کاروباری پوسٹ نمبر 3
Copy from https://www.facebook.com/ToqeerBhumla
ایک روز جب میں دفتر میں داخل ہوا تو ایک بائیس سالہ انتہائی کمزور لڑکی میرا کمرہ صاف کررہی تھی ۔ اس کے کپڑے انتہائی پرانے کپڑوں کا رنگ گو کہ سفید تھا لیکن اس پر اتنی گرد پڑی ہوئی تھی کہ وہ مشکل سے سفید نظر آتے تھے ۔ میں نے اپنی سیکرٹری سے پوچھا کہ یہ کون ہے ۔جواب ملا کہ ہماری پہلی صفائی والی آیا
بیماری کیوجہ سے کام چھوڑ گئی ہے یہ لڑکی اس کی جگہ پر آئی ہے دن گزرتے گئے اس بچی کی آنکھوں کی حیاء اور چہرے کی معصومیت ایک پیغام دیتی تھی ۔ میں نے کبھی اس سے متعلق پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس بات کو کوئی چھ ماہ گزر گئے تو ایک روز میری سیکرٹری نے مجھے کہا کہ اسے دو چارپائیاں لے دیں اور پھر اس نے وہ واقعہ سنایا جو اس کے ساتھ گزشتہ رات پیش آیا تھا ۔ کہنے لگی کہ روزانہ اس کا شوہر سائیکل پر لینے اسے آتا تھا ۔ کل جب وہ کافی دیر تک نہیں آیا تو میں اس کو اس کے گھر چھوڑنے چلی گئی ۔ یہ ایک ویرانے میں چھپڑ ساتھا میں نے اندر داخل ہونا چاہا تو اس نے روکا کہ آپ اندر نہ جائیں میں
زبردستی اندر گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہاں پر ماسو ا ایک لالٹین کے کچھ بھی تھا ۔ اس کے دو بچے زمین پر لیٹے ہوئے تھے میں نے پوچھا کہ تم او ر تمہارا خاوند کہاں سوتے ہیں۔ تو اس نے زمین کی ایک جانب اشارہ کرکے بتایا کہ وہاں میں نے پوچھا تمہارے پاس کوئی چارپائی بستر رضائی وغیرہ کچھ نہیں تو وہ روپڑی اور کوئی جواب نہ دیا دوسرے دن اسے دو چارپائیاں لے کر دے دیں اور کچھ برتن بھی ۔ جب میں نے کچھ کپڑوں کے پیسے دیئے اور اسے کرایہ پر گھر
لے دیا تو اس کی حالت دیدنی تھی ۔ دراصل میرا پروگرام اس کو ایک گھر لے کر دینے کا تھا چند روز پہلے میں نے اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق دفتر میں صلاۃ التسبیح شروع کی تو قیام کے دوران اچانک محسوس ہوا کہ میں آسمان میں ایک ایسے مقام پر ہوں جہاں فرشتے خداند قدوس سے براہ راست احکام وصول کرتے ہیں ۔ چاروں طرف تاحد نظر سفید لباس میں ملبوس فرشتے ہی فرشتے ہیں اتنے میں رب العزت کی آواز گونجتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی عبادت کا ثواب دو گُنا کردو ۔ اس کے فوراً بعد تمام فرشتے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کردیتے ہیں۔ سب فرشتے حیران ہیں کہ اس بچی نے اپنے پالن ہار رب العزت سے کیا مانگ لیا ہے
کہ ایک تو رب العزت نے اس بندے کو تمام عمر کی عبادت کے برابر ثواب بخشا ہے اور ساتھ ہی ایسی نعمتیں عطاء کی ہیں جس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے ۔ میں نے نوافل مکمل کئے ۔بچی کو بلوایا اور اس وقت میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا اور اس سے استدعا کی کہ وہ ایک بار پھر رب العزت سے میرے لئے ویسی ہی دعا مانگے ۔ کچھ دن بعد القاء ہوتا ہے کہ اس نے تو کچھ نہیں مانگا لیکن جو کچھ بھی آپ نے اسے دیا ہے وہ اتنی خوش تھی اور جب رات کو وہ چارپائی پر لیٹی تو زاروقطار
رو رہی تھی ۔ اور زبان پر الحمداللہ تھا ۔ رب العزت کو اس کی یہ ادا پسند آئی اس لئے انعام تو آپ ہی کو ملنا تھا۔ میں نے اگلے روز اس لڑکی کو بلوا کر اس کے گھریلو حالات معلوم کئے تو پتہ چلا کہ اس نے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزاری ہے ۔ وہ بلکل ا ن پڑھ تھی لیکن نماز کی پابند تھی ۔ گھر میں کبھی سالن نہ بھی ہوتا تووہ سو کھی روٹی اور مرچوں سے پانی کے ساتھ پیٹ بھر لیتی اور ہر حال میں رب العزت کا شکر ادا کرتی اور کہتی الحمداللہ رب تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ایسے بھی تو لوگ ہونگے جن کو یہ سوکھی روٹی بھی میسر نہیں ۔
چھوٹی سی عمر میں جب وہ چودہ سال کی تھی ماں باپ نے خالہ زاد کے ساتھ رشتہ طے کردیا اور شادی ہوگئی ۔ شوہر ایک موٹر سائیکل کی دکان پر کام کرتا تھا کبھی ہزار پانچ سوکماکر لاتا۔ ایک سال کے اندر 2جڑواں بچے پیدا ہوئے کبھی اوپلے تھاپے اور کبھی کسی کے گھر میں ایک وقت کی روٹی اور 2000 ماہانہ پر کام کیا لیکن ہر حال میں اس نے رب العزت کا شکرادا کیا۔ شروع میں سسرال والوں نے ایک چھپڑ
میں رہنے کی جگہ دی پھر وہاں سے بھی نکال دیا اور ہم نے معصوم بچوں کے ساتھ بھینسوں کے کمرے کےایک نکڑ میں رہ کرگزر بسر کی اور جب اس اسپتال میں نوکری ملی تو ایک کرایہ کا کمرہ لے لیا آپ جانتے ہیں کہ آج مہنگائی کا کیا عالم ہے لیکن ہر حال میں ذات باری تعالیٰ کاشکر ادا کیا۔ آج میں اتنی خوش ہوں کہ میں زندگی بھر تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کبھی ایسا بھی ہو گا۔ آج پھر میں اپنے رب کے حضور سربسجود ہوں اور اپنے ڈاکٹرصاحب کی بھلائی اور خوشی کے لئے دعا کرتی ہوں۔
مجھے گھر مل گیا، گھریلو اشیاءمل گئیں۔میں نے جب اس بچی سے انتہائی دردمندانہ اپیل کی کہ ایک مرتبہ پھر وہی دعامانگو جو تم نے رات کو میرے حق میں مانگی تھی تو اس نے ذہن پر زور دے کر کہا کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں مانگا تھا۔ میں بس بے انتہا خوش تھی، خوشی میں زاروقطاررو رہی تھی اور زبان پر ’’الحمدللہ‘‘ تھا اور دل میں آپ کے لئے دعا تھی، وہ دعا کیا تھی میں نہیں جانتی صرف اور صرف آپ کی صحت اور خوشی مانگ رہی تھی اس جہان میں اور آخرت میں بھی ۔
Copy Paste
وٹامن سی ہمارے جسم میں کولاجن (جلد کو تندرست رکھنے والی پروٹین) پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کولاجن ہماری جلد، بالوں، ہڈیوں، جوڑوں، خون کی نالیوں کو تندرست رکھتی ہے۔
وٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اسے کھردرا اور ناہموار کر دیتی ہے خاص طور پر جب جسم کو یہ وٹامن 4 سے 5 ماہ تک مناسب مقدار میں نہ ملے تو بازوں کے اوپر کی جلد، رانوں کی جلد اور پیٹھ کی جلد پر دھدری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے جسے وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور کیا جاسکتا ہے۔
وٹامن سی کی کمی سے جسم پر اُگنے والے بالوں سیدھے نہیں رہتے اور بالوں میں الجھنیں پڑنی شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ بالوں کی صحت کو قائم رکھنے والی پروٹین کی ساخت وٹامن سی کی کمی سے تبدیل ہو جاتی ہے۔
بالوں کی ساخت میں یہ تبدیلی وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے اس سے بال رُوکھے اور کمزور ہوکر گرنا شروع کر دیتے ہیں۔بالوں کی یہ کمزوری مسلسل ایک مہینے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹ کھانے سے دُور ہو جاتی ہے۔
جلد پر بالوں کی جڑوں کے ساتھ خون کی باریک نالیاں ہوتی ہیں جو جلد کے اُس حصے کو خون اور نیوٹرنٹس مہیا کرتی ہیں اور جب جسم وٹامن سی کی کمی کا شکار ہوتا ہے تو یہ باریک نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں اور بالوں کی جڑوں پر باریک سُرخ نشان نمایاں ہو جاتے ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے جسے متواتر 2 ہفتے تک وٹامن سی کے سپلیمنٹس کھانے سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔
وٹامن سی جسم کو آئرن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کی کمی آئرن کی کمی کا بھی باعث بنتی ہے اور ان دونوں کی کمی ناخنوں کو کمزور کر دیتی ہے، ناخن ٹُوٹنا شروع ہو جاتے ہیں اور ناخنوں پر سفید اور سُرخ رنگ کی لکیریں نمایاں ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔
ناخنوں کی ساخت میں تبدیلی وٹامن سی اور آئرن کی کمی کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات سے پیدا ہو سکتی ہیں اور اس مرض کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
صحت مند جلد میں وٹامن سی کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور وٹامن سی جلد کو سُورج کی روشنی اور دُوسری جلد کو متاثر کرنے والی چیزوں سے بچا کر رکھتا ہے اور جلد پر ایک فائر وال کی طرح کام کرتا ہے۔
وٹامن سی کی کمی جلد کو خُشک اور ڈیمج کرتی ہے اور اس کمی سے جلد کی صحت کے لیے ضروری پروٹین کولاجن کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوتی ہے اور جلد خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کا زیادہ استعمال جلد کو تروتازہ اور جوان رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
جلد کی خُشکی وٹامن سی کی کمی کی بڑی نشانی ہے مگر یہ کئی اور وجوہات کی وجہ سے بھی پیدا ہوسکتی ہے لہذا جلد کے ڈیمج اور خُشک ہونے کو صرف وٹامن سی کی کمی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاسکتا۔
جلد پر الرجی اور داغ اُس وقت پڑتے ہیں جب جلد کے نیچے خون فراہم کرنے والی نالیاں لیک کر جاتی ہیں اور یہ وٹامن سی کی کمی کی ایک بڑی نشانی ہے، جلد پر یہ الرجی سارے جسم پر بھی ظاہر ہو سکتی ہے اور جسم کے کسی خاص حصے پر بھی ظاہر ہوتی ہے۔
جلد کی اس خرابی کی صورت میں وٹامن سی سے بھرپور کھانے کھانا جیسے سٹرس فروٹس وغیرہ اور وٹامن سی کے سپلیمنٹس کا استعمال جسم کی اس کمی کو پُورا کر دیتا ہے۔
کولاجن پروٹین جوڑوں کو تندرست رکھنے میں قلیدی کردار ادا کرتی ہے اور کولاجن اور وٹامن سی کی کمی جوڑوں میں درد کا باعث بنتے ہیں اور اس کمی سے چلنےپھرنے سے بھی جوڑوں میں تکلیف پیدا ہوتی ہے اور بغض دفعہ جوڑوں میں بلیڈینگ کی وجہ سے تکلیف میں مزید اضافہ ہوتا ہےا ور سوزش پیدا ہوتی ہے۔
عام طور پر اس بیماری میں متواتر ایک ہفتے تک وٹامن سی کا زیادہ استعمال اس بیماری کو ختم کر دیتا ہے۔
وٹامن سی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے اور معمولی چوٹ سے ہڈی ٹُوٹ سکتی ہے۔
وٹامن سی ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ ہے جو قوت مدافعت کو طاقتور بناتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے اور اس وٹامن کی کمی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے اور وٹامن سی کی کمی کے شکار لوگ انفیکشنز اور جراثیموں سے پیدا ہونے والی دُوسری بیماریوں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں اور قوت مدافعت کی کمزوری کی وجہ سے خُود بخود ٹھیک نہیں ہوتے۔
وٹامن سی اور آئرن کی کمی ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اس کمی سے چہرہ پیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اُس کی سُرخی غائب ہو جاتی ہے، ورزش کے دوران سانس پھولتا ہے اور جسم جلد تھکاؤٹ کا شکار ہو جاتا ہے، اور اکثر سردرد کی شکائت رہتی ہے۔
اس کمی کو آئرن سپلیمنٹ اور وٹامن سی سپلیمنٹ کھا کر اور ایسے کھانے کھا کر جو ان دونوں کیمیا پر مشتعمل ہوں پُورا کیا جاسکتا ہے۔
یہ وٹامن سی کی کمی کی دو ایسی علامات ہیں جو اس وٹامن کی کمی کی صورت میں فوراً ظاہر ہوتی ہیں اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چڑاچڑا پن اور تھکاؤٹ وٹامن سی کی کمی کی ابتدائی علامات ہیں جنہیں فوراً پہچان کر اس کمی کو دُور کرلینا چاہیے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
وٹامن سی جسم میں چربی کو پگھلاتا ہے ذہنی تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور جسم میں سوزش پیدا نہیں ہونے دیتا۔
ماہرین کی تحقیقات کے نتائج کے مطابق وٹامن سی کی کمی جسم میں چربی پیدا کرتی ہے خاص طور پر پیٹ کے اوپر۔
قدرت کے بہت سے کھانے وٹامن سی کے خزانوں سے بھر پور ہیں جن میں چیری، امرود، کیوی، لیچی، لیموں، مالٹا، کینو، مسمی، سٹابری، پپیتا، بروکلی وغیرہ سر فہرست ہیں۔