August 02, 2017

ASIF Zardari Corruption Details

آصف زرداری کی دولت اور اثاثوں کا منی ٹریل؟؟؟
عمران خان کی کرکٹ کی کمائی، بنی گالہ کے اکلوتے گھر اور انتہائی محنت سے بنائے گئے پاکستان کے سب سے بڑے کینسر ہسپتال کا حساب کتاب اور منی ٹریل تو حاصل کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن زرداری کا پیٹ پھاڑنے کا دعوی کرنے والے نواز شریف نے مندرجہ ذیل دولت کا حساب نہیں مانگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں؟؟؟
ڈیلی پاکستان نے اپنی 2005 کی رپورٹ میں لکھا کہ آصف علی زرداری اپنی 1800 ملین ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ پاکستان کی دوسری امیر ترین شخصیت ہیں ۔ اس نے اس وقت بے پناہ دولت حاصل کی جب اسکی بیوی وزیراعظم پاکستان تھیں۔ تاہم کئی ذرائع زرادری کی اس حیثیت سے متفق نہیں اور ان کے مطابق آصف علی زرداری اس سے کئی گنا زیادہ مالدار ہیں ۔ مختلف حوالوں سے انکی دولت کے جو اعداوشمار دستیاب ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔
90ء کی دہائی میں معمر قذافی کے بھٹو کو دئیے گئے بلینک چیک پر خاندان میں جھگڑا ہوا جس میں زرداری نے مبینہ طور پر شاہنواز بھٹو کو قتل کر دیا اور اس چیک کو کیش کر کے سینکڑوں میلن ڈالرز حاصل کیے۔
1998 میں بے نظیر بھٹو کے ایک سوئس اکاؤنٹ کا انکشاف ہوا جس میں اس وقت 8500 ملین ڈالر کی رقم تھی۔ سوئس بینکوں کے اصول کے مطاق وہ رقم اب تک دو بار دگنی ہو چکی ہوگی۔
2007 میں اس نے اپنے سوئس بینک اکاؤنٹس میں کچھ نا معلوم کمپنیوں سے 60 ملین ڈالر کی رقم وصول کی۔
دنیا بھر میں جو بینک اکاؤنٹس ہیں ان میں سے کچھ کے نام اور نمبر مندرجہ ذیل ہیں۔
یونین بینک آف سویزرلینڈ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 552.343, 257.556.60Q, 433.142.60V, 216.393.60T۔
سٹی بینک پرائویٹ لیمٹڈ سویزرلینڈ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 342034۔
سٹی بینک این اے دبئی ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 818097۔
بارکلے بینک سوئس ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 62290209۔
بارکلے بینک سوئس ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔62274400۔
بینک لا ہینن پیرس ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔00101953552۔
بینک ناٹنڈی پیرس ان جنیوا ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 563.726.9۔
بارکلے بینک نائٹ برج برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔90991473۔
بارکلے بینک کنگسٹن اینڈ چیلی برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 20-47-34135۔
نیشنل ویسٹ منسٹر بینک ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 9683230۔
.نیشنل ویسٹ منسٹر بینک بارکنگ برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 28558999۔
ان کے علاوہ مندرجہ ذیل بینکوں میں بھی زرداری صاحب کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔
Habib Bank پال مال برانچ ۔۔۔۔۔
Habib Bank AG, Moorgate, London EC2
National Westminster Bank, Edgware Road, London
Banque Financiei E Dela Citee, Credit Suisse
Habib Bank AG Zurich, Switzerland
Pictet Et Cie, Geneva
Credit Agricole, Paris
Credit Agridolf, Branch 11, Place Brevier, 76440, Forges Les Faux
Credit Agricole, Branch Haute – Normandie, 76230, Boise Chillaum
Swiss Bank Corporation
Chase Manhattan Bank Switzerland
American Express Bank Switzerland
Societe De Banque Swissee
Banque Centrade Ormard Burrus S A
Banque Pache S A
Banque Pictet & Cie
جائداد ۔۔۔۔
آصف زرداری نے لندن میں جائداد اپنے نام پر نہیں رکھی ہے لیکن مختلف آف شور کمپنیوں ، فرموں اور ٹرسٹس کا نام استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل جائیداد خرید رکھی ہے۔
لندن کی سرے کاؤنٹی میں راک وڈ کے علاقے میں 365 ایکڑ یا 2700 کنال پر محیط 20 بیڈ روم کا ایک عالی شان گھر جس کو سرے محل کہا جاتا ہے ۔ اسکی تزئین آرائیش 1996 میں مکمل ہوئی جب بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت ختم ہوا ۔ پہلے وہ 8 سال تک اس جائداد کی ملکیت سے انکار کرتے رہے ۔ اس دوران اس گھر پر کام کے ذمے جو واجبات جمع ہو گئے تھے وہ کسی نے ادا نہیں کیے ۔ تب ان کمپنیوں نے اپنے واجبات کی وصولی کے لیے عدالت کے ذریعے گھر کو نیلام کرنے پر اصرار کیا۔ حکومت پاکستان نے اس گھر کی ملکیت کا دعوی کیا کیونکہ یہ یقین کیا جا رہا تھا کہ یہ محل کرپشن کی رقم سے خریدا گیا ہے ۔ تب آصف زرداری نے اس کی ملکیت تسلیم کی اور یہ کیس 2008 تک جاری رہا۔
اس گھر میں دو فارمز ، ملازمین کے لیے رہائش گاہ ، زیر زمین ایک شراب خانہ اور ایک انڈور سومنگ پول بھی ہے ۔ 1990 کی دہائی میں اس نے کراچی سے بحری جہاز کے ذریعے بے شمار سامان اس گھر کی تزئین و آرائش کے لیے بھیجا تھا ۔ اس گھر کے معاملے میں اس پر بے شمار الزامات لگے ۔ لیلا شہزادہ کی بیٹی نے دعوی کیا کہ آصف زرداری نے سرے محل کی تزئین و آرائیش کے لیے چوری کیا ہوا کروڑوں روپے کا آرٹ خریدا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری کا وہاں پر ایک ہیلی پیڈ ، ایک 9 ھولز کا گولف کلب اور ایک چھوٹا سا پولو گراؤنڈ بھی بنا چکا ہے۔
برطانیہ میں انکی بقیہ جائداد کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔
فلیٹ نمبر 6،11 کوئنز گیٹ ٹیرس لندن ایس ڈبلیو 7
۔26 پیلس مینشنز ، ہیمرز سمتھ روڈ لندن ڈبلیو 14
۔27 پونٹ سٹریٹ لندن ، ایس ڈبلیو 1
۔20 ولٹن کریسنٹ لندن ، ایس ڈبلیو 1
۔ 23 لارڈ چانسلر واک ، کومبی ہل ، کنگسٹن ، سرے
دی مینشن ، وارن لین ، ویسٹ ہیمپسٹڈ ، لندن
کوئنز سٹیج ، ٹیرس لندن میں فلیٹ
ہیمر سمتھ روڈ ، ولٹن کریسنٹ ، کنگسٹن اور ہیمپسٹڈ میں ایک مکان
امریکہ میں آصف علی زرداری کی جائداد کی تفصیل منررجہ ذیل ہے
نیویارک میں مین ہٹن میں واقع بلئیر اپارٹمنٹس آصف زرداری کا ایک پورا فلور ہے جہاں دنیا کے امیر ترین افراد کا ایک ایک فلیٹ ہے۔ ۔ ان اپارٹمنٹس کا شمار دنیا کے دوسرے مہنگے ترین اپارٹمنٹس میں کیا جاتا ہے ۔
ٹیکساس میں ایک بڑا فارم ھاؤس
ویلنگٹن کلب ایسٹ ویسٹ پام بیچ
۔ 12165 ویسٹ فارسٹ ہلز ، فلوریڈا
ایسکیو فارم 13524 انڈیا ماؤنڈ ، ویسٹ پام بیچ
۔3220 سانتا باربرا ڈرائیو ، ویلنگٹن فلوریڈا
۔ 13254 پولو کلب روڈ ، ویسٹ پام بیچ، فلوریڈا
۔3000 نارتھ اوشن ڈرائیو ، سنگر آئسلینڈ ، فلوریڈا
۔ 525 ساؤتھ فلیگر ڈرائیو، ویسٹ پام بیچ فلوریڈا
ھاؤسٹن میں ایک ھالی ڈے ان ھوٹل آصف علی زرداری ، اقبال میمن اور صدرالدین ھشوانی کی مشترکہ ملکیت ہے ۔
بیلجیئم میں آصف علی زرداری کی جائداد کی تفصیل
۔12۔3 بولیورڈ ، ڈی نیپرٹ، 1000 ، برسلز ۔ برسلز میں موجود یہ بلڈنگ 4 دکانوں اور دو بہت بڑے پارٹمنٹس پر مشتمل ہے ۔
چوسی ، ڈی مونس، 1670 ، برسلز
آصف زرداری کی فرانس میں جائداد کی تفصیل
لا مینیور ڈی لا رینی بلانچ اور پراپرٹی کینس میں
فرانس میں نارمنڈے میں انک 16 ویں صدی کی طرز تعمیر کا شاہکار ایک انتہائی مہنگا گھر ہے۔ اپنی ایک مخصوص طرز تعمیر کی وجہ سے فرانس میں اسکا شمار مہنگے ترین گھروں میں ہوتا ہے جسکی قیمت اربوں روپے ہے۔
انکے علاوہ دبئی میں ایک عالیشان گھر اور بہت بڑی کمرشل جائیداد موجود ہے۔
کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں ان کے عالیشان محل نما گھر ہیں جنکو بلاول ہاؤس کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے ایک گھر زرداری ھاؤس کہلاتا ہے۔
ان کے علاوہ پاکستان میں جائداد اور اثاثوں کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
پلاٹ نمبڑ 21 فیز 8 ڈی ایچ اے کراچی
دہدالی وادی تالکا ٹنڈو اللہ یار میں زرعی زمین
ضلع حیدر آباد تالکا ڈہ ٹوکی میں 65.15 ایکڑ کی زمین
نواب شاہ کے تعلقہ ڈہ 76 نصرت میں 827.14 کی ذرعی زمین
نواز شاہ کے اسی علاقے میں 293.18 ایکڑ کی زمین
رہائشی مکان پلاٹ نمبر 3، بلاک نمبر بی 1 ، سٹی سروے نمبر 2268 وارڈ اے نواب شاہ
ھما ھائٹس آصف اپارٹمنٹس 133 ڈپو لائنز کمسرئیت روڈ کراچی
ٹریڈ ٹاؤر بلڈنگ 3 سی ایل وی عبداللہ ہارون روڈ کراچی
ضلع نواب شاہ ڈہ 42 داد تعلقہ میں ذرعی زمین
ضلع نواب شاہ ڈہ 51 داد تعلقہ میں ذرعی زمین
نواب شاہ میں ھاؤسنگ سوسائیٹی لیمٹڈ کے نزدیک پلاٹ نمبر 3 اور 4 رہائشی پلاٹس
کافٹ شیراز سی ایس نمبر 2231-2 اور 2231۔3 نواب شاہ
ضلع نواب شاہ میں ڈہ 23 ڈہ تعلقہ میں زرعی زمین
نصرت تعلقہ ڈہ 72 اے نواب شاہ میں ذرعی زمین
نصرت تعلقہ 76 نواب شاہ میں ذرعی زمین
پلاٹ نمبر اے 136 سروے نمبر 2346 وارڈ اے گورنمنٹ ایمپلائیز کواپریٹیو ھاؤسنگ سوسائٹی لیمٹڈ نواب شاہ
ڈہ جریوں تلقہ ٹنڈو اللہ یار ضلع حیدر آباد میں 6 مقامات پر بہت بڑی ذرعی زمین جسکا کل رقبہ ہزاروں ایکڑ پر محیط ہے۔
ڈہ دغی تعلقہ ٹنڈو محمد خان میں ذرعی زمین
ڈہ رہوکی ،تعلقہ حیدر آباد میں ذرعی زمین
ڈہ چارو تعلقہ بدین میں جائداد
ڈہ دالی وادی تعلقہ حیدر آباد میں ذرعی زمین
پانچ ایکڑ پرائم لینڈ ڈی جی کے ڈی اے نے 1995/96 میں الاٹ کروائی۔
سملی ڈیم کے نزدیک 4000 کنال زمین
ھاکس بے میں 80 ایکڑ زمین
میجر گلداری " کے پی ٹی لینڈ " میں 13 ایکڑ زمین
کلفٹن جی سی آئی میں ایک ایکڑ کا پلاٹ
سٹیٹ لائف انٹرنیشل سنٹر صدر کے قریب ایک ایکڑ زمین
ایف ای بی سی ایس جسکی مالیت 40 لاکھ روپے ہے ۔۔۔۔
کاروبار
آصف زرداری مندرجہ ذیل کارخانوں میں حصہ دار ہیں
سرکنڈ شوگر مل نواب شاہ
انصاری شوگر مل
ملز حیدر آباد
مرزا شوگر مل بدین
پنگوریو شوگر ملز بدین
بچانی شوگر ملز سانگھڑ
پاکستان سے باہر جن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے
۔1۔ بومر فائنینس انک برٹس ورجن آئسلینڈ
۔ 2 ۔ میریز سٹون سیکیورٹی انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 3 ۔ مارلٹن بزنس ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 4 ۔ کیپریکون ٹریڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئدلینڈ
۔ 5 ۔ فیگریٹآ کنسلٹنگ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 6 ۔ مارول ایسوسی ایٹڈ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 7 ۔ پان بری فائنینس لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 8 ۔ آکسٹن ٹریڈنگ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 9 ۔ برن سلن انوسٹ اسی اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 10 ۔ چیمیٹک ھولڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 11۔ یالکنز ھولڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 12 ۔ منسٹر انوسٹ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 13 ۔ سلور نیٹ انوسٹمنٹ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 14 ۔ ٹیکولن انوسٹمنٹ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 15۔ مارلکورڈن انوسٹ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 16 ۔ ڈستن ٹریڈنگ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 17 ۔ ری کنسٹڑکشن اینڈ ڈیولپمنٹ فائنینس انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 18 ۔ناسم الیگزینڈر انک
۔ 19 ۔ ویسٹ منسٹر سیکویریٹز انک
۔ 20 ۔ لیپٹ ورتھ انوسٹمنٹ انک 202 ، سینٹ مارٹن ڈرائیو، ویسٹ جیکسن ویلی
۔ 21 ۔ انٹرا فوڈز انک 3376 ، لومرل گرو ، جیکشن ویلی فلوریڈا
۔ 22 ۔ ڈئنیٹل ٹریڈنگ کو ، فلوریڈا
۔ 23 ۔ اے ایس رئیلیٹی انک ، پام بیچ گارڈنز فلوریڈا
۔ 24 ۔ بون وئیج ٹریول کنسلٹنسی انک ، فلوریڈا
ایک بمبینو سینما سے آصف زرداری نے اتنی ساری دولت کیسے بنا لی؟؟
پاکستان میں منافقت کے شہنشاہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے کچھ دن پہلے آصف زرداری کو نواز شریف سے بڑا چور قرار دیا۔ لیکن اس کے اثاثوں کا منی ٹریل اور حساب کتاب نہیں مانگا۔
ہاں یاد آیا مولانا تو نواز شریف کے علاوہ زرداری کے بھی اتحادی ہیں۔۔  :)
عمران خان کی ایک ملین ڈالر کی دولت کی تفصیلات حاصل کرنے میں وزیراعظم پاکستان نے نہ صرف کروڑوں روپے خرچ کر دیئے بلکہ اپنی پوری کابینہ کے ساتھ ملکر ایک سال کا قیمتی وقت بھی ضائع کیا۔
زرداری کے 26000 ملین ڈالر کیوں نظر انداز کر دئیے؟؟

July 27, 2017

Girls Marriage Delay 7 Reasons in Pakistan



#لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کا بڑھتا ہوا خطرناک رجحان ایک لمحۂ فکریہ ہے.  

آ ج سے تقریباً پندرہ سال پہلے معاشرے کا جو رجحان تھا،اس کے مطابق جس لڑکی کی شادی پچیس سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی،تو ایسی شادی کو بروقت گردانا جاتا۔پچیس کی عمر کا ہندسہ عبور کرنے کا یہ مطلب لیا جاتا کہ لڑکی کے رشتہ میں دیر ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے کا معلوم نہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ دیری کا یہ پیمانہ تین چار سال پہلے تصور کیا جاتا ہو۔
پھر سات آٹھ سال پہلے یہ صورتحال ہوئی کہ تیس سال کی عمر سے پہلے پہلے لڑکی کی شادی بروقت قرار دیے جانے لگی۔
یعنی محض سات آٹھ سال میں پانچ سال کا فرق آگیا۔

اب بھی ایسے معاملات ہیں کہ اکثر گھروں میں لڑکیوں کی عمریں تیس سے چالیس کے درمیان ہوچکی ہیں لیکن رشتہ ندارد۔

یہ رشتہ میں دیری کا رجحان ہمارے معاشرے میں ایسی خاموش دراڑیں ڈال رہا ہے جو معاشرتی ڈھانچے کے زمین بوس ہونے کا پیش خیمہ ہیں۔لیکن حیف کہ اس کاعملی ادراک معاشرے کے چند لوگوں کو بھی نہیں۔

آئیں!اس دیری کی وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
#پہلی وجہ:
لڑکوں کا تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانا اور لڑکیوں کا اس میدان میں آگے نکل جانا ہے،پچھلے کئی سالوں کے بورڈ امتحانات کے نتائج اس بات کے شاہد ہیں،اس کی وجہ سے تعلیم کے لحاظ سے ہم پلہ رشتہ ملنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔شہروں میں کچھ سالوں سے لڑکیوں میں بڑھتے ہوئے پی ایچ ڈی کے رجحان نے اس کو اور مشکل بنا دیا ہے۔

#دوسری وجہ:
اچھی تعلیم حاصل ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کو روزگار کے مواقع نسبتاً آسانی سے مل جاتے ہیں۔
اس کے دو اثرات سامنے آئے ہیں۔ایک:والدین کا ان لڑکیوں پر مالی انحصار کرنا شروع ہوجانا،دو:نوکریوں کے لحاظ سے ہم پلہ رشتے نہ ملنا۔
#تیسری وجہ:
کچھ والدین کا اس معاملہ میں بالکل ہل جل نہ کرنا ہے۔لڑکیوں کی عمریں اٹھائیس اٹھائیس سال ہوجاتی ہیں لیکن انھیں کم عمر ہی تصور کیا جاتا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ اٹھارہ بیس کی عمر میں مائیں رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہوجایا کرتی تھیں۔

#چوتھی وجہ:
جس لڑکی کی عمر تیس سال سے اوپر ہوجاتی ہے اس کے لئے عمر کے لحاظ سے رشتے مشکل ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثر لڑکے والے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔

#پانچویں وجہ:لڑکے والوں کے حد درجہ نخرے ہیں۔اول تو کوئی لڑکی، لڑکے کی ماں بہن کوبھاتی نہیں،فقط کھانے پینے سے لطف اندوز ہونا ہی شایدمقصد ہوتا ہے۔اگر کوئی لڑکی پسند آبھی جائے تو پھر فرمائشوں اور رسوم و رواج کے نام پر لڑکی والوں کا مکمل استحصال کیا جاتا ہے۔ہمارے ایک ایسے دوست ہیں جن کے گھر والوں نے بیاسی جگہ ان کا رشتہ دیکھا،پھر ایک جگہ ہاں کی،کچھ عرصہ بعد وہاں سے رشتہ توڑنے لگے تو ان دوست نے انکار کردیا کہ میں مزید تماشا نہیں دیکھ سکتا۔

#چھٹی وجہ:
شہروں میں ایک عجیب وجہ سامنے آئی ہے؛لڑکی کے والدین لڑکے میں وہ تمام کامیابیاں دیکھنا چاہتے ہیں جو پچاس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہیں۔مکان اپنا ہو،گاڑی پاس ہو،تنخواہ کم از کم اتنی ہووغیرہ وغیرہ۔میں اپنے ایک انجینئر دوست کا رشتہ کروا نے کی کوشش میں تھا؛لڑکا لائق فائق،خوش شکل،نوکری اچھی،لڑکی کی ماں کو بہت پسند تھا،لڑکے والے بھی راضی تھے لیکن اچانک لڑکی کے والدین نے انکار کردیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ لڑکے کے پاس اپنامکان نہیں،وہ کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔اب ایسے رویوں کا کیا کیا جائے؟کیا یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف نہیں؟

#ساتویں وجہ:
خاندانوں کے اندر ایک عجیب و غریب وجہ دیکھنے میں آرہی ہے۔ہر ماں اپنی بیٹی کا رشتہ خاندان میں بخوشی کرنے پر راضی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کا معاملہ آتا ہے تو خاندان کی سب لڑکیوں پر ناک بھوں چڑھا لیا جاتا ہے اور بڑے طمطراق اور فخر سے خاندان سے باہر کی لڑکی لائی جاتی ہے۔

# آٹھویں وجہ سید اور غیر سید کا فرق.  
اس کے علاوہ مزید وجوہات بھی ہونگی۔وجوہات جو بھی ہوں لیکن یاد رہے کہ اس سے ہمارا معاشرتی نظام درہم برہم ہورہا ہے اورہماری نوجوان نسل بروقت شادی نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا کی پھیلائی ہوئی بے حیائی کا بآسانی شکار ہورہی ہے۔اور جو محفوظ ہے وہ اپنے ساتھ ایک خاموش نفسیاتی جنگ کا شکار ہے۔
مغرب تو اس طرز سے اپنے آپ کوبرباد کرچکا اور ان کی آبادی اب ریورس گیئر میں چل رہی ہے لیکن ہم جانتے بوجھتے خود اس گڑھے میں گر رہے ہیں اور وہ بھی ہنستے مسکراتے۔
اور ہم سب اس اجتماعی خرابی اور زوال کے ذمہ دار ہیں۔صد افسوس!کشتی ڈوب رہی ہے اور کشتی کے ملاح اور مسافر بے نیاز۔
ؔحیراں ہوں،دل کو روؤں کہ پِیٹوں جگر کو مَیں

ابھی بھی وقت نکلا نہیں ہے ۔ اس کشتی کو بچایا جا سکتا ہے ۔۔۔ 

سوچئے گا ضرور

Total Pageviews