October 13, 2025
TIPPU TRUCKAN WALA, & TEEFI MURDERS
کبھی لاہور میں ہر علاقے کا بڑا بدمعاش پہلوان کہلاتا تھا۔پاکستان بننے کے بعد یہ سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا۔سنہ 1950 کے لاہور میں نتھو نامی کوچوان کا بڑا چرچہ تھا۔ وہ کہنے کو تو صرف تانگہ چلاتا تھا مگر اس کی پہلوان جیسی جسامت سے سب ہی سہمے سہمے رہتے تھے۔ وہ اکثر لوگوں کے جھگڑے نمٹاتا اور اس کا کیا فیصلہ سب ہی کو ماننا پڑتا۔اس کے بعض فیصلوں نے کچھ متاثرہ لوگوں کو اس کا جانی دشمن بنا دیا۔ ایک دن نتھو شاہ عالم چوک سے لوہاری مسجد کے لیے نکلا ، ابھی کچھ دور ہی چلا تھا کہ یکایک اس پر کسی نے خنجر سے حملہ کر دیا۔ پے در پے وار سے نتھو نڈھال ہو کر زمین پر گر پڑا اور وہیں تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا۔
لاہور انڈر ورلڈ کی داستان۔
کبھی لاہور میں ہر علاقے کا بڑا بدمعاش پہلوان کہلاتا تھا۔پاکستان بننے کے بعد یہ سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا۔سنہ 1950 کے لاہور میں نتھو نامی کوچوان کا بڑا چرچہ تھا۔ وہ کہنے کو تو صرف تانگہ چلاتا تھا مگر اس کی پہلوان جیسی جسامت سے سب ہی سہمے سہمے رہتے تھے۔ وہ اکثر لوگوں کے جھگڑے نمٹاتا اور اس کا کیا فیصلہ سب ہی کو ماننا پڑتا۔اس کے بعض فیصلوں نے کچھ متاثرہ لوگوں کو اس کا جانی دشمن بنا دیا۔ ایک دن نتھو شاہ عالم چوک سے لوہاری مسجد کے لیے نکلا ، ابھی کچھ دور ہی چلا تھا کہ یکایک اس پر کسی نے خنجر سے حملہ کر دیا۔ پے در پے وار سے نتھو نڈھال ہو کر زمین پر گر پڑا اور وہیں تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا۔
نتھو کو دنیا سے گئے کچھ زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ اس کی گدی اس کے بیٹے نے سنبھال لی ۔امیر الدین عرف بلا ۔ وہ باپ سے بھی چار ہاتھ آگے تھا۔ اپنا زور بڑھانے کے لیے بلے نے پولیس افسروں اور بااثر مقامی لوگوں سے دوستیاں بنانا شروع کر دیں۔اس نے ایک پنچائتی ڈیرہ سا بنا لیا تھا جہاں وہ لوگوں کے لین دین کے آپسی تنازعات سیٹل کرتا تھا اور اپنا “کمیشن” بھی دونوں پارٹیوں سے لیتا تھا۔شاہ عالمی مارکیٹ میں اس کے باپ کی دھاک پہلے سے ہی تھی۔ بلے نے یہاں ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ کا کام شروع کیا جو پھیلتا چلا گیا۔کہا جاتا ہے اس کام کے لیے ابتدائی طور پر سرمایہ لاہور کے ایک بااثر سیاسی خاندان نے لگایا تھا۔یہیں سے اس کا نام پڑ گیا بلا ٹرکاں والا۔
بلا ٹرکاں والا نے ساری زندگی پستول اپنی جیب میں نہیں رکھا، وہ اس کا سٹائل ہی نہیں تھا۔یہ کاروباری آدمی بھی نہیں تھا۔ اس کے ٹرک اڈے پر چھوٹے موٹے جرائم پیشہ کن کٹے ٹائپ لوگ جمع ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ بلا ان کو چرس اور دیگر لوازمات پیش کرتا اور یوں اس نے ایک گینگ سا تشکیل دے رکھا تھا۔ بلے کا کام تو یہ تھا ٹیلی فون پر بیٹھ کر اس کو اٹھا لو اس کو پکڑ لو۔ بسیکلی وہ دکانوں پر قبضہ کرانے میں دلچسپی لیتا تھا منشیات فروش نہیں تھا، جوا نہیں کراتا تھا۔
ٹرکاں والا خاندان کشمیری ہے جس میں کئی نامی گرامی پہلوان گزرے ہیں ۔ آج ان کا گڈز ٹرانسپورٹ کا بڑا کاروبار ہے ۔ پورے ملک میں ان کے سینکڑوں ٹرکس سامان لیے پھرتے ہیں۔ ٹرکاں والا کا ڈیرہ کیسے اشتہاری مجرموں کی پناہ گاہ بنا، زمینوں پر قبضے سے لے کر قتل تک جرائم کا کاروبار کیسے پھیلتا چلا گیا۔ یہ داستان ہے لاہور انڈر ورلڈ کی اور بہت سنسنی خیز فلمی داستان ہے۔ بااثر سیاسی لوگوں کی آشیرباد اور پولیس افسران کے گٹھ جوڑ سے لاہور میں دو بڑے گینگ وجود میں آئے جو ایک دوسرے سے اختیار و طاقت کے حصول کے لیے لڑتے رہے۔ مارتے رہے۔ مرتے رہے۔
بلا ٹرکاں والا نے تین دوستوں کو ملا کر ایک گروپ بنایا۔ الیاس جٹ جو فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کا رکن اسمبلی تھا۔ پیلا پہلوان جو سونے کے سمگلروں میں ڈان مشہور تھا اور صوبائی اسمبلی کا رکن بھی تھا۔ ایس پی امان اللہ، جعلی پولیس مقابلے میں بندے پھڑکانے میں اس کا بھی کوئی ثانی نہ تھا۔ یہ سب عالم چوک پر بلا ٹرکاں والا کے ڈیرے پر روز محفل لگاتے۔ ایس پی امان اللہ کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بات بعد میں کرتا تھا بندہ پہلے مار دیتا تھا۔ اب انہوں نے لاہور پر حکومت شروع کر دی۔ ایک یونیورسٹی کھول دی جس میں جرائم کی دنیا کے لوگ پرورش پاتے تھے۔
اب بلا لاہور انڈر ورلڈ کا بادشاہ بن چکا تھا۔ہر گینگ اور ہر اشتہاری اس کی صحبت میں تھا۔ شفیق عرف بابا ، حنیف عرف حنیفہ ، اکبر عرف جٹ، ہمایوں گجر اور بھولا سنیارا جیسے بڑے بدمعاش اس کی مٹھی میں تھے۔ یہ سب گینگسٹرز تھے۔ حنیفہ اور بابا دونوں سگے بھائی تھے ۔ بلا ٹرکاں والا ان کو اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتا تھا اور وہ بھی بلے کو ابا کا درجہ دیتے تھے۔ اور وہ اسی طرح پلے بڑھے جیسے بلے کا سگا بیٹا ٹیپو ٹرکاں والا پلا بڑھا۔ بلے کے ایک اشارے پر یہ لوگ سب کچھ کر گزرتے تھے۔
ایک روز بابا ، حنیف اور بلے کے سگے بیٹے ٹیپو نے اکبری گیٹ میں ایک رہائشی امیر الدین تارہ والا کو دو دوستوں سمیت قتل کر دیا۔ معاملہ دکان پر قبضے کا تھا۔ پولیس کیس ہوا تو بابا اور حنیفہ کے ساتھ بلے کا بیٹا ٹیپو بھی نامزد ہوا۔یہ تینوں قتل ٹیپو نے فائر کر کے کئیے تھے مگر بلے نے کمال ہوشیاری سے اپنے سیاسی تعلقات کے بل بوتے اپنے بیٹے کا نام کیس سے نکلوا دیا۔ بابا اور حنیفہ سے کہا کہ وہ ابھی اپنا جرم قبول کر لیں بہت جلد انہیں جیل سے وہ چھڑوا لے گا۔ انہوں نے قبول کر لیا۔ لیکن بلا ان کو چھڑوا نہ سکا۔ بابا اور حنیفہ کو سات سال قید ہو گئی۔
اس موڑ پر یہاں انٹری ہوتی ہے گوالمنڈی کے طیفی بٹ اور گوگی بٹ کی جو ٹرکاں والا خاندان کے سب سے بڑے دشمن مشہور ہیں۔ طیفی اور گوگی آپس میں کزن تھے لیکن دونوں کی جوڑی سگے بھائیوں جیسی تھی۔ یہ ہر وقت ہر جگہ اکٹھے نظر آتے تھے۔ ان کا خاندان گوالمنڈی کا بااثر تاجر خاندان تھا۔ گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ لاہور کی پہلی فوڈ سٹریٹ تھی جو انہوں نے بنائی تھی۔اس وقت نواز شریف پنجاب کے چیف منسٹر بنے تھے وہ خود افتتاح کرنے آئے تھے۔یہ خواجہ کشمیری تھے۔ ان کے بڑے بھائی اور بزرگ اکبری منڈی اور گوالمنڈی مارکیٹ کے صدر تھے۔ گوالمنڈی اور شاہ عالمی میں تھوڑا ہی فاصلہ ہے۔
پنجاب سمیت ملک بھر سے آئے سامان کا لین دین اندرون لاہور کے انہی بازاروں میں ہوتا ہے۔بلا ٹرکاں والا کا گڈز ٹرنسپورٹ کا اڈا تھا۔ بات دراصل علاقے میں چودراہٹ قائم کرنے کے ساتھ منڈیوں پر کنٹرول اور دھاک بٹھانے کی تھی۔ گوالمنڈی کے طیفی اور گوگی بٹ بلا ٹرکاں والے کے سامنے بچے تھے مگر یہ بات انہیں قبول نہ تھی کیونکہ وہ خود کو زیادہ بااثر، پیسے والا اور کھرپینچ سمجھتے تھے۔طیفی اور گوگی بٹ نے سامنے آئے بغیر بلے کا پتہ صاف کرنے کی ٹھانی۔۔
بابا اور حنیفہ اپنی سزا بھگت کر باہر آئے تو انہوں نے بلے کے خلاف انہیں خوب بھڑکایا۔ ان دونوں کے دماغ میں یہ بات اچھی طرح اتار دی کہ بلے نے اپنے بیٹے کو تو بچا لیا مگر تم دونوں کو جیل میں سڑتا چھوڑ دیا۔اگر تم اس کے حقیقی بچے ہوتے تو وہ ٹیپو کی طرح تمہیں بھی مقدمے سے نکلوا لیتا ۔ ٹیپو نے بندہ قتل کیا تھا لیکن وہ جیل نہیں گیا۔ تمہیں اس نے دھوکا دے کر جرم قبول کروا کے جیل بھیج دیا۔ الغرض بابا اور حنیفہ کے سر پر ایک بھوت سوار ہو گیا کہ وہ ہر قیمت پر بلے اور ٹیپو سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔
طیفی اور گوگی تو ماسٹر پلانر تھے ہی۔ بھولا سنیارا جیسا خطرناک گروہ بھی بلے سے ٹوٹ کر ان کے ساتھ ہو لیا۔ بھولا سنیارا کو بھی بٹوں نے اپنے دام میں پھنسا لیا تھا۔ سنہ 1994 کی ایک صبح جب بلا اپنے ٹرک اڈے پر نماز فجر کی تیاری کر رہا تھا، گھات لگائے بابا اور حنیفہ نے گولیوں کی برسات کر دی۔ بلا اپنے ہی اڈے پرقتل ہو گیا۔ یہاں سے شروع ہوتی ہے لاہور انڈر ورلڈ کی وہ کہانی جس نے لاہور میں خونی دشمنی کا بازار گرم کر دیا۔
باپ کی موت نے ٹیپو کو زخمی شیر بنا دیا اور اس نے باپ کے ڈیرے کو قلعہ بنا کر دشمنی کا جواب دینا شروع کر دیا۔اس کے ڈیرے پر درجنوں محافظ ہر وقت آٹومیٹک ہتھیار لیےموجود رہتے۔ ٹیپو ایک پہلوان اور شیروں کا شوقین تھا۔ اپنے ڈیرے پر اس نے دس شیر پال رکھے تھے جن کو وہ کھلا ساتھ لیے پھرتا اور ان کو اپنے ہاتھوں سے کھانا اور قلفیاں کھلاتا۔ ٹیپو بالکل انپڑھ تھا۔ اس نے ایک بندہ ملازم رکھا ہوا تھا جو اس کو اخبار پڑھ کے سناتا تھا۔ اس کا ملنا ملانا بہت تھا ۔ جتنے بھی بڑے سے بڑے پولیس آفیسرز تھے اور خاص طور پر جو رینکرز پولیس آفیسرز تھے ان کا اس ساری لڑائی میں بڑا رول رہا۔ وہ بہت آکے دونوں طرف کے ڈیروں پر بیٹھتے تھے۔
بلا کے قتل کے بعد دشمنی کی دہکتی آگ نے کئی گھرانوں کے چراغ گل کیئے۔ ایک دوسرے کے بندوں کا قتل ہوتا رہا۔گینگ وار شروع ہو چکی تھی ۔ہمایوں گجر، ناجی بٹ ، مناظر شاہ ، داؤد ناصر، ثنا گجر اور پنجاب کے کئی اور نامور اشتہاری گینگسٹرز ایک ایک کر کے طیفی و گوگی بٹ سے جا ملے ۔ حنیفہ اور بابا جو کبھی ٹیپو کی طاقت ہوا کرتے تھے وہ پہلے ہی طیفی و گوگی کی صفوں میں تھے ۔ ٹیپو ان سب سے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے بیتاب تھا۔ یہاں ٹیپو نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔
نعیم اور قیصر نامی گینگسٹر طیفی گروپ میں ٹیپو کیلئے کام کرنے لگے۔ بھولا سنیارا گروپ کے بھی کئی لوگ پیسے لے کر ٹیپو کیلئے مخبری کیا کرتے۔اور جو لوکل گینگسٹر تھے جو اس علاقے میں خاص طور پر والڈ سٹی یا اندرون لاہور میں بہت پنپ رہے تھے ، وہ دونوں گروپس کے ساتھ اپنے آپ کو لنک کیا کرتے تھے۔ کیونکہ اس طرح ان کی گرپ بڑھتی تھی کہ فلانا فلانا اس کے گینگ میں شامل ہو گیا ، فلانا اس کے گینگ میں شامل ہو گیا۔ٹیپو نے اپنے باپ سے ایک ہی بات سیکھی تھی کہ دھاک بٹھاؤ اور سامنے آئے بغیر کام نکلواتے جاؤ ۔ باپ کا انداز اپناتے ہوئے اس نے ایک ایک کر کے تمام دشمنوں کو مروانا شروع کر دیا۔
اس کام کے لیے ٹیپو نے کرائے کے قاتلوں کا اور پولیس مقابلوں کا سہارا لیا ۔ پہلے اس نے بھولا سنیارا کو مخبری کر کے مروایا ،پھر ناجی بٹ اور ہمایوں گجر جیسے گینگسٹر بھی مارے گئے۔انسپکٹر نوید نے شاہدرہ میں پولیس مقابلے کر کے انہیں گولیوں سےبھون ڈالا ۔ٹیپو نے طیفی بٹ گینگ کے داؤد ناصر کو بھی نہیں چھوڑا جو بٹ کا رائٹ ہینڈ سمجھا جاتا تھا۔ نوے کے دہائی میں شاہ عالم گیٹ اور اندرون لاہور میں ٹیپو ٹرکاں والا خوف اور دہشت کی علامت بن چکا تھا۔ طیفی بٹ بھی موت بانٹنے کے کھیل میں ٹیپو سے پیچھے نہ تھا۔
دشمنی کی آگ میں دونوں گروہوں نے کروڑوں روپے جھونک ڈالے۔ ایس ایس پی سے لے کر کانسٹیبل تک پولیس کا ہر فرد اس لڑائی کا حصہ بنتا چلا گیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انسپکٹر عابد باکسر کے پولیس مقابلے مشہور ہو رہے تھے۔ اشتہاری ایک ایک کر کر ختم ہو رہے تھے۔ ٹیپو اور طیفی بٹ نے ایک دوسرے پر مقدمے کرنا شروع کر دیے تھے۔ کہتے ہیں دشمن داری کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ ٹیپو اور طیفی کی دشمنی سے ان کی خواتین اب تک بچی ہوئیں تھیں۔مگر ایک روز ٹیپو نے ریڈ لائن کراس کر لی۔ پولیس میں اپنے لوگوں کے ذریعے اس نے حنیفہ اور بابا کی خواتین کو اٹھا لیا۔حنیفہ اور بابا اپنی خواتین پر آنچ آتی دیکھ کر غصے سے پاگل ہو گئے۔
اب ان دونوں نے باپ کے بعد بیٹے کو سبق سکھانے کی ٹھانی ۔ سنہ 2003 میں ٹیپو ایک مقدمے کی پیشی پر آیا تو لاہور کچہری کے باہر اس پر ایک بڑا قاتلانہ حملہ ہوا۔ یہ حملہ مبین بٹ کے ذریعے کیا گیا جو کہ مشہور کرائے کا قاتل تھا۔ٹیپو کے پانچ گارڈز مارے گئے اور وہ خود بھی شدید زخمی ہوا۔ٹیپو کے لیفٹ رائٹ گولیاں چل رہی تھیں لیکن وہ بھاگ کر مجسٹریٹ کی عدالت میں گھس گیا۔ مقدمہ طیفی اور گوگی بٹ پر درج ہوا۔حنیفہ اور بابا نے ٹیپو پر کئی قاتلانہ حملے کروائے مگر قسمت یاوری کرتی رہی اور وہ ہر بار بچ نکلا۔
ٹیپو کے پاس گرے رنگ کی ایک شراڈ کار ہوتی تھی جو اس کو بہت پسند تھی۔ ٹیپو اس میں پھرتا بھی تھا۔ اس گاڑی پر تین بار قاتلانہ حملہ ہوا مگر ہر بار ٹیپو بچ نکلا۔ حنیفہ و بابا کی جانب سے بار بار کے حملوں سے تنگ ہو کر بلآخر وہ اپنے خاندان سمیت ملک چھوڑ کر دبئی منتقل ہو گیا اور وہاں ایک ہوٹل خرید لیا۔ٹیپو نے تینوں بیٹوں اور ایک بیٹی کو ملک سے باہر پڑھایا۔ ٹیپو کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔ اس کی لاہور میں جائز ناجائز اربوں روپے کی جائیدادیں تھیں۔
گینگ کو چھوڑنا یا پرانی زندگی سے نکلنا اس کے لیے ناممکن تھا۔ اس لیے وہ دبئی میں زیادہ عرصہ نہ ٹھہر سکا۔ پھر یوں ہونے لگا کہ وہ فیملی سے مل کر کچھ عرصے بعد واپس لاہور آ جاتا۔بائیس جنوری سنہ 2010 کو ٹیپو دبئی سے لاہور جانے والی پرواز میں بیٹھا تھا اور کوئی اس کی ہر حرکت پر نظر رکھی ہوئے تھا۔لاہور میں پانچ بہترین نشانہ بازوں کو ایک ہائی پروفائل قتل کی سپاری دی گئی تھی۔ لیکن جب کرائے کے قاتلوں کو ان کے ٹارگٹ ٹیپو کا نام بتایا گیا تو چاروں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے لیکن پانچویں نشانے باز خرم بٹ نے ٹیپو کو تنہا مارنے کی حامی بھر لی۔
خرم بٹ کا بھائی ٹیپو کے ہاتھوں بے دردی سے مارا گیا تھا اور وہ ہر قیمت پر بھائی کے قتل کا بدلہ چاہتا تھا۔ ائرپورٹ پر اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن خرم بٹ کو ائرپورٹ کے اندر اسلحہ پہنچا دیا گیا۔ جیسے ہی ٹیپو کار پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف آتا ہے خرم اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔ ٹیپو چوبیس گھنٹے ہسپتال میں موت سے لڑتا رہا اور پھر یہ جنگ ہار گیا۔ جان چلی گئی لیکن دشمنی ابھی بھی باقی تھی۔۔
ٹیپو جاتے جاتے اپنے باپ کے قتل سے شروع ہونے والی سولہ سالہ دشمنی اپنے اٹھارہ سالہ بیٹھے امیر بالاج کو ورثے میں دے گیا۔بالاج نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ملک سے باہر گزارا تھا جہاں وہ اور اس کے بہن بھائی بہترین سکولز میں پڑھے تھے۔ باپ کے قتل کے بعد اب بالاج کو اٹھارہ سال کی عمر میں ڈیرہ سنبھالنا تھا۔مگر وہ اپنے خاندان کو ورثے میں ملی دشمنیاں ختم کرنا چاہتا تھا۔ ٹیپو ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ میں اپنے باپ کا بدلہ لوں گا۔ وہ طیفی اور گوگی کو نہیں مار سکا اور خود مارا گیا۔
ٹیپو کا بیٹا بالاج ٹرکاں والا صلح صفائی چاہتا تھا۔ وہ پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ اس دشمنی کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کوشش کی لیکن صلح صفائی میں پڑنے اور دنوں گینگز کی گارنٹی لینے کو کوئی تیار نہ تھا۔ ٹیپو کے بعد بندوقیں کچھ عرصہ خاموش رہیں۔ امیر بالاج نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرا باپ قتل ہو گیا اور دشمنی کا ڈھول میرے گلے میں ڈال گیا۔میری مجبوری ہے کہ مجھے یہ ڈھول بجانا ہی پڑے گا۔ بالاج جب بھی دشمنی ختم کرنے کی بات کرتا کوئی نہ کوئی اس کے سامنے آ کر اسے اپنے باپ دادا اور رشتہ دار کا خون یاد دلا دیتا۔ اُدھر طیفی بٹ گینگ کو یہ خطرہ تھا کہ بالاج ان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھے کہ ٹیپو کا بیٹا دشمنی ختم کرنے میں مخلص ہو سکتا ہے۔
بالاج ڈیرے کی چار دیواری چھوڑ کر کہیں بھی نکلتا تو اسلحہ سے لیس محافظوں کا قافلہ اس کے آگے پیچھے ہوتا لیکن اس کا قلعے جیسا ڈیرہ اور محافظوں کا ٹولہ نہ تو دادا کی جان بچا سکا تھا نہ ہی باپ کی۔ ٹرکاں والا خاندان کے نصیب میں ایک اور موت لکھی جا چکی تھی۔ فروری سنہ 2024 لاہور کی ایک سوسائٹی میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ڈی ایس پی اکبر کے گھر میں شادی کے لیے راستے پہ جگہ جگہ پولیس والے کھڑے ہیں۔ یہاں آنے والے ہر شخص کو دو سیکیورٹی لیئرز سے گزرنا پڑتا تھا۔اسلحہ تو دور وہاں سوئی لانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
تقریب میں ایک فوٹوگرافر کافی دیر سے لوگوں کی تصاویر لیتے کبھی سٹیج تو کبھی میز کے اردگرد مہمانوں کے پاس دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس کی نظریں بار بار اینٹرنس گیٹ پر اٹھتی ہیں۔ جیسے وہ کسی کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہا ہو۔ سب مہمان آ چکے تھے لیکن ڈی ایس پی اکبر کو تو بس اپنے عزیز دوست کا انتظار ہے۔بلآخر بندوق بردار محافظوں سے لدی گاڑیاں امیر بالاج کو لیے اڑتی ہوئی اپنی منزل تک آ پہنچیں۔اچانک فوٹو گرافر نے کیمرہ پھینک کر اپنے لباس سے ایک پستول نکالی اور بالاج پر فائر کر دیا۔ محافظوں نے پہلا فائر سنتے ہی جوابی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ چار گولیاں بالاج کے جسم کو چھلنی کر چکی تھیں۔اس کی لاش زمین پر پڑی تھی۔
اس گینگ وار کے دوران تین نسلیں گزریں اور بیسیوں افراد دشمنی کی آگ میں جل گئے۔بلا سے بالاج تک اس لڑائی میں زیادہ نقصان ٹرکاں والا فیملی نے اٹھایا۔طیفی بٹ کو دو روز قبل سی سی ڈی نے دبئی انٹرپول سے منگوا کر پولیس مقابلے میں پار لگا دیا ہے۔ گوگی بٹ کی تلاش کے لیے چھاپے جاری ہیں اور شنید ہے کہ اسے بھی پار لگا کر اس گینگ وار کا باب ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے گا۔لیکن لاہور میں جرائم کی دنیا ابھی موجود ہے۔کئی گینگسٹرز آج بھی بٹ اور ٹرکاں والا کی جگہ لینے کیلئے بے چین ہیں۔
یہ ساری داستان بہت اختصار کے ساتھ بیان کی ہے۔ اس کی تفصیلات میں جائیں تو یہ بہت طویل اور بہت سنسنی خیز داستان ہے۔ کوشش کی ہے کہ خلاصہ لکھ دوں۔ اس پر ایک بہترین ویب سیریز پروڈیوس ہو سکتی ہے۔ کہانی سچی ہے۔ کہانی جرم کی ہے۔ کہانی سیاست کی ہے۔ کہانی کرپٹ سسٹم اور پولیس کے کردار کی ہے۔ بہت سے کردار ابھی ذکر میں نہیں آ سکے۔ اس داستان کا ہر کردار ایک منفرد کریکٹر ہے۔ ہر کریکٹر کا الگ بیک گراؤنڈ ہے۔ ہر کردار کی اپنی الگ کہانی ہے۔ دشمنیاں، بدمعاشی، قتل و غارت، ڈرگز، سسپنس، ایکشن، ڈرامہ، ۔۔۔۔
نتھو کو دنیا سے گئے کچھ زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ اس کی گدی اس کے بیٹے نے سنبھال لی ۔امیر الدین عرف بلا ۔ وہ باپ سے بھی چار ہاتھ آگے تھا۔ اپنا زور بڑھانے کے لیے بلے نے پولیس افسروں اور بااثر مقامی لوگوں سے دوستیاں بنانا شروع کر دیں۔اس نے ایک پنچائتی ڈیرہ سا بنا لیا تھا جہاں وہ لوگوں کے لین دین کے آپسی تنازعات سیٹل کرتا تھا اور اپنا “کمیشن” بھی دونوں پارٹیوں سے لیتا تھا۔شاہ عالمی مارکیٹ میں اس کے باپ کی دھاک پہلے سے ہی تھی۔ بلے نے یہاں ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ کا کام شروع کیا جو پھیلتا چلا گیا۔کہا جاتا ہے اس کام کے لیے ابتدائی طور پر سرمایہ لاہور کے ایک بااثر سیاسی خاندان نے لگایا تھا۔یہیں سے اس کا نام پڑ گیا بلا ٹرکاں والا۔
بلا ٹرکاں والا نے ساری زندگی پستول اپنی جیب میں نہیں رکھا، وہ اس کا سٹائل ہی نہیں تھا۔یہ کاروباری آدمی بھی نہیں تھا۔ اس کے ٹرک اڈے پر چھوٹے موٹے جرائم پیشہ کن کٹے ٹائپ لوگ جمع ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ بلا ان کو چرس اور دیگر لوازمات پیش کرتا اور یوں اس نے ایک گینگ سا تشکیل دے رکھا تھا۔ بلے کا کام تو یہ تھا ٹیلی فون پر بیٹھ کر اس کو اٹھا لو اس کو پکڑ لو۔ بسیکلی وہ دکانوں پر قبضہ کرانے میں دلچسپی لیتا تھا منشیات فروش نہیں تھا، جوا نہیں کراتا تھا۔
ٹرکاں والا خاندان کشمیری ہے جس میں کئی نامی گرامی پہلوان گزرے ہیں ۔ آج ان کا گڈز ٹرانسپورٹ کا بڑا کاروبار ہے ۔ پورے ملک میں ان کے سینکڑوں ٹرکس سامان لیے پھرتے ہیں۔ ٹرکاں والا کا ڈیرہ کیسے اشتہاری مجرموں کی پناہ گاہ بنا، زمینوں پر قبضے سے لے کر قتل تک جرائم کا کاروبار کیسے پھیلتا چلا گیا۔ یہ داستان ہے لاہور انڈر ورلڈ کی اور بہت سنسنی خیز فلمی داستان ہے۔ بااثر سیاسی لوگوں کی آشیرباد اور پولیس افسران کے گٹھ جوڑ سے لاہور میں دو بڑے گینگ وجود میں آئے جو ایک دوسرے سے اختیار و طاقت کے حصول کے لیے لڑتے رہے۔ مارتے رہے۔ مرتے رہے۔
بلا ٹرکاں والا نے تین دوستوں کو ملا کر ایک گروپ بنایا۔ الیاس جٹ جو فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کا رکن اسمبلی تھا۔ پیلا پہلوان جو سونے کے سمگلروں میں ڈان مشہور تھا اور صوبائی اسمبلی کا رکن بھی تھا۔ ایس پی امان اللہ، جعلی پولیس مقابلے میں بندے پھڑکانے میں اس کا بھی کوئی ثانی نہ تھا۔ یہ سب عالم چوک پر بلا ٹرکاں والا کے ڈیرے پر روز محفل لگاتے۔ ایس پی امان اللہ کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ بات بعد میں کرتا تھا بندہ پہلے مار دیتا تھا۔ اب انہوں نے لاہور پر حکومت شروع کر دی۔ ایک یونیورسٹی کھول دی جس میں جرائم کی دنیا کے لوگ پرورش پاتے تھے۔
اب بلا لاہور انڈر ورلڈ کا بادشاہ بن چکا تھا۔ہر گینگ اور ہر اشتہاری اس کی صحبت میں تھا۔ شفیق عرف بابا ، حنیف عرف حنیفہ ، اکبر عرف جٹ، ہمایوں گجر اور بھولا سنیارا جیسے بڑے بدمعاش اس کی مٹھی میں تھے۔ یہ سب گینگسٹرز تھے۔ حنیفہ اور بابا دونوں سگے بھائی تھے ۔ بلا ٹرکاں والا ان کو اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتا تھا اور وہ بھی بلے کو ابا کا درجہ دیتے تھے۔ اور وہ اسی طرح پلے بڑھے جیسے بلے کا سگا بیٹا ٹیپو ٹرکاں والا پلا بڑھا۔ بلے کے ایک اشارے پر یہ لوگ سب کچھ کر گزرتے تھے۔
ایک روز بابا ، حنیف اور بلے کے سگے بیٹے ٹیپو نے اکبری گیٹ میں ایک رہائشی امیر الدین تارہ والا کو دو دوستوں سمیت قتل کر دیا۔ معاملہ دکان پر قبضے کا تھا۔ پولیس کیس ہوا تو بابا اور حنیفہ کے ساتھ بلے کا بیٹا ٹیپو بھی نامزد ہوا۔یہ تینوں قتل ٹیپو نے فائر کر کے کئیے تھے مگر بلے نے کمال ہوشیاری سے اپنے سیاسی تعلقات کے بل بوتے اپنے بیٹے کا نام کیس سے نکلوا دیا۔ بابا اور حنیفہ سے کہا کہ وہ ابھی اپنا جرم قبول کر لیں بہت جلد انہیں جیل سے وہ چھڑوا لے گا۔ انہوں نے قبول کر لیا۔ لیکن بلا ان کو چھڑوا نہ سکا۔ بابا اور حنیفہ کو سات سال قید ہو گئی۔
اس موڑ پر یہاں انٹری ہوتی ہے گوالمنڈی کے طیفی بٹ اور گوگی بٹ کی جو ٹرکاں والا خاندان کے سب سے بڑے دشمن مشہور ہیں۔ طیفی اور گوگی آپس میں کزن تھے لیکن دونوں کی جوڑی سگے بھائیوں جیسی تھی۔ یہ ہر وقت ہر جگہ اکٹھے نظر آتے تھے۔ ان کا خاندان گوالمنڈی کا بااثر تاجر خاندان تھا۔ گوالمنڈی فوڈ سٹریٹ لاہور کی پہلی فوڈ سٹریٹ تھی جو انہوں نے بنائی تھی۔اس وقت نواز شریف پنجاب کے چیف منسٹر بنے تھے وہ خود افتتاح کرنے آئے تھے۔یہ خواجہ کشمیری تھے۔ ان کے بڑے بھائی اور بزرگ اکبری منڈی اور گوالمنڈی مارکیٹ کے صدر تھے۔ گوالمنڈی اور شاہ عالمی میں تھوڑا ہی فاصلہ ہے۔
پنجاب سمیت ملک بھر سے آئے سامان کا لین دین اندرون لاہور کے انہی بازاروں میں ہوتا ہے۔بلا ٹرکاں والا کا گڈز ٹرنسپورٹ کا اڈا تھا۔ بات دراصل علاقے میں چودراہٹ قائم کرنے کے ساتھ منڈیوں پر کنٹرول اور دھاک بٹھانے کی تھی۔ گوالمنڈی کے طیفی اور گوگی بٹ بلا ٹرکاں والے کے سامنے بچے تھے مگر یہ بات انہیں قبول نہ تھی کیونکہ وہ خود کو زیادہ بااثر، پیسے والا اور کھرپینچ سمجھتے تھے۔طیفی اور گوگی بٹ نے سامنے آئے بغیر بلے کا پتہ صاف کرنے کی ٹھانی۔۔
بابا اور حنیفہ اپنی سزا بھگت کر باہر آئے تو انہوں نے بلے کے خلاف انہیں خوب بھڑکایا۔ ان دونوں کے دماغ میں یہ بات اچھی طرح اتار دی کہ بلے نے اپنے بیٹے کو تو بچا لیا مگر تم دونوں کو جیل میں سڑتا چھوڑ دیا۔اگر تم اس کے حقیقی بچے ہوتے تو وہ ٹیپو کی طرح تمہیں بھی مقدمے سے نکلوا لیتا ۔ ٹیپو نے بندہ قتل کیا تھا لیکن وہ جیل نہیں گیا۔ تمہیں اس نے دھوکا دے کر جرم قبول کروا کے جیل بھیج دیا۔ الغرض بابا اور حنیفہ کے سر پر ایک بھوت سوار ہو گیا کہ وہ ہر قیمت پر بلے اور ٹیپو سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔
طیفی اور گوگی تو ماسٹر پلانر تھے ہی۔ بھولا سنیارا جیسا خطرناک گروہ بھی بلے سے ٹوٹ کر ان کے ساتھ ہو لیا۔ بھولا سنیارا کو بھی بٹوں نے اپنے دام میں پھنسا لیا تھا۔ سنہ 1994 کی ایک صبح جب بلا اپنے ٹرک اڈے پر نماز فجر کی تیاری کر رہا تھا، گھات لگائے بابا اور حنیفہ نے گولیوں کی برسات کر دی۔ بلا اپنے ہی اڈے پرقتل ہو گیا۔ یہاں سے شروع ہوتی ہے لاہور انڈر ورلڈ کی وہ کہانی جس نے لاہور میں خونی دشمنی کا بازار گرم کر دیا۔
باپ کی موت نے ٹیپو کو زخمی شیر بنا دیا اور اس نے باپ کے ڈیرے کو قلعہ بنا کر دشمنی کا جواب دینا شروع کر دیا۔اس کے ڈیرے پر درجنوں محافظ ہر وقت آٹومیٹک ہتھیار لیےموجود رہتے۔ ٹیپو ایک پہلوان اور شیروں کا شوقین تھا۔ اپنے ڈیرے پر اس نے دس شیر پال رکھے تھے جن کو وہ کھلا ساتھ لیے پھرتا اور ان کو اپنے ہاتھوں سے کھانا اور قلفیاں کھلاتا۔ ٹیپو بالکل انپڑھ تھا۔ اس نے ایک بندہ ملازم رکھا ہوا تھا جو اس کو اخبار پڑھ کے سناتا تھا۔ اس کا ملنا ملانا بہت تھا ۔ جتنے بھی بڑے سے بڑے پولیس آفیسرز تھے اور خاص طور پر جو رینکرز پولیس آفیسرز تھے ان کا اس ساری لڑائی میں بڑا رول رہا۔ وہ بہت آکے دونوں طرف کے ڈیروں پر بیٹھتے تھے۔
بلا کے قتل کے بعد دشمنی کی دہکتی آگ نے کئی گھرانوں کے چراغ گل کیئے۔ ایک دوسرے کے بندوں کا قتل ہوتا رہا۔گینگ وار شروع ہو چکی تھی ۔ہمایوں گجر، ناجی بٹ ، مناظر شاہ ، داؤد ناصر، ثنا گجر اور پنجاب کے کئی اور نامور اشتہاری گینگسٹرز ایک ایک کر کے طیفی و گوگی بٹ سے جا ملے ۔ حنیفہ اور بابا جو کبھی ٹیپو کی طاقت ہوا کرتے تھے وہ پہلے ہی طیفی و گوگی کی صفوں میں تھے ۔ ٹیپو ان سب سے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے بیتاب تھا۔ یہاں ٹیپو نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔
نعیم اور قیصر نامی گینگسٹر طیفی گروپ میں ٹیپو کیلئے کام کرنے لگے۔ بھولا سنیارا گروپ کے بھی کئی لوگ پیسے لے کر ٹیپو کیلئے مخبری کیا کرتے۔اور جو لوکل گینگسٹر تھے جو اس علاقے میں خاص طور پر والڈ سٹی یا اندرون لاہور میں بہت پنپ رہے تھے ، وہ دونوں گروپس کے ساتھ اپنے آپ کو لنک کیا کرتے تھے۔ کیونکہ اس طرح ان کی گرپ بڑھتی تھی کہ فلانا فلانا اس کے گینگ میں شامل ہو گیا ، فلانا اس کے گینگ میں شامل ہو گیا۔ٹیپو نے اپنے باپ سے ایک ہی بات سیکھی تھی کہ دھاک بٹھاؤ اور سامنے آئے بغیر کام نکلواتے جاؤ ۔ باپ کا انداز اپناتے ہوئے اس نے ایک ایک کر کے تمام دشمنوں کو مروانا شروع کر دیا۔
اس کام کے لیے ٹیپو نے کرائے کے قاتلوں کا اور پولیس مقابلوں کا سہارا لیا ۔ پہلے اس نے بھولا سنیارا کو مخبری کر کے مروایا ،پھر ناجی بٹ اور ہمایوں گجر جیسے گینگسٹر بھی مارے گئے۔انسپکٹر نوید نے شاہدرہ میں پولیس مقابلے کر کے انہیں گولیوں سےبھون ڈالا ۔ٹیپو نے طیفی بٹ گینگ کے داؤد ناصر کو بھی نہیں چھوڑا جو بٹ کا رائٹ ہینڈ سمجھا جاتا تھا۔ نوے کے دہائی میں شاہ عالم گیٹ اور اندرون لاہور میں ٹیپو ٹرکاں والا خوف اور دہشت کی علامت بن چکا تھا۔ طیفی بٹ بھی موت بانٹنے کے کھیل میں ٹیپو سے پیچھے نہ تھا۔
دشمنی کی آگ میں دونوں گروہوں نے کروڑوں روپے جھونک ڈالے۔ ایس ایس پی سے لے کر کانسٹیبل تک پولیس کا ہر فرد اس لڑائی کا حصہ بنتا چلا گیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انسپکٹر عابد باکسر کے پولیس مقابلے مشہور ہو رہے تھے۔ اشتہاری ایک ایک کر کر ختم ہو رہے تھے۔ ٹیپو اور طیفی بٹ نے ایک دوسرے پر مقدمے کرنا شروع کر دیے تھے۔ کہتے ہیں دشمن داری کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ ٹیپو اور طیفی کی دشمنی سے ان کی خواتین اب تک بچی ہوئیں تھیں۔مگر ایک روز ٹیپو نے ریڈ لائن کراس کر لی۔ پولیس میں اپنے لوگوں کے ذریعے اس نے حنیفہ اور بابا کی خواتین کو اٹھا لیا۔حنیفہ اور بابا اپنی خواتین پر آنچ آتی دیکھ کر غصے سے پاگل ہو گئے۔
اب ان دونوں نے باپ کے بعد بیٹے کو سبق سکھانے کی ٹھانی ۔ سنہ 2003 میں ٹیپو ایک مقدمے کی پیشی پر آیا تو لاہور کچہری کے باہر اس پر ایک بڑا قاتلانہ حملہ ہوا۔ یہ حملہ مبین بٹ کے ذریعے کیا گیا جو کہ مشہور کرائے کا قاتل تھا۔ٹیپو کے پانچ گارڈز مارے گئے اور وہ خود بھی شدید زخمی ہوا۔ٹیپو کے لیفٹ رائٹ گولیاں چل رہی تھیں لیکن وہ بھاگ کر مجسٹریٹ کی عدالت میں گھس گیا۔ مقدمہ طیفی اور گوگی بٹ پر درج ہوا۔حنیفہ اور بابا نے ٹیپو پر کئی قاتلانہ حملے کروائے مگر قسمت یاوری کرتی رہی اور وہ ہر بار بچ نکلا۔
ٹیپو کے پاس گرے رنگ کی ایک شراڈ کار ہوتی تھی جو اس کو بہت پسند تھی۔ ٹیپو اس میں پھرتا بھی تھا۔ اس گاڑی پر تین بار قاتلانہ حملہ ہوا مگر ہر بار ٹیپو بچ نکلا۔ حنیفہ و بابا کی جانب سے بار بار کے حملوں سے تنگ ہو کر بلآخر وہ اپنے خاندان سمیت ملک چھوڑ کر دبئی منتقل ہو گیا اور وہاں ایک ہوٹل خرید لیا۔ٹیپو نے تینوں بیٹوں اور ایک بیٹی کو ملک سے باہر پڑھایا۔ ٹیپو کوئی معمولی آدمی نہیں تھا۔ اس کی لاہور میں جائز ناجائز اربوں روپے کی جائیدادیں تھیں۔
گینگ کو چھوڑنا یا پرانی زندگی سے نکلنا اس کے لیے ناممکن تھا۔ اس لیے وہ دبئی میں زیادہ عرصہ نہ ٹھہر سکا۔ پھر یوں ہونے لگا کہ وہ فیملی سے مل کر کچھ عرصے بعد واپس لاہور آ جاتا۔بائیس جنوری سنہ 2010 کو ٹیپو دبئی سے لاہور جانے والی پرواز میں بیٹھا تھا اور کوئی اس کی ہر حرکت پر نظر رکھی ہوئے تھا۔لاہور میں پانچ بہترین نشانہ بازوں کو ایک ہائی پروفائل قتل کی سپاری دی گئی تھی۔ لیکن جب کرائے کے قاتلوں کو ان کے ٹارگٹ ٹیپو کا نام بتایا گیا تو چاروں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے لیکن پانچویں نشانے باز خرم بٹ نے ٹیپو کو تنہا مارنے کی حامی بھر لی۔
خرم بٹ کا بھائی ٹیپو کے ہاتھوں بے دردی سے مارا گیا تھا اور وہ ہر قیمت پر بھائی کے قتل کا بدلہ چاہتا تھا۔ ائرپورٹ پر اسلحہ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن خرم بٹ کو ائرپورٹ کے اندر اسلحہ پہنچا دیا گیا۔ جیسے ہی ٹیپو کار پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف آتا ہے خرم اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔ ٹیپو چوبیس گھنٹے ہسپتال میں موت سے لڑتا رہا اور پھر یہ جنگ ہار گیا۔ جان چلی گئی لیکن دشمنی ابھی بھی باقی تھی۔۔
ٹیپو جاتے جاتے اپنے باپ کے قتل سے شروع ہونے والی سولہ سالہ دشمنی اپنے اٹھارہ سالہ بیٹھے امیر بالاج کو ورثے میں دے گیا۔بالاج نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ملک سے باہر گزارا تھا جہاں وہ اور اس کے بہن بھائی بہترین سکولز میں پڑھے تھے۔ باپ کے قتل کے بعد اب بالاج کو اٹھارہ سال کی عمر میں ڈیرہ سنبھالنا تھا۔مگر وہ اپنے خاندان کو ورثے میں ملی دشمنیاں ختم کرنا چاہتا تھا۔ ٹیپو ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ میں اپنے باپ کا بدلہ لوں گا۔ وہ طیفی اور گوگی کو نہیں مار سکا اور خود مارا گیا۔
ٹیپو کا بیٹا بالاج ٹرکاں والا صلح صفائی چاہتا تھا۔ وہ پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ اس دشمنی کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کوشش کی لیکن صلح صفائی میں پڑنے اور دنوں گینگز کی گارنٹی لینے کو کوئی تیار نہ تھا۔ ٹیپو کے بعد بندوقیں کچھ عرصہ خاموش رہیں۔ امیر بالاج نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرا باپ قتل ہو گیا اور دشمنی کا ڈھول میرے گلے میں ڈال گیا۔میری مجبوری ہے کہ مجھے یہ ڈھول بجانا ہی پڑے گا۔ بالاج جب بھی دشمنی ختم کرنے کی بات کرتا کوئی نہ کوئی اس کے سامنے آ کر اسے اپنے باپ دادا اور رشتہ دار کا خون یاد دلا دیتا۔ اُدھر طیفی بٹ گینگ کو یہ خطرہ تھا کہ بالاج ان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھے کہ ٹیپو کا بیٹا دشمنی ختم کرنے میں مخلص ہو سکتا ہے۔
بالاج ڈیرے کی چار دیواری چھوڑ کر کہیں بھی نکلتا تو اسلحہ سے لیس محافظوں کا قافلہ اس کے آگے پیچھے ہوتا لیکن اس کا قلعے جیسا ڈیرہ اور محافظوں کا ٹولہ نہ تو دادا کی جان بچا سکا تھا نہ ہی باپ کی۔ ٹرکاں والا خاندان کے نصیب میں ایک اور موت لکھی جا چکی تھی۔ فروری سنہ 2024 لاہور کی ایک سوسائٹی میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ڈی ایس پی اکبر کے گھر میں شادی کے لیے راستے پہ جگہ جگہ پولیس والے کھڑے ہیں۔ یہاں آنے والے ہر شخص کو دو سیکیورٹی لیئرز سے گزرنا پڑتا تھا۔اسلحہ تو دور وہاں سوئی لانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔
تقریب میں ایک فوٹوگرافر کافی دیر سے لوگوں کی تصاویر لیتے کبھی سٹیج تو کبھی میز کے اردگرد مہمانوں کے پاس دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس کی نظریں بار بار اینٹرنس گیٹ پر اٹھتی ہیں۔ جیسے وہ کسی کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہا ہو۔ سب مہمان آ چکے تھے لیکن ڈی ایس پی اکبر کو تو بس اپنے عزیز دوست کا انتظار ہے۔بلآخر بندوق بردار محافظوں سے لدی گاڑیاں امیر بالاج کو لیے اڑتی ہوئی اپنی منزل تک آ پہنچیں۔اچانک فوٹو گرافر نے کیمرہ پھینک کر اپنے لباس سے ایک پستول نکالی اور بالاج پر فائر کر دیا۔ محافظوں نے پہلا فائر سنتے ہی جوابی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ چار گولیاں بالاج کے جسم کو چھلنی کر چکی تھیں۔اس کی لاش زمین پر پڑی تھی۔
اس گینگ وار کے دوران تین نسلیں گزریں اور بیسیوں افراد دشمنی کی آگ میں جل گئے۔بلا سے بالاج تک اس لڑائی میں زیادہ نقصان ٹرکاں والا فیملی نے اٹھایا۔طیفی بٹ کو دو روز قبل سی سی ڈی نے دبئی انٹرپول سے منگوا کر پولیس مقابلے میں پار لگا دیا ہے۔ گوگی بٹ کی تلاش کے لیے چھاپے جاری ہیں اور شنید ہے کہ اسے بھی پار لگا کر اس گینگ وار کا باب ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے گا۔لیکن لاہور میں جرائم کی دنیا ابھی موجود ہے۔کئی گینگسٹرز آج بھی بٹ اور ٹرکاں والا کی جگہ لینے کیلئے بے چین ہیں۔
یہ ساری داستان بہت اختصار کے ساتھ بیان کی ہے۔ اس کی تفصیلات میں جائیں تو یہ بہت طویل اور بہت سنسنی خیز داستان ہے۔ کوشش کی ہے کہ خلاصہ لکھ دوں۔ اس پر ایک بہترین ویب سیریز پروڈیوس ہو سکتی ہے۔ کہانی سچی ہے۔ کہانی جرم کی ہے۔ کہانی سیاست کی ہے۔ کہانی کرپٹ سسٹم اور پولیس کے کردار کی ہے۔ بہت سے کردار ابھی ذکر میں نہیں آ سکے۔ اس داستان کا ہر کردار ایک منفرد کریکٹر ہے۔ ہر کریکٹر کا الگ بیک گراؤنڈ ہے۔ ہر کردار کی اپنی الگ کہانی ہے۔ دشمنیاں، بدمعاشی، قتل و غارت، ڈرگز، سسپنس، ایکشن، ڈرامہ، ۔۔۔۔
October 12, 2025
Essential vitamins for Body
ان نشانیوں اشاروں پر توجہ دیں۔
ہمارے جسم اکثر ہم سے بات کرتے ہیں لیکن بہت سے معاملات میں، ہم سننے میں بہت مصروف نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ ابھی تک سگنل بھیجتا ہے جب اس میں اہم غذائی اجزاء کی کمی ہوتی ہے۔
میں آپ کو ان علامات کی فہرست دیتا ہوں جن پر آپ کو توجہ دینی چاہیے اور ان کا کیا مطلب ہو سکتا ہے:
1. آپ کے منہ کے کونوں میں دراڑیں: آئرن، زنک، یا بی وٹامنز (خاص طور پر B2، B3، اور B12) کی کمی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
2. ٹوٹے ہوئے بال اور ناخن: اکثر بایوٹین (B7) کی کمی یا پروٹین کی کم مقدار کی علامت ہوتی ہے۔
3. پٹھوں میں درد یا اینٹھن: اس کا مطلب میگنیشیم، پوٹاشیم یا کیلشیم کی کمی ہو سکتی ہے۔
4. بار بار تھکاوٹ یا کمزوری: لوہے، وٹامن ڈی، یا B12 کی کم سطح کی طرف اشارہ کر سکتا ہے۔
5. خشک یا کھردری جلد: وٹامن A اور C، یا ضروری فیٹی ایسڈز کی ضرورت کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
6. خراب نائٹ ویژن یا خشک آنکھیں: اکثر وٹامن اے کی کمی سے منسلک ہوتے ہیں۔
7. ہاتھوں اور پیروں میں جھنجھناہٹ یا بے حسی: بی وٹامن کی کم سطح کا اشارہ دے سکتا ہے، خاص طور پر B6، B12، یا فولیٹ۔
8. مسوڑھوں سے خون بہنا یا آسانی سے خراشیں: وٹامن سی کی کم مقدار کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
9. مسلسل منہ کے چھالے یا زخم: آئرن، زنک، یا بی وٹامنز کی ضرورت کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
10. بے چین ٹانگیں یا نیند میں پریشانی: میگنیشیم یا آئرن کی کمی سے منسلک ہو سکتا ہے۔
11. ناخنوں پر سفید دھبے: اکثر زنک کی کمی سے جڑے ہوتے ہیں۔
12. بالوں کا پتلا ہونا یا بالوں کا گرنا: کم آئرن، پروٹین یا بایوٹین کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
13. ہلکی یا پیلی جلد: آئرن، B12، یا فولیٹ کی کمی کا مشورہ دے سکتی ہے۔
14. مسلسل بھوک یا خواہش: کم پروٹین، فائبر، یا میگنیشیم جیسے مخصوص مائیکرو نیوٹرینٹس کی علامت ہو سکتی ہے۔
15. ٹھنڈے ہاتھ اور پاؤں: آئرن کی کمی یا تھائیرائیڈ کے عدم توازن کی وجہ سے خراب گردش کا اشارہ دے سکتا ہے۔
16. زخم کا سست ہونا: اکثر وٹامن سی، زنک یا پروٹین کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
17. بار بار سر درد یا چکر آنا: پانی کی کمی یا لوہے کی کم سطح کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
18. پریشانی یا موڈ میں تبدیلی: کم میگنیشیم، زنک، یا اومیگا 3 فیٹی ایسڈ سے متعلق ہو سکتا ہے.
19. جوڑوں کا درد یا سختی: وٹامن ڈی یا اومیگا 3 کی کمی کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
20. قبض یا ہاضمے کے مسائل: ناکافی فائبر، میگنیشیم، یا پانی کی مقدار کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔
میرے بھائی اور میری بہن، میں ان علامات پر توجہ دینے کی درخواست کرتا ہوں۔ صحیح غذائی اجزاء کے ساتھ اپنے جسم کی پرورش توازن کو بحال کرنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔
Cracks at the Corners of Your Mouth
♦️✿✿نوٹ
پوسٹ شئیرنگ مفید معلومات و مفاد عامہ ایجوکیشنل پرپوز کے لیے ہے، جو اظہار کیا گیا ہے تشخیص و تجویز علاج معالج کا بدل نہیں، برائے مہربانی صحت کے مسائل کے کسی بھی علاج کے لیے اپنے ہیلتھ فزیشن سے رجوع کریں
Don't be so good that you are swallowed, and don't be so bad that you are spat out
شہزادہ اور پاکستانی نوجوان
شاہینوں, کبھی تم نے خود سے یہ سوال کیا ہے؟
"میں تو نیکی کرتا ہوں، کسی کا دل نہیں دکھاتا، کسی کا حق نہیں مارتا — پھر میرے ساتھ یہ سب کیوں ہوتا ہے؟"
تم دفتر میں ایمانداری دکھاؤ تو چالاک لوگ ترقی لے جاتے ہیں۔
تم کاروبار میں سچ بولو تو جھوٹے زیادہ کماتے ہیں۔
تم صبر کرو، معاف کرو، مدد کرو — مگر بدلے میں طنز، دھوکہ، اور تنہائی ملتی ہے۔
دل کہتا ہے شاید نیکی اب اس دنیا میں فائدہ نہیں دیتی۔
مگر رکو۔۔۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں نیک انسان کمزور بنتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ نیکی کا مطلب ہے دوسروں کے لیے قربانی دینا، خود کے لیے خاموش رہنا۔
اور یہ وہی مقام ہے جہاں میکیاویلی کی کتاب The Prince حقیقت کا آئینہ بن جاتی ہے۔
میکیاویلی نے پانچ سو سال پہلے کہا تھا —
“نیکی اگر اندھی ہو، تو وہ کمزوری بن جاتی ہے۔
مگر نیکی اگر عقل کے ساتھ ہو، تو وہ سب سے بڑی طاقت ہے۔”
یہ کہانی اُن سب پاکستانیوں کے لیے ہے جو نیکی کرتے ہیں مگر تھک جاتے ہیں۔
جو سچ بولتے ہیں مگر ہار جاتے ہیں۔
جو خیر بانٹتے ہیں مگر خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔
یہ کہانی اُنہیں بتاتی ہے کہ نیکی چھوڑو مت — مگر اسے سمجھ کے کرو۔
نکولو میکیاویلی کوئی ظالم یا سازشی انسان نہیں تھا جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔
وہ فلورنس (اٹلی) کا ایک سفارت کار اور فلسفی تھا،
جس نے زندگی بھر عدل، طاقت، اور انسانیت کے توازن کو سمجھنے کی کوشش کی۔
اس نے The Prince میں لکھا:
“دنیا ظالم نہیں، عملی ہے۔
اگر تم صرف اچھے رہو گے تو تمہیں استعمال کیا جائے گا۔
اگر تم صرف سخت رہو گے تو تمہیں اکیلا کر دیا جائے گا۔
کامیاب وہ ہے جو دل میں نیکی رکھ کر دماغ سے فیصلے کرے۔”
یہ بات پاکستان کے نوجوانوں کے لیے آج زندگی بدل دینے والی سچائی ہے۔
پاکستان اور The Prince — آئینہ ایک دوسرے کا
ہم ایک ایسی قوم ہیں جہاں جذبہ تو بہت ہے، مگر نظم نہیں۔
احساس تو ہے، مگر حکمت کی کمی ہے۔
ہم ہر معاملے میں “جذباتی مسلمان” بن جاتے ہیں، مگر “سمجھدار امت” نہیں بنتے۔
اور The Prince نے بھی یہی کہا:
“جذبات تمہیں محبت دلائیں گے، مگر عقل تمہیں اقتدار دے گی۔”
ہماری حکومتیں، ادارے، حتیٰ کہ کاروبار —
سب جذبات سے چلتے ہیں، حکمت سے نہیں۔
اسی لیے ہم اچھے لوگ ہونے کے باوجود کمزور ملک بنے ہوئے ہیں۔
The Prince کے بنیادی اصول – نوجوانوں کے لیے سبق
یہ وہ اصول ہیں جو ہر نوجوان کو سمجھنے چاہئیں —
چاہے وہ سیاست میں ہو، کاروبار میں، یا زندگی کی کسی جنگ میں۔
1. اچھے بنو، مگر اندھے نہیں
میکیاویلی کہتا ہے:
“نیکی اگر اندھی ہو تو دشمن تمہیں غلام بنا لیتے ہیں۔”
پاکستانی نوجوان اکثر یہی غلطی کرتے ہیں —
وہ سمجھتے ہیں کہ اچھا ہونا کافی ہے۔
نہیں!
اچھا ہونے کے ساتھ چالاک، باخبر، اور حکمت مند ہونا بھی ضروری ہے۔
نیکی تب طاقت بنتی ہے جب اس کے ساتھ علم اور تدبیر ہو۔
2. محبت اچھی ہے، مگر خوف زیادہ مؤثر ہے
یہ جملہ سخت لگتا ہے، مگر حقیقت یہی ہے۔
میکیاویلی لکھتا ہے:
“اگر تمہیں محبت اور خوف میں سے ایک چننا ہو تو خوف بہتر ہے —
کیونکہ محبت وقت کے ساتھ بدلتی ہے،
مگر خوف تمہیں بھلایا نہیں جانے دیتا۔”
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم ظالم بنو —
بلکہ ایسا کردار بناؤ کہ لوگ تمہیں عزت اور احتیاط سے یاد رکھیں۔
پاکستان کے ہر ادارے نے محبت بانٹی مگر ڈسپلن اور ڈنڈا چھوڑ دیا — نتیجہ یہ کہ نظام ٹوٹ گیا، عزت ختم ہو گئی۔
صرف ایک ادارہ بچا جس نے ڈسپلن اور ڈنڈا ہاتھ سے نہیں چھوڑا،
اسی لیے آج بھی قائم ہے، مضبوط ہے، اور بااثر ہے۔
3. طاقت صرف بندوق نہیں، نظم ہے
طاقت وہ نہیں جو بندوق سے نکلے —
طاقت وہ ہے جو فیصلے پر قائم رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔
میکیاویلی کہتا ہے:
“جو خود پر قابو نہیں رکھ سکتا، وہ دوسروں پر حکومت نہیں کر سکتا۔”
پاکستانی نوجوان اکثر باہر کی دنیا کو برا کہتے ہیں،
مگر اپنی عادات، وقت، وعدے، اور کام پر قابو نہیں رکھتے۔
طاقت حاصل کرنے سے پہلے ضبطِ نفس حاصل کرو۔
4. جذبات نہیں، نتائج دیکھو
میکیاویلی کہتا ہے:
“دنیا تمہارے نیت نہیں دیکھتی — تمہارے نتائج دیکھتی ہے۔”
ہم اکثر کہتے ہیں “میری نیت صاف تھی”۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ نیت سے نہیں، نتائج سے پہچان بنتی ہے۔
ایک ایماندار افسر اگر کام نہ کر سکے،
تو بدعنوان افسر سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔
اسی لیے نوجوانوں کو سیکھنا ہے:
صرف نیت نہیں، نظام بناؤ۔
5. اپنی نیکی کو قیمتی بناؤ
ہم ہر وقت سب کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن جب نیکی عام ہو جائے،
لوگ اس کی قدر نہیں کرتے — وہ اسے حق سمجھنے لگتے ہیں۔
میکیاویلی لکھتا ہے:
“جو ہر وقت دستیاب ہو، وہ آخرکار غیر اہم بن جاتا ہے۔”
اس لیے اپنی مدد کو حکمت کے ساتھ بانٹو۔
سب کے ساتھ اچھے رہو، مگر سب کے لیے خود کو قربان مت کرو۔
6. ظاہری نیکی اور اندرونی حکمت ساتھ رکھو
دنیا تمہارے دل کو نہیں دیکھتی، تمہارا تاثر دیکھتی ہے۔
میکیاویلی کہتا ہے:
“دنیا ظاہری کردار سے فیصلہ کرتی ہے —
اس لیے نیکی دکھاؤ، مگر عقل سے عمل کرو۔”
پاکستان میں بہت سے مخلص لوگ کاروبار میں ناکام ہوتے ہیں کیونکہ وہ “پیشہ ورانہ تاثر” نہیں رکھتے۔
دوسری طرف چالاک لوگ کامیاب نظر آتے ہیں کیونکہ وہ “دکھاوا سنبھالنا” جانتے ہیں۔
7. نیکی کا مقصد لوگوں کی واہ واہ نہیں، اللہ کی رضا ہو
یہ وہ سبق ہے جو The Prince کے فلسفے کو روحِ ایمان سے جوڑ دیتا ہے۔
اگر تم نے نیکی اس لیے کی کہ لوگ تعریف کریں —
تو تم نے نیکی کا انعام خود لوگوں سے لے لیا۔
مگر اگر تم نے نیکی صرف اللہ کے لیے کی —
تو تمہارا انعام ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے نیکی دکھاوے کے لیے کی، قیامت کے دن وہ اس کے منہ پر دے ماری جائے گی۔”
اس لیے پاکستانی نوجوانو، نیکی ضرور کرو —
مگر صرف اللہ کے لیے، عقل کے ساتھ۔
اگر میکیاویلی آج پاکستان میں ہوتا…
وہ تم سے کہتا:
“اے نوجوان! تمہاری نیکی تمہیں عزت دے سکتی ہے،
مگر صرف تب جب تم اسے حکمت کے سانچے میں ڈھالو۔
تمہارا علم تمہیں دولت دے سکتا ہے،
مگر صرف تب جب تم اسے نظم میں بدل دو۔
تمہارا ایمان تمہیں طاقت دے سکتا ہے،
مگر صرف تب جب تم اسے عمل میں ڈھالو۔”
پاکستان کے نوجوانو —
تم وہ نسل ہو جسے اللہ نے قلم اور کوڈ دونوں کی طاقت دی ہے۔
نیکی چھوڑو مت، مگر اسے عقل کے ساتھ جیو۔
محبت بانٹو، مگر اصولوں کے ساتھ۔
ایمان رکھو، مگر علم کے ساتھ۔
اور اگر کبھی تمہیں لگے کہ نیکی کا بدلہ برا ملا ہے،
تو بس یہ یاد رکھو:
“اللہ تمہیں دنیا سے نہیں، آخرت سے انعام دیتا ہے۔
تم اپنا حصہ ادا کرو — باقی اللہ پر چھوڑ دو۔”
یہ ملک تمہارا ہے اسے وہی بچائے گا جو نیکی اور عقل کو ایک ساتھ لے کر چلے گا۔
نکولو میکیاویلی نے کہا تھا:
“شہزادہ وہ ہے جو جانتا ہے کب رحم کرنا ہے،
کب فیصلہ کرنا ہے، اور کب خاموش رہنا ہے۔”
اور اقبال نے کہا تھا:
“عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔”
✨ اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔
نیکی چھوڑ کر کمزور بنو —
یا نیکی کو علم، نظم، اور ایمان کے ساتھ طاقت بنا دو۔
یہی تمہارا اصل امتحان ہے۔
یہی The Prince کا پیغام ہے۔
یہی پاکستان کا مستقبل ہے۔
-عثمان چغتائی
September 14, 2025
American, Europe Nationality Programme for Muslims, after two decades they forget islam
ایک دردناک اور ہولناک حقیقی انکشافات بھری تحریر۔
اسے مکمل لازمی پڑھیں۔۔۔۔
ایک صاحب جو کینیڈین نیشنل ہیں اور وہاں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ہیں اب پاکستان واپس شفٹ ہونے کے لیے کوشاں ہیں، ان سے جب اس کی وجہ دریافت کی تو ان کے انکشافات انتہائی خوفناک تھے، کہنے لگے کہ کالجوں یونیورسٹیوں میں بہت کانفرنسوں میں شرکت کی جن میں چند ایک اسلام پر بھی تھیں ان میں سے ایک کانفرنس کے بعد جب کچھ پروفیسر اور دیگر بیٹھے کھانے پینے میں مشغول تھے اور گپیں لگ رہی تھیں تو باتوں باتوں میں انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگ اسلام کے اتنے پیچھے بھی ہیں اور مسلمان ملکوں کے لوگوں کو نیشنلسٹی بھی دیتے ہیں تو ایک پروفیسر بولا کہ ہم مسلمانوں کو نیشنلسٹی دیتے ہیں وہ یہاں آتے ہیں ہماری خدمت کرتے ہیں اور اس کے بدلے معاوضے کو اپنا اعلیٰ کیریئر مانتے ہیں جیسے آپ آئے ہیں، آپ یہاں ہماری حکومت کی نوکری کر رہے ہیں اور ہمارے بچوں کو وہ پڑھا رہے ہیں جو ہم پڑھوانا چاہتے ہیں۔ اس کے بدلے آپ کو اچھی تنخواہ ملتی ہے اور آپ فیملی سمیت اچھی زندگی گزار رہے ہیں جو پیچھے آپ کے دیگر لوگوں کے لیے بڑی کشش رکھتی ہے اور ان میں بہت سے ہماری نوکریوں کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ یہ ہمارا پہلا مقصد ہے اور دوسرا یہ ہے کہ آپ جیسے زیادہ تر لوگ اپنے مذہب قائم رہیں گے پر کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی اگلی نسل بھی آپ جیسی مذہب پر قائم رہنے والی ہو گی؟۔ ہمارے اندازے کے مطابق یورپی اور امریکہ کینیڈا آنے والے 70 سے 75 فی صد مسلمان اپنے عقیدے پر کسی نہ کسی طرح قائم رہتے ہیں پر اگلی نسل میں اسلام پر قائم رہنا صرف 20-25 فی صد رہ جائے گا اور اس کے بعد بس نام ہی مسلمانوں والا ہو گا اور ہو گا وہ ایسا لبرل مسلمان جو ہم بنانا چاہتے ہیں اس لیے ہماری نظر تم لوگوں کی تیسری اور چوتھی نسل پر ہے جو صرف نام کی مسلمان ہو گی بلکہ اصل اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہوں گے جو کفار کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف دلائل دیتے اور ذہن سازی کرتے نظر آئیں گے۔
ہمارا پہلا مقصد تمہارے اعلیٰ دماغوں کو اچھے کیرئیر کا لالچ دے کر اپنا غلام بنانا ہے اور یہ کیرئیر ہماری نوکری کے بدلے ہے کوئی مفت میں نہیں ہے۔ دوسرا مقصد تمہاری نسلوں سے اسلام کو نکالنا ہے اور 'لبرل اسلام' کو لانا ہے اور یہ کام تمہاری آنے والی نسلیں خود کریں گی۔
وہ صاحب کہنے لگے کہ اس انگریز پروفیسر کی باتیں سن کر میں نے جب اپنے بچوں کا تجزیہ کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس پروفیسر کی باتیں اور اندازے ناقابلِ یقین حد تک درست ہیں۔ مجھے اپنے بچوں میں دنیاوی معاملات میں کیرئیر بنانے کی، آگے بڑھنے کی اور اس ماحول میں رچ بس جانے کی لگن نظر آئی اور نہیں نظر آیا تو دین نظر نہیں آیا۔ اب میرے پاس ہاتھ ملنے اور پشیمانی کے علاؤہ کچھ نہیں ہے کیونکہ دنیاوی معاملات میں الجھ کر اپنی اولاد کو نہ دین کی روشنی پہنچا سکا اور نہ ہی اپنی سماجی اقتدار سے بہرہ مند کروا سکا۔ اب واپس جانا پڑا تو خود ہی جا سکتا ہوں کیونکہ اولاد تو کینڈین شہری ہے اور ان پر اب میرا کوئی زور نہیں ہے۔
میں ان کی باتیں سن کر سوچ میں پڑھ گیا کہ اس انگریز پروفیسر کی باتیں صرف باتیں نہیں ہیں بلکہ اسلام دشمنی اور ہماری سماجی، معاشرتی اقتدار کو توڑنے کا کئی دھائیوں پر مشتمل ایک پلان ہے۔ 80/90 کی دھائیوں تک پرائیویٹ سکولوں میں داخلے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا پھر ہوا کا رخ بدلا گیا اور اب سرکاری سکولوں میں داخلے کو نیچ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کا نظام برباد کر دیا گیا۔ انگریز نے ہمارے تعلیمی نظام کو ایسا بنوا دیا کہ سرکاری سکولوں میں انگریزوں کے پالتوں کے ووٹروں اور سپوٹروں کی کھیپ تیار ہو اور پرائیویٹ سکولوں میں اچھے کیرئیر کا لالچ دے کر اپنی خدمت کے لیے غلاموں کو تیار کیا جا سکے اور ان غلاموں کے ذہنوں میں نقش ہو کہ انگریز ان سے افضل ہیں۔ آج کل کے حالات میں اپنی استعداد کے مطابق بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا بہت ضروری ہے پر ان نظر رکھنا کہ کہیں کوئی غلط عقیدہ یا نظریہ تو ان کے دماغوں میں نہیں ڈالا جا رہا یہ بھی بہت ضروری ہے اور ان کو دینی تعلیم دلوانا ہم پر لاگو ہے سکولوں کالجوں پر نہیں اس لیے ان کی دینی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا اشد ضروری ہے۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام اشرفیہ اور یہود ونصاریٰ کا غلام تو تیار کر رہا ہے پر وہ مسلمان تیار نہیں کر رہا جس کی 'خودی' کا، 'حرمت' کا، 'عشق' کا، 'ولولہ' کا اور 'جوشِ ایمانی' کا اظہار علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے جابجا کیا ہے۔ ہم لوگ جنت اور حوروں کے طلب گار بھی ہیں اور دعویٰ دار بھی ہیں کہ یہ سب کچھ صرف ہمیں ملے گا اور کفار کو کچھ نہیں ملے گا پر زندگیوں میں اسلام کو صرف اتنا لانا چاہتے ہیں جو ہمارے مفادات کے آڑے نہ آئے۔ امن پسند اتنے ہو گے ہیں کہ عزت و ناموس پر حملوں کے وقت بھی امن ہی یاد آتا ہے۔ انسانیت کا درس دیتے نہیں تھکتے پر جب یہود ونصاریٰ مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے ہیں تب کبھی کبھار کوئی مذمتی بیان جاری کر کے جان چھڑا لی جاتی ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جائے 1952 کی پہلی تحریک ختم نبوت سے لے کر آج تک ہر لیڈر اور حاکم میں اسلام اور عشاق کے لیے بغض اور کفار و گستاخوں کے لیے ہمدردی نظر آتی ہے۔ بدقسمتی سے ہزاروں لاکھوں کلمہ گو، علماء اور نام نہاد عاشق بھی ان لیڈروں، حاکموں کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ اس لیے ہی آج قوم ذلت ورسوائی کی گہرائیوں میں ڈوب چکی ہے۔
اسلامی تاریخ بانگ درا بتا رہی ہے کہ عزت صرف اس کی ہوئی جس نے عزت و ناموس اور ختم نبوت پر پہرہ دیا اور وہی قوم کامیاب ہوئی جو دین حق اسلام کے قوانین پر چلی۔
September 02, 2025
PUNJABI ARE BRAVE PEOPLES, MANY PERSONS ASK AGAINST THEM -پنجابیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ بہادر نہیں، کیا کسی کو پنجابیوں کی بہادری پر شک ہے۔ تو میں بتاتا ہوں،
کیا پنجابی اپنے اجداد پر فخر کر سکتے ہیں ؟؟۔
پنجابیوں کے لئیے اک متھ بنائی گئی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ حملہ آوروں کا ساتھ دیا اور مزاحمت سے گریز کیا۔ اور اس سلسلے میں 1857 کی جنگ آزادی میں ان کے کردار کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے۔
پنجابیوں کی بدقسمتی رہی کہ ان کو اپنا دفاع کرنے اور تاریخ مرتّب کرنے کے لئیے اپنی زبان میّسر نہیں ریی کیونکہ سب سے موثر دفاع اپنی زبان میں ہی کیا جاسکتا ہے۔ پنجابی کو نہ کبھی سلیبس کی زبان کا درجہ مل سکا اور نہ ہی اسے کبھی تحریری زبان کے طور پر سند قبولیّت ملی ۔ اس لئیے زیادہ تر روایات اور لوک داستانیں ہی ملتی ہیں۔
لیکن کچھ غیر پنجابیوں نے ضرور اس پر قلم اٹھایا ہے اور پنجابیوں کا مقدّمہ لڑا اور ان کی ترجمانی کی ہے
مشہور تاریخ دان عزیزالدین صاحب کی کتاب "پنجاب اور بیرونی حملہ آور"
اس مقدمے پر اک بہترین کاوش ہے
عزیز الدین ایک اردو اسپیکنگ لکھاری ھیں اور غیر جانبدار شخصیت ھیں۔ اُن کے مطابق پنجابیوں نے راجہ پورس سے لیکر بھگت سنگھ اور پھر بھنڈرانوالہ تک پنجاب کی سر زمین کے ایک ایک اِنچ پر مزاحمت کی ھے۔
دنیا کی مشہور قتل گاہ جلیانوالہ باغ ' جہاں پنجابیوں نے مزاحمت کا ریکارڈ قائم کیا ' کتاب میں اِسے "پنجاب کی کربلا "کہا گیا ہے
دُلا بھٹی پنجاب کا رابن ھُڈ ' پنجابیوں کی مزاحمت کی ایک لافانی مثال ھے۔
1857 کی جنگ ازادی شروع دلی سے ھوتی ھے ' لیکن اس کا انت پنجاب میں ھوتا ھے ' جب گوجرانوالہ پر انگریز بمباری کرتا ھے۔
برصغیر کے بہت کم علاقے ھیں جو انگریز سامراج نے لڑ کر حاصل کیے۔ بیشتر پر معاھدوں اور سازشوں کے ذریعے قبضہ کیا گیا۔ لیکن دیس پنجاب کے معاملے میں ایسا نہیں ھوا۔ سازشیں تو برطانوی سامراج کا طرہءِ امتیاز تھیں۔ وہ پنجاب میں بھی ھوئیں۔ لیکن پنجاب میں فقط سازشوں سے کام نہ چل سکا اور برصغیر کے دیگر علاقوں کے برعکس نہ صرف یہاں دیس پنجاب پر قبضہ کرنے کے لئیے انگریزوں کو لڑنا پڑا۔ بلکہ پنجاب میں انہیں زبردست مزاحمت اور نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
پنجاب ' ھندوستان کا وہ خطہ تھا جو انگریز کے دور میں بھی آزاد حثیت برقرار رکھے ھوئے تھا۔ ایک آزاد ریاست تھا اور یہ سب سے آخر میں انگریزوں کی گرفت میں آیا۔
مھاراجہ رنجیت سنگھ کی 1839 میں وفات کے بعد پنجاب پر انگریز کا قبضہ 29 مارچ 1849 میں ھوتا ھے۔ جب پنجاب پر ایک 10 سالہ کم سن بچے مھاراجہ دلیپ سنگھ کا راج تھا۔
پنجابی فوج 1849 میں انگریز فوج کے ساتھ ھونے والی جنگ میں نہایت دلیری سے لڑی۔ ھندو ' سکھ اور مسلمان پنجابی مل کر متحدہ انگریز فوج جس میں غیر مُلکی اترپردیش کے بھیا ' بہار کے بہاری اور کرائے کے غنڈے شامل تھے کے ساتھ لڑے۔ لیکن یہ جنگ ہار گئے
پنجابیوں کی انگریزوں کے ساتھ 10 بڑی لڑائیاں (01) مُدکی (02) فیروز شہر (03) بدووال (04) علی وال (05) سبھراواں (06) ملتان (07) رسول نگر (08) سعد اللہ پور (09) چیلیانوالہ (10) گجرات میں ھوئیں اور متعدد چھوٹی لڑائیوں میں اٹک اور جالندھر کی لڑائیاں زیادہ مشہور ھیں۔ یوں دیس پنجاب پر غاصبانہ قبضے کی خاطر انگریز سامراج کو پنجابی سرفروشوں سے کم و بیش 12 لڑائیاں لڑنا پڑیں۔ ان میں سے چیلیانوالہ کی لڑائی کو غیر پنجابی تاریخ دان سید سبط حسن نے برصغیر کی سب سے خوفناک لڑائی قرار دیا ھے۔ جس میں انگریز فوجی افسروں کی بہت بڑی تعداد ماری گئی۔
آج شائد موّرخ کا یہ کہنا درست لگے کہ پنجابیوں کی طرف سے جنگ آزادی میں انگریزوں کی مدد کرنا ان کی تاریخی غلطی یا غلط حکمت عملی تھی۔
لیکن اس حکمت عملی کو سمجھنے کے لئیے دو بنیادی وجوہات کو دیکھنا ہو گا
مغلوں کا پنجابیوں سے روا بے رحمانہ سلوک جس میں سکّھوں کے متعدد گُرو مارے گئے اور پنجابی ہیرو دُلّا بھٹّی اور اس کے ساتھیوں کا بے رحمانہ قتل سرفہرست یے ۔ یہ پنجابیوں کی مغلوں کے خلاف اک مسلسل لڑائی تھی جس کا انجام پنجاب کی مغلوں سے آزادی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں پنجاب کی آزاد ریاست کی صورت میں ہوا ۔
سولھویں صدی میں سکھ مذھب کے بانی بابا گرو نانک دیو نے مغل حکمرانوں کی مذھبی جنونیت کی مذمت کی اور مغل شہنشاہ بابر کی ظلم اور بربریت کی کاروائیوں کا مقابلہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ کئی سکھ گرو مغل بادشاھوں کے ھاتھوں مارے گئیے ۔
دُلا بھٹی نے اکبر بادشاہ کے خلاف علمِ حق بلند کیا اور سولھویں صدی کے مشھور صوفی بزرگ شاہ حسین نے دُلا بھٹی کے اکبر بادشاہ کے خلاف علمِ حق بلند کرنے پر دُلا بھٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ھوئے کہا کہ ؛
کہے حسین فقیر سائیں دا -
تخت نہ ملدے منگے
دوسری بڑی وجہ پوربی سپاھیوں (بنگال آرمی کے بھیا اور بہار کے بہاری سپاھی) کا برطانوی فوج میں شامل ھو کر پنجاب کی سکھ سلطنت پر حملہ آور ھونا تھا۔ پنجابی سمجھتے تھے کہ اگر یہ بھیّے اور بہاری انگریزوں کا ساتھ نہ دیتے تو اکیلے انگریز پنجاب فتح نہیں کر سکتے تھے اس لئیے وہ ان دونوں کو مغلوں کی طرح اہنا دشمن سمجھتے تھے۔
انگریزوں کے ساتھ بھیا اور بہاری کے تعاون کی تلخ یادیں پنجابیوں کے ذھنوں میں اس قدر تازہ تھیں کہ؛ انکے درمیان کسی بھی طرح سے اتحاد ناممکن بن گیا تھا۔ کیونکہ جو لوگ اب آزادی کے لیے جنگجو ھونے کا دعویٰ کر رھے تھے ' یہ وھی لوگ تھے جنہوں نے آٹھ سال پہلے انگریزوں کی طرف سے پنجابی خودمختار ریاست کو ھڑپ کرنے میں انگریزوں کی بھرپور مدد کی تھی۔ اس کے علاوہ ' وہ اسی مغلیہ سلطنت کو بحال کروا کر واپس لانے کی کوشش کر رھے تھے جس نے سالہا سال سے پنجابیوں پر زندگی تنگ کی ھوئی تھی
برطانوی مسلح افواج میں بغاوت بھیا اور بہاری سپاھیوں کی طرف سے کی گئی اور سینکڑوں انگریز خواتین اور بچوں کو قتل کردیا گیا۔ جبکہ شمالی بھارت میں اسی سالہ بہادر شاہ ظفر کو مغل بادشاہ ھونے کی نسبت سے باغیوں کی قیادت کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا
شاعر خازان سنگھ نے 1858 میں لکھے گئے اپنے " جنگ نامہ دلی" میں ذکر کیا ھے کہ پوربی فوجیوں کے خلاف پنجابیوں کی شرکت کی وجہ
"بھیا اور بہاری سپاھیوں کی طرف سے اس بات پر فخر کرنے کا ردِ عمل تھا کہ انہوں نے 46-1845 میں اور 49-1848 میں پنجابیوں کو شکست دی تھی
پنجابیوں کو ایسی کسی تحریک کے مقصد سے کوئی ھمدردی نہ تھی جس کی سرپرستی کرنے والا ایک مغل بادشاہ تھا۔ اور بہاری اور بھئیے اس کا ساتھ دے ریے تھے۔
پنجابیوں کی طرف سے بھیا اور بہاری کے خلاف غصّہ اور ناراضگی کا انگریزوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
پنجاب پر انگریز کے قبضے کی وجہ سے رائے احمد کھرل ' نطام لوھار ' مراد فتیانہ ' خانو ' مُلا ڈولا اور بھگتاں والا بھگت سنگھ ایسے نسم ھیں ' جنہوں نے پنجاب کی آزادی کی لڑائی میں لازوال کردار ادا کیا اور بغاوت کا علم بُلند کیا











