Showing posts with label INDIA. Show all posts
Showing posts with label INDIA. Show all posts

May 14, 2025

PM Modi Barking after false flag operation in Pakistan's reply

 انڈین پرائم منسٹر نریندر مودی نے بہار میں الیکشن جیتنے کے لئے پہلگام میں  حملہ کروایا اور اس کا الزام سیدھا پاکستان پر لگا دیا۔ پاکستانی حکام نے  جوائنٹ انوسٹیگیشن کی آفر کی جو بھارت نے مسترد کر دی، اور پاکستان نے کہا کہ اس حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کروائی جائے۔ مگر بھارتی حکومت طاقت کے زعم میں پاکستان کا موقف مسترد کردیا۔ اور پاکستان نے کئی علاقوں میں میزائل فائر کیے۔ اور بے تحاشہ ڈرونز  فائر کئے۔

اس کا جواب دینے سے پہلے پاکستان نے تمام دُنیا کو انڈیا کے خطرناک ارادوں سے آگاہ کیا۔ اور کوشش کی کہ یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو جائے مگر بھارت کی ہٹ دھرمی  آڑے آ گئی۔ اور پاکستان کو کچلنے کے در پے ہو گئے۔ پاکستان نے انڈیا کی مسلسل  دھمکیوں اور بارڈر پر فائرنگ سے باز نہ آنے کے بعد  عالمی دُنیا کو  اپنا بدلہ لینے سے آگاہ کر دیا۔ امریکہ انڈیا کو ایشیاء کا بڑا مدمعاش بنانا چاہتا ہے۔ وہ بھی یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گیا کہ انڈیا پاکستان کا ہزار سالہ پرانی لڑائی ہے یہ دونوں خود ذمہ دار ہیں۔ اور انڈیا کو شہہ دی کہ پاکستان کو سبق سکھائے۔

 لیکن پاکستان نے انڈیا کو سبق سکھا دیا۔ بھارت کا فخر  رافیل جنگی جہاز مار  گرائے۔ اور بھارت کے چھبیس شہروں کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

جب امریکہ کو سمجھ آ گئی کہ میرا بدمعاش کو مار کھا رہا ہے تو فوراً  سیز فائر کروانے آ گیا۔  

اپنی ہٹ دھرمی اور پاکستانی دشمنی میں انڈیا اس خطے کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ملک نیو کلئیر پاور ہیں۔ ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنا بنتا ہے۔ 

بھارتی پرائم منسٹر کی مضحکہ خیز حرکتوں اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت مزید کو پنگا لے سکتا ہے۔ پاکستانی قوم اور فوج  اسے تیار ملیں گے۔ 

 

 


آدم پور (جالندھر) [بھارت]، 13 مئی (اے این آئی): وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ ہندوستانی مسلح افواج نے آپریشن سندھ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے پر اپنے درست حملوں سے تاریخ رقم کی ہے اور اسلام آباد کی "ایٹمی بلیک میلنگ" کو منہدم کر دیا ہے۔

 

ائیر فورس اسٹیشن آدم پور میں فضائی جنگجوؤں اور سپاہیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ جب ہندوستان کے میزائل ہدف تک پہنچتے ہیں تو دشمن 'بھارت ماتا کی جے' سنتا ہے۔

 

پی ایم مودی کا آدم پور ایئربیس کا دورہ قوم سے ان کے خطاب کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان "کسی بھی جوہری بلیک میلنگ کو برداشت نہیں کرے گا" اور "جوہری بلیک میلنگ کی آڑ میں تیار ہونے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ٹھیک اور فیصلہ کن حملہ کرے گا"۔

 

ہفتہ کو پاکستانی ڈی جی ایم او کی طرف سے اپنے ہندوستانی ہم منصب کو کی گئی کال کے بعد ہندوستان اور پاکستان نے فائرنگ اور فوجی کارروائی کو روکنے پر اتفاق کیا ہے۔

 

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں آپریشن سندھور کے تحت ہندوستان کے درست حملوں کے بعد جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، پاکستانی افواج نے فوجی جارحیت کا سہارا لیا جسے ہندوستانی مسلح افواج نے مؤثر طریقے سے پسپا کیا جس نے پاکستان کے فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں آپریشن سندھور کے تحت ہندوستان کے درست حملوں کے بعد جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، پاکستانی افواج نے فوجی جارحیت کا سہارا لیا جسے ہندوستانی مسلح افواج نے مؤثر طریقے سے پسپا کیا جس نے پاکستان کے فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔

 

"جب ہمارے ڈرون دشمن کے قلعے کی دیواروں کو تباہ کرتے ہیں، جب ہمارے میزائل گھن گرج کے ساتھ ہدف تک پہنچتے ہیں تو دشمن کو 'بھارت ماتا کی جئے' سنائی دیتی ہے۔ جب ہم رات کو بھی سورج روشن کرتے ہیں تو دشمن 'بھارت ماتا کی جئے' دیکھتا ہے۔ جب ہماری فوجیں جوہری بلیک میلنگ کے خطرے کو اڑا دیتی ہیں، تب صرف ایک ہی بات کی آواز آتی ہے کہ 'متا کی جئے'۔ انہوں نے لاکھوں ہندوستانیوں کو فخر کیا ہے، ہر ہندوستانی کی ماں کو فخر کیا ہے، آپ نے تاریخ رقم کی ہے، اور میں آج صبح آپ کو دیکھنے آیا ہوں،‘‘ انہوں نے کہا۔

 

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ ہر اس شہری کی آواز ہے جو ملک کے لیے جینا اور ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔

"'بھارت ماتا کی جئے' میدان میں بھی گونجتی ہے اور مشن میں بھی۔ جب بھارت کے سینک ماں ہندوستانی بولتے ہیں تو دشمن کے کلیجے کانپ جاتے ہیں..." وہ کہتے ہیں "بھارت ماتا کی جئے ہر اس سپاہی کا عزم ہے جو اس کی آواز کو ملک کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ ملک اور ملک کے لیے کچھ کریں،‘‘ انہوں نے کہا۔

 

وزیراعظم نے آپریشن سندھ کے بعد پاکستانی جارحیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہوں نے آدم پور ایئربیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

 

انہوں نے کہا کہ "آپریشن سندھور سے پریشان، دشمن نے اس ائیر بیس اور ہمارے کئی دیگر ائیر بیسوں پر متعدد بار حملہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہمیں بار بار نشانہ بنایا لیکن پاکستان کے مذموم عزائم ہر بار ناکام ہوئے۔"

 

انہوں نے مزید کہا کہ "میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ سب نے کمال کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچ گئے۔ پاکستان میں صرف دہشت گردوں کے کیمپوں اور ان کے فضائی اڈوں کو ہی تباہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کے مذموم عزائم اور جرات کو بھی شکست دی گئی۔" (اے این آئی)

 

فراہم کردہ بذریعہ SyndiGate Media Inc.

  


Adampur (Jalandhar) [India], May 13 (ANI): Prime Minister Narendra Modi on Tuesday said that Indian Armed Forces have created history by their precision strikes on terror infrastructure in Pakistan and Pakistan Occupied Jammu and Kashmir under Operation Sindoor and had demolished Islamabad's "nuclear blackmail".

Interacting with air warriors and soldiers at Air Force Station Adampur, PM Modi said when India's missiles reach the target, the enemy hears 'Bharat Mata Ki Jai'.

PM Modi's visit to Adampur airbase came a day after his address to the nation in which he had said that India "will not tolerate any nuclear blackmail" and "will strike precisely and decisively at the terrorist hideouts developing under the cover of nuclear blackmail".

India and Pakistan have reached an understanding on stopping firing and military action following a call made by the Pakistani DGMO to his Indian counterpart on Saturday.

After India's precision strikes under Operation Sindoor in response to Pahalgam terror attack in which 26 people were killed, Pakistan forces resorted to military aggression which was effectively repelled by the Indian Armed Forces who also pounded Pakistan airbases.

"When our drones destroy the walls of the enemy's fort, when our missiles reach the target with a whizzing sound, the enemy hears 'Bharat Mata Ki Jai'. When we light up the sun even at night, the enemy sees 'Bharat Mata Ki Jai'. When our armies blow away the threat of nuclear blackmail, then only one thing resonates from the sky- 'Bharat Mata Ki Jai'. All of you have made millions of Indians proud, have made every Indian's mother proud, you have created history, and I have come among you this morning to see you," he said.

PM Modi said that "Bharat Mata ki Jai" is the voice of every citizen who wants to live for the country and do something for the country

"'Bharat Mata ki Jai' maidaan mein bhi goonjti hai aur mission mein bhi. Jab Bharat ke sainik Maa Bharati bolte hai toh dushman ke kaleje kaanp jaate hai..." He says "Bharat Mata ki Jai is the resolve of every soldier who is ready to sacrifice their lives for the country. It is the voice of every citizen who wants to live for the country and do something for the country," he said.

The Prime Minister referred to Pakistani aggression after Operation Sindoor and said they tried to attack Adampur airbase.

"Rattled with Operation Sindoor, the enemy tried to attack this air base and several of our other air bases multiple times. They targeted us again and again but the nefarious designs of Pakistan failed each time," he said.

"I can proudly say that all of you reached your target with perfection. In Pakistan, it was not just the terrorist camps and their air bases that were destroyed, but their nefarious designs and audacity were also defeated," he added. (ANI)

Provided by SyndiGate Media Inc. (

Syndigate.info

 

 


September 26, 2019

INDIAN OCCUPIED KASHMIR CURFEW, PEOPLES ARE DYEING WITH HUNGER AND ILLNESS



انا للہ و انا الیہ راجعون........
میرے دو سال کے چھوٹے بھائی، بیس سال کے جوان بھائی، سترہ سال کی چھوٹی بہن اور والدین کی شہادت ہو گئی ہے.
ہمیں ہمارے ہی گھر میں دو مہینے سے قید کیا گیا ہے.
نہ کھانے کو اناج ہے نا پینے کے لیے پانی.
میرا دو سال کا چھوٹا بھائی جو ایک گھنٹہ بھوک برداشت نہیں کر سکتا وہ پندرہ دن بھوک پیاس جھیلنے کے بعد شہید ہو گیا.
اپنے ہاتھوں سے گھر میں قبر کھود کر اسے دفنایا ہے کیونکہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے.
چھوٹے بھائی کے غم میں میری سترہ سالہ بہن بیمار پڑ گئی اور بستر سے لگ گئی. جوان بھائی اپنے بھوکے پیاسے وجود کو لے کر گھر سے نکلا چھپتے چھپاتے کے کہیں سے دوا اور کھانے کا کچھ انتظام کر سکے. میں ابھی دروازے پر اسے رخصت کر کے دروازہ بند کر کے پلٹی ہی تھی کہ فائرنگ کی آواز آئی.
کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھول کر جھانکی تو میرے جوان بھائی کی لاش دکھی.
کئی گھنٹہ وہ لاش یوں ہی میرے گھر کے سامنے سڑک پر پڑی رہی. پھر رات کے اندھیرے میں میں اپنے نازوں پلے بھائی کے پیروں کو گھسیٹ کر اپنے گھر میں لے کر آئی. اور اسے بھی اپنے چھوٹے بھائی کے پاس دفن کیا.
کئی دن کی بھوک پیاس اور پھر اس مشقت نے مجھے نڈھال کر دیا تھا.
مجھ میں رونے کی طاقت بھی نہیں بچی تھی.
میرے جوان بھائی کی لاش دفناتے ہوئے میرے بیمار والدین مجھے دیکھ رہے تھے. وہ اٹھ کر اپنے بیٹے کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے تھے کیوں کہ بھوک پیاس نے نڈھال کر رکھا ہے.
کچھ دن اور گزرے.
دو لاشوں کا اور اضافہ ہو گیا.
والدین کے بڑھاپے اور اولاد کی شہادت اور بھوک پیاس نے انہیں بھی زیر زمین پہنچا دیا ہے.
اب سترہ سال کی بہن اور میں بچے ہیں.
میری بہن سرگوشی میں مجھ سے پوچھی کہ ہمارے غیرت مند بھائی آ رہے ہیں نا آپا؟؟
میرے دو بھائی تو شہید ہو گئے مگر کروڑوں بھائی تو زندہ ہیں نا؟؟؟
میرا ایک بھائی میری بیماری اور بھوک کو برداشت نہیں کر سکا تھا اور میرے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نکل پڑا تھا. وہ نہیں لا سکا تو کیا ہوا باقی بھائی دیکھنا ضرور لائیں گے کچھ نہ کچھ.پھر بیہوش ہو گئی وہ.
کئی گھنٹے بعد اچانک مجھے سرگوشی سنایی دی کہ آپا دیکھو میرے بہت سارے بھائی آ رہے ہیں. مگر میں اسے جواب نہیں دے سکتی تھی. میں بھی تو بھوکی پیاسی ہوں نا. میں اسے کیسے بتاؤں کہ اسے سراب نظر آ رہا ہے؟؟؟
اسے کیسے بتاؤں کہ کوئی نہیں آ رہا ہے؟؟؟؟


کچھ گھنٹوں بعد اچانک وہ جس کی آواز نہیں نکل رہی تھی چیخ مار کر اٹھی. اور کہا آپا دیکھو میرے بھائی دروازے پر دستک دے رہے ہیں. میرے لیے میرے بھائی آ گئے ہیں. اتنا کہہ کر دروازے کی طرف دوڑی. دروازہ کھولا. دہلیز پر گری. اپنے نہ آنے والے بھائیوں کی راہ تکتے ہوئے نظریں سڑک پر تھیں اور جسم بے جان ہو گیا. چراغ جو بجھنے سے پہلے ٹمٹمایا تھا وہ بالآخر بجھ گیا.
جس بہن کے ساتھ بچپن گزرا، جسے گودی میں لے کر گھومتی تھی اسے پیروں سے گھسیٹ کر گھر کے اندر لائی اور اسے بھی دفن کیا. کئی گھنٹے لگے مجھے مگر بالآخر عزت کے ساتھ دفن کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی.


میرا بڑا بھائی کئی دن سے پولیس حراست میں ہے. وہ زندہ بھی ہے یا نہیں کچھ خبر نہیں. سنا ہے یہاں کہ ہر گھر سے ایک ایک فرد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ مہینوں بعد چھوڑ دیا جائے گا. مگر جب بھائی قید کی سزا اور تشدد برداشت کر کے نڈھال وجود کے ساتھ سکون حاصل کرنے گھر واپس آئیں گے تو پتہ نہیں ویران گھر دیکھ کر کیا سوچیں گے.
اب میں گھر میں اکیلی بچی ہوں.میں زندگی میں کبھی ایک دن بھی تنہا نہیں رہی مگر اب اس پوری دنیا میں ہمیشہ کے لیے تنہا ہو گئی ہوں. سوچ رہی ہوں کہ میرے بھائی جو کروڑوں میں ہیں ان کو آنے میں مہینے بھی کم پڑ گئے ہیں کیا؟
کیا کشمیر اتنا زیادہ دور ہے کہ ایک مہینے میں بھی کوئی نہیں پہنچ پایا.
اب نہ جانے کتنا دن گزر چکا ہے.
میری قوم میں تو بہت غیرت مند لوگ تھے جو اتنے بہادر تھے کہ اسٹیج پر کھڑے رہ کر لاؤڈ اسپیکر میں حکومت کو للکارا کرتے تھے. اتنے بہادر تھے کہ اگر کوئی جلوس یا کوئی پروگرام پر پابندی لگ جائے تو پوری دنیا کو ہلا دینے کی بات کرتے تھے. اب تو معاملہ جلسے جلوس کا نہیں بلکہ زندگیوں کا ہے. یقیناً ان کی غیرت میں طوفان اٹھ گیا ہو گا. اور وہ بس آ ہی رہے ہوں گے.
مگر کشمیر کیا اتنی دور ہے کہ مہینوں لگ جائیں آنے میں؟؟
نہیں. اتنی دور تو نہیں ہے.


میں نے تو میرے آقا خاتم النبیین، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک پڑھی تھی جس کا مفہوم یاد آ رہا ہے کہ مسلم امہ ایک جسم کی مانند ہے. جس کے ایک اعضاء میں تکلیف ہوتی ہے تو درد پورے جسم کو ہوتا ہے.
مسلم امت کے جسم کا ایک حصہ (کشمیر) لہو لہو ہے. یقیناً حدیث پاک کے مطابق درد تو پورے جسم کو ہو گا نا؟؟؟
درد ہوتا اگر تو بے چینی بھی ہوتی. ہماری بھوک، پیاس، بیماری، لاچاری سب جذبات کو پورا جسم محسوس کرتا نا؟؟؟
تو میں کیا سمجھوں اب؟؟


اوہ. میرے کروڑوں بھائی بہن شاید گہری نیند میں ہے. ان کا گھر محفوظ ہے نا شاید اس لیے. مجھے اس طرح شور نہیں مچانا چاہیے ورنہ ان کی نیند ٹوٹ جائے گی تو وہ غصہ کریں گے نا؟
اور گہری نیند سے کوئی جگا دے تو اتنا غصہ آتا ہے کہ دل کرتا ہے جگانے والی آواز گھونٹ دو.
ہے نا؟
اگر میری آہ و بکا سے میری قوم کے کروڑوں لوگ جاگ گئے تو کہیں وہ میرے خلاف صف آراء نہ ہو جائیں کہیں.
میں کمزور ہوں نا اس لیے میرے خلاف لڑنا آسان ہو گا ان کے لیے.


یا رب العالمین...!!! آج تک کربلا کو کتابوں میں پڑھا اور سنا ہے. آج تونے دکھا دیا ہے تیرا شکریہ.
اے پروردگار میں تیری شکر گزار ہوں کہ آج کے کربلا میں تونے ہمیں بھوک پیاس برداشت کرنے والوں اور شہید ہونے والوں میں سے رکھا ہے.
تیرا شکریہ میرے مولا کہ تونے مجھے یزیدی لشکر میں ظالم بنا کر نہیں رکھا اور باقی کی قوم میں کوفیوں کی طرح بے حس اور خاموش بننے والوں میں شامل نہیں کیا.
تیرا بے شمار شکر ہے کے تونے اہل بیت کی سنت ادا کرنے والوں میں شامل کیا ہے.
ماضی (کربلا) کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ میری قوم ہمارے پاس اس وقت پہنچے گی جب سب شہید ہو چکے ہوں گے.
دو مہینے تک پوری قوم کی اور بالخصوص اکابرین کی خاموشی بتاتی ہے کہ میں نے بالکل صحیح سوچا ہے.
اچھا ایک کام کرنا.
قوم کے آنے تک اگر میں شہید ہو گئی رہی تو انا للہ و انا الیہ راجعون میرے لیے پڑھ لینا اور مجھے اسی حالت میں دفن کرنا. کل روز حشر میں اسی حالت میں میزان پر جانا چاہتی ہوں. بہت حساب کتاب باقی ہے.


نوٹ:
میں مسلم امت کے اس جسم کا حصہ ہوں جس میں کشمیر خون میں نہایا ہوا ہے. اور تکلیف مجھے یہاں (ممبئی) ہو رہی ہے. میں اس تمام حالات کو محسوس کر رہی ہوں جو وہاں گزر رہے ہوں گے.
یہ تحریر ایک تخیل ہے. غالباً یہ تحریر حقیقت کے بہت قریب ہو گی.(ہمارے پہنچنے تک کشمیر میں اگر کوئی زندہ بچا تو اس سے آپ بیتی پتہ چلے گی تو یہ ثابت ہو جائے گا)


کوئی شرعی غلطی ہو تو توبہ کرتی ہوں. استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ.
مگر قوم یہ سوچ لے کہ کل روز حشر حساب بہت بھاری پڑنے والا ہے. وہ چھوٹے چھوٹے شہیدوں کا لہو بہت بھاری پڑے گا ہمیں.
(عروہ فاطمہ، الہند)
Ham aysa Kia krn k hm kofiyoun mn shamil na hon 😥😥😥

February 18, 2019

PULWAMA Kashmir Sucicide Attack on Indian Army 50 Killed Facts & Figures




 9 گیارہ, 26 گیارہ اور اب 14 دو!!!
مذاق اور خبروں کی تاک جھانک بہت ہوگئی اب ذرا سنجیدہ بات کرلی جائے۔
اول تو کل پلوامہ, کشمیر میں ہونے والے مبینہ بارودی ٹرک, مبینہ خودکش حملہ یا مبینہ فدائی کاروائی کے نتیجے میں ہونے والی بھارتی سینا کہ مبینہ 50± ہلاکتوں پر رائے قائم کرنے میں حتی المقدور احتیاط برتیں۔
لیکن سوال اور اعتراض جتنے اٹھا سکتے ہیں اٹھائیں کہ اسی طریقے سے ہم ایک ریاستی اور قومی بیانیہ تشکیل دے سکیں گے کہ پاکستان کا اس سے یا اسے پہلے ہوئے کسی واقعے سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ ہے۔
اب بات کرتے ہیں پلوامہ حملے کی کہ فیکٹس اور فگر کچھ اور کہانی ترتیب دیتے اگر واقعی وہی ہوتا حو بتایا جارہا ہے مطلب 2500 بھارتی سینکوں کا فل فلج کانوائے گزر رہا رہا تھا جس پر ساڑھے تین سو کلو ٹی این ٹی مطلب بارود سے بھرا ٹرک چڑھا دیا گیا اور 2500 میں سے مردار ہوئے صرف 50± سینک؟
سوال تو بنتا ہے نا پھر؟
آس پاس سڑک پر نہ شگاف پڑے نہ قریبی چھوٹی موٹی تعمیرات کو گزند پہنچی؟
سوال تو بنتا ہے نا پھر؟
پھر بہت ہی اہم نکتہ ہے کہ بھارت کشمیر میں سخت ترین اور جدید ترین سیکیوریٹی انتظامات کا ببانگ دہل دعویدار ہے کہ وہاں چپے چپے پر موشن سینسرز, جدید سیکیوریٹی اینڈ سرویلنس یونٹس اور ڈرونز سے آراستہ انتظامات ہیں, پھر بھی اس طرح کا آپریشن ہوجانا قطعی کسی ایسی تنظیم کا کارنامہ نہیں ہوسکتا جو پاکستان میں کالعدم ہو اور جس کا بہت عرصے سے کوئی قابل ذکر کارنامہ بھی نظر میں نہ ہو اور جس کو بیرونی مدد کا شائبہ بھی موجود نہ ہو؟
سوال تو بنتا ہے نا پھر؟
پھر میری ذاتی معلومات میں یہ بات آئی ہے کہ جب کشمیر میں کسی دوسری ریاست سے یا اندرون کشمیر کسی فوجی کانوائے کی نقل و حرکت ہوتی ہے تب ایک مکمل پلٹن فیلڈ انٹیلی جنس یونٹ کی کانوائے کے راستے پر ایک ہفتہ قبل ہی نظر رکھنا شروع کردیتی ہے اور ڈرونز کے ساتھ ارد گرد کے علاقے کی مکمل چھان بین کی جاتی ہے اور ساتھ ہی لوکل کیمونیکیشن سیٹ اپس کلوزڈ سٹیٹس پر چلے جاتے ہیں پھر بھی پلوامہ میں 2500 کی نفری پر ایک دو بندوں کی کاروائی خاصی مشکوک ہے؟
سوال تو بنتا ہے نا پھر؟
پھر بھارت کے اس دعوے کا کیا کہ "ہم نے کشمیر میں مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے وہاں ایک چڑیا بھی ہماری مرضی کے بغیر پر نہیں مارسکتی"۔
سوال تو بنتا ہے نا پھر؟
مطلب صاف ہے کہ اب امریکہ خطے سے اپنے عزائم میں ناکام ہوکر جارہا ہے اور بھارت کے گھٹیا عزائم ابھی تکمیل کے "ت" تک نہیں پہنچے لہذا بھارت نہیں چاہتا کہ امریکہ بھارت کو اس طرح بیچ منجھدار چھوڑ کر جائے لہذا اس نے خود ہی ایک "چڑیا" کو وادی میں چھوڑا کہ جا وئی جاکر "پر" مار تاکہ ہم "تکا" مار کر امریکہ کو قائل کرسکیں کہ بھارت دہشتگردی کا شکار ہے اور امریکہ ہمیں اکیلا مت کرے اس وقت۔
سوال تو بنتا ہے نا پھر؟
اور دوسری بنیادی وجہ بھارتیہ لوک سبھا کے چناؤ میں مودی کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کی خاطر بھارتیہ اسٹیبلشمنٹ کی کارستانی ہے یہ, جس کو مجاہدین لشکر طیبہ یا حرکت المجاہدین سے منسوب کرتے تو منہ کی کھاتے کہ وہ خودکش حملہ کو حرام مانتے اور قرار دیتےہیں اور ان کا طریقہ کاروائی یہ ہے نہیں, لہذا داعش کی لانچنگ بھی خاص پزیرائی حاصل نہیں کرپائی تو ایک کالعدم دیوبند تنظیم کا نام لیکر کہانی گھڑی اور خود اپنی سینا مروائی کہ براہ راست آئی ایس آئی اور پاکستان پر حرف آئے اور عالمی رائے عامہ بگاڑ کر امریکہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ پاکستان کی مشکیں کسے جو ناممکن عمل ہے اب, لیکن یہ ایک "فالس فلیگ آپریشن" ہے را اور بھارتیہ سینا کا۔
جس پر سوال تو بنتا ہے نا پھر؟
اس وقت پورا عالمی اور بھارتی میڈیا ملکر ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ وہ اس بھارتی ان سائیڈ جاب کو پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر پاکستان کی گزشتہ چھ ماہ میں حاصل کردہ سفارتی, خارجہ اور دفاعی کامیابی کو چیلنج کرسکیں۔
سوال تو بنتا ہے نا پھر؟
آن ریکارڈ بھارت کی سمجھوتہ ایکسپریس واردات اور 26 گیارہ واردات کے کھرے خود بھارت سے ہی ملے را کے آفس میں تو اب بھی ایک اور فلاپ فالس فلیگ آپریشن تیار کیا گیا ہے کہ بھارت اس سے ان مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوسکے,
---مودی سرکار کی الیکشن کیمپین میں بھرپور مدد اور مودی کی اگلی مدت کے لیئے شاندار واپسی۔
---امریکہ کی واپسی میں تاخیر اور پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی۔
---تحریک آزادی کشمیر کو دہشتگردی کی جنگ ڈکلیئر کرواکر اس تحریک کے سٹیک ہولڈرز حریت رہنماؤں اور مجاہدین کا ناطقہ بند کروانا اور پاکستان کو بیک سٹیپ پر دھکیلنا۔
---اور پاکستان کو ایک دفعہ پھر سفارتی محاذ پر شکست دیکر آئسولیٹ کرنا۔
اس ضمن میں پلوامہ آپریشن سے بہتر آپشن کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھا اور ایسا ہی ہوا ہے۔
اور اس کے بعد آج بھارت کا پاکستان کو پسندیدہ ملک کی فہرست سے نکالنے کا اعلان اس سازش کی توثیق کرتی ہے جس کا بھانڈا ہم نے پھوڑ دیا ہے الحمداللہ۔
سبھی دوست بالغ نظری کا مظاہرہ کریں اور ایسی باتوں سے گریز کریں جو قومی مفادات کے خلاف ہیں۔

December 15, 2016

امرتسر سے کابل: دوستی کا سفر کیسے طے ہوا: پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی ؟


امرتسر سے کابل: دوستی کا سفر کیسے طے ہو










editامرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر افغانستان اور بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزام تراشی کے بعد پاکستان میں یہ بحث کی جا رہی ہے کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے کےلئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ضرورت سے زیادہ مفاہمانہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ملک اسے پاکستان کی کمزوری سمجھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے سابقہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک انٹرویو میں تو یہ بھی کہا ہے کہ 2014 میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان کو قریب آنے کا نادر موقع دیا تھا۔ لیکن پاکستان اس سے استفادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ اشرف غنی یہ مان گئے تھے کہ وہ بھارت سے اسلحہ نہیں خریدیں گے اور افغان کیڈٹس کو تربیت کےلئے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں بھیجا جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ تجارتی مقاصد کےلئے راہداری محصول کم کرنے پر بھی آمادہ ہو گئے تھے۔ حنا ربانی کھر کا خیال ہے کہ پاکستان ان مراعات سے فائدہ اٹھا کر افغانستان کو بھارت سے دور کر سکتا تھا لیکن وہ مشکل حالات میں اشرف غنی کی طرف سے دوستانہ طرزعمل کا مناسب جواب دینے میں ناکام رہا۔ اسی لئے افغان صدر نے بھارت کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اب پاکستان کو مشرق اور مغرب دونوں طرف سے جارحانہ رویہ رکھنے والے ہمسایہ ملکوں کا سامنا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے یہ بات تو تسلیم کی جا سکتی ہے کہ یہ بظاہر کسی منظم حکمت عملی کے تحت استوار نہیں کی گئی اور حکومت ذاتی تعلقات کی بنیاد پر دنیا کے لیڈروں سے تعلقات قائم کرنے کو درست طریقہ سمجھتی ہے۔
اسی لئے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار ٹیلی فون گفتگو کے بعد وزیراعظم نے اپنے معاون خصوصی طارق nawaz-modiفاطمی کو فوری طور پر واشنگٹن روانہ کر دیا تاکہ وہ ٹرمپ کے مشیروں اور ٹیم کے ارکان سے مل کر ٹرمپ دور صدارت میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو نئی بنیاد فراہم کرنے کی بات کر سکیں۔ تاہم طارق فاطمی ایک ہفتہ سے واشنگٹن میں موجود ہیں اور ابھی تک وہ ٹرمپ ٹیم کے ساتھ ملاقات میں کامیاب نہیں ہوئے۔ وزیراعظم ہاؤس نے اسی قسم کی عجلت اور خوش فہمی کا اظہار نواز۔ ٹرمپ گفتگو کا متن جاری کرتے ہوئے بھی کیا تھا۔ اس رویہ پر امریکی میڈیا ، سفارتی امور کے ماہرین، حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ دو لیڈروں کے درمیان ٹیلی فون گفتگو کا مکمل متن جاری کرنا سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ لیکن پاکستان اس کوتاہی کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے درست فیصلہ قرار دیتا ہے۔ طارق فاطمی نے واشنگٹن میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ متن ٹرمپ ٹیم کی منظوری سے جاری کیا گیا تھا۔ حالانکہ نواز۔ ٹرمپ گفتگو کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ٹرمپ ٹیم نے جو بیان جاری کیا تھا، اس میں وہ گرمجوشی اور توصیفی شان و شوکت موجود نہیں تھی جو پاکستانی متن میں سامنے آئی تھی۔
نواز شریف نے یہی رویہ بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھی اختیار کیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرد مہری کے باوجود وہ مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے لیکن اس ملاقات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اسی طرح گزشتہ برس دسمبر میں وزیراعظم نے نریندر مودی کو اچانک پاکستان وارد ہونے اور اپنی نواسی کی شادی میں شرکت کی اجازت دی۔ اس موقع پر بھی مذاکرات بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا اور چند ہی دنوں بعد پٹھان کوٹ میں بھارتی ائر بیس پر حملہ کے بعد بھارت نے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔ نواز شریف ترکی کے صدر اردگان ، سعودی عرب کے شاہی خاندان ، خلیجی ممالک کے سربراہان حتیٰ کہ چین کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے تعلقات کے ذریعے خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔taliban
دو ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان خوشگوار تعلقات بعض اوقات ملکوں کے مسائل حل کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس قسم کے رابطوں کو خارجہ پالیسی کے تسلسل کے طور پر اختیار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ خاص طور سے جب تعلقات میں مشکلات حائل ہوں اور باہمی معاملات میں کئی حل طلب امور دہائیوں سے تعطل کا شکار رہے ہوں تو ذاتی تعلقات برف پگھلانے کا کام نہیں کرسکتے۔ اس کے لئے ٹھوس حکمت عملی اور واضح تجاویز سامنے لانا ضروری ہوتا ہے۔ نریندرمودی کے معاملہ میں نواز شریف کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی طرح امریکہ کے نومنتخب صدر کے حوالے سے موجودہ خوش فہمی بعد میں مایوسی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ ٹیلی فون پر ڈونلڈ ٹرمپ سے نواز شریف کی ایک گفتگو کے بعد پاکستانی حکومت کے نمائندے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ نئے امریکی صدر کے دور میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں تازگی پیدا ہوگی اور پاک امریکہ دوستی کا احیا ہو سکے گا۔ حالانکہ امریکہ ہو یا بھارت یا افغانستان، بنیادی مسائل کو حل کئے بغیر اور ان کے حل کےلئے اتفاق رائے پیدا کئے بنا تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی کی توقع کرنا غیر ضروری خواہش سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
اس حوالے سے خارجہ اور سکیورٹی معاملات میں فوج کی مداخلت اور مخصوص مقاصد کی تکمیل کےلئے طویل فہرست پر اصرار کی وجہ سے بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی غیر یقینی صورت حال کا شکار رہتی ہے۔ امریکہ ، بھارت اور افغانستان کے حوالے سے فوج اپنے نقطہ نظر پر اصرار کرتی ہے اور سول حکومت کوشش کے باوجود فوجی قیادت کی مقررہ حدود سے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ اس لئے اسلام آباد کے دیگر دارالحکومتوں سے مراسم اور مواصلت کے حوالے سے یہ نکتہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی PIcture taliban_(591_x_480)مختلف امور پر کھلے دل سے بات کرتے ہوئے ایک جامع پالیسی مرتب کریں۔ پھر وزیراعظم کی قیادت میں اس پر عملدرآمد کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ فوج میں قیادت کی تبدیلی اور گزشتہ تین برس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو پیش آنے والی مشکلات کی روشنی میں وزیراعظم کو ہمسایہ ملکوں اور امریکہ سمیت اہم ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرتے ہوئے مسائل کا ادراک کرنے، ان کے ممکنہ حل کےلئے آپشنز تیار کرنے اور اپنی حدود و قیود کا تعین کرتے ہوئے ایک جامع پالیسی اختیار کرنا پڑے گی۔ اس مقصد کےلئے ہر ملک کے ساتھ تعلقات کے تاریخی تناظر میں حالات کا جائزہ لینے اور پالیسی بنانے کی ضرورت ہوگی۔ مثال کے طور پر افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بھارت کے حوالے سے پاکستانی حکمت عملی کا اسیر نہ کیا جائے یا ایران کے ساتھ مراسم کو سعودی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
اس پس منظر میں نواز شریف حکومت کی کوتاہیوں اور کمزوریوں کی فہرست تیار کرنا مشکل نہیں ہے لیکن ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی ساری ذمہ داری پاکستانی حکومت کی غلط پالیسیوں کو قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ یہ درست ہے کہ دو سال قبل اشرف غنی نے افغانستان کا صدر بننے کے بعد پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کا عندیہ دیا۔ یہ طرز عمل ان کے پیشرو حامد کرزئی کے مقابلے میں مختلف تھا۔ لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اشرف غنی کی کامیابی کےلئے پاکستان نے بھی کردار ادا کیا تھا۔ اشرف غنی کو صدارتی انتخاب میں کامیاب ہونے کے باوجود صدر بننے کےلئے امریکہ کے تعاون سے شمالی اتحاد کے نمائندے عبداللہ عبداللہ کے ساتھ مفاہمت کرنا پڑی تھی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان دشمن عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ کابل کی سرکاری مشینری حتیٰ کہ اس کا انٹیلی جنس ادارہ بھی عبداللہ عبداللہ کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے جب پاکستان کے تعاون سے گزشتہ برس جولائی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مری میں مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تو اسی کے ساتھ ہی ملا عمر کی موت کی خبر عام کر دی گئی۔ یہ خبر سامنے لانے میں افغان انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس کا ہاتھ تھا۔ اس طرح صدر اشرف غنی کی خواہش پوری کرنے کےلئے پاکستان نے مذاکرات کی جو کوشش کی تھی، اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ اشرف غنی کمزور لیڈر ہیں جن کا اپنے ملک کے معاملات پر کنٹرول نہیں ہے۔ اسی لئے نہ تو وہ پاکستان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے پورے کرسکے اور نہ ہی ان عناصر کی سرزنش کرسکے جنہوں نے افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو ختم کروانے میں کردار ادا کیا تھا۔
اس دوران بھارت نے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے اشرف غنی کو اپنے حصار میں لے لیا اور وہ جلد ہی نریندر مودی کی زبان بولنے لگے۔
Pakistani girls attend class at a school...Pakistani girls attend class at a school in Mingora, a town in Swat valley, on October 9, 2013, the first anniversary of the shooting of Malala Yousafzai by the Taliban. Yousafzai, the teenage activist nominated for the Nobel Peace Prize, says she has not done enough to deserve the award, as her old school closed October 9 to mark the first anniversary of her shooting by the Taliban. AFP PHOTO/A MAJEEDA Majeed/AFP/Getty Images
بھارتی وزیراعظم کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کئی تقریروں میں یہ اشارے دیتے رہے تھے کہ بھارت افغانستان اور اس کی سرزمین کو اپنے مقاصد پورے کرنے کےلئے پاکستان سے زیادہ وسائل صرف کر سکتا ہے۔ مودی حکومت نے اپنے مالی وسائل استعمال کرتے ہوئے افغانستان کو پاکستان کے خلاف زبان درازی پر تیار کیا ہے۔ اس کا مظاہرہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران بھی دیکھنے میں آیا۔ یہ کانفرنس افغانستان کی مدد کےلئے منعقد کی جاتی ہے لیکن امرتسر میں اشرف غنی نے اپنے ملک کے مفادات کو پیش نظر رکھنے کی بجائے نریندر مودی کی حکومت کو خوش کرنے کےلئے بھارت سے بھی بڑھ کر پاکستان پر نکتہ چینی کی۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستان اشرف غنی کی طرف سے دوستی کےلئے بڑھائے ہوئے ہاتھ کا جواب نہیں دے سکا۔ دراصل اشرف غنی اپنی حکمت عملی پر عمل کرنے اور پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ سیاسی نعرے بازی سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
امریکہ کی طرح افغانستان بھی پاکستان پر افغان طالبان کی حمایت کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے حقانی نیٹ ورک کو نقصان نہیں پہنچایا۔ پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جب تک لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں، اس وقت تک پاکستان کی کسی بھی حکومت کےلئے مکمل طور سے یہ کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے کہ پاکستان سے شدت پسند عناصر افغانستان نہ جائیں۔ خاص طور سے اس صورت میں کہ افغانستان سرحدی کنٹرول کے لئے پاکستان کے اقدامات کی مزاحمت کرتا رہتا ہے۔ یہ دونوں کام پورے کئے بغیر افغانستان کے ساتھ کراس بارڈر دہشت گردی کا مکمل تدارک ممکن نہیں ہے۔ اسی تصویر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے گروہ افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور پاکستان میں حملوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ لیکن افغان فورسز یا امریکی اتحاد ان کا قلع قمع کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔ افغانستان کا نصف رقبہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے۔ ایساف کی اتحادی افواج پندرہ برس کی جنگ کے دوران طالبان کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس لئے طالبان کی کامیابیوں کا سارا الزام پاکستان پر عائد کرنا حقائق سے انحراف کے مترادف ہے۔abdul-rashid-dostum
دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں امریکہ چین اور روس کے خلاف عسکری اور تجارتی محاذ آرائی کےلئے بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا رہا ہے۔ اس صورتحال میں چین کے بعد اب روس بھی طالبان کے ساتھ روابط قائم کر رہا ہے۔ یہ دونوں ملک اور وسطی ایشیا کے اکثر ملک طالبان کو سیاسی حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ افغان حکومت چونکہ طالبان سے مذاکرات کی امید لگائے بیٹھی ہے تو وہ بھی اس سچ کو تسلیم کرنے کا ہی اعلان کرتی ہے۔ لیکن پاکستان کے خلاف ہیجان پیدا کرنے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کےلئے پاکستان پر افغان طالبان کی سرپرستی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی طرح افغانستان کا مفاد بھی بہتر دو طرفہ تعلقات استوار کرنے میں ہی ہے۔ لیکن افغانستان کو بھارت کی حوصلہ افزائی پر پاکستان کے خلاف مہم جوئی بند کرنا ہوگی۔ اسی طرح پاکستان کر بھی افغانستان کے ساتھ مراسم، اس ملک کی انفرادی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے استوار کرنے چاہئیں اور انہیں اپنی بھارت پالیسی کا ضمیمہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔

Total Pageviews