September 21, 2019

HOW TO TIGHT YOUR LOOSE BELLY ?



پیٹ کم کرنے کا جادوئی نسخہ
ہر کو ئی خوبصورت اور دلکش دکھنا چاہتا ہے اور اس کے لئے نت نئے جتن بھی کئے جاتے ہیں ۔ اگر پیٹ بہت زیادہ بڑھاہوا ہو یا لٹکا ہو تو ساری خوبصورتی کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے ۔
آج ہم آپ کو کچھ کھائے بنا پیٹ کم کرنے کا ایسا جادوئی نسخہ بتائیں گے کہ جس کے ایک دن کے استعمال سے ناقابل یقین نتائج دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے اور سب سے اہم بات اس نسخہ میں استعمال ہونے والے اجزاء آپ کے گھرمیں ہی موجود ہیں ۔
ویسلین یا پیٹرولیم جیلی ۔۔۔۔۔۔۔۔آدھ چائے کا چمچ
وکس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آدھ چائے کا چمچ
میٹھا سوڈا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آدھ چائے کا چمچ
ادرک پاؤڈر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آدھ چائے کا چمچ
سرسوں کا تیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دو چائے کے چمچ

بنانے کا طریقہ :

تمام اجزاء کو کسی برتن میں اچھی طرح مکس کرلیں ۔نسخہ تیار ہے ۔

استعمال کا طریقہ :

۔1- اپنے پیٹ پر اچھے طریقے سے مساج کریں۔
۔-2- بڑا سا شاپر لے کر پیٹ پر لپیٹ دیں۔
    ۔-3- کپڑا لے کر پیٹ کر باندھ دیں۔
 ۔-4- پانچ سے چھ گھنٹوں تک باندھے رکھیں اور خواتین گھر کے کام کاج کرتی رہیں ۔
۔-5- پانچ سے چھ گھنٹوں بعد جب بہت زیادہ اُلجھن ہونے لگے تو کھول لیں ۔
۔-6- ٹشو کی مدد سے پیٹ کو صاف کر لیں۔

احتیاط :

کھولنے کے فوراً بعد پنکھے کے سامنے نہ بیٹھیں اور نہانے سے اجتناب کریں۔
آدھ گھنٹے بعد نہا لیں ۔

مردحضرات :

چونکہ مردحضرات کو گھر سے باہر جانا پڑتا ہے تو وہ کسی بھی فارغ وقت میں یہ پیٹ پر لگا کر آدھ گھنٹہ تیزتیز واک کریں ۔ انشاء اللہ کافی فائدہ ہوگا۔

September 15, 2019

LAST BOLT & LAST MAN History of these words



"آخری جوان ،آخری گولی"
گذشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ملک کے لئے "آخری جوان آخری گولی" تک لڑنے کی بات کی آپ میں سے بہت کم لوگ اس فقرے کی تاریخ سے واقف ہیں۔اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو 1965کی پاک بھارت جنگ کے پہلے مارکے کے بارے میں جاننا ہوگا ذیل میں دی گئی تحریرکو پڑھنے کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ میجر جنرل آصف غفور نے آخر "آخری جوان ،آخری گولی" تک لڑنے کی بات کیوں کی۔۔۔
پاک بھارت جنگ 1965: بھارتی فوج کو صرف 2 گھنٹے روک لو ، ساری قوم آپ کا یہ احسان یاد رکھے گی
6سمتبر 1965 کو ہمارے ازلی دشمن بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلا ع کے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا لیکن پاکستانی سپوتوں نے وطن کی حفاظت کے لئے وہ کارنامے انجام دئیے کہ دشمن کو اُلٹے پاؤں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اسی لئے ہم ہر سال6 ستمبر کو یوم دفاع پاکستان مناتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے مابین 1965 میں لڑی گئی جنگ بارے نامور کالم نگار اسلم لودھی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ 5اور 6ستمبر کی درمیانی رات میجر شفقت بلوچ کی قیادت میں 17پنجاب کی ڈی کمپنی ٹرکوں کے ذریعے بی آربی نہر کے پاس پہنچی اس وقت ۔ہر طرف رات کاسناٹا تھا ۔ 17 پنجاب کی ڈی کمپنی جب ہڈیارہ گاؤں کے قریب پہنچی تو آدھی رات گزر چکی تھی ۔میجر شفقت بلوچ نے چند جوانوں کو نگہبانی کی ڈیوٹی سونپ کر باقی جوانوں کو آرام کرنے کا حکم دیا۔ ابھی مورچے بھی نہیں کھودے تھے ۔ رات کا آخری پہر چل رہا تھا کہ میجر شفقت بلوچ کی آنکھ اچانک کھل گئی وہ نماز کی تیاری کرنے لگے کہ فائرنگ کی آواز سنائی دی یہ مشن گن اور ماٹر کا فائر تھا۔ میجر شفقت بلوچ نے رینجر سے رابطہ کیا تو وہاں سے جواب ملا کہ بھارتی فوج ٹینکوں اور توپوں سمیت لاہور کی جانب پیش قدمی کرتی ہوئی چلی آرہی ہے یہ اطلاع ملتے ہی میجر شفقت نے بریگیڈ کمانڈر کو بھارتی حملے کی اطلاع دی تو کرنل ابراہیم قریشی نے کہا کہ بھارتی فوج کو آپ صرف دوگھنٹے روک لو ‘پوری قوم آپ کی احسان مند ہو گی۔
بھارتی فوج پاکستان کے سرحدی ہڈیارہ گاؤں پر قابض ہوچکی تھی ہڈیارہ گاؤں کے لوگ چیخ و پکار کرتے آرہے تھے ۔ اس لمحے میجر شفقت بلوچ نے اپنے جوانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ بھارتی فوج نے حملہ کردیا ہے ‘ یہ امتحان کی گھڑی ہے ‘ ہندووں کے سامنے مجھے شرمسار مت کرنا‘اگر ہم ایک سو دس جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے 33لاکھ آبادی کے شہر لاہورکو بچا لیتے ہیں تو یہ سود ا مہنگا نہیں ہے۔ میجر شفقت بلوچ نے اپنے جوانوں کو دور دور پھیلا دیا۔ دور دور پھیلانے کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کسی بھی جگہ سے نالہ عبور نہ کرسکے۔ یہ کم نفری سے بہت بڑی سپاہ کو روکنے کا وہ حربہ تھا جو میجر شفقت کے ذہن میں آیا۔ میجر شفقت بلوچ جب ہڈیارہ ڈرین کے کنارے کھڑے ہوکر دن کے اجالے میں دشمن کو اپنی جانب آتا ہوا دیکھ رہے تھے تو ایک گولی ان کے بائیں بازو کو چھو کر گزر گئی ۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بازو کا زخم دکھاکر کہا کافر کی گولی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔اسی اثناء میں حولدار رحمت چلایا سر وہ دیکھیں دشمن کے ٹینک۔ واقعی دشمن کے ٹینک صف بندی کیے ادھر ہی چلے آرہے تھے۔ میجر شفقت نے حکم دیا ڈرین کے پل کو بارود لگا کر تباہ کردو۔
اسی دوران ایک زور دار دھماکہ ہوا لیکن پل تباہ نہ ہوا کچھ اس طرح بیٹھ گیا کہ گاڑیاں آسانی سے گزر سکتی تھیں۔ میجر بلوچ نے ایس او ایس کا فائر مانگا ۔ساتھ ہی اپنی جیپوں سے آر آر پر فائر بھی کھول دیا۔نائیک منصف کو حکم ملا وہ دشمن کے پہلے ٹینک کا نشانہ لے کر فائر کرے۔ فائر کھلتا ہے دشمن کے پہلے ٹینک کے پرخچے اڑ جاتے ہیں بھارت دشمن کی پیش قدمی رک جاتی ہے۔ دشمن کو پہلی بار احساس ہوا کہ پاک فوج کے جوان بھی ڈرین کے اس پار موجود ہیں۔ اب دونوں جانب سے تابڑ توڑ جنگ شروع ہوچکی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ ہمارے فائر نشانے پر لگتے لیکن بھارتی فوج کے فائر بیکار جاتے ۔ جب بریگیڈئر اصغر قریشی نے وائر لیس پر میجر شفقت سے رابطہ کیا تو اس وقت دشمن کو ہڈیارہ ڈرین کے اس پار رکے ہوئے دو گھنٹے سے زائد وقت ہوچکاتھا۔ بریگیڈ کمانڈر نے کہا‘ میجر شفقت مجھے تم پر فخر ہے تم نے وہ معجزہ کردکھایا ہے جس کی قوم کو ضرورت تھی۔ میجر شفقت نے کہا سر میں آخر ی جوان اور آخری گولی تک دشمن کو ادھر سے پیش قدمی نہیں کرنے دوں گا۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایک کمپنی کے خلاف دشمن کی اٹھارہ کمپنیاں برسرپیکار تھیں۔
دشمن کے پاس بھاری ٹینک اور بھاری توپ خانہ بھی تھا جبکہ پاکستانی کمپنی موثر ہتھیاروں سے محروم تھی۔اسی اثناء میں میجر شفقت بلوچ نے دیکھا کہ جنوب مشرق کی جانب سے دشمن کے ٹینک نالے کو عبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔آرٹلری کا فائر مانگا تو جواب ملا میجر ہمارے پاس اتنے گولے نہیں ہیں۔معاملے کی نزاکت بتائی تو گولے برسے آگ اور دھوئیں کے بادل بلند ہوئے اور ایک بار پھر دشمن کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔ ساڑھے دس بج رہے تھے ۔دشمن کی بکتر بند گاڑیاں پہلی دفاعی لائن سے ٹکرا کر سر پھوڑ رہی تھیں۔ لاہور بہت دور تھا۔ انہی لمحات میں صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان کے ولولہ انگیز خطاب نے پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا اور پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے۔امریکی ہفت روزہ میگزین “ٹائم”کے جنگی وقائع نگار لوئیس کرار نے 23ستمبر 1965ء کے شمارے میں لکھا ۔میں شاید اس جنگ کو بھول جاؤں لیکن میں اس پاکستانی افسر ( میجر شفقت ) کی مسکراہٹ کونہیں بھول سکتا جو مجھے اپنے ساتھ محاذ جنگ پر لے گیا۔
ان کی مسکراہٹ مجھے بتارہی تھی کہ پاکستانی جوان کس قدر دلیر اور نڈر ہیں۔جوان سے جرنیل تک کو میں نے اس طرح آگ سے کھیلتے دیکھا جس طرح گلی کوچوں میں چھوٹے بچے کانچ کی گولیوں سے کھیلتے ہیں۔جب میجر عزیز بھٹی نے بی آر بی پر دفاعی پوزیشن سنبھال لی تو میجر شفقت کو ڈی کمپنی کے ہمراہ واپس آنے کا حکم ملا۔ میجر شفقت ‘ بٹالین ہیڈ کوارٹر پہنچے تو کرنل قریشی نے پوچھا کتنے جوان شہید ہوئے ۔میجر شفقت نے بتایا صرف دو جوان وہ بھی واپس آتے ہوئے اپنی ہی بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر شہید ہوئے ۔بھارتی فوج ہمارا ایک بھی جوان شہید نہیں کرسکی۔جبکہ اسی علاقے سے بھارتی فوج تین دن تک اپنے فوجیوں کی نعشیں اٹھاتی رہی ۔میجر شفقت کو محافظ لاہور کے خطاب کے علاوہ جنرل محمدایوب خان نے ستارہ جرات سے بھی نوازا ۔ یہ ہیں پاکستان کے وہ بہادر سپوت
جو نہ گولیوں سے ڈرتے ہیں نہ بارود سے جن کا مقصد صرف وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرنا ہے زندہ قومیں اپنے ان بہادر ہیروز کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتیں یہ ہیرو ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ اے راہ ھق کے شہیدو وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔
,/font>

September 13, 2019

LACK OF PROFESSIONALISM IN PAKISTAN



پاکستانیو چینی کہاوت سے ہی سیکھ لو!
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں بی اے، بی کام ، ایم کام، بی بی اے، ایم بی اے اور انجینئرنگ کے شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور چار چار سال تک کلاس رومز میں ۔جی ۔پی۔ کے لیےخوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کونسا تیر مار رہے ہیں؟
آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر "ڈگری ذدہ" انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں. یہ ڈگری ذدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک انجان نوکری ہے اور بس۔
ٹیوٹا ، ڈاہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کے ہیں. کیا، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے۔ جو لگژری برینڈز ہیں وہ امریکہ اور یورپ بناتا ہے اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہے؟ الیکٹرونکس مارکیٹ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ چین اور جاپان کے پاس ہے۔ ایل جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے۔ 2014 میں سام سنگ کا ریوینیو 305 بلین ڈالرز تھا ۔ "ایسر" لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جب کہ ویتنام جیسا ملک بھی "ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن " کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے۔ محض ہوا، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے. دنیا میں تعمیر ہونے والا ہر اسپتال چین اور جرمنی سے اپنے آلات منگوا رہا ہے۔ خدا کو یاد کرنے کے لیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدتے ہیں۔
دنیا کے اول درجے کے تعلیمی نظاموں میں فن لینڈ،جاپان اور جنوبی کوریا ہیں۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں" کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں ٹیکنیکل کرنا شروع کردیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی ممالک میں نظر آئیں گے۔
وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے انہیں حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گزرتا ہے باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گزارتے ہیں۔
دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔
ہم اسقدر "وژنری" ہیں کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر 200 ارب روپے خرچ کرتے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ ہمارے "وژنری پن" کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی پیک کے انتظار میں صرف اس لیے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائیں گے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں۔ فلپائن نے پورے ملک میں "ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی" کے شعبے کو ترقی دی ہے۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتیٰ کے ہمارا دشمن ملک بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے۔ آئی ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں جب کہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں. جبکہ ادھر پاکستان میں ایک "مری" ہی ہمارے لیے ناسور بن چکا ہے جہاں کے دکانداروں کو سیاحوں سے بات تک کرنا نہیں آتی۔
چینی کہاوت ہے کہ "اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے اسے مچھلی پکڑنا سکھا دو"۔ چینیوں کو یہ بات سمجھ آگئی کاش ہمیں بھی آجائے۔ خدارا ! ملک میں " ڈگری زدہ " لوگوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہنر مند افراد پیدا کیجیے. دنیا کے اتنے بڑے "ہیومن ریسورس" کی اس طرح بے قدری مت ہونے دیجیے ورنہ انجام ہمارے سامنے ہے.
نواز چشتی

September 01, 2019

TRUE STORY ABOUT ISLAM ,PRAYER, FAST, JANNAT etc




*.......فرض کریں اگر........*
ایک سچی کہانی ایک ایسے شخص کی جس نے ایک نماز پڑھنے والے شخص سے دریافت کیا کہ کیا ہوگا اگر مرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوکہ نہ ہی جنت و جہنم کا وجود ہے نہ ہی کوئی سزا اور جزا ہے پھر تم کیا کروگے ؟
اس کا جو جواب ملا وہ بہت ہی حیران کن اور تعجب خیز ہے لیجئے پوری کہانی *فرض کریں اگر* آپ کے پیش خدمت ہے :
کہتے ہیں سنہ2007  کی بات ہے لندن کے ایک عربی ریسٹورینٹ میں ہم لوگ مغرب کی نماز سے تھوڑی دیر پہلے ڈنر کےلئے داخل ہوئے
ہم لوگ ہوٹل میں بیٹھے اور ویٹر آڈر لینے کے لئے آگیا میں نے مہمانوں سے چند منٹ کے لئے اجازت طلب کی اور پھر واپس آگیا اتنے میں مہمانوں میں سے ایک شخص نے سوال کیا ڈاکٹر صاحب آپ کہاں گئے تھے آپ نے تو بڑی تاخیر کردی کہاں تھے ؟
میں نے کہا: میں معذرت خواہ ہوں در اصل میں نماز پڑھ رہا تھا
اس نے مسکراتے ہوئے کہا آپ اب تک نماز پڑھتے ہیں؟ میرے بھائی آپ تو قدامت پسند ہیں
میں نے بھی مسکراتے ہوئےپوچھا قدامت پسند ؟وہ کیوں ؟کیا اللہ تعالی صرف عربی ممالک میں ہے لندن میں نہیں ہے؟
اس نے کہا:ڈاکٹرصاحب میں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنی جس کشادہ ظرفی کیلئے معروف ہیں اسی کشادہ قلبی سے مجھے تھوڑا سا برداشت کریں گے
میں نے کہا: جی مجھے تو بڑی خوشی ہوگی لیکن میری ایک شرط ہے
اس نے کہا :جی فرمائیں
میں نے کہا : اپنے سوالات مکمل کرلینے کے بعد تمہیں ہار یا جیت کا اعتراف کرنا پڑے گا ٹھیک ہے ؟
اس نے کہا ٹھیک ہے مجھے منظور ہے اور یہ رہا میرا وعدہ
میں نے کہا :چلو بحث شروع کرتے ہیں ...فرمائیں
اس نے کہا :آپ کب سے نماز پڑھ رہے ہیں؟
میں نے کہا سات سال کی عمر سے میں نے اس کو سیکھنا شروع کیا اور نو سال کی عمر میں پختہ کرلیا تب سے اب تک کبھی نماز نہیں چھوڑا اور آئندہ بھی ان شاء اللہ نہیں چھوڑوں گا .
اس نے کہا ٹھیک ہے .. مرنے کے بعد اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ نہ جنت و جہنم کا وجود ہے نہ ہی کو ئی جزا وسزا ہے پھر آپ کیا کروگے ؟
میں نے کہا :تم سے کئے گئے عہد کے مطابق پوری کشادہ قلبی سے تمہارے سوالات کا آخر تک جواب دوں گا
فرض کریں نہ ہی جنت وجہنم کا وجود ہوگا نہ ہی کوئی جزا وسزا ہوگی تو میں ہرگز ہی کچھ نہ کروں گا اس لئے کہ در اصل میرا معاملہ ایساہی ہے جیسا کہ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا :"الہی میں نے تیرے عذاب کے خوف اور جنت کی آرزو میں تیری عبادت نہیں کی ہے بلکہ میں نے اس لئے تیری عبادت کی ہے کیونکہ تو عبادت کے لائق ہے
اس نے کہا : اور آپ کی وہ نمازیں جس کو دسیوں سال سے آپ پابندی کے ساتھ پڑھتے آرہے ہیں پھر آپکو معلوم ہو کہ نمازی اور بے نماز دونوں برابر ہیں جہنم نام کی کوئی چیز نہیں ہے پھر کیا کریں گے
میں نے کہا:مجھے اس پر بھی کچھ پچھتاوا نہیں ہوگا کیونکہ کہ ان نمازوں کو ادا کرنے میں مجھے صرف چند منٹ ہی لگتے ہیں چنانچہ میں انھیں جسمانی ورزش سمجھوں گا
اس نے کہا:اور روزہ خصوصاً لندن میں کیونکہ یہاں روزے کا وقفہ ایک دن میں 18گھنٹے سے بھی تجاوز کرجاتا ہے ؟
میں نے کہا :میں اسے روحانی ورزش سمجھو ں گا چنانچہ وہ میری روح اور نفس کے لئے اعلی طرز کی ورزش ہے اسی طرح اس کے اندر صحت سے جڑے بہت سارے فوائد بھی ہیں جس کا فائدہ میری زندگی ہی میں مجھے مل چکا ہے اور کئی بین الاقوامی غیر اسلامی اداروں کابھی یہ ماننا ہے کہ کچھ وقفے تک کھاناپینا بند کرنا جسم کیلئے بہت مفید اور نفع بخش ہے
اس نے کہا:آپ نے کبھی شراب پی ہے ؟
میں نے کہا :میں نے اس کو کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا
اس نے تعجب سے کہا: کبھی نہیں
میں نے کہا کبھی نہیں
اس نے کہا: اس زندگی میں اپنے آپ کو شراب نوشی کی لذت اور اس کے خمار کے سرور سے محرومی کے بارے میں کیا کہیں گے اگر آپ لئے وہی ظاہر ہوا جو میں نے فرض کیا ہے؟
میں نے کہا: شراب کے اندر نفع سے زیادہ نقصان ہے اور میں سمجھوں گا کہ میں نے اپنے آپ کو اس نقصان دہ چیز سے بچالیا ہے اور اپنے نفس کو اس سے دور رکھا ہے چنانچہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو شراب کی وجہ سے بیمار ہوگئے اور کتنے ہی ایسے ہیں جنھوں نے شراب کی وجہ سے اپنا گھربار مال واسباب سب تباہ وبرباد کرلیا ہے
اسی طرح غیر اسلامی اداروں کےعالمی رپوٹ کو دیکھنے سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی شراب کے اثرات اور اس کو لگاتار پینے کے انجام سے متنبہ کرتی ہے
اس نے کہا :حج وعمرہ کا سفر .جب موت کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے اور اللہ تعالی ہی موجود نہیں ہے؟
میں نے کہا: میں عہد کے مطابق چلوں گا اور پوری کشادہ ظرفی سے تمہارے سوالات کا جواب دوں گا
میں حج وعمرہ کے سفر کو ایک خوبصورت تفریحی سفرسے تعبیر کرونگا جس کے اندر میں نے حد درجے کی فرحت وشادمانی محسوس کی اور اپنی روح کوآلائشوں سے پاک و صاف کیا جس طرح تم نے اپنے اس سفر کے لئے کیا ہے تاکہ تم ایک اچھا وقت گزار سکو اور اپنے عمل کے بوجھ اور معمولات زندگی کی تھکان کو دور کرکے اپنی روح کو تازگی فراہم کرسکو
وہ میرےچہرے کو کچھ دیر تک خاموشی سے دیکھتا رہا پھر گویا ہوا :آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرے سوالات کو بڑی کشادہ قلبی کے ساتھ برداشت کیا
میرے سوالات ختم ہوئے اور میں آپ کے سامنے اپنی ہار تسلیم کرتا ہوں
میں نے کہا :تمہارا کیا خیال ہے تمہارے ہار تسلیم کرنے کے بعد میرے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟
اس نے کہا :یقیناً آپ بہت خوش ہوں گے
میں نے کہا: ہرگز نہیں بلکہ اس کے بلکل الٹا... میں بہت دکھی ہوں
اس نے تعجب سے کہا: دکھی ؟کیو؟
میں نے کہا :اب تم سے سوال کرنے کی میری باری ہے
اس نے کہا :فرمائیں
میں نےکہا: تمہاری طرح میرے پاس ڈھیر سارے سوالات نہیں ہیں صرف ایک ہی سوال ہے وہ بھی بہت سادہ اور آسان
اس نےکہا :وہ کیا ؟
میں نے کہا :میں نے تمہارے سامنےواضح کردیا ہے کہ تمہارے مفروضہ کے واقع ہونے کے بعد بھی میں کسی طرح کے گھاٹے میں نہیں ہوں اور نہ ہی اس میں میرا کسی قسم کا نقصان ہے ... لیکن میرا وہ ایک آسان سوال یہ ہے کہ تمہارا اس وقت کیا ہوگا اگر حالات تمہارے مفروضہ کےبرعکس ظاہر ہوئے یعنی موت کے بعد تمہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالی بھی موجود ہے جنت و جہنم بھی ہے سزا وجزا بھی ہے اور قرآن کے اندر بیان کئے گئے سارے مشاہد و مناظر بھی ہیں پھر تم اسوقت کیا کروگے ؟
وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خاموشی کے ساتھ دیر تک دیکھتا رہا... اور پھر ویٹر نے ہماری میز پر کھانا رکھتے ہوئے ہماری خاموشی کو توڑا
میں نے اس سے کہا:مجھے ابھی جواب نہیں چاہئے کھانا حاضر ہے ہم کھانا کھائیں اور جب تمہارا جواب تیار ہوجائیگا توبراہ مہربانی مجھے خبر کردینا ہم کھانے سے فارغ ہوئے اور مجھے اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور میں نے بھی اس وقت اس کو جواب کے لئے کوئی تکلیف نہیں دی... ہم بہت ہی سادگی کے ساتھ جدا ہوگئے
ایک مہینہ گزرنے کے بعد اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور اسی ریسٹورینٹ میں ملاقات کا مطالبہ کیا
ریسٹورینٹ میں ہماری ملاقات ہوئی ہم نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا *کہ اچانک اس نےمیرے کندھے پر اپنا سر رکھ کر مجھے اپنی باہوں میں پکڑ کر رونے لگا* میں نے اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر رکھا اور پوچھا کیا بات ہے تم کیوں رو رہے ہو
اس نے کہا: میں یہاں آپ کا شکریہ ادا کرنے اور اپنے جواب سے آپ کو باخبر کرنے لئے آیا ہوں
بیس سال سے بھی زیادہ عرصہ تک نماز سے دور رہنے کے بعد اب میں نماز پڑھنے لگا ہوں آپ کے جملوں کی صدائے بازگشت میرے ذہن ودماغ میں بلا توقف گونجتی ہی رہی اور میں نیند کی لذت سے محروم ہوتا رہا
آپ نے میرے دل ودماغ اور جسم میں آتش فشاں چھوڑ دیا تھا اور وہ میرے اندر اثر کر گیا
مجھے احساس ہونے لگا کہ جیسے میں کوئی اور انسان ہوں اور ایک نئی روح میرے جسم کے اندر حرکت کر رہی ہے ایک بے مثال قلبی سکون بھی محسوس کر رہا ہوں
میں نے کہا :ہوسکتا ہے جب تمہاری بصارت نے تمہاراساتھ چھوڑ دیا ہو تب ان جملوں نے تمہاری بصیرت کو بیدار کردیا ہو
اس نے کہا: بالکل ایسا ہی ہے... یقینا جب میری بصارت نے میرا ساتھ چھوڑ دیا توان جملوں نے میری بصیرت کو بیدار کر دیا
میرے پیارے بھائی تہہ دل سے آپ کا شکریہ
اس واقعہ کو پڑھ کر یونہی مت گزرجائیں بلکہ اس کونشر کریں شاید یہ کسی شخص کی ہدایت کا ذریعہ بن جائے
عربی سے ترجمہ شدہ

DAJJAL , ISRAEL NEW WORLD ORDER AND PAKISTAN




دجال، اسرائیل ، نیو ورلڈ آرڈر مسئلہ کشمیر اور پاکستان میں کیا مطابقت ہے۔؟

میں پچھلے کئی سالوں تقریباً دوہزار تیرہ سے یہی ایک بات دہرا رہا تھا کہ اسرائیل کسی بھی صورت 2020 تک نیوورلڈ آرڈر کا قیام چاہتا ہے تاکہ دجال کا راستہ صاف کیا جاسکے
لیکن پاکستان اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے.
میری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے حوالے سے جنگوں کو دنیاوی نظر کے ساتھ ساتھ مذہب کی نظر سے بھی ضرور دیکھا جائے کیونکہ ہمارا انڈیا سے اسرائیل تک کسی سے کوئی دنیاوی جھگڑا نہیں ہے بلکہ ہماری جنگ مذہب کی بنیاد پر ہے. اگر آج قوم مایوس نظر آرہی ہے تو صرف اس وجہ سے کہ ہم ان جنگوں کو باقی دنیا کی طرح صرف دنیاوی جنگ ہی سمجھ رہے ہیں.
آئیں تھوڑا اس طرف بھی نظر ڈالتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں انڈیا کی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے صورتحال جاری ہے کہ فوج اور حکومت معاملات کو ٹھنڈے دماغ سے سوچ سمجھ کر حل کررہے ہیں جبکہ ہمارا ایک طبقہ جو کہ پاک فوج تک سے حجت تمام کیے بیٹھا ہے کہ مطابق پاک فوج کو فوری طور پر کشمیر میں فوجیں اتار کر جنگ شروع کردینی چاہیے ایٹم بم پھینک دینا چاہیے یہ وہ بس یہی کچھ۔
یہ خواہش میری اپنی بھی اور یقیناً پاک فوج کے ہر آفیسر اور ہر جوان کی اور موجودہ حکومت کی بھی ہوگی لیکن چونکہ جو پاک فوج انٹلیجنس رپورٹس اور ملکی و غیرملکی صورتحال کے مطابق فیصلے لیتی ہے اس لیے وہ اپنی اس خواہش کو فی الحال دبا کے بیٹھے ہیں یا شاید جو ہاتھ پاؤں مارے گئے ہیں انکا نتیجہ دشمن کی چیخوں کی صورت میں ان شاءاللہ سامنے آرہا ہے۔
کچھ وقت پہلے میں آپکو بتایا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے فوجی ہیڈکوارٹر کا نہایت ہی خاموشی سے دورہ کیا تھا جہاں پر اسرائیلی جنرلز اور موساد کے سربراہان موجو دتھے۔ یہاں ایک بات اور واضح کرتا چلوں کہ اسرائیل کی ساری جنگ مذہب کی بنیاد پر ہے اور اس کے لیے اسرائیل کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے یہاں تک کہ اسرائیلی عوام تک بھی اپنی اس دہشتگردی کو مذہبی جنگ کا روپ دیتے ہیں بلکہ سرِعام گردانتے نظر آتے ہیں۔ خیر اسرائیلی وزیرِاعظم کا یہ دورہ کئی گھنٹوں پر مشتمل تھا جس میں انہوں نے کئی اہم معاملات اٹھائے اور اپنے اردگرد ممالک جن میں شام، لبنان اور عربوں کی صورتحال اور پاکستان کے حوالے سے اہم معاملات پر بات چیت ہوئی۔
ان سب معاملات کی کڑی پھر ڈٖونلڈ ٹرمپ سے جا ملتی ہے ابھی حالیہ دنوں میں آپ لوگوں نے سُنا ہوگا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان آنے والے یہودی مسیحا دجال کو لے کر بات چیت ہوئی ہےجس میں ٹرمپ نے آنے والے مسیحا دجال کے بارے میں نیتن یاہو سے استفسار کیا تھا جس کے جواب میں اسے کہا گیا کہ تم نے اس خبیث دجال کی آمد کے لیے کیا کیا اقدامات اٹھائے ہیں یا تم اپنی طرف سے اس کی آمد کی تیاری مزید تیز کردو مطلب کہ اسلام اور پاکستان کو صاف کرو کہ دجال آسکے۔
ہم اسے اپنی کم عقلی کہیں یا آزادخیالی کی دین کے آج ہمارے سامنے دجال کا موضوع محض ایک مذاق سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں رہا۔ دجا ل کی آمد کو ہم دقیانوسی خیالات اور دیہاتی لوگوں والی باتیں کہہ کر رد کردیتے ہیں لیکن اپنےپیارے نبی ﷺ نے ہمیں دجال سے جتنا محفوظ رہنے کاا ور اس خبیث کی خباثت کے بارے جتنا کھل کر بتایا یقیناً یہ ہمارے لیکن اہم ترین موضوع خیال کیا جاتا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ دنیا میں ہر فساد ہر شیطانی کی وجہ یہی ہے۔ خیر آتے ہیں آگے موضوع کی طرف۔
امریکہ آج سے ہی نہیں ہمیشہ سے دجال کا بہت بڑا مہرہ رہا ہے جسے وقت کے ساتھ ساتھ یہودیوں نے اپنے استعمال میں رکھااور کام لیتے رہے۔ڈک چینی اور صدر بُش باقاعدہ کھلے عام اس بات کااعتراف کرتے تھے کہ وہ دجال سے ملے ہیں اور وہی انہی حکم دیتا ہے۔مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کے نام سے چھڑی جنگ بھی اسی ڈک چینی اور بُش کی مرہونِ منت ہے۔
افغانستان جنگ میں بھی امریکا کا مقصد پاکستان کو زیرِ عتاب لانا تھا لیکن جس مشرف کو آج منہ بھر بھر کے گالیاں دی جاتی ہیں اسی مشرف نے کشمیر کی بات کی تھی کیونکہ پاک فوج کو اللہ نے وہ صلاحیت دی ہے کہ جہاں دوسری فوجیں ایک ہفتےبعد کا منصوبہ بناتی ہیں وہیں پاک فوج آنے والے وقت کے پندرہ سال بعد کا سُوچتی ہے۔ مشرف جانتا تھا کہ آنے والے وقت میں کشمیر کے مسلے پر اگر امریکہ کو آڑے ہاتھوں نہ لیا تو کشمیر فلسطین بن جائے گا اور عالمی طاقتیں فلسطین کے جیسے ہی آنکھیں موندلیں گی اور بھارت کو شے مل جائے گی آج بےشک امریکہ منافقت پہ ہی اڑا ہے لیکن امریکا کی مجبوری ہے کہ اس پاکستانی مؤقف کی حمایت کرنا پڑرہی ہے۔
اسرائیل معاشی قبضے کے ساتھ ساتھ دُنیا کےکمزور ممالک میں امریکا کے ذریعے پراکیسز کھیل کر خاموشی سے قابض ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان جب سے بنا ہے اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ تب سے ہی پاکستان کو مختلف قسم کی پراکیسز، سیاسی خلفشار، بھارت سے جنگوں کا سامنا رہا ہے۔ آتے آتے وقت پاکستان کی ایٹمی قوت بننے تک آپہنچا یہی ایٹمی قوت کہ جسے ایٹمی صلاحیت سے محروم کروانے کے لیے اسرائیل نے بھارت کے ساتھ ملکر حملے بھی کرنے چاہے، پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین باقاعدہ استعال کی لیکن بفضلِ خدا پاکستان کے گمنام سپاہیوں نے انہیں بناء ہاتھ لگائے نیست وبابود کردیا۔
اسرائیل ایماء پر کئی بارپاکستان کو مشکلات سے دوچار کرنے کی کوشش کی گئی پہلے بھارت کے ساتھ جنگوں میں ، پھر افغانستان جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی گئی، سیاستدانوں کے ذریعے ملک کو دُو ٹکڑے کروایا گیا، کئی دہائیاں پاکستان فرقہ واریت کی آگ میں جھلستا رہا، صوبائی تعصب کو ہوا دی گئی، مذہبی منافرت پھیلائی گئی لیکن پاک فوج ہمیشہ سے جذباتی ہونے کی بجائے مشکل ہی سہی لیکن طویل المدت اور کثیرالمقاصد فوائد اور حل کو ترجیح دی۔ وجہ صرف دشمن کا پھینکا جانے والا جال کے کسی طرح پاکستان کوئی ایسا فیصلہ کرے کہ انہیں پاکستان کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔
پاکستان کے خلاف دشمنوں نے ہر محاذ کے بعد ایک محاذ کھولا اور ہر بار ہر محاذ کا نشانہ پاک فوج اور پاک کی آخری دفاعی لیکر آئی ایس آئی ہی رہی۔
چلیں اب آجاتے ہیں پھر سے موجودہ حالات کی جانب 2019 کا سال آخری مہینوں کی جانب رواں دواں ہے 2020کا سال نیو ورلڈ آرڈر کا سال ہے ۔ ٹرمپ پوچھتا ہے کہ دجال کب آرہا ہے اور یہ بات پہلے کہہ چکا ہوں کہ اب نہیں بلکہ جس دن امریکا نے اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ قائم کیا تھا اور ٹرمپ اسرائیلی دورے پر تھا تب ہی یہ سوال کیا گیا تھا۔ اسرائیل کے پاس وقت کم ہے مگر کام بہت ذیادہ۔ یہ بھی سُوچیں ناں کہ جو کام انڈیا نے 70 سالوں میں نہیں کیا وہ ایک ہفتے میں کیسے کرگیا؟ یہ ایک پوری گیم تھی جو کہ شاید ہماری قوم نہ جان سکے لیکن ہمارے وطن کے محافظ دشمن سے دماغی صلاحیت میں بھی کہیں آگے ہیں الحمدللہ۔ امریکا نے کچھ گیم یوں کھیلنا تھا کہ پاکستان کو ثالثی کی پیشکش تو کردی لیکن دوسری جانب انڈیا کو بھی یہ کہہ دیا گیا تھا کہ انڈیا جلد از جلد ایسے اقدامات کرے کہ پاکستان کو جنگ میں الجھا دیا جائےاور جوں ہی پاکستان جلدبازی میں کوئی مہم جوئی کرے گا پاکستان کو بھارت پر حملہ کرنے اور امریکی ثالثی کے باوجود کاروائی کرنے کے الزام میں کھڈے لائن لگادیا جائے گا۔
اس میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ انڈیا کے ہاتھ کشمیر پر اور مضبوط پڑجاتے اور کشمیر کا جو رُخ آج دُنیا کو پاکستا ن نے دکھا دیا وہ رُخ بھی دنیا نہ دیکھ پاتی بلکہ اُلٹا پاکستان کی جارحیت اور عالمی قوانین کا نام دیکر ایک تو ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ کردیا جاتا، پاکستان کو دہشتگرد قرار دلواکر ڈی نیوکلیرائزڈ کرنے کی کوشش کی جاتی، عالمی پابندی کا سامنا کروایاجاتا لیکن صرف ایک چیز پر بات پہ آواز نہ اٹھائی جاتی اور وہ ہوتی بھارتی دہشتگردی جس پہ آج دُنیا بھر میں ہر عمر ہر مذہب ہر ملک کے لوگ آواز اٹھارہے ہیں۔ جبکہ بھارت کے پاس رہا سہا اور بچا کچھ ایک کشمیر کا ہی پہلو تھا جس کے ذریعے پاکستان کو بلیک میل کرسکتا تھا جو کہ بھارت کے اپنے گلے پڑ گیا۔
اب یہاں سوچنے کی بات یہ بھی ہے ناں کہ آخر اتنی جلدی ہی کیوں تو یہ جلد تھی پاکستان کو جنگ میں الجھا کر اسرائیل کے عربوں کی جانب بڑھتے قدم، اسرائیل اور امریکی چال اور پاکستان کی جنگ کی بجائے خاموشی سے مقاصد کی تکمیل نے یہ چال ناکام بنادی جس کا واضح ثبوت پرسوں رات اسرائیل کا لبنان پر حملہ تھا جسے لبنان سے عرب تک آل آؤٹ آپریشن کہاجائے توبجاہوگا۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ پاکستان اس نہ ختم ہونے والی جنگ جسے شاید تاریخ کی خونریزجنگ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا میں الجھ جائے گا تو اسرائیل مقدس مقامات پر اپنے قبضے کا خواب بھی پورا کرلے گا اور نیوورلڈ آرڈر کے آڑے آیا پاکستان بھی یا تو جنگ میں خستہ حال ہوجائے گا اور یا مل کر اس کے ایٹمی دانتوں کو اکھاڑ پھینکا جائے گااور اسے مفلوج کردیا جائے گالیکن پاکستان کےنے دشمن کی یہ چال بھانپ لی اور انہی کی چال انکے منہ پہ دے ماری۔گوکہ پاکستان نے کشمیر کے حوالے سے دُنیا کے سامنے بڑے ٹھنڈے مزاج سے کام لیا لیکن پاکستان نے اس بار کشمیر کو فیصلہ کن معرکہ بنایا ہے۔
آج کشمیر کی صورتحال کشیدہ ہے لیکن اتنا یاد رکھیے کسی جلدبازی کی صورت میں کشمیر کی صورتحال موجودہ صورتحال سے کہیں ذیادہ بدترین ہوتی آج انڈیا جو کچھ کررہا ہے وہ شاید اس کا ایک فیصد بھی نہ ہو جو وہ کرنا چاہ رہاہے کیونکہ پاکستان نے یہ معاملہ ساری دُنیا کے سامنے رکھ کر انڈیا کا بدترین روپ دُنیا کو دکھا دیا اور اب حالت یہ ہے کہ دُنیا کے کونے کونے سے انڈیا کو ذلت و رسوائی کا سامنا ہے۔
فوراً جنگ کی صورت میں دُنیا کی نظریں پاک بھارت جنگ پر اور منافقت کا مظاہرہ کرنے والے اسے جنگ کو پاکستان کے حصے میں ڈال دیتےاور کشمیر کا معاملہ شاید ہمیشہ کے لیے ہی دب جاتا کہ پاکستان نے اس معاملے کو دنیا کے سامنے رکھنے کی بجائے خود حملہ کردیا پاکستان کو دنیا کے اہم ممالک اور یواین کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ اس جلد بازی میں ہم اپنے پراعتماد دوستوں کی حمایت بھی گنوادیتے۔ کل تک دنیا میں کشمیر سے ناواقف ممالک بھی آج کشمیر کے حق میں ٹھہرے ہیں تو یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔
ایک انٹلیجنس رپورٹ کے حوالے سے بھی آپکو آگاہ کرتاچلوں پاکستان کو ایک رپورٹ بھی ملی تھی کہ پاکستان کو جنگ میں الجھا کر دنیا کی نظریں کشمیر سےہٹوادی جائیں گی ، سارا میڈیا اور انٹرنیشنل کمیونٹی کا سارا دھیان ایل او سی پر رہے گااو ر ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد اسی عرصےمیں کشمیر میں آباد کردی جائے گی جس کا انڈیا کو فائدہ یہ ہو گا کہ جنگ تھمنے تک کشمیر میں مسلمان اقلیت میں بدل دیئے جائیں گے اور پاکستان کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
ایک بات یاد رکھیے گا کہ افغان جنگ کے وقت بھی میڈیا نے بڑا رُول ادا کیا تھا جنہیں مال و متاع ملا تھا انہوں نے فوراًسارا ملبہ افغانستان پر ڈال دیا تھااور امریکہ نے بناء سوچے سمجھے افغانستان کا رُخ کیا اور آج اس کا حشر آپکے سامنے ہے، ویسے ہی پاکستان میں آپکو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو کہیں گے بس ابھی ابھی جنگ کرو، ابھی ابھی گھس جاؤ اگر نہیں تو فوج بزدل ہے فوج بیکار ہے لیکن آپکو یہ نہیں بتائیں گے کہ دشمن کو چال سے ماردینا چیخنے چلانے سے کہیں بہتر ہے اور الحمدللہ پاکستان کو اللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ پاکستان ہاتھ بھی نہیں لگاتا اور اتار بھی لیتا ہے۔ وہ آپکو یہ نہیں بتائیں گے کہ پاک فوج ایک وقت میں دشمن کی سینکڑوں پراکسیز جن میں افغانستان سے داعش، ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم، بی ایل اے ، بی آراے، بی ایل ایف، افغانستان میں 50 ملکوں کی فوجوں اور پاکستان کے چپے چپے میں چھپے دہشتگردوں، سہولت کاروں ، غداروں ، راء، این ڈی ایس، موساد، ایم آئی سیکس، سی آئی اے ،اور ایسی کئی خفیہ ایجنسیوں سے بھی ساتھ ساتھ نبردآزما ہے۔
جبکہ اس کے مقابل دشمن ممالک کو سوائے آئی ایس آئی کے دوسری کسی ملک کی خفیہ ایجنسی سے کوئی خطرہ نہیں ایسی صورتحال میں پاک فوج کو 90 لاکھ کشمیریوں کابھی سوچنا ہے کہ انکا جانی نقصان کم سے کم ہو اور دشمن کو خاموشی سے مارا جائے جبکہ 22کروڑ پاکستانیوں کا بھی سُوچنا ہے جنہیں دشمن مٹانے کے لیے پاک فوج کی کسی ایک غلطی کامنتظرہے لیکن آپکو یہ نہیں بتایاجائے گا بس کہا جائے گا فوج نے کشمیر بیچ دیا حکومت نے کشمیر بیچ دیا ۔
میں آپکو ان شاءاللہ سچے دل اور یقین سے کہہ رہا ہوں آپ انڈیا سے کہیں وہ بتائیں انکے ساتھ کشمیر میں کیا ہورہا ہے تو آپکو دشمن ہی بتائے گا کہ انکا کیا حشر ہورہا ہے۔
افغانستان میں روس سے لیکر امریکہ تک ہم نے کسی کو ہاتھ نہیں لگایا اور انہیں الحمدللہ خاک میں ملا دیا مگر بھارت تو ازلی دشمن ہے اسے کیسے بخشا جاسکتا ہے۔ کشمیر کےلیے ہماری بھارت سے 3 جنگیں ہوئی ہیں، کشمیر کی ہی وجہ سے لاکھوں پاکستانی شہید ہوئے ہیں اگر کشمیر کے مؤقف سے پیچھے ہٹنا ہوتا تو اتنی قربانیاں دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی آج جو محافظ دن رات جاگ رہے ہیں اور پاکستان اور کشمیر دونوں کو ہی بچانے کی تگ و دو میں ہیں وہ ہم سے ذیادہ کشمیر کے ہمدر دہیں اور ان شاءاللہ وہ اپنا کام بہت اچھے سے کررہے ہیں جن کی تفصیلات شئیر نہیں کرسکتا لیکن ان شاءاللہ انہوں نے بھارتی شہ رگ کو پکڑا ہےجس کا رُونا چند دن پہلے انڈیا میڈیا رُو چکا ہے لیکن یہاں میں تفصیل سے گریز کرونگا۔
پاک فوج اور حکومت وہ سب کچھ کررہے ہیں جو کرنا چاہیے اور ہرفورم پرکررہے ہیں مگر خاموشی سے چال چل کرجس کی سمجھ ہمیں کچھ عرصہ بعد دشمن کی چیخیں سُن کرآتی ہے۔ پاکستان کے اقدامات سے بھارت کی معاشی کمر ٹوٹنے کے قریب ہے جیسے انکی ائیرانڈین چند ماہ پاکستانی فضائی حدود بند رہنے سے دیوالیہ ہوگئی۔ انڈیا کی معیشت کا جنازہ ہی انڈیا کی موت ہے جس کے غرور میں دن رات بھارت معیشت معیشت کررہا ہے۔
کبھی چند لمحے ذرا یہ بات سُوچ کر دیکھیں کہ ہم باقی ہر پالیسی کو چھوڑ کر جنگ کو ہی ترجیح دےرہےہیں جس کے بارے پاک فوج بھی کہہ چکی ہے کہ ہر حد تک جائیں گےاور حکومت بھی تو اس کے بعد ہمیں ان پر اعتماد کراظہار کرنا چاہیئے کیونکہ جو کچھ انہیں معلوم ہوتا ہے ہم اس سے ناواقف ہوتے ہیں ہماری سُوچ محض یہ ہوتی ہے کہ ہمارے پاس نمبرون فوج ہے تو ہم کشمیر میں گھس کر آزاد کرالیں گے اور بات ختم ۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے پاک فوج نے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ دشمن نے اگر یہ پتا پھینکا ہے تو اس سے وہ کیا کیا مقاصد حاصل کرناچاہتا اور پھر اسی کے مطابق پالیسی ترتیب دی جاتی ہے۔
فوراً جنگ کی بات تب بھی بالکل درست ٹھہرتی جب دُنیا میں پاکستان اور بھارت دُو ہی ملک ہوتے۔ لیکن یہاں دُنیا آباد ہے پاکستان مارتا بھی ہے اور گھسیٹتا بھی لیکن امن کی پکار کے ساتھ اپنے اردگرد بسنے والے کروڑوں لوگوں کی حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے جن میں بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا جیسے کئی ملک ہیں جو اس جنگ کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں لیکن اس بات کا خیال انڈیا کبھی نہیں کرتا کیونکہ کوئی مرے جیے انڈین حکومت کو کوئی غرض نہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں سینکڑوں بھارتی فوجی جہنم واصل ہوچکے ہیں لیکن کسی نے نام تک نہیں لیا یہ انکی وقعت ہے۔ انڈین حکومتیں اپنےملک میں سینکڑوں لوگوں کو اس لیے مروادیتی ہے کہ پاکستان پر الزام لگا سکے تو آپکا کیا خیال ہے بھارت کے نزدیک کسی انسانی جان کی کوئی وقعت ہے؟
ہم دشمن کی ہر چال کو سمجھ کر اسی کے مطابق جواب دینا جانتے ہیں اور جواب دے رہےہیں ۔ جنرل آصف غفور کی بات کہ دشمن کے خلاف کامیاب چال وہی ہوتی ہے کہ جو دشمن کو حیران کردے اور ہر چال کے بعد ایک نیا راستہ موجود ہو۔ بھارت کے پاس جو جو راستے تھے وہ سب ختم کرچکا ہے مگر ہمارے پاس الحمدللہ سینکڑوں راستے ہیں۔ ابھی خالصتان باقی ہے، ابھی آسام ، ابھی حیدرآباد، ابھی مہاراشٹرا باقی ہے اور انڈیا کو ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک سرپرائز ملتا جائے گا بلکہ مل رہا ہے بس بھارت ڈھیٹ مریض کی طرح فی الحال درد دبا کے بیٹھا ہے کہ کہیں ڈاکٹر کڑوی دوائی نہ پلادے۔
پاکستان کشمیر کے ساتھ ہے تھا اور ہمیشہ رہے گاا ور ان شاءاللہ جب پاک فوج یہ بات کہہ چکی ہے کہ انڈیا آزادکشمیر کو بھول جائے اب پرانا قبضہ چُھڑانے کا وقت ہےتو یقین کریں واقعی میں اب پرانا قبضہ ہی چھڑانے کے وقت ہے۔ ہم امریکہ کے اتحادی تھے ہم نے مارا مگر ہم نے کہا ہم اتحادی ہیں، ہم انڈیا کو ماریں گے مگر ہم امن چاہتے ہیں۔ پاک فوج کشمیر میں جہاں جیسے نکلے گی وہ آپکی اور دشمن کی سُوچ ہی ہوگی۔
اعتماد رکھیں یقین رکھیں دشمن کی چیخیں آپکو سنائی دینے کا وقت قریب ہے ان شاءاللہ۔ یہ جنگ نہ معیشت کی ہے نہ زمین کی یہ جنگ نیوورلڈآرڈر کی ہے یہ جنگ مذہب کی ہے ان شاءاللہ یہ جنگ پاکستان کی ہے یہ جنگ اسلام کی ہے یہ جنگ حق و باطل کی ہے اور فتح ہمیشہ حق کی رہی ہے۔ اس وقت بہت سے لوگ اپنی دکانیں چمکائیں گے کچھ آپکو جذباتی کریں گے کچھ آپکو کہیں گے کہ بس صرف جنگ جنگ لیکن جہاں اپنے پرائے سب آپکے دشمن ہوں وہاں چال چلنا کہیں بہتر ہوتا ہے ۔ جنہوں نے کشمیر کے لیے لڑنا ہے وہ لڑیں گے بھی مریں گے بھی ماریں گے بھی لیکن بس آپ کو ان پہ اعتماد ہوناچاہیے دشمن اور دوست کا فرق معلوم ہونا چاہئے۔

تحریر: انوکھاسپاہی



Total Pageviews