March 10, 2022

Unlawful Sexual intercourse, زنا کی اتنی سزا کیوں ہے ؟

 
زنا کی اتنی سخت سزا کیوں؟

کئی بار ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں صرف زنا کی سزا ہی اتنی سخت کیوں رکھی گئی.
یہاں جب قرآن کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ جہاں صرف اللہ کے حق کا معاملہ ہوتا ہے تو اللہ نرمی کا رویہ اپناتے ہیں اور جہاں بندے کا حق اللہ کے حق سے مل جائے تو اللہ پاک سختی اختیار کرتے ہیں.
دو افراد کے زنا کے متاثرین دو فرد ، دو خاندان، دو قومیں، دو گروہ یا دو قبیلے نہیں بلکہ پوری امت ہے.
زنا کی سزا یوں بھی اپنی شدت میں بڑھ کر ہے کہ یہ چھپ کر نہیں بلکہ سرِعام مجمع میں دینی ہے.
اور ہر پتھر جسم پر ایک زخم بنائے گا جب تک جان نہ نکل جائے اس میں حکمت یہ ہے کہ جیسے اس گناہ کے عمل میں اس کے جسم کے ہر ٹشو tissue نے لطف اٹھایا تو اب موت بھی لمحہ لمحہ اور پل پل کی اذیت کے بعد آئے یعنی زانی جب تک اپنے خون میں غسل نہ کرے، اس کی توبہ قبول نہ ہوگی
مگر کیا اللہ پاک اتنے بے انصاف ہیں کہ ایک گناہ کی اتنی بڑی سزا رکھ دی مگر اس سے بچنے کی کوئی ترکیب یا طریقہ نہ سکھایا؟ ایسا نہیں ہے...
اللہ تعالٰی نے اس امت کو اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطے سے قرآن و حدیث کے ذریعے اس گناہ سے بچنے کے لیے پورا پلان پیش کیا ہے. احکامات کی پوری لسٹ ہے. Do’s اور Dont’s کی مکمل فہرست ہے.
آئیں ان سب کا جائزہ لیں
پہلا حکم:
استیذان یعنی اجازت طلب کرنا
کسی کے گھر یا کمرے میں بلا اجازت مت جاؤ.
بھائی بہن کے ، باپ بیٹی کے ، ماں بیٹے کے کمرے میں جانے سے پہلے اجازت طلب کریں.
شریعت اس طرح ہمیں سکھا رہی ہے.
اور آج اس حکم پر عمل نہ کرنے سے محرم رشتوں میں بھی خرابی آ رہی ہے
گھر میں دو حصے رکھیں
1 پرائیویٹ رومز یعنی ذاتی
2 کامن رومز یعنی عام
پرائیویٹ کمروں میں محرم اجازت لیکر جائیں اور اجنبی بالکل مت جائیں.
تاکہ ایک دوسرے کو نامناسب حالت میں نہ دیکھ لیں. Segregated Rooms یعنی ڈرائنگ روم وغیرہ میں مرد ہی مردوں کو Attend کریں.
عورتیں بالکل مت سرو کریں چاہے کزنز ہوں یا سسرالی رشتہ دار.
مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کزنز کھلم کھلا فی میل کزنز کے کمروں میں جاتے ہیں ، چھیڑ خانی ہو رہی ہوتی ہے ، ہنسی مذاق اور آؤٹنگ چل رہی ہوتی ہے
اور اسی دوران شیطان اپنا وار کر دیتا ہے .
عورتیں یاد رکھیں مرد زبردست اور عورت زیردست ہوتی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت پاک رہنا چاہے اور مرد اس کو پاک نہ رہنے دے؟
دوسرا حکم
نظر کی حفاظت نظروں کو نیچا رکھیں اور اپنی حیا کی حفاظت کریں.
یہ حکم مرد عورت دونوں کے لئے ہے.
عورتوں کی شادی بیاہ اور مردوں کی بازاروں میں اکثر نظر بہکتی ہے. کوئی مہمان آئے تو عورتیں جھانکتی تاکتی ہیں. باپ، بھائیوں کے دوستوں سے ہنس ہنس کر ملنا اور Serving ہو رہی ہوتی ہے.
جبکہ شریعت تو دیکھنے سے بھی منع کر رہی ہے.
مردوں، عورتوں کی یہ عادت شادی بیاہ میں کھل کر سامنے آتی ہے جب بے حیائی اپنے عروج پر ہوتی ہے.
دو اندھے اگر آمنے سامنے بیٹھے ہیں تو انکو نہیں معلوم کہ سامنے والا کیسا ہے ، کتنی عمر کا ہے.؟
مگر شریعت ایک بینا اور اندھے کو بھی آمنے سامنے بیٹھنےسے منع کرتی ہے جیسا کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ والی حدیث سے ثابت ہے.
عورتوں اور مردوں کو کئی بار مجبوری میں بات بھی کرنی پڑتی ہے جیسے بازار وغیرہ میں.
تب شریعت چہرے پر نظر ڈالنے سے منع کرتی ہے. صرف پردہ کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ نظر بھی جھکانی ہے.
امام غزالی فرماتے ہیں،
“نظر سوچ کے اندر تصویر لے جاتی ہے، یہ تصویر خواہش میں بدل جاتی ہے اور پھر یہی خواہش بے حیائی کا راستہ دکھاتی ہے. “
اگلا حکم: زینت کو چھپانا
پردہ اور چیز ہے اور زینت اور چیز.
عورت کے اعضائے زینت نماز میں چھپانے والے اعضاء ہیں.
کوشش کریں کہ اس فتنہ کے دور میں محرم مردوں سے بھی زینت والے اعضاء چھپائے جائیں.
اپنے سینے اور گریبان کو خصوصاً ڈھانپیے.
مرنے کے بعد اللہ تعالٰی چار کپڑوں میں عورت کو ڈھانک کر قبر میں بھیجنے کا کہتا ہے.
ہم عورتوں نے زندگی میں دو کپڑوں کا لباس معمول بنا لیا ہے کہ اب تو بوتیکس بھی دوپٹے آرڈر پہ تیار کرتی ہیں.
کیونکہ آج عورتیں تین کپڑے بھی پہننے پر راضی نہیں.
مسلمان عورت کا غیر محرم عورت اور غیر مسلم عورت سے بھی نماز والا پردہ ہے.
یعنی سوائے چہرے، دونوں ہاتھ اور پاؤں کے باقی جسم چھپانا ہے.
مگر یہاں تو ویکس بھی کروائی جاتی ہے اور فیشلز بھی.
مرد حضرات پبلک یا گھر میں شارٹس نہیں پہن سکتے.
گھر کے مرد حیا دار ہوں گے تو گھر کی عورتیں بھی اپنی حیا کو مقدم رکھیں گی.
ورنہ سب سے پہلے بگاڑ گھروں کے ماحول سے شروع ہوتا ہے.
ماؤں اور بہنوں کے نامناسب لباس گھر کے مردوں میں حیا کی کمی کی وجہ بنتے ہیں.
یاد رکھیں
“جب عورت نے اپنے ستر کا خیال نہ رکھا تو محرم محرم کا دشمن بن گیا.
جب اللہ کی مقرر کردہ حدود و قیود کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو باپ بیٹیوں کو خود پہ حلال کر لیں گے اور بھائی بہنوں کو خود پر حلال کر لیں گے اور بہنوئی سالیوں کو اور سالیاں بہنویوں کو حلال کر لیں گے
” خدارا اپنے گھروں سے فسق کا ماحول ختم کریں.
اگلا حکم:
بیوہ اور مطلقہ کا نکاح
ان کے نکاح کا مقصد معاشرے کو پاک رکھنا ہے.
کیونکہ بیوہ یا مطلقہ ازدواجی زندگی کے دور سے گزر چکی ہوتی ہے اور ان کے نکاح میں تاخیر یا انکار معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے.
یہ حکم اس مرد کے لیے بھی ہے جس کی بیوی مر جائے یا وہ طلاق دے دے.
یاد رکھیں
شادی پر اصرار وہی مرد کرتا ہے جو پاک رہ کر صرف بیوی سے سکون حاصل کرنا چاہے.
ورنہ معاشرہ بھرا ہوا ہے ایسے غلیظ لوگوں سے جو شادی کو بوجھ سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں اس بوجھ کو گلے میں ڈالے بنا بھی سب کچھ مل رہا ہوتا ہے.
اللہ تعالٰی نے اجازت دی ہے کہ ایک سے خواہش پوری نہیں ہوتی تو دو شادیاں کرلو. تین کرلو ، چار کرلو
اور اس میں بیوی کی اجازت بھی شرط نہیں ہاں بیوی کے حقوق پورے کرنا فرض ہے مگر کیا کریں آج کے اخلاقی طور پر دیوالیہ معاشرے کا
کہ جو گرل فرینڈز تو دس دس برداشت کر لیتا ہے مگر بیوی ایک سے دو نہیں.
اسی طرح بیوہ یا مطلقہ کی شادی پہ ایسے ایسے بےشرم تبصرے اور اعتراضات کیے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ.
نکاح میں تاخیر نہ کی جائے
ہم گھروں میں کیبل لگوا کر ، کھلی آزادی دے کر ،
کو ایجوکیشن میں پڑھا کر پھر اپنے بچوں سے رابعہ بصری اور جنید بغدادی بننے کی توقع کریں تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں.
دو جوان لڑکا لڑکی جب سکول کالج یونیورسٹی کے آزاد اور “روشن خیال” ماحول میں پڑھیں گے تو انکو تعلق بنانے سے کون روکے گا؟
جب گھروں میں دینی تربیت نہ ہو ، مائیں سٹار پلس کے ڈراموں اور واٹس ایپ اور فیس بک اور کپڑوں کی ڈیزائننگ فیشن میں مگن رہتی ہوں،
اولاد کی سرگرمیوں اور ان کی صحبت سے ناواقف ہوں تو جیسی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی ہیں وہ بعید نہیں.
مگر ہمیں تو یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب نظروں میں حیا ہو تو پردے کی ضرورت نہیں.
اس کا تو یہ مطلب بھی بنتا ہے کہ جب نظروں میں حیا ہو تو پھر کپڑوں کی بھی ضرورت نہیں.
یہ اللہ کا اپنے محبوب کی امت پہ خاص احسان ہے کہ اس نے ہم میں پچھلی قوموں کے تمام گناہ دیکھ کر بھی ہمیں غرق نہیں کیا.
ورنہ بنی اسرائیل کے لوگ تو بندر بھی بنائے گئے اور خنزیر بھی.
توبہ کے دروازے بند نہیں اور نہ ہی رب کی رحمت مدھم ہو گئی ہے.
جب اللہ کی محبت اور ایمان کی روشنی دل میں آجاتی ہے تو یہ “ نورٌ علی نورٌ ” ہے
اب ایسے دل میں بےحیائی داخل نہیں ہو سکتی.
ایمان کا نور لینا ہے؟
تو سٹڈی کریں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی اجمعین کو ایمان کیسے ملا
قرآن مجید اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرت صحابہ کو پڑھیں سمجھیں اور اس پر عمل کریں
اور دین دار نیک صالح لوگوں کی صحبت اختیار کریں
سچی توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اختیار کریں تو ان شاء اللہ تعالیٰ دلوں کی بے چینی سجدوں کے سرور میں بدل جائے گی .
اور آج میڈیا اور معاشرہ ہمارے ایمان دین اور آخرت کی کامیابی کو بڑی تیزی سے نگلتا جا رہا ہے
آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس رب العزت کے غلام ہیں یا اپنے نفس کے۔
اگر آخرت کی فلاح چاہیے تو اللہ تعالیٰ کی غلامی میں پناہ لے لیں
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو دین کو سمجھنے کی اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین

 

Why The Kids are Disobedient بچے نافرمان کیوں ہوتے ہیں۔

 
محترم والدین!ایک گزارش !!!
ہمارا یہ معاشرہ جس تیزی سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ لیکن اس اخلاقی گراوٹ کے ذمہ دار کسی حد تک والدین اکرام بھی ہیں۔جو اپنے بچوں کو دنیا کی ایسی درسگاہوں میں داخل کرتے ہیں جو مکمل طور پر مغربی ماحول اور تعلیم سے رنگے ہوئے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ہمارے معصوم بچوں کے ذہن اس کا شکار ہو جاتے ہیں
ٹارزن آدھا ننگا رھتا ھے،
سنڈریلا آدھی رات کو گھر آتی ہے،
پنوکیو ہر وقت جھوٹ بولتا ہے،
الہ دین چوروں کا بادشاہ ہے،
بیٹ مین 200 میل پر گھنٹہ ڈرائیو کرتا ہے،
رومیو اور جولیٹ محبت میں خود کشی کر لیتے ہیں،
ہیری پوٹر جادو کا استعمال کرتا ہے،
مکی اور منی محض دوستی سے بہت آگے ہیں،
(سلیپنگ بیوٹی )افسانوی کہانی جس میں شہزادی جادو کے اثر سے سوئی رہتی ہے ایک شہزادے کی kiss ہی اسے جگا سکتی ہے۔
ڈمبو شراب پیتا ہے، اور تصورات میں کھو جاتا ہے،
سکوبی ڈو ڈراؤنے خواب دیتا ہے،
اور سنو وائٹ 7 اشخاص کے ساتھ رہتی ہے،
تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے کہ بچے بدتمیزی کرتے ہیں، وہ یہ سب کہانیوں اور کارٹونز سے حاصل کرتے ہیں جو ہم انہیں مہیا کرتے ہیں،
اس کی بجائے ہمیں انہیں اس طرح کی کہانیاں پڑھانی چاھئیں،
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہ ختم ہونے والی خدمت اور وفاداری،
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بردباری اور عدل وانصاف سے پیار،
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شرم و حیا کا معیار،
علی رضی اللہ عنہ کی ہمت اور حوصلہ دکھائیں،
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی برائی سے لڑنے کی خواہش،
فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اپنے والد کے لئے پیار اور ادب،
صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کی وعدہ کی ہوئی جگہ کے لئے فتح،
اور سب سے زیادہ ہمیں اللہ، قرآن کریم اور سنت سے پیار، محبت سے پڑھانا چاہئے، سب سے اہم پہلو یہی ہے،
اور پھر دیکھیں تبدیلی کیسے شروع ہوتی ہے! ان شاء اللہ
ہم اپنے دینی تقاضوں کو سمجھتے بھی ہیں لیکن دوسری طرف دنیاوی ترقی کے لئے ان باتوں کو ناگزیر بھی سمجھتے ہیں۔بدقسمتی سے ہم اس راہ پر گامزن ہیں جو مکمل تباہی کی طرف جاتا ہے۔
محترم والدین! اپنے بچوں کو بڑا آدمی بننے سے پہلے بڑا انسان بننے کی تعلیم دیجئے۔
آج آپ ان کی پرورش ٹھیک کریں گے تو کل کو نئی نسل آپ کو شرمندہ نہیں کرے گی۔ انشاء اللہ
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے اور جب اس نے ہمیں مسلمان بنایا ہے تو ہمیں واقعی مسلمان رہنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

March 08, 2022

غلطیوں کوتاہیوں پر در گزر کرنا بہت اعلیٰ کام ہے۔


 

ایک بار میں گھر میں داخل ہوا تو دیکھا کہ بیگم کے چہرے کا رنگ خوف سے اڑا ہوا ہے۔ پوچھنے پر ڈرتے ڈرتے بتایا کہ “کپڑوں کے ساتھ میرا پاسپورٹ بھی واشنگ مشین میں دھل گیا ہے۔۔!، یہ خبر میرے اوپر بجلی بن کر گِری، مجھے چند روز میں ایک ضروری سفر کرنا تھا۔ میں اپنے سخت ردعمل کو ظاہر کرنے ہی والا تھا کہ اللہ کی رحمت سے مجھے ایک بات یاد آ گئی، اور میری زبان سے نکلا “کوئی بات نہیں۔۔۔!”اور اس جملے کے ساتھ ہی گھر کی فضا نہایت خوشگوار ہو گئی۔

پاسپورٹ تو دھل چکا تھا، اور اب ہر حال میں اُس کو دوبارہ بنوانا ہی تھا، خواه میں بیگم پر غصے کی چنگاریاں برسا کر اور بچوں کے سامنے ایک بدنما تماشہ پیش کر کے بنواتا، یا بیگم کو دلاسہ دے کر بنواتا، جو چشم بد دور ہر وقت میری راحت کے لئے بے چین رہتی ہیں۔

سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس جملے سے بے حد پیار ہے، میں نے اس کی برکتوں کو بہت قریب سے اور ہزار بار دیکھا ہے۔ جب بھی کسی دوست یا قریبی رشتہ دار کی طرف سے کوئی دل دکھانے والی بات سامنے آتی ہے، میں درد کشا اسپرے کی جگہ اس جملے کا دم کرتا ہوں، اور زخم مندمل ہونے لگتا ہے۔

اپنوں سے سر زد ہونے والی کوتاہیوں کو اگر غبار خاطر بنایا جائے تو زندگی عذاب بن جاتی ہے، اور تعلقات خراب ہوتے چلے جاتے ہیں، لیکن “کوئی بات نہیں” کے وائپر سے دل کے شیشے پر چھائی گرد کو لمحہ بھر میں صاف کیا جاسکتا ہے، اور دل جتنا صاف رہے اتنا ہی توانا اور صحت مند رہتا ہے۔

بچوں کی اخلاقی غلطیوں پر تو فوری توجہ بہت ضروری ہے، لیکن ان کی چھوٹی موٹی معمولی غلطیوں پر “کوئی بات نہیں” کہہ دینے سے وه آپ کے دوست بن جاتے ہیں، اور باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔ بچہ امتحان کی مارک شیٹ لے کر سر جھکائے آپ کے سامنے کھڑا آپ کی پھٹکار سننے کا منتظر ہو، اور آپ مسکراتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمائیں “کوئی بات نہیں، اگلی بار اور محنت کرنا، چلو آج کہیں گھومنے چلتے ہیں” تو آپ اندازه نہیں کر سکتے کہ بچے کے سر سے کتنا بھاری بوجھ اتر جاتا ہے، اور ایک نیا حوصلہ کس طرح اس کے اندر جنم لیتا ہے۔

میں نے اپنے بچوں کو کچھ دعائیں بھی یاد کروائی ہیں، ساتھ ہی اس جملے کو بار بار سننے اور روانی کے ساتھ ادا کرنے کی مشق بھی کرائی ہے۔ میرا بار بار کا تلخ تجربہ یہ بھی ہے کہ کبھی یہ جملہ بروقت زبان پر نہیں آتا، اور اس ایک لمحے کی غفلت کا خمیازه بہت عرصے تک بھگتنا پڑتا ہے، طبیعت بدمزہ ہو جاتی ہے، اور ایک مدت تک کڑواہٹ باقی رہتی ہے۔ تعلقات میں دڑار آجاتی ہے، اور برسوں تک خرابی باقی رہتی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ یہ جملہ یاد داشت کا حصہ بننے کے بجائے شخصیت کا حصہ بن جائے۔ ان شاءالله
وقفے وقفے سے پیش آنے والے معاشی نقصانات ہوں، یا ہاتھ سے نکل جانے والے ترقی اور منفعت کے مواقع ہوں، یہ جملہ ہرحال میں اکسیر سا اثر دکھاتا ہے، ایک دانا کا قول ہے کہ “نقصان ہو جانا اور نقصان کو دل کا بوجھ بنانا یہ مل کر دو نقصان بنتے ہیں، جو ایک خساره ہو چکا وه تو ہو چکا، تاہم دوسرے خسارے سے آدمی خود کو بچا سکتا ہے، اس کے لئے صرف ایک گہری سانس لے کر اتنا کہنا کافی ہے کہ “کوئی بات نہیں۔۔!”
یاد رہے کہ یہ دوا جس طرح کسی چھوٹے نقصان کے لئے مفید ہے، اسی طرح بڑے سے بڑے نقصان کے لئے بھی کار آمد ہے۔ ایک مومن جب “کوئی بات نہیں” کو الہٰی رنگ میں ادا کرتا ہے، تو اُسے “انا اللہ وانا الیہ راجعون” کہا جاتا ہے۔

بسا اوقات ایک ہی بات ایک جگہ صحیح تو دوسری جگہ غلط ہوتی ہے۔ “کوئی بات نہیں” کہنا بھی کبھی آدمی کی شخصیت کے لئے سم قاتل بن جاتا ہے، جیسے کوئی شخص غلطی کا ارتکاب کرے تو چاہئے کہ اپنی غلطی کے اسباب تلاش کر کے ان سے نجات حاصل کرے، نہ کہ “کوئی بات نہیں” کہہ کر غلطی کی پرورش کرے۔
خود کو تکلیف پہنچے تو آدمی “کوئی بات نہیں” کہے تو اچھا ہے، لیکن انسان کسی دوسرے کو تکلیف دے اور اپنی زیادتی کو “کوئی بات نہیں” کہہ کر معمولی اور قابلِ نظر انداز ٹھہرا لے، تو یہ ایک گِری ہوئی حرکت شمار ہوگی۔

اسی طرح جب کوئی ملک یا اداره مفاد پرستوں کے استحصال اور نااہلوں کی نااہلی کا شکار ہو رہا ہو اور “کوئی بات نہیں” کہہ کر اصلاح حال کی ذمہ داری سے چشم پوشی اختیار کر لی جائے، تو یہ ایک عیب قرار پائے گا۔
معاشره میں کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہو اور لوگ اس جملے سے اپنے ضمیر کی آواز کو دبانے کی کوشش کریں، تو یہ انسانیت کے مقام سے گرجانا تصور ہوگا۔

آخر میں صرف اتنا کہونگا کہ، “یہ جملہ دل کی دیوار پر آویزاں کرنے کے لائق ہوتا ہے، اگر یہ دل کی کشادگی برقرار رکھے، تعلقات کی حفاظت کرے اور دنیاوی نقصان ہونے پر بھی انسان کی تسلی کا سامان بنے۔
اور یہی جملہ مکروه اور قابل نفرت ہو جاتا ہے اگر یہ عزم بندگی، احساس ذمہ داری، احترامِ انسانیت اور جذبہ خود احتسابی سے غافل ہونے کا سبب بن جائے۔۔

 

Women's Day Special

ایسی تحریروں کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔
ایک ورکنگ وومن نے اپنی جاب اور خاندان میں سے ترجیحات کا درست انتخاب کر کے بروقت درست فیصلے ، جن کی بنا پر ان کو پچھتانا نہیں پڑا۔ ان کی داستان ان کی زبانی:
۔۔۔۔۔۔
تحریر: جویریہ ساجد
Woman's day Special:
میں نے جس سال اکنامکس میں ماسٹرز کیا اسی سال میری جاب ھو گئی جس کالج سے میں نے بی کام کیا تھا وہ اس وقت ھمارے شہر کا واحد اور بڑا پرائیویٹ کالج تھا انہی نے مجھے لیکچرر شپ آفر کی اور میں نے فوری جوائن کر لیا سب سے پہلی کلاس جو مجھے پڑھانے کو ملی وہ بی کام پارٹ ٹو یعنی فورتھ ائیر کی لڑکے لڑکیوں کی کمبائن کلاس تھی جن کو میں نے میکرو اکنامکس اور انکم ٹیکس لاء پڑھانا تھا۔ جبکہ تھرڈ ائیر کو مائیکرو اکنامکس پڑھانے کو ملی۔
 وہ بہت محنت کا سال تھا میرے اپنے اساتذہ جو اب میرے کولیگ تھے انہوں نے میری بہت راہنمائی کی۔ پہلے ھی سال پڑھانے کے ڈنکے بجنے لگے مجھے میرے کالج نے ایم بی اے ایگزیکٹو کلاس کے بھی لیکچر دے دیے جہاں مجھے پروفیشنلز کو ہائی لیول پہ اکنامکس پڑھانی تھی۔
رات رات بھر لیکچرز تیار کرنا، سارا سارا دن ٹاپک سے ریلیٹڈ مختلف کتابیں پڑھنا، اخبارات کھنگالنا، مدعا مختصر محنت رنگ لائی نام بنا شہر میں تیزی سے کھلتے بڑے پرائیویٹ کالجز سے جاب آفر آنی شروع ھوئیں شہر کے تقریباً تمام بڑے کالجز میں وزیٹنگ لیکچرر کے طور پہ انوائیٹ کیا جانے لگا۔ شہر میں یونیورسٹی کا کیمپس بنا تو وہاں بھی لیکچر دینے شروع کیے یونیورسٹی میں جاب کے دوران کئی سیمینار ارینج کیے ورکشاپس کروائیں۔
 جب میری شادی ھوئی اس وقت میں کمائی اور نام کی وجہ سے اپنے کیرئیر کے عروج پہ تھی ایک بڑے ادارے میں ھیڈ آف ڈپارٹمنٹ تھی بہت اچھا کماتی تھی ایک لمبے عرصے سے کمائی اور اخراجات میں خود کفیل تھی وہ میں کیرئیر کا عروج تھا شہر کے ھر چھوٹے بڑے ادارے میں میرے سٹوڈنٹ موجود ھوتے تھے بنک ھو یا نادرہ، پاسپورٹ آفس ھو یا چیمبر آف کامرس۔
شادی ھوئی تو شہر چھوڑنا تھا اپنے شہر کے اداروں کو بھی خیر آباد کہنا تھا سرکاری نوکری کی طرف  میرا رجحان کبھی بھی نہیں رھا۔
جب شادی ھوئی تو میرے آگے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا کہ جاب جاری رکھنی ھے یا نہیں۔ یہ میرے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا مگر میں نے فوری جاب نہیں کی ایک سال بعد محمد بن کبیر ھماری زندگی میں آئے مجھے کالجز سے آفر آنا شروع ھوئیں میرے میاں نے
مجھ پہ کوئی پابندی نہیں لگائی وہ ایک کوآپریٹیو اور روشن خیال انسان ھیں ان کے نزدیک یہ فیصلہ میرا اپنا تھا وہ ہر دو صورتوں میں تعاون کریں گے۔ ایک طرف میرا کیرئیر تھا میری اپنی ھینڈ سم کمائی، میری شناخت، میرا وقار میرا زعم کہ میں خود کماتی ھوں۔
دوسری طرف میرا گھر میرا شوہر اور بچہ۔
جوائنٹ فیملی میں تھی گھر تو چل ھی رھا تھا میاں کوآپریٹیو، اصل بات بچے کی تھی کہ میں چھ گھنٹے کے لیے اپنا دو ماہ کا بچہ گھر چھوڑ کے جاؤں تو کیوں جاؤں۔ میں نے سوچا میری زندگی میں کیا کمی ھے مجھے جاب کر کے کیا اچیوو ھوگا اس سوال کا جواب سوچا تو جانا کہ سب کے سب فائدے میری ذات تک تھے مجھے کھلی ھوا میں سانس آئے گا میری شخصیت بہتر ھوگی، میرا وقت اچھا گزرے گا، میرا کیرئیر مضبوط ھوگا۔ میری شخصیت کا اعتماد بحال ھوگا کہ میں اب بھی خود کما رھی ھوں چار برانڈڈ سوٹ مذید بناؤں گی، مہنگے جوتے، بیگز، پرفیومز کی تعداد بڑھ جائے گی۔
مگر مجھے اسکی قیمت کیا ادا کرنی پڑے گی میرا چھوٹا معصوم بچہ چھ گھنٹے مجھ سے الگ رھے گا۔ ایک ماں کے لیے یہ بہت بڑی قربانی ھے۔
 میں نے اپنے بچے کو سینے سے لگایا اور اپنی شخصیت کو ایک اچھی ماں کے طور پہ گروم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس کے بعد دو اور بچے میری جھولی میں آئے اور میری زندگی کا اوڑھنا بچھونا یہی بن گیا تیسرے بیٹے کی پیدائش کے بعد میں نے یونیورسٹی دوبارہ جوائن کی اور ویکلی تین چار لیکچر لینے لگی۔ اب جب تینوں بچے سکول جاتے ھیں میں تینوں بچوں کو خود پڑھاتی ھوں۔
 آج جب میں پیچھے مڑ کے دیکھتی ھوں اور اپنے اس وقت کے فیصلے پہ نظر دوڑاتی ھوں تو مجھے احساس ھوتا ھے کہ میرا اس وقت کا فیصلہ ایک بہترین فیصلہ تھا۔
 میں نے دو کشتیوں کا سوار بننے کا راستہ نہیں چنا۔
 میں نے خود کو کیرئیر اور گھر داری میں کنفیوز نہیں کیا۔
میرا مقصد واضح تھا میں نے اپنے بچوں کے لیے بہت کچھ سیکھا۔
سب سے پہلے میں نے اپنے بچوں کے لیے محمد کے پیدا ھوتے ھی قرآن پاک کو مکمل تجوید کے ساتھ دوبارہ سے سیکھا تاکہ میں اپنے بچوں کو صحیح طریقے سے قرآن پاک خود پڑھا سکوں۔
 میں نے ترجمہ تفسیر، سیرت پڑھنی شروع کی۔
میں نے پیرنٹنگ کے کورسز کیے۔
 سب سے بڑھ کے جب میں فوکسڈ تھی تو میں نے یہ سیکھا کہ میرا مثبت قدم اور مثبت شخصیت میرے بچوں کے لیے کس قدر فائدہ مند ثابت ھوگی۔ اس لیے خود کو مزید مثبت بنانے پہ توجہ دی۔
میں اپنی شخصیت کی تراش خراش کرتی گئی۔
میں نے انگلش کرائمر پہ دھیان دینا شروع کیا۔
اب ملٹی لینگویجز سیکھنا شروع کر رھی ھوں۔
آج جب میں پیچھے مڑ کے دیکھتی ھوں تو میں ایک کامیاب کیرئیر وومن کی نسبت اپنے آپ کو ذیادہ مثبت، ذیادہ مضبوط، ذیادہ گرومڈ پاتی ھوں ذیادہ فوکسڈ، ڈٹرمنڈ، کلئیر
Focused, determined, clear in thinking
جس کا فائدہ میرے بچوں کو بھی ھوا میں نے اپنی ذات سے نکل کے ذیادہ وسیع کینوس پہ محنت شروع کی۔
 میں نے خود کو اندھا دھن بھاگنے میں نہیں تھکایا۔
میری تعلیم نے مجھے یہ سیکھایا کہ زندگی میں ترجیحات بدلنے کے ساتھ خود کو بدلنا ھی بہترین فیصلہ ھے۔
 میری تربیت نے مجھے یہ سیکھایا کہ کسی بڑے مقصد کے لیے قناعت پسندی کے ساتھ جینا، کسی وقت میں اپنے لائف سٹائل پہ کمپرومائز کر لینا، کچھ کم اشیا پہ گزارا کر لینا کوئی بہت بڑی قربانی نہیں ھے میں نے ایک جگہ طنزیہ فقرہ پڑھا کہ پڑھی لکھی بیوی کے شوہر تندور سے روٹیاں ھی لگواتے پائے جاتے ھیں۔ جبکہ میں سمجھتی ھوں کہ ان پڑھ لڑکیوں کے شوہر بچوں کی ٹیوشن کے چکر لگاتے عمر گزارتے ھیں۔ فیصلہ ھمارا اپنا ھے۔
ایک شادی شدہ عورت کے لیے جاب کرنا کسی بھی طرح آسان نہیں ھے جس کی قیمت وہ کسی نا کسی صورت ادا ضرور کرتی ھے جس سے شخصیت الجھ جاتی ھے میں نے اپنے بچوں کو اپنا بیسٹ دیا جو میری بساط تھی۔ جاب کرتی ھوئی عورت کچھ بھی کر لے اس گلٹ میں رھتی ھے کہ میں بیسٹ نہیں دے پائی۔ اپنی شخصیت سنوارتے کرئیر بناتے اپنا وقار بڑھاتے جب بچے چپڑ چپڑ کرکے کھانا کھاتے ھیں، گھگیا گھگیا کے بولتے ھیں، تھرل کے نام پہ لڑکیوں سے پڑس چھیننا، ہنگامے کرنا، کلاس میں نسوار جسکا ماڈرن نام مجھے نہیں پتہ رکھتے ھوئے پائے جاتے ھیں تب جو ٹینشن کے اٹیک ھم ماؤں کو ھوتے ھیں وہ اس تمام میڈلوں اور انعامات سے کہیں ذیادہ خوفناک ھیں جو کیرئیر وومن کو ملتے ھیں۔
اس کے علاوہ میں ان تمام خواتین کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ھوں جو ضرورت اور مجبوری کے تحت شادی کے بعد جاب کرتی ھیں اور چاھتے ھوئے بھی اپنے بچوں کو ٹائم نہیں دے سکتیں۔ بچے تو بچے ان کی اپنی صحت بھی توجہ طلب ھو جاتی ھے اور وہ ٹائم نہیں نکال سکتیں۔
اس کے ساتھ ھی میں ان تمام خواتین کو بھی پسند نہیں کرتی جو جاب تو نہیں کرتیں مگر بچے سکول بھیج کے آدھا دن سوتی ھیں،
 بچے ٹیوشن بھیج کے ڈرامے دیکھتی ھیں، صبح شام میکوں کے چکر لگاتی ھیں،
 بازاروں میں ونڈو شاپنگ کرتی ھیں،
فون کالز پہ پورے خاندان کو تگنی کا ناچ نچاتی ھیں۔
میں آپ سب خواتین سے یہ کہنا چاھتی ھوں آپ جاب کرتی ھیں یا نہیں اپنی زندگی کو با مقصد، معیاری اور مثبت کاموں میں صرف کریں۔
اپنی ترجیحات کا درست تعین درست وقت پہ کریں۔
جاب کریں یا گھر پہ رھیں اپنی شخصیت سنوارنے پہ بھرپور توجہ دیں۔ وقت اور صحت کی شدید قدر کریں۔
شخصیت گھر پہ رہ کے بھی نکھر سکتی ھے۔
اپنے بچوں کی تربیت کو ترجیحات میں سب سے اوپر رکھیں۔
صرف مردوں کو نیچا دیکھانے کے لیے جاب مت کریں۔
صرف اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے خود کو خوار مت کریں۔
گزارا اچھا ھو رھا ھے ٹھیک ھے۔ لائف سٹائل کوئی چیز نہیں ھے جس کے لیے بچوں کو نسوار کا عادی کر دیا جائے۔
مردوں سے برابری کرنے کے لیے بیٹوں کو اپنی بے توجہی سے مت بگاڑیں۔
مخصوص قسم کے لبرل بیانیے بہت مضحکہ خیز ھیں ان کو پہچانیں۔ یہ ایک طرف لڑکیوں کو آزادی دینے کی بات کرتے ھیں دوسری طرف لڑکوں کی تربیت کی ان سے پوچھیں عورت کو تو آپ نے گھر کی ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا تربیت کون کرئے گا۔
یہ آپ کو آئیں بائیں شائیں کریں گے
ہر چمکتی ھوئی چیز سونا نہیں ھوتی انگارہ بھی ھو سکتی ھے۔

تحریر: جویریہ ساجد

March 01, 2022

MUSLIMS Who Left there Religion مسلمان جنہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا۔ کیا وہ قیامت کے دن

🍀 * اک یہودی کی باتیں * 🍀   
جن کے سر پر ڈوپٹہ ہونا چاہئے وہ ننگے سر کھڑی ہیں۔
میں یہودی هوں اور اپنے یہودی ھونے پر فخر کرتا ہوں جبکہ تم اب مسلمان کہلاتے ھوئے شرماتے ھو....جبکہ آج دنیا میں هماری حکومت هے۔
تم نے دیکها که هم نے تمهارے ساتھ کیا کیا؟
هم تمهاری سڑکوں په پهرے تو همیں تمهارا حال پسند نہیں آیا...
تو پته هے هم نے کیا کیا؟
بہت آسانی سے تمهاری لڑکیوں💇👧🙋 کے سروں سے حجاب اتروادیا...
دوسرے طریقوں سے قرآن📖 بهی بهلوادیا..
 تم لوگوں کے پاس اپنا لباس🎽👚👗 بهیجا 😨😰😱 اپنے بازاروں کو دیکهو سارے عریاں لباس کی نمائش گاه هیں...اور تمہاری تہذیب کا لباس تمہارے بازاروں میں ڈھونڈے نہیں ملتا۔
اور مزے کی بات یہ هے کہ تم نے سب قبول کرلیا...👍
 کیا تم کو نہیں معلوم که یہی حال قوم لوط کا تها...
کتنے بےوقوف هو تم...که کہتے رهتے هو:
یہودیوں نے هماری زمین چهین لی..قرآن📖 اور سنت کو ختم کروادیا...
تم کہاں مر گئے هو..؟کچھ کیوں نہیں کرتے؟
سڑکوں پر تمہاری لڑکیاں👧🙋ایسے لباس میں گهوم رهی هیں کہ نام کو لباس ھے پہلے ہم نے تمھاری عورتوں کا حجاب اتارا پھر چادریں🧕🏻 پھر ڈوپٹہ🙎🏻 پھر لباس چست کیا🤷‍♀ شلواریں أنچی کیں اب شلوار کی جگہ ٹائیٹس 🚶🏻‍♀پہنادیا ہم نے انھیں بازاروں راستوں میں برہینہ کردیا اب وہ ہمارا بنایا ھوا لباس فخر سے پہنتی ہیں اور تمھارا لباس پہنتے ھوۓ انھیں شرم آتی ھے ...کیا مضحکه خیز بات هے...
 تمہارا حال بہت برا هوگیا👎
همیں تم لوگوں کی تعلیم📔📒📚 میں ترقی پسند نه آئی تو هم نے تمہارا نصاب بدلوادیا...
اور تمہارے ٹیلی ویژن📺 کو ذلت آمیز پروگراموں اور شرم ناک ڈراموں میں بدل دیا...
تمہیں اور تمھارے علماء کو کچھ بولنے کی ضرورت نہیں..تمہارا چپ رهنا هی بہتر هے...😷
هم نے تمہارے نوجوانوں کو بهٹکا دیا...😐
ایک دور تها که تم ایک پاکیزہ اور غالب امت تهے...آج تم ذلت کی پستیوں میں اترگئے هو...بےچارے!😫😫
 هم نے محسوس کیا که تم لوگوں کی زبان عربی بہت خوب صورت هے جس سے تم قرآن📖 پڑهتے هو...اور اهل جنت کی بهی یہی زبان هوگی.......تو هم نے تمہاری زبان کو بے فائدہ اور فضول قراردیا...اور تم لوگوں نے فورا"یقین کرلیا...پهر تم دوسری زبانوں پر فخر کرنے لگے
(ہائے..بائے..هیلو..مرسی..برستیج.....وغیرہ وغیرہ)
اور تم نے اپنے دعائیه خوب صورت کلمات(السلام عليكم) کو چهوڑ کر انهی کا استعمال شروع کردیا اور هم تمہیں اسی طرح پسند کرتے هیں
 اور همیں یه بهی پسند نہیں آیا که تم لوگوں کو متحد دیکهیں... تو هم نےتمہاری مسجدوں🕌🕌 کو اڑادیا اور الزام بهی تم پر هی لگایا...
اس سے تمہارے درمیان باهمی لڑائیاں🔫🔪🗡🛡💣☠شروع هو گئیں..
 هم نے تمہارے دین کا گہرائى سے مطالعہ کیا اور جهوٹے فتووں کے ذریعے تمہیں تمہاری راه سے هٹا دیا....
هم نے تمہارے درمیان نفرت اور فساد کی آگ بهڑکائى جو تب تک نہیں بجهے گی جب تک که تم سب😫😫 کو جلا کر راکھ نہ کردے ...
 تمہارے گهر👨‍👩‍👧‍👧👨‍👩‍👦‍👦 والے اب جدید مشینی ایجادات 🖥💻📲📱💾💿💽📼کے زیر سایہ پرورش پاتے ہیں...
 هم نے طرح طرح کی کمپیوٹر گیمز🎲🎯🎮👾🎼🎧🎻🎤 ایجاد کیں، جن میں کهو کر تم قرآن📖 کو بهول گئے...اپنے علماء👳 کو بهول گئے...مسلمان سائنس دانوں🕵👮👲 اور ان کے کارناموں کو بهول گئے...تمہاری نئى نسل ایسی نسل هے جو حق بات کہتے هوئے ڈرتی هے...
😐😖😫😣
ھم یہودی قوم... اس بات پر فخر کرتے ہیں  که تعداد میں اس قدر تهوڑے ھونے کے باوجود ھم نے تمہیں بہت آسانی سے🐏🐑🐏🐏🐑🐑🐂 گوشت کے ٹکڑوں کی مانند خرید لیا...
اور تمہیں اس کا کوئی ملال نہیں...تم خوش 😃اور مست🙃 ھو................#⃣#⃣

نوٹ: جہاں تک ممکن ھو مسلمانوں کی بڑی تعداد کو بهیجیں .....
تلخ سہی لیکن ھے حقیقت .....
امتی
مہربانی کر کے اسے آگے بھیجو مسلمانوں کی آنکھیں کهولو

Total Pageviews