسمان پر دو سورج نہیں چمک سکتے اسی طرح زمین پر بھی دو شہنشاہ نہیں ہوسکتے!‘‘
چنگیز خان نے خوارزم شاہ کو فوراًپیغام بھیجا، ’’تم نے جنگ کو پسند کیا ہے، اب جو ہوگا سو ہوگا،اور کیا ہوگا؟ یہ خدا کو معلوم ہے۔‘‘
اس طرح عالم اسلام پر تاتاریوں کی یلغار کا آغاز ہوگیا اور ایک قاصد کے قتل کا بدلہ چنگیز خان نے ایک کروڑ مسلمانوں کو قتل کرکے لیا۔
تاتاریوں کی عالم اسلام پر کی جانے والی یہ یلغارتقریباً بارہ سالوں پر محیط ہے۔ چند ایک کے سوا عالم اسلام کے تقریباًتمام بڑے شہر اس کی لپیٹ میں آئے۔مسلمانوں کی لاشوں کے انبار لگائے گئے ۔ ایک کروڑ سے زائد مسلمان کام میں آئے،بڑے بڑے عالم دین ، مجدد، محدث اور مختلف فنون کے ماہر اسی سیلاب بلا خیز کی رو میں بہہ گئے۔ عالم اسلام کا آدھے سے زیادہ رقبہ اس سے متاثر ہوا۔ اتنی بڑی تباہی روئے زمین پر اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ اتنی بڑی یلغار کا ذکر چند صفحات کے مضمون میں سمونا بہت مشکل ہے۔ اس ذکر کیلئے مستقل کتاب درکار ہے۔ پھر بھی کوشش کرتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ بات سمجھ آجائے۔
تاتاریوں اور علاؤالدین خوارزم شاہ کا ٹکراؤ:
1219 ء میں چنگیز خان نے اپنی سپاہ کو منظم کرنے کا حکم دیا اور ایک لشکر جرار کے ساتھ خوارزم کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی شروع کردی۔ مورخین نے چنگیزی لشکر کی تعداد سات سے آٹھ لاکھ تک بیان کی ہے۔ طبقاتِ ناصری میں سات لاکھ جبکہ حافظ ابن کثیر نے آٹھ لاکھ لکھی ہے۔ خوارزم کی سرحدوں کے قریب پہنچ کر چنگیز خان نے ایک لشکر اپنے بیٹے جوجی خان کی سربراہی میں خوارزم کے روایتی راستے سے بھیج دیا اور خود اس عظیم لشکر کو لے کر غیر روایتی اور دشوار گزار راستہ اختیار کیا۔
خوارزم شاہ کا جاسوسی کا نظام ناقص نکلا اور وہ جوجی خان کے لشکر کو چنگیز خان کا لشکر سمجھ کر چنگیز خان کی عسکری چال کا شکار ہوگیا۔ دریائے سیحوں کے پار سطع مرتفع پامیر جو آج کل چین کا مسلم اکثریتی صوبہ سنکیانگ یا کاشغر کہلاتا ہے ‘خوارزم شاہ اور جوجی کا ٹکراؤ ہوگیا۔ خوارزم شاہ کا لشکر چار لاکھ سپاہیوں پر مشتمل تھا اور جوجی خان کے پاس اصل لشکر کا صرف ہر اول دستہ تھا۔ راستے میں جوجی خان کے ساتھ چنگیز خان کا مشہور سالار جبی نویان بھی شامل ہوگیا تھا مگر پھر بھی تعداد کے حساب سے تاتاری اب بھی خوارزمیوں سے بہت کم تھے۔ دوسری طرف چنگیز خان اپنا اصل لشکر لے کر دشوار گزار پہاڑی راستوں سے خوارزم کے وسط کی طرف محو سفر تھا۔ چنگیز خان کا منصوبہ خوارزم شاہ کو سرحدی علاقوں میں الجھا کر کمزور کرنا اور پھر اچانک آندھی طوفان کی طرح خوارزم کے وسطی شہر بخارا پر قبضہ کرنا تھا۔ بخارا کی فتح کے بعد اس نے اپنی مہم کو آگے بڑھانا تھا۔
کاشغر کے میدان میں جوجی خان اور خوارزم شاہ میں معرکہ لڑا گیا۔ اس معرکے سے پہلے جلال الدین خوارزم شاہ جو اسی وقت شہزادہ تھا اس کی سربراہی میں تاتاریوں سے خوارزمیوں کی جھڑپ ہوچکی تھی جس میں خوارزمیوں کا اچھا خاصا نقصان ہوا تھا ۔ بہر حال یہ معرکہ خوارزم شاہ کے حق میں بہت بُرا ثابت ہوا۔ تاتاری اس لڑائی میں بڑی بے جگری سے لڑے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ تاتاری حملہ آور خوارزم شاہ سے صرف سوگز فاصلے پر رہ گئے مگر جلال الدین ہمت اور بہادری کے ساتھ اپنے والد کو بچا کر پیچھے لے آیا۔ کاشغر کی لڑائی تین دن جاری رہی اور پھر جوجی خان چنگیز خان کی منصوبہ بندی کے تحت پیچھے ہٹ گیا۔ خوارزم شاہ نے اسے تاتاریوں کی شکست سے تعبیر کیا اور اعلان فتح کردیا۔ مگر اس تین روزہ جنگ میں خوارزم شاہ کے دل د دماغ میں تاتاریوں کی ہیبت طاری ہوگئی تھی۔ تاتاری کے خوفناک انداز اور لڑنے کے بے خوف اور نڈر طریقہ کار نے خوارزمیوں کو مبہوت کرکے رکھ دیا تھا۔ وہ انہیں کوئی ماورائی مخلوق سمجھ رہے تھے۔
سقوط سمر قندو بخارا:
کاشغر سے پیچھے ہٹتے ہی چنگیز خان کا ایک تازہ دم لشکر جوجی خان کے پاس پہنچ گیا اور چنگیز خان نے جوجی کو سرحدی علاقے فتح کرنے کا حکم دے دیا۔ جوجی خان سرحدی قلعے فتح کرتا اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتا ہوا قوقند پر حملہ آور ہوگیا ۔ قوقند خوارزم کا عظیم الشان شہر تھا۔ اس کا حاکم تیمور ملک تھا جس نے بڑی بے جگری اور دلیری سے قوقند کا دفاع کیا مگر تقدیر کے لکھے کو بھلا کون مٹا سکتا ہے۔
دوسری طرف چنگیزی سالار جبی نویان لشکر سے علیحدہ ہوکر سمر قندکے تاریخی شہر کی طرف حملہ آور ہوگیا۔ ادھر چنگیز خان مرکزی لشکر کے ساتھ بخارا کے عظیم الشان شہر کی طرف بڑھا۔
بخارا، سمر قند، قوقند اترار غرض ہر طرف سے تاتاری یلغار کی خبریں خوارزم شاہ تک پہنچنے لگیں ۔ تاتاریوں سے مرعوب خوارزم شاہ گھبرا گیا اور ایک کے بعد دوسرے شہر سے فرار ہونے لگا۔ اس نے بجائے ایک جگہ رُک کر تاتاریوں کا مقابلہ کرنے کے اپنے لشکر کو سلطنت کے مرکزی شہروں کے دفاع کیلئے پھیلا دیا۔ خوارزم شاہ کا یہ اقدام تباہ کن ثابت ہوا اور خوارزمی ہر محاذ پر شکست کھانے لگے۔ اب خوارزم شاہ کی تلاش میں تاتاری لشکر اس کا پیچھا کرنے لگا مگر خوارزم شاہ نے براہ راست مقابلے سے گریز کیا۔
چنگیز خان کی برق رفتاری کے سبب سال بھر میں خوارزم کی سلطنت کے اکثر علاقے تاتاریوں کے زیر تسلط ہوگئے۔ سمر قند اور بخارا میں تاتاریوں نے مسلمانوں کی لاشوں کے انبار لگا دئیے ۔ کھوپڑیوں کے مینار قائم کئے گئے۔ قوقند اور اترار کا حال بھی یہی ہوا۔ حاکم اترار ینال خان جس نے چنگیزی قافلے کو قتل کیا تھا اسے زندہ گرفتار کرکے چنگیز خان کے حوالے کردیا گیا ‘ جسے بعد میں عبرت ناک انداز میں قتل کردیا گیا۔ خوارزم شاہ کا تمام خزانہ تاتاریوں کے قبضے میں آگیا۔ سب سے بڑھ کر حرم سرا کی خواتین بھی تاتاریوں کے قبضے میں چلی گئیں۔ سب سے برا حشر دارالحکومت اور گنج کا ہوا۔ تاتاریوں نے دریا کا رُخ موڑ کر پورا شہر غرق کردیا۔
تاتاری خوارزم شاہ کی بو سونگھتے پھر رہے تھے خوارزم شاہ نے بھیس بدل کر بحیرہ خزر کے ویران جزیرے آب سکون میں روپوشی اختیار کرلی۔ اسی حالت میں چند ہی دنوں میں وہ انتقال کرگیا اور مرنے سے تین دن پہلے جلال الدین کو اپنا جانشین مقرر کرگیا۔
شہزادہ جلال الدین بطور خوارزم شاہ:
سلطان جلال الدین نے جس وقت حکومت سنبھالی وہ وقت نہایت نازک تھا۔ حکومت سنبھالتے ہی اسے دارالحکومت سے فرار ہونا پڑا۔ اور گنج کے قتل عام میں بارہ لاکھ مسلمان شہید کئے گئے۔ اسی ہنگامے میں جلال الدین کے دو بھائی بھی ہلاک ہوگئے۔ اب جلال الدین خوارزم شاہ نے خراسان کے علاقے کا رُخ کیا۔ بچی کچی سپاہ کو منظم کرنے کے خیال سے خراسان کا علاقہ بہترین تھا کہ یہ علاقے ابھی تاتاری یورش سے محفوظ تھے۔ جلال الدین کو سپاہ منظم کرتا دیکھ کر چنگیز خان نے ان کا پیچھا کرنے کا حکم دیا۔ دوسری طرف تاتاری وحشیوں نے نسا، نیشا پور، مرو جیسے علم و فن کے مراکز برباد کردئے۔ جلال الدین خوارزم شاہ کے تعاقب میں چنگیز خان بذات خود خراسان پہنچ گیا۔ اسی دوران ہرات کا علاقہ بھی تاتاری قبضے میں چلا گیا۔ غرض یہ کہ عجب افرا تفری کے حالات میں جلال الدین خوارزم شاہ نے اپنے والد کے برعکس تاتاریوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
افغانستان میں تاتاریوں کو مزاحمت کا سامنا:
اب تاتاریوں کی یورش افغانستان تک پھیل چکی تھی۔ افغانستان کے علاقے میں تاتاریوں کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا‘ کئی قلعے مہینوں کی جنگ کے بعد فتح ہوئے اور کئی ایک پر تاتاریوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اسی دوران قندھار کا معرکہ پیش آگیا۔ جلال الدین کو اطلاع ملی کہ قندھار کے قلعے کا نہایت سخت محاصرہ کیا گیا ہے۔ اہل قندھار کی مدد کرنے کیلئے جلال الدین اپنی سپاہ کو لے کر پہنچ گیا۔ اہل قندھار کے ساتھ مل کر تاتاریوں کو شکست فاش دی اور یہ پہلا موقع تھا کہ حملہ آور تاتاریوں میں سے ایک بھی زندہ واپس نہ جا سکا۔
غزنی بطور مراکز:
قندھارکے معرکے نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کردئے۔ اب جلال الدین نے غزنی کے علاقے کو اپنا مرکز بنالیا اور غزنی میں اپنی قوت مجتمع کرنے لگا۔ دوسری طرف طالقان کے شہر پر چنگیز خان بذات خود حملہ آور تھا۔ غزنی کے حالات سن کر اور قندھار کے پسپائی نے اسے برانگلیختہ کردیا۔ اس نے فوراًغزنی کی طرف ایک لشکر جرار روانہ کیا ۔ اس دفعہ جلال الدین نے قلعہ بند ہوکر لڑنے کے بجائے باہر نکل کر تاتاریوں کا مقابلہ کیا۔ تین دن کی گھمسان کی لڑائی کے بعد مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگئی اور تاتاری پسپا ہوکر پلٹ گئے۔ جلال الدین کی اس فتح نے اہل افغانستان میں روح پھونک دی ایک طرف تو وہ جوق درجوق غزنی کا رخ کرنے لگے اور دوسری طرف افغانستان کے مفتوح علاقوں میں تاتاریوں کے خلاف بغاوت برپا ہونا شروع ہوگئی۔
پروان کا معرکہ:
غزنی کے معرکے کے بعد خراسان کے علاقے میں پھیلنے والی بغاوت کے نتیجے میں تاتاریوں نے مفتوحہ علاقوں میں قتل عام کرنا شروع کردیا۔ اس قتل عام میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ اسی دوران طالقان میں مقیم چنگیز خان کو جلال الدین خوارزم شاہ نے پیغام بھیجا کہ عام مسلمانوں کو قتل کرنے کے بجائے میرے لشکر کا مقابلہ کرے اور اس کیلئے میدان وہ خود منتخب کرے۔ یہ پیغام چنگیز خان کو آگ بگولہ کرنے کیلئے کافی تھا ۔ اس نے اپنی تمام قوت کو خراسان میں جمع ہونے کا حکم دیا اور پھر اپنے بیٹے تولی خان کو ایک لشکر جرار دے کر غزنی کی طرف روانہ کیا۔
پروان کے میدان میں تولی خان اور جلال الدین کا معرکہ پیش آیا اور آخر کار گھمسان کی لڑائی کے بعد تولی خان قتل ہوا اور تاتاریوں کی بڑی تعداد جلال الدین کی قید میں چلی گئی۔ چنگیزی یلغار کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں تاتاری گرفتار ہوئے تھے۔
سلطان کے امراء میں پھوٹ:
پروان کی فتح نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کردیے تھے۔ تاتاری کے قابل شکست رہنے کا تصور پاش پاش ہوگیا تھا۔ قریب تھا کہ جلال الدین آگے بڑھ کر خود چنگیز خان پر حملہ کردیتا اور اسے خراسان سے دھکیلتا ہوا ماورالنہر کے علاقوں میں لے جاتا مگر قسمت کو یہ منظور نہ تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں مسلمانوں کو اپنوں ہی نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ اس دفعہ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ۔ پروان کے مال غنیمت میں ایک بیش قیمت گھوڑے پر سلطان جلال الدین کے دو نہایت اہم امراء امین الملک اور سیف الدین میں جھگڑا ہوگیا ۔ بات قتل و غارت گری تک پہنچ گئی۔ امین الملک سلطان کا رشتہ دار تھا۔ سیف الدین نے جلال الدین پر اقرباء پروری کا الزام لگاتے ہوئے لشکر اسلام سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ اس نازک موقع پر سلطان جلال الدین گھبرایا اور سیف الدین کو روکنے کی بہت کوشش کی۔ مگر سیف الدین نہ مانا اور اپنی حامی امراء کے ساتھ فوج کا ایک بڑا حصہ لے کر جلال الدین سے الگ ہوگیا۔
جلال الدین خوارزم شاہ کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس کی فوج میں پھوٹ پڑ گئی تھی۔ چنگیز خان کو اس کا علم ہوا تو اس نے موقع غنیمت جان کر سلطان پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس دفعہ چنگیز خان بذات خود اپنا لشکر لے کر نکلا ۔
ساحل سندھ کا تاریخی معرکہ:
قلیل فوج کے ساتھ چنگیز خان کا مقابلہ مشکل تھا۔ جلال الدین نے اس وقت فیصلہ کیا کہ بچی کچی سپاہ لے کر فرار اختیار کیا جائے تاکہ تیاری کا مناسب موقع مل سکے۔ جلال الدین خوارزم شاہ نے باغی امراء کی طرف راہ فرار اختیار کی تاکہ راستے میں ان کو سمجھا بجھا کر واپس ملانے کی کوشش کرے۔ مگر چنگیز خان کی طوفانی رفتار کے باعث اسے ہندوستان کا رُخ کرنا پڑا ۔ چنگیز خان کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ جلال الدین باغی امراء کو ساتھ ملانے میں کامیاب ہو، نہ ہی وہ جلال الدین کو دریائے سندھ پار کرکے ہندوستان میں داخلے کا موقع دینا چاہتا تھا کہ وہ سلطان التمش کے پاس پناہ حاصل کرلے۔ یہی وجہ تھی کہ چنگیز خان برق رفتاری سے جلال الدین کا تعاقب کر رہا تھا۔ دوسری طرف جلال الدین خوارزم شاہ اپنی بچی کچی سپاہ کو بچا کر ہندوستان میں سلطان التمش کے پاس پناہ لینا چاہتا تھا۔
ضلع اٹک کے علاقے میں باغ نیلا ب کے ساتھ دریائے سندھ کے ساحل پر چنگیز خان نے جلال الدین خوارزم شاہ کو جالیا۔ تاتاریوں اور خوارزمیوں میں خوفناک لڑائی لڑی گئی۔ جلال الدین کو اندازہ تھا کہ یہ جنگ اس کی فنا اور بقا کی جنگ ہے ۔ تاتاریوں کے ہاتھوں جلال الدین کا لشکر برباد ہوگیا۔ اس معرکے کی تفصیل شروع میں درج کی گئی تھی۔ 24نومبر1221 ء کو یہ معرکہ پیش آیا جس میں خوارزم شاہ نے جوان مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریائے سندھ کو عبور کرلیا باقی تمام سپاہ سوائے چند ایک کے تاتاریوں کے ہاتھوں شہید ہوگئی۔
جلال الدین خوارزم شاہ کا افسوس ناک انجام:
دریائے سندھ عبور کرکے جلال الدین کے چند ساتھی اپنے سلطان کے پاس پہنچ گئے۔ لٹا پٹا یہ شاہی قافلہ دہلی کے سلطان التمش کی طرف چلا۔ ادھر چنگیز خان نے تاتاری لشکر جلال الدین کے پیچھے روانہ کئے مگر وہ ان کی پہنچ سے دور نکل گیا۔ تاتاری لشکر نے ملتان ، لاہور اور پنجاب کے دیگر پر حملہ کردیا۔ تاتاریوں کا ایک اور لشکر بلوچستان کی سمت خضدار کی طرف تباہی پھیلاتا چلا گیا۔ مگر موسم گرما شروع ہوگیا تھا اور ہندوستان کی گرمی منگولیا کے سرد علاقے کے باشندوں کو راس نہیں آئی اور وہ بیمار پڑنے لگے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے چنگیز خان نے واپسی کا سفر اختیار کیا۔
دوسری طرف التمش نے کھل کر جلال الدین کی حمایت کرنے سے انکار کردیا۔
مجبوراً جلال الدین نے ہندوستان کی چھوٹی چھوٹی ہندو ریاستوں کو فتح کرکے
اپنا لشکر منظم کرنا شروع کیا۔ ہندوستان میں چھوٹی سی مملکت بنانے کے بعد
جلال الدین نے عراق کا رُخ کرلیا۔ تاتاریوں کے خلاف جلال الدین کی جدو جہد
دس سال تک جاری رہی۔ چنگیز خان کا اسی دوران انتقال ہوگیا۔ مگر اس کے
جانشین نے مسلمانوں کے خلاف بربادی کا سلسلہ جاری رکھا جو بڑھتے بڑھتے
ایران کے شہر قم تک پہنچ گیا۔ عالم اسلام کے خلاف تاتاریوں کی دست درازیاں
جاری رہیں اور جلال الدین تنہا اس سیلاب بلا خیزکے آگے بند باندھتا رہا۔ اس
نے کئی دفعہ تاتاریوں کیخلاف اتحاد بنانے کیلئے خطے کے دیگر مسلم حکمرانوں
کی منت سماجت کی۔ بغداد کے خلیفہ ناصر کو ساتھ ملانے کیلئے وہ خود بغداد
جا پہنچا۔ مگر بجائے مدد کرنے خلیفہ بغداد نے جلال الدین کے لشکر پر حملہ
کردیا۔ درباری سازشوں اور اپنوں کی غداریوں سے جلال الدین کمزور ہوتا چلا
گیا۔ آخر کار 1231 ء میں تاتاریوں کے خلاف دس سال جدو جہد کرکے یہ عظیم
مجاہد خاموشی سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ویرانوں میں بھیس بدل کر روپوش ہوگیا۔
کئی سال تک یہ افواہ پھیلی رہی کہ وہ کسی نا معلوم جگہ پر تاتاریوں کے
خلاف منظم ہورہا ہے اور تاتاری اس کی بو سونگھتے رہے مگر جلال الدین پھر
دوبارہ کسی کو نظر نہیں آیا۔ بعد میں چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے بغداد
پہ حملہ کرکے خلافت عباسیہ کا خاتمہ کردیا اور بغداد کے مسلمانوں پر ظلم و
ستم کی نئی داستان رقم کی۔ اس طرح خلیفہ بغداد کی سازش اپنے انجام کو
پہنچی
March 01, 2022
MUSLIMS Who Left there Religion مسلمان جنہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا۔ کیا وہ قیامت کے دن
🍀 * اک یہودی کی باتیں * 🍀
جن کے سر پر ڈوپٹہ ہونا چاہئے وہ ننگے سر کھڑی ہیں۔
میں یہودی هوں اور اپنے یہودی ھونے پر فخر کرتا ہوں جبکہ تم اب مسلمان کہلاتے ھوئے شرماتے ھو....جبکہ آج دنیا میں هماری حکومت هے۔
تم نے دیکها که هم نے تمهارے ساتھ کیا کیا؟
هم تمهاری سڑکوں په پهرے تو همیں تمهارا حال پسند نہیں آیا...
تو پته هے هم نے کیا کیا؟
بہت آسانی سے تمهاری لڑکیوں💇👧🙋 کے سروں سے حجاب اتروادیا...
دوسرے طریقوں سے قرآن📖 بهی بهلوادیا..
تم لوگوں کے پاس اپنا لباس🎽👚👗 بهیجا 😨😰😱 اپنے بازاروں کو دیکهو سارے عریاں لباس کی نمائش گاه هیں...اور تمہاری تہذیب کا لباس تمہارے بازاروں میں ڈھونڈے نہیں ملتا۔
اور مزے کی بات یہ هے کہ تم نے سب قبول کرلیا...👍
کیا تم کو نہیں معلوم که یہی حال قوم لوط کا تها...
کتنے بےوقوف هو تم...که کہتے رهتے هو:
یہودیوں نے هماری زمین چهین لی..قرآن📖 اور سنت کو ختم کروادیا...
تم کہاں مر گئے هو..؟کچھ کیوں نہیں کرتے؟
سڑکوں پر تمہاری لڑکیاں👧🙋ایسے لباس میں گهوم رهی هیں کہ نام کو لباس ھے پہلے ہم نے تمھاری عورتوں کا حجاب اتارا پھر چادریں🧕🏻 پھر ڈوپٹہ🙎🏻 پھر لباس چست کیا🤷♀ شلواریں أنچی کیں اب شلوار کی جگہ ٹائیٹس 🚶🏻♀پہنادیا ہم نے انھیں بازاروں راستوں میں برہینہ کردیا اب وہ ہمارا بنایا ھوا لباس فخر سے پہنتی ہیں اور تمھارا لباس پہنتے ھوۓ انھیں شرم آتی ھے ...کیا مضحکه خیز بات هے...
تمہارا حال بہت برا هوگیا👎
همیں تم لوگوں کی تعلیم📔📒📚 میں ترقی پسند نه آئی تو هم نے تمہارا نصاب بدلوادیا...
اور تمہارے ٹیلی ویژن📺 کو ذلت آمیز پروگراموں اور شرم ناک ڈراموں میں بدل دیا...
تمہیں اور تمھارے علماء کو کچھ بولنے کی ضرورت نہیں..تمہارا چپ رهنا هی بہتر هے...😷
هم نے تمہارے نوجوانوں کو بهٹکا دیا...😐
ایک دور تها که تم ایک پاکیزہ اور غالب امت تهے...آج تم ذلت کی پستیوں میں اترگئے هو...بےچارے!😫😫
هم نے محسوس کیا که تم لوگوں کی زبان عربی بہت خوب صورت هے جس سے تم قرآن📖 پڑهتے هو...اور اهل جنت کی بهی یہی زبان هوگی.......تو هم نے تمہاری زبان کو بے فائدہ اور فضول قراردیا...اور تم لوگوں نے فورا"یقین کرلیا...پهر تم دوسری زبانوں پر فخر کرنے لگے
(ہائے..بائے..هیلو..مرسی..برستیج.....وغیرہ وغیرہ)
اور تم نے اپنے دعائیه خوب صورت کلمات(السلام عليكم) کو چهوڑ کر انهی کا استعمال شروع کردیا اور هم تمہیں اسی طرح پسند کرتے هیں
اور همیں یه بهی پسند نہیں آیا که تم لوگوں کو متحد دیکهیں... تو هم نےتمہاری مسجدوں🕌🕌 کو اڑادیا اور الزام بهی تم پر هی لگایا...
اس سے تمہارے درمیان باهمی لڑائیاں🔫🔪🗡🛡💣☠شروع هو گئیں..
هم نے تمہارے دین کا گہرائى سے مطالعہ کیا اور جهوٹے فتووں کے ذریعے تمہیں تمہاری راه سے هٹا دیا....
هم نے تمہارے درمیان نفرت اور فساد کی آگ بهڑکائى جو تب تک نہیں بجهے گی جب تک که تم سب😫😫 کو جلا کر راکھ نہ کردے ...
تمہارے گهر👨👩👧👧👨👩👦👦 والے اب جدید مشینی ایجادات 🖥💻📲📱💾💿💽📼کے زیر سایہ پرورش پاتے ہیں...
هم نے طرح طرح کی کمپیوٹر گیمز🎲🎯🎮👾🎼🎧🎻🎤 ایجاد کیں، جن میں کهو کر تم قرآن📖 کو بهول گئے...اپنے علماء👳 کو بهول گئے...مسلمان سائنس دانوں🕵👮👲 اور ان کے کارناموں کو بهول گئے...تمہاری نئى نسل ایسی نسل هے جو حق بات کہتے هوئے ڈرتی هے...
😐😖😫😣
ھم یہودی قوم... اس بات پر فخر کرتے ہیں که تعداد میں اس قدر تهوڑے ھونے کے باوجود ھم نے تمہیں بہت آسانی سے🐏🐑🐏🐏🐑🐑🐂 گوشت کے ٹکڑوں کی مانند خرید لیا...
اور تمہیں اس کا کوئی ملال نہیں...تم خوش 😃اور مست🙃 ھو................#⃣#⃣
نوٹ: جہاں تک ممکن ھو مسلمانوں کی بڑی تعداد کو بهیجیں .....
تلخ سہی لیکن ھے حقیقت .....
امتی
مہربانی کر کے اسے آگے بھیجو مسلمانوں کی آنکھیں کهولو
August 28, 2021
گوری چٹی لال سرخ ہونٹوں والی خاتون
گوری چٹی لال سرخ ہونٹوں والی خاتون
میں ٹورنٹو میں اپنی کار میں سفر کر رہا تھا
کہ اچانک ایک گوری چٹی لال سرخ ہونٹوں والی خاتون نے مجھے روکا اور کہا
السلام علیکم! میں حیران رہ گیا۔ آخر وہ مجھے ایک کافی سینٹر پر لے گئی اور
کہنے لگی پلیز! آپ مجھے ضرور وقت دیں، میں تھوڑا پریشان ہوا، اس نے مجھے
بتایا کہ اسے اردو آتی ہے، بلکہ مسلمان بھی ہے۔
میں بولا کیوں نہیں ہے۔ پھر گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ مجھے بولنے کا موقع کم اور سننے کیلئے تمام قوت اور توانائی کو یکجا کرنا پڑی۔وہ کہنے لگی: ”دیکھو میں مسلمان ہوں، لیکن تم اسلام کے ٹھیکیدار پاکستانی مسلمانوں سے کہیں بہتر ہوں، میرے دل میں حسد نہیں، بغض نہیں، کسی کا دل نہیں دکھاتی، کسی سے زیادتی نہیں کرتی، کسی کا حق نہیں مارتی، تمام اسلامی شعائر کا بھرپور ایمان کی حد تک پاس کرتی ہوں، اپنے اور خدا کے معاملات میں کسی کی دخل اندازی نہیں چاہتی۔ اپنے شوہر، گھر اور بچوں کی وفادار ہوں“۔ وہ بلا تکان بولے جا رہی تھی اور میں کسی مجرم کی مانند سرجھکائے اسے سنے جا رہا تھا۔ دل سے نکلی ہوئی آواز ہر کسی پر اثر کرتی ہے، شاید اس سحر میں، میں بھی گرفتار ہو چکا تھا۔ وہ کہنے لگی: مجھے اسلام قبول کیے ہوئے 34 برس ہو گئے، میری عمر 51 برس ہے، اس نے بتایا کہ 17 سال کی عمر میں اس نے ایک پاکستانی نژاد نوجوان ابرار سے شادی کی تھی جوکہ ان کے ہاں ملازم تھا، وہ باقاعدہ تلاوت کرتا، نماز پڑھتا تھا اور دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی حسن نیت سے کرتا تھا۔ ہمارے ماحول میں ہر طرح کی آزادی تھی، نامعلوم وہ کس مٹی کا بنا تھا، اس پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا تھا۔“ اس نے کہا کہ میں بتانا بھول گئی کہ میں جرمن ہوں اور حقیقت میں نسلاً یہودی تھی، ماں اور باپ کی اکلوتی اولاد تھی، میرے اصرار پر وہ مجبور ہوئے اور میری شادی ابرار سے کر دی، میرے ماں، باپ نے بہت زور لگایا کہ ابرار اپنا مذہب تبدیل کرلے لیکن تمام کوششیں رائیگاں گئیں، وہ ٹس سے مس نہیں ہوا، میں نے شادی کے چار سال بعد اسلام قبول کیا۔ مجھے روایتی مسلمان نہیں بننا تھا لہٰذا میں نے جامعة الازہر مصر سے کئی اسلامی کورسز بھی کیے، انہیں سمجھا، پڑھا اور مکمل طور پر کائنات کے اکلوتے سچ پر یقین کرتے ہوئے ایمان لے آئی۔ ابرار میرا شوہر بنیادی طور پر کم گو اور خاموش طبیعت کا انسان تھا۔پہلے ہم فرانس منتقل ہوئے پھر کوئی گیارہ سال تک برطانیہ رہے، خدا کی قدرت دیکھئے کہ شادی کے 17 برس گزر گئے لیکن ہم اولاد سے محروم رہے، ہر طرح کے علاج معالجے کروائے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ابرار کبھی مجھے پاکستان نہیں لے کر گیا، بقول اس کے اس کے گھر والے مجھے قبول نہیں کریں گے،
وہ بہت سخت اور ہٹ دھرم قسم کے لوگ ہیں۔ میں نے کبھی اصرار نہیں کیا، کچھ عرصے کے بعد ہم مراکو بھی رہے اور ایک ”حلال فوڈ چینی“ کو وہاں سے بیٹھ کر چلاتے رہے، ہمارا کاروبار پھیلتا گیا اور ہم دونوں میاں بیوی ہر طرح کی نعمتوں کو پاکر خوش تھے۔ ایک ملال تھا کہ کاش ہماری بھی اولاد ہوتی! ابرار نے مجھے پاکستان سے کوئی دوائی لا کر دی، تعویذ بھی پہنائے اور کچھ قرآنی آیات کا باقاعدگی سے وظیفہ بھی بتایا۔ اعتقاد پختہ ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے، میری گود ہری ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے چاند سی بیٹی عطا کی۔ پھر دو سال کے بعد دوسری اور تقریباً پانچ سال کے بعد تیسری بیٹی میرے آنگن میں آن کھیلنے لگی۔وہ دن ہے اور آج کا دن کہ مجھے میرا شوہر چھوڑ کر کہیں بغیر بتائے چلا گیا، مجھے اولاد تو ملی لیکن خاوند کھو بیٹھی۔ کیا بیٹا پیدا کرنا میرے بس میں تھا؟ میں تو مجبور اور لاچار تھی، کیا بیٹیاں اولاد نہیں ہوتیں؟ کیا اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے؟ کوئی اسے سمجھاتا کہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی چار بیٹیوں کے باپ تھے۔ خدا نے نرینہ اولاد دے کر بھی واپس لے لی۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو کیا خدا انہیں مایوس کرتا؟ ان کے ایک اشارے پر کائنات سرجھکائے رہتی تھی، اگر آپ نے خدا کی رضا کو اپنی رضا سمجھتے ہوئے اولاد نرینہ کی خواہش نہ کی تو پھر ہم کس نسل کے مسلمان ہیں؟ کیا آپ کے پاس کوئی جواب ہے؟ میں اپنی بیٹیوں کو نہیں چھوڑ سکتی، یقین مانئے کہ مجھے قطعی طور پر دکھ ہوا، تکالیف بھی برداشت کیں، لیکن مستقل مزاجی کا دامن نہیں چھوڑا۔ کینیڈا میں رہتے ہوئے مجھے تقریباً پانچ سال ہونے کو ہیں، میرے دل میں یہ رنجش ہے جب بھی کوئی پاکستانی ملتا ہے تو اسے اپنا دکھڑا سناتی ہوں، کاش! کہیں سے ابرار واپس آ جائے۔ مجھ سے زیادہ آج اس کی بیٹیوں کو اپنے باپ کی ضرورت ہے، ماں ماں ہوتی ہے۔ آخر کب تک میں ان پر نظروں کا پہرہ لگائے بیٹھی رہوں گی“۔میری درخواست ہے اس پاکستانی 3 بچیوں کے باپ سے، کہ اگر وہ زندہ ہے تو اپنے گھر لوٹ آئے۔ بیٹی زحمت نہیں رحمت ہوتی ہے۔ میں نہیں کہہ رہا، بلکہ یہ تو ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں۔
May 19, 2019
MUSLIMS HOW TO PAY ZAKAT Complete Infromation
📝ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟📌
اللہ کی توفیق سےیہ تحریر پڑھنےکےبعدآپ اس قابل ہوجائیں گےکہ آپ جان سکیں
🔹سونا چاندی
🔸زمین کی پیداوار
🔹مال تجارت
🔸جانور
🔹پلاٹ
🔸کرایہ پر دیےگئے مکان
🔹گاڑیوں
🔻اوردکان وغیرہ کی زکاۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔
📌2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)
📌3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہے۔(طبرانی)
📌4۔زکاة كامنکر
جوزکاۃادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار اور حبث ہیں۔
📌5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کے دن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے۔(البقرہ277)
📌6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔(التوبہ103)
🔹ہر مال دارمسلمان مردہویاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل
🔸بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔
✔صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔
زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔
🔹1۔سونا چاندی
🔸2۔زمین کی پیداوار
🔹3۔مال تجارت
🔸4۔جانور۔
💠87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکاۃ واجب ہے
(ابن ماجہ1/1448)
🔴نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکاۃ واجب ہے۔(سنن ابودائودکتاب الزکاۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
فتح الباری جز چار صفحہ 13)
⬅چاندی کی زکوٰۃ➡
💠612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکاۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)
✅زکوٰۃ کی شرح❗
💠زکاۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
✅زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ
💠مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وار اگر پانچ وسق سے زیادہ ہےیعنی(725کلوگرام تقریبا18من)ہے
تو زکاۃ یعنی عشر بیسواں حصہ دینا ہوگاورنہ نہیں۔
💠قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکاۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
🔴نوٹ: زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،سورج مکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکاۃیعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔
(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⬅اونٹوں کی زکوٰۃ➡
💠پانچ اونٹوں کی زکاۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکاۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⬅بھینسوں اور گایوں کی زکوٰۃ➡
💠30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
💠40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکاۃ دیں۔(ترمذی1/509)
✅بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔
⬅بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ➡
💠40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکاۃ ہے۔
💠120 سےلےکر200تک دو بکریاں زکاۃ۔
(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⛔چالیس بکریوں سے کم پرزکاۃ نہیں۔
✅کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ❗
💠کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھراس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃنہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔
✅گاڑیوں پر زکوٰۃ
💠کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کےساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔
⛔نوٹ:
گھریلو استعمال والی گاڑیوں،جانوروں،
حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)
✅سامان تجارت پر زکوٰۃ
💠دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔
⛔نوٹ:
دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکاۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکاۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکاہ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ انسے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے
✅پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ
💠جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکاۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیئے خریدا گیا پلاٹ پر زکاۃ نہیں۔😊
(سنن ابی دائودکتاب الزکاۃ حدیث نمبر1562)
✅کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
💠ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکاۃ کےمستحق مسلمانوں کو زکاۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اور اولاد پر اصل مال خرچ کریں زکاۃ نہیں۔
⛔نوٹ:
(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اور اولاد میں پوتے پوتیاں،نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔( ابن باز)
✅زکوٰۃکےمستحق لوگ
🔸1۔مساکین(حاجت مند)
🔹2۔غریب
🔸3۔ زکاۃوصول کرنےوالے
🔹4۔مقروض
🔸5۔غیرمسلم جواسلام کے لیے نرم گوشہ رکھتاہو
🔹6۔قیدی
🔸7۔مجاھدین
🔹8۔مسافر (سورۃالتوبہ60)
سوال: زکوة کے لغوی معنی بتائیے؟
جواب: پاکی اور بڑھو تری کے ہیں۔
Q2
سوال: زکوة کی شرعی تعریف کیجئے؟
جواب: مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا۔
Q 3
سوال: کتناسونا ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو
Q4
سوال: کتنی چاندی ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔
Q5
سوال: کتنا روپیہ ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q6
سوال: کتنا مالِ تجارت ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q7
سوال: اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟
Q8
سوال: چرنے والے مویشیوں پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Q9
سوال: عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Q10
سوال: ایک صاحب نصاب شخص کودرمیان سال میں ۳۵ہزار کی آمدنی ہوئی،تویہ۳۵ ہزار بھی اموالِ زکوۃ میں شامل کئے جائیں گے یا نہیں؟
جواب: شامل کئے جائیں گے۔
Q 11
سوال: صنعت کار کے پاس دو قسم کا مال ہوتا ہے، ایک خام مال، جو چیزوں کی تیاری میں کام آتا ہے، اور دُوسرا تیار شدہ مال، ان دونوں قسم کے مالوں پر زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Q12
سوال: مشینری اور دیگر وہ چیزیں جن کے ذریعہ مال تیار کیا جاتا ہے، ان پر زکوٰة فرض ہے یا نہیں؟
جواب: فرض نہیں ہے۔
Q13
سوال: استعمال والے زیورات پر زکوٰة ہے یا نہیں؟
جواب: زکوٰة ہے۔
Q14
سوال: زکوٰة انگریزی مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی یاہجری(قمری)مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی؟
جواب: قمری مہینوں کے حساب سے نکالی جائےگی۔
Q15
سوال: پلاٹ اگر اس نیت سے لیا گیا تھا کہ اس کو فروخت کریں گے اس پر زکوٰة واجب ہوگی یانہیں؟
جواب: واجب ہوگی۔
Q16
سوال: پلاٹ خریدتے وقت تو فروخت کرنے کی نیت نہیں تھی، لیکن بعد میں فروخت کرنے کا ارادہ ہوگیا تو اس پر زکوٰة واجب ہےیا نہیں؟
جواب: جب فروخت کردیا جاے اور رقم پر ایک سال گزر جاےتب زکوٰة فرض ہے .اگر پہلے سے صاحب نصاب ہےتو یہ رقم نصاب مین مل جاے گی
Q17
سوال: جو پلاٹ رہائشی مکان کے لئے خریدا گیا ہو اس پر زکوٰة ہےیا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q18
سوال: اگر پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا جائے اور فروخت کرنے کی نیت سے پلاٹ خریدا جائے توزکوۃ کس طرح ادا کی جائےگی؟
جواب: ان کی کل مالیت پر زکوٰة ہر سال واجب ہوگی۔
Q19
سوال: جو مکان کرایہ پر دیا ہے،اس کی زکوٰة کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس کے کرایہ پر جبکہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰة واجب ہوگی۔
Q20
سوال: حج کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوٰة ہے یا نہیں؟
جواب: زکوٰة واجب ہے۔
Q21
سوال: کسی کوہم زکوٰة د یں اور اس کو بتائیں نہیں تو زکوٰة اداہوجائے گی یانہیں؟
جواب: ادا ہوجائے گی۔
Q22
سوال: ملازم نے اضافی تنخواہ کا مطالبہ کیاتو مالک نے زکوٰة کی نیت سے اضافہ کردیا کیا اس کی زکوٰة ادا ہوئی یا نہیں؟
جواب: زکوٰة ادا نہیں ہوئی۔
Q23
سوال: کیاانکم ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰة ادا ہوجاتی ہے؟
جواب: زکوٰة ادا نہیں ہوتی۔
Q24
سوال: اپنے ماں باپ، اور اپنی اولاد، اسی طرح شوہر بیوی ایک دُوسرے کو زکوٰة دے سکتےہیں یانہیں؟
جواب: نہیں۔
Q25
سوال: جو لوگ خود صاحبِ نصاب ہوں ان کو زکوٰة دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q26
سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (ہاشمی حضرات) کو زکوٰة دے
سکتے ہیں یانہیں؟
جواب: نہیں۔
Q27
سوال: اپنے بھائی، بہن، چچا، بھتیجے، ماموں، بھانجے کو زکوٰة دینا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز ہے اگر مستحق ہیں ۔
Q28
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یعنی: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر، آلِ عباس اور آلِ حارث بن عبدالمطلب، ان پانچ بزرگوں کی نسل سے ہو تواس کو زکوٰة دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q29
سوال: اگرسید غریب اور ضرورت مند ہو تو ان کی خدمت کیسے کرنی چاہئے؟
جواب: زکوۃ وصدقات کےعلاوہ دُوسرے فنڈ سے۔
Q30
سوال: سادات کو زکوٰة کیوں نہیں دی جاتی؟
جواب: زکوٰة، لوگوں کے مال کا میل ہے۔
Q31
سوال: سیّد کی غیرسیّدبیوی جو زکوۃ کی مستحق ہو زکوٰة دی جاسکتی ہےیا نہیں؟
جواب: اس کو زکوٰة دے سکتے ہیں۔
Q32
سوال: مال دار بیوی کا غریب شوہربیوی کے علاوہ دوسروں سےزکوٰة لے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: لے سکتا ہے۔
Q33
سوال: غیرمسلم کو نفلی صدقہ دےسکتے ہیں،کیا وہ زکوٰة اور صدقۂ فطر کےبھی مستحق ہیں؟
جواب: نہیں۔
Q34
سوال: مدارسِ عربیہ میں زکوٰة دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بہتر ہےبوجہ دین کی اشاعت کے
سوال: صاحبِ نصاب لوگ بھی خود کو مسکین ظاہر کرکے زکوۃ حاصل کرلیتے ہیں، اس کاکیا حکم ہے؟
جواب: ان کو زکوٰة لینا حرام ہے۔
Q36
سوال: چندہ وصول کرنے والے کو زکوٰة سے مقرّرہ حصہ دینا جائزہےیانہیں؟
جواب: جائز نہیں۔
Q37
سوال: زمین بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہے، تو پیداوار اُٹھنے کے وقت اس پر کتنا حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں دینا واجب ہے؟
جواب: دسواں حصہ۔
Q38
سوال: اگر زمین کو خود سیراب کیا جاتا ہے تو اس کی پیداوار کاکتنا حصہ صدقہ کرنا واجب ہے؟
جواب: بیسواں حصہ۔
Q39
سوال: ایک ملک کی کرنسی سے زکوۃ ادا کرکے دوسرے ملک بھیجا جائے تو زکوۃ کی ادائیگی کا اعتبار کس ملک کی کرنسی کا ہوگا؟
جواب: جس ملک کی کرنسی سے زکوۃ ادا کی گئی۔
Q40
سوال: رہائشی گھر، جسم کے کپڑے ، گھر کے سامان ،سواری میں زکوۃ فرض ہے یانہیں؟
جواب: نہیں۔
Q41
سوال: جواہر جیسے موتی ، یاقوت، اور زبر جدپر زکوۃ فرض ہے یانہیں جب کہ وہ تجارت کے لئے نہ ہوں؟
جواب: نہیں۔
Q42
سوال: زکوۃ کی ادائیگی کب واجب ہوگی؟
جواب: نصاب پر قمری سال کا گذرنا شرط ہے۔
Q43
سوال: اگر سال کے شروع میں نصاب کامل ہو، پھر سال کے درمیان کم ہوجائے ليكن نصاب سے كم نہ ہو پھر سال کے اخیر میں نصاب کامل ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی یانہیں؟
جواب: واجب ہوگی۔
Q44
سوال: ایک شخص شروع سال میں مالک نصاب ہوگیا،درمیان سال میں اس مال میں اوراضافہ ہوگیا،اضافہ تجارت سے ہوا ہویا کسی نے تحفہ یاہدیہ دیاہویا میراث کا مال ملاہو،بہرحال مال میں اضافہ ہوگیا،اب پورے مال پر زکوہ واجب ہوگی یاشروع سال کے مال پر واجب ہوگی؟
جواب: پورے مال پر واجب ہوگی۔
Q45
سوال: جو شخص اپنے تمام مال کو صدقہ کردے اور اس میں زکوٰۃ کی نیت نہ کرے تو اس سے زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی یانہیں؟
جواب: ساقط ہوجائےگی۔
Q46۔
جواب: ادائیگی صحیح نہیں ہوتی ۔
Q47
سوال: سونا چاندی کی زکوٰۃ میں سونا اور چاندی کا ٹکڑا وزن سے نکالےیا قیمت ادا کرے؟
جواب: اختیار ہے۔
Q48
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں فقیر کسے کہتے ہیں؟
جواب: وہ شخص ہوتا ہے جو نصاب سے کم كا مالک ہوتا ہے۔
Q49
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں مسکین کسے کہتے ہیں؟
جواب: جو بالکل کسی چیز کا مالک نہ ہو
Q50
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں عامل کسے کہتے ہیں؟
جواب: وہ شخص ہوتا ہے جو زکوۃ اور عشر کو اکھٹا کرتا ہے۔اور اسلامی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ہو.
۔
Q51
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں مقروض کسے کہتے ہیں؟
جواب: یہ وہ شخص ہے جس کے ذمہ قرض ہو، اپنے قرض کی ادائیگی کے بعد نصاب کامل کا مالک نہ رہ جاتا ہو۔تجارتی قرض کا مسئلہ الگ ہے
Q52
۔
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں مسافر سے کیامراد ہے؟
جواب: جس کا اپنے وطن میں مال ہو، لیکن اس کا مال سفر میں ختم ہوچکا ہو اور منگوانے کا کوی ذریعہ بهی نہ ہو
Q53
سوال: مسافر پر زکوۃ کی کتنی رقم خرچ کرنا درست ہے؟
جواب: اتنی مقدار صر ف کی جائے گی کہ وہ اپنے وطن پہنچ سکے۔
Q54
سوال: زکوۃ کی تمام قسموں پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیاکسی ایک قسم پر صرف کرنا جائز ہے؟
جواب: دونوں جائز ہے۔
Q55
سوال: کافر کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائزنہیں۔
Q56
سوال: مالدار کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائز نہیں۔
Q57
سوال: مالداربچے پر زکوٰۃ صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائز نہیں
Q58۔
سوال: بنی ہاشم اور ان کے غلاموں پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز نہیں
Q59۔
سوال: مالک نصاب کا زکوۃ کو اپنے اصول پر جیسے باپ ، دادا ، اوپر تک صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائز نہیں
Q60۔
سوال: مالک نصاب کا اپنے فروع پر جیسے ، بیٹا ،پوتا، نیچے تک زکوٰۃ کو صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز نہی
Q61۔
سوال: مالک نصاب بیوی شوہر پراور مالک نصاب شوہر اپنی بیوی پر زکوۃ صرف کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q62
سوال: مسجد یا مدرسہ کی تعمیر یا راستہ یا پل کے درست کرنے میں زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز نہیں
Q63۔
سوال: میت کو کفنانے یا میت کے قرض کو پورا کرنے میں زکوٰۃ صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائز نہیں۔
Q64
سوال: زکوٰۃ کی ادائیگی بغیر تملیک(مالک بنانا) کے صحیح ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q65
سوال: زکوۃ رشتہ داروں پر اورپھر پڑوسیوں پر صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بہتر ہے۔
Q66
سوال: مکمل نصاب کےبقدر زکوۃ ایک شخص کو دینا درست ہےیانہیں؟
جواب: مکروہ تنزیہی ہے۔
Q67
سوال: مقروض پر اس کے قرضے کی ادائیگی کیلئے نصاب سے زیادہ صرف کرنا مکروہ ہے یا نہیں؟
جواب: مکروہ نہیں۔
Q68
سوال: بغیر ضرورت کے ایک جگہ سے دوسری جگہ زکوٰۃ کو منتقل کرناکیسا ہے؟
جواب: مکروہ تنزیہی هے
Q69۔
سوال: اپنے رشتہ داروں کیلئے زکوۃ کا منتقل کرناکیسا ہے؟
جواب: مکروہ نہیں ہے۔
Q70
سوال: مسجد یا مدرسہ کی تعمیر یا راستہ یا پل کے درست کرنے میں زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز نہیں۔
Q71
جواب: صدقات نافلہ سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔
Q72
جواب: زکاة ادا نہ ہوگی۔
Q73
سوال: کیا اپنے مستحق زکاة بھائی کو زکاة کی رقم دی جا سکتی ہے؟
جواب: دی جا سکتی ہے ۔
سوال: کیا مستحق زکاة چچیرے ، ممیرے، خلیرے بھائی کو یااپنے بھتیجے کو زکاة دے سکتے ہیں ؟
جواب: دے سکتے ہیں
۔
سوال: کیا مدرسہ کے مہتمم یا ناظم کو جو طلبہ کی وکیل ہوتے ہیں زکاة دی جاسکتی ہے ؟
Q75
سوال: زکوۃ کی ادائیگی کے لئےسونےکی قیمت فروخت کا اعتبارہوگا یاقیمت خرید کا ؟
جواب: قیمت فروخت
Q76
۔
سوال: سونے پر زکاة موجودہ قیمت کے حساب سے ہوگی یا خریدنے کے وقت کی قیمت کے حساب سے ہوگی ؟
جواب: موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا۔
Q77
۔
سوال: کیا زکاة مستحق زکاة اپنے بھانجے کی تعلیم پر خرچ کرسکتے ہیں؟
جواب: ہاں۔مگر اس کو دے دی جائے تاکہ وہ مالک بن جاے
Q78
سوال: کیا نابالغ بیٹا یا بیٹی کے مال پر بھی زکوة دینا فرض ہے؟
جواب: نہیں
Q79
جواب: نہیں۔
Q80
سوال: کیا لڑکی زکوة کی رقم اپنے والدین کو دے سکتی ہے۔
جواب: نہیں۔
Q81
جواب: کرسکتا ہے۔
Q82
سوال: صدقات واجبہ جیسے نذر وغیرہ کا گوشت کیا صدقہ دینے والا خود کھاسکتا ہے۔
جواب: نہیں۔
40000. 👉1000. 00🔹45000. 👉1125. 00
🔹50000. 👉1250. 00
🔹55000. 👉1375. 00
🔹60000. 👉1500. 00
🔹65000. 👉1625. 00
🔹70000. 👉1750. 00
🔹80000. 👉2000. 00
🔹90000. 👉2250. 00
🔹1 lakh. 👉2500. 00
🔹2 lakh. 👉5000. 00
🔹3 lakh. 👉7500. 00
🔹4 lakh. 👉10000. 00
🔹5 lakh. 👉12500. 00
🔹6 lakh. 👉15000. 00
🔹7 lakh. 👉17500. 00
🔹8 lakh. 👉20000. 00
🔹9 lakh. 👉22500. 00
🔹10 lakh. 👉25000. 00
🔹20 lakh. 👉50000. 00
🔹30 lakh. 👉75000. 00
🔹40 lakh. 👉1 lakh.
🔹50 lakh. 👉1 lakh 25000
🔹1 caror. 👉2 lakh 50000
🔹2 caror. 👉5 lakh.




