May 23, 2023

IMRAN RIAZ KHAN is Not JOURNALIST ?

اللّه کی شان ہے کہ ن لیگی سیاستدان فہد حسین جو پہلے صحافی ہوا کرتے تھے، وہ عمران ریاض
خان کو "یوٹیوبر" کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں، جس شخص نے اسی Express News میں کتنا عرصہ 8 بجے کا پروگرام Host کیا جہاں فہد سیاست میں آنے سے پہلے بطور Director News کام کر چکے ہیں شہباز شریف کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے سے تو کروڑ درجے بہتر ہے کہ عمران ریاض خان نے اپنی محنت سے نام بنا لیا، ماشاءاللّه۔ 
اور اب مریم اورنگزیب کی سنیے جو فرماتی ہیں کہ عمران ریاض خان تو صحافی ہی نہیں، سیاسی جماعت کا ترجمان ہے۔ لہٰذا اس کی گمشدگی کو "صحافتی جبری گمشدگی" نہ کہا جاۓ۔ ماشاءاللّه۔ یعنی جو شخص شریف برادران اور زرداری کی کرپشن کو "جمہوریت" کا نام دے کر ان سے Dictation لے کر نہ چلے، وہ "صحافی" نہیں؟
 جو شخص مریم نواز کے حکم پر استری اور فرائنگ پین والے لطیفوں کو تابعداری سے نہ سنے، وہ "صحافی" نہیں؟ کیونکہ اس وقت آدھے سے زیادہ "صحافی" تو بھرپور غلامی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پچھلے سال تک مہنگائی پر زار و قطار رونے والے صحافی اب ایک سال میں کئی گنا مہنگائی بڑھنے پر مہنگائی پر سوال کرنے کی جرات نہیں کرتے۔ یقیناً آپ کی نظر میں صحافی وہی ہیں؟ Right ؟ جو غیرت مند سوال کرے، وہ "صحافی" ہی نہیں؟ واہ واہ۔ کمال ہے۔ 
  حقیقت یہ ہے کہ عمران ریاض خان نے اپنے صحافتی career کے آغاز میں ن لیگ کی Beat cover کی تھی، یعنی چینل نے عمران ریاض کو ن لیگ کے سارے معاملات کی کوریج پر فائز کیا۔ لہٰذا وہ کسی بھی عام صحافی یا رپورٹر سے کہیں زیادہ ن لیگ کو اندر باہر سے جانتا ہے۔ عمران ریاض خان نے ہی 2019 میں نوازشریف کی ڈیل کر کے لندن فرار ہونے کی خبر ہفتوں پہلے بریک کر دی تھی۔ جس پر یہ سب بہت سیخ پا ہوئے تھے کہ میڈیا پر بھانڈا کیوں پھوٹ گیا؟ ہم نے تو بیماری کے علاج کا بیانیہ چلانا تھا۔ "صحافی" ہوتا تو منہ بند رکھ کر پلیٹلیٹس پر ہی گفتگو کرتا۔ اور لندن جا کر میاں صاحب کے علاج نہ کروانے پر بلکل سوال کرنے کی جرات نہ کرتا۔ اب اگر مریم اورنگزیب اور فہد حسین نے سرٹیفکیٹ جاری کرنے ہیں کہ کون صحافی ہے اور کون نہیں؟ تو اس ملک کا اللّه ہی حافظ ہے مریم اورنگزیب نے کل ایک صحافی کو کہا کہ عمران خان دور کی نسبت PDM حکومت میں میڈیا بہت آزاد ہے۔ اور صحافیوں کو کوئی خطرہ نہیں۔ وہ یہ بتانا بھول گئیں کہ ارشد شریف کو دھمکیاں کون دیتا تھا؟ اس پر اپنے ہی ملک میں زمین کس بدبخت نے تنگ کی تھی؟ کس نے ارشد شریف کے جنازے والے دن لندن بیٹھ کر ہندو تہوار "دیوالی" منانے کے بہانے کیک کاٹ کر جشن منایا اور تصاویر جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر لگائیں تاکہ عوام کو دکھا سکیں۔ عمران ریاض خان کو لاکھوں لوگ روزانہ کی بنیاد پر سنتے اور دیکھتے ہیں۔ وہ کرپٹ عناصر کی نیندیں حرام کیے ہوئے تھا۔ وہ باطل کے آگے جھکا نہیں۔ اس نے چھوٹی چھوٹی دنیاوی آسائشوں کے پیچھے اپنا ضمیر اور اپنا قلم نہ بیچا۔ دن رات محنت کر کے یوٹیوب پر ایک نیا Trend set کر دیا ماشاءاللّه۔ اور اسے اسی بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ وہ باقی بہت سے نالائق پانڈوں کی طرح اپنے ضمیر کی قیمت لگوا کر بریانی کی پلیٹ، قیمے والا نان اور پیپسی کی بوتل پکڑ کر لائن میں کیوں نہیں لگا۔ بےشک اللّه سب کچھ سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے اور وہ اپنے بندے پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ یہ وقت بھی گزر جاۓ گا انشاءاللّه اور حق فاتح ہو کر رہے گا انشاءاللّه۔ عمران ریاض خان۔ تم جہاں بھی ہو، تمہارے بوڑھے والدین، بیوی بچوں اور کروڑوں پاکستانیوں کے دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ اللّه تمہاری عزت میں مزید اضافہ کرے۔ آمین۔
 
https://twitter.com/MaleehaHashmey/status/1661208204297027590

May 19, 2023

پاکستان کی انڈسٹری کس حکمران نے تباہ کر دی جو آج تک بحال نہ ہو سکی۔

 

ساٹھ کی دہائی تک پاکستان میں انڈسٹری فروغ پا رہی تھی۔
اصفہانی،                                                                                  
آدم جی،
سہگل،
جعفر برادرز،
رنگون والا،
افریقہ والا برادرز
جیسے ناموں نے پاکستان کو انڈسٹریلائزیشن کے راستے پر ڈال دیا تھا۔ دنیا پاکستان کو انڈسٹریل پیراڈائز کہا کرتی تھی۔ ماہرین کا کہنا تھا ترقی کی رفتار یہی رہی تو پاکستان ایشیا کا ٹائیگر بن جائے گا۔
یہاں فیکٹریاں، ملیں اور کارخانے لگ رہے تھے۔ بجائے ان کاروباری خاندانوں کے مشکور ہونے کے کہ وہ معاشی سرگرمی کو زندہ رکھے ہوئے تھے، ہمارے ہاں سرمایہ دار کو ہمیشہ دشمن سمجھا گیا۔ رہی سہی کسر بھٹو کے سوشلزم کے خواب نے پوری کر دی۔ ہمارے ہاں نظمیں پڑھی جانے لگیں “چھینو مل لٹیروں سے”۔ چنانچہ ایک دن بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن کے ذریعے یہ سب کچھ چھین لیا۔ لوگ رات کو سوئے تو بڑے وسیع کاروبار کے مالک تھے، صبح جاگے تو سب کچھ ان سے چھینا جا چکا تھا۔
بھٹو نے 31 صنعتی یونٹ، 13 بنک، 14 انشورنش کمپنیاں، 10 شپنگ کمپنیاں اور 2 پڑٹرولیم کمپنیوں سمیت بہت کچھ نیشنلائز کرلیا۔سٹیل کارپوریشن آف پاکستان، کراچی الیکٹرک، گندھارا انڈسٹریز، نیشنل ریفائنریز، پاکستان فرٹیلائزرز، انڈس کیمیکلز اینڈ اندسٹریز، اتفاق فاؤنڈری، پاکستان سٹیلز، حبیب بنک، یونائیٹڈ بنک، مسلم کمرشل بنک، پاکستان بنک، بینک آف بہاولپور، لاہور کمرشل بنک، کامرس بنک، آدم جی انشورنس، حبیب انشورنس، نیو جوبلی، پاکستان شپبگ، گلف سٹیل شپنگ، سنٹرل آئرن ایند سٹیل سمیت کتنے ہی اداروں کو ایک حکم کے ذریعے ان کے جائز مالکان سے چھین لیا گیا۔
مزدوروں اور ورکرز کو خوش کرنے کے لیے سوشلزم کے نام پر یہ واردات اس بے ہودہ طریقے سے کی گئی۔ شروع میں کہا گیا حکومت ان صنعتوں کا صرف انتظام سنبھال رہی ہے، جب کہ ملکیت اصل مالکان ہی کی رہے گی۔ پھر کہا گیا ان ان صنعتوں کی مالک بھی حکومت ہو گی۔پہلے کہا گیا کسی کو کوئی زر تلافی نہیں ملے گا۔ پھر کہا گیا دیا جائے گا۔ کبھی کہا گیا مارکیٹ ریٹ پر دیا جائے گا۔ پھر کہا گیا ریٹ کا تعین حکومت کرے گی۔ یوں سمجھیے ایک تماشا لگا دیا گیا۔ مزدور اور مالکان کے درمیان معاملات خراب تھے یا دولت کا ارتکاز ہو رہا تھا تو اس معاملے کو اچھے طریقے سے بیٹھ کر حل کیا جا سکتا تھا۔ مزدوروں کی فلاح کے لیے کچھ قوانین بنائے جا سکتے تھے لیکن بھٹو کا مسئلہ اور تھا۔ وہ مزدور اور کارکن کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ سرمایہ داروں کے خلاف انہوں نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یہ تاثر قائم کرتے کرتے انہوں نے پاکستانی معیشت کو برباد کر دیا۔
رزاق داؤد کے دادا سیٹھ احمد داؤد کو جیل میں ڈال کر ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ بعد ازاں وہ مایوس ہو کر امریکہ چلے گئے اور وہاں تیل نکالنے کی کمپنی بنا لی ۔اس کمپنی نے امریکہ میں تیل کے چھ کنویں کھودے اور کامیابی کی شرح 100 فیصد رہی۔ آج ہمارا یہ حال ہے کہ ہم تیل کی تلاش کی کھدائی کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کے محتاج ہیں۔ صادق دائود نے بھی ملک چھوڑ دیا، وہ کینیڈا شفٹ ہو گئے۔
ایم اے رنگون والا ایک بہت بڑا کاروباری نام تھا۔ وہ رنگون سے بمبئی آئے اور قیام پاکستان کے وقت سارا کاروبار لے کر پاکستان آ گئے۔ وہ یہاں ایک یا دو نہیں پینتالیس کمپنیاں چلا رہے تھے۔ انہوں نے بھی مایوسی اور پریشانی میں ملک چھوڑ دیا، وہ ملائیشیا چلے گئے۔
بٹالہ انجینئرنگ کمپنی والے سی ایم لطیف بھی بھارت سے پاکستان آ چکے تھے اور بادامی باغ لاہور میں انہوں نے پاکستان کا سب سے بڑا انجینئرنگ کمپلیکس قائم کیا تھا جو ٹویوٹا کے اشتراک سے کام کر رہا تھا۔ یہ سب بھی ضبط کر لیا گیا۔ انہیں اس زمانے میں ساڑھے تین سو ملین کا نقصان ہوا اور دنیا نے دیکھا بٹالہ انجینئرنگ کے مالک نے دکھ اور غم میں شاعری شروع کر دی۔ رنگون والا، ہارون، جعفر سنز، سہگل پاکستان چھوڑ گئے۔ کچھ نے ہمت کی اور ملک میں ہی رہے‘ جیسے دادا گروپ ، آدم جی، گل احمد اور فتح، لیکن ان کا اعتماد یوں مجروح ہوا کہ پھر کسی نے انڈسٹریلائزیشن کو سنجیدہ نہیں لیا۔
احمد ابراہیم کی جعفر برادرز اس زمانے میں مقامی طور پر کار بنانے کے قریب تھی ۔ہم آج تک کار تیار نہیں کرسکے۔
فینسی گروپ اکتالیس صنعتیں تباہ کروا کے یوں ڈرا کہ اگلے چالیس سالوں میں اس نے صرف ایک فیکٹری لگائی، وہ بھی بسکٹ کی۔
ہارون گروپ کی پچیس صنعتیں تھیں، وہ اپنا کاروبار لے کر امریکہ چلے گئے۔ آج پاکستان میں ان کے صرف دو یونٹ کام کر رہے ہیں۔ کاروباری خاندان ملک چھوڑ گئے یا پاکستان میں سرمایہ کاری سے تائب ہوگئے۔
ادھر بھٹو نے صنعتیں قبضے میں تو لے لیں لیکن چلا نہ سکے۔ان اداروں میں سیاسی کارکنوں کی فوج بھرتی کر دی گئی ۔مزدور اب سرکار کے ملازم تھے، کام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ نتیجہ یہ نکلا ایک ہی سال میں قومیائی گئی صنعت کا 80 فیصد برباد ہوگیا۔زرعی گروتھ کی شرح میں تین گنا کمی واقع ہوئی۔نوبت قرضوں تک آ گئی۔ جتنا قرض مشرقی اور مغربی یعنی متحدہ پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں لیا تھا اس سے زیادہ قرض بھٹو حکومت نے چند سالوں میں لے لیا۔ خطے میں زیادہ افراطِ زر پاکستان میں تھا۔ادائیگیوں کے خسارے میں 795 فیصد اضافہ ہو گیا۔
سٹیٹ بنک ہر سال ایک رپورٹ پیش کرتا ہے۔ بھٹو نے چار سال سٹیٹ بنک کو یہ رپورٹ ہی پیش نہ کرنے دی تا کہ لوگوں کو علم ہی نہ ہوسکے کتنی تباہی ہو چکی۔
ہم بھی کیا لوگ ہیں؟
اپنی انڈسٹری اپنے ہاتھوں سے تباہ کر کے اب ہم چین کی منتیں کر رہے ہیں یہاں اندسٹری لگائے۔
*من قول*

 

May 18, 2023

PML N Corruption Stories & Record Burn every Time

 


یہ آگ صرف ریکارڈ کیوں جلاتی ہے؟

آصف محمود
مبارک ہو ، اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ پر بھی آگ لگ گئی ۔ آ گ میں نجی فضائی کمپنیوں کا ریکارڈ جل گیا ۔ جی ہاں وہی نجی فضائی کمپنیاں جن کے مالکان کو سپریم کورٹ نے طلب کیا تھا ۔ آپ تجربہ کار حکمرانوں کے بابرکت عہد میں بھڑکنے والی اس آگ کے کمالات دیکھیے جس معاملے پر تفتیش شروع ہوتی ہے یہ وہاں جا کر بھڑک اٹھتی ہے اور سارا ریکارڈ جلا دیتی ہے ۔
ندی پور پراجیکٹ کو دیکھ لیجیے۔ بڑا شور تھا اس پراجیکٹ کا ۔ اس پراجیکٹ پر 58 بلین کی لاگت آئی ۔ اتنی بھاری رقم برباد کر کے اس سے جو بجلی پیدا ہوئی اس کی قیمت 42 روپے فی یونٹ تھی ۔ یہ اب تک کی پیدا کی جانی والی مہنگی ترین بجلی تھی ۔
شہباز شریف نے اس پراجیکٹ میں اپنے کمالات دکھانا شروع کر دیے ۔ ایم ڈی کی پوسٹ ہی نہیں تھی وزیر اعلی نے یہ پوسٹ نکال لی ۔ یہی نہیں مرضی کے ایک گریڈ انیس کے افسر کو ایم ڈی تعینات کر دیا ۔ یہ افسر پارکس ہارٹیکلچر میں کام کر رہے تھے اور انہیں متعلقہ شعبے کا کوئی تجربہ نہ تھا ۔ بس خادم اعلی کے چہیتے تھے اس لیے منصب عطا فرما دیا گیا ۔ لاڈلے ایم ڈی کو تعریفی سرٹیفیکیٹ کے ساتھ ساتھ 1600 فیصد اضافی الاؤنس ( جی ہاں صرف 1600فیصد) بھی عطا فرما دیا گیا ۔ ایم ڈی نے خوب مزے کیے۔ ٹیکنیکل سٹاف کو کسی سے پوچھا تک نہیں لیکن ایم ڈی نے ٹریننگ کے نام پر امریکہ یاترا بھی کر لی ۔ نیپرا قوانین پامال کر دیے گئے ۔ ناقص فرنس آئل اورغلط پالیسیوں سے پراجیکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا اور یہ چالو ہونے کے پانچویں ہی روز بند ہو گیا ۔ بہت شور مچا ۔ چنانچہ مجبوری کے عالم میں تحقیقات شروع ہو گئیں۔
حکمرانوں کے پاس بچنے کا اب ایک ہی راستہ تھا ۔ آگ ۔ چنانچہ جہاں کروڑوں کے غبن اور کرپشن کا ریکارڈ پڑا تھا وہاں آگ لگا دی گئی ۔ کہا گیا چند نامعلوم لوگ آئے اور آگ لگا کر چلے گئے۔ خریدوفروخت کا تمام کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا ۔ گارڈ گرفتارر ہوا اس نے تسلیم کیا آگ سی ای او کے حکم پر لگائی گئی ۔ طویل چپ کے بعد ایک روز خواجہ آصف نے فرمایا تحقیقات ہوں گی اور مجرموں تک پہنچا جائے گا ۔ آج تک مگر کچھ سامنے نہیں آ سکا ۔ اب تو ڈر لگتا ہے یہ سوال اٹھایا جائے تو کہیں جمہوریت کو ڈینگی ہی نہ ہو جائے۔

لاہور میں میٹرو بنی ۔ کرپشن کی ہوشربا کہانیاں سامنے آنے لگیں ۔ آ ڈیٹر جنرل نے 2 بلین کی ناجائز اور غیر قانونی ادائیگیوں کی بات کر دی ۔ پنجاب اسمبلی میں شور اٹھ کھڑا ہوا ۔ نیب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ۔ نیب نے ریکارڈ طلب کر لیا ۔ اب قریب تھا کہ نامہ اعمال کھل کر سامنے آجائے چنانچہ جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں ایک بار آگ سامنے آئی ۔ آگ نے نعرہ لگایا ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ایل ڈی کے اس کمرے میں جا گھسی جس میں میٹرو کا ریکارڈ پڑا تھا ۔ یہ جمہوریت ہی کی برکات تھیں کہ آگ بھی اتنی سیانی ہو چکی تھی ۔ تب سے اب تک نیب سر پکڑ کر بیٹھی ہے کہ جن تجربہ کاروں کی آگ اتنی قابل ہے ان تجربہ کاروں کی اپنی فنکاریوں کا عالم کیا ہو گا۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے سر پیٹ لیا کہ اس با کمال آگ نے صرف میٹرو کا ریکارڈ ہی نہیں جلایا اس نے دانش سکول میں ہونے والی 750ملین کی کرپشن ، لیپ ٹاپ سکیم میں 70 ملین کی کرپشن اور سستی روٹی تنور میں 30 بلین کی مبینہ کرپشن سے متعلقہ ریکارڈ کو بھی جلا دیا ہے ۔ ڈاکیے کی طرح یہ آگ سیدھی اس کمرے میں گئی جہاں یہ ریکارڈ رکھا تھا۔
2013 کے انتخابات کی شفافیت پر جو طوفان اٹھا اس سے ہم آگاہ ہیں ۔ الیکشن کمیشن نے سنٹرل ماڈل سکول لاہور میں کچھ اہم ریکارڈ رکھا ہوا تھا ۔ ایک روز یہ تجربہ کار آگ وہاں بھی پہنچ گئے اور پورے سکول میں صرف اس کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں یہ ریکارڈ پرا ہوا تھا۔
ستمبر 2017 میں اس تجربہ کار آگ نے اسلام آباد کا رخ کیا ۔ یہ لہراتی بل کھاتی سیدھی عوامی مرکز جا پہنچی ۔ یہ اتنی نظریاتی آگ تھی کہ اس اس سارے مرکز کی بھول بھلیاں بھی اسی راستے سے بھٹکا نہ سکیں ۔ یہاں چار درجن کے قریب اداروں اور نجی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں لیکن آگ نے ان میں کسی کو چھوا تک نہیں ۔ یہ سیدھی وفاقی ٹیکس محتسب کے دفتر پہنچی اور سب کچھ جلا کر بھسم کر دیا ۔ وفاقی محتسب کے دفتر میں کیا کچھ نہیں پڑا ہو گا ۔ کس کس کا نامہ اعمال وہاں ہو گا ؟ کیا معلوم کتنے ہی اہم لوگوں کے کیسز کا ریکارڈ وہاں موجود ہو ۔ آگ آخر اتنی کثیر المنزلہ عمارت میں اتنے زیادہ دفاتر چھوڑ کر سیدھی وفاقی محتسب کے دفتر کو جلاتی ہے تو اس کی کچھ وجہ تو ہو گی۔
اب یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پنجاب میں تجربہ بیلے ڈانس کر رہا ہو اور سندھ پیچھے رہ جائے ۔ چنانچہ اب سندھ سیکرٹریٹ میں بھی آگ لگ جاتی ہے۔ جس کے شعلے پکار پکار کر اعلان کرتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے ۔ کیوں نہ صدر مملکت جناب قبلہ ممنون حسین صاحب سے درخواست کی جائے کہ عالی جاہ اس آگ کو بھی ایک عدد صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا فرما کر ممنون فرمائیں ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے بھی درخواست کی جا سکتی ہے کہ حکمران لیگ کو آئندہ انتخابات میں انتخابی نشان کے طور پر ’’ آگ‘‘ الاٹ کی جائے۔ یہ تجربہ کاروں کے تجربے کے اعتراف میں ایک حقیر سا خراج عقیدت ہو گا۔
پی آئی اے کو زرداری حکومت نے بھی مال غنیمت ہی سمجھا لیکن جب سے ایئر بلیو کا مالک پاکستان کا وزیر اعظم بنا ہے تب سے تو لہک لہک کر اور مچل مچل کر قوم کو بتایا جا تا ہے کہ پی آئی اے کا تو بیڑا غرق ہو چکا ہے ۔ اس کی تو نجکاری کرنا پڑے گی ۔ ساتھ ہی چہروں پر مصنوعی سنجیدگی طاری کر کے فرمایا جاتا ہے اب معلوم نہیں کوئی اس کو خریدے گا بھی کہ نہیں ۔ مفتاح اسماعیل کی نا معلوم خدمات پر انہیں وزیر خزانہ بنایا گیا ہے۔ ایک روز کہنے لگے جو پی آئی اے خریدے گا اسے سٹیل مل مفت میں دیں گے۔ مفتاح نے یہ مُفتا کیا یہ سوچ کر آفر کیا کہ جو بیچ رہے ہیں وہی تو بھیس بدل کر خریدنے والے بھی ہوں گے اس لیے لوٹ سیل لگا کر ’’ ووٹ‘‘ کو عزت دی جائے۔
ایسے ارشادات بلا وجہ نہیں ادا ہوتے۔ کیا جان بوجھ کر پی آئی اے کی ساکھ تباہ کی گئی تا کہ نجکاری کے موقع پر کوئی سنجیدہ بولی دینے آئے ہی نہیں اور یہ ادارہ گھوسٹ بڈ کے ذریعے ہتھیا لیا جائے۔ یہ عجب حکومت ہے جو ایک چیز کی نجکاری کا منصوبہ دے رہی ہے لیکن اس کی اچھی قیمت وصول کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے خودہی کہے جا رہی ہے پتا نہیں اب اسے کوئی لیتا بھی ہے یا نہیں ۔ایسا تاجر کبھی مارکیٹ میں نظر آ جائے تو لوگ اسے پکڑ کر کسی نفسیاتی ہسپتال چھوڑ آئیں ۔ یہاں ایسے لوگوں کے ہاتھ زمام اقتدار ہے۔ قریب تھا کہ ایئر بلیو کے مالک کے دور حکومت میں پی آئی اے کا سوا ستیا ناس ہو جاتا لیکن چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا اور نجی ایئر لائنز کے مالکان بشمول وزیر اعظم کو طلب کر لیا۔
اب چیف جسٹس ملک سے باہر ہیں اور اسلام آباد ایئر پورٹ پر صرف اسی کمرے میں آگ لگ گئی ہے جہاں نجی فضائی کمپنیوں کا ریکارڈ پڑا تھا ۔ واہ بھئی واہ۔کیا تجربہ ہے اور کیا آگ ہے۔

 

Sitting Govt. Cruelty on Imran Khan & PTI

 
عمران خان کو جھکانے کےلیے ہر حربہ استعمال ہو چکا ہے ، اس کی آدھی پارٹی اغوا ہو چکی ہے ، اس کے راہنما روز پریس کانفرنس کر کے پارٹی چھوڑنے کے اعلان کر رہے ہیں ، پوری ریاستی مشینری اسکی پارٹی کو کچلنے میں لگی ہوئی ہے لیکن سلام ہے شوکت خانم کو جس نے وہ بہادر بیٹا جنا جو ڈٹ گیا ہے۔ نہ اسے گولیوں کا خوف ہے ، نہ ریاستی مشینری کے ظلم کا۔ وہ بس حق پہ ڈٹ گیا ہے۔ اسے مسلسل آفر ہو رہی ہے کہ ابھی وقت ہے پانچ سال کےلیے ملک چھوڑ دو ورنہ یہ ظلم بڑھتا جائے گا لیکن آج اس نے وہ جملہ کہہ کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ اگر میں اکیلا بھی رہ گیا تو اس حقیقی آزادی کی جنگ سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

پاکستانیو فخر کرو اپنے لیڈر پر کیونکہ گاڈ فاڈر ،سسلین مافیا ،زرداری مافیا, سرمایہ دار مافیہ، صحافتی طوائف ،دین فروش مولویوں ،خونی لبڑلوں، ملحدوں ، وطن فروشوں، سب کا نشانہ عمران خان بنا ہوا ہے اور وہ اکیلا سب کے خلاف ڈٹا ہوا ہے ، ظاہر ہے اس بندے میں کچھ تو ہے ،
اور تاریخ اٹھا کر دیکھیں جن مافیاز کے آباؤ اجداد ایک وقت میں انگریزی فوج کے زیر سایہ کمر بستہ ہو کر قائد اعظم محمد علی جناح کے خلاف ہوتے تھے ، وہی طبقے اور ان کی اولادیں ایسٹ انڈیا کمپنی کی باقیات کے ساتھ مل کر عمران خان کے خلاف کمر بستہ ہیں ،جیسے لفافہ ڈانشوڑ، قائد اعظم کو کافر اعظم قرار دینے والے دین فروش مولوی ، قائد اعظم پر مذہبی شدت پسندی کا الزام لگانے والے اور دو قومی نظریہ کا مذاق اڑھانے والے خونی لبڑل و ملحدین، آستین کے سانپ سیاستدان یہ سب قائد اعظم کے خلاف تھے ،
لیکن اُس مردِ مومن ،مردِ حق نے ہمت نہ ہاری اور لڑتا رہا ، حلانکہ ایسا وقت جب آپ کو اندرونی بیرونی ،چند مذہبی،اور مذہب بیزاروں، سب نے گھیر لیا ہو تو ظاہر ہے، انسان کو تھوڑا سا ڈر خوف تو ہوتا ہی ہے نا ،لیکن سلام ہے اس مرد حق پر وہ نہ ڈرا نہ جھکا،اور لڑتا رہا ،
کیوں لڑتا رہا ؟
کیونکہ اسے یقین تھا خدا کی ذات پر اور خدا کے بعد عوام کی طاقت پر، اور پھر چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب پاکستان جس کا وجود میں آنا کمزور ایمان ،بے ایمان لوگ محض ایک خواب سمجھتے تھے وہ معرض وجود میں آگیا ،اور چھا گیا ۔۔
البتہ اس کے بعد ، بعد میں آنے والوں کی غلطیوں سے ہوا کچھ یوں کہ جو پاکستان مخالفت میں انگریزوں سے زمینیں و مراعات بٹورتے رہے ،وہ پاکستان بننے کے بعد بڑے جاگیردار سرمایہ دار ٹھہرے ، جو مسلمانوں کے خلاف تھے وہ عہدے بٹورنے لگے ، جو انگریز فوج سے مرعوب تھے اور جنگ عظیم میں ان کا ساتھ دے چکے تھے وہ نفسیاتی غلام بن کر انگریزی راج قائم رکھنے میں لگ گئے ، یہ سب طبقات مل کر پاکستان پر قابض ہوگئے ۔
اور جنہوں نے پاکستان بنوانے کے لیے اپنی جان مال سب کچھ قربان کی ،اپنا خون بہایا، ان کی اولادوں کا آج بھی خون بہہ رہا ہے ،ان کے مال پر آج بھی ڈاکے پڑھ رہے ہیں ،اور پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کی اولادیں آج اس کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں ،
خیر جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر سایہ یہ چند خاندان مافیا کی صورت میں اس ملک پر قابض ہیں ،جن میں سیاستدان جاگیر دار ،سرمایہ دار ،میڈیا کے کنگ میکرز ، اور ان کے اپنے پراپرٹی ڈیلرز ، ان سب کو اپنا انجام دکھ رہا ہے عمران خان کے ہاتھوں۔
اسلئے یہ عمران خان کے خلاف آخری حد تک جائیں گے، جہاں تک ہوسکا جائے گے ،جتنا گرنا پڑا گریں گے ،جتنی دولت لگانی پڑی لگائینگے، جس قدر طاقت کا وحشیانہ استعمال ہو سکا کریں گے کیونکہ بس ایک بار عمران خان کو مائنس کر کے مل کر راج چلانا ہے ، کیونکہ اس مافیا کے پاس تو بڑی بڑی طاقتیں ہیں ،غیر ملکی آقائیں ہیں ،لیکن ایک عمران خان ہے جس کے پاس بس خدا کی مدد اور قوم کی حمایت ہے اور وہ ان کے خلاف ڈٹ گیا ہے ،
لیکن چونکہ یہ مافیا اللّه کی مخلوق پر ظلم پے ظلم کرتی رہی ،اسلئے اللّه نے ان کی عقلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں ،یہ مافیا سمجھ نہیں پارہی کہ جس بندے کو عزت اللّه نے دی ہو ،جس بندے کا مقام اللّه نے قوم کے دل میں پیدا کی ہو ، جس بندے کےلیے خلق خدا کے دل موڑ دیے ہوں ، اُسے یہ اپنے جھوٹے پروپیگنڈے ،صحافتی طوائفوں ،دین فروش مولویوں ،اور خونی لبڑلوں کے ذریعے مٹا سکتے ہیں نہ طاقت کے استعمال سے، وہ ہر پروپیگنڈا میں اس سیاست میں زندہ و جاوید رہا اور گولیاں لگ کر بھی زندہ رہا کیونکہ اس کی حفاظت ، اس کی عزت ، اس کا معیار سب اللہ کے ہاتھ میں ہے ،
پس تمام محب وطن پاکستانیوں ، تحریک انصاف کے ہمدردوں کو میرا پیغام ہے کہ "عمران خان کا ویژن اتنا کمزور نہیں ، عمران خان کی پارٹی اتنی کمزور نہیں ، عمران خان قوم کا تعلق اتنا کمزور نہیں جسے یہ دو ٹکے کے صحافیوں کے پروپیگنڈے ، پارٹی چھوڑنے والے چند راہنماؤں یا عوام پہ جبر کرنے کی وجہ سے ختم ہو جائے ،اسلئے پریشان نہ ہونا ،البتہ عمران خان کو اپنی دعاوں میں یاد کرتے رہنا ،
اور ہاں اگر پھر بھی ہر طرف سے پروپیگنڈے ، رنگ برنگی پریس کانفرنس اور اس چند روزہ ظلم و ستم پر تھوڑی سی مایوسی ہونے لگے ،تو ایک بار قائد اعظم والے تاریخ کو تصور میں لانا اُس وقت بھی کچھ اسطرح کے پروپیگنڈے تھے ، کچھ اس طرح کی غنڈہ گردی تھی ، کچھ اس طرح کے سخت حالات تھے لیکن اُس مرد مومن نے پاکستان بنا کے دکھایا ،اور انشاءلله یہ مرد مومن پاکستان بچا کے دکھائے گا !!! بقلم خود باباکوڈا

 

May 12, 2023

VENOMOUS & NON VENOMOUS SNAKE BITES

 

غیر زہریلے اور زہریلے سانپ کے کاٹنے کے درمیان فرق بنیادی طور پر ان علامات کی شدت میں ہوتا ہے جو کاٹنے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔

 غیر زہریلے سانپ کے کاٹنے کے نتیجے میں عام طور پر ہلکی سے اعتدال پسند علامات ہوتی ہیں، جیسے کہ کاٹنے کی جگہ پر درد، سوجن اور لالی۔ یہ علامات کچھ خون بہنے اور زخموں کے ساتھ بھی ہو سکتی ہیں۔ تاہم، علامات عام طور پر کاٹنے کی جگہ سے باہر نہیں پھیلتی ہیں، اور جس شخص کو کاٹا جاتا ہے اسے کسی سنگین یا جان لیوا پیچیدگیوں کا سامنا کرنے کا امکان نہیں ہوتا ہے۔

 دوسری طرف، زہریلے سانپ کے کاٹنے سے بہت زیادہ شدید علامات پیدا ہو سکتی ہیں، بشمول شدید درد، سوجن، اور کاٹنے کی جگہ پر رنگت۔ اس کے علاوہ، زہریلے سانپ کے کاٹنے سے نظامی علامات، جیسے متلی، الٹی، چکر آنا، سانس لینے میں دشواری، اور بعض صورتوں میں فالج یا موت بھی ہو سکتی ہے۔ علامات کی شدت کا انحصار سانپ کی قسم پر ہوگا جس نے انسان کو کاٹا، زہر کے انجیکشن کی مقدار اور زہر کے بارے میں فرد کے انفرادی ردعمل پر۔

 

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تمام سانپ زہریلے نہیں ہوتے، اور یہاں تک کہ زہریلے سانپ بھی کاٹتے وقت زہر نہیں لگا سکتے۔ تاہم، اگر آپ کو سانپ نے کاٹ لیا ہے، تو اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا سانپ زہریلا تھا اور مناسب علاج کروانے کے لیے فوراً طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

 

Total Pageviews