Showing posts with label WATER DRINKING. Show all posts
Showing posts with label WATER DRINKING. Show all posts

July 05, 2022

Water Bank, Water Card

 

 بارش کا پانی  ، زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ اسے محفوظ کرنے کے لئے 

واٹر بینک ، وئٹ میٹرنگ اور واٹر کارڈ کا آئیڈیا

انجنئیر ظفر وٹو
آپ نے اکثر یہ پڑھا ہوگا کہ قسمت کے دھنی کروڑوں کی لاٹری جیتنے والے زیادہ تر افراد کچھ عرصہ بعد پھر اسی طرح غربت کی حالت میں پائے جاتے ہیں اور جیک پاٹ لگنے کے باوجود بھی ان کی مالی حالت ہمیشہ کے لئے نہیں سنبھلتی کیونکہ انہیں فنانشئیل مینیجمنٹ کرنا نہیں آتی۔
تاہم اگر ایک شخص کی ہر سال ہی لاٹری نکلتی ہو بلکہ ہر سال ایک سے زیادہ دفعہ لاٹری نکلتی ہو اور وہ پھر بھی غریب رہے تو اسے کیا کہنا چاہئے ۔ وہ شخص میں اور آپ ہیں۔
اللہ میاں ہر سال کئی دفعہ ہمیں بارش کی صورت میں اپنی ضرورت سے بھی زیادہ پانی بھیج دیتے ہیں ۔ہماری لاٹری نکل آتی ہے- جیک پاٹ لگ جاتا ہے۔ لیکن ہرسال ہی ہم اپنی نااہلی کی وجہ سے اس سےفائدہ اٹھانے کی بجائے نہ صرف ضائع کر دیتے ہیں بلکہ الٹا نقصان اٹھاتے ہیں اور روتے پیٹتے ہیں۔
جب بھی بارش ہوتی ہے ہمارے شہروں کی سڑکوں اور گلیوں پر پانی کھڑا ہوجاتا ہے- نشیبی علاقے زیر آب آجاتے ہیں۔دفتر کاربار بند ہوجاتے ہیں۔عمارات کو نقصان پہنچتا ہے-پانی میں پھنس کر گاڑیاں ناکارہ ہوجاتی ہیں اور پھر کئی دنوں تک نشیبی علاقے کیچڑ میں لت پت رہتے ہیں-
عالمی درجہ بندی کے مطابق پاکستان پانی کی قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہے جس کی وجہ پانی کی کم دستیابی بالکل نہیں بلکہ وافر مقدار میں دستیاب پانی کی بری منیجمنٹ(انتظام) ہے- وہ وقت دور نہیں جب ہمارے ہاں پانی کی چلتی ٹوٹی ایک خواب بن جائے گی اور چند لیٹر پانی کے حصول کے لئے بھی لمبی لمبی لائینیں لگا کریں گی۔
ہمارے ہاں جب بھی بارش ہوتی ہے تو نشیبی علاقے زیر آب آجاتے ہیں-حالانکہ شہری علاقوں میں بارش کا یہ پانی زحمت کی بجائے رحمت بنایا جا سکتا وہے -
بارش کا پانی جب چھت پر گرتا ہے تو سب سے صاف ہوتا ہے- اگر اسے چھت پر ہی کسی طریقے سے جمع کر لیا جائے تو یہ پانی بہت سے مقاصد کیلئے استعمال ہو سکتا ہے-
چھت کے بعد دوسرا آپشن اسے پائپ کے ذریعے نیچے لاکر زمین کے اوپر بنائے گئے کسی بھی ٹینک میں جمع کرنا ہے جس کا سائز اور میٹریل آپ کی ضرورت، بجٹ اور لوکیشن کے حساب سے فائنل کیا جا سکتا ہے -
اس کے بعد تیسرا آپشن اس بارشی پانی کوکو زیرزمین ٹینک بنا کر ذخیرہ کرنا یا ری چارج ویل (پانی چوس کنوئیں) بنا کر زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کا ہے - آپ ان میں سے کوئی ایک ، دو یا تینوں آپشن استعمال کر سکتے ہیں-
اس طرح آپ اپنے گھر کی پانی کی کئی دنوں کی ضروریات نا صرف پوری کر سکتے ہیں بلکہ ضرورت سے زائد پانی کو “واٹر بینک” میں جمع کرواکر پیسہ بھی کما سکتے ہیں ۔
واٹر بینک کیا ہے؟
“واٹر بینک” ہم ایسی سہولیات یا تعمیرات کو کہیں گے جو بڑے شہروں کے پارک ، کھیلوں کے میدان، یونیورسٹیوں کے کیمپس یا سرکاری ونجی کھلے میدانوں میں بارش کے پانی کو بڑی مقدار میں زیر زمین پانی تک پانی چوس کنوؤں کے ذریعے پہنچاتی ہیں۔ ان سہولیات کو تعمیر کرنے کی ذمہ داری پانی ضائع کرنے والی تمام صنعتوں پر لازم کردی جائے جس میں چمڑے اور ٹیکسٹائل کی صنعتیں خصوصا قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ بھی تقریباً ہر بڑی فیکٹری میں زمینی پانی کولنگ کے لئے استعمال ہورہا ہوتا ہے۔
ہر صنعت پر اس کے ضائع کئے گئے پانی کے کم ازکم دُگنا حجم کے پانی کو بارش کے دنوں میں زیر زمین ری چارج کروانے کی پابندی ہو۔یہ صنعتیں کالونی ، سوسائٹی یا ادارے کی سطح پر سو فیصد بارشی پانی کو زیرزمین پانی میں ری چارج کروانے کی پابند ہوں۔ ان کے این او اسی کی رینیئوئل ان کی اس اہلیت سے مشروط کردی جائے کہ وہ حکومت کی طرف سے ان کے لئے مختص کئے گئے خاص خاص شہری علاقوں میں کتنا بارشی پانی ری چارج کرواتی ہیں۔
کارواش اور کنسٹرکشن انڈسٹری پر بھی ایسی ہی پابندیاں لاگو ہوں اور ان پر استعمال سے دُگنا پانی بارش کے دنوں میں واٹر بینک میں ری چارج کروانے کی پابندی ہو۔
اگر واٹر بنک کا آئیڈیا جڑ پکڑتا ہے تو مستقبل کے واٹر بنکس دریاؤں کے کناروں پر نشیبی علاقوں میں بنائے جانے والے بڑے بڑے بغلی تالاب (آف لائن اسٹوریج) یا دریاؤں سیلابی میدانوں میں بنائی گئی مصنوعی جھیلیں بھی ہو سکتی ہیں جو بڑے سیلابی پانیوں کو ذخیرہ کرلیں جب دریا ابل ابل کر کناروں سے باہر آرہے ہوتے ہیں۔ یہ تعمیرات بھی پانی کی بے پناہ کھپت کرنے والی صنعتوں کے خرچے پر بنوائی جائیں۔ بلوچستان جیسے علاقے میں چیک ڈیم یا سمال ڈیم بھی واٹر بنک کے طور پر بنوائے جا سکتے ہیں۔
ویٹ میٹرنگ کیا ہے؟
جس طرح شمسی توانائی سے بجلی بنا کر واپڈا کے نظام میں ڈالنے پر بجلی کے یونٹ مفت ملتے ہیں جسے نیٹ میٹرنگ کہتے ہیں اسی طرح پانی خور صنعتوں کے لئے زمینی پانی کو ری چارج کرنے کے ویٹ میٹرنگ کا نظام لاگو کیا جائے۔
بڑے شہروں کے واسا , KWSB یا پبلک ہیلتھ کے ادارے “ویٹ میٹرنگ” “wet metering “ کا نظام شروع کر سکتے ہیں جس میں واسا یا پبلک ہیلتھ یا KWSB کسی بھی فرد کو اتنا پانی مہیا کرنے کا پابند ہو جتنا بارش کا صاف پانی اس شخص نے بارش کے دوران جمع کرکے “واٹر بینک “میں جمع کروایا ہو گا-
واسا , KWSB یا پبلک ہیلتھ خود بھی “واٹر بینک “ بنا سکتے ہیں یا پھر نجی “واٹر بینکوں” کے ساتھ اپنے واٹر سپلائی کے نظام کو جوڑ سکتے ہیں- اس طرح انہیں سینکڑوں فٹ زیرزمین پانی پمپ کرنے کی بجائے واٹر بینک سے پمپ کرنا پڑے گا جس سے بجلی کا خرچہ انتہائی کم ہوگا اور زیرزمین پانی کی سطح بھی بلند ہوگی-
واٹر کارڈ کیسے کام کرے گا؟
لوگوں کو خوش نما بوتلوں میں زمینی پانی کو منرل واٹر بنا کر بیچنے والی کمپنیوں پر بھی بارشی پانی کو زیر زمین پانی کے ری چارج کرنے والی سہولتیں بنانے کی پابندی ہو جہاں بارش کے دنوں میں شہری اپنے چھتوں یا گھروں کا پانی لاکر جمع کروانے پر برابر یا زیادہ حجم کے صاف پینے کے پانی کے یونٹس ڈیجیٹل “ واٹر کارڈ “ پرحاصل کریں جو انہیں ما بعد بارش کسی بھی جگہ / بیکری سے مفت میں پانی دے سکیں ۔ اندازہ کریں کہ اگر کسی شہری کو چند بارشوں میں بارش کا پانی واٹر بینک میں جمع کروانے پر پورے سال کے استعمال کا پانی مفت مل رہا ہو رو وہ بارش میں پانی جمع کرنے والا نظام خود بخود ہی بنا لے گا۔
لوگ پلاسٹک کی پورٹیبل ٹینکیاں مناسب تعداد میں بنا کر بارش کے دوران گھروں کی چھتوں سے آنے والے بارش کے صاف پانی کے پائپ کے والو سے جوڑ کر بھرتے جایئں اور بارش ختم ہونے پر ان ٹینکیوں میں جمع شدہ پانی کو ایک ایک کرکے واٹر بینک میں جمع کرواکر رسید لے لیں یا اپنا واٹر کارڈ ری چارج کروا لیں-
اس واٹر کارڈ پر حکومت یا این جی اوز کی طرف سے پرکشش پیکیج ہوں۔ مثلاً لاہور میں رہنے والا شہری اپنی ضرورت سے زیادہ کا بارشی پانی لاہور کے واٹر بینک میں جمع کروانے پر واٹر کارڈ پر حاصل شدہ پانی کے حجم سے فوڈ پانڈا کی طرز پر بنی “واٹر بھانڈا “ایپ سے واٹر ٹینکر کوئٹہ یا کراچی میں اپنی فیملی، رشتہ دار، مسجد مدرسے یا کسی ضرورت مند کو عطیہ کر سکے۔
واٹر بینک اور ویٹ میٹرنگ سے پیسے کیسے کمائے / بچائے جا سکتے ہیں؟
شہری علاقوں کی تمام کھلی جگہوں پر بارش کے پانی کو زیر زمین پانی کے ری چارج کرنے کے لئے شہری نجی ” واٹر بینک” بنا کر ان میں پانی جمع رکھنے کے سروس چارجز پانی ضائع کرنے کی پابندی کی زد میں آئی پانی خور صنعتوں سےوصول کر سکتے ہیں-
ایسے پلاٹ جو کسی بھی وجہ سے خالی پڑے ہیں یا پارکنگ ایریا ز میں “واٹر بینک” بنا کر اچھی خاصی آمدنی کمائی جاسکتی ہے-
اندازہ کریں واسا پورے شہر میں پھیلے ہزاروں “واٹر بینکس” کے نیٹ ورک سے اگر سال میں ساٹھ دن بھی پانی دے سکتا ہے تو بجلی کے خرچے کتنی کمی اور زیرزمین پانی کی سطح میں کتنی بہتری ہوگی- چھتوں سے بارش کے پانی کا بہہ کر سڑکوں اور گلیوں میں کھڑا ہونے میں کتنی کمی آجائے گی۔
اس سے کیا فرق پڑے گا؟
لاہور میں مون سون کی بارشیں ہر سال جون کے آخر سے شروع ہوکر ستمبر کے آخر تک چلتی ہیں اس علاوہ سردیوں میں بھی بارش ہو جاتی ہے اور فروری مارچ میں بھی بارشیں چلتی رہتی ہیں- اگر ہم سادہ ترین الفاظ میں کہیں کہ سال میں کم از کم 20 دفعہ بارشیں ہوئی تو اوپر دئے گئے نظام سے آپ کے پاس بارش کا صاف پانی ذخیرہ کرنے یا ری چارج کرنے کے بیس مواقع تھے-
اگر ایک بارش سے آپ کے چھت ، لان یا زیر زمین پانی ذخیرہ یا ری چارج کرنے کی صلاحیت آپ کے دو سے تین دن کے استعمال کے پانی کے حجم کے برابر ہے تو آپ بارش کے پانی کو سال کے کم ازکم پچاس ساٹھ دنوں کے لئے مفت استعمال میں لا سکتے ہیں-جس سے زیر زمین پانی اور موٹر کو چلانے کے لئے استعمال ہونے والی بجلی کی کھپت میں کم ازکم پُندرہ فی صد کمی ہوئی اور زیرزمین پانی کی تیزی سے نیچے جانے والی سطح میں کچھ بہتری آئے گی-
اگر گھر کی چھت سے بہنے والا آدھا بارش کا پانی اس طریقے سے ذخیرہ یا ری چارج کر لیا جائے تو گلی یا سڑکوں پر بہنے والے بارش کے پانی کے حجم میں آدھی کمی آگئی جس کا مطلب راستوں کا کھلے رہنا اور ٹریفک کا رواں دواں رہنا ہے جس سے کاروبار اور دفتر کھلے رہیں گے اور کام کاج کا حرج نہیں ہوگا- گھروں اور عمارتوں کا نقصان نہیں ہوگا - سڑکیں پانی کھڑا ہونے سے نہیں ٹوٹیں گی-کم سے کم  ہر شخص کو اپنی زندگی میں اپنے نام کا ایک عدد پانی چوس کنواں اس سیارہ زمین کی پیاس بجھانے کے لئے ضرور بنوانا چاہئے۔☔️🌧💦💧🚿☔️🌧💦💧🚿☔️🌧💦💧🚿
پچھلے سال Water Talkers واٹر ٹاکرز گروپ کے لئے لکھی گئی ایک تحریر جو کہ محکمہ موسمیات کی آج کی بارش کی پیش گوئی کے تناظر میں ترمیم کرکےنشر مکرر کی گئی۔
 
 

 

May 30, 2022

WATER CRISES IN PAKISTAN, & INDIAN INVOLVEMENT

 
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

پاکستانی قوم متوجہ ہوں؟
توقع کے عین مطابق عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔۔۔۔یہ پاکستان کی بھارت سے سفارتی محاذ پر ایک بڑی شکست ہے۔۔۔۔۔کشن گنگا ڈیم کی تعمیر 2009 میں شروع ہوئی جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور ن لیگ مضبوط اپوزیشن تھی۔۔۔2011 کے بعد دو سال تک یہ کیس عالمی عدالت میں چلتا رہا لیکن بالآخر عالمی ثالثی عدالت نے نہ صر ف پاکستان کے اعتراضات مسترد کر دیے بلکہ بھارت کو پانی کا رخ موڑنے کی اجازت دے دی۔۔۔۔۔یاد رہے کہ یہ وہ دور تھا جب بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جارہا تھا اور خارجہ امور کا قلمدان بھی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پاس تھا۔۔۔۔بھارت نوازی کی داستان صرف یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ دریائے سندھ پر بنائے جانے والے متنازعہ پن بجلی کے منصوبے نیموباز گو کے خلاف بھی وزیر اعظم صاحب کے احکامات کے مطابق عالمی عدالت میں جانے سے روک دیا گیا کہ "خوامخواہ اس کیس پر وقت ضائع ہوگا"۔۔۔بھارت نے یہ منصوبہ مکمل کر لیا ، یہی نہیں اس دوران "چٹک" کا منصوبہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اور ہم صرف بھارت سے پینگیں بڑھانے کے خواب دیکھتے رہے۔۔۔۔۔۔
میں عموماً سیاسی شخصیات پر تنقید سے اجتناب کرتا ہوں لیکن گزشتہ ایک دہائی میں زراعت اور آبی وسائل کی زبوں حالی کو دیکھ کر خون کھول اٹھتا ہے۔۔۔۔مسلم لیگ ن کی ذمہ داریوں کا یہاں سے اندازہ کر لیں کہ اس دور میں بھارت صرف دریائے سندھ پر چودہ چھوٹے ڈیم اور دو بڑے ڈیم مکمل کر چکا ہے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ منگلا ڈیم اکتوبر 2017 سے خالی پڑا ہے جبکہ تربیلا ڈیم بھی اس وقت بارش کا محتاج ہے۔۔۔یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، پانی کے حوالہ سے ہمارا مستقبل بہت دردناک ہے، دو سال قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے محتاج کر دے گا اور وہ اس پر عمل کر رہا ہے۔۔۔۔ بھارت دریائے چناب پر سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم سمیت چھوٹے بڑے 11ڈیم مکمل کر چکا ہے ۔ دریائے جہلم پر وولر بیراج اور ربڑ ڈیم سمیت 52ڈیم بنا رہا ہےدریائے چناب پر مزید24ڈیموں کی تعمیر جاری ہے اسی طرح آگے چل کر مزید190ڈیم فزیبلٹی رپورٹس ، لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے پراسس میں ہیں۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے، لیکن کسی کو اس سے غرض نہیں، کوئی نیا پاکستان بنانے کے زعم میں ہے، کوئی ووٹرز کو عزت دینے کا مطالبہ کر رہا ہے، کوئی مذہب پر سیاست کر رہا ہے تو کوئی محض کرسی کے لیے اس گیم کا حصہ ہے۔۔۔اگر یہ مسئلہ کسی پارٹی کے منشور میں شامل نہیں ہے تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔۔۔عوام کے ووٹ دینے کے معیار نالیاں پکی کرنا، قیمے والا نان یا نام نہاد نمائشی سکیمیں ہیں، دراصل عوام ذہنی غلام بن چکے ہیں جن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان کے سیاسی خداؤں کے تابع ہیں۔۔۔اگر مجھ جیسے کم علم کو یہ حقائق ملکی مستقبل کے لیے فکر مند کرسکتے ہیں تو ہمارے نام نہاد دانشور اور میڈیا ہاؤسز کیوں ان موضوعات پر بات نہیں کرتے؟کیوں کہ ہم بطورِ عوام ان موضوعات پر بات کرنا ہی نہیں چاہتے۔۔۔۔مجھے سیاستدانوں سے گلہ نہیں کیوں کہ ان کی جائیدادیں پاکستان سے باہر ہیں، خدانخواستہ پاکستان پر کوئی آنچ آئی تو وہ اسے چھوڑ کر باہر بھاگنے میں دیر نہیں کریں گے۔۔۔مجھے شکوہ عام لوگوں سے ہے جنہوں نے یہاں رہنا ہے، خدا وہ دن نہ دکھائے جب پانی کے گھونٹ کے لیے ایک بھائی دوسرے کا گلا کاٹ رہا ہو۔۔۔۔۔۔!
نوٹ:
تمام پاکستانی اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اپنے تمام گروپس کے اندر اور ممکن ہو سکے تو اپنے فرینڈ لسٹ میں اور واٹس ایپ میں موجود تمام دوستوں عزیز اقارب کو ایک ایک کر کے بھی سینڈ کریں۔
یہ مسلہ بہت سنگین ھے جسکا ہمیں اندازہ نہیں جس کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی 2025 تک پانی کی اس قدر قلت ہو جائے گی کہ آپ کی فصلوں کو پانی نہیں ملے گا اور پینے کا پانی تک آسانی سے دستیاب نہیں ہوگا۔
یہ سیاست دان ہم پر یہ ظلم کرنے چلے ھیں اور یاد رکھیے ظلم کرنے والا اور چپ کر کے ظلم سہنے والا ایک برابر ھیں.
اللہ پاک کا واسطہ ھے خود پر اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کریں انکا سوچیں۔
آج آواز نہیں اٹھاؤ گے تو پیاسے تو ویسے ہی مر جانا...!
جزاک اللہ خیر۔

 

Total Pageviews