Showing posts with label QOUM PAK ARMY K SATH HY. Show all posts
Showing posts with label QOUM PAK ARMY K SATH HY. Show all posts

May 10, 2025

PAKISTAN & INDIA AIR FORCE FIGHT MAY-2025 EXPOSED

 


  پاکستان کی فضائی برتری 08-مئی-2025

کل ‏صبح 4 بجے ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا—میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ سفارتی پس منظر میں۔ چین کے سفیر کو راولپنڈی سے ایک ہنگامی کال کی گئی، اور چند گھنٹوں میں ایک طویل عرصے سے تیار کردہ منصوبہ فعال ہوگیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محض ایک فضائی جھڑپ نہیں تھی—بلکہ بھارت کی فضائی برتری کے تاثر کا مکمل خاتمہ تھا۔

‏بھارتی فضائیہ نے مغربی محاذ پر تقریباً 180 طیارے اکٹھے کیے تھے، ارادہ تھا: بالاکوٹ کی طرز پر حملہ کر کے پاکستان کا دفاع توڑنا اور اپنی برتری ثابت کرنا۔

‏لیکن فضائیں اب پہلے جیسی نہیں رہیں۔

‏بھارت 300 کلومیٹر دور کیوں چلا گیا؟
‏دوبارہ بھارتی طیارے سرحد پار نہ کر سکے، کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ آگے کیا منتظر ہے:

‏چینی J-10C لڑاکا طیارے

‏PL-15 میزائل جن کی رفتار Mach 5 اور رینج 300 کلومیٹر سے زیادہ

‏ایر آئی ریڈار، جو ہر طیارے کو ایک جُڑے ہوئے سسٹم کا حصہ بناتے ہیں

‏یہ صرف پاکستانی پائلٹ نہیں تھے، یہ چین کا مکمل فضائی جنگی نظام تھا جو اس وقت پاکستانی فضاؤں میں متحرک تھا۔

‏رافیل گرا دیا گیا
‏ایک رافیل طیارہ—جس کی مالیت 250 ملین ڈالر تھی—فضا میں مار گرایا گیا۔ دوسرا بمشکل واپس آیا۔ Spectra الیکٹرانک وارفیئر سسٹم ناکام ہوا۔ PL-15 میزائل بغیر کسی فعال ریڈار کے، خاموشی سے ہدف پر جا لگا—مصنوعی ذہانت کی مدد سے۔

‏یہ لڑائی نہیں، گھات تھی۔

‏چینی سیٹلائٹ اور پاکستانی AWACS کی مدد سے پاکستانی فضائیہ نے سینسر-فیوزن کا استعمال کرتے ہوئے ہدف کو نشانہ بنایا۔ بھارتی طیارے کو نہ ہدف کا پتا چلا، نہ میزائل کا۔

‏بھارتی تذلیل اور دباؤ
‏رافیل، جسے بھارت نے برتری کی علامت کے طور پر خریدا، چین کے بنے میزائل سے مارا گیا۔ یہ صرف تکنیکی ناکامی نہیں بلکہ جغرافیائی پیغام بھی تھا۔

‏یہ واقعہ مغرب کے دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا گیا۔ فرانس کے دفاعی سودے پر سوالات اٹھنے لگے۔ چین خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا—اور شاید مسکرا رہا تھا۔

‏نیا فضائی دور
‏یہ 2019 نہیں ہے۔ یہ بالاکوٹ نہیں ہے۔ اب بھارت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ پاکستانی فضاؤں میں داخلہ خودکشی ہے۔

‏رافیل کیوں ناکام ہوا؟

‏ایری آئی سب کچھ دیکھتا ہے، بھارتی ریڈار کچھ نہیں، خاموشی سے گشت کرتے J-10C طیارے، PL-15E میزائل—جنہیں لاک آن ہونے کے بعد فائر کیا گیا

‏رافیل کو جب احساس ہوا، میزائل صرف 50 کلومیٹر دور تھا۔
‏رفتار: Mach 5
‏وقت: صرف 9 سیکنڈ
‏نتیجہ: بچاؤ ممکن نہیں تھا۔
‏ 250 ملین ڈالر لاگت کا رافیل، ایک سے زائد نشانہ بن گئے-
‏بھارتی فضائیہ اب اپنی ہی سرحد سے 300 کلومیٹر پیچھے جا چکی ہے۔ بالاکوٹ 2.0؟ اب ممکن نہیں۔

‏ہندوستانی ڈاکٹرائن کی شکست
‏بھارت نے پلیٹ فارم خریدے۔ مگر پاکستان نے ایک مکمل "کلنگ چین" بنائی۔
‏اسپکٹرا ای ڈبلیو غیر موثر، فرانسیسی انجینئرنگ بے اثر، بھارتی پائلٹ ناکام، ان کے خلاف جنگ مشینیں لڑ رہی تھیں، جنہیں وہ دیکھ بھی نہیں سکتے تھے-

‏نتیجہ: خاموش فضائی غلبہ
‏یہ صرف ایک لڑائی نہیں تھی، ایک نیا دور تھا۔
‏C4ISR—یعنی کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن، کمپیوٹرز، انٹیلیجنس، سرویلنس، اور ریکی—نے جنگ جیتی۔
‏بھارت کی فضائی برتری کا خواب، جو رافیل پر منحصر تھا، کشمیر کے آسمانوں میں اٹھتے ہی خاک میں مل گیا۔

میمفس بارکر
 ٹیلی گراف

May 09, 2025

Pakistan Wins 59 Minutes Air Space War between JF-17 Thundre & indian Rafale, Mig, Su 30 Air Crafts

 


پاکستان، 9 مئی -- 7 مئی، 2025 کو ہونے والے واقعات میں ایک ڈرامائی موڑ آنے کے بعد، جنوبی ایشیا کے اوپر کے آسمان نے جدید فوجی تاریخ کی سب سے بڑی فضائی لڑائی کا منظر پیش کیا۔ یہ لڑائی تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی، جس میں 100 سے زائد لڑاکا طیارے شامل تھے اور اس کا اختتام پاکستان کی بھارت پر فیصلہ کن فتح کے ساتھ ہوا۔ فضائی ذرائع نے تصدیق کی کہ 59 منٹ کی فضائی جنگ میں پاکستان کی فضائیہ (پی اے ایف) کی بے مثال مہارت اور حکمت عملی کی برتری کا مظاہرہ کیا گیا۔

بھارت نے اپنے ایلیٹ "اسٹریٹجک سکواڈرن" کو تعینات کر کے اس جھڑپ کا آغاز کیا، جس میں جدید رافیل جیٹ، سو-30s اور میگ طیارے شامل تھے۔ ان کا مشن پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونا اور تسلط ظاہر کرنا تھا۔ تاہم، پاک فضائیہ نے فوراً عملی تیاری کر لی اور JF-17 تھنڈر بلاک 3s، F-16 فالکنز، اور زمینی میزائل دفاعی نظاموں کا استعمال کرتے ہوئے طاقتور جوابی کارروائی کی۔ ان افواج نے مل کر بھارتی طیاروں کو ایک Beyond Visual Range (BVR) ہلاکت کے علاقے میں پھنسایا۔جب فضائی لڑائی شروع ہوئی تو پاکستان نے پانچ بھارتی طیارے گرا دیے - جن میں تین رافیل، ایک سو-30MKI، اور ایک میگ-29 شامل تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب رافیل، جو بھارت کی فضائی طاقت میں تبدیلی لانے والے سمجھا جاتا تھا، جنگ میں تباہ ہوئے۔ پاکستان کا فضائی دفاع جدید ریڈار لاکنگ اور میزائل نظاموں پر منحصر تھا جو آنے والے خطرے کو پاکستانی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے بے اثر کر دیتے تھے۔

جس چیز نے اس تصادم کو الگ کیا وہ اس میں شامل پیمانے اور ٹکنالوجی تھی۔ پاکستان نے بھارت کے ہائی ٹیک سسٹم کو اندھا کرنے کے لیے ریڈار جیمنگ اور جوابی اقدامات جیسے جدید الیکٹرانک جنگی حربے استعمال کیے۔ دنیا بھر کے تجزیہ کار پہلے ہی اس مقابلے کو "مشرق کی ٹیکٹیکل ماسٹر کلاس" قرار دے چکے ہیں اور اس کا موازنہ سرد جنگ کے دور کی بڑی فضائی لڑائیوں سے کر رہے ہیں۔ بھارت کی حکمت عملی کوئی زمین یا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے نئی دہلی کے دفاعی حلقوں میں صدمے اور خاموشی چھا گئی۔

عالمی منڈیوں نے اس بحران پر ردعمل کا اظہار کیا کیونکہ رافیل کی فرانسیسی مینوفیکچرر کمپنی کے حصص میں مبینہ طور پر 18 فیصد کمی واقع ہوئی۔ پاکستان کی کامیابی نے نہ صرف بھارت کے فضائی غلبے کے دعووں کو دھچکا پہنچایا بلکہ جے ایف 17 تھنڈر جیسے کم قیمت دیسی طیاروں کی تاثیر کو بھی ظاہر کیا۔ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جنگ سے دنیا بھر میں مستقبل کے فضائی تنازعات سے نمٹنے کا طریقہ بدل جائے گا۔

مجموعی طور پر، یہ ایک دفاعی فتح سے کہیں زیادہ تھا - یہ قومی فخر کا لمحہ تھا اور ان لوگوں کے لئے ایک انتباہ تھا جو پاکستان کی فضائی صلاحیتوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ...

مجموعی طور پر، یہ صرف ایک دفاعی فتح نہیں تھی - یہ قومی فخر کا ایک لمحہ اور ان لوگوں کے لیے ایک انتباہ تھا جو پاکستان کی فضائی صلاحیتوں کو کم تر سمجھتے ہیں۔ بے مثال ہم آہنگی اور حوصلے کے ساتھ، PAF نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مہارت اور حکمت عملی سب سے جدید ٹیکنالوجی کو بھی شکست دے سکتی ہیں۔

    

January 25, 2024

Army Chief Said Imran Khan Sale the Pakistan ہم غیر سیاسی ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے

 

 غیر سیاسی لوگوں کے بیان  ملک کے مقبول لیڈر عمران خان کے بارے میں جس پر 200 کے لگ بھگ جعلی مقدمات بنا کر اڈیالہ جیل میں بند کر رکھا ہے۔

کہا گیا وہ ملک توڑنا چاہتا ہے۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ ملک چلانے کے لیے کون بہتر ہے پچھلا حکمران ملک توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ سب فرمانے والے صاحب شاید گجنی فلم سے متاثر ہیں ورنہ ابھی چند برسوں پہلے آواری ہوٹل میں نواز شریف نے  ایک پریس کانفرنس کی تھی۔

سر

آپ کی ایک سیاسی جماعت کی مخالفت نے آپ کے کردار کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ جو لوگ پاک آرمی کو خوشی سے سیلیوٹ کرتے تھے اُن کے دلوں میں نفرت پیدا ہو گئی ہے۔ 

آپ جیسے چند جرنیلوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں۔ پاک فوج میں ہمارے جو بھائی بیٹے نوکری کر تے ہیں وہ خوش ہیں۔ نہیں صاحب وہ آپ کے اقدامات سے بہت مایوس ہیں۔ 

اگر اُن کا بس چلے تو وہ آپ کی غیر قانونی  چالوں کا جواب دیں۔ مگر وہ ملک اور آئین کے لیئے اطاعت کر رہے ہیں۔ کیونکہ  وہ حکم عدولی کریں گے تو ملک کا دفاع خطرے میں پڑ جائے گا۔ 

آپ اندھے بیل کی طرح طاقت کے نشے میں دھت عمران خان اور اُس کی پارٹی کے خلاف غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ اُن کا جائز اور قانونی حق چھین کر غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔  پلیز  سر  ابھی بھی وقت ہے سنبھل جائیں۔ 

یہ نہ ہو کہ عوام آپ کے مد مقابل کھڑے ہو جائیں پھر کیا کریں گے۔  جن کی حفاظت کے لئے آپ کو بھرتی کیا گیا ہے۔ اُن کے خلاف آپ کہاں تک جائیں گے۔  یہ انجام پاکستان کے لیئے تباہ کن ہو گا۔

سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں صرف اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں۔  آپ کو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔

شکریہ سر   




 

 

 

June 14, 2023

Court Marshal Victim Hassan Askari Wrote Letters to General Qamar Bajwa


 

حسن عسکری: جنرل قمر باجوہ کو خط لکھنے والے کمپیوٹر انجینیئر ’جیل سے رہائی کے بعد گھر پہنچ گئے‘

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت کور کمانڈرز کو خطوط لکھنے کے معاملے پر ایک فوجی عدالت سے پانچ سال قید بامشقت کی سزا پانے والے حسن عسکری، جو ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی کے بیٹے ہیں، رہائی کے بعد گھر پہنچ گئے ہیں۔

بی بی سی کے رابطے کرنے پر حسن عسکری کے اہلخانہ نے اُن کی رہائی کے بعد گھر پہنچنے کی تصدیق کی ہے تاہم اس ضمن میں مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

یاد رہے کہ فوج کے اعلیٰ حکام کو خطوط لکھنے کے معاملے پر حسن عسکری کو 2 اکتوبر 2020 کو زیر حراست لیا گیا تھا اور ان پر ’بغاوت اور فوجی افسران کو اپنی کمانڈ کے خلاف اُکسانے‘ جیسے الزامات تھے۔ بعدازاں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کے نتیجے میں انھیں پانچ سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی اور ساہیوال جیل منتقل کر دیا گیا۔

اگرچہ حکام اور اہلخانہ کی جانب سے رہائی سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں مگر گذشتہ ماہ حسن عسکری کے والد میجر ریٹائرڈ ظفر مہدی نے اپنے بیٹے کو ملڑی کے حوالے کرنے سے متعلق مجسٹریٹ کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کی درخواست پر اپیل واپس لے لی تھی۔

درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے موکل اپنا کیس واپس لینا چاہتے ہیں جس کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل بینچ نے اس کیس کو نمٹا دیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کی وکیل ایمان مزاری نے کہا ہے کہ سزا کے خلاف ملڑی کورٹ آف اپیلز میں کی گئی اپیل کے نتیجے میں حسن عسکری کی سزا کم کر دی گئی تھی۔

حسن عسکری کون ہیں اور ان کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی تھی اس پر بی بی سی نے 20 مئی 2023 کو رپورٹ شائع کی تھی جو ذیل میں دوبارہ پڑھی جا سکتی ہے۔

ظاہر یہ کسی عام عدالت جیسا منظر تھا۔ 15 سے 20 فٹ کے کمرے میں ایک جانب جج اور ان کے سامنے ملزم اور مدعی اپنے اپنے وکلا کے ہمراہ موجود تھے۔ لیکن نا تو یہ مقدمہ عام تھا اور نا ہی عدالت۔

ایک میز کے پیچھے بیٹھے تین فوجی افسران میں سے ایک کا رینک لیفٹینینٹ کرنل جبکہ دو میجر رینک تھے۔ یہ تینوں اس عدالت کے جج تھے۔

ان کے سامنے ہی ایک میز کے پیچھے اسد جمال اپنے موکل کا دفاع کرنے کے لیے موجود تھے۔ اسد جمال کے قریب ہی مقدمے کے مدعی فوجی افسر اپنے وکیل کے ہمراہ براجمان تھے۔

اسد جمال نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ ہی دیر میں ان کے موکل کے خلاف گواہان پیش ہونا شروع ہوئے اور انھوں نے نوٹس لینا شروع کیے تاکہ جرح میں کام آ سکیں تو ان کو روک دیا گیا۔

یہ سماعت ایک عام شہری کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی تھی۔

اس مخصوص مقدمے کے اختتام پر اسد جمال کے موکل حسن عسکری کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سنا کر ساہیوال کی ہائی سکیورٹی جیل بھیج دیا گیا۔

حال ہی میں نو مئی کے واقعات کے بعد عام شہریوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی بازگشت ہوئی تو حسن عسکری کا نام ایک ایسی مثال کے طور پر سامنے آیا جو فوجی عدالت سے سزا پا چکے ہیں۔

حسن عسکری پر سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام لکھے جانے والے ایک خط، جس کی کاپی ججوں کے علاوہ مبینہ طور پر دیگر فوجی جرنیلوں کو بھی بھجوائی، کی وجہ سے پاکستانی فوج میں ’بغاوت اور فوجی افسران کو اپنی کمانڈ کے خلاف اُکسانے‘ کا الزام لگا۔

یہ وہ وقت تھا جب اس وقت کی حکمران جماعت تحریک انصاف سمیت تمام اہم سیاسی جماعتیں جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت کے معاملے پر ایک صفحے پر تھیں اورعمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات نے جنم نہیں لیا تھا۔

حسن عسکری کی قید کے دوران ہی ملک کے سیاسی حالات نے پلٹا کھایا۔ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور انھوں نے آرمی چیف جنرل باجوہ کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

جنرل باجوہ اپنی دوسری مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہو گئے اور عمران خان نے اقتدار سے دور ہونے کے بعد اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنا لیا۔

لیکن وہ کیا حالات تھے جن میں ایک سابق فوجی افسر کا بیٹا، جو آسٹریلیا میں پرسکون زندگی بسر کر رہا تھا، ایک ایسی ہائی سکیورٹی جیل میں پہنچ گیا جہاں صرف خطرناک مجرموں کو رکھا جاتا ہے؟

یہ وہ سوال تھا جس کے جواب کی تلاش میں بی بی سی نے حسن عسکری کے والدین سے بات چیت کی۔

حسن عسکری کون ہیں؟

پاکستان کی بری فوج سے میجر جنرل کے عہدے پر ریٹائر ہونے والے سید ظفر مہدی عسکری کی پہلی اولاد حسن عسکری نے پاکستان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکہ کی سٹیٹ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے کمپیوٹر انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

تاہم ان کے اہلخانہ کے مطابق حسن کمپیوٹرز سے زیادہ معاشیات، آئین اور انسانی حقوق میں دلچسپی رکھتے تھے۔

انھوں نے بیرونِ ملک سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں سی ایس ایس کا امتحان بھی دیا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے اور سنہ دو ہزار کے قریب اپنی بہن زہرا کے ہمراہ آسٹریلیا منتقل ہو گئے۔ تاہم کچھ ہی عرصے کے بعد وہ پاکستان لوٹ آئے۔

زہرا بتاتی ہیں کہ پاکستان واپسی پر حسن عسکری نے اپنی این جی او بھی کھولنے کی کوشش کی۔ ’وہ پاکستان میں اصلاحات کا خواہش مند تھا۔ اسے اپنے ملک سے بہت محبت تھی۔ وہ کہتا تھا کہ میں پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔‘

کچھ عرصہ پاکستان میں گزارنے کے بعد وہ ایک بار پھر آسٹریلیا چلے گئے۔ زہرا کہتی ہیں کہ ’حسن کو آسٹریلیا میں بھی پاکستان کا خیال رہتا تھا۔ وہ ہر وقت کہتا تھا کہ پاکستان کے لیے میں کیا کر سکتا ہوں۔‘

سنہ 2015 کے لگ بھگ حسن کی والدہ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوئیں تو وہ ان کا خیال رکھنے کے لیے ایک بار پھر پاکستان لوٹ آئے۔

پاکستان واپسی کے بعد انھوں نے اسلام آباد میں ایک نجی کمپنی میں نوکری شروع کی لیکن ان کی ملکی سیاست پر گہری نظر رہی۔

فوج کو خطوط لکھنے کا آغاز

حسن کے خاندان کے مطابق فوج کو براہ راست خطوط لکھنے کا سلسلہ انھوں نے 2018 میں شروع کیا تاہم یہ خطوط کس موضوع پر ہوتے تھے، اس سے حسن کا خاندان لاعلم تھا۔

حسن کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’اس نے ہمیں کبھی نہیں بتایا۔ یہ سب تو اس نے ہمیں اب بتایا ہے۔‘

زہرا کہتی ہیں کہ ’وہ براہ راست خط لکھتا تھا۔ اس کا سوشل میڈیا پر کوئی اکاوئنٹ نہیں تھا، اور نہ ہی کبھی اس نے اپنے خطوط کو کہیں چھپوایا۔‘

حسن کے خاندان کا دعوی ہے کہ ایسے ہی ایک خط کے جواب میں انھیں جی ایچ کیو بلایا بھی گیا۔

فوج کے ایڈجوٹینٹ جنرل کی طرف سے حسن عسکری کی فوج میں تحویل کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک جواب جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا کہ حسن عسکری نے ’سنہ2017 سے بڑی تعداد میں خطوط اور کتابچے پاکستانی افسران کو لکھے تھے جس کا مقصد فوجی افسران کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اُکسانا تھا۔‘

اس جواب میں کہا گیا کہ اس حوالے سے حسن عسکری کو ’بارہا متنبہ کیا گیا کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے باز رہیں' لیکن اُنھوں نے 'فوجی افسران کو خطوط لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔‘

دروازہ ایسے بجنا شروع ہوا جیسے کوئی توڑ رہا ہو‘

دو اکتوبر، 2020 کی صبح چھ بجے کا وقت تھا جب ریٹائرڈ میجر جنرل سید ظفر مہدی عسکری ایک شور کی آواز سے اٹھ بیٹھے۔

ایک دن قبل ہی حسن کی سالگرہ تھی۔ وہ 51 برس کے ہو چکے تھے۔

حسن کے والد نے بتایا کہ ’صبح کے چھ بجے کا وقت تھا۔ ہم سو رہے تھے۔ دروازہ ایسے بجنا شروع ہوا جیسے کوئی توڑ رہا ہو۔ ہمیں تو کوئی سمجھ نہیں آئی، ہم آنکھیں ملتے ہوئے باہر نکلے تو اتنی دیر میں وہ حسن کو باہر لے جا چکے تھے۔‘

میجر جنرل (ر) ظفر مہدی کے گھریلو ملازم عالم نے ہی دروازہ کھولا تو زہرا کے مطابق باہر15-20 گاڑیاں تھیں جن میں ’پولیس والے بھی تھے اور سول کپڑوں میں ملبوس اہلکار بھی۔ انھوں نے عالم سے بھی بدتمیزی کی، اسے دھکے دیے۔‘

زہرا کہتی ہیں کہ اہلکار پہلی منزل پر حسن کے کمرے میں گئے جہاں ’اس کے لکھے ہوئے خطوط موجود تھے۔ اس کا کمپیوٹر، پرنٹر فون۔۔۔جو کچھ ان کو ملا وہ لے گئے۔‘

تاہم دو اکتوبر کی اس صبح حسن کے گھر والوں کو علم نہیں تھا کہ انھیں کیوں لے جایا جا رہا ہے۔

حسن کے والد کہتے ہیں کہ ’میں تو ابھی سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہوا کیا ہے تو وہ لوگ جا بھی چکے تھے۔‘

اسی دن شام کو ان کے گھر کے دروازے پر ایک ایف آئی آر اور مجسٹریٹ کے حکم نامے کی کاپی پہنچی۔

اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں یہ ایف آئی آر ایک ہی دن قبل، یعنی یکم اکتوبر کو شام چار بجے درج ہوئی تھی۔ اس میں حسن عسکری کا مکمل پتہ دیتے ہوئے درخواست گزار نے شکایت کی تھی کہ انھوں نے مختلف ’فوجی افسران کو خطوط لکھ کر ڈیوٹی سے گمراہ کرنے اور آرمی چین آف کمانڈ کے خلاف مجموعی مزاحمت اور حکم عدولی پر اکسانے کے لیے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ’حسن عسکری کا یہ عمل فوج میں بغاوت کو جنم دینے کی کوشش تھی جس میں ریاست مخالف عناصر کی پشت پناہی نظر آتی ہے۔‘

اس درخواست پر اگلی ہی صبح حسن عسکری کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ اسی دن، یعنی دو اکتوبر کو ہی اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ میاں محمد اظہر ندیم نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے حسن عسکری کو فوجی حکام کے حوالے کرنے کے احکامات پر دستخط کر دیے۔

حسن عسکری کو کس قانون کے تحت فوج کے حوالے کیا گیا؟

حسن عسکری کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ تعزیرات پاکستان کی اس دفعہ کے تحت اگر کسی شخص پر آرمڈ فورسز کے کسی اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کا جرم ثابت ہو جائے تو اسے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اس قانون کے تحت مجرم کو عمر قید یا دس سال قید اور جرمانے کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے۔

آرمی ایکٹ کے سیکشن 31 ڈی کے تحت صرف کوئی فوجی اہلکار یا افسر ایسے مقدمے میں ملوث پایا جائے تو اس کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے جبکہ سویلین یعنی عام شہری پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس آرمی ایکٹ کی شق 2 ون ڈی کے تحت کسی بھی سویلین کا معاملہ 31 ڈی میں لا کر اس کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اس سویلین کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ کے اندارج اور مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔

’ہمیں ایک میس بلوایا گیا‘

حسن عسکری کے والد سید ظفر مہدی عسکری 1991 میں فوج سے میجر جنرل کے رینک پر ریٹائر ہوئے۔

جب ان کو علم ہوا کہ ان کا بیٹا فوج کی حراست میں ہے تو انھوں نے جی ایچ کیو میں افسران سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اتنا فائدہ ضرور تھا کہ میں لوگوں سے مل سکتا تھا اور لوگ مجھ سے اچھے طریقے سے ملتے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جن افسران سے بھی وہ ملتے، ’وہ اس کیس سے دور رہنے کی کوشش کرتے تھے، وہ تو یہ بھی نہیں بتاتے تھے کہ ہمیں پتہ ہے۔ ہماری کوشش تھی کہ معاملہ حل ہو، ہم کسی سے لڑائی نہ کریں۔‘

ان کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو ماہ بعد حسن سے خاندان کی پہلی ملاقات ہو گئی۔ حسن کی بہن زہرا بھی تب تک پاکستان آ چکی تھیں۔

زہرا نے بتایا کہ ’ہمیں کہا گیا کہ آپ راولپنڈی کے ایک میس آ جائیں۔ تب ہمیں پتہ چلا کہ وہ زندہ ہے اور واقعی فوج کے پاس ہے۔‘

ان کے مطابق حسن دو ماہ کے دوران کمزور ہو چکا تھا۔ ’اس نے بتایا کہ اس کو پتہ نہیں کہ اس کو اس دوران کہاں رکھا گیا لیکن وہ جہاں بھی تھا، اسے تنہا قید رکھا گیا۔‘

’ہمیں اندازہ ہوا اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے‘

زہرا کے مطابق حسن نے اس ملاقات میں ان کو بتایا کہ ان کا لائی ڈیٹیکٹر سے تین بار ٹیسٹ لیا گیا۔

میجر جنرل ظفر مہدی بولے کہ ’تفتیش اسی نکتے پر تھی کہ یہ اکیلا تو کچھ نہیں کر سکتا، تو یہ کس کے ساتھ ہے۔‘

اس وقت تک حسن کے گھر والوں کو اور خود حسن کو بھی شاید یہ امید تھی کہ ان کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا جب تفتیش کاروں کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ حسن کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ خطوط انھوں نے صرف اپنے خیالات کے مطابق ایک انفرادی عمل کے طور پر لکھے تھے۔

لیکن یہ امید اس وقت ٹوٹی جب ان کو علم ہوا کہ حسن کا کیس اب فوج کی جیگ برانچ یعنی قانونی شعبے کو بھجوا دیا گیا ہے۔

زہرا کہتی ہیں کہ ’تب ہمیں اندازہ ہو گیا کہ یہ اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے۔‘

حسن کے خلاف کیا چارج شیٹ ہے، ہمیں کچھ بھی نہیں ملا‘

اسد جمال نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی میں حسن عسکری کا دفاع کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل فوج کی اعلی ترین عدالت ہے جس کے پاس سخت سے سخت سزا دینے کا اختیار ہوتا ہے۔ وہ سزائے موت بھی ہو سکتی ہے اور عمر قید بھی۔‘

اسد جمال نے بتایا کہ حسن عکسری کے کورٹ مارشل کی دو درجن کے قریب سماعتیں ہوئیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس کارروائی کے دوران فوج کی قانونی برانچ، جیگ کا ایک افسر، عدالت کی رہنمائی کے لیے موجود ہوتا ہے جبکہ ملزم کے لیے فوج کی جانب سے ایک نمائندہ دیا جاتا ہے جو ملزم کو اس کے حقوق بتاتا ہے، اس کو کیا سہولیات مل سکتی ہیں اور ان کے مطالبات حکام تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔

اسد جمال کا کہنا ہے کہ ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں فوجی عدالت کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قانون کو ایک طرف رکھ کر، یا معطل کر کے کارروائی تیز تر کر سکتے ہیں۔‘

اسد جمال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی کے لیے جب وہ پہنچتے تو ان کو کمرہ عدالت کے قریب ایک کمرے میں پہنچایا جاتا جہاں حسن عسکری کو لایا جاتا۔

’اس کے چہرے پر کپڑا باندھا ہوتا اور اس کو ہتھکڑی لگی ہوتی۔ ایک عام انسان کے لیے یہ کافی تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔ مجھے نظر آتا تھا کہ حسن کتنی تکلیف میں ہے۔‘

اسد جمال کہتے ہیں کہ حسن کی سزا کے بارے میں وہ لاعلم تھے۔

’مجھے بتایا ہی نہیں۔ کسی کو بھی نہیں بتایا۔ صرف حسن کو بتایا کہ یہ سزا ہوئی ہے۔‘

اسد جمال کا کہنا تھا کہ ’عام حالات اور سول عدالتوں کی طرح فوجی عدالت میں کسی سولین کوعدالت سجا کر فیصلہ نہیں سنایا جاتا کیونکہ سولین شور مچا سکتے ہیں، کچھ کہہ سکتے ہیں۔‘

حسن کے والد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حسن کو ایک سادہ کاغذ پر یہ لکھا ہوا دکھایا گیا کہ پانچ سال قید بامشقت۔ ایک سادہ کاغذ تھا جس پر کسی کے دستخط بھی نہیں تھے۔‘

خط میں کیا لکھا گیا تھا؟

حسن عسکری کو جس خط پر سزا دی گئی، وہ منظر عام پر نہیں آیا۔ آخر انھوں نے خط میں ایسا کیا لکھا کہ ایک فوجی قانون کے تحت ان کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا دی گئی؟

حسن کی وکیل ایمان زینب مزاری سے جب میں نے سوال کیا کہ کیا ان کے پاس اس خط کی نقل موجود ہے تو انھوں نے کہا کہ اس خط کی کاپی کو بھی دکھایا نہیں جا سکتا۔ حسن کی بہن زہرا نے بھی یہی جواب دیا۔

تاہم ایمان زینب مزاری کے مطابق تقریباً 100 صفحات پر مشتمل اس خط میں حسن عسکری نے سیاست میں فوج کے عمل دخل اور آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کے ملک پر ممکنہ سیاسی اور معاشی مضمرات سے خبردار کیا تھا۔

میجر جنرل ظفر مہدی کہتے ہیں کہ ’ایک سویلین اگر آرمی چیف پر تنقید کرتا ہے، تو چیف کو کیسے ہضم ہو گا جو اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہیں کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ پوری حکومت چیف کی ماتحت ہوتی ہے۔ اور اس آدمی کو کوئی ایسے چیلنج کرے۔‘

’یہ ظلم ہوا۔ بس ہماری قسمت خراب تھی۔‘

’یہ سارا معاملہ پرسنل لینے کا ہے۔ اگر آپ پرسنل نہ ہوں تو آپ حالات اور حقائق کو دیکھتے ہیں، لیکن جب آپ پرسنل ہوتے ہیں تو آپ صرف وہ چیز دیکھتے ہیں جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ بس یہ کیس یہی ہے۔‘

’انھوں نے اسے پرسنل بنا لیا۔‘

زہرا کہتی ہیں کہ ’اس کے خلاف ہتک عزت کا کیس کر دیتے۔ لیکن یہ کہنا کہ اس نے فوجی افسران کو بغاوت پر اکسایا بالکل غلط الزام تھا۔

جیل میں ملاقات

حسن کے خاندان کو ابھی علم نہیں تھا کہ حسن کو سزا ہوئی ہے۔

زہرا بتاتی ہیں کہ ’ہم نے اپنے وکیل سے کہا کہ کیا ہم آخری کارروائی کا حصہ بن سکتے ہیں؟ جب وکیل نے فوجی حکام سے رابطہ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ اب حسن گجرانوالہ میں نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کہاں ہے تو انھوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے۔‘

زہرا کہتی ہیں کہ ’ایک بار پھر جی ایچ کیو میں لوگوں کو فون کرنے کا سلسلہ شروع ہوا کہ پتہ کریں حسن کہاں ہے۔‘

’پھر ہمیں ایک افسر نے ایک نمبر دیا اور کہا کہ وہ ساہیوال جیل میں ہے۔‘

جیل میں حسن سے گھر والوں کی پہلی بار ملاقات دو ستمبر 2021 کو ہوئی۔ زہرا کہتی ہیں کہ ’حسن کو ایک سکرین کے پار بٹھایا گیا تھا۔ کورونا کی وجہ سے ایک پلاسٹک کی شیٹ بھی نصب تھی۔‘

’اس کو قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ وہ کافی بے چین تھا۔ اس نے ہمیں بات ہی نہیں کرنے دی اور اس نے کہا کہ دیکھو یہ میرے ساتھ غلط کر رہے ہیں۔ وہ جیسے اپنی بھڑاس نکال رہا تھا۔ اس نے کہا تم لوگوں کو یہ یہ اقدامات کرنے ہیں۔ لیکن اس نے کہا کہ میری فکر مت کروں۔ آپ لوگوں نے اس کے خلاف لڑنا ہے۔‘

’وہ آج تک یہی کہتا ہے کہ میری فکر مت کرو۔‘

عدالتی ریلیف میں ناکامی

مئی 2019 میں پاکستان فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم فوجی عدالت نے ان کی پہلی اپیل پر سزا سات سال کم کر دی اور دوسری اپیل میں اُن کی سزا میں مزید تین سال کی کمی کر دی گئی۔ جنوری 2023 میں ان کو رہا کیا گیا تو جیل حکام کا کہنا تھا کہ بہتر کنڈکٹ کے باعث انھیں قید میں چھوٹ دی گئی۔

تاہم حسن عسکری کی قید کو تقریباً ڈھائی سال گزرنے کے باوجود ان کی ملٹری کورٹ میں اپیل پر اب تک صرف دو دن سماعت ہوئی ہے۔ ملتان میں ہونے والی اس سماعت پر حسن کی وکیل ایمان زینب کی اپنے موکل سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔

واضح رہے کہ فوجی قانون کے مطابق فوجی عدالت کی سزا کے خلاف صرف فوجی کورٹ آف اپیل ہی سزا میں کمی کا اختیار رکھتی ہے۔

حسن عسکری کے معاملے میں سول عدالتوں سے ریلیف کی تمام کوشیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

حسن عسکری کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مجسٹریٹ کی جانب سے حسن عسکری کی فوجی حکام کو حوالگی غیر قانونی تھی۔ تاہم ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے اس درخواست کر مسترد کر دیا۔

اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی جس پر فیصلہ رواں سال فروری میں محفوظ کیا گیا۔

حسن عسکری کی سزا کے بعد خاندان کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ سے یہ اپیل بھی کی گئی کہ بوڑھے والدین کی صحت کو مدںظر رکھتے ہوئے حسن کو اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا جائے۔

عدالت نے خاندان کو آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سے رجوع کرنے کو کہا جنھوں نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

آئی جی کے اس فیصلے کے خلاف حسن کا خاندان ایک بار پھر عدالت پہنچا۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے جون 2022 میں حسن عسکری کو دو ہفتوں کے اندر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے۔

جون 2022 میں جاری ہونے والے اس عدالتی حکم پر بھی اب تک عمل نہیں ہو سکا ہے اور حسن کے معمر والدین آج بھی اس انتظار میں ہیں کہ وہ کب اپنی بیٹے سے مل سکیں گے۔

حسن نے حال ہی میں اپنے خاندان کی نام ایک پیغام میں لکھا: ’ریاستی اداروں پر تمام تر منفی اثرات کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی کوشش جاری ہے چاہے اس کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔۔۔ ہماری غیر منصفانہ جدائی جاری رہے گی۔ ہمیں اس کو قبول کرنا ہو گا۔‘  

Source:

https://www.bbc.com/urdu/articles/c0kp29qk75do?at_bbc_team=editorial&at_link_type=web_link&at_format=image&at_link_id=6F37CAB6-0B32-11EE-836B-BF80FF7C7F44&at_link_origin=BBC_URDU&at_ptr_name=facebook_page&at_medium=social&at_campaign_type=owned&at_campaign=Social_Flow&fbclid=IwAR1Ttn6BokCFUflytPpRy6BJqZCpWYh_LKTf07adsEaEv30LIoAhglpbcok

May 27, 2023

By The Law Pakistan Army Can't Interfare in Politics ?

 

پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق پاکستانی فوج سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی اور پاکستانی فوج کے افسران پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دن بھی یہی حلف اٹھاتے ہیں کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے، لیکن حال ہی میں ہمیں پاکستانی فوج سے پتہ چلا کہ پاکستانی فوج پچھلے 74 سال اور 6 ماہ سے سیاست کر رہی تھی اور اب فروری 2022 سے سیاست چھوڑ چکی ہے - سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پہلے دوسرے لوگ (یعنی سیاست دان، میڈیا وغیرہ) کہہ رہے تھے کہ پاکستانی فوج سیاست میں حصہ لیتی ہے، لیکن اس بار پاکستانی فوج نے خود تسلیم کیا ہے اور ساری عزت گنوا دی ہے۔
اب اصل معمہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج کو نہیں معلوم کہ اسے یہ عزت دوبارہ حاصل کرنے میں کتنا وقت لگے گا یا شاید وہ یہ عزت دوبارہ حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔ وقت ہی بتائے گا یا ان کے مستقبل کے کرتوت بتائیں گے- اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک صرف ایک فرد یا ادارے کی وجہ سے برباد نہیں ہوتا بلکہ تمام شہریوں کا اس میں کوئی نہ کوئی حصہ ہوتا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ جن کے پاس زیادہ طاقت ھوتا ہیں ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ھوتی ہیں -
ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ان 75 سال کی آزمائشوں اور فتنوں سے نکالے گا، انشاء اللہ۔
ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے ظالموں، جابروں اور قانون شکنی کرنے والوں سے نجات عطا فرمائے۔
 آمین یا رب العالمین
(تحریر: خالد احمد خٹک)

 

May 23, 2023

پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کیسے سیاسی رہنماؤں کی اقتدار سے بے دخلی کا باعث بنتی رہی


 پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کیسے سیاسی رہنماؤں کی اقتدار سے بے دخلی کا باعث بنتی رہی

  • احمد اعجاز
  • عہدہ, صحافی

سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین تنازعے کی ابتدا تو اُن کی وزارت عظمیٰ کے دور کے آخری مہینوں سے ہی شروع ہو گئی تھی تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے رائے میں نو مئی کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد دو طرفہ تعلقات میں بہتری کا مستقبل قریب میں کوئی خاص امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔

17 مئی کو ایک ویڈیو بیان میں چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف کا کہنا تھا ’اسٹیبلشمنٹ الیکشن کروائے اور ملک کو بچائے۔ میں کب سے انتظار کر رہا ہوں کہ کوئی ہم سے بات کرے۔‘

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق معاملات جس نہج پر آگے بڑھ رہے ہیں اس کے پیش نظر عمران خان کی بات چیت کی پیشکش فی الوقت پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ماضی میں سیاستدانوں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی، دوطرفہ فاصلوں کی خلیج کو وسعت دے کر سیاسی حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کرنے کا باعث بنتی رہی ہے اور اس کی ابتدا پاکستان کے قیام کے کچھ عرصے بعد سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ 

پاکستان کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کا انجام کبھی نہ تو سیاست اور نہ ہی سیاستدانوں کے حق میں سامنے آیا۔


قیام پاکستان سے پاور ایلیٹ کے مابین اختیارات پر کھینچا تانی

یہ اپریل 1953 کا واقعہ ہے جب اس وقت کے وزیرِ اعظم خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل غلام محمد نے ایوب خان کی معاونت سے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

انھیں ایک ایسے وقت میں ہٹایا گیا تھا جب انھیں نہ صرف اسمبلی کا اعتماد حاصل تھا بلکہ کچھ ہی عرصہ قبل وہ اسمبلی سے بجٹ بھی پاس کروا چکے تھے۔

قیوم نظامی اپنی کتاب ’جرنیل اور سیاست دان، تاریخ کی عدالت میں‘ میں لکھتے ہیں کہ ’بعض مؤرخین کے مطابق خواجہ ناظم الدین جو دستور تیار کروا رہے تھے، اُس میں گورنر جنرل کے اختیارات کم کر دیے گئے تھے۔ ناظم الدین، ایوب خان کو توسیع دینے اور فوج کے حجم کو قومی وسائل سے زیادہ بڑھانے کے مخالف تھے۔‘

قیام پاکستان کے ٹھیک گیارہ برس بعد سنہ 1958 میں ملک میں پہلا مارشل لا لگا دیا گیا۔ قدرت اللہ شہاب، شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ ’اکتوبر 1958 میں آئین منسوخ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ اُس وقت پاکستان کسی غیر معمولی بیرونی خطرے سے دوچار نہیں تھا۔ اندرونی خطرہ صرف یہ تھا کہ اگر انتخابات ہو جاتے تو غالباً اسکندر مرزا کو کرسیِ صدارت سے ہاتھ دھونا پڑتے۔‘

اب ذرا دیکھیے کہ اسکندر مرزا کے ساتھ کیا ہوا؟ قیوم نظامی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’ملٹری انٹیلیجنس نے سید امجد علی اور اسکندر مرزا کے درمیان ٹیلی فون بات چیت سُنی۔ سید امجد علی کے بیٹے کی شادی اسکندر مرزا کی بیٹی سے ہونا تھی۔

’سید امجد علی نے اُنھیں شادی کی تاریخ مقرر کرنے کو کہا تو اسکندر مرزا نے جواب دیا کہ وہ اگلے چند دن بہت مصروف ہیں۔ حالات معمول پر آئیں گے تو تاریخ مقرر ہو جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ امجد علی نے کہا حالات معمولات پر آنے میں کافی وقت لگے گا؟ تو اسکندر مرزا نے اس کا جواب دیا کہ چند دن میں، مَیں ایوب خان کو سیدھا کر دوں گا۔‘

وہ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ’ایوب خان کو ٹیلی فون پر ہونے والی اس بات چیت سے آگاہ کر دیا گیا لیکن اس پر 27 اکتوبر تک کوئی کارروائی نہ کی گئی کیونکہ امریکی سیکریٹری دفاع نے پاکستان کی فوجی امداد کی ضروریات پر مذاکرات کے لیے پاکستان آنا تھا۔ 27 اکتوبر کو امریکی سیکریٹری کے دورے کے اختتام کے بعد یحییٰ خان اور ان کی ٹیم نے اپنے ایکشن پلان کے دوسرے حصے پر کارروائی شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایوب خان نے رات دس بجے اسکندر مرزا کو صدارت سے الگ کر دیا۔‘


 

مارشل لا کو دفن کرنے والا کیسے مارشل لا کا نشانہ بن گیا؟

ایم اے چودھری اپنی کتاب ’مارشل لا کا سیاسی انداز‘ میں لکھتے ہیں ’پاکستان کے منتخب وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آئین کو تشکیل دینے کے سلسلے میں ایک دفعہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس ملک میں مارشل لا کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں گے۔ یہ وقت کی کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ مارشل لا ہی کی حکومت نے اُنھیں پھانسی دی اور دفن کیا۔‘

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکمرانوں کے مابین اختلاف کا نتیجہ کبھی سیاسی حکمرانوں کے لیے اچھا نہیں رہا: ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا جونیجو، میاں نوازشریف ہوں یا بے نظیر اور یوسف رضا گیلانی ہوں یا پھر عمران خان۔۔۔

ذوالفقار علی بھٹو فوج اور بیوروکریسی میں اصلاحات کے خواہاں تھے اور جمہوری بالادستی کو قائم کرنا چاہتے تھے۔اُنھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی کئی اعلیٰ درجے کے فوجی افسران کو ملازمتوں سے سبکدوش کر دیا، جن میں لیفٹیننٹ گل حسن خان بھی شامل تھے۔

اسی طرح افواج کے چیفس کے عہدے کی مدت بھی ایک سال کم کر دی، علاوہ ازیں 1972 میں فیڈرل سکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

ڈاکٹر محمد اعظم چودھری نے اپنی کتاب ’پاکستان کا آئین‘ میں لکھا ’ایف ایس ایف کے قیام سے فوجی افسران چوکنے ہو گئے۔ اُنھیں پیشہ ورانہ روایتی فوج کی جگہ عوامی فوج کا وہ نعرہ یاد آنے لگا جو بھٹو نے بہت پہلے اپنی سیاسی تحریک کے دوران لگایا تھا۔ جنرل ضیا نے برسرِاقتدار آ کر اپنے اولین اقدامات کے تحت ایف ایس ایف کو توڑ دیا۔‘

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس ایف ایس ایف کو فوج کے متوازی فوج نہیں مانتے۔ ان کے مطابق ’ایف ایس ایف فوج کے متوازی فوج نہ تھی بلکہ یہ صرف بھٹو کے سیاسی مخالفین کو قابو کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس فورس میں زیادہ تر پیپلز پارٹی کے اپنے ورکرز تھے، جن کا کام بھٹو کے مخالفین کو ڈرانا دھمکانا اور قابو میں رکھنا تھا۔‘

طاہر کامران، بھٹو کی جانب سے 43 فوجی افسروں کی سبکدوشی کے تناظر میں اپنی کتاب ’پاکستان میں جمہوریت اور گورننس‘ میں لکھتے ہیں ’یہ فوج پر سویلین بالادستی کے قیام کی جانب بہت واضح اشارہ تھا۔ آئین کے آرٹیکل 271 میں کسی بھی ممکنہ فوجی مداخلت یا فوج کی طرف سے اقتدار پر قبضہ کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کے لیے موت کی سزا تجویز کی گئی۔‘

جنرل کے ایم عارف اپنی کتاب خاکی سائے میں لکھتے ہیں ’بھنڈارہ نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ایک بار ضیا سے سوال کیا تھا کہ آپ نے بھٹو حکومت کو کیوں گرایا تھا؟ ضیا نے اس کا بالواسطہ جواب دیتے ہوئے کہا تھا ’کسی روز میں آپ کو بھٹو کے بارے میں ایسی معلومات فراہم کروں گا کہ حیرت سے آپ کا رواں رواں ششدر رہ جائے گا۔‘ ضیا نے بھنڈارہ کو بتایا کہ مجھے پاکستان آرمی کی شکست و ریخت قبول نہیں تھی۔‘


ضیا، جونیجو کی ’سادہ لوحی‘ بھی برداشت نہ کر سکے؟

جنرل ضیا نے 1985 میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے۔ الیکشن کے بعد وزیراعظم کے طور پر محمد خان جونیجو کا انتخاب عمل میں آیا اور بیشتر مؤرخین کے مطابق اس انتخاب کی بنیادی وجہ جونیجو کی سادہ لوحی قرار دی جاتی تھی کیونکہ ضیا کسی ایسے شخص کو وزیرِ اعظم نہیں بنانا چاہتے تھے جو بعد میں اِن کی حیثیت کو کسی طرح چیلنج کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو۔

مگر جونیجو اور ضیا کے مابین تعلقات کچھ ہی عرصے بعد خراب ہوتے چلے گئے۔ بالآخر مئی 1988 کو صدر ضیا نے جونیجو کو عہدے سے ہٹا دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔

طاہر کامران اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’ضیا کی جانب سے جونیجو کو ہٹانے کی وجوہات کے پیچھے جونیجو کا جنرل ضیا کی خواہشات کے برعکس جنیوا معاہدہ پر دستخط کرنا ان کی معزولی کا بڑا سبب بن گیا۔‘

’علاوہ ازیں راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے واقعے کے ذمہ دار فوجی افسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی ضیا الحق اور جونیجو کے مابین اختلافات کا بڑا سبب تھا۔‘

قیوم نظامی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’فوج سندھ میں پنوں عاقل اور تین دوسری جگہوں پر چھاؤنیاں قائم کرنا چاہتی تھی، سندھ کے قوم پرست لیڈر اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ جونیجو نے ضیا کی خواہش کے برعکس چھاؤنیوں کے قیام کے لیے کھلے عام حمایت سے گریز کیا۔‘


بے نظیر کا دو بار اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار

بے نظیر بھٹو پہلی بار 1988 کے الیکشن میں وزیرِ اعظم بنیں مگر وہ اپنی مُدت اقتدار کو پورا نہ کر سکیں۔

طاہر کامران اپنی کتاب میں سعید شفقت کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں ’سب سے طاقتور ادارے کے ساتھ بے نظیر کے تعلقات کی خرابی کی چار وجوہات تھیں جو اُن کی حکومت کے خاتمے کا سبب بن گئیں۔

’اُس میں ایک وجہ یہ تھی کہ 1990 میں بے نظیر نے آرمی کے سلیکشن بورڈ کے معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ جس نے اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا دھرنے کا کام سرانجام دے دیا۔‘


’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ سے ڈان لیکس تک، نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی محاذ آرائی

’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔‘ میاں نوازشریف کا یہ جملہ اگرچہ اُس وقت کے صدر اسحاق خان کے خلاف کی جانے والی تقریر کا حصہ ہے مگر اس کے پیچھے جو وجہ تھی وہ اقتدار سے ہٹانے کی تھی۔

میاں نواز شریف کے اقتدار کا پہلا دور اسی شورش اور محاذ آرائی کی نذر ہو جاتا ہے مگر جب یہ دوسری بار وزیرِ اعظم بنتے ہیں تو عوام کی اکثریت کا اعتماد لے کر بنتے ہیں مگر پھر بھی اپنا دور مکمل کرنے سے قاصر ٹھہرتے ہیں اور جنرل مشرف انھیں ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

عائشہ صدیقہ نے اپنی کتاب ’پاکستانز آرمز پروکیورمنٹ اینڈ ملٹری بلڈ اپ‘ میں لکھا ہے کہ ’نواز شریف کی پالیسیوں کے برعکس فوج نے اپنے ادارے کو محفوظ رکھنے کے خدشات کے پیش نظر اقتدار پر قبضہ کیا۔ فوج کو خدشہ تھا کہ نواز شریف فوج کو اپنے کنٹرول میں لا کر ڈاؤن سائزنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فوج نے نواز شریف کی جانب سے عسکری اُمور میں مداخلت کو بھی ناپسندیدگی سے دیکھا۔‘

جبکہ رسول بخش رئیس کا خیال ہے کہ ’جب نواز شریف کے پاس 1997 کے الیکشن کے بعد دوتہائی اکثریت آ گئی تو وہ فوج کے قابو میں نہ رہے اور انھوں نے بھٹو کی طرح سول سپریمیسی لاگو کرنے کی کوشش کی۔‘

اسٹیبلیشمنٹ سے اپنی محاذ آرائی کے باوجود سنہ 2013 میں نواز شریف عام انتخابات کے نتیجے میں تیسری بار وزیرِ اعظم بن گئے مگر تیسری بار بھی اپنی مدت پوری نہیں کر پائے۔

سنہ 2016 میں ایک خبر سامنے آئی جو آنے والی تاریخ میں ’ڈان لیکس‘ کے عنوان سے مشہور ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کی تاحیات نااہلی کے پیچھے ایک بڑا محرک ڈان لیکس رہی۔

اس خبر کو رکوانے میں ناکامی کی بنیاد پر پرویز رشید، جو اس وقت وزیرِ اطلاعات تھے، کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اس معاملے کی سنگینی کھل کر اُس وقت سامنے آئی جب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے ڈان لیکس سے متعلق جاری اعلامیے کی تردید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ ’یہ نوٹیفکیشن مسترد کیا جاتا ہے‘ تاہم بعد میں حکومتی نوٹیفکیشن مسترد کرنے والی ٹویٹ واپس لے لی گئی تھی۔


’ریاست کے اندر ریاست‘ کا بیان دینے والے یوسف رضا گیلانی

22 دسمبر 2011 کو اُس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی میں چوہدری نثار علی خان کے نکتہ اعتراض کے جواب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر فوج اور متعلقہ ادارے وزارت دفاع کے ماتحت نہیں ہیں اور متحدہ ہندوستان سے علیحدگی کے بعد اگر یہاں محکوم ہی رہنا ہے تو اس پارلیمنٹ اور جمہوریت کی کوئی وقعت اور فائدہ نہیں۔‘

اُس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مہمند اور کرم ایجنسیوں کی چوکیوں کے دورے پر فوجی جوانوں سے مخاطب ہو کر کہا تھا ’پاکستانی فوج جمہوریت کی حمایت کرتی ہے اور کرتی رہے گی، فوج اقتدار پر قبضہ نہیں کر رہی۔‘


’ریڈ لائن کراس ہو چکی‘

ملکی تاریخ میں کئی وزرائے اعظم اپنی مدت پوری نہ کر سکے جس کی بڑی وجہ عسکری اور سول قیادت میں تنازعات قرار پاتی ہے۔

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر سید جعفر احمد کا کہنا تھا کہ ’ماضی کا اس طرح کا کوئی واقعہ معروضی پس منظر اور حقائق کا حامل ہوتا ہے۔ اگر کچھ ملتے جلتے نتائج نکل آئیں تو الگ معاملہ ہے۔‘

اس حوالے سے ضیغم خان کا کہنا تھا ’ہمیں اسٹیبلشمنٹ کو ایک پولیٹکل ایلیٹ گروپ کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔ پاکستان میں طاقتور اشرافیہ کے جو گروپس ہیں، اُس میں ایک پولیٹیکل سائیڈ ہے اور ایک ریاست کی سائیڈ ہے اور پاکستان میں جو طاقتور اشرافیہ کا بڑا گروپ ہے وہ پاکستان کی فوج ہے۔

’یہ دنیا کی تاریخ ہے کہ جب بھی پاور ایلیٹ کو کوئی چیلنج آتا ہے تو وہ اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے۔‘

موجودہ صورتحال کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ضیغم خان کا کہنا ہے کہ ’ْاس وقت ریڈلائن کراس ہو چکی ہے۔ ریڈلائن صرف فوج کی نہیں ہوتی بلکہ ریاست کی بھی ہوتی ہے اور فوج کی تنصیبات اور گھروں پر حملہ کسی بھی ملک کی فوج کے لیے قابلِ قبول نہیں۔‘


وہ کہتے ہیں کہ ’ریاست اسے نظر انداز نہیں کرے گی۔‘

صحافی و اینکر فریحہ ادریس کے مطابق ’ْ9 مئی کے واقعات ریاست کی ریڈ لائن کراس کرنے جیسے ہیں۔ معاملہ کچھ پرانی عمارتوں کا نہیں بلکہ میرے نزدیک یہ بعض علاقوں کے تقدس کو پامال کرنے کا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم سب کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نو مئی کے واقعات کا جواب دینا ناگزیر ہو چکا ہے لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ آپ خواتین کو گھروں سے اٹھا لیں؟

’ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کی یہ روایت قابل تائید نہیں اور لگ یوں رہا ہے کہ اداروں کو استعمال کر کے سیاسی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔‘

 

 Source :

https://www.bbc.com/urdu/articles/c80yn0z7lwzo?at_link_origin=BBC_URDU&at_campaign=Social_Flow&at_campaign_type=owned&at_bbc_team=editorial&at_ptr_name=facebook_page&at_medium=social&at_link_id=FB3618D0-F91F-11ED-BCB2-C48AAD7C7D13&at_link_type=web_link&at_format=link&fbclid=IwAR22saH37H75T2xOnzjAbSeYlBsTwZ3gSQ7BHkxi3f40XbsA0AZkP1N6Hso

 

 

 

 

 

 

 

 

Total Pageviews