September 24, 2018

PRIME MINISTER OF PAKSTAN IMRAN KHAN PLZ. LOOK THE MATTER


وزیر اعظم صاحب
میں آپ کو *صدر ایوب خان کے دور کا* ایک سچا واقعہ بتاتا ہوں ۔۔
"چاچا محمد خان آجڑی جو میرا ہمسایہ ہے اور ماشاء اللہ حیات ہے بتاتے ہیں کہ 
  میں بھیڑ بکریاں پالتا تھا اور انہیں پر گُزر بسر تھا ۔ گھر میں گندم ختم ہو گئی ، مجھے کسی نے بتایا کہ قریبی گاؤں میں ایک رشتہ دار کے ہاں گندم ہے ۔ سو میں اس کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے کچھ گندم ادھار دے دو میں چند دن بعد لیلے بیچوں گا تو آپ کو رقم دے جاؤں گا ،
اس نے میری بات سنی اور بے رخی سے بولا جب پیسے آ جائیں تب گندم لے جانا ، میں مایوس لوٹ آیا ،
شام کو *صدرایوب صاحب* نے ملک میں گندم کے بحران پر قوم سے خطاب کیا جو اس وقت ریڈیو پاکستان نشر کرتا تھا ، صدر صاحب نے کہا
*جس کسی کے پاس 10 من سے زائد گندم پائی گئی اسے لٹکا دیا جائے گا ، سو ذخیرہ اندوز مطلع رہیں.*
میں صبح اٹھا تو 3 اونٹ بوریاں اٹھائے اپنے گھر کی طرف آتے دکھائی دیئے ۔ اونٹ والے نے صدا دی میں گیا تو بولا یہ ایک اونٹ پر لدی 5 بوری گندم آپ کے لئے فلاں شخص نے بھیجی ہے (یہ وہی شخص تھا جس نے کل مجھے دھتکارا تھا) اور باقی دو اونٹوں پر لدی 10 بوریاں فلاں شخص کے لئے ہیں، آپ اپنی بوریاں لے کر مجھے اس شخص کا گھر بتا دو تا کہ میں اس کو اس کی گندم پہنچا دوں.
میں نے اس گندم کی قیمت کے بابت دریافت کیا تو بولا اس نے کہا ہے کہ جب اللہ دے مجھے پیسے دے جانا
یہ اس حاکم وقت کا دبدبہ تھا جس نے اسلام آباد میں بیٹھ کر بات کی لوگوں نے ریڈیو پر سنی اور ذخیرہ ادھر اُدھر کرنا شروع کر دیا۔
*میں چاہتا یوں کہ مجھے کچھ ایسا اور اس طرح ہوتا نظر آئے ۔۔*
۔
میں ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا
کہ
آپ نے 2 مُلازم رکھنے ہیں ،
گاڑیاں نیلام کرنی ہیں ،
دو کمروں کے گھر میں رہنا ہے ،
سفیروں کو بسکٹ پانی پہ ٹرخانا ہے ،
آپ نے پروٹوکول نہیں لینا وغیرہ وغیرہ ۔
میں چاہتا ہوں۔۔۔! !
بطور پاکستانی
*میری جیب نہ کٹے ،*
*مجھے سودا سلف خالص اور کنٹرول ریٹ پر ملے*
*مجھے رشوت نہ دینی پڑے*،
*مجھے گالی نہ پڑے ،*
*مجھے ہسپتال میں عزت اور دوائی ملے ،*
*مجھے تھانہ میں ذلیل نہ کیا جائے ،*
*میری عزت نفس ہو میرا احترام بحال ہو* ۔۔۔
پھر میں مان کروں گا آپ کے وزیر اعظم بننے پر ،
ورنہ
باتیں تو میں 70 سال سے سنتا آ رہا ہوں.
عام لوگ

September 07, 2018

How Stop blasphemy Cartoons




گستاخانہ خاکے کیوں رکے؟

جانیے اندر کی کہانی یاسر رسول کی زبانی
جو لوگ کہہ رہے تھے کہ گیرٹ ولڈرز عیسائی ہے ان کے لیے عرض ہے کہ وہ عیسائی نہیں بلکہ ملحد ہے اور ملحدوں کی فوج اس دنیا میں پیدا کرنے والی صرف اور صرف صیہونی تنظیم فری میسن ہے. صیہونی شروع دن سے ان ملحدوں کو مذاھب کی توہین کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں.
اسی لیے میں نے مشورہ دیا تھا کہ گیرٹ ولڈرز کے بجائے ڈائرکیٹ اس کو چلانے والی صیہونی تنظیم فری میسن کے دل پر کلہاڑی ماری جائے یعنی ہولوکاسٹ پر صیہونیوں کو رلایا جائے اور ان کے ریاست اسرائیل کی بنادیں ہلادی جائیں.
الحمداللہ جس کام میں دوسرے لوگ مہینوں کامیاب نہ ہوئے وہی کام ہولوکاسٹ پر لکھنے سے چند دنوں میں ہوگیا.
یہاں پر سوچنے کی بات ہے کہ آخر ہولوکاسٹ کیا بلا ہے کہ صیہونیوں نے اسے چھپانے کے لیے گستاخانہ خاکے بھی روک دیے.
میرے بھائیو! ہولوکاسٹ محض ایک موضوع نہیں تھا بلکہ یہ اسرائیل کی بنیادیں ہلانے کا سبب بن سکتا تھا. دراصل اسرائیل کی بیساکی اسی ہولوکاسٹ کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی. اگر صیہونی ہولوکاسٹ کا ڈرامہ نہ رچاتے تو اسرائیل کبھی بھی نہ بن پاتا.
اب اگر دنیا دوبارہ ہولوکاسٹ پر باتیں کرنا شروع کردیتی اور پاکستان اقوام متحدہ اور او آئی سی میں بھی اس معاملے کو مسلم ممالک کے ساتھ مل کر اٹھاتا تو پھر پتا ہے کیا ہوتا؟
دنیا اسرائیل کی حقیقت جان جاتی اور اسرائیلی صیہونیوں سے فلسطینی علاقے خالی کرنے کے مطالبے زور پکڑتے، مسلمان ممالک کا اتحاد مزید مضبوط ہوجاتا اور دنیا ہولوکاسٹ کی اصلیت بھی جان لیتی پھر ہر طرف سے صیہونیوں اور اسرائیل پر لعنتیں پڑتیں.
تو اس سب سے بچنے کے لیے صیہونیوں کا گستاخانہ خاکے منسوخ کرنا ضروری تھا کیونکہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایک طرف امت مسلمہ متحد ہوجائے اور دوسری طرف جعلی ہولوکاسٹ کی بنیاد اسرائیل سے فلسطین چھوڑنے کے مطالبے شروع ہوجائیں.
گستاخانہ خاکے رکوانے کا تھوڑا کریڈٹ عمران خان کو بھی جاتا ہے جس نے اپنے وزیر خارجہ کے زریعے امت مسلمہ کے اتحاد او آئی سی کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا اور ڈچ حکومت کے وزیر خارجہ کو فون کرواکے گیرٹ ولڈرز کی شکایت بھی لگائی.
یہ عمران خان کی سفارتی کوشش تھی لیکن یاد رکھیں سفارتی کوششیں صیہونی اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے سامنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں.
عمران خان کہتا تھا کہ معاملا اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ صیہونیوں کے گھر جاکر ان کی منت سماجت کریں کہ بھائی پلیز خاکے روک دو.
خان صاحب یاد رکھیں اقوام متحدہ ایک عالمی صیہونی حکومت ہے جس نے آج تک کبھی بھی صیہونی ایجنڈے کے خلاف کوئی ایک قدم نہیں اٹھایا. دنیا جہاں پر نظر دوڑاکے دیکھو کیا مسلمان ممالک کے لیے اقوام متحدہ نے کچھ کیا؟ زیادہ دور مت جائیں صرف اپنے کشمیر کو ہی دیکھ لیں اور بتائیں کیا اقوام متحدہ نے کشمیر کے مطلق اپنی قرارداد پر عمل کروایا؟ یہ صرف زبانی جمع خرچ کرتے ہیں جبکہ کام صرف صیہونی ایجنڈے کا کرتے ہیں. عمران خان چاہے اقوام متحدہ میں بولتا پھر بھی کچھ نہیں ہوتا.
اب آتے ہیں گیرٹ ولڈرز کے بیان کے مطلق جو اس نے خاکے منسوخ کرتے وقت دیا.
اس ملعون نے خاکے منسوخ کرنے کاجواز یہ پیش کیا کہ "میں اپنے ہم وطنوں کی زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتا اس لیے خاکے منسوخ کرتا ہوں. "
اسے نیدرلینڈ میں دہشت گردی کا خطرہ تھا لیکن ٹہرے میں بتاتا ہوں اس کے دل کی بات
اسلام گستاخ کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے، گستاخ کی وجہ سے اس کے ملک کے عام شہریوں کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا بشرطیکہ اس ملک کی عوام اور حکمران بھی اس گستاخ کا ساتھ دے رہے ہوں. نیدرلینڈ کی حکومت نے گیرٹ ولڈرز کے خاکوں کی نمائش پر اس ملعون کے اس فعل سے پہلے ہی اظہار لاتعلقی کردی تھی تو پھر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی عاشق رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاکے نیدرلینڈ کے عیسائی شہریوں پر بم پھینک دے اور دوسری اہم بات یہ کہ جس "داعش" نے چارلی ہیبڈو پر حملہ کیا تھا وہ خود اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور امریکی سی آئی اے کی تخلیق کردہ دہشت گرد تنظیم ہے جسے خلافت کے نام سے مشہور کروایا گیا. اب جبکہ گستاخانہ خاکے ایک ملحد گیرٹ ولڈرز ملعون کے زریعے کروانے والے بھی اسی داعش کو تخلیق کرنے والے یہی صیہونی تھے تو ایسا ناممکن تھا کہ داعش کے دہشت گرد گیرٹ ولڈرز پر حملہ کرتے. باقی بچ جاتا ہے ممتاز قادری اور غازی علم دین جیسا عام مسلمان تو ہاں گیرٹ ولڈرز کو انہی سے اپنی جان کا خطرہ تھا. مسلمان صرف گستاخ گیرٹ ولڈرز کو ہی قتل کرتا نا کہ نیدرلینڈ کے شہریوں کو.
اب سوچئے کہ گیرٹ ولڈرز نے خاکے منسوخی کا جو جواز دیا کہ "میں اپنے ملک کے شہریوں کی زندگی داؤ پر نہیں لگاسکتا" محض ڈھونگ اور سیاہ جھوٹ تھا. اسے معلوم تھا کہ مسلمان عام شہریوں کو قتل نہیں کریں گے بلکہ اگر قتل کریں گے تو اسے ہی کریں گے. چند دن پہلے ایک 26 سالا پاکستانی نیدرلینڈ میں پکڑا گیا جس پر الزام تھا کہ وہ گیرٹ ولڈرز کو قتل کرنا چاہتا تھا. یہ صیہونی موت سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں.
اللہ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ " ان سے کہو کہ اگر سچے ہو تو اپنی موت مانگو، یہ ہرگز اپنی موت نہیں مانگیں گے".
خاکے رکوانے کی صرف دو وجوہات تھیں
1. ہولوکاسٹ پر مسلمانوں کو خاموش رکھنا اور دنیا میں ہولوکاسٹ کی گونجتی آواز کو ختم کرنا تاکہ کل کو اسرائیل پر فلسطینی علاقے چھوڑنے کے مطالبے نہ شروع ہوجائیں
2. امت مسلمہ کو متحد نہ ہونے دینا
دراصل گستاخانہ خاکے ایک ایسا موضوع ہے جس پر بڑے سے بڑا گناہگار مسلمان بھی صیہونیوں کے خلاف کھڑا ہوسکتا ہے، اس معاملے پر تقریبا دنیا کے تمام مسلمان ممالک ایک پیج پر آسکتے تھے اور سب مل کر صیہونیوں کے خلاف کھڑے ہوجاتے جبکہ دوسری طرف ہم نے جو ہولوکاسٹ کا پتا پھینکا وہ بھی کام آتا. اقوام متحدہ اگر آواز نہ اٹھاتی تو پھر بھی خاکوں کی وجہ سے متحد ہونے والی امت مسلمہ مل کر ہولوکاسٹ کو جھوٹ کہہ کر اسرائیلی صیہونیوں سے فلسطین خالی کرنے کا مطالبے شروع کردیتی جو کہ صیہونی کبھی نہیں چاہیں گے تو اس لیے خاکے روکے کے صیہونیوں نے مٹی پاؤ والے فلسفے پر رمل کیا.
الحمداللہ ہم مسلمان کامیاب ہوئے، ملعون گیرٹ ولڈرز آج نہیں تو کل اپنے انجام کو بھی ضرور پہنچے گا. میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہمارا مقابلا اس دنیا کی ذہین ترین قوم 'بنی اسرائیل' سے ہے، صیہونیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے صیہونیوں کی طرح سوچنے والا دماغ چاہیے ہوتا ہے جبکہ عام مسلمان صرف جزباتی بن کر ہی سوچتے ہیں جو کہ فائدے کے بجائے الٹہ نقصان دہ بن جاتا ہے کیونکہ ہم کفر سے بھری دنیا میں رہتے ہوئے جزباتی فیصلے سے کبھی نہیں جیت سکتے. ہمیں صیہونیوں کی طرح ڈھنڈے دماغ سے سوچ کر صیہونی کی ہی زبان میں جواب دینا ہوگا.
جو لوگ نیدرلینڈ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا کہہ رہے تھے ان کے لیے عرض ہے کہ بائیکاٹ انفرادی طور پر نہیں کیا جاتا یہ حکومتی سطح پر کیا جاتا ہے، آپ نے عوام کو بائیکاٹ کی تلقین کی لیکن اگر یہی تلقین حکومت سے کرتے کہ نیدرلینڈ کی مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائیکاٹ کرے تو شاید کام ہوجاتا. حکومت اگر مصنوعات منگوانا بند کردیتی اور قومی مہم چلاتی تو تمام شاپنگ سٹورز بھی نیدرلینڈ کی مصنوعات اپنے سٹورز سے خود ہی نکال باہر کردیتے. آپ لوگوں کی مہینوں کی کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا البتہ ہولوکاسٹ نے وہ کچھ کر دکھایا جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے تھے.
ہولوکاسٹ دکھتی رگ ہے صیہونیوں کی اس کو چھیڑنے سے اسرائیل کی بنادیں ہل سکتی ہیں، یہ ہولوکاسٹ آگے چل کر پھر کام آئے گا اسے سنبھال کے رکھیے.
کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
آخر میں ان سوشل میڈیا مجاہدین کو سلام جنہوں نے ہولوکاسٹ پر صیہونیوں کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور اپنی آئی ڈیز گنوادیں. اللہ آپ سب کی کوششیں قبول فرمائے. میرے بھائیو آپس میں اس اتحاد کو مستقبل میں بھی زندہ رکھنا ہے کیونکہ صیہونی پروپیگنڈے کی ماں ہیں ہمیں ہر وقت ان کے ایجنڈوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑا ہونا ہے، مستقبل قریب میں ان صیہونیوں سے پھر مقابلا کرنا پڑے گا اس لیے اپنے درمیان اس اتحاد کو برقرار رکھیے گا. ان شاء اللہ ہم صیہونی ایجنڈے کو ہر جگہ بےنقاب کرکے ناکام بنائیں گے. اللہ آپ سے نیکیاں قبول فرمائے. جزاک اللہ خیرا کثیر

August 12, 2018

Corruption and Miss Management 56 Companies of Shahbaz Sharif CM Punjab



شہباز شریف کی مشہور زمانہ 56 سرکاری کمپنیز میں سے ایک لاہور نالج پارک کمپنی ہے ۔۔ جس نے اخباری اشتہار کے ذریعے چیف کمرشل آفیسر کی بھرتی کے لئے 10 سالہ تجربے کے ساتھہ ایم بی اے مارکیٹنگ ڈگری ہولڈرز سے درخواستیں طلب کیں لیکن اس پوسٹ پر چپکے سے بی اے تعلیم کی حامل مہوش رفیع کو 9 لاکھہ روپے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کر دیا۔
تعلیم انڈر میٹرک اور سکیل 2 کے گھوڑوں کے اصطبل میں خدمت گار منظورعلی کو 2016 میں 65 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کمپنی کی اراضی کا سائٹ سپروائزر بھرتی کرلیا گیا۔
ڈپٹی منیجر پروکیورمنٹ کی اسامی پر 8 سے 17 سالہ تجربے کے حامل ایم بی اے اور ایم فل امیدواروں کو نظر انداز کر کے ایف اے پاس مختار احمدجوئیہ کو ڈیڑھ لاکھہ روپے ماہانہ پر بھرتی کرلیا گیا
جنرل منیجر(انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے عہدے پر صرف
بی سی ایس ڈگری ہولڈر نوجوان یاسر فرید ملک کو ماہانہ 5 لاکھہ 50 ہزار روپے تنخواہ پر ’’نواز‘‘ دیا گیا جبکہ کمپنی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کوئی شعبہ نہیں۔
کمپنی انتظامیہ نے ہیومن ری سورس منیجر کی اسامی پر فرید اقبال کو 7 لاکھہ روپے ماہانہ ،1300 سی سی کار اور دیگر مراعات دے کر بھرتی کیا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کو متعلقہ شعبے کا کام ہی نہیں آتا جس کے باعث یہ کام کسی دوسرے شعبے کو سونپ دیا گیا لیکن موصوف تب تک تنخواہ کی مد میں 1 کروڑ 40 لاکھہ روپے لے اڑے ۔
اسی کمپنی میں ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ شاہد زمان مہمند کو ایک سال کے لئے 8 لاکھہ روپے ماہانہ پرکمپنی کا چیف آپریٹنگ آفیسر مقرر کیا گیا جس میں 2 لاکھ 40 ہزار روپے ماہانہ ہاؤس رینٹ بھی شامل تھا حالانکہ اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے ریکارڈ کے مطابق وہ اس دوران حکومت پنجاب کی سرکاری کوٹھی میں مقیم رہے اس مد میں ان کو 40 لاکھہ روپے کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی۔
سنگین نوعیت کی جعلسازی کی ایک اور مثال قائد اعظم سولر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی بھرتی پر کی گئی۔ کمپنی انتظامیہ نے 25 اپریل 2014 کو اس عہدے کے لئے بجلی گھر لگانے اور چلانے کے 15 سالہ تجربے کے حامل الیکٹریکل انجینئرز سے درخواستیں طلب کیں لیکن اس اسامی پر اکتوبر 2013سے کام کررہے ڈی سی او فیصل آباد نجم احمد شاہ کو کمپنی کے بورڈ نے 15 فروری 2014 کو 3 سال کے لئے 8 لاکھہ روپے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کرلیا جنہوں نے زندگی میں کبھی کسی بجلی گھر پر کام نہیں کیا ،اس کیس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک انکوائری میں چشم کشا انکشاف ہوا کہ نجم احمد شاہ نے 2013 سے اکتوبر2014 تک 86 ہزار 513 روپے ماہانہ کی سرکاری تنخواہ 5 ماہ تک وصول ہی نہیں کی اور کمپنی کے بورڈ کی منظوری کے بعد پچھلی تاریخوں سے 8 لاکھ ماہانہ پر بھرتی ظاہر کرکے 46 لاکھہ روپے بطور بقایا جات وصول کرلئے ۔
نجم احمد شاہ کی صوبائی سیکرٹری صحت تقرری سے قبل ان کو قائد اعظم سولر پاور کمپنی کے کھاتے سے تنخواہ کی مد میں 1 کروڑ 60 لاکھہ روپے ادا کئے گئے
نجم احمد شاہ کی بھرتی کے بعد اس اسامی پر بھرتی کی فائل سے درخواستیں جمع کرانے والوں کے نام اور پتے ،انٹرویو کی جگہ،ان کی تعداد اور سلیکشن کمیٹی کے میٹنگ منٹس غائب کردئیے گئے ۔
جعلی بھرتیوں کی کہانی پنجاب انرجی ہولڈنگ کمپنی تک بھی جاتی ہے جہاں منیجر ٹیکنیکل کی اسامی پر طارق رشید کو بھرتی کیا گیا ،ان کا پنجاب کا شہری ہونے کا ڈومیسائل صرف ایک دن قبل راولپنڈی سے جاری کرایا گیا جبکہ ان کی تمام تعلیمی اسناد اور کام کے تمام تجربے کا تعلق کراچی سے ہے جس سے ان کا ڈومیسائل مشکوک قرار دیا گیا ہے ۔
اسی کمپنی میں چیف آپریٹنگ آفیسر(سی او او) کی اسامی پر ناروے سے غیرتصدیق شدہ ڈپلومہ کی بنیاد پر انٹرویو میں 15 اضافی نمبر دیکر احمد شہریار کو 3 نومبر 2016 کو 5 لاکھہ 50 ہزار روپے ماہانہ پر بھرتی کیا گیا ،ان کی پروفائل میں تجربے کی کوئی دستاویز لف نہیں جبکہ جنوری 2018 تک ان کے ڈپلومے کی تصدیق نہیں ہوسکی ، جس کی بنا پر آڈیٹر جنرل پاکستان نے اس کے جعلی ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے ۔
پنجاب انرجی ہولڈنگ کمپنی میں ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر ضیاالرحمٰن کو ایک لاکھہ 80 ہزار روپے ماہانہ پر بھرتی کیا گیا ان کو نوازنے کے لئے تجربے کے 10 اضافی نمبر دیدئیے گئے اور تجربہ کی حد صرف 5 ماہ کردی گئی
قائد اعظم سولر پاور کمپنی میں افسروں نے 2013 سے 2017 کے دوران 3 کروڑ 36 لاکھہ روپے غیر قانونی طور پر بونس کی مد میں وصول کر لئے جس میں سے 57 لاکھہ روپے احد چیمہ کو ادا کئے گئے حالانکہ پنجاب انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ سٹینڈرڈ آرڈر کی شق 10 کے تحت بونس صرف ورکرز کو مل سکتا ہے ۔
قائداعظم سولر کمپنی میں بدرالمنیر کو دسمبر 2013 میں فنانس منیجر کے عہدے پر 5 سالہ تجربے کی شرط نظر انداز کرکے 2 لاکھہ 50 ہزر روپے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کر لیا گیا اور بعد میں 2017 میں چیف فنانشل آفیسر کے عہدے پر ترقی دے کر تنخواہ 4 لاکھہ روپے ماہانہ کردی گئی حالانکہ وہ بنیادی شرط پر ہی پورا نہیں اترتے تھے ان کو مجموعی طور پر 1 کروڑ 59 لاکھہ ادا کئے گئے ۔
ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کمپنی جہاں حکام نے ماسٹر ڈگری کے حامل منیجر ٹیکنیکل کے عہدہ پر 3 سالہ ڈپلومہ ہولڈر محمد اقبال کو 2 لاکھہ 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر بھرتی کیا ، ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو دوبارہ بھرتی کے قوانین کو بالائے طاق رکھہ کر 60 سال سے زائد عمر والے 3 سابق افسروں کو 1 لاکھہ 50 ہزار سے 3 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بغیر ہی بھرتی کرلیا گیا
اور 2018 فروری تک ان کو 99 لاکھہ روپے تنخواہ کی مد میں ادا کردئیے گئے ۔
ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کمپنی کے حکام نے الطاف حسین نامی شخص کو آپریشن کنسلٹنٹ کے طور پر کسی اشتہار کے بغیر ہی 1 لاکھہ 50 ہزار روپے ماہانہ پر نوکری دیدی جس کے تحت پیپرا رولز کی شدید خلاف ورزی ہوئی۔اس کمپنی میں سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے براہ راست نعیم سرفراز کو چیئرمین لگایا لیکن انہوں نے رول 4 کی خلاف ورزی کرکے ریگولر چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کے بجائے 2014 سے 2018 تک غیر قانونی طور پراس عہدے پر بھی قبضہ جمائے رکھا۔ ساؤتھ پنجاب فاریسٹ کمپنی میں محکمہ جنگلا ت کے ایڈیشنل سیکرٹری شاہد رشید اعوان کو عارضی طور پر کمپنی کے سیکرٹری کا اضافی چارج دیکر 2 لاکھہ روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کردی گئی۔
ایک اور انوکھا کیس پنجاب ماڈل بازار ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی سے متعلق سامنے آیا ہے ،اس کمپنی نے 21 اگست 2017 کو رب نواز بلوچ نامی وکیل کو 40 ہزار روپے ماہانہ پر لیگل ایڈوائزر مقرر کیا لیکن حیران کن طور پر ان کو ماہانہ تنخواہ ادا کرنے کے بجائے 2020 (3سال) تک کی ایڈوانس تنخواہ 14 لاکھہ 40 ہزار روپے ادا کردی گئی اور اس بھرتی میں محکمہ قانون سے پیشگی اجازت کے رولز کو بھی بائی پاس کردیا گیا۔
محکموں کی موجودگی میں ان کے متوازی کمپنیاں بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ تمام قواعد و ضوابط سے آزاد ہوکر کھل کھیلا جائے۔
سینئر صحافی ذوالفقار علی مہتو Zulfiqar Ali Mehto کی تحقیقاتی رپورٹ

July 22, 2018

JUSTIC SHOUKAT AZIZ SIDDIQUI Against ISI



جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا آئی ایس آئی  پر الزام  اور اس کی حقیقت

دوستو! تحریر کچھ لمبی ہے۔ پرامید ہوں کہ آپ سب حقائق جاننے کے لیے اپنے قیمتی وقت میں سے چند منٹ نکال سکتے ہیں۔
۔
توجہ فرمائیے۔ امید ہے اب تک آپ سب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے الزامات سن چکے ہونگے۔ میں آج الزام در الزام نہیں کھیلوں گا بلکہ چند اہم حقائق سے منظر عام پر لاوں گا کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ لاعلمی کی بنیاد پر پراپیگینڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
۔
تو دوستو! آپکو بتاتا چلوں کہ عدالتوں کا ایک ڈیکورم ہوتا ہے کام کرنے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ جسے روایتی انداز میں فالو کیا جاتا ہے۔ سرکاری اداروں میں ہر کام خط و کتابت کے ذریعے ہوتا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ شاید آپ میں سے بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں عدالتوں میں سال میں دو دفعہ چھٹیاں ہوتی ہیں ایک دفعہ گرمیوں کے دوران اور ایک دفعہ سردیوں کے دوران۔ گرمیوں کی چھٹیاں زیادہ طویل عرصے پر مشتمل ہوتی ہیں۔ جن کا دورانیہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس دفعہ 9 جولائی 2018ء تا 9 ستمبر 2018ء (عرصہ تقریباََ دو ماہ) ہے۔ ان چھٹیوں کے دوران محدود ڈیوٹی ججز عدالتوں میں ذمہ داریاں سر انجام دیتے ہیں۔ تاکہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ نہ آئے۔ ان چھٹیوں میں کام کرنے والے ججز کی دستیابی اور کام کرنے کے طریقہ کار کی پلاننگ ماہ جون میں ہی چھٹیاں شروع ہونے سے پہلے مکمل کر لی جاتی ہے۔ اور اس بات کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے کہ کون کس وقت دستیاب ہوگا اور کس وقت چھٹی پر ہوگا۔ ہر جج اپنی مرضی کی تاریخوں میں دستیابی اور اپنی پریفربیلیٹی کے حساب سے چھٹیوں کی خواہش کرتا ہے۔ جسے مناسب حد تک منظور کر لیا جاتا ہے۔
۔
اب بات کرتے ہیں نواز شریف کے کیس کی۔ یہ کیس جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انہیں احتساب عدالت سے سزا ہو چکی۔ بیشک اس سزا کے خلاف اپیل کا مجرمان کو حق حاصل ہے لیکن قانون کی رو سے یہ اپیل ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ (جسے ڈویژن بینچ کے نام سے جانا جاتا ہے) اسی نے سننی ہوتی ہے۔ اب چونکہ چھٹیوں کے دوران ججز کی تعداد محدود ہوتی ہے۔ اس لیے موجودہ آپشنز میں سے سنگل بینچ اور ڈویژن بیچ بنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ڈویژن بینچ (جو دو ججز پر مشتمل ہوتا ہے) کے سامنے کوئی ایسا قانونی مسئلہ آ جاتا ہے کہ جس میں ان دو کے درمیان اختلاف ہوتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے ایک ایک سے فیصلہ ڈرا تو ہو نہیں سکتا۔ ان معاملات میں ریفری جج کو معاملہ ریفر کیا جاتا ہے۔ اور عام طور پر یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ریفری جج جو معاملہ اووررول کر کے کسی ایک کے نقطہ نظر سے اتفاق کرے وہ کم از کم ڈویژن بینچ کے ججز سے سینئیر ہو (ایسا کیا جانا ضروری نہیں ہے لیکن عام طور پر سنیارٹی کا خیال رکھا جاتا ہے) اسی اصول کے مطابق ہر دفعہ بالخصوص چھٹیوں میں کسی بھی ہائیکورٹ میں جو ڈویژن بینچز تشکیل پاتے ہیں وہ دستیاب ججز میں سے جونئیر موسٹ ہوتے ہیں۔
۔
جی تو دوستو! یہ تو تھا پس منظر۔ اب حقائق کی طرف آتے ہیں۔ اس سب کے بعد (جس کی ورکنگ ماہ جون میں بھی مکمل کر لی گئی تھی) 16 جولائی 2018ء سے 20 جولائی 2018ء تک جو ہفتہ گزرا (یہ وہ ہفتہ تھا جس دوران شریف خاندان کی طرف سے سزاوں کے خلاف اپیل دائر کی گئی) اس دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں فقط تین ججز دستیاب تھے جن کے نام درج ذیل ہیں (تصدیق کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا روسٹر آف سیٹنگ تحریر کے ساتھ لف ہے)
1۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی
2۔ جسٹس محسن اختر کیانی
3۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
۔
اب پہلے سے بیان کردہ اصول کے تحت جسٹس شوکت عزیز صدیقی چونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئیر پیونی جج ہیں (سینئیر پیونی جج قانونی اصطلاح میں چیف جسٹس کے بعد سینئیر ترین جج کو کہتے ہیں) لہٰذا ان کو چھوڑ کر باقی دو ججز پر مشتمل ڈویژن بینچ بنا دیا گیا جس کا مقصد "آل میٹرز" کو ڈیل کرنا تھا۔ عرف عام میں کہا جائے تو اس دوران ڈویژن بینچ سے متعلقہ جتنے بھی کیسز آنے تھے وہ اسی بینچ نے سننے تھے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیوں شریف خاندان کے ساتھ اسپیشل ٹریٹمنٹ کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ڈویژن بینچ میں شامل کیا جاتا؟ سوال یہاں یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا کوئی بھی ماہ جون میں پریڈکٹ کر سکتا تھا کہ شریف خاندان اسی ہفتے کے دوران اپیل فائل کرے گا؟
کیا آپ ایسا کر سکتے تھے؟
یقیناََ نہیں۔ تو پھر کیسی سازش کہاں کی سازش۔ کیونکر سازش؟
۔
اگر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اتنی ہی فکر تھی تو اپنے چہیتوں کو مشورہ دے لیتے کہ 23 جولائی 2018 سے شروع ہونے والے ہفتے میں اپیل دائر کریں تاکہ ان کے ساتھ انصاف ہو سکے۔ بتاتا چلوں کے آئندہ ہفتے اسلام آباد ہائیکورٹ میں صرف دو ججز (جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس عامر فاروق) دستیاب ہیں۔ اور انہی دونوں پر مشتمل ڈویژن بینچ تشکیل پایا ہے۔ اگر شریف خاندان 23 جولائی 2018ء کو اپیل مقرر کرواتا تو بلاشبہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اپیل سننے کا موقع ملتا اور شریف خاندان کو انصاف بھی جو یقیناََ لامحالہ طور پر الیکشن سے پہلے جیل سے باہر آ جاتے اور یوں آئی ایس آئی کا پلان دھبڑ دھوس ہو جاتا۔
۔
قارئین! اب بات کرتے ہیں پٹواریوں کی۔ جنہیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی صورت میں نیا باپ مل گیا ہے۔
۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی چور اچکے یا ڈاکو سے حساب مانگا جاتا ہے تو وہ سازش کا رونا رونے لگتا ہے۔ اپنی حق گوئی کی دلیل دینے کے لیے مختلف مفروضوں کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن بات وہی ہے کہ جب جھوٹ کا سہارا لیا جائے تو انسان اپنی بات میں ہی ایسے لوپ ہولز چھوڑ جاتا ہے جس سے سوال جنم لیں۔ اب ان نام نہاد پٹواریوں کے حساب سے آئی ایس آئی نے اتنی کچی گولیاں کھیلی ہیں کہ شوکت صدیقی کے کان میں آ کر بتائیں گے کہ
۔
سن بے! ہم نے تیرے چیف کو منع کیا ہے۔
تے اک ہور گل اے گل کسے نوں وی دسی نہ۔
۔
یقیناً اگر پٹواری ازلی جاہل نہ ہوتے تو ایسی باتوں پر کان نہ دھرتے۔ یہ چیزیں انہی کے ہاں بک سکتی ہیں کیونکہ انکے دماغوں میں بھوسہ بھرا ہوتا ہے۔ اپنے مطلب کی بات کا بغیر کسی سر پیر کے فورا یقین کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔
۔
وہ کہتے ہیں ناں کہ چور چور کا بھائی ہوتا ہے۔ جب ان سے سوال کیا جائے تو کہتے ہیں کہ ویکھو میں نے یہ نہیں نہ مانی اس لیے تم ایسے کر رہے۔ ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔ سب کو حساب دینا ہے۔ یہاں ایک لنک شئیر کر رہا ہوں۔ اگر کسی پٹواری کو لگے کہ حق گوئی کی وجہ سے جسٹس صدیقی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تو اکھاں کھول کے تاریخ بھی دیکھ لے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے کی تو تمہیں توفیق ہی نہیں ہونی کم از کم تاریخ دیکھ لیا کرو۔ یہ بات پرانی ہے۔ آج انتقامی کارروائی شروع نہیں ہوئی۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف مکمل ریفرنس کا لنک
۔
https://dailytimes.com.pk/…/ihc-judge-lands-in-trouble-ove…/
۔
اپنا فنڈا سمپل ہے کہ کوئی مقدس گائے نہیں سب کو حساب دینا ہوگا۔ اب وہ دور نہیں کہ پٹواری بڑے آرام سے سیاہ کو سفید کر لیں۔ تم ان تمام مذموم مقاصد کے درمیان ہمیں کھڑا پاؤ گے۔ ہم سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑےہو کر تمہاری ہر تدبیر کو ناکام بنائیں گے۔ اور ہاں ہم تمہاری طرح مفروضوں پر نہیں بلکہ حقائق پر بات کریں گے۔ کیونکہ اب پاکستان جاگ اٹھا ہے۔ گھر گھر میں شعور پہنچ چکا ہے۔
روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے۔
۔
اب آپ سب یقیناََ سوچ رہے ہونگے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے یہ سب کرنے کے پیچھے وجہ کیا تھی۔ اب ظاہر ہے کوئی پاگل تو ہے نہیں کہ الیکشن سے بالکل پہلے کسی کو سیاسی فائدہ پہنچانے کی خاطر کوئی بھی بیان داغ دے۔
۔
تو دوستو ایسا بالکل نہیں ہے۔ یقیناََ جسٹس صاحب پاغل نہیں ہیں۔ یقیناََ جسٹس صاحب نے کافی ناپ تول کے شارٹ کھیلی ہے۔ لیکن انکی بدقسمتی کے قوم میں شعور بیدار ہو چکا۔ جیسا پہلے کہہ چکا کہ میں الزام در الزام نہیں کھیلوں گا بلکہ حقائق بیان کروں گا۔ اور صرف دلیل سے ہی بات کروں گا۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا ہمارے چاچا قینچی عرف عرفان صدیقی صاحب سے کوئی تعلق ہے۔ میں آپکو ماضی کھنگالنے کا بھی نہیں کہوں گا کہ جب 1998ء میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کا کیس چل رہا تھا (یہ وہی وقت تھا جب ن لیگی غنڈے پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ پر چڑھ دوڑے تھے) پاکستان کی اعلٰی ترین عدلیہ کے چند ججز نے چند ٹکوں کی خاطر اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ اب ایسا تھوڑی ناں ہوتا ہے کہ سارے بکاو اپنے چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کر کے الزامات کی بوچھاڑ کر دیں؟ قطعی نہیں! اور یقیناََ میں ایسا کچھ بھی نہیں کہوں گا۔
۔
تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جسٹس صاحب کو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی تو جناب اگر آپ نے کچھ عرصہ پہلے غور کیا ہو تو ہمارا درویش صفدر سزا پانے کے بعد سب سے کہتا پھر رہا تھا کہ میں ختم نبوت پر سٹینڈ کی وجہ سے جیل جا رہا ہوں۔ کیا سمجھے آپ؟ کیا ایک وہی درویش تھا؟ کوئی اور اللہ کا نیک بندہ درویش نہیں ہو سکتا کیا؟ ایسا ہی کچھ ہمارے جسٹس درویش صاحب بھی کر رہے ہیں جو متوقع فیصلے کی گراونڈ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ جسٹس صاحب کی سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت ہے اور وہ جس منصب پر بیٹھے ہیں انہیں بہت کچھ نوشتہ دیوار نظر آ رہا ہے۔
قوم کو ایک اور درویش مبارک ہو
۔
تحریر: عمران فاروق
پیشکش: عاشور بابا

PROPEGANDA AGAINST PAK ARMY پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا


فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا
جمہوریت گن پوائنٹ پر چل رہی ہے۔ فوج کام کرنے نہیں دے رہی۔ اسٹیبلشمنٹ رکاؤٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔

سیاست دانوں کی نااہلی اور ہڈ حرامی پر پردہ ڈالنے کا یہ بڑا اچھا نسخہ ڈھونڈا ہے لوگوں نے۔ یہ لوگ اپنے کام تو کر نہیں سکتے اور ہر الزام فوج پر، کوئی ان سے پوچھے کہ ۔۔۔

• کالاباغ ڈیم بنانے سے فوج نے روکا ہوا ہے؟
• نندی پور، قائداعظم سولر، تھر کول اور نیلم جہلم میں سینکڑوں ارب روپے گھسیڑنے کے بعد بھی ان کو ناکام بنانے کی ذمہ دار پاک فوج ہے؟
• فوج نے کہا تھا کہ اربوں روپے کا فراڈ کرنے والے شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم کو سونے کے تاج پہناؤ؟
• کلبھوشن، کشمیر اور پاکستانی دریاؤوں پر انڈین ڈیموں کی تعمیر پر خاموشی بھی اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ہے؟
• پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ فوج نے معطل کروایا؟
• فوج نے کہا ہوا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے میں سول حکومت ہماری مدد نہ کرے؟
• افغانیوں کو بھی واپس جانے سے روکنے کا فوج کہہ رہی ہے؟
• فوج نے کہا تھا کہ فاٹا آئی ڈی پیز کے لیے فنڈز جاری نہ کرو ہم اپنی تنخواہوں سے ان کو سنبھالتے ہیں؟
• فوج نے فاٹا اصلاحات رکوائی تھیں؟؟
• فوج ہی کے کہنے پر عدالتوں نے ان دہشت گردوں کی سزاؤوں پر عمل درآمد رکوا دیا جن کو آرمی عدالتوں نے سزائیں سنائی تھیں؟
• فوج نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں اربوں ڈالرز کی خفیہ پراپٹیز رکھو اور جب ان کے کاغذات مانگے جائیں تو جعلی دستاویزات پیش کرو؟
• فوج کے کہنے پر ماڈل ٹاؤن میں عورتوں کو گولیاں ماریں؟
• فوج نے روکا ہوا ہے کراچی کا کچرا اٹھانے سے؟
• ریلوے، پی آئی اے اور سٹیل مل میں اپنے سیاسی کارندے زبرستی گھسیڑ کر ان کا بیڑا غرق کرنے کا فوج نے کہا تھا؟
• فوج نے کہا تھا کہ ختم نبوت قانون میں ترمیم کرو؟
• فوج نے کہا تھا کہ قبول اسلام پر پابندی لگاؤ؟
• فوج نے کہا تھا کہ گستاخان رسولﷺ چھڑا کر پاکستان سے باہر بھیجو؟
• کیا فوج نے درخواست دی تھی کہ ہم سے مردم شماری کرواؤ، ہم کو الیکشن ڈیوٹی پر بلواؤ؟
• ہماری پولیس کا تو یہ حال ہے کہ چھوٹو گینگ کو پکڑ نہیں سکتی، کیا اس وقت کس نے کہا تھا کہ  فوج کو بلواؤ؟
• سیلاب کے دوران کس کو فوج کی مدد کی یاد آتی ہے؟
• کیا فوج کے کہنے پر الیکشن کمیشن ایک امیدوار جو نا اہل کرتا ہے پھر عدلیہ اسے اہل کرکے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دیتی ہے؟
• کیا فوج پر لگایا ہوا عوام کا ٹیکس لوگوں کو تکلیف دیتا ہے۔ پولیس، عدلیہ، بیوروکریسی، سیاست دان اور دیگر اداروں پر کس ملک کی عوام کا ٹیکس کا پیشہ لگایا جاتا ہے؟
• کیا فوج کے کہنے پر ملزم صفدر کو گرفتاری سے بچانے کے لئے  لوگوں نے اس کا پنڈی میں استقبال کیا تھا۔
• کیا فوج کے کہنے پر 245 مزدوروں کو بلدیہ فیکٹری میں زندہ جلا دیا تھا۔
• کیا فوج کے کہنے پر معصوم زینب کے قاتل عمران کی پھانسی رکی ہوئی ہے۔

فوج کی بے بسی کا تو یہ حال ہے کہ ان سیاستدانوں کے مقابلے میں اپنے آئینی اختیارات تک استعمال نہیں کر پارہی ۔۔۔۔۔۔

• ڈان لیکس میں ن لیگ نے پاک فوج کو پوری دنیا کے سامنے دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دیا اور فوج نے برداشت کیا۔

• فوج نے محمود خان اچکزئی ، اسفندیار ولی اور نواز شریف جیسے جمہوریت کے ٹھیکیداروں کی ملک توڑنے کی باتوں کو بھی برداشت کیا۔

• ہر قسم کا فضول اور بیوقوف شخص  فوج کی لازوال قربانیوں کو بھلا کر اور اس بات کو پس پشت ڈال کہ آج ہم پر سکون اور امن کی فضا میں آزادی کا سانس لے رہے ہیں ، ورنہ آج ہمارا دشمن ہمیں عراق، شام، فلسطین برما کے مسلمانوں کی طرح تباہ کر چکا ہوتا، اپنے ہی ملک کی فوج پر طعنہ زنی کرتا ہے لیکن فوج خاموش رہتی ہے۔

مریم نواز " دہشت گردی کے ییچھے وردی" والے نعرے کو سپورٹ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے تیس ہزار کارکن پی ٹی ایم کے فوج مخالف جلسے میں بھیجنے کا اعلان کیا اور فوج خاموشی سے دیکھتی رہی۔

• پاکستانی سیاستدان اور میڈیا اپنی فوج کو جتنی گالیاں دیتے ہیں شائد ہی دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا ہوتا ہو لیکن فوج ان کو بھی چپ نہیں کروا سکی۔

نواز شریف کی حکومت آنے کے بعد پاکستان سے سالانہ چار ارب ڈالر انڈیا جانے شروع ہوئے۔ وہ ڈالرز دہشت گردی کی شکل میں براستہ افغانستان واپس پاکستان کے خلاف خرچ ہوتے ہیں۔ پاک فوج ن لیگ کی اس بدمعاشی کو بھی نہیں روک پائی۔
• چار ارب ڈالر اگر فاٹا میں موجود دہشت گردی کے متاثرین میں تقسیم کیے جائیں تو ہر ایک کے حصے میں کم از کم ایک ایک کروڑ روپے آئیں۔


• فوج نے جانیں دے کر دہشت گردوں کے سہولت کار گرفتار کیے جن کو عدالتوں نے بڑی آسانی سے ضمانتوں پر رہا کر دیا اور فوج بے بسی سے دیکھتی رہ گئی۔
• نواز شریف نے اپنی کرپشن چھپانے اور فوج کو بدنام کرنے کے لئے ممبئ حملوں کا الزام پاکستان پر لگا دیا اور پاکستان گرے لسٹ میں شامل ہو گیا مگر فوج کچھ نہ کر سکی۔

سچائی یہ ہے کہ پاکستان کی تمام تر تباہی اور بربادی کی ذمہ دار چند خاندانوں پر مشتمل پاکستان کی سیاسی مافیا ہے جو وطن عزیز کو خون چوسنے والی جونکوں کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔

مردار خور گدھوں سے مشابہ ان سیاست دانوں کو جمہوریت نامی "اقتدار کے وسیلے" کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں۔۔
بس کرو پاکستانیوں  صرف پاکستان کا سوچو۔ ان سیاست دانوں کے اقتدار کی خاطر اپنا ملک پاکستان تباہ مت کرو۔۔
پاکستان  ہے تو ہم ہیں

پاک فوج زندہ باد   پاکستـــان پائندہ باد
۔۔
پاکستان سول فورس

Total Pageviews