January 11, 2025

SINDH DELTA & MENGROZ FORSTS

 


دریائے سندھ کا ڈیلٹا اور تیمر، مینگروز کے جنگلات
اکثر کہا جاتا ہے کہ دریا کا خاطر خواہ پانی سمندر میں کیوں ضایع کر دیا جاتا ہے؟ یا پھر یہ پانی سمندر میں چھوڑنا کیوں ضروری ہے؟
اس کا جواب سمجھنے کے لیئے پہلے ڈیلٹا کو سمجھنا ضروری ہے اس کے بعد تیمر، مینگروز کے جنگلات کو۔۔
ڈیلٹا وہ تکونی جگہ ہے جو دریا کے سمندر میں گرنے والے دہانے کے پاس دریا کی سست رفتاری کے باعث بن جاتی ہے وہ زمین جو کہ دریا درمیان میں چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی شاخوں میں بہتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے اس کو یونانی حرف ’’دیلتا‘‘ کی مناسبت سے ڈیلٹا کہا جاتا ہے۔ ہر دریا ڈیلٹا نہیں بناتا جو جھیل سے ہو کر آئیں وہ اپنی لائی ہوئی مٹی اور ریت وہیں ڈال آتے ہیں۔ اس طرح جن دریاؤں کے دہانوں پر آئے دن مدوجزر پیدا ہوتے رہتے ہیں وہ بھی ڈیلٹا نہیں بناتے۔ سست رو دریا جو میدانوں سے اپنے ساتھ مٹی لاتے ہیں وہی ڈیلٹا بناتے ہیں۔ ڈیلٹا کی زمین بڑی زرخیز ہوتی ہے جس پر تیمر اور چمرنگ (مینگروز Mangroves) کے قدرتی جنگلات اگتے ہیں۔ یہ مٹی کے بہاؤ کو روکتے ہیں اس کے علاوہ ان میں سونامی لہروں تک کی مسابقت کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ اگر صرف تیمر، مینگروز اور اس سے متعلق ماحولیاتی نظام کا جائزہ لیا جائے، تو دنیا بھر میں ان جنگلات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور جنہیں ان کی اہمیت کا پتا ہے وہ ان جنگلات کو پھپھڑوں سے تشبیہ دیتے ہیں اور بھلا اپنے پھیپھڑے کون کھونا چاہتا ہے۔
دریائے سندھ، دریائے نیل، اوری نیکو، دریائے ڈینیوب، دریائے والگا، دریائے فرات اور دریائے گنگا ڈیلٹا بناتے ہیں۔
دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر ان قدرتی جنگلات کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ بہت سی آبی حیات اپنی زندگی کا خاصا حصہ ان ہی علاقوں میں گزارتی ہیں۔ ان میں مچھلیاں، کیکڑے اور خول دار جانور ( جھینگا) وغیرہ شامل ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے میں موجود تیمر کے جنگلات سے جو مختلف قسم کی مچھلیاں حاصل کی جاتی ہیں، ان کی مالیت قریباً بیس ملین یا دو کروڑ ڈالر سالانہ ہے۔
انہی علاقوں سے چھوٹا جھینگا بھی خاصی مقدار میں حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی مالیت کا تخمینہ ستر ملین یا سات کروڑ ڈالر ہے جبکہ اس کی برآمدی قیمت اس سے بھی ڈیڑھ گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کیکڑے کی برآمد سے بھی کوئی تیس لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے اور یہ سب علاقائی اقتصادیات کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ جنگلات یہاں کی بیشتر دیہی آبادی کے لیے گھریلو ایندھن کا بھی کام دیتے ہیں اور اندازہ ہے کہ ان سے اٹھارہ ہزار ٹن ایندھن جلانے کی لکڑی حاصل ہوتا ہے ،جس کی مالیت کا اندازہ چار لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر سالانہ ہے ۔ تیمر کی لکڑی کے علاوہ اس کے پتے اور ٹہنیاں بھی گائے بھینسوں او بھیڑ بکریوں کے لیے چارے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں ،اس طرح اگر تیمر سے علاقائی ماحول اور معاشیات کو ہونے والے فوائد کو دیکھا جائے، تو کہا جاسکتا ہے کہ کوئی 67000 ٹن پتیاں اور بیس ہزار ٹن گھاس ( چاول جو گھاس کی شکل میں اگتے ہیں) وغیرہ ہر سال مویشیوں کے چارے کے طور پر حاصل ہوتا ہے اور اس کی مالیت کا اندازہ ساڑھے تیرہ لاکھ ڈالر ہے۔
پاکستان کے ساحلی علاقوں میں جہاں یہ قدرتی جنگلا ت موجود ہیں قریباً بارہ لاکھ افراد آباد ہیں، ان میں سے نوے ہزار افراد صرف دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے میں بستے ہیں۔ اس دیہی آبادی میں سے ایک لاکھ پینتیس ہزار سے زیادہ افراد اپنی ضروریات زندگی تیمر اور ان سے متعلق ذرائع سے حاصل کرتے ہیں۔
جب دریا میں پانی نہیں چھوڑا جائے گا تو اس کا سیدھا نقصان ڈیلٹا کے سوکھنے اور تیمر اور مینگروز کے جنگلات کے خاتمے کی صورت میں ہو گا۔ پاکستان کے ارباب اختیار نے طویل عرصے سے اس مسئلے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔
حال ہی میں ہوئے ایک مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ ان علاقوں میں تیمر کو پہنچنے والے نقصانات سے کوئی ایک لاکھ پینتیس ہزارنفوس کا روزگار متاثر ہوا ہے اور یوں ایندھن، چارہ اور ساحلی اور آبی حیات کے نقصانات کا سالانہ انداز اٹھارہ لاکھ ڈالر کے قریب ہے۔ ان علاقوں سے صرف مچھلی کی برآمدی مالیت ساڑھے بارہ کروڑ ایک سو پچیس ملین ڈالر ہے، جو موجودہ حالات میں ایک بڑا نقصان تصور کیا جاتا ہے۔ انڈس ڈیلٹا میں لاکھوں ایکڑ رقبے پر تیمر کے جنگلات واقع تھے، تا ہم میٹھے پانی کے اخراج میں کمی کا اثر ان پر پڑا ہے اور اندازہ کیا جاتا ہے کہ ان جنگلات کی تعداد میں 50 فی صد سے زائد کمی ہوئی ہے۔
1978ء میں ڈیلٹا کا کل مجموعی رقبہ جو تیمر کے درختوں سے ڈھکا ہوا تھا، وہ دو لاکھ 63 ہزار ہیکٹر تھا، جو 90 کی دہائی کے اختتام تک سمٹ کر صرف ایک لاکھ 58 ہزار 300 مربع ہیکٹرز تک رہ گیا تھا اور اب تک یہ باقی ماندہ رقبہ بھی مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔
1998ء میں سٹیلائٹ کی مدد سے کیے گئے ایک مشاہدے کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ ڈیلٹا کے علاقے میں تیمر کے جنگلات کم ہو کر 4لاکھ ایکڑ رہے گئے ہیں۔ ان میں سے بھی صرف ایک لاکھ 25 ہزار ایکڑ پر واقع درخت بہتر حالت میں تھے جبکہ مزید ایک لاکھ 25ہزار ایکڑ پر مشتمل جنگلات زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 1999ء میں زیر یں سندھ میں آنے والا خوفناک سمندری طوفان صرف تیمر اور مینگروز کے جنگلات کی وجہ سے کراچی تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق تیمر کے یہ جنگلات ڈیلٹا میں رہائش پذیر ایک لاکھ 20 ہزار نفوس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لکڑی اور اینڈھن فراہم کرتے ہیں۔
آبی حیات کی مختلف انواع کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ تیمر کے یہ جنگلات 44 اقسام کی تجارتی سمندری غذا کے لیے نرسری کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اس علاقے میں ٹائیگر، شرمپ، پلہ مچھلی، ڈانگری، اور بڑا منڈی سمیت مختلف انواع، جو پہلے نہایت وافر مقدار میں پائی جاتی تھیں، اب ان کی تعداد دن بد دن کم ہو رہی ہے۔
یہ ہمارا اولین فرض ہے کہ دریا کو خاطر خواہ بہنے دیا جائے اور تیزی سے معدوم ہوتے ہوئے ان قدرتی جنگلات اور انواع و اقسام کے حامل خزانوں کو مزید دست برد ہونے سے بچایا جا سکے تا آنکہ ہم یہ ورثہ اور اثاثہ بلاشبہ آئندہ آنے والی نسلوں کو منتقل کر سکیں

 COPIED FROM FACEBOOK PAGE

Rising Pakistan

THE FOOD BASKET UNDER GREAT HAMILIYAN'S ARE POLLOUTED AREAS OF THE WORLD WHY ?

 


 

 

ہمالیہ کے نیچے اور سطح مرتفع دکن کے شمال میں زرخیز سبز زمین کی پٹی جو کہ ایک ارب سے زیادہ لوگوں کا گھر ہے دنیا کی بدترین ہوا سے بھرچُکی ہے۔ اسے کبھی دُنیا کی فُوڈ باسکٹ کہاجاتا تھا جو اب دُنیا کے لئے بھٹے کی چمنی بن چُکی ہے۔
سال 2024 کی فضائی درجہ بندی کے مطابق دُنیا کے 100 سب سے زیادہ فضائی آلودگی والے شہروں میں سے 84 صرف انڈیا میں ہیں۔
دُنیا کا سب سے زیادہ آلودہ فضا بھارت کی ریاست بہار کے صنعتی شہرBegusarai کی ہے جس کی AQI کی سالانہ اوسط بھی 118.9(مائیکروگرام فی کیوبک میٹر) ہے اور اس شہر میں 30 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔
دُنیا میں سب سے صاف سُتھری فضا والا شہر فِن لینڈ کے دارلحکومت ہیلسنکی سے 500 کلومیٹر شمال میں واقع Kuusamo سٹی ہے جہاں کا AQI صرف 0.3 ہے۔
یہ سروے ایک سوئس ایئر کوالٹی کمپنی IQ Air نے کیا ہے جو دُنیا کے 134ممالک کے 7812 شہروں سے ایئر کوالٹی رپورٹ کرتی ہے۔
دُنیا کے دس سب سے زیادہ آلودہ فضا والے شہروں میں بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی کا 92.7 مائیکرو گرام، پٹنہ 88.2، گوالیار 68.9، اور میرٹھ 78.9 انڈیکس کے ساتھ شامل ہیں جب کہ مزید چھ بنگلہ دیشی اور پاکستانی قصبے ہیں۔
لاہور پانچویں نمبر پر ہے، نئی دہلی سے بالکل اوپر، اور ڈھاکہ 24 ویں نمبر پر ہے -
عام طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شہر وں کی ہوا صنعتی دھویں کی وجہ سے اعلیٰ ترین امیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ دھواں دار ہوتی ہے، لیکن پاکستان-شمالی بھارت-بنگلہ دیش بیلٹ منفرد ہے جو زرعی علاقہ ہونے کے باوجود صنعتی معیشتوں سے زیادہ آلودہ ہے۔
ملاحظہ کیجئے کہ لاگوس اپنی ایئر کوالٹی کو 21.8 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر ہوا پر رکھتا ہے، جو دہلی کی سطح کا پانچواں حصہ ہے۔ میکسیکو سٹی کا 22.3 مائیکروگرام اور استنبول کا 18.7 ہے۔ دیگر میں بنکاک 21.7، قاہرہ ایک گھنے 42.7، شنگھائی 28.7، اور ساؤ پالو 14.3 شامل ہیں۔یہ سب صنعتی معیشتیں ہیں لیکن اپنی فضا کو ہماری زرعی معیشت والے شہروں بھی صاف رکھتے ہیں۔
امریکی شہروں اور قصبوں کی قومی سطح پر ائیر کوالٹی اوسط 9.1 مائیکروگرام، جرمنی کے 9.0 مائیکروگرام اور ارجنٹائن کے 9.2 کے درمیان اور امیر ممالک کی درمیانی رینج میں رہی۔
بڑے امریکی شہر شکاگو کے نسبتاً دھواں دار 13.0 مائیکروگرام والی ہواسے لے کر صحرائی ٹکسن کی 3.8 تک، پورٹو ریکو کے سان جوآن نے 2.7 مائیکروگرام ریڈنگ کے ساتھ اس سال دنیا کے صاف ترین فضائی دارالحکومت کے طور پر IQ Air کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
پنسلوانیا میں کوراپولس نے 19.3 مائیکرو گرام پر بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن بنیادی طور پر بد قسمتی سے کوراپولس براہ راست جون کے کینیڈا کے جنگل کی آگ کے دھویں کے راستے میں تھا، جب کہ اس کی 2022 کی درجہ بندی صرف 7.2 مائیکروگرام تھی۔
یورپ میں، براعظمی فضائی آلودگی کی سب سے زیادہ درجہ بندی مونٹی نیگرو میں پلیولجا کو 40.7 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر پر ہے۔ (یہ کوئلے کی کان اور یوگوسلاو دور کے پاور پلانٹ کے قریب ہے۔)۔
مغربی نصف کرہ کی سب سے اوپر ریڈنگ چلی کے پہاڑی قصبے Coyhaique میں 33.2 مائیکرو گرام ہے۔ اگرچہ یہ امریکی اور "ترقی یافتہ-عالمی شہر" کے معیار کے مطابق پھر بھی دھواں دار ہیں۔



#zafariqbalwattoo

September 06, 2024

BLACK PEPPER PRICE & IMPORTANCE,

 


 کالی مرچ کے نخرے تو دیکھیں۔۔۔ کالی ہے پھر بھی 3800 سو روپے کلو ہے، اگر گوری ہوتی تو۔۔۔ ؟

کالی مرچ وہ مسالا جس کی تلاش میں انڈیا یورپ والوں کے ہاتھ آ گیا تھا۔ کالی مرچ ہمارے پسندیدہ اور مزیدار کھانوں میں اکثر استعمال ہوتی ہے. شاید بعض لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کہاں سے آتی ہے اور کس طرح پیدا ہوتی اور کس طرح تیار کی جاتی ہے؟ لیکن کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس مسالے کی کشش یورپی قوموں کو انڈیا کھینچ لائی تھی اور بالآخر وہ ہمارے حاکم بن بیٹھے تھے؟

آج کل کالی مرچ اکثر گھروں کے باورچی خانوں میں پائی جاتی ہے اور یہ اتنی آسانی سے دستیاب ہے کہ ہم اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ البتہ کسی زمانے میں یہ اتنی قیمتی تھی کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا اور مہمانوں کے لیے تیار کردہ کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال میزبان کی دولت اور طاقت کا بلا انکار ثبوت تسلیم کیا جاتا تھا۔

یورپ میں اس قیمتی اور نایاب مسالے کی ہر کسی کو تلاش تھی۔ لیکن ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کہاں پیدا ہوتا ہے اور اسے کیسے تیار کیا جاتا ہے؟ اس کے متعلق وہاں کئی بے بنیاد کہاوتیں مشہور تھیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ اڑنے والے انتہائی زہریلے سانپ کالی مرچ کے جنگلوں کی رکھوالی کرتے ہیں اور مقامی لوگ جنگلات کو آگ لگا کر ان سانپوں کو عارضی طور پر بھگانے کے بعد اس مسالے کو حاصل کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا رنگ کالا ہوتا ہے اور اس میں آگ کا ذائقہ پایا جاتا ہے۔

کالی مرچ کا مقام پیدائش انڈیا میں کیرلا کے علاقے میں ہے جہاں یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے۔ یہاں کے لوگ ہزاروں سالوں سے ان بیریوں کو چن کر ان سے مسالہ تیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کئی صدیوں تک یورپ میں بیچنے اور اس سے بے شمار دولت کمانے والے صرف عرب تاجر تھے کیونکہ اس علاقے کا راستہ صرف وہی جانتے تھے اور وہ اپنے گاہکوں تک اس راز کو پہنچنے نہیں دے رہے تھے اور اوپر سے اس راز کو محفوظ رکھنے میں یورپی لوگوں کی بے بنیاد کہاوتیں بھی ان تاجروں کے لیے مدد گار ثابت ہو رہی تھیں۔ اس طرح انہیں اس مسالے کی تجارت پر مکمل تسلط حاصل تھا لیکن اس کے ختم ہونے کا وقت زیادہ دور نہیں تھا۔

یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے۔ تین دن کے لیے سبز بیریوں کو دھوپ میں سُکھا کر کالی مرچ تیار جاتی ہے۔
اس مسالے کا یورپ میں استعمال رومن دور میں شروع ہوا تھا البتہ پندرویں صدی عیسوی کے دوران یورپی امیر گھروں کے کھانوں کے علاوہ کالی مرچ کا استعمال 'کالی موت' یا طاعون کے علاج کے لیے بھی شروع ہوگیا جس کے پھیلنے سے وہاں لوگ بڑی تعداد میں مر رہے تھے۔ اس قیمتی مال کی سخت ضرورت اور شدید مانگ کی وجہ سے 8 جولائی 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلا سمندری جہازراں واسکوڈے گاما (Vasco da Gama) کو کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا۔ گاما کا فلاٹیلا مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے سمندری ہواؤں کی مدد سے افریقی ساحلوں کے کٹھن بحری راستے سے مئی 1498 میں انڈیا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس طرح اسے یورپ میں سب سے پہلے انڈیا تک سمندری راستہ تلاش کرنے کا مقام بھی حاصل ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ گاما کے اس کارنامے سے پرتگال کا جیک پاٹ نکل آیا تھا۔

گاما انڈیا پہنچنے سے پہلے یہاں بے دین جنگلی وحشی دیکھنے کی امید لگائے بیٹھا تھا جو بيکار یورپی اشیا کے بدلے اپنا کالا سونا بخوشی اس کے حوالے کر دیں گے۔ جب گاما کیرلا کے شہر Kochi کوچی پہنچا تو اس کے بالکل برعکس لوگوں کو sophisticated اور بہت دولت مند پایا۔ دور دور سے عرب، چینی اور کئی دوسرے تاجر صدیوں سے اس ہر دیسی یا cosmopolitan مرکز پر تجارت کے لیے آ رہے تھے۔ پندرہیویں صدی میں کیرلا کے لیے کالی مرچ وہی مالی مقام رکھتی تھی جو آج کل گلف کی ریاستوں ے لیے تیل رکھتا ہے۔

گاما کے کیرلا میں آنے کے آٹھ سال کے اندر ہی پرتگال نے اس علاقے میں اپنے قدم اچھی طرح سے جما لیے تھے۔ انہوں نے یہاں ایک قلعہ بھی تعمیر کر لیا تھا جہاں انہوں نے انڈیا میں اپنے پہلے وائسرائے کو قیام دیا۔ سولھویں صدی کے آغاز سے پہلے ہی پرتگالی مسالوں کی تجارت میں سب سے آگے نکل چکے تھے اور جو مال وہ تجارت سے حاصل نہیں کر سکتے تھے، اپنی طاقت سے چھین لیتے تھے۔ کالی مرچ کی خاطر پرتگال نے انڈیا کے مسالے والے ساحلی علاقوں کو اپنے محاصرہ میں لے لیا تھا۔

ایک مرتبہ جب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ انڈیا میں کالی مرچ کی تجارت اب ان کے مکمل قابو میں ہے تو انہوں نے اپنی توجہ دوسرے مسالوں کو ڈھونڈنے کی طرف کر دی۔ ان کی تلاش کے لیے اگلا مسالہ دار چینی تھا جو سولھویں صدی کے یورپی امیر لوگوں میں بے حد مقبول تھا۔ یہ کالی مرچ سے بھی زیادہ نایاب تھا اور اس کا منبع بھی ان کے لیے نامعلوم تھا۔

کیرلا کے آس پاس کے سمندر میں عرب تجارتی جہازوں پر مسلسل چھاپوں میں انہیں بار بار ان پر لدے مال میں دار چینی مل رہی تھی اس لیے انہیں شک تھا کہ یہ مسالہ کہیں آس پاس ہی پایا جاتا ہے لیکن کیرلا کے سمندر سے آگے کے علاقے سے وہ بالکل ناواقف تھے۔ 1506 میں پرتگالی ایک عربی جہاز کا پیچھا کرتے ہوئے طوفان میں راستہ بھٹک گئے اور انہوں ایک انجان ساحل پر پناہ لی۔ یہ سری لنکا کا ساحل تھا اور دار چینی یہاں ہی پائی جاتی تھی اور یوں انہیں دار چینی کا منبع بھی مل گیا۔

کالی مرچ اور دار چینی جیسے مسالے دینا بھر میں کھانے کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیوں کے باعث بنے ہیں اور آج بھی مقبول ہیں لیکن ان کی تلاش نہ صرف ہماری تاریخ کا رخ بدلنے کا باعث بنی بلکہ اس نے جدید دینا کی شکل بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان مسالوں کی مدد سے شہنشاہی سلطنتیں بنیں اور ٹوٹیں، ان کی خاطر قوموں کی آزادی چھن گئی اور قتل و غارت میں بے شمار انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

کالی مرچ اور دار چینی دو معمولی سے مسالے اور ایک غیر معمولی ماضی کے مالک ہیں جن کی تلاش سے یورپی لوگوں کے دولت سے خزانے بھر گئے لیکن جن لوگوں نے انہیں اپنی محنت سے بنایا ان کو اور ان کی قوم کو اس کے بدلے میں کیا حاصل ہوا؟

کالی مرچ کے فوائد:
کالی مرچ کے پانچ دانے روز کھائیے اور کمال دیکھیے۔
اعضائے رئیسہ، جگر اور دماغ کو تقویت دیتی ہے دمہ و کھانسی زکام اور بدہضمی میں نہایت مفید ہے,ل۔ کالی مرچ میں غذائی فوائد کے ساتھ ساتھ قدرت نے شفائی خصوصیات بھی رکھی ہیں اپنی شفائی خصوصیات کی بنا پر 70 سے زیادہ داخلی اور خارجی امراض میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔

کالی مرچ ہمارے ملک میں کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں۔ اکثر کھانوں میں اسے لازمی جز قرار دیا جاتا ہے اس کو فلفل اسود یا فِلفل سیاہ بھی کہا جاتا ہے۔ کالی مرچ گرم مسالے کا ایک لازمی جز ہے۔ یہ ریاح کو خارج کرتی ہے، ورم کو گھلاتی اور بلغم کی اصلاح کرتی ہے۔ یہ حافظے اور اعصاب کو بھی تقویت بخشتی ہے۔

اگر اس کا چھلکا اتار دیا جائے تو یہ سفید مرچ بن جاتی ہے. چھلکا اتارنے کے لیے کالی مرچ کو پانی میں بھگو کر رکھتے ہیں جب چھلکا نرم ہو جاتا ہے تو کپڑے سے رگڑ کر چھلکا اتار دیتے ہیں۔ تقریباً تمام بادی کھانوں مثلاً کچی سبزیوں ، ککڑی ، کھیرا وغیرہ میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا بہت زیادہ استعمال صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس کے زیادہ استعمال سے معدے کا السر ہو سکتا ہے۔

یہ غذ ا کو بخوبی ہضم کر دیتی ہے اور کھانے میں بے حد لذیذ ہوتی ہے اس کے علاوہ پیٹ کے درد اور بھوک نہ لگنے کی شکایت کے لیے بے حد مفید شے ہے۔ قوت بصارت میں اضافے کے لیے گھی اور شکر کے ساتھ کھلایا جاتا ہے۔ کالی مرچ 150 گرام ، شکر 30 گرام تک میں چمکنی (ایک بوٹی) پیس کر شامل کر لی جائے، پانچ گرام سفوف ایک کپ میٹھے دودھ کے ساتھ صبح نہار منہ کھا لیا جائے اور ایک گھنٹے تک پانی نہ پیا جائے۔ کالی مرچ کا یہ مرکب نہ صرف دماغی امراض بلکہ دوسری سرد بیماریوں میں بھی فائدہ دیتا ہے۔

کھانسی، دمہ اور سینے کے درد کے لیے نصف گرام کالی مرچ کا سفوف شہد کے ساتھ شامل کر کے چاٹنا مفید ہے۔ معدے کی تقویت ، ضعف ہضم اور بھوک کی کمی دور کرنے کے لیے کالی مرچ،  ہینگ اور سونٹھ ہم وزن لے کر چنے کے برابر گولیاں بنا لی جائیں۔ ایک ایک گولی تینوں وقت کھانے کے بعد استعمال کی جائے۔ گلا بیٹھنے کی صورت میں گیارہ کالی مرچیں بتاشے میں رکھ کر چبائی جائیں۔

لقوے کے مرض میں کوئی بھی دوا کالی مرچ سے زیادہ مفید نہیں سمجھی جاتی۔ کالی مرچوں کو باریک پیس کر کسی روغن میں ملا کر ماؤف مقام پر لیپ کیا جائے۔ جن مرکبات میں کالی مرچ شامل ہوتی ہے ان کے استعمال سے بھوک میں اضافہ ہوتا ہے چنانچہ جوارش کمونی جو طب یونانی کا مشہور مرکب ہے اس میں کالی مرچ شامل کی جاتی ہے چنانچہ اس کے کھانے سے بھوک بڑھ جاتی ہے اور کھانا ہضم ہو جاتا ہے۔

کالی مرچ کھانے والا خراب سے خراب آب و ہوا میں بھی بیمار نہیں ہوتا۔ اطباء کا کہنا ہے کہ کالی مرچ روزانہ کھانے کا طریقہ یوں ہے کہ طلوع آفتاب سے پہلے یا سورج طلوع ہونے تک کالی مرچ کے دانے چبائے جب اچھی طرح دانتوں میں باریک ہوجائیں تو بعد میں دودھ یا چائے پی لے یا انڈا کھالے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی عمر کے حساب سے اس کو استعمال کرے۔

بچے کو روزانہ ایک دانہ دیں جبکہ بڑے روزانہ پانچ دانے چبا کر اور چوس کر کھائیں۔ کالی مرچ کے سونگھنے (نسوار کی شکل) سے درد شقیقہ کو بے حد فائدہ ہوتا ہے۔ شہد میں ملا کر کھانا باعث مقوی باہ ہے۔ سینے کا درد دور کرنے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کرنے کے لیے شہد میں ملا کر چاٹنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
اس میں فولاد اور وٹامن بی اور ای شامل ہوتے ہیں۔ کالی مرچ کے استعمال سے بند پیشاب کھل جاتا ہے۔

نوٹ: درد گردہ کی بیماری میں مبتلا مریضوں کو کالی مرچ کا استعمال مناسب نہیں، گرم مزاج والے لوگ کم سے کم استعمال کریں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانے میں ڈالنے سے ہٹ کر بھی یہ کتنی فائدہ مند ہے؟ جی ہاں مختلف امراض کے ساتھ ساتھ یہ بہت کچھ ایسا کرتی ہے جو آپ کو حیران کردے گا۔

پیٹ کے مسائل دور کرے:
غذا میں کالی مرچ کا زیادہ استعمال معدے کے لیے بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہ کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ یہ معدے کے ایسے تیزاب کو بھی حرکت میں لاتی ہے جس سے کھانے جلد ہضم ہوتا ہے اور قبض ختم ہوجاتا ہے۔

گیلی کھانسی سے آرام:
گیلی کھانسی پر قابو پانا چاہتے ہیں تو کالی مرچ کو شہد کے ساتھ چائے میں استعمال کریں۔ کالی مرچ بلغم کو حرکت میں لائے گی جبکہ شہد کھانسی سے آرام دلانے والی قدرتی چیز ہے۔ ایک چائے کا چمچ پسی ہوئی کالی مرچ اور دو چائے کے چمچ ایک کپ میں ڈالیں، اس کے بعد اسے ابلتے ہوئے پانی سے بھردیں اور پندرہ منٹ بعد ہلا کر پی لیں۔ ایک اور گھریلو ٹوٹکا یہ ہے کہ لیموں کی قاش پر کالی مرچ چھڑکیں اور اس قاش کو جتنا ہوسکے چوسیں تاکہ کھانسی سے فوری ریلیف مل سکے۔

کپڑوں کے رنگ مدھم نہ ہونے دے:
دھونے سے آپ کی پسندیدہ شوخ رنگ کپڑوں کا رنگ مدھم ہوگیا ہے؟ اگر ہاں تو اگلی بار دھوتے ہوئے ایک چائے کا چمچ کالی مرچیں واشنگ مشین میں ڈالے گئے کپڑوں پر چھڑک دیں، جس کے بعد مشین کو چلائیں۔ یہ رنگوں کو برقرار رکھے گی۔

تمباکو نوشی ترک کریں:
ایک تحقیق کے مطابق نکوٹین استعمال کرنے والے کالی مرچ کے تیل کی مہک کو سونگھتے ہیں تو تمباکو نوشی کے لیے ان کی خواہش میں کمی آتی ہے۔ ایسے کرنے سے لوگوں کے گلے میں ایک جلن سی پیدا ہوتی ہے جو کہ کچھ ایسا لطف پہنچاتی ہے جیسے سگریٹ پیتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔

تھکے ہوئے مسلز کو آرام پہنچائیں:
ورزش کے بعد عدم اطمینان محسوس ہورہا ہے؟ تنے ہوئے مسلز کو ڈھیلا کرنے کے لیے سیاہ مرچ کے تیل سے مالش کریں، یہ ایک گرم تیل مانا جاتا ہے جو اس جگہ خون کی گردش اور حرارت بڑھا دیتا ہے جہاں اسے لگایا جائے۔ دو قطرے سیاہ مرچ کے تیل کو چار قطرے روز میری آئل میں ملائیں اور پھر اسے براہ راست جہاں لگانا ہو لگالیں۔

جلدی نگہداشت کے لیے فائدہ مند:
کالی مرچ جراثیم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو شفاف جلد کے حصول میں مدد دیتی ہے۔ یہ مرچ خون کی گردش کو قدرتی طور پر بڑھا دیتی ہے اور اپنی حرارت سے جلد میں مساموں کو کھول کر ان کی صفائی کرتی ہے۔

کالی مرچ کا پودا آپ گھر میں گملے یا زمین میں بھی لگا سکتے ہیں اور اس کے بے شمار فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن خیال رکھنا نرسری والے آپ کو غلط پودا نہ پکڑا دیں۔ جسے وہ کالی مرچ کہتے ہیں وہ اصلی نہیں بلکہ سجاوٹی پودا ہے جس کے پتوں سے کالی مرچ کی خوشبو آتی ہے۔

مفاد عامہ کے لیے پیش کیا گیا۔۔۔ اپنے معالج سے مشاورت ضرور کریں.۔
CnC. #MQS

AFRICAN COUNTRIES PASPORT MOST POWERFUL , as Compare to PAKISTAN

 


 یہ اس افریقہ کے پاسپورٹ ہیں  جنہیں ہمارے ہاں تحقیر کے لیے لکھا بولا جاتا ہے. یوگنڈا کا نام تو اکثر لوگ منفی معنوں میں استعمال کرتے ہیں.... اس کا پاسپورٹ، امن، معیشت آپ سے بہتر ہے. باقی ممالک بھی دیکھ لیں.
Seychelles and Mauritius
 کے پاسپورٹس پر آپ 150 ممالک میں بغیر کسی ویزے کے جا سکتے ہیں جن میں شینجن ممالک بھی شامل ہیں. ہمارا سارا رجحان، کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا، یوکے کی طرف ہے.یہ شاید پاکستان کی تاریخ کی پہلی پوسٹ ہے جو آپ کو نئی راہیں دکھائے گی ۔

کاروبار کے لیے بر اعظم افریقہ اس وقت بہترین آپشن ہے. پاکستان چیزوں کی یہاں بہت مانگ ہے. سابقہ حکومت کی Look Africa پالیسی کی بدولت ہماری کافی پروڈکٹس یہاں جگہ بنا چکی ہیں.اس وقت زیمبیا،موریطانیہ ،ملاوی میں آپ فورا کاروبار  شروع کر سکتے ہیں۔اپنی سوچ بدلیں۔نئے ملکوں میں جائیں اور جلد ازجلد کروڑ پتی ہوں۔فیملی سیٹلمنٹ کے لیے بھی یہ بہترین ممالک ہیں۔اکثر افریقی ممالک میں  5 سال بعد پاسپورٹ کے لیے اپالئ کیا جا سکتا ہے۔ان ممالک سے امریکہ ۔کینیڈا کا ویزہ فوری طور پر ملتا ہے کیونکہ ان ممالک میں  ایمبیسیوں میں  رش نہیں ہے اور آپ کا سیٹس بزنس مین کا ہوتا ہے۔اور آپکو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بزنس مین کو ویزہ ملنے میں کم مسائل کا سامنا ہوتا ہے

#ریحان_باقر

#ریحانیات


Top 10 Most powerful African Passports

1: Seychelles🇸🇨
Seychelles passport is Visa Free to 152 Countries/places.

2: Botswana 🇧🇼
Botswana's passport is Visa Free to 86 Countries/places.

3: Namibia 🇳🇦
Namibia's passport is Visa Free to 78 Countries/places.

4:Lesotho 🇱🇸
Lesotho's Passport is Visa Free to  77 Countries/places.

5:Malawi 🇲🇼
Malawi's Passport is Visa Free to 73 Countries/Places.

6:Kenya 🇰🇪 & Tanzania 🇹🇿
Both Kenya's and Tanzania's passport are Visa Free to 72 Countries/Places.

7:Tunisia 🇹🇳 & Zambia 🇿🇲
Both Tunisia's & Zambia's passports are Visa Free to 71 Countries/Places.

8:The Gambia 🇬🇲
The Gambia's Passport is Visa Free to 68 Countries/Places.

9:Uganda 🇺🇬
Uganda's passport is Visa Free to 67 Countries/Places.

10:Cape Verde 🇨🇻
Cape Verde's Passport is Visa Free to 66 Countries/places.
 #stubborn_soul_01 #



August 25, 2024

Basil Seeds (تخم ملنگا کی کاشت اور فائدہ )

تخم ملنگا :-
اسلام علیکم
جیسا کہ ہر فارمر چاہتا ہے کہ اسکا خرچ کم محنت کم اور فصل منافع بخش ہو تو دوستو آج ہم ایسی ہی اک فصل کی بات کرتے ہیں جسکا خرچ آٹے میں نمک کے برابر ہے اور دام سونے کے ۔ دوسرے لفظوں میں آپ اسے بلیک گولڈ بھی کہہ سکتے ہیں
دوستو تخم ملنگا کی فصل پروفٹ ایبل فصل ہے جسکا خرچ بہت کم اور آمدن زیادہ ہے
آج کل مہنگائی کا دور ہے اور عموماً چھوٹے کاشتکار کے پاس فصل کو مکمل تیار کرنے کےلئے سرمایہ کی کمی ہوتی ہے کھاد پہلے تو ملتی نہیں اگر مل بھی جائے تو بلیک میں ڈبل دام پہ لینا پڑتی ہے ہمارے اکثر علاقوں میں نہری پانی نہیں ہے اگر ہے بھی تو پورا رقبہ سیراب نہیں ہو پاتا اور ہمیں ٹیوب ویل وغیرہ پہ انحصار کرنا پڑتا ہے جہاں ہزار روپے فی گھنٹہ ریٹ ملتا ہے ان سب اخراجات کے علاؤہ رسٹ سمٹ جیسی بیماری کسان کی تیار فصل چھین لیتی ہے اگر بچ بھی جائے تو گورنمنٹ فصل کا وہ ریٹ نہیں دیتی جو کسان کا حق ہے
میری تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ گندم کاشت نہ کی جائے گندم کاشت کریں ضرور کریں کیونکہ گندم کے بغیر ہمارہ گزارا نہیں ہے لیکن میرا ہر اس چھوٹے فارمر کو یہ مشورہ ہے کہ اپنی ضرورت کی گندم کاشت کر کے آپ باقی زمین پر تخم ملنگا کاشت کریں تاکہ آپ کا خرچ بھی بچے اور پرافٹ بھی ہو تاکہ آپ کا معاشی بیک اپ آپ کو سپورٹ کرے آپ اپنی زندگی گزار سکیں آئیے اسکے خرچ کا جائزہ لیتے ہیں:-
خرچ ###
زمین کی تیاری=14000
سیڈ تخم ملنگا=12000
پانی۔              =3000
جڑی بوٹی سپرے=1800
لیبر کٹائی=8000
تھریشر=11500
ٹوٹل خرچ=50300
ایوریج تخم ملنگا* ایوریج ریٹ 8سے10من*30سے 50 ہزار فی من
تھریشر کٹ توڑی=8000
ٹوٹل آمدن=
یہ تمام تر ڈیٹیل ایک ایکڑ کی کاشت پر آج کے اخراجات کو مدنظر رکھ کر بتائی گئی ہے باقی مختلف علاقوں میں اس میں کچھ فرق ہو سکتا ہے
اب آتے ہیں اسکی کاشت کی طرف تاکہ جو دوست اسکی کاشت سے واقف نہیں انکو انکے سوالات کے جوابات مل سکیں
1-تخم ملنگا کی کاشت کے لیے تمام تر زمینیں جنکا نظام نقاسی بہتر ہے موزوں ہیں سوائے شورزدہ اور برفانی اور بارشی علاقے۔
2-زمین کی تیاری عام گندم،لوسن اور برسین وغیرہ کی فصل کی کاشت کی طرح ہوتی ہے خشک زمین تیار کر کے پانی لگائیں آبپاشی اچھی کریں کیونکہ کہ یہ پہلی اور آخری آبپاشی ہے اسکے بعد کوئی آبپاشی نہیں کرنی پڑتی البتہ ریتلی زمین کی اک آبپاشی ہو سکتی ہے فصل کی ضرورت کو دیکھ کر. جب زمین مکمل پانی جذب کر لے تو 6کلو سیڈ فی ایکڑ چھٹہ کر دیں زمین کی وٹیں مضبوط بنائیں تاکہ کھیت میں پانی داخل نہ ہو۔
ایسی زمین میں کاشت نہ کریں جس میں چوڑے پتے والی جڑی بوٹی زیادہ ہوتی ہو کیونکہ چوڑے پتے کی جڑی بوٹی کا سپرے نہیں کیا جاسکتا.
3.جب فصل 40 دن کی یا 2 انچ کی ہو جائے تو نیا سویرا کا ایکسل سپرے کریں۔
4۔ ایسی زمین جو بہت زیادہ کمزور ہو اس میں اگر دوسری آبپاشی کرنا مناسب ہو یا بارش ہو جائے تو20کلو یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرسکتے ہیں یاد رہے میرا اور زرخیز زمین کو بلا وجہ کھاد اور آبپاشی کی ضرورت نہیں ہوتی یا اسکا آپ فصل کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بعض اوقات نقصان ہو رہا ہوتا ہے.
4۔ جب فصل 110 دن کی ہو جائے یا خشک ہونے لگے تو کٹائی کرا لیں خشک کرکے تھریشر کرا لیں۔
کٹائی یکمشت نہیں ہوتی جو جو حصے تیار ہوتے جائیں کٹائی کراتے جائیں ۔
5۔سیڈ کی مقدار طریقہ کاشت کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے لیکن یہ طریقہ کاشت کم خرچ اور زیادہ پیداوار دینے والا ہے ہم نے تین طریقے اختیار کیے لیکن سب سے زیادہ بہتر یہ طریقہ رہا یہ تمام تر معلومات میری اپنی کاشت اور اپنے تجربات کی بنیاد پر دی گئی ہے باقی مختلف علاقوں میں مختلف دوستوں کا مختلف تجربہ ہو سکتا ہے
نوٹ:- تخم ملنگا کی کاشت اکتوبر سے شروع ہو جائے گی  
بیسک سیڈ منگوانےکسی بھی معلومات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں شکریہ
03075592298  
 محمد آصف اعوان 


Total Pageviews