Showing posts with label JOBS FOREIGN. Show all posts
Showing posts with label JOBS FOREIGN. Show all posts

January 31, 2022

OUR STUDENT IS ZERO IN JOB MARKET, NO SKILLS NO JOB NO OPPORTUNITY

 پاکستانیو چینی کہاوت سے ہی سیکھ لو!

آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں بی اے، بی کام ، ایم کام، بی بی اے، ایم بی اے اور انجینئرنگ کے شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور چار چار سال تک کلاس رومز میں جی پی کے لیےخوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کونسا تیر مار رہے ہیں؟

آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر "ڈگری ذدہ" انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں. یہ ڈگری ذدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک انجان نوکری ہے اور بس۔

ٹیوٹا ، ڈاہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کے ہیں. کیا، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے۔ جو لگژری برینڈز ہیں وہ امریکہ اور یورپ بناتا ہے اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہے؟ الیکٹرونکس مارکیٹ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ چین اور جاپان کے پاس ہے۔ ایل جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے۔ 2014 میں سام سنگ کا ریوینیو 305 بلین ڈالرز تھا ۔ "ایسر" لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جب کہ ویتنام جیسا ملک بھی "ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن " کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے۔ محض ہوا، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے. دنیا میں تعمیر ہونے والا ہر اسپتال چین اور جرمنی سے اپنے آلات منگوا رہا ہے۔ خدا کو یاد کرنے کے لیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدتے ہیں۔

دنیا کے اول درجے کے تعلیمی نظاموں میں فن لینڈ،جاپان اور جنوبی کوریا ہیں۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں" کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں ٹیکنیکل کرنا شروع کردیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی ممالک میں نظر آئیں گے۔

وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے انہیں حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گزرتا ہے باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گزارتے ہیں۔

دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں۔

ہم اسقدر "وژنری" ہیں کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر 200 ارب روپے خرچ کرتے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ ہمارے "وژنری پن" کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی پیک کے انتظار میں صرف اس لیے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائیں گے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

آپ فلپائن کی مثال لے لیں۔ فلپائن نے پورے ملک میں "ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی" کے شعبے کو ترقی دی ہے۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتیٰ کے ہمارا دشمن ملک بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے۔ آئی ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں جب کہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں. جبکہ ادھر پاکستان میں ایک "مری" ہی ہمارے لیے ناسور بن چکا ہے جہاں کے دکانداروں کو سیاحوں سے بات تک کرنا نہیں آتی۔

چینی کہاوت ہے کہ "اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے اسے مچھلی پکڑنا سکھا دو"۔ چینیوں کو یہ بات سمجھ آگئی کاش ہمیں بھی آجائے۔ خدارا ! ملک میں " ڈگری زدہ " لوگوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہنر مند افراد پیدا کیجیے. دنیا کے اتنے بڑے "ہیومن ریسورس" کی اس طرح بے قدری مت ہونے دیجیے ورنہ انجام ہمارے سامنے ہے.

نواز چشتی

December 16, 2016

Foreign Dream Job Opportunities for Pakistanis



اوور سیزپاکستانیز
ہر شخص کا خواب ہوتا ہے کہ وہ معاشی طور پر خوشحال ہو اور دنیا میں آرام اور سکون کے ساتھ زندگی گزارے ۔ اپنے اسی خواب کی تکمیل کے لیے پھر وہ محنت کرتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں معاشی خوشحالی حاصل کرنا قدرے آسان ہوتا ہے کیونکہ وہاں پر زیادہ مواقع میسر ہوتےہیں لیکن ترقی پذیر ممالک میں خوشحالی حاصل کرنے کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت پڑتی ہے، زیادہ محنت سے بچنے کے لیے لوگ باہر کے ملکوں کا رخ کرتےہیں ۔ پاکستان کا شماربھی ترقی پذیرممالک میں ہوتا ہے یہاں پر کثیر تعداد ایسی ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ اگر ہم باہر جائیں گے تو خوشحال ہو جائیں گے ، ایسے لوگ اپنی خواہشوں اور کمزوریوں کے غلام ہوتے ہیں ایسے میں جوایجنٹس ہوتے ہیں وہ ان لوگوں کی کمزوریوں اور خواہشوں کا فائد ہ اٹھاتے ہیں اورانہیں خواب دکھاتےہیں۔ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے جیسے وہ باہر کے ملک میں قدم رکھتےہیں تو انہیں حقیقت کا پتا چلتا ہے تو پھر وہ واپس آنے کے جتن کرتے ہیں۔ پھر وہی مائیں جنہوں نے کبھی ان کے باہر جانے کی دعائیں مانگیں ہوتی ہیں پھر وہی ان کے واپس آنے کی دعائیں مانگ رہی ہوتیں ہیں ۔

وہ بچے جو باہر جانا چاہتے ہیں یا جن کے والدین اپنے بچوں کو باہر بھیجنا چاہتے ہیں وہ دیکھیں کہ کیا ان میں ٹیلنٹ ہے، کیا ان میں صلاحیت ہے، کیا وہ پڑھے لکھے ہیں اگر پڑھے لکھے نہیں ہیں تو کیا انہیں کوئی ہنر آتا ہے ۔عقل مندی کی بات یہ ہے کہ جس کے پاس ہنر ہے وہ یہاں رہ کر کام کرے، کتنا بڑا المیہ ہےکہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اگر قابل میکینک تلاش کرنا ہو تو اس کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہاں پر بھی موقعوں کی کمی نہیں ہے اگرکوئی کمی ہے تو وہ قابلیت کی کمی ہے۔ ہمار ے ہاں تین المیے بہت عام ہیں ان میں پہلا المیہ یہ ہے کہ ہر کوئی کہہ رہا ہوتا ہے کہ میں ہنر مند ہوں لیکن میر ی کوئی سنتا نہیں ہے ، میرا یہاں پر کام نہیں ہے یہ سراسر غلط بیانی ہے۔ دوسرا المیہ کام چوری ہے لوگ کام نہیں کرنا چاہتے وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں بیٹھے بیٹھائے مل جائے جبکہ تیسرا المیہ یہ ہے کہ اکثر لو گ کہتے ہیں ہم کوئی چھوٹا موٹا کام نہیں کریں گے ہمیں بڑا کام کرنا ہے۔
نوجوانوں کی اکثر تعدا د جو باہر جانا چاہتی ہے وہ یہاں پر کام کو عار سمجھتی ہے جب وہ باہر چلے جاتےہیں تو وہاں پر جاکر چھوٹے چھوٹے کام کر رہے ہوتےہیں بلکہ وہ وہ کام کر رہے ہوتے ہیں جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا ، پھر اس کام سے تھوڑے بہت پیسے کماتے ہیں ان میں سے کچھ بچا کر پیچھے اپنے گھر والوں کو بھیجتے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں میں محنت کرنے کا جذبہ پیدا کریں، انہیں وقت پر سکھائیں ، ان کی ایسی گرومنگ کریں کہ انہیں کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہ ہو جب ایسا ہو گا تو پھر بچے محنت بھی کریں گے اور باہر جانے کے بارے میں بھی نہیں سوچیں گے۔
باہر بھیجنے کے معاملے میں والدین کا بھی بہت بڑاکردار ہوتا ہے پہلے تو ماں اپنی جمع پونجی اور زیورات بیچ کر اپنے بچے کو باہر بھیجتی ہے پھرجب بچہ باہر جا کر سیٹل ہو جاتاہے تو وہ اس کے انتظار میں آنسو بہاتی رہتی ہے یہاں تک کے بعض اوقات اس کے آنسو تک خشک ہو جاتے ہیں اور جب بچہ واپس آتا ہے تو اسے سوائے مٹی کے ڈھیر کے اور کچھ نہیں ملتا۔ اس سے سماجی بحران پیدا ہوتا ہے ، گھروں میں لڑائی جھگڑے ہو نا شروع ہو جاتے ہیں ، بیوی اپنے خاوند کے انتظار میں اپنے بال سفید کر لیتی ہے ،بچوں کی تربیت میں کمی رہ جاتی ہے اور یہاں تک کہ نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
جو نوجوان باہر جانا چاہتےہیں انہیں چاہیےکہ یہاں پر رہ کر روکھی سوکھی کھا لیں مگر باہر نہ جائیں ، یہاں پر محنت کریں اگر انہیں گلہ ہے کہ اس ملک میں مواقع نہیں ہیں تو کبھی ان لوگوں کو بھی دیکھیں جنہوں نے انہیں وسائل میں رہتے ہوئے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔ ہمارے ملک میں سینکڑوں کہانیاں ایسی ہیں جنہوں نے اپنا سفر غربت سے شروع کیا اور امارت تک پہنچے ، جنہوں نے ناکامیوں سے اپنا سفر شروع کیا اور کامیابیاں حاصل کیں، بے شمار لو گ ایسے ہیں جن کا ہاتھ نیچے والا تھا اوپر والا ہو گیا۔

Total Pageviews