January 08, 2019

No Begging only Work / Business


ایک انوکھی کنسلٹنسی Consultancy سروس
بے روزگاری اور کم سرمائے کا رونا رونے والوں کے لیے بہترین تحریر لازمی پوری پڑھیں
ایک دفعہ ایک صحابی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ امداد کے طالب ہوئے
اس کا واضح مطلب معاشی مجبوریوں کا حل بھی در نبوت سے ملتا تھا جبھی اس نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پہ حاضری دی اور آپ نے اس کی بات کو غور سے سننے کے بعد ان سے دریافت فرمایا۔
” تمہارے پاس کوئی چیز بھی ہے“؟
وہ بے چارے اتنے غریب و نادار تھے کہ جواب میں انہوں نے عرض کیا
” میرے پاس صرف ایک ٹاٹ ہے،
جس کے ایک حصہ کو اوڑھ لیتا ہوں اور دوسرے کو بچھاتا ہوں۔
اس کے سوا ایک پیالہ بھی ہے،
جس میں پانی پیتا ہوں۔“
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اسی پیالے اور ٹاٹ کو لے آؤ۔
اس کا مطلب کسی کام کی بنیاد رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ اس میں جس قدر ہو سکے ذاتی سرمایہ لگایا جائے تاکہ وہ کاروبار پھل پھول سکے--اب چاہے وہ سرمایہ کم ہی کیوں نہ ہو اسی میں ہی ترقی کا راز چھپا ہے
بالاخر وہ صحابی اپنا ٹاٹ اور پیالہ لے کر آئے، دیکھنے والوں نے دیکھا اور دنیا دنگ رہ گئی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم خود اس پیالہ اور ٹاٹ کو اپنے ہاتھ میں لے کر،
اس کا نیلام کرنے کھڑے ہو گئے اور پکارنے لگے۔
من یشتر ھذین؟
ان دونوں کو کون خریدتا ہے ؟؟
ایک صاحب نے کہا:
انا آخذھما بدرھم․
میں لیتا ہوں ایک درہم میں--'
اس کا مطلب اگر اشیاء کو بیچنے کی نوبت آئے تو آواز لگانا ، پکارنا ، صدا دینا ،
متوجہ کرنا تجارت کا حصہ ہے اور پیغمبر کے اسی عمل سے منڈی کی تجارت کا جواز ملتا ہے اور صحابی کا ان اشیاء کے لئے قیمت پہ راضی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ نیلام ہونے پہ اگر کسی شے کی قیمت آپ کو سمجھ آرہی ہو تو بغیر چھوئے جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پہ خریدا جا سکتا ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی الله علیہ وسلم نے پھر حاضرین کو مخاطب کیا:
من یزید علی درھم؟ ایک درہم پر اضافہ کون کرتا ہے؟
اور لوگوں کو اس طرف توجہ دلوائی بالآخر دو درہم پر بولی ختم ہو گئی--
اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اگر آپ کو پروڈکٹ کی قیمت زیادہ مل رہی ہو تو آپ بیچ سکتے ہیں ، خریدار دیکھنا چاہئے ، اگر قیمت بڑھتی نظر آئے تو فروخت کرنے میں مضائقہ نہیں
بالآ خریدار کو ٹاٹ اور پیالہ دے دیا گیا اور دو درہم جو قیمت میں وصول ہوئے تھے وہ حاجت مند انصاری کے حوالے کرکے ارشاد فرمایا
"ایک درہم سے اناج خریدکر اپنے گھر والوں کودو اوردوسرے درہم سے ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آو "
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر کائنات سرمائے کی کمیت کے مطابق مشورہ بھی دیا کرتے تھے ، اور مشورہ میں انویسٹمنٹ اور انویسٹر کی گھریلو ضروریات کو بھی مدنظر رکھا کرتے تھے --
بزنس کنسلٹنٹ کی حیثیت سے معاشیات کے طالب علم کو سیرت کے اس پہلو سے ضرور واقف ہونا چاہئے
حضرت انس رضی اللہ عنہ جو اس روایت کے راوی ہیں، فرماتے ہیں کہ جس وقت انصاری صحابی نے کلہاڑی لاکر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں دستہ ڈالا
اس سے صاف ظاہر ہے کہ پیغمبر بزنس کی بنیاد رکھنے والے بھی ہیں ، ان کی ذات ستودہ صفات نے نہ صرف بزنس کی طرف توجہ دلائی بلکہ اس کے لئے کاروبار بھی تجویز فرمایا اور کاروبار کے آغاز کے لئے اپنے مبارک ہاتھوں سے بنیاد بھی رکھی اور فرمایا
"اس کلہاڑی کو لے جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کاٹ کر لاؤ اور اس کو بیچو اور پندرہ روز کے بعد پھر مجھ سے ملنا "
وہ چلے گئے اور پندرہ دن بعد جب خدمت مبارک میں حاضر ہوئے تو وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کہہ رہے تھے
" ان پندرہ دنوں میں دس درہم آمدنی ہوئی، جس میں سے چند درہم کے تو کپڑے خریدے گئے اور چند درہم کا غلہ مول لیا گیا"
اس کا مطلب کہ پیغمبر دوعالم ایک مشاق کنسلٹنٹ کی حیثیت سے فیڈ بیک پراسس بھی لیتے تھے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ بزنس کس نہج پہ جا رہا ہے اور کس طرح کے اخراجات ہو رہے ہیں ؟؟ کیپیٹل کتنا ہے؟؟ اور اس کا مصرف کہاں ہوا ہے ؟؟
انصاری صحابی کی یہ بات سن کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دمک اُٹھا اور فرمایا:
” یہ بہتر ہے اس سے کہ تم قیامت کے روز بھیک کا داغ اپنے چہرے پر لگائے ہوئے آؤ"
اس آخری بات سے پیغمبر نے تجارتی عمل کی تعریف کی ہے کہ بلا رنگ ونسل اور حیل وحجت خریدو اور بیچو اور جو حاصل ہو اسے اپنے مصرف میں لاو ، شرم اور جھجھک کو ایک طرف رکھتے ہوئے چھوٹے سے چھوٹا بزنس بھی کرنا پڑجائے تو پیچھے مت ہٹو بلکہ میدان عمل میں کود پڑو یہی کامیابی کی معراج ہے


January 04, 2019

ملک ریاض کے حمام میں نہانے والے خوش نصیب صحافی




بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے دھماکہ کر دیا
ملک ریاض سے جو جو صحافی پیسے لیتے رہے اس نے ان کی خفیہ ویڈیو بنا رکھی تھی اور آج جب دوبارہ بلیک میل کرنے لگے تو اس نے ویڈیو جاری کر دی جس میں مختلف وقت پر مختلف لوگ اس سے پیسوں کے بھرے بیگ لے رہے ہیں اور اسے یقین دھانی کروا رہے ہیں کہ ہم آپ کے کیس ختم کروا دیں گے
ملک ریاض کے حمام میں نہانے والے خوش نصیب صحافی
-------------------------------------
نجم سیٹھی نے ملک ریاض سے ایک کروڑ 94لاکھ روپے وصول کئے اور موصوف نے تین امریکہ کے دورے اور ہوٹل کرایہ کی سہولت بھی حاصل کی انکو یہ رقم ڈی ایچ اے لاہور پاکستان بحریہ ٹائون اکائونٹ نمبر 14/7swift code mucbpkkaa کے ذریعے کی گئی۔
اینکر منیب فاروق نے بھی پانچ لاکھ روپے دوبئی کا ٹرپ ایک ہفتہ فائیو سٹار ہوٹل میں سٹے حاصل کیا گیا انہیوں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ عسکری بنک کے اکائونٹ نمبر010001011011180 کے ذریعے کی گئی۔
معروف کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چوہدری ملک ریاض کے نام سے ایک کالم لکھنے کے لاکھ وصول کرتے تھے۔ جو ملک ریاض کے اخبار روزنامہ جناح میں شائع ہوتا تھا۔ ملک ریاض کی طرف سے لکھی گئی کتاب کی قیمت بحریہ ٹاؤن میں ایک 10 مرلہ کا گھر اور ایک کروڑ روپے نقد وصول کیے جو یو بی ایل اکاؤنٹ نمبر37100154کے ذریعے ملے۔
نصرت جاوید جن کے سید اور بٹ ہونے کا معاملہ ابھی حل طلب ہے وہ بھی 78لاکھ روپے اور ٹیوٹا کرولا کار ملک ریاض سے چپکے سے لے اڑے انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ مسلم کمرشل بنک Main boulevard DHA لاہور اکائونٹ نمبر بحریہ ٹائون پرائیویٹ لمیٹڈ 14-7swift code MUCBPKKAA کے ذریعے کی گئی
مشتاق منہاس نے بھی 55لاکھ روپے دو اقساط میں وصول کرنا ضروری سمجھا انکو یہ رقم بحریہ اکائونٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے اکائونٹ نمبر51077-6اور حبیب بنک لمیٹڈ ایل ڈی اے پلازہ برانچ لاہور کوڈ1315swift HABBPKKAX315 سے کی گئی
مبشر لقمان جب دنیا ٹی وی سے وابستہ تھے تو انہوں نے ملک ریاض سے2کروڑ پچاسی لاکھ روپے تین اقساط میں وصول کئے اور یہ رقم نیشنل بنک اکاؤنٹ کے ذریعے مبشر لقمان کو ٹرانسفر کی گئی جبکہ ایک مرسیڈیز بینز کار بھی تحفہ کے طور پر دی گئی۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایک کروڑ سات لاکھ روپے کی پہلی قسط نیشنل بنک کے ذریعے وصول کی جبکہ موصوف نے سات ٹرپ دوبئی کے لگائے جس میں ہوٹل سٹے اور کرائے پر کار کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔
کامرن خان نے 62لاکھ روپے وصول کئے دو کروڑ روپے اور بحریہ میں گھر کی آفر خود قبول کرنے کی بجائے کسی تھرڈ پارٹی کے ذریعے وصولی۔ یہ رقم جو کامران خان کو ٹرانسفر کی گئی وہ این آئی بی سی بنک لمیٹیڈ بحریہ ٹائون برانچ اکائونٹ نمبر8283982کے ذریعے کی گئی۔
معروف کالم نگار اور ہر وقت الفاظ کے تیر برساتے اور خود کو قوم کو مسیحا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے والا اور دوسروں کو گریبان دیکھانے والا حسن نثار بھی کسی سے پیچھے نہ رہا جنہوں نے ایک کروڑ اور دس لاکھ روپے وصول کئے اور دس مرلے کا بحریہ ٹائون میں پلاٹ بھی حاصل کیا انکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی اسکا بھی اکاؤنٹ ٹائٹل بحریہ ٹائون پرائیویٹ لمیٹڈ اکاؤنٹ نمبر42279اور حبیب بنک لمیٹڈ ایل ڈی اے پلازہ برانچ Swift Habbpkkax315 ہے۔
پاکستان کے بڑے اینکر جو جیو ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر میڈیا اور قوم کو سچ کا بھاشن دیتے اخلاقیات کی بات کرتے اور اپنے آپ کو دیانتداری کا پیکر سمجھتے ہیں جی ہاں حامد میر جنہوں نے دو کروڑ پچاس لاکھ روپے ملک ریاض سے وصول کئے پانچ کینال کا پلاٹ اسلام آباد میں حاصل کیا انکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ این آئی بی سی بنک لمیٹڈ/بحریہ ٹائون اکائونٹ نمبر82840597کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی۔
پی ایف یو جے کے سابق سیکرٹری صحافیوں کو ضابطہ اخلاق اور دیانتدار ی سکھانے والے سینئر صحافی مظہر عباس بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے موصوف نے90لاکھ اور دس مرلے کا پلاٹ لاہور میں حاصل کیا۔ انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ ایم سی بی بنک اکائونٹ نمبر0075232201000124کے ذریعے کی گئی۔
مہر بخاری نے شادی ہونے سے قبل ہی اسلام آباد میں ایک کینال کا پلاٹ اور پچاس لاکھ روپے کی سلامی حاصل کرنے میں دیر نہیں لگائی۔
آفتاب اقبال نے 2 کروڑ روپے اور ایک ٹیوٹا جیپ وصول کی۔ اور ملک ریاض نے بیدیاں روڈ لاہور پر انہیں زمین بھی فارم ہائوس کیلئے خرید کر دی انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹائون برانچ اکاؤنٹ نمبر 3620 سے کی گئی۔
ایک دن جیو کے ساتھ پروگرام کے اینکر سہیل وڑائچ نے بھی ملک ریاض کے ساتھ جو پروگرام کیا اسکے 15 لاکھ روپے اور ہنڈا سوک گاڑی حاصل کرنے میں دیر نہیں لگائی انکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹائون کے اکاؤنٹ نمبر42279-2سے کی گئی اور اسی طرح حبیب بنک ایل ڈی اے پلازہ برانچ لاہور کوڈ1315 swift HABBPKKAX315 سے کی گئی۔
ثناء بُچّہ نے83لاکھ روپے لاہور میں10مرلے کا گھر اور مسلم کمرشل بنک Main boulevard DHAلاہور اکاؤنٹ بحریہ ٹائون اکائونٹ نمبر14-7swifcode MUCBPKKAA سے کی گئی۔
ارشد شریف جن کو ملک ریاض کی خصوصی سفارش پر دنیا ٹی وی میں بیورو چیف کی سیٹ پر تعینات کیا گیا موصوف نے دو اقساط میں پچاسی لاکھ روپے وصول کئے انکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ اکاؤنٹ نمبر یوبی ایل 37100154کے ذریعے کی گئی۔
عاصمہ شیرازی نے45 لاکھ روپے وصول کئے انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ نمبر51077-5 اور حبیب بنک ایل ڈی اے پلازہ برانچ لاہور 1315 swift HABBPKKAX315 کوڈ کے ذریعے کی گئی۔
سمیع ابراہیم نے ایک کروڑ روپے ایک کینال کا بحریہ ٹائون میں پلاٹ اور ٹیوٹا کرولا گاڑی حاصل کی انہیں یہ رقم KASB بنک بحریہ ٹاؤن برانچ 3710581401h کے ذریعے کی گئی۔
ماروی سرمد بھی فیضیاب ہونے والوں میں شامل ہیں انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن برانچ سے اکائونٹ نمبر 8284059 کے ذریعے کی گئی۔

Orange Train In Lahore, White Elephant


مالٹا ٹرین لاہور ،  سفید ہاتھی ؟

آپ کو یاد ہوگا کہ جب جب پنجاب حکومت سے اورنج ٹرین کے معاہدے کی کاپی مانگی جاتی تھی، شہبازشریف ہمیشہ یہ کہہ کر انکار کردیتا تھا کہ یہ حساس معاہدہ ہے اور اسے لیک کرنے سے چین کے ساتھ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ اپریل 2018 میں جب اس منصوبے کے حوالے سے کرپشن کی اطلاعات سامنے آئیں تو نیب نے پنجاب حکومت سے منصوبے کے تمام ڈاکومنٹس طلب کئے لیکن شہباز شریف نے انکار کردیا۔
اب خبر آئی ہے کہ اس معاہدے میں ایک خفیہ شق رکھی گئی تھی جس کے مطابق منصوبہ ایک خاص تاریخ تک مکمل نہ ہونے کی صورت میں پنجاب حکومت نے چینی کمپنی کو روزانہ کے حساب سے چھ ملین ڈالرز بطور جرمانہ ادا کرنا تھے اور آج سے جرمانے کا یہ میٹر چالو ہوگیا۔
یہ معاملہ صرف کمزور معاہدہ کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2017 میں ایک سکینڈل آیا تھا جس کے مطابق شہبازشریف نے چین میں اپنے فرنٹ مین کے ذریعے کمپنیاں بنا کر انہیں پاکستان میں پراجیکٹس ایوارڈ کئے تھے۔ ان کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں جب بھاری رقوم ٹرانسفر ہونا شروع ہوئیں تو چین کی حکومت نے تحقیقات لانچ کیں اور اس ضمن میں چین حکام نے کئی مرتبہ پاکستان کا دورہ بھی کیا۔
اب اگر تھوڑی دیر کیلئے آپ اپنے آپ کو شہبازشریف کی جگہ رکھیں اور اسی طرح حرامخور بن کر سوچیں کہ اپنی ہی کمپنیاں چین میں قائم کرکے ان کمپنیوں کو میگا پراجیکٹس ایوارڈ کردیئے جائیں اور معاہدے میں شق رکھ دی جائے کہ اگر فلاں تاریخ کو منصوبہ مکمل نہیں ہوتا تو روزانہ چھ ملین ڈالر کا ہرجانہ پاکستان ادا کرے گا۔
شہبازشریف اچھی طرح جانتا تھا کہ اس منصوبے میں موجود تکنیکی نقائص کی وجہ سے یہ وقت پر کسی بھی صورت مکمل نہیں ہوسکتا تھا، ماحولیات اور تاریخی ورثہ کے بچاؤ کی تنظیموں نے عدالتی کاروائی کی دھمکی دے رکھی تھی جس کی وجہ سے چھ ماہ کیلئے یہ منصوبہ شروع ہونے سے قبل ہی روکا جاچکا تھا۔
اگر آپ شہبازشریف بن کر سوچیں تو آپ کی نہ صرف پانچوں گھی میں ہیں بلکہ سر سمیت پورا جسم کڑاھی میں۔ ایک طرف آپ نے پچاس ارب کے منصوبے کو ڈیڑھ سو ارب کا کردیا اور اسے اپنی فرنٹ کمپنی کو ایوارڈ کرکے اربوں بنائے، دوسری طرف آپ نے معاہدے میں تاخیر کی شق رکھوا دی تاکہ ہر روز بغیر کسی محنت مشقت کے، آپ کی کمپنی کو چھ ملین ڈالرز ملنا شروع ہوجائیں۔
اس لیول کی کرپشن کو پکڑنا آسان نہیں، کیونکہ فرنٹ پر چینی کمپنی ہے اور سامنے ایک کانٹریکٹ اور اس کی تاخیری کلاز۔ نہ تو کسی نے رشوت لی اور نہ ہی میٹیریل غائب ہوا ۔ ۔ ۔ لیکن اربوں روپے بنا بھی لئے اور مزید کئی ارب بھی بٹور لئے جائیں گے۔
ان حرامزادوں نے ملک کو ایسے لوٹا ہے جیسے اس ملک کے ساتھ ان کی کوئی خاندانی دشمنی رہی ہو

December 27, 2018

PAKISTAN & CORRUPTION CASES NO RESULT





پاکستان اور حکمران
عزیر بلوچ رزلٹ صفر
عابد باکسر رزلٹ صفر
ڈاکٹر عاصم رزلٹ صفر
شرجیل میمن رزلٹ صفر
کرنل جوزف رزلٹ صفر
ریمنڈ ڈیوس رزلٹ صفر
مجید رکن بلوچستان اسمبلی پولیس اہلکار کا قتل رزلٹ صفر
انسپکٹر اعجاز قتل رزلٹ صفر
ماڈل ایان علی رزلٹ صفر
12 مئی قتل عام رزلٹ صفر
احد چیمہ ریمانڈ پر ریمانڈ رزلٹ صفر
فواد حسن فواد صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
منشی اسحاق ڈالر رزلٹ صفر
راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
نیو بینظیر ائیر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر
ایم کیو ایم غداری کیس ثبوت موجود رزلٹ صفر
ایم کیو ایم دہشتگردی را فنڈنگ ثبوت موجود رزلٹ صفر
اصغر خان کیس رزلٹ صفر
شہد کی بوتل رزلٹ صفر
بلدیہ ٹاون رزلٹ صفر
ماڈل ٹاون رزلٹ صفر
شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
راؤ انوار ناحق قتلِ عام ثبوت موجود رزلٹ صفر
56 کمپنی سکینڈل رزلٹ صفر
صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
سستی روٹی تندور کرپشن رزلٹ صفر
کلبھوشن یادیو دشمن جاسوس رزلٹ صفر
ٹڈاپ کرپشن کیس رزلٹ صفر
بابر غوری ایم کیو ایم کیس رزلٹ صفر
گستاخ بلاگرز کیس آزاد رزلٹ صفر
آسیہ ملعونہ گستاخی کیس رزلٹ صفر
ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
حافظ عبد الکریم کرپشن کیس رزلٹ صفر
حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
جیو ٹی وی غداری کیس رزلٹ صفر
اور نجانے ان جیسے ہزاروں کیس امیروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور بزنس مینوں کے رزلٹ صفر

مگر غریب آدمی کے لئے قانون فرعون بن جاتا ھے
عدالت ذلالت بن جاتی ھے
انصاف تو ملتا ھی نہیں
ہزاروں بے گناہ قید میں ہیں اور گناہ گار آزاد
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وبارک وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کرنے والے آزاد کر دئیے جاتے ہیں اور ایک گستاخ کو سپورٹ کرنے والے گستاخ کو قتل کرنے پر ممتاز قادری کو راتوں رات پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے. جبکہ ریمنڈ ڈیوس دن دہاڑے قتل کرنے کے بعد بھی آزاد کر دیا جاتا ہے پیسے لے کر بھگا دیا جاتا ہے.
یہاں کوئی غریب آدمی ادارے پر تنقید کر لے تو غداری میں دھر لیا جاتا ہے مگر الطاف بھائی آزاد، زرداری اینٹ سے اینٹ بجائے آزاد، پرویز رشید آزاد، میٹر ریڈر شاہ صاحب آزاد، حسین حقانی آزاد، اسفند یار ولی آزاد، محمود خان اچکزئی آزاد، سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے آزاد، تھانوں پر حملہ کر کے اپنے بندے چھڑوانے والے آزاد، ناکے پر کھڑے پولیس اہلکاروں پر شراب کے نشے میں دھت گاڑیاں چڑھانے والے آزاد
کیا سسٹم ھے میرے ہم وطنوں
بڑے پھنستے نہیں
چھوٹے بچتے نہیں
کیا کبھی ھم بھی انصاف کو ھوتا دیکھیں گے.
پاکستان زندہ باد

ENEMIES OF PAKISTAN



بات تھوڑی لمبی ھو گئ لیکن ضرور پڑھیے گا۔
عالم کفر کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
یہود ، نصاری ، مشرکین اور دہرئے جو کسی خدا پر یقین نہیں رکھتے!!ان چاروں کو اسلام کا اصل دشمن مانا جاتا ہے کیونکہ اسلام اان چاروں کے عقائد کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ کے قریب ہے اور یہ 57 ملکوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ لیکن کفر کی ان چاروں بڑی طاقتوں کی اصل اور سب سے بڑی خفیہ جنگ پاکستان کے خلاف ہو رہی ہے اور پاکستان بیک وقت ان سب سے چومکھی لڑائی میں مصروف ہے ۔ذرا اس ساری جنگ کو ایک نظر دیکھتے ہیں ۔اہل یہود کا کنٹرول ویسے تو تقریباً تمام یورپ اور امریکہ پر ہے لیکن انکا اپنا وطن اسرائیل ہے ۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ میں تم کو ایسے لوگوں کا نہ بتاؤں جن پر شیاطین اترتے ہیں ۔ کفر کے بڑوں پر یقیناً اترتے ہیں ۔ ڈیوڈ بن گوریان بانیان اسرائیل میں سے تھا ۔ اس نے اسرائیل بنتے ہی پیشن گوئی کی تھی کہ اسرائیل کے لیے سب سے بڑا اور اصل خطرہ پاکستان ہوگا ۔ پھر اسی گوریان نے 1967 میں ساربون یونیورسٹی میں یہودیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اہل یہود کو ایک بار پھر پاکستان کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ یہی تمھارا حقیقی اور سب سے بڑا دشمن ہے ۔ یہودیوں کے عالمی شہرت یافتہ مصنف پروفیسر سی جی پروئینز نے بھی اپنی کتاب ” مشرق وسطی سیاست اور عسکری وسعت” میں پاکستان اور پاک فوج کو اہل یہود اور اسرائیل کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے ۔ تب سے لے کر آج تک اسرائیل پاکستان کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہے ۔اسرائیل بنتے ہی انکی حکومت نے پاکستان کو سفارتی تعلقات کے لیے ٹیلی گرام کیا تھا جس پر قائداعظم نے نہ صرف سخت ترین الفاظ میں انکار کر دیا تھا بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ اس ناجائز ریاست کو امریکن اور یورپی سپورٹ حاصل نہ ہو تو یہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہے گی اور پاکستان اسکو کبھی تسلیم نہیں کرے گا ۔ پاکستان نے آج تک نہیں کیا بلکہ پاکستان دنیا کا اکلوتا ملک ہے جو نہ صرف اسرائیلی پاسپورٹ کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنا پاسپورٹ بھی اسرائیل کے لیے کارآمد قرار نہیں دیتا ۔جیسے ہی پہلی عرب اسرائیل جنگ ہوئی جبکہ پاکستان کو بنے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا پاکستان نے چیکوسلاواکیہ میں ڈھائی لاکھ رائفلیں خرید کر عربوں کو دیں اور تین جنگی جہاز اٹلی سے خرید کر مصر کے حوالے کیے اور اس جنگ کا باقاعدہ حصہ بن گیا ۔پھر 67 اور 73 کی جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کو شدید زک پہنچائی ۔ پاکستان نے کم از کم اسرائیل کے دو درجن جہاز مار گرائے ۔ جبکہ وہ ایک بھی پاکستانی جہاز نہ گرا سکے ۔ انہی جنگوں میں اسرائیل کے خلاف پاکستانی توپ خانہ بھیجا گیا تھا جس نے اسرائیل کی پیش قدمی روک دی تھی اور “کتیبہ ۃ لمجاہد” کا لقب پایا تھا یعنی “مجاہدین کی توپیں” ۔ پاکستان نے فسلیطن کی جہادی تحریک کے جوانوں کو پاکستان بلوا کر انکی ٹریننگ شروع کر دی ۔ اسی دور میں اسرائیل نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی خفیہ ایجنسی راء کو منظم کیا اور اسکی تربیت کی ۔اسی عرصے میں اسرائیل نے جارج حباش کی مدد سے مجاہدین کی کچھ جماعتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا اور وہ اسرائیل کے بجائے اردن کے خلاف لڑنے لگے تو پاکستان نے بریگیڈئر ضیاء الحق کو بھیجا جس نے انکو کنٹرول کر لیا ۔ تفصیل یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔http://www.pakfb.com/general-zia-ul-haq-in-jordan-detail142…
1980 کی دہائی میں عراق کے نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کرنے کے بعد اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کے نیوکلئر پروگرام پر حملہ کرنے کا پلان بنایا جسکو جنرل ضیاء الحق نے بڑی جراءت سے ناکام بنا دیا ۔ 82 میں لبنان اسرائیل جنگ میں پاکستان سے جنگجو رضا کار اسرائیل کے خلاف لڑنے گئے جن میں سے پچاس گرفتار ہوئے ۔ 9/11 کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا تو اسرائیل نے امریکہ کو باور کرانے کی بھرپور کوشش کی کہ یہ حملہ پاکستان پر کیا جائے تب افغانستان کو بھی ہڑپ کرنا آسان ہوگا ۔اسرائیل نے ہی کشمیر کی جنگ آزادی کا ناکام بنانے کے لیے وہاں جعلی مجاہدین تنظمیں بنائیں اور جنگ آزادی کو سخت نقصان پہنچایا ۔حماس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسکو سپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک پاکستان ہے ۔ غالباً اسی لیے پاکستان مخالف جہادی تنظیمیں حماس کے خلاف ہیں ۔اہل یہود کے لیے پاکستان درد سر ہے دشمن نمبر ایک ہے اور انکے گریٹر اسرائیل نامی نظرئے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭مشرکین کی اس وقت دنیا میں سب سے بڑی نمائندہ مملکت انڈیا ہے جہاں مشرکین کی کم از کم 80 کروڑ آبادی ہے ۔ یہ کروڑوں خداوؤں پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلام اور پاکستان کے لیے اپنے دلوں میں شدید کینہ اور بغض رکھتے ہیں ۔ہندو اپنا ہر عمل کرنے سے پہلے فال نکالنے کے عادی ہیں جیسے شادیوں کے لیے مہورت نکالنا ۔ جب انڈیا بنا تو گاندھی نے فال نکلوائی اور اعلان کے کہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کی 4 جنگیں ہونگی اور چوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی ۔ گاندھی نے یہ نہیں بتایا کہ اس جنگ کا فاتح کون ہوگا اور خاموشی اختیار کر لی ۔اگر چھوٹی موٹی جھڑپوں کو نظر انداز کر دیں تو اس وقت انڈیا کے ساتھ پاکستان کی تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ تینوں بار حملہ مشرکین ( انڈیا) نے ہی کیا تھا ۔اب حالت یہ ہے کہ انڈیا کی کل 9 ڈوژن فوج ہے جس میں سے 8 ڈوژن فوج پاکستان کے لیے ڈپلوئیڈ ہے ۔ انڈیا کا ایٹمی پروگرام صرف پاکستان کے لیے ہے ۔ انڈین آرمی کی بنیادی جنگی ڈاکٹرائن جس کو کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے وہ پاکستان کے لیے ہے ۔ 65 کی جنگ میں پاکستان نے انڈیا کی فضائی اور ٹینکوں کی طاقت کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا اور انڈیا کو شکست دی ۔ 71 میں انڈیا نے ڈھائی لاکھ مکتی باہنی گوریلے پاکستان کے خلاف تیار کیے اور بنگلہ دیش میں بغاوت کروائی اور شیخ مجیب کی مدد سے بنگلہ دیش کو الگ کر دیا ۔ضیاء نے اپنے دور میں انڈیا سے بدلہ لینے کے لیے کشمیری مجاہدین اور سکھوں کی خالصتان تحریک شروع کروائی جس پر انڈیا کی چیخیں نکل گئیں ۔ بعد میں بے نظیر اور نواز شریف نے ان دونوں تحریکوں کو تباہ و برباد کر دیا ۔ 1988 میں اور سن 2002 میں انڈیا نے دو بار اپنی تمام فوجی طاقت کو سرحد پر لاکر کھڑا کر دیا پاکستان پر حملے کے لیے لیکن پھر ایٹمی جنگ کے خوف سے حملہ نہ کر سکا ۔پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ مل کر انڈیا کی سری لنکا میں جاری تامل لبریشن تحریک کو اڑا کر رکھ دیا اور انڈیا کی تیس سالہ محنت پر پانی پھیر دیا ۔ پاکستان کی وجہ سے انڈیا کشمیر میں 7 لاکھ فوج رکھنے پر مجبور ہے ۔انڈیا پاکستان میں بلوچستان اور صوبہ خیبر میں جاری بغاوتوں کو نہ صرف سپورٹ کرتا ہے بلکہ مکمل طور پر کنٹرول بھی کرتا ہے ۔ وزیرستان ایجسنی کے بارڈر میں افغانستا میں درجنوں انڈین کونسل خانے یہ کام کر رہے ہیں ۔انڈیا کی موجودہ برسراقتدار پارٹی بی جے پی نے اس ہندو کی راکھ کو محفوظ رکھا ہوا ہے جس نے گاندھی کو اس بات پر قتل کردیا تھا کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ “پاکستان کو اسکا حق دو” ۔ بی جی پی نے اعلان کر رکھا ہے کہ اسکی راکھ کو پاکستان فتح کرنے کے بعد دریائے سندھ میں بہایا جائیگا ۔آج نریندر مودی کہتا ہے کہ اب پاکستان روائتی جنگ کرنے کے قابل نہیں رہا اور اسکے پارٹی اراکین پارلیمنٹ میں پاکستان پر ایٹمی حملہ کرنے کے باقاعدہ مطالبے کرتے ہیں ۔بہت سے علماء اور ماہرین کے مطابق غزوہ ہند پاکستان کی انڈیا کے خلاف جنگ ہی ہوگی ۔پاکستان کو انڈیا اپنے اکھنڈبھارت کے لیے سب سے بڑی رکاؤٹ سمجھتا ہے جس کے مطابق مشرکین ( ہندو) اس سارے علاقے پر غلبہ حاصل کرینگے !٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭دہرئیے یا کسی بھی خدا کو نہ ماننے والی اس وقت پوری دنیا میں دو سب سے بڑی قومیں ہیں ۔ ایک چین میں آباد ہیں اور ایک روس میں ۔ لیکن ان دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے ۔ چین اپنے مذہب یا عقائد کی تبلیغ نہیں کرتا نہ ہی دوسرے مذاہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے ۔ جبکہ روس نے نہ صرف کارل مارکس کے نظریات کو خود تسلیم کیا بلکہ ان نظریات کی بنیاد پر سوشلزم نامی ایک شیطانی معاشی نظام دنیا کو دینے کی کوشش کی ۔قیام پاکستان کے بعد لیاقت علی خان نے روس سے دوستی قائم کرنے کے لیے اپنا ایک سفیر روس بھیجا ۔ لیکن روس کے اس وقت کے سربراہ نے اپنی فری میسن بیوی کے کہنے پر لیاقت علی خان کے نمائندے سے ملاقات تک نہ کی ۔ مجبوراً لیاقت علی خان نے امریکی سے تعلقات کا آغاز کیا۔پاکستان کے نامور ادیب اور سفیر قدرت اللہ شہاب کے مطابق روس اور امریکہ میں سرد جنگ اپنی جگہ لیکن ایک معاملے میں دنوں اتفاق پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو دنوں اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔65 کی جنگ میں روس نے انڈیا کو سپورٹ کیا ۔ 71 کی جنگ میں روس نے انڈیا سے 20 سال کا معاہدہ کیا جس کے تحت انڈیا پر حملہ روس پر حملہ تصور ہوتا ۔ اس معاہدے کی وجہ سے اس جنگ میں چین پاکستان کی کوئی مدد نہ کر سکا اور بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوگیا ۔ پھر گوادر پر قبضہ کرنے کے لیے روس اپنی پانچ لاکھ فوج کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا ۔ جنرل ضیاء نے اس خطرے کو پیشگی محسوس کرتے ہوئے روس کو افغانستان میں ہی روکنے کا فیصلہ کر لیا ۔ روس کو پاکستان نے افغانستان میں شکست دی ۔لیکن ساتھ ہی پاکستان نے اپنا ہاتھ روس کے زیر تسلط وسطی ایشیائی ریاستوں اور بوسنیا اور چیچنیا تک دراز کر لیا ۔ ان ریاستوں کو پاکستان کی بدولت آزادی ملی ۔وسطی ایشیائی ریاستوں میں قرآن پاک کے بے شمار نسخے پکڑے گئے جو انڈیا سے آئے تھے اور جو لاہور کے چھپے ہوئے تھے ۔ روس کی خفیہ ایجنسی کے جی بی نے جلدہی سراغ لگا لیا کہ یہ بھی جنرل ضیاءالحق کا ہی پھیلایا ہوا جال ہے ۔ جسکے دو مقاصد ہیں پہلی کارل مارکس اور سوشلزم کے شیطانی نظریات کو لگام ڈالی جا سکے جو بڑی تیزی سے ان مسلمان خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے ۔ دوسری روس کے انڈیا کے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈالی جا سکے ۔پاکستان نے ان ریاستوں میں اقبال کے اس شعر کو ایک نعرے کی شکل دے دی تھی کہ ۔۔۔۔۔۔معمار حرم باز بہ تعمیر جہاں خیز از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز!یہ شعر وہاں زبان رد عام ہوگیا اور آزادی کا نغمہ بن گیا ۔پاکستان نے بالاآخر روس اور اسکے شیطانی سوشلزم کے نظرئیے کو برباد کر کے رکھ دیا ۔ وہ نظریہ جس کو عیسائت بھی اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہی تھی پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا ۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭نصاری کی نمائندگی اس وقت امریکہ اور اسکے اتحادی کر رہے ہیں جنکو نیٹو کہا جاتا ہے ۔ جنہوں نے اسلام کے خلاف پھر سے صلیبی جنگوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ان کے ساتھ پاکستان کے معاملات ایسے ہیں کہ بظاہر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات کا ڈھول پیٹتے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت انکی آپس میں خونریز جنگ چل رہی ہے ۔امریکہ نے پاکستان کی پشت میں کئی بار خنجر گھونپا جسکی وجہ سے ایوب خان کو کہنا پڑا تھا کہ “امریکہ سے دوستی خودکشی ہے” ۔ امریکہ کی اصل دشمنی پاکستان سے تب شروع ہوئی جب پاکستان نے عراق ایران جنگ کو بزور طاقت روک دیا تھا جس میں امریکی مفادات کو بے پناہ نقصان پہنچا ۔ صدام نے جب جنرل ضیاء کی اپیل پر کان نہیں دھرے کہ “یہ جنگ عالم اسلام کے خلاف سازش ہے رک جاؤ ” ۔ تب ضیاء نے ایران کو کچھ سٹنگرز فراہم کیے جن سے عراقی جہاز گرائے گئے صدام نے مجبوراً جنگ روک دی ۔پاکستان امریکی کی خفیہ جنگ کی بہت لمبی تاریخ ہے مضمون بہت زیادہ لمبا ہو جائیگا ۔ ہم صرف حال کی بات کرتے ہیں جہاں پاکستان اور امریکہ بظاہر دنیا کے سامنے اتحادی بنے ہوئے ہیں ۔اصلیت یہ ہے کہ امریکہ اپنی کل جنگی بجٹ کا 60 فیصد سے زیادہ صرف دو جنگی ڈاکٹرائنز پر خرچ کر رہا ہے ۔ ایف پاک ڈاکٹرائن اور فورتھ جنریشن وار ۔ اور یہ دونوں جنگی ڈاکٹرائنز پاکستان کے خلاف ہیں ۔ ان ڈکٹرائنز کے تحت ڈرون حملے ، پاکستان میں بغاوتیں اور شورشیں برپا کروانا اور پاکستانی میڈیا اور دیگر ذرائع سے پاکستان اور پاکستان کے نظریہ اسلام پر حملے اور انکے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے ۔امریکہ کے مفرور سی ائی اے ایجنٹ ہنری سنوڈن کے مطابق امریکہ دنیا بھر میں نیوکلیرز ہتھیاروں کی جاسوسی کے لیے سالانہ 46 بلین ڈالر کی رقم خرچ کرتا ہے جس میں سے 23 بلین ڈالر صرف پاکستان کے نیوکلیر پروگرام کے خلاف خرچ کرتا ہے ۔امریکہ کے مشہور دانشور رابرٹ تھارپلے کے مطابق امریکہ کا افغانستان پر حملہ اور یہ سارا ڈرما ہی صرف اور صرف پاکستان کے لیے ہے ۔ اصل نشانہ پاکستان ہی ہے ۔رابرٹ تھارپلے کا انٹرویو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔http://www.pakfb.com/us-war-against-pakistan-webster-tarple…
پاکستان میں صوبہ خیبر، بلوچستان اور کراچی میں جاری دہشت گردی کو لندن کی ایم آئی سکس الطاف حسین کے ذریعے اور امریکہ انڈیا کے ذریعے سپورٹ کرتا ہے ۔صلیبی جنگوں پر یقین رکھنے والی امریکہ کی پرائویٹ دہشت گرد ایجنسیوں میں سے کم از کم نصف درجن پاکستان کے اندر خفیہ جنگ لڑ رہی ہیں جن سے آئی ایس آئی برسر پیکار ہے ۔ ان میں بلیک واٹر ، زی اور ڈائن کور جیسی ایجنسیاں شامل ہیں ۔لیکن جواباً پاکستان کیا کر رہا ہے ۔ بظاہر دنیا کے سامنے امریکی حلیف ہونے کا اعلان کرنے والا اس وقت افغانستان میں جاری امریکہ کے خلاف تمام جہاد کو کنٹرول کر رہا ہے ۔ہم لمبی تفصیل میں نہیں جاتے ۔27 اکتوبر اور 3 نومبر 2011 کو بی بی سی نے ” سیکرٹ پاکستان” کے نام سے ایک ڈاکومینٹری فلم کے دو حصے ریلیز کیے جس میں اس نے ثابت کیا کہ پاک آرمی اور آئی ایس آئی امریکہ اور پوری دنیا کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہی ہے اور بظاہر امریکی اتحادی بنی ہوئی ہے لیکن درحقیقت افغانستان میں لڑنے والے طالبان اور انڈیا کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو پاکستان ہی اسلحہ اور ٹریننگز دیتا ہے ۔اوباما کے مشیر بروس ریڈ نے 2009 بیان دیا کہ افغانستان میں ہم کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے جسکو پاکستانی آرمی اور انکی خفیہ ایجنسی کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے کئی پکڑے گئے طالبان کے انٹرویو جنہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ایس آئی نے ہائر کیا تھا ۔۔ملابرادر جو ملا عمر کے بعد دوسرا بڑا کمانڈر ہے اس کو آئی ایس آئی نے کراچی سے پکڑا کیونکہ ایک برٹش ڈپلومیٹ کے مطابق وہ افغان حکومت سے خفیہ رابطہ کر کے مزاکرات کرنا چاہتا تھا جبکہ ائی آیس آئی ابھی اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتی ہے ۔ ان کے مطابق پاکستان یہ ناممکن خواب دیکھ رہا ہے کہ امریکہ کو بھی روس کی طرح افغانستان میں ٹکڑے کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ ملا برادر کی رہائی کے لیے امریکہ نے پاکستان کو ایف 16 جہاز تک آفر کیے گئے جو پاکستان نے مسترد کر دئے ۔۔۔پاکستان اپنی اس جنگ کو خفیہ کیوں رکھنا چاہتا ہے ۔ اسکا جواب ماہرین یہ دیتے ہیں کہ اس طرح وہ جنگی اخراجات برداشت کر سکے گا اوراسکو عالمی تنہائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔مسٹر ریڈل کے مطابق پاکستان اپنی مخصوص جنگی حکمت عملی کی بدولت پوری دنیا کی فوجی طاقتوں کو افغانستان میں ڈبو سکتا ہے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے ۔۔۔پاکستان کی اس جنگی حکمت عملی کی نتیجے میں امریکی کی جنگی اور معاشی کمر ٹوٹنے کے قریب ہے اور انکا سرمایہ دارانہ نظام والا نظریہ اپنی وقعت کھونے لگا ہے ۔ پاکستان صلیبیوں( امریکہ اور نیٹو ) کے لیے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭یہود و نصاری ، مشرکین اور دہرئیے سارے ملکر پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پاکستان نہ صرف اکیلے ان سب سے نبرد آزما ہے بلکہ برابر کا جواب بھی دے رہا ہے ۔یہ ہے وہ پاکستان جس کو بنانے والوں نے اسلام کا آخری قلعہ کہا تھا اور اس قلعے پر چاروں طرف سے حملہ ہوچکا ہے ۔ اب آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ حملہ آوروں کا ساتھ دینگے یا قلعے کی حفاظت کرینگے اور محافظوں کا ساتھ دیں گے!!!!!
اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور اسکو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بنائے !
#پاکستان زندہ باد💚
#پاک فوج آئی ایس آئی پائیندہ باد💚

Total Pageviews