May 20, 2018

دشمنانِ پاکستان نے پاکستان کے ٹکڑے کرنے کا عزم کر لیا تھا مگر پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔



دشمنانِ پاکستان وطن عزیز کا نیا نقشہ بنا چکے........ مگر
یہ غالب امکان 1988 کی بات ہے لندن میں ایک پرہجوم پریس کانفرس میں انگلینڈ کی خاتون وزیراعظم مس مارگریٹ تھیچر سوالات کے جوابات دے رہی تھیں۔
ایک صحافی نے سوال کیا
میڈم رشین فوڈیشن یعنی روس تو ٹوٹ گیا اب یقینی نیٹو ختم کر دی جائے گی
مس مارگریٹ تھیچر نے جواب دیا نہیں “اسلام ابھی باقی ہے”.
یہیں سے ابتدا ہوئی مسلمانوں کے خلاف مسلمان ممالک کو کمزور کرنے کی پالیسیاں اور انہیں تباہ کرنے کا عمل شروع ہو گیا.اور اس کی ابتدا عراق تھا اور آخری ٹارگٹ پاکستان اور اس کے ایٹمی اثاثے، پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ عراق کو برباد کیا اس پر یہ جھوٹ گھڑ کر کہ اس کے پاس کمیائی ہتھیار ہیں پھر لیبیاء کو تباہ کیا گیا پھر شام پر چڑھ دوڑے
لیکن پاکستان کو ایسے گھیرا نہیں جاسکتا تھا اس کے لیے 9/11 کا ایک بہت ہی خطرناک ڈرامہ رچایا گیا اور امریکہ اپنے سب حواریوں کے ساتھ افغانستان کی سر زمین پر آ بیٹھا۔جس کے بعد بڑی ہوشیاری اور حکمت عملی سے پاکستان کو گھیر لیا گیا اور یہیں سے شروع ہوئی دنیا کی سب سے بڑی خطرناک گوریلا جنگ، اس جنگ میں ہماری سیاسی قیادت نے نہایت ہی بھیانک کردار ادا کیا، بلیک واٹر کے دہشتگروں کو امریکہ سے اور دبئی سے براہ راست ویزے جاری کیے گیے
کلبھوشن یادیو کی شکل میں انڈیا بلوچستان کی سر زمین پر الگ ہی اپنا کھیل کھیل رہا تھا۔شمالی اور جنوبی وزیرستان میں عالمی قوتیں کھل کر اپنے مہرے اتار چکیں تھیں، یہاں تک کہ سوات تک دہشتگرد پھیل گئے ،
یہ ایک ایسا جال تھا جس سے نکلنا اس قدر مشکل نظر آرہا تھا کہ امریکی تھنک ٹینک کی طرف سے برملا نہ صرف یہ کہہ دیا گیا کہ 2015 میں پاکستان کا وجود ختم ہو جائے گا بلکہ اس کے کتنے ٹکڑے ہونگے اس نقشہ تک جاری کر دیا گیا۔حالات اس سے بھی کہیں آگے جا چکے تھے
یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اپنے بیانیے میں کہا کہ اصل خطرہ انڈیا نہیں بلکہ دہشتگرد ہیں
انہی خطرناک حالات میں ہی انڈیا نے کولڈ سٹارٹ جیسے منصوبے پر کام کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ انڈیا نے اس مشن میں استعمال ہونے والے جدید ہتھیار بھی خرید لیے اور بھارتی فوجیوں کو پوری طرح سے حملے کے لیے تیار کیا جا چکا تھا۔ان حالات میں ہماری امیدوں کی محور پاکستان آرمی انٹیلیجنٹس ایجنسز اور پاکستان کی سلامتی کے تمام ادارے ان حالات پر نہ صرف گہری نظر رکھے ہوئے تھے بلکہ اپنے مہرے بڑی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھا رہے تھے۔
ہمارے سائنسدان دن رات میزائل ٹیکنالوجی کو ایڈوانس کرتے چلے جارہے تھے، بھارت کے نئے اور جدید دفاعی نظام کو دیکھتے ہوئے ہمارے سائنسدانوں نے بھی اپنے مزائلوں کو جدید سے جدید تر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔تمام ورک اپ کے بعد آپریشن ضرب عضب شروع ہو گیا مجاہدین اسلام پاکستان آرمی ان خارجی کتوں اور غیر ملکی طاقتوں کی کٹ پتلیوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑی۔
پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کہ وہ دہشتگرد جو ساری دنیا کو بھگا بھگا کر مار رہے تھے
پاکستان کے شیر دل جوان ان کو بھگا بھگا کر موت کی وادیوں میں بھیج رہے تھے میرے مجاہد آندھیوں کی رفتار سے دشمن کو کاٹتے چلے گیے امریکہ اپنے حواریوں سمیت سکتے کی حالت میں چلا گیا، پاکستان آرمی نے اپنے تمام علاقے کلئیر کروائے بلکہ پاکستان کے اندر آئے بلیک واٹر کے اور دوسرے دہشتگرد پکڑ پکڑ موت کے گھاٹ اتارے جانے لگے بالا آخر امریکہ بھی چلا اٹھا کہ ہمارے ٹورسٹ غائب ہو رہے ہیں۔
حالانکہ وہ کوئی ٹورسٹ نہیں تھے وہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے کارکن تھے جو کہ ٹورسٹ ویزے پر پاکستان بھیجے گئے تھے۔کلبھوشن یادیو جیسے سانپ بھی اپنے گروہ سمیت پکڑے گئے، یوں پھر سے پاکستان امن کا گہوارہ بننے لگا۔اور تاریخ میں پہلی بار پاکستان گوریلا وار کا فاتح اعظم بن کر دنیا کے سامنے آیا اب جوابی وار شروع ہے اور دشمن کی چیخوں سے آسمان ہل رہا ہے ان کے اوسان اس قدر اڑے ہیں کہ آئے دن پاکستان پر الزامات لگا رہا ہے۔
منظور پشتین اور اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی چنگاریاں چھوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ دشمن کی شکست کا واضح ثبوت ہیں۔ دشمن جانتا ہے کہ وہ میدان جنگ میں پاکستان کی فوج سے نہیں جیت سکتا کیونکہ اس فوج کے ساتھ ایک دوسری فوج بھی کھڑی ہے اور وہ فوج 22 کروڑ کی تعداد میں ہے، جو کہ پاکستان کی عوام کی شکل میں ہے۔لہذا دشمن ایک دوسری جنگ چھیڑ چکا ہے جو کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ذہنوں میں لڑی جاتی ہے، مگر دشمن نہیں جانتا تھا کہ پاکستان کی عوام کے ذہنوں میں منظورپشتین جیسے لوگوں کے ذریعے اپنی فوج کے لیے نفرت نہیں بھری جا سکتی، آج ہر اس پاکستانی نے ایک اہم کردار ادا کیا اور منظورپشتین کے اس ڈرامے کو محض ایک ڈرامہ قرار دے دیا، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو علم ہونے لگا کہ منظور پشتین جھوٹا انسان ہے لہذا لوگوں نے اس کے جلسے میں جانا چھوڑ دیا ہے۔
منظور پشتین کے اس خطرناک ڈرامے کو ناکام بنانے میں ان پاکستانیوں کا اہم کردار ہے جو سوشل میڈیا پر چاہے وہ فیس بک ہو یا پھر ٹویٹر، پاکستانیوں نے یہ جنگ اپنے کومنٹس اور لائٹس کی صورت میں لڑی، آپ سمجھتے ہوں گے کہ کمنٹس اور لائکس کی صورت میں کیسے جنگ لڑی جا سکتی ہے، جب آپ کسی چیز کو لائک کرتے ہو تو اصل میں آپ اس پوسٹ سے متفق ہوتے ہو۔
یعنی ایک ایسی پوسٹ جس میں لکھا گیا ہو یا پھر بتایا/دکھایا گیا ہو کہ منظور پشتین جھوٹا انسان ہے اور پاکستان اور اس کی فوج حق پر ہے سے متفق ہونا، دشمن کے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کی ایک کوشش ہے۔ جس میں پاکستانی جیت کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
اپنے کیے گئے کومنٹس یا لائکس کو معمولی مت سمجھیں کیونکہ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو پانچویں نسل کی یعنی ذہنوں میں لڑی جانے والی جنگ میں استعمال ہوتا ہے۔
پاکستان آرمی زندہ آباد
پاکستان پائندہ آباد

May 16, 2018

پاکستانی دریاؤں پر بھارتی ڈیم حکومت پاکستان سور رہی ہے۔



پانی کو عزت دو!

 تحریر : آصف محمود  

بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی پر کشن گنگا ڈیم بنا لیا ہے اور چند ہی دنوں میں مودی اس کا باقاعدہ افتتاح کرنے والے ہیں ۔ پانی کی قلت کے بد ترین بحران سے دوچار پاکستان ایک نئے عذاب سے دوچار ہونے جا رہا ہے مگر زندہ اور پائندہ قوم میں کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے ۔ سیاسی قیادت روز ایک نیا تماشا لگا دیتی ہے اور میڈیا اس پر ڈگڈگی بجاتے ہوئے دن گزار دیتا ہے۔ غیر سنجیدگی اور خوفناک سطحیت کے اس ماحول میں کسی کو احساس ہی نہیں پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے ۔

کشن گنگا ڈیم کی تکمیل ایک انتہائی خوفناک منظر نامہ ہے ۔ بھارت میں جس دریا کو کشن گنگا کہتے ہیں پاکستان میں وہ دریائے نیلم کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ دریا وادی نیلم سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دومیل کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے۔ اب بھارت نے 22 کلومیٹر سرنگ بنا کر اس کا رخ موڑ دیا ہے ۔ اب یہ وادی نیلم میں نہیں بہے گا ۔ کشن گنا پراجیکٹ کے لیے اسے وولر جھیل کے ذریعے بارہ مولا کے مقام پر مقبوضہ کشمیر ہی میں دریائے جہلم میں ڈال دیا گیاہے ۔ یعنی اس کے قدرتی بہاؤ میں فرق ڈال دیا گیا ہے ۔ اب صرف کتابوں میں ملے گا کہ وادی نیلم میں ایک دریا بھی بہتا تھا جسے دریائے نیلم کہتے تھے۔

ذرا غور کیجیے وادی نیلم سے دریائے نیلم ہی روٹھ جائے، اس کا رخ بدل دیا جائے تو یہ وادی کیا منظر پیش کرے گی؟ اس کا تو سارا حسن اجڑ جائے گا ۔ ہنستی بستی وادی اجاڑ اور بیابان ہو جائے گی ۔ یہ تو برباد ہو جائے گی ۔ وادی نیلم میں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی چلتی ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ چاول وغیرہ اگاتے ہیں ، ان کی چکیاں اسی کے پانی سے چلتی ہیں ۔ یہ دریا ان کے لے زندگی کا پیغام ہے ۔ یاد رہے کہ وادی نیلم میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں ۔ اسے ’’ نان مون سون‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس وادی کا 41 ہزار ایکڑ رقبہ دریائے نیلم سے سیراب ہوتا ہے ۔

جہاں سے دریا کا رخ بدلا گیا ہے وہاں سے دو میل تک 230 کلومیٹر کا علاقہ ہے۔ اڑھائی سو گاؤں پر مشتمل یہ سارا علاقہ ذرا تصور کیجیے کہ چند دنوں بعد ایک بہتے دریا سے اچانک محروم ہو جائے گا ۔ بارہ سو ٹن ٹراؤٹ مچھلی سالانہ اس علاقے سے پکڑ کر مقامی لوگ لوکل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں ۔ یہ بھی ختم ہو جائے گی ۔ جنگلات کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہو گا ۔ یہی نہیں پاکستان کے نیلم جہلم پراجیکٹ کا مستقبل بھی مخدوش ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ہمارا 27 فیصد پانی کم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد کمی آ جائے گی ۔ اور اگر بھارت نے کسی وقت مزید شر پسندی کرنا چاہی تو معاملات مزید سنگین ہو جائیں گے۔ مکمل تباہی دستک دے رہی ہے اور کسی کو پرواہ نہیں ۔

اس سارے معاملے میں ہماری حکومت نے جس بے بصیرتی ، جہالت اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے ۔ بھارت نے اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا تو پاکستان نے انٹر نیشنل کورٹ آف آربٹریشن سے رجوع کر لیا ۔ عدالت نے پاکستان سے کہا کہ وہ پانی کے حوالے سے سارا ڈیٹا شواہد کے ساتھ عدالت کو فراہم کرے ۔ پاکستان کی تیاریوں کا عالم یہ تھا کہ جب عدالت نے یہ ڈیٹا مانگا تو حکومت کے پاس عدالت کو دینے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں ۔ خفت مٹانے کے لیے عدالت سے کہا گیا دس دنوں کی مہلت دے دیجیے ہم سب کچھ پیش کر دیں گے ۔

پاکستان جس وقت پانی کے اہم ترین مسئلے پر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا ، نواز شریف اقتدار سنبھال چکے تھے اور ان کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ پاکستان کا کوئی کل وقتی وزیر خارجہ تک نہیں تھا ۔ یہ اضافی ذمہ داری انہوں نے اپنے پاس رکھی ۔کیوں رکھی ؟ یہ ایک الگ داستان ہے جس پر پھر کسی روز بات کریں گے ۔

25 جون 2013 کو نواز شریف وزیر اعظم بنے اور اس سے 6 ماہ بعد بیس دسمبر 2013 کو عدالت نے بھارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا ۔ اس فیصلے کے صفحہ 34 پر عدالت نے لکھ دیا کہ
’’ حکومت پاکستان نے پانی کے موجودہ اور متوقع زرعی استعمال کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیے‘‘۔ 
کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو اس غفلت پر حکومت کا حشر نشر ہو جاتا لیکن نیم خواندہ معاشرے میں نواز حکومت نے کمال ڈھٹائی سے دعوی فرما دیا کہ یہ فیصلہ تو ہماری کامیابی ہے۔

اب آگے سنیے ۔ بھارت کو عدالت نے ڈیم بنانے کا حق دے دیا تو اس نے کھل کر کھیلنا شروع کر دیا اور سندھ طاس معاہدے کی دھجیااں اڑا دیں ۔ نواز شریف اس سارے دور میں مودی کی نازبرداریاں فرماتے رہے اور سجن جندال کی میزبانی فرماتے رہے ۔اب جب مودی اس ڈیم کا افتتاح کرنے والا ہے تو ہمیں ہوش آیا ہے اور ہم درخواست ہاتھ میں لیے ورلڈ بنک کی منتیں کر رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چونکہ آپ ثالث ہیں اس لیے ہماری بات تو سنیے ۔

ہم نے یہاں بھی وقت ضائع کر دیا ۔ ہماری کامیاب سفارت کاری کا عالم یہ ہے کہ ہم امید لگائے بیٹھے تھے اپریل میں ہمیں ملاقات کا وقت مل جائے گا لیکن ہمیں کہا گیا ورلڈ بنک کے صدر مصروف ہیں ابھی ان کے پاس وقت نہیں ۔ اب ڈیم کے افتتاح سے پہلے ورلڈ بنک کے صدر سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ۔ اور افتتاح کے بعد اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ 

نواز شریف اور شاہد خاقان نے غریب قوم کے خرچے پر بیرونی دوروں کے ریکارڈ قائم کر دیے لیکن حالت یہ ہے کہ ورلڈ بنک کے سربراہ کے پاس پاکستانی وفد سے ملنے کا وقت ہی نہیں ۔ اور بے حسی دیکھیے کہ حکومت کو کوئی پرواہ نہیں کیا ہو رہا ہے ۔ پانی ہمارے لیے موت و حیات کا مسئلہ ہے ۔ لیکن ہمیں کوئی حیا نہیں آ رہی کہ اسے سنجیدگی سے لیں ۔ کوئی اور ملک ہوتا اور اس کے ساتھ ایسی واردات ہو رہی ہوتی تو وہ اب تک سفارتی محاذ پر ایسا طوفان کھڑا کر چکا ہوتا کہ ورلڈ بنک تو رہا ایک طرف خود اقوام عالم کو معاملے کا نوٹس لینا پڑتا لیکن ہمارے ہاں کشن گنگا کی واردات پر حکومت بول رہی ہے نہ اپوزیشن ۔ نیم خواندہ اور اوسط سے کم درجے کی قیادت کو شاید اس معاملے کی سنگینی کا احساس تک نہیں۔

کشن گنگا پراجیکٹ سے ہمارے ایکو سسٹم کو بھی خطرہ ہے ۔ بھارت یو این کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی ، کنونشن آن کلائیمیٹ چینج اور کنونشن آن واٹر لینڈز پر دستخط کر چکا ہے ۔ ہماری پوری ایک وادی مکمل طور پر تباہ ہونے جا رہی ہے اور ہم نے ان کنونشنز کو کسی فورم پر ابھی تک موضوع نہیں بنایا ۔ کشن گنگا ڈیم سے پاکستان کو سالانہ 140 ملین ڈالر کا نقصان متوقع ہے لیکن یہ مسئلہ ہمارے قومی بیانیے میں کہیں جگہ نہیں بنا سکا ۔ یہاں یاروں کے مسائل ہی اور ہیں ۔ گندی سیاست کی شعبدہ بازی سے کوئی بلند ہو سکے تو ان مسائل پر غور کرے ۔

نیم خواندہ رہنما ، تماش بین عوام اور ڈگڈگی بجاتی سکرینیں ۔ آتش فشاں پہ بیٹھ کر بغلیں بجائی جا رہی ہیں ۔ آج کسی کو احساس تک نہیں لیکن یاد رکھیے، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب آپ ہم سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم پانی کے کس خوفناک بحران سے دوچار ہو چکے ہیں ۔ 

اس سماج کی غیر سنجیدگی اور کھلنڈرے پن سے اب خوف آ نے لگا ہے ۔ پانی کا خوفناک بحران ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ سن سکتے ہو تو سن لو ۔

آصف محمود

May 10, 2018

بے انصاف ظالم معاشرے کی سچی کہانی



بے  انصاف ظالم  معاشرے کی سچی کہانی

مظہر حسین اسلام آباد کی ڈھوک حیدرعلی کا رہائشی تھا‘ یہ خوشحال شخص تھا‘ ذاتی گھر‘ زمین اور ٹرک کا مالک تھا‘ مظہر حسین کا 1997ء میں کسی شخص سے جھگڑا ہو گیا‘ یہ جھگڑا ڈھوک حیدر علی کے دو خاندانوں میں تنازعے کا باعث بن گیا‘ یہ دونوں فیملیز ایک دوسرے سے دور ہو گئیں‘ جھگڑے کے آٹھ ماہ بعد دوسرے خاندان کا ایک شخص محمد اسماعیل قتل ہو گیا‘ یہ اس شخص کا چچا تھا جس سے مظہر حسین کا جھگڑا ہوا تھا‘ مقتول کے بھائی منظور نے مظہر حسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی‘ پولیس نے مظہر کو گرفتار کر لیا‘ یہ بے گناہ تھا لیکن پولیس نے اسے بے گناہ ماننے سے انکار کر دیا‘ چالان عدالت میں پیش ہوا‘ جھوٹے گواہوں نے گواہیاں دیں‘ پولیس نے غلط شواہد پیش کیے اور سیشن جج نے 21 اپریل 2004ء کو مظہر حسین کو سزائے موت اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ۔
مظہر حسین کی گرفتاری کے وقت اس کے تین بچے تھے‘ خواجہ شہباز کی عمر 8 سال تھی‘ بیٹی ارم شہزادی پانچ سال کی تھی اور سب سے چھوٹا بیٹاخواجہ زعفران چھ ماہ کا تھا‘ مظہر حسین کی اہلیہ اس وقت 26 برس کی جوان خاتون تھی‘ مظہر حسین کا والد زندہ تھا‘ وہ اپنے بے گناہ بیٹے کی فائل اٹھا کر کچہریوں میں مارا مارا پھرنے لگا‘ وہ بوڑھا آدمی تھا‘ وہ یہ دھکے برداشت نہ کر سکا چنانچہ وہ کچہریوں میں ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر انتقال کر گیا‘ والد کے مرنے کے بعد مظہر حسین کے تایا اور چچا نے پیروی شروع کی لیکن وہ بھی یہ بوجھ زیادہ عرصے تک نہ اٹھا سکے‘ وہ بھی انتقال کر گئے‘

 مظہر حسین کے والد‘ تایا اور چچا کے انتقال کے بعد خاندان دو بڑے مسائل کا شکار ہو گیا‘ پہلا مسئلہ مقدمہ تھا‘ پاکستان کے وہ تمام لوگ مظہر حسین کے خاندان کی کیفیت اور صورتحال کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں جو زندگی میں کبھی تھانے‘ کچہری اور عدالتوں کے گورکھ دھندے میں پھنسے ہیں‘ ہمارا عدالتی نظام بیلنا ہے‘ یہ دروازے پر قدم رکھنے والے ہر شخص کا وہ حشر کرتا ہے جو بیلنا گنے کے ساتھ کرتا ہے۔

یہ مظلوموں کا پھوگ تک نچوڑ لیتا ہے چنانچہ خاندان کا پہلا مسئلہ مقدمے کے اخراجات‘ وکیلوں کی فیسیں‘ عدالتی عملے کی بخشیش اور قیدی مظہر حسین کا جیل کا خرچہ پانی تھا‘ دوسرا مسئلہ مظہر حسین کے خاندان کے اخراجات تھے‘ مظہر حسین کے گھر میں جوان بیوی اور تین چھوٹے بچے تھے‘ یہ اپنے اخراجات کیسے اور کہاں سے پورے کرتے؟ یہ دونوں مسائل بوجھ تھے‘ یہ بوجھ مظہر حسین کا والد‘ تایا اور چچا برداشت کرتے رہے لیکن جوں ہی ان کی آنکھیں بند ہوئیں خاندان دائیں بائیں ہو گیا‘ یہ لوگ اپنے اپنے مسائل میں الجھتے چلے گئے یہاں تک کہ مظہر حسین کا مقدمہ اور بیوی بچے اکیلے رہ گئے‘ یہ لوگ گلیوں میں رلنے لگے‘ اس برے وقت میں مظہر حسین کے بھائی محمد افضل نے ان کا ساتھ دیا۔
یہ خاندان کا نان نفقہ اور مقدمے کی گاڑی چلانے لگا‘ یہ کورٹ کچہری بھی جاتا تھا‘ بھائی سے جیل میں ملاقات بھی کرتا تھا اور مظہر حسین کے بیوی بچوں کی ’’ٹیک کیئر‘‘ بھی کرتا تھا‘ یہ بھائی پندرہ سال سسٹم کے برآمدوں میں مارا مارا پھرتا رہا‘ مظہر حسین کے بچوں نے ان 19 برسوں میں باپ کی جدائی‘ غربت‘ بھوک اور جہالت بھی دیکھی اور خاندان کی تبدیل ہوتی نظریں بھی‘ یہ بچے باپ کا سایہ سر پر نہ ہونے کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکے‘ یہ کوئی کام دھندہ بھی نہ سیکھ سکے چنانچہ مظہر حسین کا بڑا بیٹا خواجہ شہباز کرین آپریٹر اور دوسرا بیٹا خواجہ زعفران ٹرک ڈرائیور بن گیا‘ بیٹی غیر شادی شدہ اور گھر میں بیٹھی ہے جب کہ بیوی خاوند کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو گئی‘ بیٹی ارم جس سے بھی ملتی ہے بس ایک ہی بات کرتی ہے ’’میرے ابو محرم کے مہینے میں گھر سے گئے تھے‘ ہم اس دن سے محرم گزار رہے ہیں‘ ہم نے 19 برسوں میں محرم کے علاوہ کوئی مہینہ نہیں دیکھا‘‘۔

آپ ٹریجڈی ملاحظہ کیجیے‘،

 مظہر حسین کا مقدمہ 19 سال چلا‘ یہ کیس سیشن کورٹ سے ہوتا ہوا ہائی کورٹ پہنچا اور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ چلا گیا‘ پہلے مظہر حسین کے والد‘ تایا اور چچا مقدمے کے پیچھے دوڑتے رہے اور پھر یہ بوجھ بھائی محمد افضل نے اٹھا لیا لیکن مظہر حسین کی بے گناہی کا فیصلہ نہ ہو سکا‘ آپ نظام کا کمال دیکھئے‘ مظہر حسین کے بھائی نے 2010ء میں سپریم کورٹ میں اپیل کی‘ یہ اپیل 2016ء تک فائلوں میں دبی رہی‘ یہ 6 اکتوبر 2016ء کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے آئی‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ بینچ کے سربراہ تھے‘ پولیس کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف پیش ہوئے‘ مدعی اور مجرم دونوں کی طرف سے عدالت میں کوئی شخص موجود نہیں تھا‘ مجرم کے وکیل شاہد محمود عباسی اس دوران ہائی کورٹ کے جج بن گئے۔
یہ بھی غیر حاضر تھے‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ انقلابی انسان ہیں‘ یہ سماعت ملتوی کرنے کے بجائے کیس کھول کر بیٹھ گئے‘ فائل کھلنے کی دیر تھی‘ بینچ کو چند لمحوں میں مظہر حسین کی بے گناہی کا یقین ہو گیا‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا دل بھر آیا‘ انھوں نے ریمارکس دیے ’’ہم نے فلموں میں سنا تھا جج صاحب مجھے میری زندگی کے 12 سال لوٹا دیں‘ ہم نے آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا‘ ایک بے گناہ شخص 19 سال سے جیل میں پڑا ہے‘ اسے اس کے 19 سال کون لوٹائے گا‘‘ بینچ نے ریمارکس دینے کے بعد مظہر حسین کی رہائی کا حکم دے دیا‘ یہ حکم نکلا‘ میڈیا میں آیا اور میڈیا نے بے گناہ مظہر حسین کی تلاش شروع کر دی‘ پتہ چلا مظہر حسین زیادہ دنوں تک بے گناہی کا بوجھ نہیں اٹھا سکا تھا۔
اسے مارچ 2014ء میں ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ جیل ہی میں انتقال کر گیا‘

 جیل حکام نے لاش لواحقین کے حوالے کر دی‘ لواحقین نے جنازہ پڑھا اور بے گناہ مظہر حسین کو دفن کر دیا‘ جیل حکام نے مظہر حسین کا ڈیتھ سر ٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا لیکن یہ سر ٹیفکیٹ ہمارے باکمال سسٹم کی وجہ سے مظہر حسین کی فائل تک نہیں پہنچ سکا چنانچہ مرنے کے بعد بھی مظہر حسین کا کیس چلتا رہا‘ یہ ٹریجڈی‘ ٹریجڈی کے اوپر خوفناک ٹریجڈی تھی‘ اس ٹریجڈی نے ہمارے نظام کی ساری خامیاں کھول کر سامنے رکھ دیں۔
میری چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار ‘جسٹس آصف سعید کھوسہ اور وفاقی حکومت سے درخواست ہے آپ مظہر حسین کی داستان کو نظام عدالت کے خلاف ’’ویک اپ کال‘‘ سمجھیں اور ملک کے جسٹس سسٹم میں چند اصلاحات کریں‘ جسٹس صاحب مظہر حسین صرف ایک آدمی نہیں تھا‘ یہ تین نسلوں پر مشتمل پورا خاندان تھا‘ مظہر حسین کا والد‘ اس کا تایا اور اس کا چچا انصاف تلاش کرتے کرتے انتقال کر گئے‘ بیوی نے خاوند کی زندگی میں 19 سال بیوگی برداشت کی اور بچے باپ کی شکل کو ترستے رہے۔

یہ تعلیم تک سے محروم رہے چنانچہ ظلم صرف مظہر حسین کے ساتھ نہیں تھا ستم کا پہاڑ19 سال پورے خاندان پر ٹوٹتا رہا‘ میری جسٹس آصف سعید کھوسہ سے درخواست ہے آپ مقدمے کی فائل دوبارہ کھولیں اور حکومت کو مظہر حسین کے خاندان کو 19 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم جاری کریں‘ یہ 19 کروڑ روپے بعد ازاں اسلام آباد پولیس‘ مدعی خاندان اور جھوٹے گواہوں سے وصول کیا جائے اور اس کے بعد قانون بنا دیا جائے سیشن کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک قتل کے تمام مقدموں کی سماعت فوری ہو گی‘ کوئی فائل تین چار ماہ سے زیادہ پینڈنگ نہیں رہے گی اور اگر کوئی مجرم بے گناہ ثابت ہو گیا تو حکومت‘ پولیس ڈیپارٹمنٹ اور مدعی تینوں مل کر مجرم کو قید کے ہر سال کا ایک کروڑ روپے تاوان ادا کریں گے۔
یہ تاوان پولیس‘ حکومت اور مدعی تینوں کا دماغ ٹھیک کر دے گا‘ آپ اندازہ لگائیے ہم کس دور اور کس ملک میں زندہ ہیں‘ ہمارے ملک میں جھوٹی گواہی پر ایک شخص کو سزائے موت ہو جاتی ہے‘ خاندان 19 سال انصاف کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے‘ اس دوران گھر کے برتن تک بک جاتے ہیںا ور آخر میں بے گناہ مجرم جیل میں مر جاتا ہے لیکن سسٹم بندر کی طرح ایک شاخ سے دوسری شاخ اور ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتا رہتا ہے‘ کیا یہ ظلم پر ظلم نہیں؟ ہم اس سسٹم اور انصاف کے اس بدبودار جوہڑ میں کتنی دیر زندہ رہ لیں گے چنانچہ میری جج صاحب سے درخواست ہے آپ خدا خوفی کریں‘ آپ زندہ مظہر حسین کو انصاف نہیں دے سکے لیکن آپ اب اس کی قبر ہی سے عدل کر دیں‘ آپ اس کے بچوں کا بچپن نہیں لوٹا سکتے‘ آپ انھیں ان کی جوانی ہی دے دیں‘ آپ انھیں باپ نہیں دے سکتے‘ آپ انھیں باپ کا معاوضہ ہی دے دیں‘ آپ ملک میں روڈیل سینڈرز جیسی کم از کم ایک مثال ہی قائم کر دیں۔
جج صاحب آپ انصاف نہیں کر سکے ‘ آپ خدا خوفی ہی کر دیں‘ آپ دنیا میں کچھ تو کرجائیں ۔ جج بننے کے لیے وکالت کا پندرہ سالہ تجربہ لازمی ھوتا ھے ایک پاکستانی وکیل کو نظام میں موجود تمام تر خرابیوں کا پتہ ھوتا ھے۔ آپ کچھ ایسا نظام بنا دیں کہ غریب عدالت میں کرنے سے بچ سکیں ۔ آپکی کرسی بھی زیادہ دیر نہیں رہے گی کچھ ایسا کر کہ جاہیں کہ لوگ آپکو نشتوں یاد رکھ سکیں۔ 

تمام لوگوں سے گزارش ھے کہ اس تحریر کو کاپی پیسٹ کریں ۔واہٹس آپ پر شییر کریں ۔تاکہ معاشرے میں انصاف کے لیے کچھ ھو سکے ۔ شکریہ ۔ منقول

April 20, 2018

RABBIT FARMING Profitable Business خرگوش پالنا ایک منافع بخش کاروبار



برائلر مرغی سے جان چھڑائیے
خرگوش فارمنگ کو فروغ دیجیے
اور بیماریوں سے بچیے.
ﺧﺮﮔﻮﺵ ﻓﺎﺭﻡ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﺍﻭﺭﺧﺮﮔﻮﺵ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺍﮨﻢ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺣﻞ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭﮐﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﺣﺼﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺳﺴﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮔﻮﺷﺖ۔ ﺷﺎﺋﺪ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ) ﮔﮭﺎﺱ ﻭﻏﯿﺮﮦ ( ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭﮨﻮ ﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﺎﻧﻮﺭﺧﺮﮔﻮﺵ ﮨﮯ۔

ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍﺋﻠﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﻭﺍﺭ ﺍﻭﺭﮐﮭﭙﺖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﮩﻨﮕﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺑﮩﺖ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ۔ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﭘﺮﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍﺋﻠﺮ
ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺒﺮ ﭘﺮ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺮﺍﺋﻠﺮﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﻣﮩﻨﮕﺎ ﭼﻮﺯﮦ، ﻣﮩﻨﮕﯽ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ،ﻣﮩﻨﮕﯽ
ﻟﯿﺒﺮ،ﻣﮩﻨﮕﯽ ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﺍﻭﺭﻣﻮﺳﻢ ﺷﺪﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺷﺮﺡ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺯﻭﺍﻝ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺟﻮﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ، ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﭼﮭﻮﮌﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﺧﺮﭺ ﮐﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮐﺎﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔

ﺧﺮﮔﻮﺵ ﺍﯾﮏ ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ 5489 ﺍﻭﺭ 7463 ﻣﯿﮟ ﮨﮯ-
ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﮔﻮﺷﺖ ﺁﭖ ۖ ﮐﮯ ﭘﺎ ﺱ ﻻﺋﮯ ﺁﭖ ۖ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺒﻮﻝ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﺩﮦ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﺎ ﺣﻤﻞ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 30 ﺩﻥ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﺩﮦ 6 ﺳﮯ 10ﺑﭽﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 60 ﺩﻥ ﻣﯿﮟ 1.7 kg ﮐﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎﮨﮯ۔ ﺍﺱ 1.7 kg ﮐﮯ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 1.2 kg ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮔﻮﺷﺖ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﮔﺮﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ 7 × 10 ﻓﭧ ﮐﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺟﮕﮧ ﮨﻮ ﺗﻮﻭﮦ 10ﻣﺎﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﻧﺮﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﮐﮯ ﭼﮭﻠﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﺑﺎﺁﺳﺎﻧﯽ ﭘﺎﻟﮯ ﺟﺎﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ 10ﻣﺎﺩﮦ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ 500 ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﭽﮯ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 550kg ﮔﻮﺷﺖ ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﺗﻨﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﺎﺯﺍﺭﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﺗﻮﮐﻢ ﺍﺯﮐﻢ 200 ﺭﻭﭘﮯ ﻓﯽ ﮐﻠﻮﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ 110,000 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺷﺘﺮﻣﺮﻍ ﺍﻭﺭ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻢ ﭼﺮﺑﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ اﻭﺭﺧﻮﺍﺹ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺑﮑﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﻤﺮﺷﻞ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ500 ﻣﺎﺩﮦ   ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﮯ ﻓﺎﺭﻡ ﺳﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ20 ﺳﮯ 25 ﻻﮐه ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺑﭽﺖ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔

ﺍﺏ ﮨﻢ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮐﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺁﺝ ﮐﻞ ﺑﺮﺍﺋﻠﺮﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺯﮦ 10 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﮧ ﺑﭽﮧ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﯽ ﻣﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﭼﻮﺯﮮ ﮐﯽ ﺑﺮﻭﮈﻧﮓ، ﻣﯿﮉﯾﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﮉ ﭘﺮ 80ﺳﮯ 90 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﺮﭺ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﯽ ﻣﺎﺩﮦ ﭘﮩﻠﮯ 20 ﺩﻥ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﺧﻮﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺮﻭﮈﻧﮓ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﯽ۔ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﺮﺍﺋﻠﺮ ﮐﮯ ﭼﻮﺯﮮ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﻣﻮﺳﻤﯽ ﺷﺪﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭﻃﺎﻗﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺮﺍﺋﻠﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮉﺳﻦ ﮐﺎ ﺧﺮﭺ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ۔

ﺑﺮﺍﺋﻠﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ kg 2 ﻭﺯﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 100ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﻓﯿﮉ ﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ﺟﺒﮑﮧ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﺳﺒﺰﭼﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺎﺱ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ
ﻣﯿﺪﺍﻧﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺴﺘﺎ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ۔ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺑﭽﺖ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺑﺮﺍﺋﻠﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ
ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺯﮦ ﺳﯿﻞ ﺭﯾﭧ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﻮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺡ ﺍﻣﻮﺍﺕ ﮐﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ 30 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻣﻨﺎﻓﻊ
ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺎﺭﻣﺮﻏﯽ ﻣﺮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ 150ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺎ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ
ﺟﺎﺗﺎﮨﮯ۔

ﺟﺒﮑﮧ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ 30 ﺳﮯ 40 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔1.7 kg ﮐﮯ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﺎﻡ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﻣﯿﮟ 30 ﺳﮯ 40 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﺎ
ﮔﻮﺷﺖ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﻔﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺮﺍﺋﻠﺮ ﮐﺎ ﺭﯾﭧ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ 180 ﺳﮯ 270 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ
ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺻﺮﻑ 100 ﺭﻭﭘﮯ ﻓﯽ ﮐﻠﻮ ﺳﯿﻞ ﮨﻮ ﺗﻮﺑﮭﯽ ﺳﺎﻻﻧﮧ
ﺍﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﺩﮦ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 7ﺑﭽﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ7 ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﺎﺭ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﺩﮦ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 50ﺳﮯ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺎﺭ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ 1 kg ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﮐﺎ 50 kg ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﻓﺎﺭﻣﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ 500 ﻣﺎﺩﮦ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﻣﻨﺎﻓﻊ 25ﻻﮐﮫ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﻨﺎﻓﮯ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺍﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﯿﮉ
ﺑﺰﻧﺲ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﺍ ﮨﺶ ﻣﻨﺪ ﺩﻭﺳﺖ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭘﯿﻤﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﺎ ﻓﺎﺭﻡ ﺳﭩﺎﺭﭦ
ﮐﺮﯾﮟ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﺮﮔﻮﺵ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﻓﺎﺭﻡ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
ﻧﺌﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﺎﺩﺍﺋﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﻧﺮ ﺳﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔
ﮨﺮ 10ﻣﺎﺩﮦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 2 ﻧﺮ ﮐﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﮯ-
(ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﺧﺮﭺ ﮐﮯ ﻓﺎﺭﻣﻨﮓ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ)
ﺑﺸﮑﺮﯾﮧ: ﭘﻮﻟﭩﺮﯼ ﮈﺳﮑﺸﻦ

April 07, 2018

میمو گیٹ اور اسامہ بن لادن MEMO GATE SCANDAL & OSAMA BIN LADEN


میمو گیٹ اور اسامہ بن لادن.(منقول)

آپریشنﮐﯽ ﻣﻨﻈﻮﺭﯼ ﺳﯽ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﮯ ﮈﺍﺋﺮﯾﮑﭩﺮ ﻟﯿﻮﻥ ﭘﻨﯿﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﺌﺮﻣﯿﻦ ﺟﻮﺍﺋﻨﭧ ﭼﯿﻔﺲ ﺁﻑ ﺳﭩﺎﻑ ﺍﯾﮉﻣﺮﻝ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﻣﻮﻟﻦ ﻧﮯ ﺩﯼ۔ﺟﻼﻝ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺍﺋﯿﺮ ﺑﯿﺲ ﭘﺮ ﭼﺎﺭ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ ‘ ﺩﻭ ﺑﻠﯿﮏ ﮨﺎﮎ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﭼﻨﯿﻮﮎ ‘ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ 25 ﮐﻤﺎﻧﮉﻭﺯ ﺳﻮﺍﺭ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﯾﮑﻢ ﻣﺌﯽ 2011 ﺀﺭﺍﺕ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺞ ﮐﺮ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﺟﻼﻝ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﺍﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻃﯿﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﻓﻐﺎﻥ ﺣﺪﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﻭﺍﺯﯾﮟ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ‘ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮﺯﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﮐﺎﺑﻞ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭼﮑﺪﺭﮦ ﺁﺋﮯ ‘ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺎﻻ ﮈﮬﺎﮐﮧ ﮐﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﻨﺪﺭ ﺣﺴﻦ ﺯﺋﯽ ﭘﮩﻨﭽﮯ ‘ ﺩﻭ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮎ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭ ﺁﮔﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ 12 ﺑﺞ ﮐﺮ 30 ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﺑﻼﻝ ﮐﺎﻟﻮﻧﯽ ﺍﯾﺒﭧ ﺁﺑﺎﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ‘ ﮐﻤﺎﻧﮉﻭﺯ ﺭﺳﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺍﺗﺮﮮ ‘ ﺩﻭ ﺣﺼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻮﺋﮯ ‘ ﺁﺩﮬﮯ ﺍﻧﯿﮑﺴﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﮯ ﻻﺩﻥ ﮐﻤﭙﺎﺅﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﻧﮯ ﮐﻼﺷﻨﮑﻮﻑ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻤﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮨﯿﻨﮉ ﮔﺮﻧﯿﮉ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﺎ ‘ ﮐﻤﺎﻧﮉﻭﺯ ﻧﮯ ﮔﻮﻟﯽ ﭼﻼ ﺩﯼ ‘ ﺍﺳﺎﻣﮧ 12 ﺑﺞ ﮐﺮ 39 ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﮔﻮﻟﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ‘ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺍﯾﻤﻞ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ‘ ﮐﻤﺎﻧﮉﻭﺯ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﺳﺘﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﯿﮑﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﺣﺒﺰﺍﺩﮮ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﺍﺳﺎﻣﮧ ‘ ﻣﺪﺩ ﮔﺎﺭ ﺍﺑﻮ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻟﮑﻮﯾﺘﯽ ‘ ﮐﻮﯾﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﺑﺮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﮧ ﺑﺸﺮﯼٰ ﮐﻮ ﮔﻮﻟﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺎ ‘ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺞ ﮐﺮ 53 ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮨﻮﺋﯽ ‘ ﮐﻤﺎﻧﮉﻭﺯ ﻧﮯ ﮐﻤﭙﺎﺅﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮﺯ ‘ ﻓﺎﺋﻠﯿﮟ ‘ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ‘ ﮈﺍﺋﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﯽ ﮈﯾﺰ ﺗﮭﯿﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﺍﯾﮏ ﺑﺞ ﮐﺮ ﭼﮫ ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﮯ ‘ ﺍﯾﮏ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﮐﯽ ﺩﻡ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺅﻧﮉﺭﯼ ﻭﺍﻝ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮔﺌﯽ ‘ ﺩﮬﻤﺎﮐﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺟﺎﮒ ﮔﺌﯽ ‘ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺸﺘﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ” ﺁﭖ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ‘ ﺳﭙﯿﺸﻞ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻮﻟﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ ﻟﻮﮒ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﮯ ‘ ﮐﻤﺎﻧﮉﻭﺯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ ‘ ﻣﺘﺎﺛﺮﮦ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﮐﻮ ﺑﻢ ﺳﮯ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ‘ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﺍﮨﻠﮑﺎﺭ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﮏ ﺑﺞ ﮐﺮ 15 ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﮯ ‘ ﯾﮧ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ‘ ﺯﺧﻤﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﻮ ﻋﺮﺑﯽ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ‘ ﻭﮨﺎﮞ ﻻﺷﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﻮﺍﺋﺮﯼ ﮐﯽ ‘ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺑﯿﮉ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﯾﻤﻨﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺑﮑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ‘
7 ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﻟﯿﻔﭩﯿﻨﻨﭧ ﮐﺮﻧﻞ ‏( ﻧﺎﻡ ﻏﺎﻟﺒﺎً ﻋﺎﺑﺪ ﺗﮭﺎ ‏) ﻧﮯ ﺁﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﺟﻨﺮﻝ ﺍﺷﻔﺎﻕ ﭘﺮﻭﯾﺰ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﭘﺮ ﺍﻃﻼﻉ ﺩﮮ ﺩﯼ ‘ ﺁﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﻧﮯ ﺍﺋﯿﺮ ﭼﯿﻒ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﯿﺎ ‘ ﺍﺋﯿﺮ ﭼﯿﻒ ﻧﮯ ﮨﺎﺋﯽ ﺍﻟﺮﭦ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ 43 ﻣﻨﭧ ﺧﺮﭺ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﻒ 16 ﺍﮌﮮ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮﺯ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﮐﺎﻻ ﮈﮬﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﯼ ﻓﯿﻮﻟﻨﮓ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﻼﻝ ﺁﺑﺎﺩ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺁﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﻧﮯ ﺭﺍﺕ ﺗﯿﻦ ﺑﺠﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﮑﺮﭨﺮﯼ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﮐﻮ ﺍﻃﻼﻉ ﺩﮮ ﺩﯼ ‘ ﺻﺒﺢ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﺠﮯ ﺍﯾﮉﻣﺮﻝ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﻣﻮﻟﻦ ﻧﮯ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮ ﺩﯼ ‘ ﺁﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﻧﮯ ﺻﺒﺢ 6 ﺑﺞ ﮐﺮ 45 ﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﺻﺪﺭ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﻮ ﺳﺎﺭﯼ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﯾﮧ 36 ﻣﻨﭧ ﮐﺎ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﻧﺎﻣﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﺧﺎﻣﯿﺎﮞ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﮔﺌﯿﮟ ‘ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﯿﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯿﮟ؟ ﭘﮩﻠﯽ ﺧﺎﻣﯽ ‘ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﭧ ﻭﺍﻧﭩﯿﮉ ﭘﺮﺳﻦ ﺁﭨﮫ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺷﺎﺩﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﮟ ‘ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﮐﻮ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﻥ ﺧﺒﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ‘ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺧﺎﻣﯽ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺋﮯ ‘ ﮐﻨﭩﻮﻧﻤﻨﭧ ﺍﯾﺮﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺤﻔﺎﻇﺖ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺎ ‘ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺪﺷﮧ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺑﻼﻝ ﮐﺎﻟﻮﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﮐﻮ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﭘﯿﺶ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﻣﻮﻟﻦ ﮐﮯ ﻓﻮﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ ‘ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺧﺎﻣﯽ ‘ ﮨﻢ ﺍﻃﻼﻉ ﮐﮯ 43 ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﺗﮏ ﺍﯾﻒ ﺳﻮﻟﮧ ﻃﯿﺎﺭﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﺧﺎﻣﯽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺴﭩﻢ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ ‘ ﻭﮦ ﺁﺋﮯ ‘ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺣﺴﺎﺱ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﺴﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﯾﺎ ﻧﯿﻢ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﯽ ‘ ﯾﮧ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ؟ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﻭﺟﻮﮨﺎﺕ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﻣﺜﻼً ﺍﯾﺒﭧ ﺁﺑﺎﺩ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮑﻞ ﻋﻼﻗﮧ ﮨﮯ ‘ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﯾﮑﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﯾﮑﯽ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﺘﯿﮟ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺥ ﺗﺮﺍﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﭩﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ‘ ﯾﮧ ﮐﭩﺎﺋﯽ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﺮﺍﺋﯽ ‘ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﮨﻢ ﺗﮭﺎ ‘ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺒﭧ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ‘ ﯾﮧ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﺲ ﻧﮯ
ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺍﺋﯽ ‘ ﮐﺎﻻ ﮈﮬﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮﻭﮞ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﭘﭩﺮﻭﻝ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﻥ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮﻭﮞ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺗﺮﯾﻦ ﺭﻭﭦ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﮨﻢ ﺗﮭﮯ ‘ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺌﮯ ﺗﻮ ﺩﻭ ﻧﺎﻡ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﮔﺌﮯ ‘ ﭘﮩﻼ ﺷﺨﺺ ﺷﮑﯿﻞ ﺁﻓﺮﯾﺪﯼ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺧﯿﺒﺮﺍﯾﺠﻨﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﺎ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺑﻼﻝ ﮐﺎﻟﻮﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﻟﯿﻮ ﮐﯽ ﺟﻌﻠﯽ ﻣﮩﻢ ﭼﻼﺋﯽ ‘ ﺟﻌﻠﯽ ﻭﺭﮐﺮﺯ ﻻﺩﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ ‘ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﻮﻧﮯ ﻧﮯ ﻻﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮ ﺩﯼ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻼﻝ ﮐﺎﻟﻮﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻻﺩﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﺎ ‘ ﯾﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﻻﺩﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ‘ ﺷﮑﯿﻞ ﺁﻓﺮﯾﺪﯼ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ‘ ﺁﻓﺮﯾﺪﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺮﻡ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ‘ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﻔﯿﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ 2002 ﺀﺳﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻨﮏ ﭨﯿﻨﮑﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺳﯽ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﻓﻨﮉﻧﮓ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﺻﺪﺭ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﺮﯾﻞ 2008 ﺀﻣﯿﮟ ﺳﻔﯿﺮ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ ‘ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺑﻞ ” ﮐﯿﺮﯼ ﻟﻮﮔﺮ ﺑﻞ “ ﮐﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﯽ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺻﺪﺭ ﺳﮯ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮈﺍﺋﺮﯾﮑﭩﺮ ﺳﯽ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﻟﯿﻮﻥ ﭘﻨﯿﭩﺎ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮈﺍﺋﺮﯾﮑﭧ ﻓﻮﻥ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺱ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺳﮯ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺧﻔﯿﮧ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﺧﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﺍﺗﺎﺷﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ‘ ﻭﮦ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﭘﮍﮬﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻓﺴﺮ ﺗﮭﮯ ‘ ﻭﮦ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﺍﺗﺎﺷﯽ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺷﻮﮐﺖ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﮯ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﺳﯿﮑﺮﭨﺮﯼ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ‏( ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﯿﻔﭩﯿﻨﻨﭧ ﺟﻨﺮﻝ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﮐﻮﺭ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﻧﮉ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‘( ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﮭﺠﻮﺍﺗﮯ ﺭﮨﮯ ‘ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺣﺴﺎﺱ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﺍﯼ ﻣﯿﻞ ﯾﺎ ﺳﻔﺎﺭﺗﯽ ﺑﯿﮓ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺛﺒﻮﺕ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺟﻨﺮﻝ ﭘﺎﺷﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﺋﯿﮯ ‘ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻧﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺳﻮﺳﯽ ﮐﺎ ﻧﯿﭧ ﻭﺭﮎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺟﺎﺳﻮﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻭﯾﺰﮮ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ‘ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺣﺴﺎﺱ ﺁﻻﺕ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻻﺗﮯ ﺭﮨﮯ ‘ ﺧﯿﺒﺮ ﭘﺨﺘﻮﻧﺨﻮﺍﮦ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﮐﺲ ﮐﺲ ﻋﮩﺪﯾﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ‘ ﻭﻓﺎﻕ ﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻭﺯﯾﺮ ‘ ﺍﯾﻮﺍﻥ ﺻﺪﺭ ﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﮐﺎﺭﻧﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺳﭩﺎﻑ ﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﺭﮐﻦ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ‘ ﮐﺲ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺭﻗﻢ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺭﻗﻢ ﮐﺲ ﺍﮐﺎﺅﻧﭧ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮔﺌﯽ ‘ ﯾﮧ ﺍﻧﮑﺸﺎﻓﺎﺕ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺳﻮﻝ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺸﺎﺀﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯽ۔ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺻﺪﺭ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ ‘ ﺻﺪﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﺪﺭ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﻓﻮﺝ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯽ ‘ ﯾﮧ ﺧﻮﻑ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ‘ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﻣﻮﻟﻦ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﮐﯿﺎ ‘ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﻣﻮﻟﻦ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ ‘ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺝ ﺗﮭﺎ ” ﻓﻮﺝ ﺩﻭ ﻣﺌﯽ ﮐﮯ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺳﻮﯾﻠﯿﻦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ‘ ﺁﭖ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﯿﮟ “ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﻣﻮﻟﻦ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ” ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻓﻮﺝ ﺍﻓﻐﺎﻥ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ “ ۔ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ‘ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﻣﻮﻟﻦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﯾﮧ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﺑﻠﯿﮏ ﺑﯿﺮﯼ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﻣﯿﻤﻮ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﮐﮩﻼﯾﺎ ‘ ﯾﮧ ﻣﯿﻤﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺮﻝ ﭘﺎﺷﺎ ﮐﮯ ﻧﻮﭨﺲ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﭼﻨﺪ ﻣﺤﺐ ﻭﻃﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﮐﻮ ﻏﯿﺮﺕ ﺩﻻﺋﯽ ‘ ﯾﮧ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺩﺑﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ 10 ﺍﮐﺘﻮﺑﺮ 2011 ﺀﮐﻮ ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻓﻨﺎﻧﺸﻞ ﭨﺎﺋﻤﺰ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﻣﯿﮟ ” ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﺟﺮﻡ “ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﯾﻮﮞ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ ﮔﺌﮯ ‘ ﺻﺪﺭ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺏ ﺑﭽﺎﺅ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﯽ ‘ ﯾﮧ ﻣﺪﺩ ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﻧﻮﭨﺲ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﯽ ‘ ﺁﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﻧﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﮐﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺌﮯ ‘ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﻧﮯ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺧﻢ ﭨﮭﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻟﯿﺎ ‘ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺩﺑﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ 22 ﻧﻮﻣﺒﺮ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻔﯽٰ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ‘ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ 23 ﻧﻮﻣﺒﺮ 2011 ﺀﮐﻮ ﮐﺎﻻ ﮐﻮﭦ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻤﻮ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﮐﯽ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺭﭦ ﺩﺍﺋﺮ ﮐﺮ ﺩﯼ ‘ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻧﮯ ﭘﭩﯿﺸﻦ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﺮ ﻟﯽ۔ ‏
ﻣﻠﮑﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ‘ ﺁﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﯽ ﺍﯾﺲ ﺁﺋﯽ ﮐﮯ ﮈﺍﺋﺮﯾﮑﭩﺮ ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﻔﯿﺮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﺁﻑ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺍﺋﮯ ‘ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﻧﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﯼ ﺳﯽ ﺍﯾﻞ ﭘﺮ ﮈﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺗﯿﻦ ﺭﮐﻨﯽ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ‘ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﮯ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﺟﺴﭩﺲ ﻗﺎﺿﯽ ﻓﺎﺋﺰ ﻋﯿﺴﯽٰ ﺗﮭﮯ ‘ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﻧﮯ 11 ﺟﻮﻥ 2012 ﺀﮐﻮ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺩﯼ ‘ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﻤﻮ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ‘ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﺳﻔﯿﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ 20 ﻻﮐﮫ ﮈﺍﻟﺮ ‏( ﺩﻭ ﻣﻠﯿﻦ ‏) ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﯿﮟ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﺗﮏ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ‘ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺑﯿﻨﮏ ﺑﯿﻠﻨﺲ ‘ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﮨﮯ ‘ ﻣﯿﻤﻮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﻮﯾﻠﯿﻦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﯾﭩﻤﯽ ﭘﮭﯿﻼﺅ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﺳﻮﯾﻠﯿﻦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺳﻔﯿﺮ ﻧﮯ ﻣﯿﻤﻮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﺌﯽ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﭨﯿﻢ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﺮﻏﯿﺐ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻣﻤﮑﻨﮧ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﭨﯿﻢ ﮐﺎ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ‏( ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ‏) ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﻤﻮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺁﺋﯿﻦ ﮐﯽ ﺧﻼﻑ ﻭﺭﺯﯼ ﮐﯽ ‘ ﺁﭖ ﯾﮧ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺍﯾﺠﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻧﮯ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﻮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ‘ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ 2 ﻣﺌﯽ 2011 ﮐﮯ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﻔﯿﺮ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺿﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﻏﺒﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭﺍﮔﺮ ﯾﮧ 2010 ﺀﺍﻭﺭ 2011 ﺀﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ‘ ﯾﮧ ﺭﯾﻤﻨﮉ ﮈﯾﻮﺱ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺎﻧﭩﺮﯾﮑﭩﺮﺯ ﺍﻭﺭ ﺑﻠﯿﮏ ﻭﺍﭨﺮ ﺟﯿﺴﯽ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﺍﯾﺠﻨﺴﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻭﯾﺰﮮ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ‘ ﯾﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﯿﮧ ﮐﻮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﯾﻔﻨﮓ ﻧﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺗﺮﻏﯿﺐ ﺩﯼ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺩﺑﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﭘﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﯾﮧ 2 ﻣﺌﯽ ﺟﯿﺴﺎ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﯾﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﮩﺪﮮ ‘ ﭘﯿﺴﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﭙﮑﯽ ﮐﮯ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺳﮯ ﻏﺪﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻏﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﺻﺪﺭ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ‘ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ‘ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ‘ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺮﻝ ﭘﺎﺷﺎ ﺳﻤﯿﺖ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻣﻘﺘﺪﺭ ﻟﻮﮒ ﻭﺍﻗﻒ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺣﻘﺎﺋﻖ ﭼﯿﻒ ﺟﺴﭩﺲ ﺁﻑ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﭼﻮﺩﮬﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺭﮐﻨﯽ ﻋﺪﺍﻟﺘﯽ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﮯ ﻧﻮﭨﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ 31 ﺟﻨﻮﺭﯼ 2012 ﺀﮐﻮ ﻣﻠﮏ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﮭﯽ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ‘ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﺎ ﺩﺑﺎﺅ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﺑﺎﺅ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﮟ ‘ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻓﺘﺨﺎﺭ ﻣﺤﻤﺪ ﭼﻮﺩﮬﺮﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺮﺟﯿﺤﺎﺕ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮟ ‘ ﺟﻨﺮﻝ ﭘﺎﺷﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﻮ ﻋﮩﺪﮮ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ‘ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺩ ﮔﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﺗﻮ ﯾﮧ 2013 ﺀﻣﯿﮟ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﻔﺤﮯ ﭘﺮ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﯾﮧ ﮐﻮﺷﺶ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﺮﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺒﺎﻧﮓ ﺩﮨﻞ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﻤﻮ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻓﺮﯾﻖ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﯾﻮﮞ ﯾﮧ ﺍﯾﺸﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ‘ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻠﻦ ﺯﺩﮦ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ‘ ﻋﺪﺍﻟﺖ ‘ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﻤﻮ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻣﺪﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺑﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ” ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ “ ﺳﮯ ﻟﻄﻒ ﺍﻧﺪﻭﺯ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ﯾﮧ ﺍﯾﺸﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺣﺎﻓﻈﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﻧﮯ 10 ﻣﺎﺭﭺ ﮐﻮ ﻭﺍﺷﻨﮕﭩﻦ ﭘﻮﺳﭧ ﻣﯿﮟ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯽ ﮔﮍﮬﺎ ﻣﺮﺩﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ Yes, the Russian ambassador met Trump’s team. So? That’s what we diplomats do . ‏( ﺟﯽ ‘ ﺭﻭﺳﯽ ﺳﻔﯿﺮ ﻧﮯ ﭨﺮﻣﭗ ﮐﯽ ﭨﯿﻢ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﯽ ‘ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟ﮨﻢ ﺳﻔﯿﺮ ﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‏) ﺗﮭﺎ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﯿﺎ ‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﯾﻠﯿﻦ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺳﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺳﯽ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﮯ ﺍﮨﻠﮑﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺪﺩ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺪﺭ ﺑﺎﺭﺍﮎ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻭﺑﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﮩﻢ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﭼﻨﺪ ﺍﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺍﺳﺘﻮﺍﺭ ﮐﺌﮯ ‘ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺟﯿﺘﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻭﺑﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﭘﺎﮎ ﻓﻮﺝ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺑﺎﻻ ﺳﯽ ﺁﺋﯽ ﺍﮮ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﯾﮧ ﻣﺪﺩ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﻮﯾﻠﯿﻦ ﻗﯿﺎﺩﺕ ‏( ﺻﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ‏) ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺳﮯ ﮐﯽ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ‘ ﻣﯿﺮﯼ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺧﻔﯿﮧ
ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﻮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﻮ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺧﻔﯿﮧ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﺴﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﺎ ﺷﮏ ﺗﮭﺎ ‘ ﺻﺪﺭ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻃﺎﻟﺒﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﮮ ‘ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﭘﺎﻟﯿﺴﯽ ﺳﮯ ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ‘ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ‘ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﯿﭙﻠﺰﭘﺎﺭﭨﯽ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺳﮩﻮﻟﺘﯿﮟ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﯿﮟ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮩﻮﻟﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺳﻮﺳﯽ ﮐﺎ ﺧﻮﻓﻨﺎﮎ ﻧﯿﭧ ﻭﺭﮎ ﺑﻨﺎ ﯾﺎ ‘ ﯾﮧ ﻧﯿﭧ ﻭﺭﮎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺳﺎﻣﮧ ﺑﻦ ﻻﺩﻥ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺣﺴﺎﺱ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺲ ﮔﯿﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﺍﯾﺒﭧ ﺁﺑﺎﺩ ﺑﮭﺠﻮﺍﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻓﻀﺎﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﯿﮟ ” ﭨﺮﯾﺲ “ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺎ ‘ ﯾﮧ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﮐﺎﻻ ﮈﮬﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ  ﺍﻭﺭ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﯼ ﻓﯿﻮﻟﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺍﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﻥ ﺧﺒﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ‘ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﻭﺟﮧ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﺗﮭﯽ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻧﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺳﻔﯿﺮﺍﻭﺭ ﺳﻮﻝ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺳﻮﺳﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﺎ ‘ ﯾﮧ ﺟﺎﺳﻮﺱ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﻟﯿﺲ ‘ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮ ﻓﻮﺟﯽ ﺍﻓﺴﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺳﺎﺑﻖ ﺑﯿﻮﺭﻭ ﮐﺮﯾﭩﺲ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺎﮦ ﺑﮭﯽ۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺟﺎﺳﻮﺳﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﻢ ﭘﺮﻭﻑ ﮐﻤﺮﮮ ﺑﻨﺎ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﻓﻀﺎﺋﯽ ﺁﻻﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺟﻼﻝ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﺍﯾﺒﭧ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﮏ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﺭﻭﭦ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﻣﺌﯽ ﮐﻮ ﻣﮑﮭﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﮭﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﻥ ﺧﺒﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﯽ ‘ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﺁﻑ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﻓﻮﺭﯼ ﻧﻮﭨﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘ ﻣﯿﻤﻮ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﻧﮑﺎﻟﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘ ﺻﺪﺭ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ‘ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ‘ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ‘ ﺟﻨﺮﻝ ﮐﯿﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺮﻝ ﭘﺎﺷﺎ ﮐﻮ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺭﯾﮉ ﻭﺍﺭﻧﭧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ ‘ ﮐﯿﺲ ﮐﯽ ﻧﺌﮯ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺗﺤﻘﯿﻘﺎﺕ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮍﯼ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘ ﯾﮧ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻏﺪﺍﺭ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ‘ ﺩﻭﺳﺮﺍ ‘ ﻭﻗﺖ ﺁ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﮨﻢ ﻋﮩﺪﻭﮞ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﭨﯿﺮﯾﺎ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﭨﯿﺮﯾﺎ ﭘﺮﻣﮑﻤﻞ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﮨﻢ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻔﯿﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎﺟﻦ ﮐﺎﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭩﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﺍﺟﺪ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻣﺪﺗﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﺷﻔﭧ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺟﻮﻥ 2008 ﺀﻣﯿﮟ ﻭﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﻔﯿﺮ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ‘ ﯾﮧ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺋﮯ ‘ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﭘﯿﭙﻠﺰ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﻣﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺩﮦ ﺩﻥ ﺳﻔﯿﺮ ﺭﮨﮯ ‘ ﺷﻨﯿﺪ ﮨﮯ ﺁﺻﻒ ﻋﻠﯽ ﺯﺭﺩﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﻧﻮﺍﺯ ﺷﺮﯾﻒ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺎﮞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺑﻖ ﺍﺗﺤﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻭﺍﺟﺪ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﺩﮮ ﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﻭﺍﺟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺳﺘﻌﻔﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﻻﺋﮯ ‘ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﻧﮯ ﺟﻨﺮﻝ ﭘﺮﻭﯾﺰ ﻣﺸﺮﻑ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﯿﺮ ﺍﻃﻼﻋﺎﺕ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ‘ ﯾﮧ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ” ﺟﻼﻭﻃﻦ “ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘ ﯾﮧ 2008 ﺀﻣﯿﮟ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺍﺛﺮﻭﺭﺳﻮﺥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﻔﯿﺮ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ‘ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﺍﻧﺠﻮﺍﺋﮯ ﮐﯽ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﯿﻮﮞ ﮐﻮ ” ﻧﻮﺍﺯﮦ “ ﺍﯼ ﺳﯽ ﺍﯾﻞ ﺗﮍﻭﺍﺋﯽ “ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭﯾﮧ ﺍﺏ ﮈﻭﻧﻠﮉ ﭨﺮﻣﭗ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻭﺍﺟﺪ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﯾﮧ ﻏﯿﺮﻣﻠﮑﯽ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﻏﯿﺮﻣﻠﮑﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻏﯿﺮﻣﻠﮑﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻠﮏ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭼﭙﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﮐﺎﺅﻧﭧ ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﻏﺪﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﺎﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮﭘﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺣﺴﯿﻦ ﺣﻘﺎﻧﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺳﺎﺯﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﯽ ‘ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺴﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻋﮩﺪﻭﮞ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ ‘ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﺁﺝ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ ‘ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﺁﺝ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮧ ﺭﻭﮐﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﯾﭩﻤﯽ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ‘ ﮨﯿﻠﯽ ﮐﺎﭘﭩﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﯿﻮ ﮐﻠﯿﺌﺮ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ‘ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺎﻧﺤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﯿﻤﻮ ﺳﮑﯿﻨﮉﻝ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﮐﮭﻮﻟﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ ‘ ﮨﻤﯿﮟ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ‘ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﺏ ﻧﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻮﺭ ﮐﮯ ﻓﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ‘ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺮ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺑﯿﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺲ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔

(برائے مہربانی اسے فارورڈ کریں تاکہ خوبصورت لبادوں میں ملبوس غلاظت سے زیادہ سے زیادہ لوگ آگاہ ہو سکیں )
This is shared as received ...

Total Pageviews