September 02, 2022

Chicken Dak Bungalow A Signature Bengali Delicacy

 

چکن ڈاک بنگلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ Chicken Dak Bungalow
A Signature Bengali Delicacy:
ایک مزے دار اور اصلی چکن کری جس کی جڑیں برطانوی راج سے ملتی ہیں اور اس ڈش کو پہاڑی علاقوں کے ریسٹ اسٹاپ ڈاک بنگلوں میں بنایا جاتا تھا۔
ڈاک بنگلے ہمیشہ سے میری بہت پسندیدہ جگہیں رہے ہیں۔ انگریز دور کے زرد پتھروں سے بنے یہ بنگلے، بوگن ویلیا کی بیلوں سے گھرے ہوئے، اکثر نہروں کے کنارے قائم انگلش انداز تعمیر، ان کے بیڈ رومز، برآمدے، کچن، بالکونیاں۔ لکڑی کی بنی سفید جالیاں، کھپریل کی چھتیں، یہ سب مجھے انگریز کا دور یاد دلا دیتی ہیں۔ کاش کہ میں بھی اسی دور میں پیدا ہوا ہوتا جب کوئلے سے چلنے والے انجن دھواں اڑاتے کھیت کھلیانوں سے چھک چھک کرتے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوتے تھے۔ راستے میں جگہ جگہ وہی زرد پتھر سے تعمیر شدہ ریلوے اسٹیشنز، جھنڈی ہلاتا گارڈ، ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک فولادی اسٹینڈ پر لٹکی سرخ بالٹیاں جن میں ریت بھری ہوتی تھی۔ یہ اس زمانے میں آگ بجھانے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ ذرا آگے پانی کی ٹنکی جس سے آگے کو نکلا ہوا لمبا سا فولادی پائپ جس سے انجن میں پانی بھرا جاتا تھا۔ کیا زمانہ تھا؟ جب کرپشن کے بھوت نےسرکاری تعمیرات کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع نہ کیا تھا۔ اسی لیے برٹش دور کی یہ یادگاریں آج بھی فخر سے سر اٹھائے کھڑی ہیں اور موجودہ سرکاری منصوبوں کا مذاق اڑا رہی ہیں۔
یہ ڈاک بنگلے آج بھی ایسے علاقوں میں موجود ہیں جہاں آزادی حاصل کرنے کے ستر برس گزر جانے کے باوجود ہماری نام نہاد حکومتیں ڈھنگ کی سڑکیں تک نہیں بنا سکی ہیں لیکن یہ شاندار ڈاک بنگلے آج بھی ماضی کی شاندار داستان سنا رہے ہیں۔ ہندوستان کے جنگلات میں دور دراز علاقوں اور گھنے جنگلات کے درمیاں یہ ڈاک بنگلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انگریز کتنے قابل ایڈ منسٹریٹر تھے۔ ان کی تعمیر کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی سرکاری افسر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرے تو قیام و طعام کے لیے ایک آرام دہ رہائش اور گرم تازہ کھانا مہیا کرنے کے لیے ایک خادم موجود ہو۔ اس مقصد کے لیے ان ڈاک بنگلوں میں باقاعدہ چوکیدار اور خانساماں ملازم رکھے جاتے تھے جو کہ مقامی لوگ ہوتے تھے۔ یہ چوبیس گھنٹے اسی ڈاک بنگلے میں اپنے لیے مختص کوارٹروں میں رہتے تھے۔ کچھ چوکیدار اور خانساماں اپنی فیملی کے ساتھ سکونت پذیر ہوتے۔ اس کے علاوہ ان ڈاک بنگلوں میں کچھ بکریاں، گائے یا بھینس اور مرغیاں وغیرہ بھی مناسب تعداد میں پالی جاتی تھیں تاکہ صاحب کی آمد کی صورت میں طعام کے لیے تازہ انڈے اور دودھ و گوشت کے انتظام میں کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ ڈاک بنگلے اکثر مکمل فرنشڈ بیڈرومز، ڈائننگ روم اور بالکونی وغیرہ پر مشتمل ہوتے تھے بلکہ اکثر تو ان میں ہرے بھرے لان، پھلدار و پھولدار درخت، بیڈمنٹن کورٹ اور تفریح کے دیگر سامان بھی ہوتے تھے۔ ان ڈاک بنگلوں سے جڑی بے شمار داستانیں آپ آج بھی مختلف کتب میں پڑھ سکتے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں قائم ان ڈاک بنگلوں میں سے کچھ آسیبی بھی مشہور ہیں جہاں انگریز مرد و خواتین کے بھوت نظر آتے ہیں۔ کچھ ڈاک بنگلوں کے عقبی احاطوں میں انگریزوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔ اکثر شکاری پارٹیاں بھی اپنی مہم کے دوران ان ڈاک بنگلوں میں قیام کیا کرتی تھیں۔ ایسے ڈاک بنگلے اب بھی پاکستان کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں جن کا انتظام محکمہ جنگلات یا محکمہ انہار کے پاس ہے۔
آپ نے اکثر پرانی فلموں میں ایسی رومینٹک داستانیں دیکھی ہوں گی کہ ایک شہری بابو کی سرکاری نوکری بطور پولیس انسپکٹر یا ڈپٹی کمشنر کسی دور دراز کے گاؤں میں ہو گئی۔ شمی کپور اسٹائل کا ھیرو اپنے ماتھے پر پڑی لٹ اڑاتا جب وہاں اپنی جیپ لے کر پہنچتا ہے تو ڈاک بنگلے میں اس کی رہائش کا انتظام ہوتا ہے۔ ڈاک بنگلے کا بوڑھا چوکیدار اپنی جوان بیٹی کے ساتھ ایک کواٹر میں رہتا ہے۔ حسب معمول شہری بابو اس گاؤں کی الھڑ دوشیزہ کو دل دے بیٹھتے ہیں۔اور یوں اس فلم میں گاؤں کے پر فضا ماحول اور خوبصورت نظاروں کے درمیان تین چار طربیہ اور دو تین المیہ گیتوں بمع ہیروئن کے ڈانس کی گنجائش نکال لی جاتی ہے۔
چاندنی رات میں ایک کھجور کے درخت کے نیچے ہیرو ہیروئن کو اپنی بانہوں میں لیے اس کی آنکھوں میں جھانک رہا ہے اور ہیروئن جھکی جھکی نظروں اور رکی رکی سانسوں کے درمیان اس سے سوال کرتی ہے۔
’’سہر جا کے ہم کا بھول تو نہ جاؤ گے بابو؟‘‘
جس پر بابو تڑپ کر دو جھٹکے کھا کر اپنی نم آنکھوں جن میں آنسووں سے زیادہ ہوس ہوتی ہے بھرائ ہوئ آواز میں کہتا ہے۔’’گوری اگر تیرے لیے یہ جہان بھی چھوڑنا پڑے تو میں چھوڑ سکتا ہوں لیکن تیرا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
اس کے بعد دونوں مل کر “آرے آرے دل کے سہارے ، دل کی ہر دھڑکن تجھ کو پُکارے “ ٹائپ
کوئی دوگانا گاتے ہیں اور تماشائی خود کو ہیرو کی جگہ تصور کر کے محظوظ ہوتے ہیں۔ کئ ماہ گزر جاتے ہیں اور ابھی بابو کی خرمستیاں جاری ہوتی ہیں کہ بابو کا تبادلہ کسی دوسرے شہر ہو جاتا ہے۔ بابو جاتے جاتے چھم چھم روتی گوری کو چوم چاٹ کر وعدہ کر کے جاتا ہے کہ وہ شہر پہنچتے ہی اپنی والدہ کو سب کچھ بتا کر اس کا رشتہ لے کر آئے گا اور اس کو اپنی دلہنیا بنا کر ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جائے گا۔
بابو کو گئے سال بھر بیت جاتا ہے۔ گوری روزانہ کھڑکی سے بابو کی راہ تکتی ہے۔ ادھر شہر میں بابو کی شادی دھوم دھام سے ہو چکی ہے۔ آخر ایک بنگلہ، نئی چمچماتی کار، اور شہر کے مشہور سیٹھ کی ماڈرن بیٹی کا ہاتھ جب دستیاب ہو تو کون الو کا پٹھا ڈاک بنگلے کے چوکیدار کی بیٹی سے وفاداریاں نبھانے کی حماقت کرے گا۔ گاؤں میں گوری کا باپ شدید بیماری کی حالت میں ہے۔ اپنی زندگی سے نا امید ہو کر وہ گوری کی شادی اپنے بھتیجے سے کر دیتا ہے جو گاؤں میں تانگہ چلاتا ہے۔ شادی کی رات گوری کا شوہر دیسی دارو کے دو گلاس چڑھا کر وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے بعد تھک ہار کر خراٹے بھرنے لگتا ہے اور گوری کمرے کی کھڑکی سے لگ کر رم جھم برستے نینوں کے ساتھ ایک دلدوز قسم كا المیہ گیت گاتی ہے۔ کھڑکی کے سامنے چاند اب بھی کھجور کے درخت کی شاخوں میں اٹکا ہوا ہے۔
جی تو بات ہو رہی تھی ڈاک بنگلوں کی اور کہاں سے کہاں جا نکلی۔
میرا مقصد دراصل ایک انڈین سول سرونٹ کی اس تحریر سے آپ کا تعارف کروانا تھا جس کو انگریز دورحکومت میں ایسے ہی ایک ڈاک بنگلے میں قیام و طعام کا موقع ملا تھا۔ اس کو ڈاک بنگلے میں بطور ڈنر جو ڈش پیش کی گئی اسے ڈاک بنگلو کری کہا جاتا تھا۔ اور یہی کری اس تحریر کو آپ تک پہنچانے کا باعث بنا۔
اردو ترجمہ حاضر ہے۔۔۔
چکن ڈاک بنگلو
ڈاک بنگلو کری ایک ایسی ڈش ہے جو انگریزوں کے دور سے مقبول ہے۔
مجھے آج بھی اپنے بچپن میں چھٹیوں کے دوران ایک جنگل کے درمیان قائم ڈاک بنگلے میں گزاری ہوئی رات یاد ہے۔ سارا دن کی آوارہ گردی کے بعد شام سے زرا پہلے شدید تھکن کی حالت میں جب ہم ڈاک بنگلے پہنچے تو بنگلے کے چوکیدار نے ہماری تواضع چکن کری سے بھرے پیالے، ابلے ہوئے چاول، گرما گرم روٹیوں اور سلاد سے کی۔۔نہ جانے اس سالن میں کیا تھا، یا تو ہم بہت بھوکے تھے، یا شاید دیسی مرغ کا ذائقہ یا مومی شمعوں کی روشنی جو رومان پرور ماحول کی تخلیق کے لیے نہیں بلکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے روشن کی گئی تھیں۔ لیکن وہ ذائقہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ اس سالن کا ذائقہ مختلف ڈاک بنگلوں میں دستیاب اجزا کی فراہمی پر منحصر تھا۔ بد قسمتی سے اس سالن کی ترکیب اب شاید ہی کوئی جانتا ہو البتہ کچھ پرانے اینگلو انڈین خاندان یا ان خانساموں کی اولادیں اس کی ترکیب جانتے ہوں۔ میں کلکتہ کے ایک ریسٹورنٹ کا مشکور ہوں کہ اس میں ڈاک بنگلو کری کو کم و بیش اسی ترکیب سے تیار کیا جاتا ہے اور عوام میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
ڈاک بنگلو گوشت کے سالن عام طور پر دیسی مرغ،گائے کے گوشت، بکرے کے گوشت یا بھیڑ کے گوشت سے تیار کئے جاتے تھے، لیکن میں عموما دیسی مرغ پسند کرتا ہوں۔ اس سالن میں گوشت کے ساتھ ابلے ہوئے سالم انڈے اور آلو بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ تمام مصالحے تازہ کوٹ پیس کر شامل کیے جاتے ہیں۔ بازاری پسے مصالحوں سے وہ ذائقہ نہیں آئے گا۔ ڈاک بنگلے کے خانساماں تو مصالحے پیسنے کے لیے سل بٹہ یا کونڈی اور موصل کا استعمال کرتے تھے لیکن آپ گرائنڈر استعمال کر سکتے ہیں۔
آئیے آپ کو ڈاک بنگلو کری کی ترکیب بتاتے ہیں تاکہ آپ بھی انگریز دور کے اس لذیذ کری کا لطف اٹھا سکیں جو آج نایاب ہے۔
اجزا:
ایک کلو دیسی چکن، اگر دیسی نہ ملے تو کے اینڈ این ( K&N) کا بوٹی کٹ ایک کلو۔ چکن کو آٹھ سے دس بوٹیوں میں کاٹ لیں۔
پیاز باریک کٹی ہوئی دو کپ۔
ادرک کا پیسٹ دو ٹیبل اسپون۔
لہسن کا پیسٹ دو ٹیبل اسپون۔
زیرہ ایک چائے کا چمچ۔
ثابت دھنیا ایک چائے کا چمچ۔
ثابت سرخ مرچ پانچ سے دس عدد۔
تیج پات یا تیز پتہ دو سے تین عدد۔
دار چینی ایک انچ کے تین ٹکڑے۔
چھوٹی الائچی تین سے چار عدد۔
لونگ چھ عدد۔
دہی چھ ٹیبل اسپون۔
ہلدی پاوڈر ایک چائے کا چمچ۔
بڑی الائچی ایک عدد۔
دو درمیانے سائز کے آلو، آلو کے درمیان سے دو ٹکڑے کر لیں۔
سخت ابلے ہوئے انڈے چار عدد۔
کوکنگ آئل
نمک حسب ذائقہ۔
ترکیب:
مرغ کے ٹکڑوں کو دھو کر خشک ہونے کے لیے رکھ دیں۔
زیرہ، دھنیا، سرخ مرچ، ہلدی پائوڈر کو گرائنڈر میں ڈال کر ذرا سے پانی کی مدد سے پیسٹ بنا کر الگ رکھ دیں۔
دار چینی، چھوٹی بڑی الائچی،لونگ،کا گرئنڈر میں پیسٹ بنا کر الگ رکھ دیں۔
ایک بڑے بھاری تلے والے برتن میں تیل خوب تیز گرم کریں۔
اب اس تیل میں آلو فرائی کر کے ہلکا گولڈن برائون کرلیں۔اب آلو نکال کر الگ رکھ دیں اور اسی طرح ابلے ہوئے انڈوں کو گولڈن براؤن فرائی کر کے ایک طرف رکھ دیں۔
اب اسی تیل میں تیج پتہ اور پیاز ڈال کر گولڈن براؤن کریں۔
اب اسی پیاز میں لہسن ادرک کا پیسٹ شامل کر کے درمیانی آنچ پر دو سے تین منٹ بھونیں۔
اب اس میں زیرہ، دھنیا اور مرچ والا پیسٹ شامل کر کے ہلکی آنچ پر تین سے چار منٹ بھونیں۔ اب اس میں تھوڑے سے پانی میں پھینٹی ہوئی دہی شامل کر کے دو تین منٹ بھونیں، اب اس میں مرغ کے ٹکڑے اور نمک ڈال کر میڈیم آنچ پر مستقل چمچہ چلاتے ہوئے پانچ سے چھ منٹ بھونیں۔ اب آنچ ہلکی کر کے ذرا سا پانی ڈال کر ڈھک کر بارہ سے پندرہ منٹ اتنا پکائیں کہ چکن تقریبا گل جائے۔
اب اس میں ایک کپ گرم پانی اور فرائی آلو ڈال کر ڈھک دیں اور ہلکی آنچ پر اتنا پکائیں کہ آلو اور مرغ اچھی طرح گل جائیں۔
اب اس میں انڈے اور لونگ الائچی والا پیسٹ شامل کر کے اچھی طرح مکس کریں۔ دو سے تین منٹ ہلکی آنچ پر دم کریں۔
گرم نان اور ابلے چاول کے ساتھ پیش کریں۔
یہ چکن آج بھی کلکتہ اور مغربی بنگال کے معروف ریسٹورنٹس کی اسپیشلٹی ہے۔
اگر صحیح طریقے سے بنایا گیا تو یقین جانیے ایسا سالن آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔
تحریر✍🏻
ثنااللہ خان احسن
 








 

 

July 20, 2022

KHYBER PASS

 

درّہ خیبر: جہاں سکندرِ اعظم سے لے کر انگریزوں تک، سب کے غرور خاک میں مل گئے

  • محمود جان بابر
  • صحافی
خیبر، آفریدی، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بچپن سے جادو والی کہانیوں میں ایسے بہت سے مقامات کے قصے سنتے آئے ہیں جہاں سے ایک قدم آگے جانے والا یا تو فنا ہوجاتا یا پیچھے دیکھنے والا پتھر کا بت بن جاتا تھا۔

ایسے ہی حقیقی دنیا میں اگر کسی علاقے کو یہ مقام حاصل ہوسکا ہے تو وہ ہے پاکستان کے اندر افغانستان کی سرحد سے متصل درّہ خیبر، جہاں سے افغانستان جانے اور وہاں سے یہاں آنے والوں کو راستے کے حصول کے لیے یہاں پر آباد آفریدی قبائل کو خراج دینا پڑا اور دنیا کو فتح کرنے والے بڑے بڑے فاتحین کو بھی یہاں سر جھکانا پڑا۔

تقریباً تمام مؤرخین نے آفریدی قبائل کو وہ بلائیں لکھا ہے جو جنگ سے محبت کرتے ہیں اور یہی محبت ان کے دشمن کی بدترین شکستوں کا باعث بنتی رہی۔

غیر ملکی اور مقامی لکھاری اس بات پر متفق ہیں کہ جتنے زیادہ حملے درّہ خیبر پر ہوئے اتنے شاید ہی دنیا کے کسی شاہراہ یا گزر گاہ پر ہوئے ہوں گے۔

دنیا کا یہ مشہور درّہ خیبر پشاور سے 11 میل کے فاصلے پر یہاں بنے تاریخی دروازے باب خیبر سے شروع ہوتا ہے اور یہاں سے اندازاً 24 میل یعنی طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد پر ختم ہوتا ہے جہاں سے لوگ ڈیورنڈ لائن عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔

باب خیبر اور طورخم کے بیچ کا یہ علاقہ یہاں کسی بھی بری نیت سے آنے والے کے لیے خطروں سے اتنا بھرپور ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ دنیا اور اس خطے میں فاتح کہلانے والا کوئی حکمران اس درّے اور اس کے مکینوں کو قابو نہیں کر سکا۔

خیبر، آفریدی، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انگریز سپاہی 1908 میں علی مسجد قلعے کے مقام پر

درّہ خیبر کا جغرافیہ اور جنگی حیثیت

اس راستے کے دونوں طرف تقریباً ڈیڑھ ہزار فٹ اونچی پہاڑی چٹانیں اور ان کے بیچ ناقابل دریافت غار واقع ہیں۔ یہ درّہ یہاں کے لوگوں کے لیے جنگی لحاظ سے ایک ایسا قدرتی حصار ہے جسے دنیا کے کسی جنگی ہتھیار سے فتح نہیں کیا جا سکتا۔

اس کا سب سے خطرناک حصہ تاریخی علی مسجد کا مقام ہے جہاں پر یہ درّہ اتنا تنگ ہوجاتا ہے کہ اس کی چوڑائی صرف چند میٹر رہ جاتی ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں کی پہاڑی چوٹیوں پر چھپے چند قبائل بھی سینکڑوں فٹ نیچے راستے سے گزرنے والے ہزاروں فوجیوں کے لیے قیامت بپا کرتے تھے اور اُنھیں زچ کرکے پسپا ہونے پر مجبور کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ اُنھیں لاشیں اٹھانے کے لیے بھی ان قبائل کی بات ماننی پڑتی تھی۔

’موت کی وادی کا دروازہ‘

پشاور شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تحصیل جمرود میں بنے اس دروازے کو اگر دشمن کے لیے موت کی وادی کا دروازہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

اس دروازے سے ہی پورے درّہ خیبر کی اہمیت اجاگر ہو جاتی ہے۔ سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور حکومت میں یہ دروازہ بنایا گیا۔ جون 1963 میں مکمل ہونے والے اس دروازے کی تعمیر اس وقت کے کیمبل پور اور آج کے اٹک کے دو مستریوں گاما مستری اور اُن کے بھتیجے صادق مستری نے کی۔

یہ تعمیر تقریباً دو سال میں مکمل ہوئی۔ اس دروازے پر مختلف تختیوں پر ان حکمرانوں اورحملہ آوروں کے نام نصب ہیں جنھوں نے اس راستے کو استعمال کیا۔

اس دروازے کے قریب بحری جہاز نما قلعہ سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے تعمیر کروایا تھا تاکہ درہ خیبر پر نظر رکھنے کے لیے فوجی یہاں رکھے جا سکیں۔

اس علاقے کی زیادہ تر آبادی آفریدی قبیلے کی ذیلی شاخ کوکی خیل سے تعلق رکھتی ہے۔

خیبر، آفریدی، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGSinclair Archive

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1878 میں ایک برطانوی جریدے میں شائع ہونے والی پینٹنگ جس میں خیبر پاس کے آفریدی قبائل کے ایک جرگے کا منظر دکھایا گیا ہے

سکندرِ اعظم کی پسپائی

پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

پروفیسرڈاکٹر اسلم تاثیرآفریدی خیبر سے متصل ضلع اورکزئی میں گورنمنٹ ڈگری کالج غلجو کے پرنسپل ہیں اور یہاں کی تاریخ پر اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایران کو فتح کرنے کے بعد پختونوں کے صوبے گندھارا کا قصد کرنے والے سکندرِ اعظم کی فوجوں کو اسی درّہ خیبر پر سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اُنھیں اپنی ماں کی ہدایت پر راستہ بدلنا پڑا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ آفریدی قبائل کی اس سخت مزاحمت کی وجوہات جاننے کے لیے سکندرِ اعظم کی ماں نے اُنھیں ہدایت کی کہ اس علاقے کے چند مکینوں کو دعوت پر اس کے پاس بھیجا جائے۔

آفریدی قبائل کے یہ سردار سکندرِ اعظم کی ماں کے ساتھ بات چیت میں مصروف تھے جہاں پر اُنھوں نے ان سے سوال کیا کہ آپ میں سے سردار کون ہے۔

اس پر ہر کسی نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ وہی سردار ہے اور یہ سب آپس میں الجھ پڑے۔ یہیں پر سکندرِ اعظم کی ماں کو احساس ہو گیا کہ یہ لوگ جب اپنوں میں سے کسی کو خود سے بڑا ماننے کو تیار نہیں تو وہ سکندرِ اعظم کو کیا مانیں گے۔

ماں نے بیٹے کو نصیحت کی کہ وہ ہندوستان جانے کے لیے درّہ خیبر کے راستے کا خیال دل سے نکال لے، یوں سکندرِ اعظم کو اپنا راستہ بدلنا پڑا اور وہ باجوڑ کے راستے اپنی منزل کی طرف چلے۔

سکندرِ اعظم کے آج کے پاکستان کے علاقوں میں داخلے کے حوالے سے سابق انگریز گورنر سر اولف کیرو نے اپنی کتاب ’پٹھان‘ میں لکھا ہے کہ سکندر پشاور میں داخل نہیں ہوسکا اور اس نے جو دریا عبور کیے وہ کوس یوسپلا اورگوریس تھے جن کے درمیان ایک پہاڑی چشمہ واقع تھا جو صرف کونٹر یعنی پنج کوڑہ کا بالائی حصہ ہوسکتا ہے جہاں سے آج کل ڈیورنڈ لائن گزرتی ہے اور اس نے آج کے باجوڑ کے ایری گایوں کے مقام نواگئی کا راستہ اختیار کیا۔

خیبر، آفریدی، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ستمبر 1996 میں لیڈی ڈیانا درّہ خیبر کے دورے کے موقعے پر مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کر رہی ہیں

بدھ مت کے بڑے آثار

معروف صحافی اللہ بخش یوسفی اپنی مشہور کتاب تاریخ آفریدی میں لکھتے ہیں کہ درّہ خیبر کے علاقے میں بڑی تعداد میں بدھ مت سے متعلق بہت زیادہ آثارِ قدیمہ نمودار ہوئے تاہم اپنے اعتقادات کی بدولت پختون ان مورتیوں کے خلاف تھے اور اُنھیں توڑ دیا کرتے تھے۔

اسی علاقے میں لنڈی خانہ کے قریب ایک پہاڑ پر عہد قدیم کی ایک قلعہ نما عمارت ہے جسے یہاں کےآفریدی ’کافر کوٹ‘ کے نام سے جانتے ہیں۔

اللہ بخش یوسفی لکھتے ہیں کہ سطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر حملوں میں پختونوں سے دشمنی مول لینے کے بجائے ان پر اعتماد کیا اور اُنھیں اپنا فخر کہہ کر متعارف کرواتے۔

جن سرداروں نے محمود غزنوی کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا ان میں ملک خانو، ملک عامو، ملک داور، ملک یحییٰ، ملک محمود، ملک عارف، ملک غازی، ملک شاہد اور ملک احمد وغیرہ شامل ہیں۔ محمود غزنوی نے سومنات کو فتح کیا تو پختون بے جگری سے لڑے اور اس طرز لڑائی نے اُنھیں پختونوں کو خان کا نام دینے پر مجبور کیا اور کہا کہ صرف پختون ہی خان کہلانے کے لائق ہیں۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہندوستان فتح کرنے کی خواہش میں جب ظہیرالدین بابر اپنی طاقت کے بھروسے پر خیبر کی طرف چلے تو آفریدی اُن کے راستے میں لوہے کی دیوار بن گئے اور بابر کو یہ سمجھ آ گئی کہ طاقت کے بل پر وہ درّہ خیبر کو عبور نہیں کر سکتے اور اگر ایسا ہووبھی گیا تو اُنھیں افغانستان کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے عقب کے غیر محفوظ ہونے کی فکر لاحق رہے گی۔

لہٰذا اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے بعد اُنھوں نے ایک بار پھر 1519 میں دوبارہ خیبر کو فتح کرنے کی ٹھانی۔ ظہیرالدین بابر کو سخت لڑائی کے بعد صرف ایک رات علی مسجد میں گذارنے کا موقع مل سکا۔ وہ جمرود تو پہنچ گئے لیکن اُنھیں خیال آیا کہ اگر وہ پنجاب جاتے ہیں تو ایسا نہ ہو کہ واپسی پر یہ قبائل اُن کی راہ کاٹ لیں۔

خیبر، آفریدی، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

درّہ خیبر اس راستے سے گزرنے والے ہر حملہ آور کے لیے ایک مشکل خطہ رہا ہے

سکھ حکومت

سکھ حکمران رنجیت سنگھ کو یقین تھا کہ پختونوں پر اقتدار قائم رکھنے کے لیے کسی مضبوط ہاتھ کی ضرورت تھی، اس لیے سکھوں کے مشہورترین انتظامی جرنیل ہری سنگھ نلوہ کو بھاری لشکر کے ساتھ پشاور کا انتظامی افسر مقرر کیا گیا۔

ہری سنگھ نے پختونوں کو تو پریشان کیا تاہم وہ قبائلیوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور ان قبائل کے اقدامات کی بدولت خود رنجیت سنگھ پر ان کی دہشت طاری ہوگئی۔

اسی دہشت کا اثر تھا کہ ان قبائلیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ہری سنگھ نلوہ نے باب خیبر کے مقام یعنی درہ خیبر کے دہانے پر قلعہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور 1836 میں اس پر کام کا آغاز ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

یوں تو سکھوں نے یہ قلعہ قبائل کے حملوں سے بچنے کے لیے بنایا تھا تاہم افغانستان کے امیر دوست محمد خان نے اسے اپنے خلاف عزائم کا نشان سمجھا اور سکھ فوجوں پر حملہ آور ہوگئے جہاں پر ہری سنگھ نلوہ مارے گئے۔

انگریز سرکار سے مواجب کا حصول

انگریز سکھ لشکر کے افغانستان میں قیام کے وقت یہ ضروری تھا کہ ان کے پیچھے واپسی کا راستہ یعنی درہ خیبر کھلا رہے لیکن یہ آفریدی قبائل کو مواجب یعنی معاوضہ دیے بغیر ممکن نہ تھا۔

انگریزوں کو بھی پتہ تھا کہ آفریدیوں کو مواجب نہ ملا تو وہ خود بھی سکون سے نہ رہ سکیں گے، چنانچہ اُنھیں درّہ خیبر میں سکون رکھنے کے لیے آفریدیوں کو سالانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے مواجب دینا پڑا۔

خیبر، آفریدی، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1878 میں انگریز درّہ خیبر میں جمرود قلعے کے مقام پر

افغانستان میں دو سال تک قیام کے بعد جب انگریزوں کو شکست ہوئی تو وہ اپنی حلیف فوج یعنی سکھوں کو لے کر واپس روانہ ہوئے تاہم درّہ خیبر کے اندر آفریدی قبائل نے اُن کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ اُن کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔

درّہ خیبر کے اندر علی مسجد کے مقام پر انگریزوں کی توپیں اور بندوقیں سب کچھ آفریدی قبائل نے چھین لیا۔

ان آفریدی قبائل کے ساتھ معاہدوں کی رو سے ان قبائل کو تحفظِ راہ اور قیام امن وغیرہ کے لیے یہ رقوم دی جاتی ہیں جسے مقامی زبان میں مواجب کہتے ہیں۔

یہ رقوم سال میں دو بار ادا کی جاتی ہیں اور اسے وصول کرنے والا فخر محسوس کرتا ہے۔ ایسے قبائلی ملک اور عمائدین بھی ہیں جو ان قبائلی علاقوں سے دور رہتے ہیں اور اکثر اوقات اُنھیں اپنے حصے کے مواجب کے چند روپوں کو لینے کے لیے ہزاروں روپے خرچہ کرنا پڑتا ہے تاہم وہ اس خراج سے دستبردار نہیں ہوتے۔

حکومتیں ان قبائلی عمائدین کو احترام کے طور پر لنگی (دستار) کے نام سے بھی رقم ادا کرتی ہے۔

آفریدی کب سے یہاں ہیں؟

پروفیسر ڈاکٹر اسلم تاثیر آفریدی کہتے ہیں کہ ان آفریدیوں کی اس علاقے جمرود سے لے کر تیراہ اور چورہ تک موجودگی اور ان کے لیے جلال آباد سے پاکستان کے موجودہ شہر مردان تک ایک پختون ریاست بھی قائم کی گئی تھی جس کے بنانے والے بایزید انصاری یا پیر روخان تھے اور اس میں وزیرستان کے علاقے بھی شامل تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی زراعت اور سرسبز و شادابی ہی کی وجہ سے اسے سونے کی چڑیا سمجھا جاتا تھا اور اس لیے فاتحین نے ہمیشہ اس پر قبضہ کرکے اسے زیرِ نگیں کرنا چاہا اور ان فاتحین نے گندھارا یعنی پختونوں کے صوبے کا راستہ اختیار کیا جہاں پر درّہ خیبر ان کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بنا۔

خیبر، آفریدی، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سنہ 1879 میں ایک برطانوی جریدے میں شائع ہونے والا خاکہ جس میں علی مسجد کی چوٹی سے درّہ خیبر کا نظارہ دکھایا گیا ہے

وہ کہتے ہیں کہ باب خیبر کے ارد گرد کے علاقے میں قریبا 29 لڑائیاں خود ارد گرد کے مختلف قبائل کے مابین لڑی گئیں جس میں سکھوں، انگریز اور خود قبائل کے بیچ یہ جنگیں ہوئیں۔

آفریدی قبائل کی یوں تو اور بھی کئی شاخیں ہیں لیکن ہر شاخ الگ الگ علاقے میں آباد ہے۔ ان کی سب سے بڑی شاخ کوکی خیل باب خیبر سے لے کر درّہ خیبر اور پھر تیراہ کے بڑے علاقے میں آباد ہے۔

اس قبیلے کے ملک عطااللہ جان کوکی خیل کے بھتیجے اکرام اللہ کوکی خیل کا کہنا ہے کہ جمرود کا کنٹرول لینے کے لیے ان کے قبیلے کی مدد تہکال کے ارباب سرفراز خان نے کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں دنیا کے ہر حصے سے آنے والے جنگجوؤں نے اس علاقے کو فتح کرنا چاہا، وہیں پر اس علاقے میں اپنے قبائل کے مابین بھی اقتدار اور زمین کے لیے رسّہ کشی جاری رہی جس میں دشمنوں کے علاوہ اپنوں نے بھی کردار ادا کیا۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ اب کافی عرصے سے علاقے میں امن ہے اور تمام قبائل اپنی اپنی حدود میں پُرامن زندگی گزار رہے ہیں۔

July 15, 2022

مسلسل محنت کا پھل ELLON MUSK

 

 

ایلون مسک کی کامیابی کی دلچسپ کہانی

ایلو ن مسک آج دنیا کے امیر ترین انسانوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر براجمان ہیں۔ انہوں نے جب اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اپنی پہلی کمپنی کا آغاز کیا تو کام کرنے کی جگہ کیلئے کوئی بڑا اپارٹمنٹ رینٹ پر نہیں لیا، بلکہ ایک چھوٹے سے کمرے کو کرائے پر لے کر اُسے اپنا آفس بنا لیا۔ اُس زمانے میں ایلون مسک کے پاس باقاعدہ ایک آفس لینے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔اِن کے پاس اپنی خوراک، اپنے لباس اور دیگر چیزوں کے اخراجات کو برداشت کرنے کے لیے کیونکہ رقم موجود نہیں تھی، اس لیے وہ YMCA جو غریب اور متوسط لوگوں کو مفت میں خوراک اور رہائش مہیا کرنے کیلئے ایک این جی او کی طرح کام کرتا ہے، وہاں جا کر اپنی ضرورت کی چیزوں کا بندوبست کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ نہانے کے لیے بھی انہیں YMCAجانا پڑتا تھا۔ اُن کے پاس کام کرنے کے لیے صرف ایک کمپیوٹر تھا، اُن کی ویب سائٹ دن میں چلتی تھی اور رات کو بیٹھ کر ایلون اور اُن کے چھوٹے بھائی ویب سائٹ کی کوڈنگ کیا کرتے تھے۔انہوں نے ’زپ 2‘ کے نام سے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی اور اِس پر کام شروع کر دیا۔ اِن دونوں بھائیوں کی اپنے کام کے ساتھ لگن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہفتے میں 7 دن اور 24 گھنٹے کام میں مصروف رہتے تھے۔ 24گھنٹے محاورتاً نہیں حقیقت میں ،اِن دونوں بھائیوں کی کوشش ہوتی تھی کہ جتنا زیادہ ہو سکے اپنے کام کو وقت دیں، یہ صرف سوتے وقت کام نہیں کرتے تھے۔ کام سے بڑھ کر اِن کیلئے اور کوئی چیز عزیز نہیں تھی۔مسلسل محنت اور لگن رنگ لائی اور 4 برس کی جدوجہد کا پھل انہیں ’زپ 2‘ کمپنی کو 307ملین ڈالر (تقریباً 59ارب پاکستانی روپے )کی خطیر رقم میں فروخت کر کے ملا۔
ایلون مسک نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’اگر کوئی کمپنی دن میں8گھنٹے کام کر رہی ہے تو آپ 16گھنٹے کام کریں، یوں جو کمپنی 1برس میں کامیابی حاصل کرے گی، وہی کامیابی آپ صرف 6 ماہ میں حاصل کر لیں گے۔‘‘
آپ دنیا میں کوئی بھی کمپنی دیکھ لیں، چاہے پھر فیس بُک ہو، گوگل ہو، ٹیسلا ہو یا کوئی بھی دوسری کمپنی، اُن کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ بہترین پروڈکٹ ہوتا ہے۔ ایلون مسک بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے جب ٹیسلا کمپنی کو جوائن کیا تو خود سے یہ وعدہ کرلیا کہ اُن کی فیکٹری سے جو بھی گاڑی نکلے گی، اُس کا معیار بہت اعلیٰ ہوگا۔ ایلون مسک کی کاروباری پالیسی نے امریکا میں بہت سو کو متاثر کیا۔ ایلون نے ٹیسلا میں ایسی تمام چیزوں پر پیسے خرچ کرنے سے صاف انکارکر دیا تھا، جن سے پیسوں کا ضیاع ہو۔
مثال کے طور پر ٹیسلا کارز کی اشتہارات آغاز سے اب تک ٹیلی ویژن پر نہیں چلائے جاتے اور نہ ہی کسی ویب سائٹ پر ٹیسلا کی اشتہاری مہم دیکھنے کو ملتی ہے، حالانکہ آپ ایمازون سے آن لائن ٹیسلا خرید سکتے ہیں، لیکن آپ کبھی بھی ٹیسلا کے اشتہارات نہیں دیکھیں گے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ ایلون مسک اشتہارات پر پیسے صرف کرنے کے بجائے وہی پیسے اپنی گاڑی کے معیار کو بہتر بنانے پر لگاتے ہیں۔ آپ بھی جب کبھی اپنی کمپنی کا آغاز کریں یا اگر آپ پہلے سے ہی کوئی کمپنی چلا رہے ہیں تو یہ سنہری اصول اپنا لیں کہ آپ کی پروڈکٹ کا معیار سب سے بہتر ہونا چاہیے، وہ خود بہ خود بکے گی آپ کو اُس کے اشتہارات چلانے کی بھی ضرورت نہیں پڑےگی، جب صارف آپ کی پروڈکٹ خریدے گا اور اُسے اُس کا معیارپسند آئے گا تو وہ اُس کے بارے میں اپنے اردگرد موجود دوسرے لوگوں کوبتائے گا، یوں مفت میں اشتہاری مہم کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا اور آپ کو اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
لیکن صرف اعلیٰ معیار ہی وہ چیز نہیں ہے کہ جس سے ایلون مسک نے ٹیسلا اور اپنی دیگر 6 کمپنیوں کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ مسلسل محنت سے انہوں نے یہ کارہائے نمایاں انجام دیا۔ ایلون مسک ایک انسان کی بجائے ،روبوٹ کی طرح کام کرتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ ہے اور وہ ہے سب سے بہتر، سب سے اعلیٰ کا حصول ہے۔ ایلون اپنے سٹاف کو صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ مجھے صبح 3بجے فون کریں یا رات کو، میں 24گھنٹے آپ کی مدد کیلئے موجود ہوں۔
ایلون مسک نے جب ٹیسلا کمپنی کو جوائن کیا تو اُن کے سامنے دو مقاصد تھے، ایک یہ کہ دنیا کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھنے کیلئے الیکٹرک گاڑیاں کارگر ثابت ہو سکتی ہیںاور دوسرا یہ کہ فوسل فیولز یعنی پیٹرولیم مصنوعات کیونکہ قدرتی وسائل ہیں، اِس لیے ایک دن یہ ختم ہو جائیں گے۔دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ ٹیسلا کی بنیاد ایلون مسک نے نہیں رکھی تھی بلکہ اِس کے فاؤنڈرز مارٹن اور مارک نامی دو کاروباری شخصیات تھیں۔ ٹیسلا کے اِن دونوں فاؤنڈرز نے الیکٹرک گاڑیاں تو بنا لیں، لیکن یہ کمپنی کو کامیاب بنانے کیلئے کوئی خاطر خواہ کام نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ٹیسلا کمپنی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی۔ ایسے میں ایلون مسک نے بطور سی ای او ٹیسلا کو جوائن کیا اور ٹیسلا کے کاروباری ماڈل میں حیران کا اور غیر معمولی تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے کمپنی کا 25فیصد سٹاف ختم کر دیا، اُن کے مطابق یہ سٹاف اضافی تھا۔ یہ اضافی سٹاف ختم کرنے سے کمپنی کا خرچ اچانک کم ہو گیا، اسی طرح انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں کے سب سے بڑے مسئلے یعنی اُس کے مائلیج کو بڑھانے کے لیے ریسرچ پردل کھول کر خرچ کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے امریکی حکومت سے بھی اربوں روپے قرض لیا۔ ایلون مسک کا یہ نیا بزنس ماڈل کام کر گیا۔ وہ الیکٹرک گاڑیوں کے مائلیج کے مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے 2008میں ’روڈسٹر‘ کے نام سے گاڑی لانچ کی، جو صرف ایک چارج میں 394کلومیٹر کا سفر طے کر سکتی تھی۔ اس گاڑی کے ریلیز کے بعد ٹیسلا نے غیر معمولی کامیابیوں کا سفر شروع کیا اور الیکٹرک گاڑیوں کو ایک نئی جہت سے متعارف کروایا۔ آج وہی الیکٹرک کارز جن کی کامیابی پر کسی کو یقین نہ تھا، دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر نہ صرف فروخت ہو رہی ہیں، بلکہ ٹیسلا کار کمپنی کی مارکیٹ ویلیو آج دنیا کی تمام گاڑی ساز کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو کو ملا لیا جائے تو اُس سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اس کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 2022میں 797.30بلین ڈالر ہے۔ٹیسلا مارکیٹ کپیٹل کے لحاظ سے دنیا کی چھٹی سب سے زیادہ قدر رکھنے والی کمپنی بھی بن گئی ہے۔
یہ تو ایلون مسک کی ٹیسلا کو کامیاب بنانے کی کہانی ہے، جس میں اُن کی کاروباری حکمت عملی نے کام دکھایا اور کمپنی دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرتی چلی گئی، لیکن ایلون کی زندگی میں سب کچھ خوبصورت اور کامیابی سے بھرپور نہیں تھا۔ ایلون نے جب ’سپیس ایکس‘ کمپنی کی بنیاد رکھی اور2025تک انسان کو مریخ پر بھیجنے کافیصلہ کیا تو یہ فیصلہ خودکشی کی طرح تھا۔ کیونکہ جو کام دنیا کی بڑی بڑی معاشی طاقتیں اور خلائی ادارے جیسا کہ امریکا کا خلائی ادارہ ’ناسا‘ اور روس کا ’روسکاسموس‘ نہیں کر سکے، وہ آخر ایک پرائیویٹ کمپنی کیسے کر سکتی تھی ۔ لوگوں کی توقعات کے عین مطابق ایلون مسک کو اپنے راکٹس کی لانچنگ میں پے در پے ناکامیاں ہوئیں۔ حالات اِس نہج تک آ گئے کہ ایلون مسک کو ایک انٹرویو میں روتے ہوئے دیکھا گیا۔
انٹرویو کرنے والے میزبان نے اُن سے سوال کیا کہ ’’چاند پر پہلا قدم رکھنے والے نیل آرمسٹرونگ اور خلا باز جین کارنن نے کمرشل بنیادوں پر انسانوں کوچاند یا مریخ پر بھیجنے کی مخالفت کی تھی، تو آپ (ایلون مسک) ایسا کیوں کر رہے ہیں۔‘‘
ایلون مسک نے تقریباً روتے ہوئے کہا کہ ’’یہ لوگ میرے ہیروز ہیں، مجھے نیل آرمسٹرونگ اورجین کارنن کے خیالات جان کر بہت دکھ ہوا، لیکن میری خواہش ہے کہ یہ لوگ آئیں اور دیکھیں کہ ہم کتنی محنت کر رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ ہماری محنت دیکھ کر انہیں اپنے خیالات بدلنے پڑیں گے۔‘‘
ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے تیار کردہ بہت سارے منصوبے ناکام ہوئے، اُن کے بہت سے راکٹس لانچ ہونے سے قبل ہی تباہ ہو گئے اور کچھ لانچ ہونے کے بعد زمین پر آگرے۔ لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور آخر فالکن 9 کے نام سے دنیا کا پہلا سٹیج لینڈنگ ٹیسٹ کیا۔ سپیس ایکس ایسا راکٹ تیار کرنے میں کامیاب ہو گئی، جسے زمین سے لانچ کرنے کے بعد دوبارہ لینڈ بھی کروایا جاسکتا ہے۔ آخر کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ بغیر پروں کے کیسے ایک راکٹ زمین پر بآسانی لینڈ کر رہا ہے اور یہ پھل مسلسل محنت، لگن اور ہار نہ مارننے کی ضد کا تھا۔ ہمیں بچپن سے ضدی نہ ہونے کی تربیت دی جاتی ہے، لیکن ضدی ہونا اتنا بھی برا نہیں۔ آپ ضدی بن جائیں، اُس کام کیلئے جس میں آپ کو اپنا مستقبل نظر آتا ہے۔
(دانش احمد انصاری)

 



July 06, 2022

Spouse 1

 رانڈ، بیوہ
اردو زبان میں بھی بیوہ کے لیے محاورات موجود ہیں
رانڈ کے اردو معنی ، بیوہ عورت، تحقیراً عورت، جوان عورت، حقارتاً (عورت) اور خوبصورت عورت کے ہیں۔  وہ عورت جس کا شوہر مرجائے۔ گالی کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ کوسنے کے طور پر مستعمل کلمہ طنز و تحقیر۔

دولتمند بیوہ کا آدھا سہاگ سلامت رہتا ہے ۔1
جس کی بیٹی رانڈ ہوگئی اس کا جنم بگڑگیا۔2
جوان رانڈ بوڑھے سانڈ۔3
چلے رانڈ کا چرخہ اور برے کا پیٹ۔4
رانڈ اور کھانڈ کا جوبن رات کو۔5
رانڈ بیٹی مرگئی جنم سدھر گیا۔6
رانڈ روو کواری رووے ساتھ لگی ست خصمی۔7
 رووےرانڈ رہے جو رنڈوے رہنے دیں۔8
اس سے ملتا جلتا ایک اور بھی ہے کہ ’’رنڈی تو بسنا چاہتی ہے، مشٹنڈے نہیں بسنے         دیتے‘‘۔
ان ملے کے قیاگی رانڈ ملے بیراگی9

رانڈ کا سانڈ10

رانڈ کا سانڈ ، سَوداگَر کا گھوڑا کھاوے بَہُت ، چَلے تھوڑا11

رانڈ کا سانڈ اور سوداگر کا گھوڑا جو کھاوے تو بہت مگر چلے تھوڑا تھوڑا

باؤلی کھاٹ کے باؤلے پائے۔ باؤلی رانڈ کے باؤلے جائے12

رانڈ سانڈ بھانڈ بگڑے ہوئے برے13
رانڈ سانڈ سیڑھی سنیاسی ان سے بچے تو سیوے کاشی14
رانڈ کا سانڈ چھنال کا چھنڑا15

(مجازاً) رانڈ کی اولاد ،بے پروا ، نڈر ، بے باک ،فکر و غم سے آزاد .جوان خوب         صورت جورو کو چھوڑ کے ڈھونڈتا پھرتا ہے

 ، موا رانڈ کا سانڈ ۔16
 (۱۸۹۴، کامنی ، ۲۶)

وہ ان خوش نصیبوں میں تھا جو اپنی روزی کے لئے خود محنت نہیں کرتے بلکہ دوسروں     کی محنت پر رانڈ کے سانڈ کی طرح پلتے ہیں۔ (۱۹۸۲، کیمیاگر،۳۸)

2) جاہل ، کم فہم (محاورات ہند)۔ حضرت ہم نے بھی  دنیا دیکھی ہے۔ جھجو         جھونٹوں میں عمر نہیں گزری ،رانڈ کے سانڈ بن کر نہیں رہے۔
 (۱۹۴۳، دلی کی چند عجیب پستان۔۷۷)
ملا دے سیر بھر دودھ اس میں اور کھانڈ، کہ ہے چالیس سن میں رانڈ کا سانڈ
(۱۸۹۵، فرسنامہْ رنگین .۱۱).
پہلے ہی چھاچھ پی پی کے اور رانڈ کڑھی کھا کھا کے میری تو آنکھیں پیلی اور شاعری         پتلی پڑ گئی ہےْ۔ ( یوسفی )
17[رانڈکڑھی: وہ کڑھی جو اپنے خصم کو کھا جائے یعنی جس میں پھلکیاں نہ ہوں]۔



رانڈ کڑھی (راجھستان والوں کی زبان میں بیوہ کڑھی) جس میں پکوڑے نہیں         ڈالے جاتے۔

اشعار
جو رانڈ ہو کاجل کرے چویا چندن پر من دھرے18
چوڑی پہن مہندی کرے بر گردنش تلوار بہ
(جعفر زٹلی)

کہے گئی دغا دے کر ہمسنا رانڈ ہمیں کاں سوں خاوند کوں د یویں دانڈ19
(عبداللہ قیاسی)
رانڈ ہو گور کا یا منہ اری کمن دیکھے20
نوج غم سوت کا دنیا میں سہاگن دیکھے
(جان صاحب)

بندھاتی ہے تو رانڈ بیواؤں کی ہمت21
یتیموں سے کرتی ہے اظہار شفقت
(خمکدہ سرور)

چوٹ کرے ہے ایسی بھانت پھرے ہے جیسے کوئی سانڈ22
کون سا لیکھا جو کھا ہے کیسی ہے یہ نپوتی رانڈ
(انشا)

جو فرشتہ ہے مقرر باد پر23
اوس کو کیا جو رانڈ کا دِیوا بُجھا
(حسن علی)

الطاف حسین حالی کی نظم بیوہ کی مناجات

آٹھ پہر کا ہے یہ جلاپا
کاٹوں گی کس طرح رنڈاپا
اپنے پرائے کی دھتکاری
میکے اور سسرال پہ بھاری
سہہ کے بہت آزار چلی ہوں
دنیا سے بیزار چلی ہوں
دل پر میرے داغ ہیں جتنے
منہ میں بول نہیں ہیں اتنے
دکھ دل کا کچھ کہہ نہیں سکتی
اس کے سوا کچھ کہہ نہیں سکتی
تجھ پہ ہے روشن سب دکھ دل کا
تجھ سے حقیقت اپنی کہوں کیا
بیاہ کے دم پائی تھی نہ لینے
لینے کے یاں پڑ گئے دینے
خوشی میں بھی دکھ ساتھ نہ آیا
غم کے سوا کچھ ہات نہ آیا
ایک خوشی نے غم یہ دکھائے
ایک ہنسی نے گل ہی کھلائے
کیسا تھا یہ بیاہ نناواں
جوں ہی پڑا اس کا پرچھاواں
چین سے رہنے دیا نہ جی کو

کر دیا ملیامیٹ خوشی کو
رو نہیں سکتی تنگ ہوں یاں تک
اور روؤں تو روؤں کہاں تک
ہنس ہنس دل بہلاؤں کیوں کر
اوسوں پیاس بجھاؤں کیوں کر
ایک کا کچھ جینا نہیں ہوتا
ایک نہ ہنستا بھلا نہ روتا

میر انیس کے مرثیے

 پوچھے گا مجھ سے آ کے جو کوئی کہ اے غریب
پُر خوں یہ کس کی لاش ہے بے یار و بے حبیب
سر پیٹ کر کہوں گی یہ ہے سانحہ عجیب
مجھ سا جہاں میں کوئی نہ ہوگا بلا نصیب
دولھا شہید ہو گیا تقدیر سو گئی
شب کو دلہن تھی صبح کو میں رانڈ ہو گئی

رونے لگی یہ کہہ کے جو وہ غیرتِ قمر
قاسم کا فرطِ غم سے تڑپنے لگا جگر
ناگاہ گھر میں دوڑ کے فضّہ نے دی خبر
بی بی غضب ہوا کہ بڑھی فوجِ بد گہر

اکبر رضا طلب ہیں قیامت ہے صاحبو
لو، اب جوان بیٹے کی رخصت ہے صاحبو
دولھا شہید ہو گیا تقدیر سو گئی
شب کو دلہن تھی صبح کو میں رانڈ ہو گئی

 جس وقت کہ قتل ہوا وہبِ با وفا
بیوہ نے کی نہ آہ بجز شکرِ کبریا
ہر چند رانڈ ہونے کا صدمہ ہے جانگزا
رونے کی پر دلھن کے نہ آئی کبھی صدا

ماں اس جری کی زینبِ مضطر کے ساتھ ہے
زوجہ جو ہے وہ شاہ کی دختر کے ساتھ ہے

 رغہ میں آج صبح سے ہیں سرورِ امم
فرصت نہیں ہے لاش اٹھانے سے کوئی دم
کیوں کر کہیں گے وہ کہ سدھارو سوئے عدم
بیٹی کے رانڈ ہونے کا صدمہ، تمھارا غم

دیتے نہیں رضا جو شہِ کربلا تمھیں
میں اب دلائے دیتی ہوں اذنِ وغا تمھیں
گر ہے دلہن کی فکر تو بے جا ہے یہ خیال
ہر رنج و غم میں رانڈوں کا حافظ ہے ذوالجلال
صابر ہے دکھ میں، درد میں، خیر النساء کا لال
کُھلنے کا سر کے غم ہے نہ کچھ قید کا ملال
راضی رہیں حُسین، رضا ذوالمنن کی ہو
کنگنا ہو یا رسن میں کلائی دلہن کی ہو




دھوکہ دیتے ہیں اُجلے پیراہن
راہ میں کھلتا پھول بیوہ کا جوبن
(امجداسلام امجد)

مجھے بے وارثا کرکے سدھارے
مجھے بیوہ بنایا تم نے پیارے
 (شایاں)


ہر بیوہ عباس کو وقفہ ہوا دشوار
چلائی جو کہنا ہو وہ کہ جلد سِتمگار
(دبیر)

پنجابی محاورہ بھی مطلقہ سے شادی کی ممانعت کرتا ہے خواہ وہ حور شمائل ہی کیوں نہ         ہو ۔

24
راہوں کُراہ نہ چلیے بھانویں دور ہووے
تے چُھٹَڑ نہ کرئیے بھانویں حور ہووے


[جانے پہچانے راستے سے ہٹ کر مت چلو خواہ وہ دُور پڑتا ہو یعنی طویل ہو اور         مطلقہ سے شادی مت کرو خواہ وہ حُور ہو

]

Total Pageviews