July 30, 2021

Business Tips, کاروبار کیسے کریں قسط نمبر 3-4-

 



کاروباری پوسٹ نمبر 3
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
..
مارکیٹ ریسرچ / Market Research
( مارکیٹ ریسرچ کے متعلق ایک میرا پرانا لکھا ہوا آرٹیکل بھی آج مل گیا تھا، وہ بھی پوسٹ کردوں گا اس پوسٹ کو مارکیٹ ریسرچ پہلا حصہ سمجھ کر پڑھیں آپ اگر پڑھیں تو بعد میں دونوں کو ملا کر پڑھ لیں اور موازنہ کرلیں)
جہاں کوئی پروڈکٹ، سروس، سامان، دوکاندار، بیچنے والا اور خریدنے والا ہو تو اسے مارکیٹ /بازار کہتے ہیں،
تحقیق، تفتیش اور سروے سے اپنا مطلوبہ ہدف پورا کرنا ریسرچ کہلاتا ہے..
مارکیٹ ریسرچ اپنے مطلوبہ ہدف حاصل کرنے مثلاً کاروبار کو قائم کرنے، پھیلانے یا بڑھانے کے لیے کی جاتی ہے..
مارکیٹ ریسرچ کیوں ضروری ہے اور کیا واقعی اس کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں؟
مارکیٹ ریسرچ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو سرمائے اور ہنر وغیرہ کے بندوبست سے بھی پہلے کی جاتی ہے، ہمارے ہاں اس چیز کا رواج نہیں اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ہم ضرورت اور خریدار کے ادراک اور مسئلے کے حل کی بجائے اپنے خود کے لیے مسئلہ پیدا کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثریت یا تو خسارے اور قرضوں میں پھنس جاتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں یا پھر چند لوگ دو چار مزید تجربات کر گزرتے ہیں اور ان کا نتیجہ بھی زیادہ تر غلط نکلتا ہے،
جہاں تک بزنس کمیونٹی سے میں وابستہ رہا ہوں میں نے سب سے پہلے یہی سنا اور سیکھا کہ " اچھا پہلے مارکیٹ ریسرچ کرو"
" Do Your Market Research"
ایک بات یاد رکھیں مارکیٹ ریسرچ اور مارکیٹنگ ریسرچ دو الگ چیزیں ہیں، ابھی ہم صرف مارکیٹ ریسرچ پر بات کریں گے.
مارکیٹ ریسرچ کم از کم ایک ماہ بلاناغہ ہوم ورک ہے، جس میں آپ تسلی سے جتنی زیادہ ہوسکتا ہے اتنی دوکان، سامان اور گاہک کے متعلق معلومات اکٹھی کرتے ہیں، جب تک یہ ہوم ورک مکمل نہ ہو آپ اور آپ کا سٹارٹ اپ یا کاروبار ادھورا رہے گا.
جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ کاروبار کسی مسئلے کو حل کرنے یا کسی ضرورت کو پورا کرنے کا نام ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے اپنے گھر سے شروعات کریں، دیکھیں کہ ایسی کون سی چیز ہے جو آسانی سے گلی محلوں سے مل جاتی ہے، اور ایسی کون سی چیز ہے جو، نزدیک سے آسانی سے نہیں ملتی بلکہ کبھی کبھار تو اپنے علاقے یا شہر سے بھی نہیں ملتی اور اس کی ضرورت یا مانگ زیادہ ہورہی ہے، مثلاً ہمارے سامنے تبدیلیاں آئیں جن کا ایک عام آدمی ادراک نہ کرسکا، برف بازار سے خریدتے تھے، کسی نے فریج بنا دیا اور اب ہر گھر میں ہے، لوگ رفع حاجت کے لے باہر کھیتوں یا جنگلوں کا رخ کرتے تھے، کسی نے ٹوائلٹ کی سیٹیں اور فلیش بنا دیے جو اب ہر گھر میں ہیں، ایسی ہزاروں ضروریات اور مسائل ہوتے ہیں جنہیں ایک عام آدمی یا صارف کی آنکھ سے دیکھنا ناممکن ہے، اس کے لیے بزنس / کاروباری سوچ اور مارکیٹ ریسرچ کی بصیرت درکار ہے،( مثلاً آپ ایک ایسی جگہ پر ہیں جہاں کے لوگ خوش خوراک ہیں اور آمنے سامنے پندرہ بیس کڑاہی ہوٹل کھل گئے ہیں جہاں رش بھی رہتا ہے، تو آپ کے پاس ایک سنہری موقع ہے آپ انہی ہوٹلوں کی قطار میں ایک چھوٹی سی دوکان دیکھ کر اس میں ایک چھوٹی سی مشین لگائیں جو گرم مصالحہ جات یا دوسرے مرچ مصالحے وغیرہ پیسنے کا کام کرے، صاف ستھرے ثابت مصالحوں کو پیس کر پہلے تو نزدیکی ہوٹلوں کو دیں، پھر خوبصورت پیکنگ میں، مقامی اور علاقائی مارکیٹ میں سپلائی کریں اور ساتھ ہی آن لائن فریش آرگینک مصالحہ جات کا کام شروع کردیں، ایک بہترین خوبصورت دوکان جس کے اندر تمام مصالحہ جات کی ترتیب سے ایک ایچ ڈی ویڈیو اور تصاویر بنوا کر ایک مختصر تعارفی اشتہار میں لگائیں اور وہ آدھے منٹ کا ویڈیو اشتہار آپ لوکل کیبل اور انٹرنیٹ پر چلوا دیں،،) اس کے بعد بہتر ذریعہ مقامی اخبارات ہیں، یہ آپ کو بتائیں گے کہ اس وقت علاقے میں کون سے مسائل ہیں، ایسا کیا ہے جس کے لیے لوگ گورنمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں؟ اگر کوشش کریں تو اسے پرائیویٹ بھی شروع کیا جاسکتا ہے اور مسئلے کے حل کے ساتھ پیسہ بھی بنایا جاسکتا ہے.
اس کے بعد بازاروں کے چکر ایک دوکاندار اور گاہک دونوں کی نظر سے مارکیٹ کو دیکھنا ، دوکاندار اور گاہک کے مابین ہونے والے مکالمے، بحث و مباحثہ، قیمتوں پر جھگڑے، مال کی کوالٹی، بروقت سپلائی، مال واپسی یا ناقابل واپسی، سٹاک، وغیرہ دیکھیں کہ پہلے سے موجود یہ تمام چیزیں کس شکل میں ہیں، لوکل تیار اور دستیاب ہیں یا باہر سے آرہی ہیں ،جب سے یہ بازار یا مارکیٹ وجود میں آئی ہے کیا اس کے بعد یہ پھیل رہی ہے یا سکڑ رہی ہے؟ ادھار اور نقد کا کیا تناسب ہے؟ کاروباری حضرات ایک دوسرے سے کمپیٹیشن کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں؟ ،
اس کے بعد جب آپ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ مسئلہ یا ضرورت کا حل آپ مقامی افراد کو مہیا کرسکتے ہیں تو دیکھیں کیا اس کام میں نزدیک کوئی حریف ہے؟ اگر ہے تو اس سے مقابلہ کس طرح کرنا ہے؟ دوسرے لوگوں کے سے ہٹ کر آپ کی کیا حکمت عملی ہوگی کہ اپنے کمپیٹیٹر / حریف سے کیسے برتری حاصل کی جائے..
اور سب سے اہم چیز جو مارکیٹ ریسرچ آپ کو بتاتی ہے وہ یہ ہے کہ آیا مقامی / علاقائی سطح پر ایک دوکان یا آن لائن کاروبار کی شروعات کرنے کے لئے کافی تعداد میں گاہک / خریدار موجود ہیں بھی کہ نہیں؟ ۔ آپ کے براہ راست حریف یا کمپیٹیٹر کون ہوں گے؟یہ دو چیزیں باقی تمام چیزوں کی بنیاد ہیں ۔اس کے بعد آپ کے کاروبار میں آپ کے ارد گرد کن لوگوں سے واسطہ پڑے گا.
میں یہاں ایک بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اس وقت گوگل پر معلومات کے علاوہ،ہر جگہ لکھنے والوں نے اپنے علاقے کے متعلق ایک آدھ کتاب ضرور لکھ رکھی ہے.
جس علاقے میں آپ کام کرنا چاہتے ہیں وہاں کے متعلق کتاب اگر آپ خرید لیں تو یہ آپ کا پہلا مثبت قدم ہے جو آپ کامیابی کی طرف رکھ رہے ہیں، کتاب کیوں؟
دراصل ان کتابوں میں لوگوں کے رہن سہن، طرز معاشرت، رسم و رواج، خوراک، لباس، عادات اور موسم کے متعلق بہت کچھ مل جاتا ہے جس سے ہمیں ان کے ذہنی رجحانات کو سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے.
، اس کے بعد آپ کے اردگرد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس اس علاقے کی تمام معلومات ہوتی ہیں آپ وہاں سے کوئی بھی طریقہ اپنا کر یہ معلومات لے سکتے ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا، گلی محلوں یا راہ چلتے ہوئے چند لوگ ملتے ہیں جن کے ہاتھوں میں کاغذات اور بیگ وغیرہ ہوتے ہیں، وہ گھر کے افراد کی تعداد ، ان کی تعلیم، کام کاج اور آمدنی، پسند اور ناپسند اور چند مخصوص برانڈز کے استعمال کے متعلق معلومات لیتے اور لکھتے ہیں، یہ سروے کہلاتا ہے جو مارکیٹ ریسرچ کی ایک شاخ ہے، یہ مختلف طرز اور نوعیت کے سروے کوئی بھی بڑی کمپنی اپنی پروڈکٹ لانچ کرنے سے پہلے اور بعد میں کرواتی ہے اور اپنے پاس سارا ریکارڈ محفوظ رکھتی، پھر اسی ریکارڈ کی بنیاد پر اگلے لائحہ عمل طے کرتی ہے.
جب آپ نے اپنے گھر، گلی، محلے، شہر اور مارکیٹ کو کھنگال کر کوئی مسئلہ، کوئی مشکل کوئی کمی کوتاہی، یا کسی نئی ضرورت کو تلاش کرلیا تو سمجھیں آپ آدھے کاروبار کے مالک ہوگئے ہیں اب آپ نے اپنے اس عمل کو آگے بڑھانا ہے..
آج مارکیٹ ریسرچ میں پہلا حصہ خریدار کے متعلق سیکھتے ہیں..
کسٹمر / خریدار / صارف..
سب سے پہلے دیکھنا ضروری ہے کہ اس مارکیٹ / بازار کے ارد گرد لوگوں کی آبادی کتنی ہے؟ اور کیا یہاں ارد گرد ایسے کسٹمرز ہیں بھی جو ہماری طرف متوجہ ہوں گے یا ہمارے گاہک بنیں گے یا نہیں ؟ اور اگر بنیں گے بھی تو انکی ممکنہ تعداد کیا ہوسکتی ہے؟
کیا ان کی قوت خرید اتنی ہے کہ وہ ہماری طے کردہ قیمت ادا کرسکیں گے؟ اور کیا یہ ضرورت یا مسئلہ ایک مستقل طور پر رہے گا جس سے کسٹمر مستقل رہیں گے یا نہیں؟
کیا یہ ان کی روزمرہ کی ضروریات میں سے ہے یا کبھی کبھار کی ضرورت؟
--_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_-
ان چیزوں سے پہلے اپنی شخصیت کی جانچ پرکھ کریں اور دیکھیں کہ آپ کا مزاج کیسا ہے، آپ کو شور پسند ہے یا پرسکون ماحول، لوگوں سے بھاؤ تاؤ کرنا اچھا لگتا ہے یا پھر خاموش طبعیت ہیں، وغیرہ وغیرہ، کام کاج میں ہمارے مزاج کا بڑا دخل ہوتا ہے جس کا ہمیں پتا نہیں چلتا اور ہم پرسکون طبعیت کے لوگ پرشور جگہوں پر کام شروع کرلیتے ہیں پھر ہر کسی سے جھگڑتے رہتے ہیں، اس لیے اپنے مزاج اور مارکیٹ کے مزاج کو سمجھنے میں جتنا بھی وقت لگ سکتا ہے وہ لگانا چاہیے..
_-_-_-__-_-___-____-----____-_-_-_-_-_-_-_-_-_-_
کیا آپ کو یہ سب جاننا / سیکھنا اچھا اور مفید لگ رہا ہے یا نہیں؟
اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیں..
شکریہ 
 توقیر بُھملہ /
 
 
کاروباری پوسٹ نمبر 4
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
مارکیٹ ریسرچ.. دوسرا حصہ.
مارکیٹ ریسرچ: کا مطلب ہے وہ معلومات اکٹھا کرنا جو آپ کو اپنے کاروباری آئیڈیاز کی خوبیوں،خامیوں اور کمزوریوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس سے آپ کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کون سا آئیڈیا مزید اس شعبے میں نئی راہیں اور ترقی کرنے کا سبب اور فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اگر آپ کے پاس اس وقت صرف ایک ہی آئیڈیا ہے تو ، مارکیٹ کی ریسرچ آپ کو یہ سمجھنے کے قابل بنائے گی کہ اپنے آئیڈیا کو مزید بہتر بنانے کے طریقے کو کیسے سمجھیں یا پھر نئے آئیڈیاز کہاں سے لیں۔
مجھے مارکیٹ کی ریسرچ کے بارے میں کیا سوچنا چاہئے؟
اپنے کاروباری آئیڈیاز (خیالات) کی درست اور بہتر پوٹینشل جاننے کے لیے ان چند سوالات کے مطابق مارکیٹ ریسرچ کریں ۔
1. مارکیٹ کا سائز: Market Size
میرے کاروباری آئیڈیا میں کتنے افراد کے کام کرنے کا امکان اور گنجائش ہے؟
میرے ممکنہ گاہک کہاں ہیں (یعنی مقامی، شہر سے باہر اور دو دراز علاقوں سے یا پھر انٹرنیشنل بھی ہوسکتے ہیں )؟
2. مارکیٹ تجزیہ (مارکیٹ اینالائیسز) :
اس شعبے کی ویلیو یا ورتھ کتنی ہے؟ (اس جگہ میں ایک عام کاروباری ہر سال کتنا کما سکتا ہے؟)
پہلے ہی یہاں میرے آئیڈیاز سے ملتے جلتے کتنے ہی کاروبار چل رہے ہیں؟
3. رجحانات: Trends
کیا وقت کے ساتھ ساتھ میرے کام کی منتخب کردہ جگہ میں کاروبار کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے یا کم ہوا ہے؟
میرے ممکنہ گاہکوں کو کون سی چیز زیادہ سہولت کے ساتھ مل سکتی ہے اور اس چیز کی مقبولیت کیوں ہے؟
کیا دوسرے شعبوں یا کاروباری اداروں کی طرف سے کوئی مستقبل میں خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور ہوگا تو وہ ممکنہ خطرات یا نقصانات کیا ہوسکتے ہیں؟
جب آپ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لئے مارکیٹ کی تحقیق / ریسرچ کریں گے تو ، مزید سوالات ضرور سامنے آئیں گے۔ اپنے ہر حتمی کاروباری آئیڈیاز /خیالات کی صلاحیت، کامیابی کا تعین کرنے میں مدد کر نے والی زیادہ سے زیادہ معلومات کی ریسرچ کریں اور ایسی معلومات اکٹھی کریں جس کا فائدہ ہو۔ کاروبار سے پہلے کی گئی ریسرچ ہی آپ کو مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، کاروبار کسی مشکل کا حل کرنے اور کسی مدد کے جذبے کے تحت ہی بہترین بنتا ہے، کاروبار سے صرف اور صرف منافع کمانا یا آمدنی کا حصول ایک آدھا غلط خیال ہے اور اس نصف غلط خیال کو بروقت درست کرنا بے حد ضروری ہے. ان سوالات کے جوابات اور ریسرچ سے آپ کو ان آئیڈیاز / خیالات میں سے کسی کو منتخب کرنے میں مدد ملے گی جو آپ کی مزید ترقی کے لیے آگے بڑھنے کا باعث ہوگا۔
یاد رکھیں کہ اس مرحلے پر ، آپ کا 'حتمی خیال' یا فائنل آئیڈیا کا پلان تیار بھی ہوتا رہے گا اور اس ردوبدل بھی ہوتا جائے گا، اس لیے اپنے آئیڈیا اور ٹارگٹ کے تھیم کو وسیع رکھیں تاکہ ممکنہ ردو بدل کیلئے آپ ذہنی طور پر تیار ہوں ۔
مارکیٹ کی تحقیق کب کافی ہے؟
مارکیٹ کی تحقیق کو ایک مستقل عمل کے طور پر سمجھا جانا چاہئے - جیسا کہ آپ اپنے آئیڈیا کو ترقی دیتے ہیں ، اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں ، اور اسی طرح جب آپ اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چیزیں مستقل طور پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں ، اور ایک سمجھدار انٹرپرینور یا تاجر جو اس کاروباری کھیل سے آگے رہنا چاہتا ہے وہ مارکیٹ کی تبدیلی پر نظر رکھے گا اور اس کے مطابق اپنے کاروبار کو ترتیب دیتا رہے گا ۔
 توقیر بُھملہ
 

 

Business Tips, کاروبار کیسے کریں۔ قسط نمبر 2

 


کاروباری پوسٹ نمبر 2..
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
بزنس یا کاروبار کیا ہے؟ اور اس کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے؟ ..
کتابوں کی لکھی پڑھی ہوئی تعریفوں سے ہٹ کر..
چھوٹے پیمانے پر مقامی یا علاقائی سطح پر رہتے ہوئے مارکیٹ میں لوگوں کی کسی بھی ضرورت، مشکل یا مسئلے کا عارضی یا مستقل حل نکالنا اور خریدار کی قوت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت پوری کرنا سمال بزنس یا چھوٹا کاروبار کہلاتا ہے.
ایک مسئلہ یا مشکل آپ کے اردگرد پہلے سے موجود ہوتا ہے آپ نے اس کا ادراک کرنا اور اس چیز کا حل تلاش کرکے پبلک کو دے دینا ہوتا ہے ، سہولت مہیا کرنا اور لوگوں کی ضرورت پوری کرنا ہی کاروبار کے جمنے اور پھلنے پھولنے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے، جب پبلک کو اپنی پریشانی کا حل مل جاتا ہے تو وہ حل آپ کے نام سے منسوب ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ ایک برانڈ کی شکل اختیار کرسکتا ہے.. اس کے بعد دوسرا کوئی اس کام میں آپ کی پیروی کرسکتا ہے، آپ جیسا نام نہیں کما سکتا..
آپ کا ایک فیصلہ.. نیا رستہ تلاش کرنا یا پھر پہلے سے بنے ہوئے رستے پر چلنا ہی آپ کے نفع نقصان کو طے کرتا ہے..
دوسرے نمبر پر آپ دیکھتے ہیں مارکیٹ میں کوئی بھی ایسا بڑا مسئلہ وجود نہیں رکھتا جس کو حل کرکے بندہ اپنے کاروبار کا اچھا اور بڑا آغاز کرسکے تو پھر مارکیٹ کے اندر ایک مصنوعی مسئلہ یا مشکل پیدا کی جاتی ہے جس سے عوام کو ایک ایسی چیز دکھائی جاتی ہے جس کا وجود نہیں ہوتا لیکن اس چیز کی مارکیٹنگ یا تشہیر اتنی زبردست ہوتی ہے کہ عوام اس پروڈکٹ یا اس بزنس کے لانچ ہونے کا انتظار کرنے لگتی ہے جس سے وہ چیز لانچ ہونے کے بعد ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوکر اپنا نام بنا جاتی ہے. یہ ایک بڑے پیمانے کا کام ہوتا ہے جس میں مختلف عوامل کا ساتھ اور ہاتھ ہوتا ہے.
مثلاً کچھ عرصہ پہلے تک جسم کو ڈی ٹاکس DETOX کرنے والی کسی پروڈکٹ یا اس نام کا وجود نہیں تھا، پھر راتوں رات پوری دنیا میں ہر جگہ باڈی ڈی ٹاکس اور ہربل اینڈ آرگینک چیزوں کی بھرمار ہوگئی اور آج ہر جگہ منافع بخش ڈی ٹاکس پروڈکٹس اور ادارے بن چکے ہیں.
پہلی پوسٹ میں ہم نے ظفر اور ارشد کی مثال دیکھی تھی اب اس مثال کو سامنے رکھ کر مسئلہ حل کرتے ہیں..
بزنس شروع کرنے سے پہلے اگر دیکھا دیکھی ہم کوئی بھی کام شروع کردیں گے یا مختلف لوگوں سے مشورہ اور آراء حاصل کرتے رہیں گے تو ہم اپنے آپ پر اعتماد نہیں کرسکیں گے، انسانی ذہن کا ایک فوکس پوائنٹ ہوتا ہے ارتکاز کی قوت جب منتشر ہوجائے تو انسان کوئی بھی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہتا اور یوں وہ دوسروں کی پڑھائی ہوئی پٹیوں پر لگ جاتا ہے، جس سے غلط فیصلے اور غلط کاروبار کی شروعات کرنے کے بعد پچھتانے لگ جاتا ہے، سرمایے، وقت اور اپنے نام کی خرابی ایک بہت بڑا نقصان ہے، جس کو پورا کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا..
جب ایک مسئلہ کا حل یا ایک پروڈکٹ اچھے طریقے سے اور آسانی سے مل رہی ہو تو لوگ اسی طرح کی چیز کے لیے ہماری طرف کیوں متوجہ ہوں گے؟ ، وہ جو چیز پہلے سے مل رہی ہو اور اس پر اعتماد بن چکا ہو تو اسی چیز کے لیے کوئی ہمارے پاس کیوں آئے گا؟؟ یا تو اس چیز کی خامیاں (پروپیگنڈہ) مارکیٹ میں پھیلائی جائیں جو کہ ایک گھٹیا فعل ہے یا پھر لالچ کا سہارا لے کر لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے یا پھر ایک لمبا انتظار..
ہم نے پبلک کو کسی مسئلے کا حل دینے کی بجائے ایک ایسا کام کیا جس میں ہماری اپنی سہولت تھی یا وقتی پیسہ تھا، نا کہ خریدار یا عوام کی سہولت یا ضرورت تھی، اس لیے شعور صرف بزنس کمیونٹی کی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ خریدار بھی پسند ناپسند اور شعور رکھنے والے ہوتے ہیں، جب انہیں اعتماد ہوجائے تو وہ اپنی پسندیدہ چیز کے لیے اندھیری گلیوں یا تہہ خانوں میں بھی جاکر خریداری کرلیتے ہیں لیکن جہاں اعتماد نہ ہو تو وہ چیز بے شک سپر سٹور یا سجی سجائی دوکانوں پر ہو لوگ نہیں خریدتے.
اب ظفر کو مختلف لوگوں سے مشورہ بھی نہیں کرنا چاہیے تھا، اٹھتے بیٹھتے لوگوں سے کاروبار کے متعلق بھی نہیں پوچھنا تھا تو پھر اسے کیا کرنا تھا؟
جی اسے اپنے سرمایے، اور ہنر کے مطابق مارکیٹ ریسرچ کرنی تھی، گویا کہ "مارکیٹ ریسرچ" ایک غیرمانوس اور اجنبی سا لفظ لگتا ہے، سننے والا سوچتا ہے یار پتا نہیں کیا بلا ہوگی مارکیٹ ریسرچ؟ کیسے کرتے ہیں؟ ، اور کیوں کرتے ہیں؟
تو ہم اگلی پوسٹ میں ارد گرد مارکیٹ کا مسئلہ، مشکل یا ضرورت کیا ہوتی ہے؟ اسے کیسے جانچتے یا تلاش کرتے ہیں؟ کاروبار کی شروعات سے پہلے مارکیٹ ریسرچ کرنا اور اس کے بعد کن چیزوں سے ابتدا کرنی ہے ان کے متعلق سیکھیں گے..
(ان پوسٹوں کو پڑھتے ہوئے خیال رہے کہ ہم چھوٹے کاروبار کے متعلق بات چیت کررہے ہیں، اور ایک دوسرے سے سیکھ رہے ہیں )
توقیر بُھملہ

Business Plan Idelogy and Markeet Reserch، کاروبار کیسے کریں قسط نمبر 1

 


کاروباری پوسٹ نمبر 1..
انٹرپرینورشپ سیریز
توقیر بُھملہ
ظفر کے پاس جب کسی طرح اڑھائی لاکھ روپے جمع ہو گئے تو وہ اٹھتے بیٹھتے ہر کسی سے ایک ہی بات پوچھتا "یار ملازمت سے جان چھڑانا چاہتا ہوں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار بتاؤ جس میں منافع اچھا ہو یا کوئی ایسی جگہ بتاؤ جہاں انویسٹمنٹ کروں اور ہر ماہ لگا بندھا منافع ملتا رہے"
جب مشورہ دینے والا پوچھتا کہ کون سا کام آتا ہے؟ تو ظفر کا جواب ہوتا یار ابھی تک کوئی خاص نہیں مگر ساتھ ساتھ سیکھ لوں گا..
جب پوچھا جاتا پیسے کتنے لگا سکتے ہو تو جواب ہوتا" بس تم کاروبار بتاؤ پیسے بہت ہیں " وغیرہ وغیرہ..
اب مشورہ دینے والے زیادہ تر خود مارکیٹ سے ناواقف یا پھر کاروبار سے ناواقف تھے، کچھ اگر تھے بھی تو خطرہ مول لینے والے نہیں تھے، اسی طرح سب نے اپنی اپنی طبیعت کے مطابق مشوروں سے نوازا،
مارکیٹ، گاہک، ضرورت وغیرہ کا کسی بھی مشورے میں ذکر نہیں تھا، اگر ذکر تھا تو فلاں نے بکرے پالے اب وہ لاکھوں کما رہا ہے، فلاں نے آن لائن کپڑے اور جوتے فروخت کرنے کا کام کیا اب لاکھوں میں کھیل رہا ہے، اس طرح فلاں کے کام اور لاکھوں میں کھیل نے ظفر کو بڑا متاثر کیا، دو چار دوستوں نے بتایا تھا کہ ساتھ والے گاؤں کے ارشد نے چھ ماہ پہلے شہر سے ہٹ کر ایک تہہ خانے میں چائنہ شوز کا کام شروع کیا تھا، کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ کام چلے گا مگر اب وہاں دن رات رش کم نہیں ہوتا لگتا ہے سارا شہر وہاں ہی جوتے خریدنے چلا جاتا ہے، اس کام میں لاگت کم اور منافع دوگنا زیادہ ہے. ظفر نے وہاں جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور پھر انہی دوستوں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے ارشد کے تہہ خانے سے نزدیک ہی ایک نو تعمیر پلازے میں چائنہ شوز کی دوکان کھول لی،
اب چھ ماہ ہونے کو ہیں اور ظفر سارا دن اکا دکا گاہکوں کے علاوہ خریداروں کی حسرت سے راہ تکتا بلکہ ارشد کے تہہ خانے کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے. اور ساتھ ایک نیا مشورہ جس پر وہ سنجیدگی سے غور کررہا ہے کہ اب یہ کام چھوڑ کر کاسمیٹکس کا کام کیا جائے..
ظفر سے کہاں غلطی بلکہ غلطیاں ہوئیں؟
ارشد کی دوکان کیوں گاہکوں سے بھری رہتی ہے؟
ظفر کے پاس بھی چائنہ شوز تھے لیکن گاہک متوجہ کیوں نہیں ہوئے؟
چھوٹے پیمانے پر کاروبار کیا ہے؟
ملازمت کے ساتھ کاروبار کیسے سنبھالا جائے؟
اور اس جیسے دوسرے سوالات کا آسان اور عام فہم زبان میں سلسلہ آج سے ان شاءاللہ شروع کیا ہے،
یہاں فیس بک پر ہی روزانہ آپ کو کاروبار کے متعلق ایک مختصر پوسٹ ملا کرے گی، آپ کے تمام سوالات کا جواب بھی پوسٹ کے اندر یا کمنٹس میں دیا جائے گا..
کوئی ان-باکس یا فیس وغیرہ یا کچھ بھی ایسا نہیں جس کا مطالبہ کیا جائے گا.. باقی میرے پاس ویڈیو بنانے اور اپلوڈ کرنے کا وقت نہیں ورنہ ویڈیو ضرور بناتا..
آپ جانتے ہیں تو راہنمائی کیجئے..
جاننا چاہتے ہیں تو سیکھیں اور شئر کریں..
فقیر کا کام ہے صدا لگانا وہ لگتی رہے گی..
توقیر بُھملہ

 Copy  from https://www.facebook.com/ToqeerBhumla


July 15, 2021

Humanity Makes Good faith for you

 ہمارے دفتر کی صفائی ایک لڑکی کرتی تھی اس کا شوہر سائیکل پر اس کو لینے آتا تھا

 


 ایک روز جب میں دفتر میں داخل ہوا تو ایک بائیس سالہ انتہائی کمزور لڑکی میرا کمرہ صاف کررہی تھی ۔ اس کے کپڑے انتہائی پرانے کپڑوں کا رنگ گو کہ سفید تھا لیکن اس پر اتنی گرد پڑی ہوئی تھی کہ وہ مشکل سے سفید نظر آتے تھے ۔ میں نے اپنی سیکرٹری سے پوچھا کہ یہ کون ہے ۔جواب ملا کہ ہماری پہلی صفائی والی آیا

بیماری کیوجہ سے کام چھوڑ گئی ہے یہ لڑکی اس کی جگہ پر آئی ہے دن گزرتے گئے اس بچی کی آنکھوں کی حیاء اور چہرے کی معصومیت ایک پیغام دیتی تھی ۔ میں نے کبھی اس سے متعلق پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس بات کو کوئی چھ ماہ گزر گئے تو ایک روز میری سیکرٹری نے مجھے کہا کہ اسے دو چارپائیاں لے دیں اور پھر اس نے وہ واقعہ سنایا جو اس کے ساتھ گزشتہ رات پیش آیا تھا ۔ کہنے لگی کہ روزانہ اس کا شوہر سائیکل پر لینے اسے آتا تھا ۔ کل جب وہ کافی دیر تک نہیں آیا تو میں اس کو اس کے گھر چھوڑنے چلی گئی ۔ یہ ایک ویرانے میں چھپڑ ساتھا میں نے اندر داخل ہونا چاہا تو اس نے روکا کہ آپ اندر نہ جائیں میں

زبردستی اندر گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہاں پر ماسو ا ایک لالٹین کے کچھ بھی تھا ۔ اس کے دو بچے زمین پر لیٹے ہوئے تھے میں نے پوچھا کہ تم او ر تمہارا خاوند کہاں سوتے ہیں۔ تو اس نے زمین کی ایک جانب اشارہ کرکے بتایا کہ وہاں میں نے پوچھا تمہارے پاس کوئی چارپائی بستر رضائی وغیرہ کچھ نہیں تو وہ روپڑی اور کوئی جواب نہ دیا دوسرے دن اسے دو چارپائیاں لے کر دے دیں اور کچھ برتن بھی ۔ جب میں نے کچھ کپڑوں کے پیسے دیئے اور اسے کرایہ پر گھر

لے دیا تو اس کی حالت دیدنی تھی ۔ دراصل میرا پروگرام اس کو ایک گھر لے کر دینے کا تھا چند روز پہلے میں نے اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق دفتر میں صلاۃ التسبیح شروع کی تو قیام کے دوران اچانک محسوس ہوا کہ میں آسمان میں ایک ایسے مقام پر ہوں جہاں فرشتے خداند قدوس سے براہ راست احکام وصول کرتے ہیں ۔ چاروں طرف تاحد نظر سفید لباس میں ملبوس فرشتے ہی فرشتے ہیں اتنے میں رب العزت کی آواز گونجتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی عبادت کا ثواب دو گُنا کردو ۔ اس کے فوراً بعد تمام فرشتے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کردیتے ہیں۔ سب فرشتے حیران ہیں کہ اس بچی نے اپنے پالن ہار رب العزت سے کیا مانگ لیا ہے

کہ ایک تو رب العزت نے اس بندے کو تمام عمر کی عبادت کے برابر ثواب بخشا ہے اور ساتھ ہی ایسی نعمتیں عطاء کی ہیں جس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے ۔ میں نے نوافل مکمل کئے ۔بچی کو بلوایا اور اس وقت میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا اور اس سے استدعا کی کہ وہ ایک بار پھر رب العزت سے میرے لئے ویسی ہی دعا مانگے ۔ کچھ دن بعد القاء ہوتا ہے کہ اس نے تو کچھ نہیں مانگا لیکن جو کچھ بھی آپ نے اسے دیا ہے وہ اتنی خوش تھی اور جب رات کو وہ چارپائی پر لیٹی تو زاروقطار

رو رہی تھی ۔ اور زبان پر الحمداللہ تھا ۔ رب العزت کو اس کی یہ ادا پسند آئی اس لئے انعام تو آپ ہی کو ملنا تھا۔ میں نے اگلے روز اس لڑکی کو بلوا کر اس کے گھریلو حالات معلوم کئے تو پتہ چلا کہ اس نے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاری ہے ۔ وہ بلکل ا ن پڑھ تھی لیکن نماز کی پابند تھی ۔ گھر میں کبھی سالن نہ بھی ہوتا تووہ سو کھی روٹی اور مرچوں سے پانی کے ساتھ پیٹ بھر لیتی اور ہر حال میں رب العزت کا شکر ادا کرتی اور کہتی الحمداللہ رب تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ایسے بھی تو لوگ ہونگے جن کو یہ سوکھی روٹی بھی میسر نہیں ۔

چھوٹی سی عمر میں جب وہ چودہ سال کی تھی ماں باپ نے خالہ زاد کے ساتھ رشتہ طے کردیا اور شادی ہوگئی ۔ شوہر ایک موٹر سائیکل کی دکان پر کام کرتا تھا کبھی ہزار پانچ سوکماکر لاتا۔ ایک سال کے اندر 2جڑواں بچے پیدا ہوئے کبھی اوپلے تھاپے اور کبھی کسی کے گھر میں ایک وقت کی روٹی اور 2000 ماہانہ پر کام کیا لیکن ہر حال میں اس نے رب العزت کا شکرادا کیا۔ شروع میں سسرال والوں نے ایک چھپڑ

میں رہنے کی جگہ دی پھر وہاں سے بھی نکال دیا اور ہم نے معصوم بچوں کے ساتھ بھینسوں کے کمرے کےایک نکڑ میں رہ کرگزر بسر کی اور جب اس اسپتال میں نوکری ملی تو ایک کرایہ کا کمرہ لے لیا آپ جانتے ہیں کہ آج مہنگائی کا کیا عالم ہے لیکن ہر حال میں ذات باری تعالیٰ کاشکر ادا کیا۔ آج میں اتنی خوش ہوں کہ میں زندگی بھر تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کبھی ایسا بھی ہو گا۔ آج پھر میں اپنے رب کے حضور سربسجود ہوں اور اپنے ڈاکٹرصاحب کی بھلائی اور خوشی کے لئے دعا کرتی ہوں۔

مجھے گھر مل گیا، گھریلو اشیاءمل گئیں۔میں نے جب اس بچی سے انتہائی دردمندانہ اپیل کی کہ ایک مرتبہ پھر وہی دعامانگو جو تم نے رات کو میرے حق میں مانگی تھی تو اس نے ذہن پر زور دے کر کہا کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں مانگا تھا۔ میں بس بے انتہا خوش تھی، خوشی میں زاروقطاررو رہی تھی اور زبان پر ’’الحمدللہ‘‘ تھا اور دل میں آپ کے لئے دعا تھی، وہ دعا کیا تھی میں نہیں جانتی صرف اور صرف آپ کی صحت اور خوشی مانگ رہی تھی اس جہان میں اور آخرت میں بھی ۔

 

Copy Paste

December 07, 2020

VITAMIN "C" BENEFITS IN HUMAN BODY وٹامن سی نعمت ہے۔

وٹامن سی کے فوائد

 وٹامن سی ہمارے جسم میں کولاجن (جلد کو تندرست رکھنے والی پروٹین) پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کولاجن ہماری جلد، بالوں، ہڈیوں، جوڑوں، خون کی نالیوں کو تندرست رکھتی ہے۔

وٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اسے کھردرا اور ناہموار کر دیتی ہے خاص طور پر جب جسم کو یہ وٹامن 4 سے 5 ماہ تک مناسب مقدار میں نہ ملے تو بازوں کے اوپر کی جلد، رانوں کی جلد اور پیٹھ کی جلد پر دھدری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جسے وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور کیا جاسکتا ہے۔

وٹامن سی کی کمی سے جسم پر اُگنے والے بالوں سیدھے نہیں رہتے اور بالوں میں الجھنیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ بالوں کی صحت کو قائم رکھنے والی پروٹین کی ساخت وٹامن سی کی کمی سے تبدیل ہو جاتی ہے۔

بالوں کی ساخت میں یہ تبدیلی وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے اس سے بال رُوکھے اور کمزور ہوکر گرنا شروع کر دیتے ہیں۔بالوں کی یہ کمزوری مسلسل ایک مہینے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور ہو جاتی ہے۔

جلد پر بالوں کی جڑوں کے ساتھ خون کی باریک نالیاں ہوتی ہیں جو جلد کے اُس حصے کو خون اور نیوٹرنٹس مہیا کرتی ہیں اور جب جسم وٹامن سی کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو یہ باریک نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں اور بالوں کی جڑوں پر باریک سُرخ نشان نمایاں ہو جاتے ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے جسے متواتر 2 ہفتے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹس کھانے سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

وٹامن سی جسم کو آئرن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کی کمی آئرن کی کمی کا بھی باعث بنتی ہے اور ان دونوں کی کمی ناخنوں کو کمزور کر دیتی ہے، ناخن ٹُوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور ناخنوں پر سفید اور سُرخ رنگ کی لکیریں نمایاں ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔

ناخنوں کی ساخت میں تبدیلی وٹامن سی اور آئرن کی کمی کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات سے پیدا ہو سکتی ہیں اور اس مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

صحت مند جلد میں وٹامن سی کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور وٹامن سی جلد کو سُورج کی روشنی اور دُوسری جلد کو متاثر کرنے والی چیزوں سے بچا کر رکھتا ہے اور جلد پر ایک فائر وال کی طرح کام کرتا ہے۔

وٹامن سی کی کمی جلد کو خُشک اور ڈیمج کرتی ہے اور اس کمی سے جلد کی صحت کے لیے ضروری پروٹین کولاجن کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوتی ہے اور جلد خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کا زیادہ استعمال جلد کو تروتازہ اور جوان رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جلد کی خُشکی وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے مگر یہ کئی اور وجوہات کی وجہ سے بھی پیدا ہوسکتی ہے لہذا جلد کے ڈیمج اور خُشک ہونے کو صرف وٹامن سی کی کمی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتا۔

جلد پر الرجی اور داغ اُس وقت پڑتے ہیں جب جلد کے نیچے خون فراہم کرنے والی نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی ایک بڑی نشانی ہے، جلد پر یہ الرجی سارے جسم پر بھی ظاہر ہو سکتی ہے اور جسم کے کسی خاص حصے پر بھی ظاہر ہوتی ہے۔

جلد کی اس خرابی کی صورت میں وٹامن سی سے بھرپور کھانے کھانا جیسے سٹرس فروٹس وغیرہ اور وٹامن سی کے سپلیمنٹس کا استعمال جسم کی اس کمی کو پُورا کر دیتا ہے۔

کولاجن پروٹین جوڑوں کو تندرست رکھنے میں قلیدی کردار ادا کرتی ہے اور کولاجن اور وٹامن سی کی کمی جوڑوں میں درد کا باعث بنتے ہیں اور اس کمی سے چلنےپھرنے سے بھی جوڑوں میں تکلیف پیدا ہوتی ہے اور بغض دفعہ جوڑوں میں بلیڈینگ کی وجہ سے تکلیف میں مزید اضافہ ہوتا ہےا ور سوزش پیدا ہوتی ہے۔

عام طور پر اس بیماری میں متواتر ایک ہفتے تک وٹامن سی کا زیادہ استعمال اس بیماری کو ختم کر دیتا ہے۔

وٹامن سی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے اور معمولی چوٹ سے ہڈی ٹُوٹ سکتی ہے۔

وٹامن سی ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو قوت مدافعت کو طاقتور بناتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے اور اس وٹامن کی کمی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے اور وٹامن سی کی کمی کے شکار لوگ انفیکشنز اور جراثیموں سے پیدا ہونے والی دُوسری بیماریوں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں اور قوت مدافعت کی کمزوری کی وجہ سے خُود بخود ٹھیک نہیں ہوتے۔

وٹامن سی اور آئرن کی کمی ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اس کمی سے چہرہ پیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اُس کی سُرخی غائب ہو جاتی ہے، ورزش کے دوران سانس پھولتا ہے اور جسم جلد تھکاؤٹ کا شکار ہو جاتا ہے، اور اکثر سردرد کی شکائت رہتی ہے۔

اس کمی کو آئرن سپلیمنٹ اور وٹامن سی سپلیمنٹ کھا کر اور ایسے کھانے کھا کر جو ان دونوں کیمیا پر مشتعمل ہوں پُورا کیا جاسکتا ہے۔

یہ وٹامن سی کی کمی کی دو ایسی علامات ہیں جو اس وٹامن کی کمی کی صورت میں فوراً ظاہر ہوتی ہیں اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چڑاچڑا پن اور تھکاؤٹ وٹامن سی کی کمی کی ابتدائی علامات ہیں جنہیں فوراً  پہچان کر اس کمی کو دُور کرلینا چاہیے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

وٹامن سی جسم میں چربی کو پگھلاتا ہے ذہنی تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور جسم میں سوزش پیدا نہیں ہونے دیتا۔

ماہرین کی تحقیقات کے نتائج کے مطابق وٹامن سی کی کمی جسم میں چربی پیدا کرتی ہے خاص طور پر پیٹ کے اوپر۔

قدرت کے بہت سے کھانے وٹامن سی کے خزانوں سے بھر پور ہیں جن میں چیری، امرود، کیوی، لیچی، لیموں، مالٹا، کینو، مسمی، سٹابری، پپیتا، بروکلی وغیرہ سر فہرست ہیں۔

 

 

Total Pageviews