


(57) یہ ایک حساس موضوع ہے۔ لیکن ہماری گھٹن زدہ فرسودہ غیر دینی فکر اور "غیرت" نے اس کو حادثہ اور سانحہ بنا دیا ہے۔ انسان کا جذباتی, نفسیاتی, انفرادی, جسمانی قتلِ عام:
۔۔۔ 50 سال کے قریب ایک خاتون نے رابطہ کیا اور پوچھا۔ چند سال پہلے میرے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ ہم نے آپ کی طرح ایک مثالی زندگی گزاری۔ آپ میری بات سن لیں۔ جواب بعد میں دے دینا۔۔۔ میرے جسم کا ایک تقاضا ہے۔ اس سے میری اولاد بے خبر ہے۔ جب یہ کیفیت مجھ پہ طاری ہوتی ہے تو جسم سُن اور ہاتھ شل ہوجاتے ہیں۔
میں 4, 5 دن کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ ہر 3, 4 ماہ کے بعد اس تکلیف زدہ کیفیت سے گزرتی ہوں۔
ذہنی طور پہ ماؤف۔ کبھی خدا سے دل لگاتی ہوں۔ کبھی اس کے عذاب کا سوچ کے خود کو باز رکھتی ہوں۔
کبھی روحانی سیشنز اٹینڈ کرتی ہوں۔ پر قابو نہیں رہتا اور بے بس ہوجاتی ہوں۔
معالجین کہتے ہیں کہ کم سے کم ماہواری کے 10 سال یہ اور چلے گا۔ مجھے اس کا حل بتائیے۔۔۔

۔۔۔ جن کے ساتھ یہ آزمائش گزرتی ہے, ان میں سے کچھ کو ذرا صبر آ جاتا ہے۔ اللہ دے دیتا ہے۔ کچھ لوگ جن میں Sexual urge فطرتاً زیادہ ہوتی ہے, وہ شدید تناؤ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ باقی اس سے بے خبر اور بعض اوقات ان کے رویے سے نالاں ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ غیر فطری کنٹرول کی طرف جاتی ہیں۔ ڈاکٹر زینب نے بتایا کہ ایک خاتون کو ایسے ہی حالات میں چیک اپ کے بعد میں نے Examin کرنے اور الٹرا ساؤنڈ کی اجازت مانگی۔ رپورٹ میں مجھے نیلے رنگ کی کوئی چیز نظر آئی۔ میں حیران تھی۔ پتا چلا کہ خواہشِ نفسانی کو دبانے کے کے لیے اس نے دائی سے کوئی دوا اندر رکھوائی ہوئی ہے۔ ایسوں کے لیے عرض ہے کہ:

تم سے اک رسم تک نہیں ٹُوٹی بات کرتے تھے تم ستاروں کی!



۔۔۔ یہ قیاسی روشنی ان لوگوں کے لیے بھی ہے جن کا پارٹنر زندہ تو ہے لیکن ان کا آپسی جسمانی تعلق ختم یا معطل ہو چکا ہے۔ یا جن کی عمر دور ہوگئی پر تا حال کنوارگی ہے۔۔۔ معاملہ کی نازکیت اور شدت و گہرائی کے پیشِ نظر ہم نے ملک کے چوٹی کے ماہرین کو آن بورڈ لیا:




ہم چاہتے تھے کہ پوری ذمہ داری سے پیغام نشر کیا جاۓ۔ لوگوں کو اس اہم ترین حقیقی مسئلے میں گناہ کی نفسیات سے نکالا جاۓ۔ سوسائٹی کی ایک تلخ حقیقت کا سنجیدہ حل فراہم کیا جاۓ۔۔۔ خدا ہمیں مسکرا کے دیکھے اور کہے Weldon میرے سہارے پہ جینے والے, صرف مجھ پہ بھروسہ کرنے والے, شاباش۔۔۔ لکھنے کے بعد شکرانے کے دعائی حنائی ہاتھ ہم نے چہرے پہ پھیرے۔ امید ہے یہ تحریر کئی دکھیاروں کا تریاق ہوگی
نہیں ہے تاب تو پھر عاشقی کی راہ نہ چل یہ کارزارِ جنوں ہے جگر نکال کے رکھ
سید ثمر احمد
لاہور
25 فروری, 2022

سید ثمر احمد

No comments:
Post a Comment