June 18, 2019

How To Create JS 17 Thunder Air Craft



آسمانی بجلی *' جے ایف تھنڈر '* کی کہانی
ائیر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف کی زبانی
*"پاکستان نے تین برس میں جے ایف 17 بنا کر تاریخ رقم کی"*
ائیر چیف مارشل شاہد لطیف
انٹرویو : احسان کوہاٹی
’’میں نے اپنے 'بے بی' کو دشمن کا لحاظ کرنا سکھایا ہی نہیں ہے، اسے ایسے گر سکھائے ہیں کہ سامنے آنے والے کو کاک پٹ میں لگ پتہ جائے کہ سامنا کس سے ہوا ہے ‘‘
ائیر مارشل ریٹائرڈ شاہد لطیف کے لبوں پر وہی فاتحانہ مسکراہٹ تھی جو اکھاڑے میں مدمقابل کو دھول چٹانے والے پہلوان کے لبوں کا خاصہ ہوتی ہے۔
اس مسکراہٹ کا ماخد ان کے آراستہ مہمان خانے میں راقم کا ستائیس فروری کے معرکہ ء کشمیر کے تناظر میں کہا گیا یہ جملہ تھا کہ
'سر آپکے ’’بے بی‘‘ نے پڑوس کے بزرگ مگ اکیس کا ذرا بھی لحاظ نہ کیا۔'
ساہیوال کے ایک متوسط اور غیر فوجی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے شاہد لطیف نے اپریل 1974ء میں پاک فضائیہ میں بحیثیت لڑاکا ہوا باز کمیشن اس طرح حاصل کیا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بہترین کیڈٹ کی اعزازی شمشیر ان کے ہاتھ میں تھی،
وہ رسالپور اکیڈمی میں بہترین کیڈٹ پائلٹ ثابت ہوئے تھے ، پھربعد میں پاک فضائیہ کے قابل فخر پائلٹ رہے اور شاندار کیرئیر کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے کرتے ائیر مارشل کے عہدے تک پہنچے۔
وہ پاک فضائیہ کے نائب سربراہ بھی رہے یہ ان چھ پاکستانی پائلٹوں میں سے بھی ہیں جنہیں ایف سولہ کی تربیت کے لئے امریکہ بھیجا گیا اور جو ایک سال کی تربیت پانچ ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کر کے ایف سولہ اڑا کر لے کر آئے تھے۔
ائیر مارشل کا سب سے بڑا کارنامہ جے ایف تھنڈر کی تیاری ہے ۔
یہ اس پروجیکٹ کے پہلے چیف ڈائریکٹر بھی تھے اور اسی لئے یہ اس طیارے کو پیار سے اپنا بے بی بھی کہتے ہیں۔
انکے اس ’’بے بی‘‘ کی کہانی انہی کی زبانی سنتے ہیں :
یہ انیس سو نوے کی بات ہے جب امریکہ نے پریسلر ترمیم کے تحت ہم پر پابندیاں لگا دیں ۔ افغان جنگ تک تو وہ ہماری دفاعی ضروریات مجبورا پوری کر رہا تھا، اس نے ہمیں ایف سولہ بھی دیئے اور انکی کی مرمت و پرزہ جات کی فراہمی کی ذمہ داری بھی پوری کرتا رہا اور یہ ذمہ داری اس وقت تک نبھاتا رہا جب تک افغانستان میں اسے ہماری ضرورت رہی ۔
جب پاکستان کی مدد سے افغانوں نے روس کو نکال باہر کیا تو امریکہ نے بھی ماتھے پر آنکھیں رکھ لیں ،
یہ اسکی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے کہ دوست اور دشمن نہیں مفاد مستقل ہوتا ہے، وقت پڑنے پرمفاد کے لئے دوست بھی بدلے جاسکتے ہیں اور دشمن کو بھی گلے لگایا جاسکتا ہے۔
پریسلر ترمیم کی پابندیوں کا جواز یہ بنایا گیا کہ ہمارا صدر اب آپکے ایٹمی پروگرام کو دنیا کے لئے محفوظ نہیں سمجھتا، وہ سرٹیفکٹ دستخط نہیں کر رہا تو ہم اب فوجی امداد نہیں دیں گے۔
پابندیاں لگیں تو پاک فضائیہ کا سخت وقت شروع ہو گیا، پاکستان میں طیارہ سازی کی کوئی صنعت نہیں تھی۔ ہم جہاز تو کیا جہاز کا کاک پٹ بھی نہیں بناتے تھے ، امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے ، حالت یہ ہو گئی کہ ایف سولہ اڑانا مشکل ہو گیا ۔
پائلٹس کو ہر دم تیار رہنے کے لئے ماہانہ کچھ flying hourss درکار ہوتے ہیں ، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمارے پائلٹ وہ لازمی اڑان کے گھنٹے بھی پورے کرنے سے رہ گئے۔
یہ وہ وقت تھا جب ہم نے سوچا کہ اگر کبھی بھارت سے جنگ چھڑ گئی تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔۔۔ تب ہم نے اپنے قدموں پر کھڑے ہونا کا ارادہ کیا کہ ہم کب تک دوسروں کے دست نگر رہیں گے، اس پر غور ہوتا رہا ، ٹاپ لیول پر بات ہوتی رہی پھر 1999ء میں چین سے معاہدے پر دستخط بھی ہوگئے اور ابتدائی کام بھی شروع ہو گیا۔
معاہدے کے تحت ہم ایف سیون کو اپ گریڈ کر کے سپر سیون بنانا چاہتے تھے،
ایف سیون دراصل روسی طیارہ مگ اکیس ہی ہے، اسے چین نے کاپی کر کے ایف سیون کردیا تھا اور ہم اسے ’’سپر سیون‘‘ بنانا چاہتے تھے۔
یہ لڑاکا طیارہ چین میں پاکستان کی معاونت سے تیار ہونا تھا اور یہ کیسے ہونا تھا میں اسوقت اس سے تقریبا لاعلم تھا، بس یہ پتہ تھا کہ پاکستان ائیر فورس مشکل وقت سے گزر رہی ہے پائلٹس کے لئے flying hours پورے کرنا مشکل ہو رہے ہیں ، اس وقت ہمارے پاس ایف سولہ کو چھوڑ کر دیگر جتنے بھی جہاز تھے بڑے پرانے تھے۔
سچی بات ہے یہ جہاز دوست ممالک نے گراؤنڈ کر دیئے تھے، سمجھ لیں کہ کباڑ میں ڈال دیئے تھے اور ہم انہیں یہاں لا کر نئے سرے سے مرمت کر کے اڑنے کے قابل بناتے تھے ، یہ ہمار ے انجنیئرز کا ہنر اور پائلٹس کا کمال تھا جو انہیں اڑاتے تھے۔
ائیر فورس پر وہ واقعی کڑا وقت تھا اور اس مشکل وقت میں، میں بحیثیت ائیر کموڈور کامرہ بیس کی کمان کر رہا تھا۔
بحیثیت بیس کمانڈر ہر افسر کو دو سال پورے کرنے ہوتے ہیں۔
یہ 2001ء کی بات ہے ائیر مارشل مصحف علی میر نے ائیر فورس کی تازہ تازہ کمان سنبھالی تھی، یہ میرے فلائینگ انسٹرکٹر بھی رہ چکے تھے اور میں ان کے شاگردوں میں واحد فائٹر تھا جس نے اعزازی شمشیر حاصل کی تھی۔
وہ کہتے ہیں ناں کہ گھر کے بچھڑے کے کوئی دانت نہیں گنتا تو یہ مجھ سے بحیثیت استاد خوب واقف تھے۔
انہیں فورس کی کمان سنبھالے دو تین ماہ ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک دن فون کی گھنٹی بجی، میں نے کال وصول کی دوسری جانب سے بتایا گیا کہ ائیر چیف آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔
میں توچونک گیا اور ساتھ ہی کچھ پریشان بھی ہواکہ اللہ خیر کرے کچھ غلط نہ ہوگیا ہو دوسری طرف سے ائیر چیف لائن پرآئے اور حال احوال پوچھ کر کہنے لگے
’’شاہد یہ بتاؤ ،تمہارا سال کب پورا ہو رہا ہے‘‘
میں نے انہیں بتا دیا کہ سر فلاں تاریخ کو بحیثیت بیس کمانڈر مجھے دو سال ہو جائیں گے ، یہ سن کر کہنے لگے
’’میں تمہیں سال پورے ہونے کے بعد ایک دن بھی نہ رکنے دوں گا‘‘
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر ائیر چیف صاحب کہنے لگے
’’میں تمہیں تب سے جانتا ہوں جب تم فلائٹ کیڈٹ شاہد لطیف تھے ، اب تم ائیر کموڈور اور میں ائیر چیف ہوں کیا میں تم پر اعتماد کر سکتا ہوں ؟‘‘
میں نے کہا ’’حکم کریں سر میں آپکے اعتماد پر پورا اتروں گا‘‘
جس پر انکی آواز آئی
’’میں تمہیں سپر سیون کا پروجیکٹ ڈائریکٹر بنانا چاہتا ہوں ، کیا تم مجھے ایف سولہ بنا کر دے سکتے ہو، مجھے ایف سولہ سے کم نہیں چاہئے؟‘‘
میں نے کہا سر آپ کو ایف سولہ سے کم نہیں چاہئے تو ایک ایف سولہ کا پائلٹ ایف سولہ سے کم پر راضی بھی نہیں ہوگا، آپ نے ایسا سوچ ہی لیا ہے تو میں آپ کے اعتماد پر پورا اتروں گا‘‘
اس پر ائیر چیف کہنے لگے
’’دیکھو شاہد! تم اسی کے ساتھ تیرو گے بھی اور اسی کے ساتھ ڈوبو گے،
یہ بنا لو گے تو تیر جاؤگے اور بہت آگے جاؤ گے میں تمہیں جہاں تک لے جا سکا لے جاؤں گا اور اگر ناکام ہوئے تو ڈوب جاؤ گے ، پھر بچنا مشکل ہے ۔
دوسری بات یہ کہ میرا ائیر کرافٹ مینوفیکچرنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان میں کوئی جانتا ہے ،
یہ تو چینی ہی ہیں جو سب کرتے ہیں۔ میں تمہاری کسی غلطی کی نشاندہی کر سکوں گا اور نہ ہی کچھ بتا سکوں گا ، سب کچھ تم نے ہی کرنا ہے ،over to you‘‘۔
یہ ائیر چیف صاحب کی مختصر بریفنگ تھی جس پر وہ آخر دم تک قائم رہے۔
میں نے پروجیکٹ شروع کیا اور انہیں بریفنگ دینے گیا تو وہ کہنے لگے: مجھے بریف مت کرو، مجھے نتیجہ چاہئے نتیجہ‘‘۔
انہوں نے مجھ پر اندھا اعتماد کیا، سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیا۔
میں نے چیف پروجیکٹ بنتے ہی سپر سیون کی ڈرائنگ اٹھا کر باہر پھینک دی اور کہا سپر سیون نہیں، نیا جہاز بنانا ہے ۔
میرا ایف سوالہ سے پرانا ساتھ تھا میں اس مشین کو بہت اچھی طرح جانتا تھا، میں ویسا نہیں ، اس سے بھی بہتر جہاز بنانا چاہتا تھا ، یہی مجھے ٹاسک دیا گیا تھا ۔
ہم نے یہ پروجیکٹ ڈرائنگ بورڈ سے شروع کیا، ہم نے چینیوں کے ساتھ مل کر جہاز کا نقشہ بنایا،
میں ان کی راہنمائی کرتا رہا جسکے مطابق جہاز کی ڈرائنگ بننی شروع ہوئی اور پھر دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہونے چلا کہ ایک باقاعدہ لڑاکا فضائی فورس نے ایک کمرشل کمپنی "چینگ دو ائیر کرافٹ انڈسٹری گروپ" کے ساتھ مل کر جنگی طیارہ بنانا شروع کردیا.
دنیا میں امریکی، اسرائیلی ، انگلش ائیر فورس سمیت کوئی بھی فورس خود طیارے نہیں بناتی،
وہ صرف اپنی ضروریات بتاتے ہیں کہ ہمیں یہ چیز چاہئے اور اس ملک کے ادارے انہیں وہ چیز بنا کر دیتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ ہی الٹ تھا، ہم خود جہاز بنانے جا رہے تھے اور جن سے بنوا رہے تھے ان کے پاس بھی ایسا تجربہ نہ تھا۔
یہ الگ بات ہے کہ چین جہاز بناتا تھا لیکن وہ دراصل کاپی ہوتے تھے ، یہاں میرا واسطہ چین کے ایک کمرشل ادارے کے ہنر مندوں سے تھا، بڑا ہی مشکل کام تھا، میں طیارے کے معیار کی بات کرتا اور وہ کمرشل بات کرتے، وہ کہتے کہ تم کر کیا رہے ہو؟ گاڑی چل پڑی ہے تو بس چلنے دو روکنے سے ہمیں نقصان ہے۔۔۔ اور میں انہیں کہتا یہ چیز ٹھیک نہیں ہے اسے ٹھیک کرو، اسے بہتر بناؤ۔۔!
دراصل مسئلہ یہ تھا کہ چین کے پاس بھی وہ ٹیکنالوجی نہیں تھی، میں ایک طرح سے ان کا کام بڑھا دیتا تھا ، جس سے انہیں ناخوش ہی ہونا چاہئے تھا۔
ہم ہر تین ماہ بعد چین جاتے ، پروجیکٹ کا معائنہ کرتے اور اس دورے میں اکثر ہی تلخ کلامی ہوجاتی۔
پھر میں نے چینیوں کی نفسیات پڑھنا شروع کی، ان کے بارے میں مطالعہ کیا کہ یہ کیسے لوگ ہیں ان کی اقدار کیا ہیں،
یہ مطالعہ میرے بہت کام آیا ، میں ان کے ساتھ گھل مل گیا، میں ان کی فیکٹری میں جاتا تو وہیں ان کے ورکروں کے ساتھ بیٹھ جاتا، ایسا بھی ہوا کہ رات ہوئی اور میں نے وہیں فیکٹری میں بستر لگا لیا ۔
میرا ہدف تھا کہ تین سال میں یہ جہاز آسمان پر اڑتا دکھائی دے، یہ بظاہر ناممکن تھا۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ڈیزائننگ سے فلائنگ تک ایسے پروجیکٹ دس سے پندرہ سال لے لیتے ہیں اور ہم یہ کام تین سالوں میں کرنے چلے تھے۔
پھر ہمارے خلاف پروپیگنڈہ بھی شروع کر دیا گیا، ہمارے بارے میں مغربی ممالک نے کہنا شروع کر دیا کہ چین اور پاکستان کو کیا پتہ جنگی جہاز کیسے بنتا ہے ان کے بنے ہوئے جہاز کاغذی جہازوں کی طرح گرا کریں گے،
ان ہی دنوں بھارت کے فائٹر جیٹ تیجا کی بھی خبریں آنے لگیں، بھارت نے اس پر کام کی رفتار تیز کردی، تیجا کا پروجیکٹ ہم سے نو برس پرانا تھا اور اسے بھارت کے چوبیس اداروں کا تعاون بھی حاصل تھا، انہیں جہاز بنانے کا تجربہ بھی تھا ۔
اور ادھر تجربہ کیا ہونا تھا ہم نے تو قدم ہی ابھی اٹھایا تھا۔
میں چینیوں کو تیجا سے مقابلے پر لے آیا، وہ کہتے آپ ہمیں جگہ جگہ روک رہے ہو، وہ دیکھو انڈیا کا تیجا تیزی سے مکمل ہو رہا ہے ، وہ ہم سے پہلے بن گیا تو ہمارا فائٹر کون خریدے گا؟
اور میں انہیں کہتا کہ دیکھو اگر ہمارے طیارے کے بارے میں تاثر عام ہو گیا کہ یہ پائلٹ اور رقم ڈبو دے گا تو اسے کون خریدے گا؟
چیز ایسی بناؤ کے جو دیکھے دیکھتا رہ جائے ، جو ثابت کر دے کہ ہاں میں ہوں۔۔۔ تو اس طرح میں انہیں پیار سے، پچکار کر، کبھی ناراضگی کا اظہار کر کے اور کبھی شاباشی دے کر کام کراتا چلا گیا۔
مجھے پریشانی یہ تھی کہ ہمارے جہازوں کی ریٹائرمنٹ قریب تھی میرے پاس وقت بہت کم اور نپا تلا تھا، میں نے2001ء میں ہی اپنے جہازوں کا سارا شیڈول بنا لیا تھا مجھے ایک ایک جہاز کا پتہ تھا کہ وہ کب ریٹائر ہو رہا ہے، مجھے یہ بھی علم تھا کہ ریٹائرہونے والے جہاز کا ہینگر خالی رہے گا، دنیا ہمیں جہاز نہیں دے گی۔۔۔
امریکیوں کا رویہ ہمارے سامنے تھا، ہمارے پاس گنے چنے ایف سولہ تھے،
ہم اردن اور آسٹریلیا کے کنڈم میراج طیارے لے کر آتے اور انہیں قابل استعمال بناتے۔۔۔ یہ بہت بڑا رسک تھا، پائلٹوں کی زندگی کے لئے بھی خطرہ تھا لیکن ہم کیا کرتے ، ہمارے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا،
دنیا نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہماری ائیر پاور نہیں بڑھانے دے گی، وہ ہمیں جہاز نہیں دے گی اور یہیں سے میرا جنرل ریٹائرڈپرویز مشرف سے رابطہ ہوا،
میں نے انہیں ایک محب وطن پاکستانی پایا، میں ان کی خوبیوں خامیوں کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، میں ان سے براہ راست رابطے میں آچکا تھا، جب انہیں پتہ چلا کہ ائیرفورس ایک پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے توا نہوں نے مجھے بلا لیا،
ان سے ائیر چیف نے میرا ذکر کر دیا تھا کہ سر ! یہ میرا شاگرد بھی رہا ہے اور یہ ہمیں نیا جہاز بنادے گا، مجھے سو فیصد یقین ہے ، میں مشرف صاحب سے ملنے گیا ،
اکیلے کمرے میں ہونے والی ملاقات میں انہوں نے مجھ سے پوچھا ،تم کون ہو ، اپنا بیک گراؤند بتاؤ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ مصحف نے تمہیں اپنا شاگرد ہونے کی وجہ سے اس پروجیکٹ کا چیف ڈائریکٹر بنادیا،
میں نے عرض کیا سر ! مصحف صاحب میرے فلائنگ انسٹرکٹر تو تھے، میں ان کا شاگرد بھی تھا لیکن مجھے اعزازی شمشیر ان کی سفارش پر یا بھائی بندی پر تو نہیں مل سکتی تھی ،
وہ تو صرف میری فلائنگ دیکھ رہے تھے ، اعزازی شمشیر تو کیڈٹ کی پوری کارکردگی دیکھنے کے بعد ہی دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
میں wing under officer بھی تھا۔۔۔
یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی، کہنے لگے
’’یار !بات تو تم ٹھیک کہتے ہو، تمہاری باتوں سے لگتا ہے تم میں کچھ ہے، اچھا ادھر تو تم نے مصحف کو کہہ دیا کہ جہاز بنا دوں گا، کیا واقعی ایسا کر لوگے ؟
یہ کہہ کر وہ مجھے صورتحال سے آگاہ کرنے لگے، ان کے الفاظ تھے کہ "میں جیب میں پیسے لے کر پھرتا ہوں، میں جہاز کا نام لیتا ہوں ناں کوئی ہمیں دینے کو تیار نہیں۔"
یہ وہ وقت تھا جب ہمارے اسکواڈرنز میں صرف پرانے میراج، ایف سکس اور اے فائیو جیسے طیارے تھے۔
لے دے کر ہمارے پاس گنے چنے ایف سولہ تھے جن کے لئے ہم مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کرتے تھے۔ جب امریکہ چاہتا ان کے سامان کی سپلائی مرمت روک دیتا،
اس وقت دنیا پر AIR WARR کی اہمیت بہت کھل کر واضح ہوچکی تھی، وہ ہمیں طاقتور نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔
امریکہ نے افغانستان میں اپنی ائیر فورس سے تباہی پھیر دی تھی۔ اس لئے دنیا نے ایکا کر لیا تھا کہ ہمیں جہاز نہیں دینا۔
ادھر حالت یہ تھی جہازوں کی ریٹائرمنٹ قریب آتی جارہی تھی
میں نے حساب کتاب کیا توسر پکڑ بیٹھ گیا تین سالوں میں نئے جہاز نہ آتے تو ہمیں اپنے اسکواڈرن بند کرنے پڑجاتے اور یہ کسی بھی ائیرفورس کے لئے موت تھی،
میرے لئے 2003ء میں ہر حال میں اپنا جہاز Air Bornn کرنا تھا اور ایسا نہ ہوتا تو یہ ہماری موت تھی،
ان حالات میں ہم نے جان مار کر کام شروع کر دیا ، چینیوں کی دن رات کی شفٹیں لگا دیں حالانکہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
میں ان کا مزاج رویہ سمجھ چکا تھا، ان سے برتاؤ کرنا آگیا تھا مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ چینیوں کے ساتھ کیسے کام کرنا ہے، ایسا اکثر ہوتا کہ بات چیت ہوتی تو محفل اتنی گرم ہوجاتی کہ اتنی heat ہو جاتی کہ سمجھیں جھگڑا ابھی ہوا تو ابھی ہوا ، لیکن جب بات چیت ختم ہوتی تو میں انہیں گلے لگا کر تین لفظ کہتا:
We are friend
بس اسکے بعد وہ کہتے آپ کو جو چاہئے لے لو ، جو بات تین تین گھنٹوں کی بحث میں نہ مانتے وہ ذرا سی مسکراہٹ سے، نرمی سے مان جاتے،
اس طرح دن رات کی محنت سے یہ پروجیکٹ آگے بڑھتا رہا۔
میرے ذہن میں ایف سولہ تھا، چونکہ میں نے اسے آپریٹ کیا ہوا تھا ، اس سے اچھی طرح واقف تھا، اس لئے میں اپنے جیٹ کو اسی معیار پر بلکہ اس سے بہتر بنانا چاہتا تھا اور بار بار اسی کی مثال دیتا کہ ہمیں یہ چیز ایسی چاہئے اور یہ ایسی چاہئے۔
ادھر امریکہ کو تشویش شروع ہو گئی، انہیں انٹیلی جنس رپورٹیں ملنا شروع ہو چکی تھیں۔ انہوں نے یہ پروجیکٹ ناکام بنانے کے لئے حربے اختیار کرنا شروع کر دیئے ۔
مجھے یاد ہے اس اس وقت کی امریکی سفیر این پیٹرسن نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں، وہ مجھے کسی بھی تقریب میں دیکھتیں تو ایک طرف لے جاتیں اور کہتیں تم بچ کر رہنا، ہم تمہیں سیٹلائٹ سے دیکھ رہے ہیں، اگر تم نے ہمارا نٹ بولٹ بھی چینیوں کو دکھایا تو مثال عبرت بنا دیں گے۔۔۔
پھر مجھ پر طرح طرح کے حربے استعمال کئے گئے ، عورت اور دولت کے جال پھینکے گئے، میرے اردگرد لوگ ڈالروں سے بھرے بریف کیس لے کر پھرتے رہتے۔۔۔ لیکن الحمدللہ، اللہ نے مجھے ہر جال اور ہر چال سے بچایا۔
پروجیکٹ چلتا رہا یہاں تک کہ ستمبر 2003ء میں وہ وقت بھی آ گیا جب چین کے چنگ دو رن وے پر F-17 نے دوڑنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے فضا میں بلند ہو گیا۔
یہ وہ وقت تھا جب ہم سب کی آنکھوں میں آنسو تھے ، ہم ایک دوسرے سے والہانہ انداز میں گلے لگ رہے تھے مبارکبادیں دے رہے تھے انہیں خود بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم نے کیا کر دیا ہے،
تین سال کی قلیل مدت میں ایک لڑاکا طیارہ فضا میں پہنچا دیا ہے ،
یہ پچیس منٹ کی پروٹو ٹائپ فلائٹ تھی، جس میں پائلٹ ایک ایک موومنٹ بتا رہا تھا، اسکا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہو رہا تھا اور ہمارے دل دھک دھک کر رہے تھے ، لبوں پر دعائیں تھیں کہ اے رب العالمین ہماری عزت رکھنا
اور پھر اس دن بھی اللہ نے ہماری عزت رکھی جب ستائیس فروری 2019 کی صبح ساڑھے نو بجے اللہ نے دشمن کے دل میں ہماری ہیبت ڈال دی ،
جے ایف سترہ کا سامنا بہترین روسی فائٹر جیٹ سوخوئی30 اور مگ اکیس سے تھا. الحمدللہ ایف سترہ نے دونوں کو دھول چٹا کر اپنی ہیبت بٹھادی، ثابت کر دیا کہ یہ فورتھ جنریشن کا بہترین لڑاکا طیارہ ہے
اور تعریف وہ ہوتی ہے جو دوسرا کرے ، آج دنیا جو کہہ رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
جو ہماری سوچ تھی ، جو ہمارا خیال تھا ایف سترہ اس سے بھی بہتر بنا ہے ،
ہم نے اسے گلاس کاک پٹ کے طور پر بنایا،
کاک پٹ میں ہر چیز ڈیجیٹل ہے ،
اس کے میزائلوں کی مار ایف سولہ کے میزائل سے زیادہ ہے ،
اسکے بی وی آر کی رینج بھی ایف سولہ کے بی وی آر سے زیادہ ہے
اسکے ریڈار کی کارکردگی ایف سولہ سے بہتر نہیں بلکہ بہت بہتر ہے،
آج مجھے اپنے بے بی پر فخر ہے ۔

June 13, 2019

PAKISTAN AIR FORCE DESTROY AMERICAN IBRAHIM LINKEN IN PRACTICE




"سر ! 3 مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"
3 مئی 1995 کا دِن جب امریکی بحریہ اور فضائیہ کے غرور کوپاکستان ائیر فورس کے دو شاہینوں نے خاک میں مِلا دیا۔ پاکستان ائیر فورس کا ایک انوکھا کارنامہ جس نے دُنیا کو حیرت زدہ کردیا۔
1995میں سپائڈرالرٹ کے نام سے پاکستان اور امریکہ کی مُشترکہ جنگی مشقیں شُروع ہوئیں جس میں دونوں ممالک کی بری، بحری اور فضائی افواج نے حصّہ لیا۔
جنگی مشقوں کے آخری مراحل میں فِضا سے سمندر میں حملے کا مقابلے کا انعقاد کیا گیا جِس میں پاکستان ائیرفورس کو ٹارگٹ دیا گیا کہ اُنہیں سمندر میں موجود بحری بیڑے اِبراہم لنکن (CN-72) کےانتہائی قریب جا کر اُس پر حملہ کرکے مصنوعی طور پر کے تباہ کرنا ہے اور دُوسری طرف امریکی بحری بیڑے پر موجود امریکی بحریہ کو یہ ہدف دیا گیا کہ اُنہیں ہوا میں موجود پاکستانی ہوابازوں کا بحری بیڑے کے قریب پہنچنے سے قبل سُراغ لگانا ہے تاکہ بیڑے پر موجود امریکی F-14جنگی تیارے فوری اُڑان بھر کے پاکستانی طیاروں کو ہوا میں ہی دبوچ لیں اور بحری بیڑے کے قریب آنے سے پہلے ہی ہوا میں مصنوعی طور پر گِرا کر یہ مِشن اپنے نام کرلیں۔
اس مشق میں امریکی بحری اور فضائی افسران انتہا کی حد تک مطمئن اور پُر اعتماد تھے۔ اُن کے اعتماد کی وجہ امریکی بحری بیڑے پر موجوددُنیاکاسب سے بہترین ریڈارسسٹم تھا جو میلوں دور سے کسی بھی قسم کی فضائی نقل وحرکت کی بالکل درست نشاندہی کرنے کی صلاحیت کا حامل تھا۔ امریکیوں کے اعتماد کی دُوسری اور اہم وجہ یہ تھی کہ بحری بیڑے پر موجود امریکی طیارے جدید ترین طیارے تھے جو برق رفتاری میں پاکستانی معراج طیاروں سے کہیں آگے تھے۔
دُوسری طرف پاکستان کے ایک فضائی اڈے کا منظر! جہاں پر پاکستان کے فضائی نگرانوں کو اس مُشکل ترین مشن پر جانے کےلئے پوچھا گیا اور حسبِ معمول تمام پائلٹس ایک عزم اور ولوّلے کے ساتھ اس مشن پر جانے کے لئے اگےآئے لیکن اس مِشن پر صرف دو پائلٹ مُنتخب ہونے تھے جنہوں نے اپنے معراج طیاروں کے ساتھ اس مُشکل ترین مشن پر جانا تھا۔
سینئر کمانڈ کے فیصلے کے مطابق اس مشن کےلئے وِنگ کمانڈر عاصم سلمان اور فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کا انتخاب کیا گیا۔ وِنگ کمانڈر عاصم سلمان اُن دِنوں پاکستان فضائیہ میں سکوارڈن نمبر آٹھ کے بطورکمانڈرفرائض سرانجام دے رہے تھے۔
دِن تین بجے کے وقت دونوں پاکستانی شاہین مشن پر روانہ ہونے سے قبل اپنے طیاروں کی جانچ پڑتال میں مشغول تھے جب وِنگ کمانڈر عاصم سلمان نے فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو اپنے پاس بُلایا اور کہا۔ احمد میں اُمید کرتا ہوں آپ اس مشن کےلئے مُکمل طورپر تیارہو۔ لیفٹیننٹ احمد حسن کےچہرےپر ایک پُراعتماد اور جوش سے بھرپور مُسکراہٹ آئی اور وہ انتہائی ادب لیکن اعتماد سے بولے "سرآج تین مئی 1995کادِن امریکی ہمیشہ یاد رکھیں گے"
وِنگ کمانڈر کو اپنےنوجوان شاہین کی بات پر مُکمل اعتماد تھا کیونکہ آج اُنہوں نے اپنی زندگی کا ایک انتہائی انوکھا فیصلہ کیا جو آج تک کی فضائی تاریخ میں نہیں ہوا تھا لیکن ونگ کمانڈر عاصم سلمان نے اپنے اس فیصلے سے احمد حسن کو آگاہ نہیں کیا اور فیصلہ کیا کہ ہدایات مشن پر روانہ ہونے کے بعدطیارے کے وائرلیس سےدیں گے۔
چند لمحوں بعد دونوں شاہین اپنے اپنے معراج طیاروں کے کاک پٹ میں موجود تھے۔ پھر اُن کے طیاروں نے نعرہ تکبیر کی صداؤں کی گونج میں ہوا میں اُڑان بھری اور ایک مُشکل ترین فضائی مشن پر روانہ ہوگئے۔
اِس مشن میں ونگ کمانڈر عاصم سلمان لیڈر جبکہ فلائٹ لیفٹیننٹ احمدحسن ونگ مین کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
امریکی بحری بیڑے پر موجود تمام بحری اور فضائی افسران انتہائی اطیمنان سے پاکستانی طیاروں کی ریڈار پر نشاندہی کا انتظار کررہے تھے کہ جیسے ہی پاکستانی طیاروں کی نشاندہی ہو اُن کے جدید ترین ایف چودہ طیارے فوری اُڑان بھر کے پاکستانی معراج طیاروں کو بحری بیڑے سے میلوں دُور دبوچ لیں اور امریکی اپنی فتح کا جشن منائیں۔
تمام امریکی افسران ریڈرا روم میں موجود تھے اور امریکی پائلٹ اپنے طیاروں میں موجود اگلے حُکم کے مُنتظر تھے۔
دونوں پاکستانی شاہین اپنے اپنے طیاروں کو ہدف کی طرف لے جا رہے تھے جب اچانک فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو طیارے کے وائرلیس پر اپنے لیڈر کا ایک انوکھا اور پُر خطر حُکم سُنائی دیا اور پھربیک وقت دونوں طیارے بجلی کی رفتار سےنیچے کی طرف جانا شُروع ہوگئے۔
امریکی بحری بیڑے پر اُس وقت سناٹا چھا گیا جب پاکستان کے دونوں شاہینوں نےامریکیوں کو حرکت کا موقع دئیے بغیرامریکی بحری بیڑے کی بالائی سطح کے بھی نیچےسے سمندر سے محض چند فُٹ اوپر سے اپنے معراج طیارے برق رفتاری سے فضاء میں بُلند کئے اور امریکی بحری بیڑے کو کامیابی سے مصنوعی طور ہراپنے ہدف کا نشانہ بناکر پاکستان کی امریکیوں پر فتح کا پیغام کنٹرول روم کو دیا۔
پاکستانی ہوائی اڈہ ایک بار پھر نعرہ تکبیر کی صداؤں سے گونج اُٹھا جبکہ دُوسری جانب امریکی بحری بیڑے پر ایک سناٹا چھا چُکا تھا اور امریکی ایک صدمے کی کیفیت میں ایک دوسرے کا مُنہ دیکھ رہے تھے۔ امریکی سوچ رہے تھے کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہوا کہ پاکستانی معراج طیارے جدید ترین ریڈار پر نظرآئے بغیر کامیابی سے بحری بیڑے کے اُوپر سے گُزر گئے اور اُنہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دِیا۔
ونگ کمانڈر عاصم سلمان نے ہوائی اڈے سے اُڑان بھرنے سےقبل ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ امریکی ریڈار سے بچنےکےلئے اُنہیں دونوں طیاروں کو انتہائی نِچلی اور خطرناک سطح پر تیزرفتاری سے پرواز کرنا پڑے گی چُنانچہ اُنہوں نے اُڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد ہی فلائٹ لیفٹیننٹ احمد حسن کو اچانک یہ حُکم دیا۔ قارئینِ کرام اتنی نچلی سطح پر یہ پرواز معراج طیاروں کے ساتھ نامُمکن تھی اوردُنیا میں آج تک کسی پائلٹ نے جدیدترین طیارےپربھی ایسی خطرناک پرواز نہیں کی تھی۔ سطح سمندر پر یہ پرواز اور بھی مُشکل تھی کیونکہ زمین اور پانی پر ہوا کا دباؤ مُختلف ہوتا ہے لیکن آفرین کہ پاکستان کے بہادر اور نڈرسپوتوں نے ایسے نامُمکن کو ایک جذبے سے مُمکن کر دِکھایا اور امریکیوں کے غرور کوخاک میں مِلا کر فضائی معرکوں میں ایک تاریخ رقم کر دی اور اپنےسبزہِلالی پرچم کی لاج رکھ کر اقبال (رح) کے اس قول کی کو سچ کر دِکھایا "مومن ہو تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سِپاہی"
ہمارا سلام ہو وطن کے تمام بہادر سپوتوں پر۔
افواجِ پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد۔

GREATER ISRAEL


چند منٹ  نکال کے یہ تحریر ضرور پڑھیں

*گریٹر اسرائیل کی تکمیل تک*
اگر آپ جانا چاہتے ہیں کہ دنیا میں آگ اور خون کا کھیل کیوں کھیلا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے کون سے ہاتھ اور عوامل کارفرما ہیں تو یہ تحریر ضرور پڑھیں اور شئر کریں
*دنیا کی تینوں اہل کتاب اقوام یہودی عیسائی اور مسلمانوں کے مذہبی عقائد میں    نظریہ موجودہے*expansion
مسلمان اورعیسائی دعوت و تبلیغ اور فلاح انسانیت کے ذریعے خود کو وسعت دینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں جبکہ یہودی سازشوں قتل و غارت اور اقوام دیگر کو آپس میں لڑا کر ان کی قوت کم کرکے اپنی expansion کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہودی مذہب کے مطابق کوئی غیر یہودی اپنا مذہب تبدیل کرکے یہودی نہیں بن سکتا
*یہودیوں کے 13 بنیادی عقائد میں سے بارواں عقیدہ یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب پوری دنیا پر یہودی مسیحا حکومت کرے گا*
اس کی راہ ہموار کرنے کے لئے صدیوں پر محیط پلاننگ کرتے ہیں اس مقصد کی تکمیل کے لئے انسانیت کا خون بہانا اپنے لئے مقدس سمجھتے ہیں
اس لئے راقم کے نزدیک انسانیت کا سب سے بڑا دشمن یہ بارہواں عقیدہ ہے جس کی تکمیل تک یہ خطرناک عقیدہ ارب ہا لوگوں کی جان لے چکا ہو گا
تاریخ میں 200 مرتبہ یہودیوں کو ان کی سازشوں کی وجہ سے قتل کیا گیا بعض مواقع پر لاکھوں کی تعداد میں یہودی قتل ہوئے مگر یہ اپنی سازشی منصوبہ بندیوں سے باز نہیں آئے یہ مسلسل اپنے اہداف کے حصول تک مسلسل سازشوّں میں لگے رہیں گے ایک دن وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے جیسا کہ احادیث میں اس بادشاہ کو دجال کا نام دیا گیا ہے جو حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کی مشترکہ جدوجہد کے نتیجہ میں مارا جائے گا
یہودی bio-chemical deceases پر بہت کام کر رہے وہ دنیا کی آبادی کو کم کرکے ایک ارب تک محدود کرنا چاہتے ہیں HAARP ٹیکنالوجی کے زریعے دنیا کے موسمیات پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں دنیا کی ساری بڑی حکومتوں کو توڑ کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں
یہودی پہلے مرحلے میں دنیا پر اپنا معاشی اور اطلاعاتی تسلط جمانا چاہتے ہیں جس میں وہ %90 کامیاب ہو چکے ہیں صرف ایک کروڑ یہودی دنیا کی %60 دولت پر مسلط ہو چکے ہیں
اب دوسرے مرحلے میں وہ سیاسی تسلط جمانا چاہتے ہیں گرٹر اسرئیل کے نقشہ کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں
اس کے لئے وہ ہر صورت
دو اہل کتاب قوموں مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں تا کہ یہ دونوں قومیں معاشی سیاسی عسکری اور تعددی اعتبار سے کمزور ہوں گستاخانہ خاکے اور کارٹونز punish a muslim day نیوزی لینڈ اور سری لنکا حملے, 9/11 القائدہ, TTP داعش. عافیہ صدیقی وغیرہ کے پیچھے 100% یہودی مجرمانہ ذہن کارفرما ہے مودی سے لے کر ٹرمپ تک انتہا پسند قیادتیں یہودیوں کی سر پرستی اور ان کے ایجنڈا پر آگے آ رہی ہیں Samuel P Hutington کی تھیوری Clash of Civilizations کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جا رہی ہے *پاکستان اور انڈیااس وقت تک آگ اور خون میں نہا چکے ہوتے اگر انڈیا اور اسرائیل کے پائلٹ زندہ گرفتار نہ ہوتے*
اس جنگ کا فیصلہ اس دن کر لیا گیا تھا جس دن ایک انتہا پسند ہندو مودی کو چائے کے کھوکھے سے اٹھا کر وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھانے کی کوششوں کا آغاز کیا گیا تھا میڈیا کے زریعےانڈیا کی پوری قوم کو جنگ کے لئے تیار کر لیا گیا تھا اب بین الاقوامی میڈیا کے زریعے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر پاکستان پر حملہ کیا جانا تھا اللہ نے پاکستان کی مدد کی پوری دنیا کے سامنے زندہ پائلٹ واپس کرکے پلوامہ منصوبہ کو خاک میں ملا دیا دنیا میں جتنی مرضی ایٹمی جنگیں ہوتی رہیں اسرائیل نے اپنی کل آبادی کے لئے زیر زمین محفوظ پناہ گاہیں بنا لی ہیں
*امریکہ اور یورپ کا معاشی جنازہ نکالنے کے لئے یہودیوں نے چائنہ کو stand کیا* اپنیexperties دیں اور 1000 یہودی کومپنیز نے اپنے یونٹس چائنہ میں لگائے امریکہ کے بعد یہودیوں کا اگلا باپ چائنہ ہے اس کی گود میں بیٹھ کر اگلی کئی صدیوں تک دنیا کو تگنی کا ناچ نچائیں گے
دنیا کو آگ اور خون میں نہلا دیں گے freemasonاور illuminaties یہودیوں کی انتہائی خطر ناک تنظیمیں ہیں جو civil conspiracies پر کام کرتی ہیں جو سماجی اور مڈہبی perceptions کو اپنے ایجنڈا کے مطابق تبدیل کرنے کا کام کرتی ہیں اور mossad ملٹری محاذ پر کام کرتی ہے
ابھی پوری دنیا میں ایک نیا perception buildکرنے کی کوشش کی گئی کہ پوری دنیا کے سامنے مسلمانوں کو انتہائی خطرناک دہشتگرد اور مجرمانہ ذہن رکھنے والی مخلوق کے طور پر متعارف کروایا گیا ان کی اس اس خطرناک مہم کو diffuse کرنے میں سب سے مثبت رول پاکستانی سکالر ڈاکٹر قادری نے پلے کیا جنہوں نے دنیا بھر میں 350 سے زائد Interfaith and peace conferences. منعقد کرکے اور اپنے پلیٹ فارم پر دیگر مزاہب کے اکابرین کو دعوت دے کر دنیا کے سامنے اسلام کا خوبصورت پر امن چہرہ پیش کیا
*یہودی اس وقت صرف political islam سے خوف زدہ ہیں اس سے ان کی ٹانگیں کانپتی ہیں*
کیوںکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں political islam اگر سسٹم کے طور پر ابھر آیا تو وہ یہودی ظالمانہ سرمائہ دارانہ نظام کے مقابلہ میں دنیا کے لئے ایک جنت سے کم نہ ہو گا اس سے یہودیوں کی صدیوں کی سازشیں خاک میں مل جائیں گی
اس لئے میں ہر منظم political islam کی نمائندہ جماعت کو اپنی جان مال وقت سے سپورٹ کرنے کا حامی ہوں
مجھے قوی یقین ہے کہ political islam اپنی پوری طاقت کے ساتھ پاکستان سے ابھرے گا
اس سلسلہ میں Devine planing کا آغاز ہو چکا ہے
انشاءاللہ
تحریر: شبیر حسین دیو

June 02, 2019

PAK ARMY SMALL BUDGET AND BIG ROLE IN THE WORLD




دنیا کے چند اہم ممالک کا فوج پر فی کس خرچہ ۔۔۔۔
 امریکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 409،596 ڈالر
 برطانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔314،105 ڈالر 
 سعودی عرب ۔۔۔۔ 272،805 ڈالر
 فرانس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 250،675 ڈالر
 اسرائیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔100،849 ڈالر
 چین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 92،456 ڈالر
 روس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 81،893 ڈالر
 افغانستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 59،487 ڈالر
 انڈیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 42،188 ڈالر
 ترکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 36،819 ڈالر
 ایران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 23،518 ڈالر
 بنگلہ دیش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 17،597 ڈالر
 پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 13،513 ڈالر
پاک فوج دنیا میں کم ترین پیسے لینے والی فوج ہے!
لیکن اپنے ان محدود سے وسائل میں امریکہ، روس، انڈیا اور اسرائیل جیسی طاقتوں سے ٹکر لے رکھی ہے.
دنیا کا جدید ترین نیوکلئیر میزائل پروگرام، لڑاکا طیارے، جدید ترین ٹینک اور ڈرون طیارے بنانے میں کامیاب رہی۔
دنیا کی سب سے بڑی پراکسی جنگ
بھی لڑ رہی ہے۔
لیکن جب ان بدبختوں سے کہا جائے کہ پاک فوج کا جوان شہید ہوا ہے تو نہایت بے رحمی سے جواب دیتے ہیں ۔۔۔ " تنخواہ کس بات کی لے رہے ہیں" ۔۔۔۔۔
🇵🇰 *پاک فوج کو 1100 ارب کے طعنے دینے والوں سے سوال ۔۔۔۔!!* !!
پاکستان کے ٹوٹل 5900 ارب بجٹ میں سے گیارہ سو ارب فوج لیتی ہے۔ اس کے بدلے فوج آپ کے لیے کیا کر رہی ہے۔۔؟
*تو اب سن لو :::*
🏮 اسی بجٹ میں سے سات لاکھ فوج کو تنخواہ دی جا رہی ہے۔
🏮 اسی بجٹ میں سے دنیا کی نمبر ون انٹلیجنس ایجنسی چلائی جا رہی ہے۔
🏮اسی بجٹ میں سے دشمن کی تین خطرناک جنگی ڈاکٹرائین کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
🏮اسی بجٹ میں سے دنیا کا پانچواں بڑا نیوکلئیر پروگرام چلایا جارہا ہے۔ جو بہت جلد دنیا کا تیسرا بڑا خطرناک ایٹمی پروگرام بن جائے گا۔
👈 یاد رہئیے یہی فوج ہے جس نے گزشتہ بارہ سالوں میں عوام کی خاطر پندرہ ہزار جانیں دی ہیں۔
🚨 فوج تو 1100 ارب لیتی ہے مگر ہر سیلاب ، زلزلہ ، طوفان اور پولیو مہم میں عوام کا ساتھ دیتی ہے۔
🔥 *ذرہ سوچو باقی کیا کرتے ہیں۔۔؟؟؟* 🔥
*باقی بجٹ کہاں جاتا ہے۔۔۔؟؟؟؟*
🔺 باقی 4800 ارب تو آپ کی جمہوریت ہی لیتی ہے نا وہ یہ بجٹ کہاں لگا رہی ہے۔۔؟؟؟
👈سٹیل مل پر۔۔؟؟؟ وہ تو خسارے میں جاری ہے۔
👈پی آئی اے پر۔۔؟؟؟ وہ تو تاریخی گھاٹا کھا رہی ہے۔
👈پولیس نظام پر۔۔؟؟؟ اس کا حال آپ کے سامنے ہی ہے۔
👈تعلیم پر۔۔؟؟؟ مگر پاکستان کا تو ڈیڑھ کروڑ بچہ سکولوں سے باہر ہے۔
👈صحت پر۔۔؟؟ لیکن پاکستانی تو ہسپتالوں کے فرشوں پر مر رہے ہیں۔
🤔 *تو پھر جمہوریت یہ بجٹ کہاں لگا رہی ہے۔ ؟؟؟؟* 🤔
🌹 *حضور گیارہ سو ارب لینے والی فوج کے زیر اثر چلنے والی آئی ایس آئی اور نیوکلیئر سسٹم دنیا کے ٹاپ ترین سسٹم ہیں۔* 🌹
😎 *مگر 4800 ارب لینے والی جمہوریت کے ادارے کہاں ہیں۔؟؟؟*
💡تو پھر یہ بجٹ کے طعنے کس کو ملنے چاہیں ۔
فوج کو یا پھر آپ کے سیاسی نظام کو۔۔؟؟

June 01, 2019

T . T. P. IN PAKISTAN



بیت اللہ محسود کا دور تھا.....
بقول بیت اللہ محسود کے ، فوج کبھی بھی ان علاقوں میں نہیں آسکتی۔۔۔۔!
سوات وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقے اب طالبانوں کے مظبوط مرکز بن چکے تھے۔۔
پھر ایک خطرناک دور شروع ہوا ، شریعت کے نام پر طالبانوں نے مختلف علاقوں میں اپنے امیر بٹھا دئیے، سکولوں کو بند کر کے اسلحہ ساز کارخانوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ تعلیم حاصل کرنا جرم کرنے کے برابر ٹھرا ۔۔ اسلام کا نام استعمال کر کے مخالفین کو ذبیح کرنا معمول بن گیا تھا۔ دہشتگرد زبردستی لوگوں کی بیٹیوں سے نکاح کرتے ، یاد رھیے انکار کی سزا موت تھی ۔

طالبانوں کے خلاف جب نفرت بڑی تو ایک خوفناک طریقہ اپنایا گیا۔ دہشتگرد جسے چاہتے گولی مار کر لاش سڑک پر پھینک دیتے ، بازاروں میں لٹکتی لاشیں اب معمول بن چکی تھیں ۔ غضب کی بات یہ ہے کہ اب لاشوں کے ساتھ ایک چٹ بھی لکھی جاتی جس پر علاقے کے امیر کا حکم درج ہوتا کہ یہ لاش چار دن یا پانج دن بعد سڑک سے اٹھائی جائے ۔ جو مقررہ دن سے پہلے لاش اٹھاتا اگلے دن اس کی لاش بھی پڑی ہوتی ہے۔

اس دور میں سوات کا گرین چوک لاشوں کے حوالے سے بہت مشہور ہوا ، جسے لوگ بعد میں خونی چوک کہنے لگے۔ دہشتگردوں کی ایک مخصوص گاڑی ہوتی تھی جو جس کو ایک دفعہ اٹھا لیتی پھر اس کی لاش گرین چوک میں ہی لٹکتی ملتی۔ آپ ذرہ ایک لمحے کے لیے تصور کیجئے آپ سوات کے گرین چوک پر کھڑے ہیں ، ۔ آپ کے گھر کے کسی فرد کی لاش آپ کے سامنے لٹک رہی ہے۔
لاش کے ساتھ چپکی چٹ پر لکھا ہے کہ اس کافر کی لاش کو پانچ دن تک ہاتھ تک نہ لگایا جائے۔۔۔
ذرہ تصور کیجئے کتنا دردناک لمحہ ہوتا ہے آپ کا اپنا بے گناہ مارا گیا ، آپ خوف کے مارے اس کی لاش کو بھی نہیں گھر لے جاسکتے ۔۔۔۔۔!!!

ذرہ سوچئیے یہ کیسی شریعت تھی جس میں لوگوں کی بیٹیوں کو گھروں سے اٹھا لانا جائز تھا؟؟؟
اب یہ دہشتگردی پورے پاکستان میں پھیل چکی تھی۔ مسجدوں ،مدرسوں سرکاری عمارتوں پر دھماکے معمول تھے۔ کے پی کے اور بلوچستان تو مکمل پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی دہشتگردی ملک کے وجود پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی تھی۔

پھر حالات بدلے فوج ان دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں آئی ۔۔۔فوج نے اپنے پندرہ ہزار جوانوں کی قربانی دی ۔۔ ہزاروں فوجی عمر بھر کے لیے معذور ہوئے۔ پاک فوج کے جوانوں کو اغواہ کیا جاتا۔۔۔انکی لائیو ویڈیو بنائی جاتی۔۔۔۔۔۔ایک جوان کو سب باندھے ہوئے جوانوں کے سامنے چھری سے اللّه اکبر کہہ کر ذبح کیا جاتا۔۔۔۔وہ ذبح کئے ہوۓ جانور کی طرح خراٹے مارتا۔۔۔۔اسکا سر تن سے جدا کیا جاتا ۔۔۔۔۔پھر ناچتے ہوۓ اس کے سر سے فٹ بال کھیلا جاتا۔۔۔۔ذرا اپنے آپ کو ان جوانوں کی جگہ رکھ کر سوچیں۔۔۔۔۔کیا ایسے میں انکو بیوی بچوں کی یاد نہیں آئی ہو گی۔۔۔۔۔وہ جنگ جسے جیتنا محض خواب تھا، فوج نے وہ جنگ جیتی۔اپنی جانیں قربان کر کے۔۔۔۔۔۔۔

سوات کے خونی چوک کو دوبارہ امن چوک بنایا۔ وہ علاقے جہاں لٹکتی ہوئی لاشیں ملتی تھیں ، ان کو پرامن علاقہ بنایا۔ وزیرستان اور سوات کے علاقوں میں کیڈٹ کالج بنائے ۔ وہ سکول جو دہشتگردوں کے اسلحے کے کارخانے تھے ، دوبارہ تعلیمی مرکز بنائے ، تمام قبائلی علاقوں کو پرامن ماحول فراہم کیا۔۔

اب ایک دفعہ پھر کچھ لوگ جو عام لوگوں کے روپ میں انہی کے گماشتے ہیں مطالبہ کر رہے ہیں کہ چیک پوسٹیں ختم کی جائیں۔۔۔۔مسنگ پرسن واپس کیے جائیں۔۔۔۔ارے بھائی وہ جنکا رونا تم رو رہے ہو۔۔۔۔۔۔وہ فوج کے ساتھ جنگ کرتے ہوۓ اپنے انجام تک پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔۔باقی افغانستان بھاگ گئے ہیں جاؤ انکو منا کر واپس لاؤ۔۔۔ ہمیں نہ آپس میں لڑواو ۔۔۔۔۔
 انکے نام پر قومیت کا چورن نہ بیچو۔۔۔۔۔خدارا ہم پشتونوں پر رحم کرو ۔۔ ہم دوبارہ اپنے پیاروں کی لاشیں سڑکوں پر پڑی نہیں دیکھنا چاہتے ۔ہم نہیں چاہتے دوبارہ ہماری بیٹیوں کو جہاد کے نام پر گھروں سے اٹھا لیا جائے۔۔ اگر یہ چیک پوسٹیں ختم کر دی گئیں تو بارڈر کے پار افغانستان میں موجود درندے ہمیں نوچ ڈالیں گے ۔
بقلم : ایک پشتون

Total Pageviews