انڈین پرائم منسٹر نریندر مودی نے بہار میں الیکشن جیتنے کے لئے پہلگام میں حملہ کروایا اور اس کا الزام سیدھا پاکستان پر لگا دیا۔ پاکستانی حکام نے جوائنٹ انوسٹیگیشن کی آفر کی جو بھارت نے مسترد کر دی، اور پاکستان نے کہا کہ اس حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کروائی جائے۔ مگر بھارتی حکومت طاقت کے زعم میں پاکستان کا موقف مسترد کردیا۔ اور پاکستان نے کئی علاقوں میں میزائل فائر کیے۔ اور بے تحاشہ ڈرونز فائر کئے۔
اس کا جواب دینے سے پہلے پاکستان نے تمام دُنیا کو انڈیا کے خطرناک ارادوں سے آگاہ کیا۔ اور کوشش کی کہ یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو جائے مگر بھارت کی ہٹ دھرمی آڑے آ گئی۔ اور پاکستان کو کچلنے کے در پے ہو گئے۔ پاکستان نے انڈیا کی مسلسل دھمکیوں اور بارڈر پر فائرنگ سے باز نہ آنے کے بعد عالمی دُنیا کو اپنا بدلہ لینے سے آگاہ کر دیا۔ امریکہ انڈیا کو ایشیاء کا بڑا مدمعاش بنانا چاہتا ہے۔ وہ بھی یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گیا کہ انڈیا پاکستان کا ہزار سالہ پرانی لڑائی ہے یہ دونوں خود ذمہ دار ہیں۔ اور انڈیا کو شہہ دی کہ پاکستان کو سبق سکھائے۔
لیکن پاکستان نے انڈیا کو سبق سکھا دیا۔ بھارت کا فخر رافیل جنگی جہاز مار گرائے۔ اور بھارت کے چھبیس شہروں کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
جب امریکہ کو سمجھ آ گئی کہ میرا بدمعاش کو مار کھا رہا ہے تو فوراً سیز فائر کروانے آ گیا۔
اپنی ہٹ دھرمی اور پاکستانی دشمنی میں انڈیا اس خطے کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ دونوں ملک نیو کلئیر پاور ہیں۔ ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنا بنتا ہے۔
بھارتی پرائم منسٹر کی مضحکہ خیز حرکتوں اور بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت مزید کو پنگا لے سکتا ہے۔ پاکستانی قوم اور فوج اسے تیار ملیں گے۔

آدم پور (جالندھر) [بھارت]، 13 مئی (اے این آئی): وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ ہندوستانی مسلح افواج نے آپریشن سندھ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے پر اپنے درست حملوں سے تاریخ رقم کی ہے اور اسلام آباد کی "ایٹمی بلیک میلنگ" کو منہدم کر دیا ہے۔
ائیر فورس اسٹیشن آدم پور میں فضائی جنگجوؤں اور سپاہیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ جب ہندوستان کے میزائل ہدف تک پہنچتے ہیں تو دشمن 'بھارت ماتا کی جے' سنتا ہے۔
پی ایم مودی کا آدم پور ایئربیس کا دورہ قوم سے ان کے خطاب کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان "کسی بھی جوہری بلیک میلنگ کو برداشت نہیں کرے گا" اور "جوہری بلیک میلنگ کی آڑ میں تیار ہونے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ٹھیک اور فیصلہ کن حملہ کرے گا"۔
ہفتہ کو پاکستانی ڈی جی ایم او کی طرف سے اپنے ہندوستانی ہم منصب کو کی گئی کال کے بعد ہندوستان اور پاکستان نے فائرنگ اور فوجی کارروائی کو روکنے پر اتفاق کیا ہے۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں آپریشن سندھور کے تحت ہندوستان کے درست حملوں کے بعد جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، پاکستانی افواج نے فوجی جارحیت کا سہارا لیا جسے ہندوستانی مسلح افواج نے مؤثر طریقے سے پسپا کیا جس نے پاکستان کے فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں آپریشن سندھور کے تحت ہندوستان کے درست حملوں کے بعد جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، پاکستانی افواج نے فوجی جارحیت کا سہارا لیا جسے ہندوستانی مسلح افواج نے مؤثر طریقے سے پسپا کیا جس نے پاکستان کے فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔
"جب ہمارے ڈرون دشمن کے قلعے کی دیواروں کو تباہ کرتے ہیں، جب ہمارے میزائل گھن گرج کے ساتھ ہدف تک پہنچتے ہیں تو دشمن کو 'بھارت ماتا کی جئے' سنائی دیتی ہے۔ جب ہم رات کو بھی سورج روشن کرتے ہیں تو دشمن 'بھارت ماتا کی جئے' دیکھتا ہے۔ جب ہماری فوجیں جوہری بلیک میلنگ کے خطرے کو اڑا دیتی ہیں، تب صرف ایک ہی بات کی آواز آتی ہے کہ 'متا کی جئے'۔ انہوں نے لاکھوں ہندوستانیوں کو فخر کیا ہے، ہر ہندوستانی کی ماں کو فخر کیا ہے، آپ نے تاریخ رقم کی ہے، اور میں آج صبح آپ کو دیکھنے آیا ہوں،‘‘ انہوں نے کہا۔
پی ایم مودی نے کہا کہ ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ ہر اس شہری کی آواز ہے جو ملک کے لیے جینا اور ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔
"'بھارت ماتا کی جئے' میدان میں بھی گونجتی ہے اور مشن میں بھی۔ جب بھارت کے سینک ماں ہندوستانی بولتے ہیں تو دشمن کے کلیجے کانپ جاتے ہیں..." وہ کہتے ہیں "بھارت ماتا کی جئے ہر اس سپاہی کا عزم ہے جو اس کی آواز کو ملک کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ ملک اور ملک کے لیے کچھ کریں،‘‘ انہوں نے کہا۔
وزیراعظم نے آپریشن سندھ کے بعد پاکستانی جارحیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ انہوں نے آدم پور ایئربیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ "آپریشن سندھور سے پریشان، دشمن نے اس ائیر بیس اور ہمارے کئی دیگر ائیر بیسوں پر متعدد بار حملہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہمیں بار بار نشانہ بنایا لیکن پاکستان کے مذموم عزائم ہر بار ناکام ہوئے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ سب نے کمال کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچ گئے۔ پاکستان میں صرف دہشت گردوں کے کیمپوں اور ان کے فضائی اڈوں کو ہی تباہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کے مذموم عزائم اور جرات کو بھی شکست دی گئی۔" (اے این آئی)
فراہم کردہ بذریعہ SyndiGate Media Inc.
Adampur (Jalandhar) [India], May 13 (ANI): Prime Minister Narendra Modi on Tuesday said that Indian Armed Forces have created history by their precision strikes on terror infrastructure in Pakistan and Pakistan Occupied Jammu and Kashmir under Operation Sindoor and had demolished Islamabad's "nuclear blackmail".
Interacting with air warriors and soldiers at Air Force Station Adampur, PM Modi said when India's missiles reach the target, the enemy hears 'Bharat Mata Ki Jai'.
PM Modi's visit to Adampur airbase came a day after his address to the nation in which he had said that India "will not tolerate any nuclear blackmail" and "will strike precisely and decisively at the terrorist hideouts developing under the cover of nuclear blackmail".
India and Pakistan have reached an understanding on stopping firing and military action following a call made by the Pakistani DGMO to his Indian counterpart on Saturday.
After India's precision strikes under Operation Sindoor in response to Pahalgam terror attack in which 26 people were killed, Pakistan forces resorted to military aggression which was effectively repelled by the Indian Armed Forces who also pounded Pakistan airbases.
"When our drones destroy the walls of the enemy's fort, when our missiles reach the target with a whizzing sound, the enemy hears 'Bharat Mata Ki Jai'. When we light up the sun even at night, the enemy sees 'Bharat Mata Ki Jai'. When our armies blow away the threat of nuclear blackmail, then only one thing resonates from the sky- 'Bharat Mata Ki Jai'. All of you have made millions of Indians proud, have made every Indian's mother proud, you have created history, and I have come among you this morning to see you," he said.
PM Modi said that "Bharat Mata ki Jai" is the voice of every citizen who wants to live for the country and do something for the country
"'Bharat Mata ki Jai' maidaan mein bhi goonjti hai aur mission mein bhi. Jab Bharat ke sainik Maa Bharati bolte hai toh dushman ke kaleje kaanp jaate hai..." He says "Bharat Mata ki Jai is the resolve of every soldier who is ready to sacrifice their lives for the country. It is the voice of every citizen who wants to live for the country and do something for the country," he said.
The Prime Minister referred to Pakistani aggression after Operation Sindoor and said they tried to attack Adampur airbase.
"Rattled with Operation Sindoor, the enemy tried to attack this air base and several of our other air bases multiple times. They targeted us again and again but the nefarious designs of Pakistan failed each time," he said.
"I can proudly say that all of you reached your target with perfection. In Pakistan, it was not just the terrorist camps and their air bases that were destroyed, but their nefarious designs and audacity were also defeated," he added. (ANI)
Provided by SyndiGate Media Inc. (


امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر افغانستان اور بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزام تراشی کے بعد پاکستان میں یہ بحث کی جا رہی ہے کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے کےلئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ضرورت سے زیادہ مفاہمانہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ملک اسے پاکستان کی کمزوری سمجھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے سابقہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک انٹرویو میں تو یہ بھی کہا ہے کہ 2014 میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پاکستان کو قریب آنے کا نادر موقع دیا تھا۔ لیکن پاکستان اس سے استفادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ اشرف غنی یہ مان گئے تھے کہ وہ بھارت سے اسلحہ نہیں خریدیں گے اور افغان کیڈٹس کو تربیت کےلئے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں بھیجا جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ تجارتی مقاصد کےلئے راہداری محصول کم کرنے پر بھی آمادہ ہو گئے تھے۔ حنا ربانی کھر کا خیال ہے کہ پاکستان ان مراعات سے فائدہ اٹھا کر افغانستان کو بھارت سے دور کر سکتا تھا لیکن وہ مشکل حالات میں اشرف غنی کی طرف سے دوستانہ طرزعمل کا مناسب جواب دینے میں ناکام رہا۔ اسی لئے افغان صدر نے بھارت کی طرف رجوع کر لیا تھا۔ اب پاکستان کو مشرق اور مغرب دونوں طرف سے جارحانہ رویہ رکھنے والے ہمسایہ ملکوں کا سامنا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے یہ بات تو تسلیم کی جا سکتی ہے کہ یہ بظاہر کسی منظم حکمت عملی کے تحت استوار نہیں کی گئی اور حکومت ذاتی تعلقات کی بنیاد پر دنیا کے لیڈروں سے تعلقات قائم کرنے کو درست طریقہ سمجھتی ہے۔
فاطمی کو فوری طور پر واشنگٹن روانہ کر دیا تاکہ وہ ٹرمپ کے مشیروں اور ٹیم کے ارکان سے مل کر ٹرمپ دور صدارت میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو نئی بنیاد فراہم کرنے کی بات کر سکیں۔ تاہم طارق فاطمی ایک ہفتہ سے واشنگٹن میں موجود ہیں اور ابھی تک وہ ٹرمپ ٹیم کے ساتھ ملاقات میں کامیاب نہیں ہوئے۔ وزیراعظم ہاؤس نے اسی قسم کی عجلت اور خوش فہمی کا اظہار نواز۔ ٹرمپ گفتگو کا متن جاری کرتے ہوئے بھی کیا تھا۔ اس رویہ پر امریکی میڈیا ، سفارتی امور کے ماہرین، حتیٰ کہ وائٹ ہاؤس نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ دو لیڈروں کے درمیان ٹیلی فون گفتگو کا مکمل متن جاری کرنا سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ لیکن پاکستان اس کوتاہی کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے درست فیصلہ قرار دیتا ہے۔ طارق فاطمی نے واشنگٹن میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ متن ٹرمپ ٹیم کی منظوری سے جاری کیا گیا تھا۔ حالانکہ نواز۔ ٹرمپ گفتگو کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ٹرمپ ٹیم نے جو بیان جاری کیا تھا، اس میں وہ گرمجوشی اور توصیفی شان و شوکت موجود نہیں تھی جو پاکستانی متن میں سامنے آئی تھی۔
مختلف امور پر کھلے دل سے بات کرتے ہوئے ایک جامع پالیسی مرتب کریں۔ پھر وزیراعظم کی قیادت میں اس پر عملدرآمد کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ فوج میں قیادت کی تبدیلی اور گزشتہ تین برس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو پیش آنے والی مشکلات کی روشنی میں وزیراعظم کو ہمسایہ ملکوں اور امریکہ سمیت اہم ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرتے ہوئے مسائل کا ادراک کرنے، ان کے ممکنہ حل کےلئے آپشنز تیار کرنے اور اپنی حدود و قیود کا تعین کرتے ہوئے ایک جامع پالیسی اختیار کرنا پڑے گی۔ اس مقصد کےلئے ہر ملک کے ساتھ تعلقات کے تاریخی تناظر میں حالات کا جائزہ لینے اور پالیسی بنانے کی ضرورت ہوگی۔ مثال کے طور پر افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بھارت کے حوالے سے پاکستانی حکمت عملی کا اسیر نہ کیا جائے یا ایران کے ساتھ مراسم کو سعودی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
