September 28, 2021

DOCTOR ڈاکٹر ایک مسیحا

 “ایک ڈاکٹر”

بچہ چند ماہ کا تھا کہ اسے قے کا عارضہ لاحق ہوگیا. میں اسےشہر کے سب سے بڑے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر سمیر شیخ کے پاس لے گیا. ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد فرمایا
"اسے الٹا سلایا کیجئے، ٹھیک ہوجائے گا"
یہ کہہ کر وہ مجھے یوں دیکھنے لگے جیسے ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی. میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
"دوائی ؟"
انہوں نے خالی پرچہ میری جانب بڑھاتے ہوئے فرمایا
"کوئی دوائی نہیں، بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے تحت دی جاتی ہے"
میں اور اہلیہ خالی پرچہ لئے گھر آگئے اور بچے کی قے کی شکایت الٹا سونے سے ٹھیک ہوگئی. کچھ عرصے بعد اس کے دانت نکلنے کے دن آئے تو میں ایک بار پھر اسے لے کر ڈاکٹر سمیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور دانشوری بھگارتے ہوئے کہا
"ڈاکٹر صاحب ! یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ بچوں کے جب دانت نکلتے ہیں تو اس کے سبب ان کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے، جس سے یہ کمزور ہوجاتے ہیں. میں چاہتا ہوں کہ آپ بچے کے لئے کوئی ایسی دوا لکھ دیجئے کہ اس کا پیٹ خراب نہ ہو اور یہ ہٹا کٹا رہے"
ڈاکٹر سمیر عینک کے اوپر سے گھورتے ہوئے میری دانشوری پر حملہ آور ہوئے
"نہیں ! میں بالکل نہیں جانتا کہ دانت نکلنے سے بچوں کا پیٹ خراب ہوتا ہے، یہ راز کب دریافت ہوا ؟"
تپ تو مجھے بہت چڑھی مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے گزارش کی
"میرے دونوں بڑے بچوں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے، اور یہ تو عام معروف بات ہے، حیرت ہے آپ نہیں جانتے !"
ڈاکٹر صاحب بولے
"یہ انپڑھ گھرانوں کا تصور ہے کہ دانت نکلنے سے پیٹ خراب ہوتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ جب بچے کے دانت نکلتے ہیں تو اس کے مسوھڑوں میں کھجلی ہوتی ہے جس کے سبب وہ بار بار ہاتھ منہ میں ڈالنے لگتا ہے. چونکہ ہاتھوں پر جراثیم ہوتے ہیں سو یہ بچے کے پیٹ میں جاکر خرابی پیدا کر دیتے ہیں. حل اس کا یہ ہے کہ بچے کے دانت نکلنے کے ایام میں مناسب وقفے کے ساتھ دن میں چار بار اس کے ہاتھ صابن سے دھوئے جائیں"
یہ کہہ کر وہ پچھلی بار کی ہی طرح یوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ گئے جیسے انہیں مزید کچھ نہیں کرنا. عرض کیا
"دوائی کوئی نہیں ؟"
فرمایا
"کوئی نہیں"
کچھ مدت بعد بچے کا گلا اور سینہ خراب ہوگیا، میں اس بار بھی اسے ڈاکٹر سمیر کے پاس لے گیا مگر اس بار "انپڑھ گھرانوں" والی ڈوز سے بچنے کی خاطر دانشوری جھاڑنے سے مکمل گریز کرتے ہوئے بس اتنا کہا
"اس کا گلا اور سینہ خراب ہے"
"کیوں خراب ہے ؟"
"مجھے کیا پتا، میں تو انپڑھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں"
یہ میں نے جی ہی جی میں کہا، چونچ بند ہی رکھی. وہ معائنہ فرما کر بولے
"سری لیک بند کردیجئے، ٹھیک ہوجائے گا، سری لیک ہر بچے کو راس نہیں آتی"
"سری لیک کی جگہ کیا دیں ؟"
"دہی جو کھٹی ہرگز نہ ہو، ابلا ہوا آلو، یخنی، سبز چائے، شہد اور کھچڑی دیجئے"
"دوائی ؟"
"بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے وقت دیتے ہیں اور وہ بھی ایک آدھ. وقاص کو کوئی اشد ضرورت نہیں"
میں بچے کو دس بارہ برس کی عمر تک بوقت ضرورت ڈاکٹر سمیر کو ہی دکھاتا رہا اور اس پورے عرصے میں ایک دو بار ہی انہوں نے ایک آدھ دوا لکھ کر دی. وہ سختی سے اس بات کے قائل تھے کہ بچے کو دوا نہیں دینی چاہئے. آج بھی ان کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے کیونکہ وہ ایسے دور میں بچوں کو ادویات سے بچانے کے قائل تھے جس دور میں کمیشن خور ڈاکٹرز پانچ سے دس دوائیں لکھ کر مریض کو کرتے تو مزید بیمار ہیں لیکن نسخے والے پیڈ کی لوح پر "ھوالشافی" پرنٹ کرا کر ثواب دارین کی امید بھی رکھتے ہیں.
کیا آپ بھی ڈاکٹر سمیر جیسے کسی ڈاکٹر کو جانتے ہیں؟؟؟؟

 

There is nothing wrong with the world، دُنیا میں کوئی بھی چیز نکمی نہیں ہے۔

  ایک آدمی کا بڑا بیٹا بہت لا ئق اور ہونہار طالب علم تھا لیکن چھوٹا بیٹا اتنا ہی نا لائق تھا۔ جب رزلٹ کا دن آیا تو باپ چھوٹے بیٹے کے پاس گیا اور بولا کہ آپ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئے آپ کو پتہ نہیں ہے کہ ہم نے آج آپ کا رزلٹ لینے کے لیے آپ کے سکول جانا ہے۔

لڑکا بولا کہ ابو پلیز آپ مت جائیں میں اکیلے چلا جاتا ہوں۔میں کوئی احسن کی طرح لائق فائق تھوڑی ہوں کہ آپ فخر سے میرے ساتھ سکول جا سکیں ۔ آپ کی بھی بے عزتی ہوگی۔باپ مسکرا کر بولا کہ بیٹا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا رزلٹ برا ہوتا ہے، میں آپ کا باپ ہوں اور ہر حالات میں ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا اور آپ مایوس کیوں ہوتے ہو آپ کا اور احسن کا بھلا کیا مقابلہ اور سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی دو انسانوں کا آپس میں کبھی کسی قسم کا مقابلہ نہیں بنتا۔جب اللہ نے اس دنیا میں گھاس کا بیج بویا تھا تو وہ اگلے گھنٹے پوری دنیا میں ہری بھری نظر آنے لگی تھی لیکن کیا اللہ نے بانس کا بیج بے وجہ بنایا تھا؟ جب گھاس کا بیج لگایا تو اگلے گھنٹے پوری دنیا ہری بھری نظر آنے لگی اور جب بانس کا لگایا تو پہلے ایک سال کچھ نظر نہیں آیا، پھر دوسرا سال اسی طرح گزر گیا اور کوئی بیل بوٹا نہیں اگا۔ لیکن کیا.اللہ نے بانس کو بے مقصد بنایا تھا یا اس کے بیج بنانا بند کر دیے تھے۔ جب دو سال بعد بانس کا پودہ اگا تو بالکل چھوٹا سا تھا، کمزور۔ لیکن جب بانس کا پودہ بڑا ہوتا ہے تو کتنا خوبصورت لگتا ہے۔ اتنا لمبا اونچا اور مضبوط، پھر اس کے آگے گھاس کی پتیاں کیسی لگتی ہیں۔

تو کسی کا کسی کے ساتھ موازنہ بے مقصد کی باتیں ہیں اور وقت کا ضیاع ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کو بہت کم عمری میں ایک بہت قیمتی سبق سکھا دیا تھا کہ دنیا کے کارخانے میں کوئی بھی شے بے مقصد نہیں ہوتی اور کسی کا دوسرے انسان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ سب الگ ہیں اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ایسے میں ہر ایک اس دنیا میں ایک انمول رنگ بھرتا ہے اور جو لوگ اپنے بچوں میں اس طرح کے مقابلے بوتے ہیں،اس کا کڑوا پھل ان کی ذہنی بیماریوں کی صورت ساری عمر برداشت بھی کرتے رہتے ہیں۔ اللہ سب کو عقل دے۔سٹیو جابز کو کون نہیں جانتا؟ ایپل کا فاؤنڈر ۔ ایپل وہ کمپنی جس کے آئی فون ہاتھ میں لے کر ہم اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں ۔ دنیا کا سب سے زیادہ بکنے والا فون آئی فون ہی ہے۔ سٹیوو جابز نے ایپل کی بنیاد ۱۹۷۶ میں رکھی تھی۔ ایپل دنیا بھر میں بہت مشہور اور معروف تھی اور اس کے فون اور لیپ ٹاپ ہر آرٹسٹ کی پہلی ترجیح ہوا کرتے تھے۔ ایسے میں سٹیوو سے ایک غلطی ہو گئی اور اس نے ایک ایسا پراڈکٹ بنایا جو مارکٹ میں بالکل نہ چل پایا۔ یہ۱۹۸۵ کی بات ہے، اس کی اپنی کمپنی نے اسے ٹیم سے خارج کر دیا۔ پوری دنیا اس بات سے واقف تھی، بجائے اس کے کہ سٹیوو جابز بیٹھ کر اپنے اوپر ترس کھاتا یا اپنی قسمت اور رسوائی کے رونے روتا اس نے ایک نئی کمپنی کی بنیاد ڈال دی۔

اس نے اپنی نئی کمپنی ’نیکسٹ‘ کا آغاز کیا اور اس پر بے انتہا محنت کی۔ اس نے مڑ کر کبھی ایپل کی طرف نہیں دیکھا اور اس کی محنت رنگ لائی، ایپل جب 1997 میں ناکامیوں پر ناکامیوں کا سامنا کر رہی تھی تو انہوں نے سٹیوو جابز کی نئی کمپنی نیکسٹ کو کال کیا اور اس کے ساتھ مرجر کر لیا۔ سٹیوو جابز کو اس کی پرانی جاب واپس دے دی اور اس کے بعد سٹیوو نے آئی فون،آئی پیڈ اور آئی پاڈ جیسے پراڈکٹ بنائے اور مارکٹ میں لانچ کیے۔ آج بچے بچے کے ہاتھ میں آئی پیڈ ہوتا ہے اور ہر آدمی آئی فون لے کر پھرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔یہ سب سٹیوو جابز کی انتھک محنت اور مستقل مزاجی کے باعث ممکن ہوا ہے۔ سٹیوو کے مزاج کے بارے میں بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنی کمپنی کی بات کو دل پر نہیں لیا تھا اور اس نے اپنے فیل پراڈکٹ کی پوری پوری ذمہ داری قبول کر کے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ جب اس کی کمپنی نے اس کو دوبارہ جاب آفر کی تو اس نے ناک منہ چڑھاکر ان کو کو انکار نہیں کیا بلکہ یہ سوچا کہ اس کا ذاتی فائدہ اور پوری کمپنی کا فائدہ کس چیز میں ہے۔ انسان جب صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ پوری ٹیم کا سوچ کر چلتا ہے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومتی ہے۔ کوشش کریں کہ سب کو ہمیشہ ساتھ لے کر چلیں

 

September 20, 2021

LOVE MARRIAGE, COLLEGE LOVE JUST TIME PASS

کالج میں ایک لڑکے نے مجھ سے اظہار محبت کیا. اسے میں نے بہت سمجھایا لیکن اُسے ذرا اثر نہیں ہوا. وہ کٹر ٹھرکی تھا یا پھر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کوشش جاری رکھو، ایک نہ ایک دن مان ہی جائے گی. میں اُس کی باتیں سن کر ہنستی تھی، وہ دل میں خوش ہوتا تھا کہ ہنسی تو پھنسی،

پر اُسے یہ کہاں معلوم تھا میری ہنسی کا مطلب ہے کہ ہنسوں تو کبھی نہ پھنسوں. آج پھر وہ چلا آیا تھا. اچھا تو تمھارا یہ دعوی ہے کہ تم محبت کرتے ہو مجھ سے، کیا ہوتی ہے محبت؟ کچھ معلوم ہے اس کے بارے میں. جس سے محبت ہو اس کے حقوق کا علم ہے تمھیں. یہ فرائض سرانجام دینے کے قابل ہو تم. اُس کے چہرے پے حیرانیوں کے سائے لہرانے لگے. اُسے ان گہری باتوں کا علم ہی کہاں تھا. وہ تو بس فلموں، ڈراموں کی آغوش میں جوان ہو کر ہزاروں نوجوانوں کی طرح اپنی فطری ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر محبت کا نام اپنی روح میں سمو چکا تھا. سچ میں جب سے تمھیں دیکھا ہے، میرا چین و سکون لٹ گیا ہے. ہر جگہ تم ہی دکھائی دیتی ہو ،میں سچی محبت کرتا ہوں، پلیز مان جاؤ نا. کیا مان جاؤں؟

میں نے بے نیازی سے پوچھا. تم بھی محبت کر لو مجھ سے، بہت خوش رکھوں گا تمھیں، ہر بات مانوں گا. اچھا میری ہر بات مانو گے. ہاں! ہر بات مانوں گا، تم نہیں جانتی تمھاری یہ عام سی آنکھیں میرے لیے کتنی خاص ہیں. لوگوں کو تو محبوبہ کی آنکھیں جھیل جیسی گہری لگتی ہیں، تم انھیں عام کہہ رہے ہو. آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ بناوٹی باتیں آپ کو پسند نہیں، یہ سب جھوٹی تعریفیں ہوتی ہیں، اس لیے سچ بتا رہا ہوں کہ چاہے یہ آنکھیں عام سی ہیں پر میرے لیے تو خاص ہیں. خاص کیوں ہیں؟ وجہ بتاؤ. کیونکہ ان سے ذہانت ٹپکتی ہے، جب آپ کے لب پھول برساتے ہیں تب یہ بھی پورا ساتھ دیتی ہیں، ایسا لگتا جیسے یہ بھی بول رہی ہوں.. اوہ! تو محبت کی پہلی سیڑھی چڑھ ہی گئے ہو تم. اچھا بتاؤ، میری ہر بات مانو گے؟ ہاں ہر بات.. تو پھر میری محبت اپنے دل سے نکال دو،

اگر تم سچی محبت کرتے ہو مجھ سے تو میری یہ بات بھی مانو گے. اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا جسے اندر ہی اندر جذب کرنے کی وہ ناکام کوشش کر رہا تھا. ٹھیک ہے آئندہ آپ نہیں دیکھو گی مجھے.. یہ کہہ کر وہ خاموشی سے چلا گیا. اس لیےکہ وہ مجھے یقین دلانا چاہتا تھا کہ واقعی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے. میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. میں نے دل میں سوچا کہ تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے. کافی دن گزر گئے، اُس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، کوئی کال نہ میسیج. پھر ایک دن وہ خود ہی میرے پاس چلا آیا. میں نے تمہاری محبت اپنے دل سے نکال دی ہے. اب تم میرے لیے ایک عام عورت ہو. لفظ عورت سن کر میں کھلکھلا کر ہنس پڑی.. پتہ میری محبت کیوں نکلی ہے تمہارے دل سے؟ کیونکہ یہ محبت کبھی تھی ہی نہیں،

محبت کبھی دل سے نہیں نکلتی بشرطیکہ سچی ہو. محبوب کے ساتھ حقیقی پل تو دور کی بات، کبھی خیالوں میں بھی اس کا ہاتھ تک پکڑنا نصیب نہ ہو، اور نہ ہی وہ شدتوں کو جانتا ہو، پھر بھی دل سے محبت نہیں نکلتی. وہ شرمندہ سا ہوا. تمھیں کیا پتہ میں کتنا رویا ہوں؟ کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں؟ کتنا سوچا ہے؟ پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ میں تمہاری بات مانوں گا، فریادی بن کر اب نہیں آؤں گا، اس لیے کہہ رہا ہوں محبت ختم ہو گئی. شادی تو ویسے بھی تمہارے ساتھ نہیں ہو سکتی. کیوں مجھے خارش ہے؟ میری رگ مزاح پھڑک اٹھی. پھر ہنستے ہوئے اس نے بتایا کہ ہمارے خاندان والے برادری سے باہر شادی نہیں کرتے. تو کیا تمھارے خاندان والے برادری سے باہر محبت کر لیتے ہیں؟ وہ چپ رہا، کیا جواب دیتا. خیر میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، تم بہت اچھی لڑکی ہو، اگر تم میری محبت میں گرفتار ہو جاتیں تو میری نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتیں،

اور ہم لڑکے واقعی ایسی لڑکیوں سے محبت تو خوب کرتے ہیں پر شادی نہیں. اب کے حیران ہونے کی باری میری تھی. میری پلاننگ کامیاب ہوئی تھی. وہ سچ مان رہا تھا. پر میں اس کی دوسری چال بھی سمجھ گئی. مرد کو بسس سیٹیسفیکشن چاہیے ہوتی ہے، چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، جب اُسے یقین ہو گیا کہ میں واقعی ہاتھ آنے والی نہیں تو اُس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا. وہ میرے ساتھ باتوں سے ذہنی تسکین چاہتا تھا، وقت اچھا گزارنا چاہتا تھا. اچھا دوستی کر کے کیا کریں گے؟ اچھے دوست کیسے ہوتے ہیں؟ میں نے اس سے پوچھا. ہم اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کیا کریں گے، میں آپ کو گفٹ دیا کروں گا، اکھٹے شاپنگ پر جائیں گے، خوب گھومیں پھریں گے، کھابے اڑائیں گے، دکھ سکھ کے ساتھی، بالکل اچھے دوست بنیں گے ہمیشہ ساتھ رہنے والے. محبت کی جگہ اب دوستی کا لفظ آ گیا تھا مگر ترجیحات اور مقاصد و معاملات وہی تھے. ایک لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے،

ہاں کلاس فیلو ہو سکتے ہیں، جب سٹڈی ختم ہوئی رابطہ ختم. لیکن دوستی تو وہ ہوتی جو مستقل رہے. محبت تم نہیں کرتی، دوستی پر تمھیں اعتراض ہے. اچھا منہ بولی بہن بن جاؤ. میں اتنی اچھی لڑکی کھونا نہیں چاہتا. میں بھی اتنی اچھی لڑکی گنوانا نہیں چاہتی. میں نے دل میں سوچا. یہ اس کا آخری حربہ تھا محبت اور دوستی میں دال نہ گلی تو منہ بولی بہن.. اچھا بھائی بہن بن کر کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا دونوں ساتھ وقت گزارا کریں گے، اپنی ہر بات بتایا کریں گے، صبح صبح اکٹھے سیر کو جایا کریں گے، جاگنگ کریں گے، ٹینیس کھیلیں گے، بہت خوش رہیں گے دونوں. یہ زندگی بورننگ نہیں لگتی تمھیں جو گزار رہی ہو، تھوڑا سا بدلو تم خود کو. دیکھنا کتنی خوشیاں ملتی ہیں، سچی بھائی بہن والا رشتہ ہوگا، کوئی نقصان نہیں اور اس دوران تم بہن لفظ کا سہارا لے کر مجھ سے اپنی ذہنی تسکین حاصل کرتے رہو،

نظروں سے ہی میرے چہرے کو چھوتے رہو، ٹینس کھیلتے ہوئے میرے بدن کے اتار چڑھاؤ کو للچائی نگاہوں سے دیکھتے رہو، تمھارا وقت رنگین ہو جائے گا. میں خاموش نظروں سے کہہ رہی تھی، وہ کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا جواب کا منتظر تھا سوری میری خوشیاں، کھابے، سیر، جاگنگ، زندگی کے رنگ، ٹویسٹ، قہقہے، دکھ سکھ کسی غیر مرد کے محتاج نہیں. میں اپنے پاپا کے ساتھ سیر کو جاتی ہوں. باپ کی شفقت بھری گفتگو بہت لطف دیتی ہے. میری ماں میری سب سے اچھی دوست ہے، میرے دکھ سکھ کی ساتھی ہے. میری سکھیاں کھابے اُڑانے میں لاجواب ہیں، اُن کے ساتھ میرا وقت بہت اچھا گزرتا ہے. میرے ٹیچرز میرے رہنما ہیں. اپنے بھائی کے ساتھ میں گھنٹوں باتیں کرتی ہوں، معصوم شرارتیں دو منٹ میں ناراض دو منٹ میں راضی،

ایک دوسرے کے بنا ذرا وقت نہیں گزرتا، اس کے پیچھے بائیک پر بیٹھے ہوئے میں آزاد فیل کرتی ہوں، اس کے ساتھ شاپنگ کا جواب نہیں. میں بہت خوش ہوں. ایک نیا رشتہ بنا کر میں ان سب رشتوں کی مٹھاس نہیں کھونا چاہتی.. پتہ نہیں لڑکیوں کی حسین زندگی غیر مردوں سے ہی کیوں جڑی ہوتی ہے؟ خوبصورت خوابوں کے چکر میں عمر بھر کے لیے آنکھیں زخمی کروا لیتی ہیں. اتنا کہہ کر میں چلی آئی. اس کا ری ایکشن کیسا تھا؟ میں نے دیکھا نہیں، لیکن اسے ایک سبق ضرور مل گیا تھا. میں نے گھر آ کر سجدہ شکر ادا کیا اور آنکھ اشکبار ہو گئی. میرے اللہ تو مجھےایسے ہی ثابت قدم رکھنا، اس عہد کی پیداوار ہو کر بھی میرے قدم ذرا نہ ڈگمگائیں

 

August 31, 2021

PULOVER BIRD FLY 4000 KILO METER IN 88 HOURS HOW ?

 

   خد ا کی قدرت کی عجب نشانی

گولڈن پلوور ایک پرندہ ہے جو اپنی ہجرت کی وجہ سے مشہور ہے یہ ہر سال امریکی ریاست الاسکا سے ہوائی کے جزیرے تک 4000 کلو میٹر کی پرواز کر کے ہجرت کرتا ہے ۔ اس کی پرواز 88 گھنٹوں پر محیط ہوتی ہے۔ جس میں کوئی ریسٹ نہیں راستے میں کوئی جزیرہ نہیں یہ پرندہ تیر بھی نہیں سکتا درمیان میں آرام کرنا  ممکن نہیں ہے جب کہ سائنسدانوں نے اس پرندے پر تحقیق کی  تو ان کو پتہ چلا کہ اس پرندے کو یہ سفر مکمل کرنے کے لئے 88 گرام چکنائی کی ضرورت ہے جبکہ حقیقت میں اس پرندے کے پاس پرواز کے ایندھن کے طور پر تقریباً 70 گرام چکنائی دستیاب ہوتی ہے ۔ اب ہونا تو یہ چاہیئے کہ یہ پرندہ 800 کلومیٹر پہلے سمندر میں مر کر  ختم ہو جاتا لیکن یہ منزل پر کیسے پہنچتا ہے۔ اس کا جواب  ششدر کر دینے والا ہے۔ اصل میں یہ پرندہ گروہوں کی شکل میں وی کی شیپ بنا کر پرواز کرتے ہیں اور اپنی پوزیشن تبدیل  کرتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انھیں ہوا کی رگڑ کا کم سامنا ہوتا ہے۔ بہ نسبت  اکیلے پرواز کرنے کے اور ان کی 23 ٪ انرجی بچ جاتی ہے 6  یا  7 گرام  چکنائی ان کے پاس ریزرو فیول کی  صورت میں بھی موجود ہوتی ہے جو ہوائوں کا رُخ مخالف ہونے کی صورت میں ان کے  کام آ جاتی ہے اب ہم پوچھتے ہیں کہ کون خدا کے انکار کی جرات کر سکتا ہے ایک پرندہ یہ کیسے جان سکتا ہے کہ اس کو سفر کے لئے کتنی چکنائی درکار ہے راستہ اسے کو ن بتاتا ہے ۔ اتنے لمبے سفر کی اسے ہمت کیسے ہو جاتی ہے اور چکنائی کے استعمال کا اسے کیسے اندازہ ہے اور اس کو یہ کس نے بتایا کے وی  شیپ میں سفر کرنے سے وہ کیسے اپنی انرجی بچا سکتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔

August 29, 2021

ہائی بلڈ پریشر کے پاکستانی علاج صرف صدمے کا باعث ہیں۔ معروف جرمن ماہر امراض قلب نے ایک پاکستانی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیا۔

 ہائی بلڈ پریشر کے پاکستانی علاج صرف صدمے کا باعث ہیں۔ معروف جرمن ماہر امراض قلب نے ایک پاکستانی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیا۔ ڈاکٹر فشر کلوس برلن میں دنیا کے مشہور سنٹر برائے امراض قلب کے سربراہ ہیں۔



ڈاکٹر کلوس فشر: "پاکستان میں ، ہائی بلڈ پریشر کا اب بھی فرسودہ اور غیر موثر دوائیوں کے ساتھ علاج کیا جاتا ہے جو پوری زندگی لینا ضروری ہے۔ ادھر ، جرمنی میں ، ہائی بلڈ پریشر کا علاج اتنا ہی آسان ہے جتنا عام سردی کا علاج کرنا۔

پچھلے سال ، ڈاکٹر کلوس فشر اپنے پاکستانی ساتھیوں سے سیکھنے کے لئے پاکستان آئی تھیں۔ انہوں نے پاکستان میں جو کچھ دیکھا وہ ناقابل فراموش ہے۔ ہمارے ملک میں ، ڈاکٹر کلوس کے مطابق ، ہائی بلڈ پریشر مریضوں پر ایک پورا کاروبار کیا جارہا ہے ...ہور سنٹر برائے امراض قلب کے سربراہ ہیں۔ بلڈ پریشر کے پاکستانی علاج کے
 جرمنی میں اعلی سطح پر تقاریر کے بعد ، ڈاکٹر کلوس فشر پاکستانی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دینے کے لئے تیار ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کے پاکستانی علاج کے بارے میں مشہور ڈاکٹر نے کیا ناپسند کیا؟ اور کیوں وہ یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی پرواہ نہیں کرتا۔پریشر کے پاکستانی علاج کےپریشر کے پاکستانی علاج کے
جرمن صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ پاکستان میں جو کچھ آپ نے دیکھا اس نے آپ کو چونکا دیا۔ کیا آپ اس پر تبصرہ کرسکتی ہیں؟

میں ابھی یہ کہنا چاہوں گی کہ میرے پاس پاکستان ، پاکستانی کلچر یا اس ملک کے شہریوں کے خلاف کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ لیکن میں نے اس ملک میں ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے طریقہ کار کو بہت زیادہ خوفناک پایا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگوں کی دوائیوں کا بالکل مختلف مقصد ہے، کم از کم کارڈیالوجی کے شعبے میں تو بالکل ایسا ہی ہے۔ہور سنٹر برائے امراض قلب کے سربراہ ہیں۔

دیکھئے کہ ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لئے پاکستان کے ڈاکٹروں نے کیا کیا تجویز کیا  ہے؟ Atenolol ، Metoprolol، Bisoprolol ، Captopril  اور اسی طرح کی دوسری دوائیں!ہور سنٹر برائے امراض قلب کے سربراہ ہیں۔ہور سنٹر برائے امراض قلب کے سربراہ ہیں۔
تاہم ، دوسرے ممالک میں تقریباً ہر ڈاکٹر آپ کو بتائے گا کہ ان دوائیوں سے ہائی بلڈ پریشر کا علاج نہیں کیا جاسکتا۔ آپ بس یہ نہیں کر سکتے۔ یہ دوائیں اخلاقی اور حقیقی طور پر طویل عرصے سے متروک ہوچکی ہیں! آپ صرف اپنے بلڈ پریشر کی سطح کو کم کرسکتے ہیں۔ اور صرف تھوڑے وقت کے لئے۔ جب دوائی ختم ہوجاتی ہے تو ، دباؤ دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ دوائیں باقاعدگی سے لینی پڑتی ہیں۔ہور سنٹر برائے امراض قلب کے سربراہ ہیں۔اور غیر موثر دوائیوں ک
تاہم ، بلڈ پریشر کی سطح میں مسلسل تبدیلیاں بہت نقصان دہ ہیں۔ ہر ڈاکٹر آپ کو یہی بات بتائے گا! خون کی رگیں اور جسم کے اعضاء تباہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر (سر درد ، یاداشت کا مسئلہ ، تولیدی نظام کے مسائل ، نیند کی کمی ، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ) جلد یا بدیر ظاہر ہو جائیں گے۔اور غیر موثر دوائیوں ک

ہائی بلڈ پریشر کے علاج کا یہ طریقہ جرمنی میں 18 سالوں سے استعمال نہیں کیا جارہا ہے۔ بلڈ پریشر کو کم کرنے والی یہ دوائیں صرف انتہائی کم صورتحال میں استعمال کی جاتی ہیں جب پریشر کی سطح کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہو۔

اور غیر موثر دوائیوں ک
آپ سوچ رہے ہو گے کہ یہ فرق کہاں سے آیا ہے؟ میں صرف اس کی وضاحت کرسکتی ہوں کہ پاکستان کے ڈاکٹر ہائی بلڈ پریشر کو قابل علاج مرض بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اصل بات یہ ہے، کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو مستقل طور پر دوائیں بیچنا اور لوگوں کی اصل مدد کرنے کے مقابلے میں پیسہ کمانا زیادہ منافع بخش ہے۔ ایک طویل عرصے سے ہائی بلڈ پریشر ایک دائمی بیماری نہیں ہے!ہور سنٹر برائے امراض قلب کے سربراہ ہیں۔اور غیر موثر دوائیوں ک
آپ تقریبا ہر ہفتے ٹی وی پر فارمیسی والے مافیا کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کرتا ہے۔ ایسا کیوں؟ میرے خیال میں ہر کوئی اس کو سمجھتا ہے۔ پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر رکھنا آسان نہیں! تاہم ، ادویات تیار کرنے والوں کے لئے بہت فائدہ مند ہے!

جرمنی میں ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جرمنی میں تقریبا تمام ہائی بلڈ پریشر کے مریض صحت مند محسوس کرتے ہیں ، اور 72 فیصد سے زیادہ سابقہ ​​ہائی بلڈ پریشر مریض ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ علاج کے اس بالکل مختلف نقطہ نظر کا شکریہ۔ ہائی بلڈ پریشر کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

2000کی دہائی کے اوائل میں سوئس سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ بلڈ پریشر کی سطح کو نہ صرف ٹرائگلیسرائڈز (جو پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر کے علاج کا ایک عارضی نقطہ نظر ہے) کو کم کر کے نارمل کیا جاسکتا ہے، بلکہ خون کی نالیوں کو صاف کرکے بھی۔ یہ عمل جسم میں خون کی تمام نالیوں کو صاف کرتا ہے۔ بڑی اور موٹی شریانوں سےلیکر سب سے چھوٹی پتلی نالیوں تک۔

تاہم ، اس طریقہ کے بارے میں سب سے قابل ایم بات یہ ہے کہ علاج کے دوران ، خون کی نالیوں کا کام معمول پر آ جاتا ہے - ہائی بلڈ پریشر مکمل طور پر غائب ہوجاتا ہے۔ یہ عمل تیز نہیں ہے ، اس میں چھ ماہ یا ایک سال بھی لگ سکتا ہے ، لیکن یہ آپ کو صحت مند رکھے گا۔ صحت مند کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی تمام علامات مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہیں ، اب آپ کو بلڈ پریشرکنٹرول کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی خوف زدہ ہونے کی کہ ہائی بلڈ پریشر جسم کو تباہ کردے گا۔ یہ طریقہ کار آپ کی عمر میں کم از کم 12سے 15 سال کا اضافہ کر دے گا!

جب میں نے پاکستان میں طبی اعدادوشمار دیکھے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح دوسرے نمبر پر ہے؟ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں سے 92٪ کی عمر 61 سال سے زیادہ نہیں ہے!

کیا واقعتا پاکستان میں ایسی کوئی دوا نہیں ہے جو ہمیشہ کے لئے بلڈ پریشر کو نارمل کر سکے؟

ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے پاکستان اور جرمنی میں دوائیں موجود ہیں۔ پاکستان میں ، انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں میرے ساتھیوں نے ایک اچھی اور سستی عروقی دوا Giperium تیار کی ہے۔ در حقیقت ، یہ ہائی بلڈ پریشر کا علاج کرتا ہے اور خون کی وریدوں کو کھولتا ہے۔ تو یہ ہمارے لیے بہت اچھا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر والے بہت سے لوگ یہ دوا لینے کے بعد ٹھیک ہو گئے ہیں۔ یہ مادہ خون کی وریدوں کو دیگر مصنوعات سے 6 گنا زیادہ تیزی سے صاف کرنے کے قابل ہے! یہ بلڈ پریشر کو نارمل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا ، بلڈ پریشر کی سطح کو معمول پر لانا نہ صرف دوا لینے کے فورا بعد ، بلکہ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک دیکھا جاتا ہے۔
کیا ہائپریم پاکستان میں فارمیسیوں میں فروخت ہوتا ہے؟


جہاں تک مجھے معلوم ہے ، Giperium کو پاکستانی فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں داخل کئے جانے کی کوشش کی گئی تھی ، لیکن حکام نے اس کی روک تھام کے لئے درجنوں رکاوٹیں ڈالیں۔ جیسا کہ میں نے کہا ، پاکستان میں کسی کے لئے بھی ہائی بلڈ پریشرکے مریضوں کا علاج کرنا فائدہ مند نہیں ہے۔ کیونکہ فارماسوٹیکل آجکل ایک کاروبار ہے، جرمنی میں بھی یہ کاروبار ہے۔ لیکن ، جرمنی میں ہائی بلڈ پریشر والے شخص کو صحت یاب ہونے کا موقع ملتا ہے ، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے!

یہی تو مسئلہ ہے۔ ایک ہی وقت میں ، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کے امراض قلب کے ماہرین، کم از کم وہ لوگ جو علاج کے جدید طریقوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ، انہیں Giperium کے بارے میں معلوم ہوتا ہے ، اسی طرح یہ بلڈ پریشر کی سطح کو کم کرنے اور معمول پر لانے کے قابل بھی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے آپ پاکستان کو کیا تجویز کریں گی؟

ہور سنٹر برائے امراض قلب کے سربراہ ہیں۔
عام لوگ ، خاص طور پر 47 سال سے زیادہ عمر کے افراد ، بلاشبہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تکلیف برداشت کرتے ہیں۔ تاہم ، ایک اور طریقہ ہے۔ برلن ہارٹ سینٹر فی الحال پاکستان میں تمام ہائی بلڈ پریشر مریضوں کے لئے Giperium میں رعایت کی پیش کش کرتا ہے۔ باہمی تعاون کے نتیجے میں ، ایک خاص ویب سائٹ بنائی گئی اور کارخانہ دار نے دوا کی مطلوبہ مقدار مہیا کی۔ لہذا ، پاکستان کا ہر ہائی بلڈ پریشر والا شخص اب ڈاک کے ذریعے Giperium وصول کرسکتا ہے۔

اور غیر موثر دوائیوں ک
آپ کو اس فارم کے ذریعہ ایک درخواست دینی ہوگی جسے ہم اس ویب سائٹ پر شائع کریں گے ، جو براہ راست برلن سینٹر برائے کارڈیالوجی کو درخواستیں بھیجتی ہے۔ اس کے بعد ایک کنسلٹنٹ آپ کو کال یا رابطہ کرے گا۔ کنسلٹنٹ کو ڈاک کا پتہ فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بعد ، اس شخص کو ڈاک کے ذریعہ پاؤڈر بھیجی جائے گی۔ اس کے مطابق ، تین سے پانچ دن میں آپ کو پوسٹ آفس میں آکر اسے وصول کرنا ہو گا۔

آفر" پاکستان میں 3 ماہ سے فروخت ہورہی ہے۔ پاکستان میں ہزاروں ہائی بلڈ پریشرکے مریض پہلے ہی اس موقع سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ہم نے ہر ایک سے، جو پہلے ہی Giperium، حاصل کرچکا ہے، اس سروے میں حصہ لینے کے لئے کہا - کہ اس پاؤڈر نے ان کی کتنی مدد کی۔ آج تک ، سروے میں 3،300 سے زیادہ افراد حصہ لے چکے ہیں۔

  • دوائی لینے کے 1-2 دن کے اندر بلڈ پریشر معمول پر آ گیا - سروے کے 99٪ لوگوں نے کہا
  • دل کی دھڑکن ایک کورس سے معمول پر آ گئی - 97٪ لوگوں نے کہا
  • کولیسٹرول سے خون کی نالیاں مکمل صاف ہو گئیں - 99٪ لوگوں نے کہا
  • دائمی بیماریوں کے علاج کی تاثیر میں بہتری آ گئی - سروے کے 99٪ لوگوں نے بتایا
  • مجموعی صحت میں بہتری ۔ 100٪ جواب دہندگان کا کہنا تھا
  • اس دوا کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوئے -  100٪ شمولیت کرنے والوں نے بتایا

کب تک رعایت موجود رہے گی؟

آپ کا نام: آپ کا نام: آپ کا نام:
جب تک فراہم کردہ ادویات ختم نہیں ہوجاتیں۔ لیکن میں سب کو متنبہ کرنا چاہتی ہوں کہ گودام میں پہلے  ہی چند پیکیج موجود ہیں۔ یہ پاؤڈر بہت ہی زیادہ منگوائی گئی۔ بلڈ پریشر کو کم کرنے کی روایتی گولیوں کے مقابلے میں جرمن ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو اس کی اعلی افادیت کا تجربہ ہوا ہے۔ اگرچہ پاؤڈر ابھی بھی موجود ہے ، میں تجویز کرتی ہوں کہ تمام ہائی بلڈ پریشر کے مریض اس ویب سائٹ پر اس دوا کے لئے فارم پُر کریں۔ پاؤڈر وصول کرنے کے لئے کسی دستاویزات کی ضرورت نہیں ہے

 یہ آرٹیکل اچھا لگا اس لئے کاپی کر لیا گیا ہے۔ میرا اس کمپنی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

https://smoothlearnerro.ml

Total Pageviews