Showing posts with label RICE & FISH FARMING. Show all posts
Showing posts with label RICE & FISH FARMING. Show all posts

March 21, 2018

RICE FIELDS & DUCK FARMING دھان کے کھیت میں بطخیں پالیں اور منافع کمائیں



دھان کے کھیت میں بطخیں پالیں اور منافع کمائیں

پہلی بات تو یہ ہے کہ دھان کے کھیتوں میں بطخیں پالنے کا رواج اگرچہ پاکستان میں نہیں ہے لیکن دنیا میں یہ کام کوئی نیا کام نہیں ہے.
انڈیا، ایران، بنگلہ دیش، جاپان، کوریا، چین، ویتنام، تنزانیہ، فلپائن، تھائی لینڈ، اور برما میں دھان کے کھیتوں میں کامیابی کے ساتھ بطخیں پالی جا رہی ہی.
اس طرح ایک تو قدرتی طور پر پلی ہوئی بطخوں کا گوشت برائلر یا فارمی جانوروں سے بہت زیادہ لذیذ اور صحت مند ہوتا ہے.
دوسرے بطخوں والے کھیت کو کم سے کم زہر سپرے کرنا پڑتی ہے اور کم سے کم کھاد ڈالنا پڑتی ہے. اس طرح بطخوں کے کھیت والی مونجی بھی ہر طرح کے مضر اثرات سے پاک ہوتی ہے.

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ دھان کے کھیت میں بطخیں پالنے کا طریقہ کیا ہے؟
کھیت میں پنیری لگانے کے 10 دن بعد 20 دن کا چوزہ دھان میں چھوڑ دیا جاتا ہے.
ایک ایکڑ میں تقریباََ 160 چوزے چھوڑنے چاہئیں.
پہلے تین چار دن چوزوں کو دو سے تین گھنٹوں کے لئے کھیت میں چھوڑا جاتا ہے پھر اس کے بعد صبح سے شام تک چوزوں کو کھیت میں رہنے دیا جاتا ہے.
چوزے ڈالنے کے چار مہینے کے بعد جب دھان کی فصل سٹہ نکالنا شروع کر دیتی ہے تو بطخوں کو کھیت سے نکال کر بیچ دیا جاتا ہے.
چوزے کہاں سے ملیں گے اور قیمت کیا ہو گی؟
میری معلومات کے مطابق آپ کو بطخوں کے چوزے کسی بھی بڑے شہر سے باآسانی مل سکتے ہیں. عام طور پر ایک چوزہ 50 سے 60 روپے میں مل سکتا ہے.
بطخیں چھوڑنے کی وجہ سے دھان کی فی ایکڑ پیداوار میں کتنا اضافہ ہوا؟
بطخوں والے کھیت سے دھان کی پیداوار عام کھیت کے مقابلے میں 20 فی صد زیادہ ہوتی ہے. اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عام کھیت میں دھان کی پیداوار 60 من ہو تو بطخوں والے کھیت میں پیداوار72 من ہو گی.

بطخوں والے کھیت میں کیڑوں مکوڑوں کے حملوں میں کتنی کمی آتی ہے؟

نقصان دہ کیڑوں کے بارے میں!

بطخیں دھان کی فصل کو نقصان پہنچانے والے زیادہ تر کیڑے مثلاََ گرین لیف ہاپر، براؤن پلانٹ ہاپر، زگ زیگ لیف ہاپر، رائس بگ، چھوٹے سینگوں والا گراس ہاپر، بڑے سینگوں والا گراس ہاپر وغیرہ کو بڑے شوق سے کھاتی ہیں اور فصٌ سے ان کا صفایا کر دیتی ہیں.
البتہ بعض کیڑے مثلاََ سفید کمر والے پلانٹ ہاپر اور سٹم بورر کو بطخیں نہیں کھاتیں اور وہ کھیت میں موجود رہتے ہیں.

فائدہ مند کیڑوں کے بارے میں!

کھیت میں موجود زیادہ تر فائدہ مند کیڑوں جیسا کہ کاربائڈ بیٹل، لیڈی برڈ بیٹل، دمسل فلائی، سپائڈر اور ڈریگن فلائی وغیرہ کو بطخیں کچھ نہیں کہتیں اور یہ کیڑے، بطخوں کے ساتھ ساتھ کھیت میں موجود نقصان دہ کیڑوں کو کھاتے رہتے ہیں.

کیا بطخیں جڑی بوٹیوں کا بھی خاتمہ کرتی ہیں؟

تجربات سے پتہ چلا ہے کہ بطخیں کھیت میں موجود جڑی بوٹیوں کے ننھے منھے پودوں اور بیجوں کو شوق سے کھاتی ہیں. البتہ بڑی جڑی بوٹیوں کو بطخیں شوق سے نہیں کھاتیں. لیکن بڑی جڑی بوٹیاں بطخوں کے پنجوں کی اکھاڑ پچھاڑ کا نشانہ بن کر ختم ہو جاتی ہیں.
اس طرح بطخیں دھان کے کھیت میں موجود تقریباََ 90 فی صد جڑی بوٹیوں کا خاتمہ کر دیتی ہیں.
بطخوں کی اکھاڑ پچھاڑ کا جری بوٹیوں کے خاتمے کے علاوہ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس عمل سے پودے کی جڑوں کو ہوا لگتی رہتی جس کے نتیجے میں زیادہ آکسیجن ملتی ہے اور پودے کا جڑوں کا نام مضبوط ہو جاتا ہے.

کیا بطخوں والے کھیت کی زرخیزی پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے؟

بطخوں والے کھیت میں غزائی اجزاء عام زمین کی نسبت زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں.
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بطخوں کی بیٹیں کھیت میں شامل ہوتی رہتی ہیں اور دوسری وجہ، کھیت میں بطخوں کی بھاگ دوڑ ہے جس سے زمین کے مسام کھل جاتے ہیں جس کے باعث زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہو جاتا ہے..

کتنی بطخیں بڑے ہونے سے پہلے مر سکتی ہیں؟

عام حالات میں 200 میں سے 15 تا 20 بطخیں مر سکتی ہیں اور باقی خیرو عافیت سے جوان ہو جاتی ہیں.

چار مہینوں میں بطخ کا وزن کتنا ہو جائے گا؟

چار مہینوں میں بطخ کا وزن تقریبا ایک کلو تک ہو جاتا ہے.

دھان میں بطخیں پالنے سے کتنی آمدن ہو سکتی ہے؟

دھان میں بطخیں پالنے سے آپ کو جو فائدے حاصل ہو سکتے ہیں ان کا حساب کچھ یوں ہے.
ایک تو آپ کی کھاد سپرے کی بچت ہوگی.
کم از کم یہ بچت 3 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے.
دوسرے آپ کی پیداوار 20 فی صد تک بڑھے گی
اگر آپ کی فی ایکڑ پیداوار 5 من بھی بڑھ جائے تو پھر بھی یہ 5000 روپیہ بنتا ہے.
اور تیسرے آپ کو بطخیں بیچنے سے اضافی آمدن ہو گی.
دو سو میں سے 180 بطخیں بھی جوان ہو گئیں تو یہ آپ کا 180 کلو وزن بنے گا.
اور اگر یہ بطخیں‌150 روپے فی کلو کے حساب سے بھی فروخت ہو جائیں تو یہ رقم 27 ہزار روپے بنتی ہے.
اس طرح آپ کی بچت و آمدن کل ملا کر 35 ہزار روپے بنتا ہے.

خرچہ کتنا آئے گا اور نفع کتنا ہو گا؟
60 روپے کے حساب سے 160 چوزے 9 ہزار چھ سو کے بنیں گے. اور شروع شروع میں ایک آپ کو فیڈ بھی ڈالنی پڑی گی، کوئی دو تین ہزار کا خرچہ یہ ہو سکتا ہے.
بس یہی گیارہ بارہ ہزار آپ کا خرچہ ہو گا. کل آمدن یعنی 35 ہزار میں سے خرچہ نکال دیں تو آپ کا خالص منافع تقریباََ 23 ہزار بنتا ہے.

کیا بطخیں رکھنے کے لئے کوئی شیڈ وغیرہ چاہیئے؟
جی ہاں
200 بطخوں کے لئے 400 مربع فٹ کا چھوٹا سا شیڈ ضروری ہے. اس کے علاوہ جس کھیت میں آپ نے بطخیں چھوڑنی ہیں اس کے گرد کوئی باڑ وغیرہ کا انتظام بھی ہو جائے تو بہتر ہے تاکہ بطخیں کھیت کے اندر ہی رہیں اور کتوں بلیوں وغیرہ کے حملوں سے بھی بچی رہیں.
آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ یہ کام تو تھوڑا مشکل اور مہنگا ہے. تو آئیے آپ کو ایک آسان حل بتاتے ہیں.

مفید مشورہ

مشورہ یہ ہے کہ ایسے کاشتکار جن کے گھر اور زمین آپس میں ملے ہوئے ہیں وہ بڑی آسانی سے یہ کام کر سکتے ہیں. گھر کے ساتھ، باہر والی طرف ایک چھوٹا سا کُھڈا یا شید بنا لیں. صبح کے بطخیں کھیت میں جانے کے لئے چھوڑ دیں اور شام کو شیڈ میں بند کر دیں. اس طرح بطخیں آپ مرغیوں کی طرح بڑی آسانی سے پال سکتے ہیں.
البتہ جو لوگ کھلے کھیتوں میں اس کا انتظام کر سکتے ہیں وہ ضرور اپنا شوق پورا کریں. لیکن بطخیں پالنے سے پہلے اپنے علاقے کے مرغی فروش سے بطخوں کی فروخت کے بارے میں ضرور بات کر لیں تاکہ جب بطخیں تیار ہو جائیں تو بیچنے میں کوئی پریشانی نہ ہو.

تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہرِ توسیعِ زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

یہ تحریر لکھنے کے لئے محققین کے تجربات سے استفادہ کیا گیا ہے


<iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/yqae2yT6OGY" frameborder="0" allow="autoplay; encrypted-media" allowfullscreen></iframe> .

February 09, 2018

زیتون ( OLIVE ) کی کاشت OLIVE FARMING





زیتون ( OLIVE ) کی کاشت :
زیتون کا باغ لگائیں ۔ ہزار سال تک بھر پور منافع کمائیں
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ پاکستان میں ایک مرتبہ زیتون کا باغ لگا لیں تو وہ کم از کم ایک ہزار سال تک پھل دیتا رہے گا.

زیتون کن کن اضلاع میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کے باغات پنجاب سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں کامیابی سے لگائے جا سکتے ہیں. حتی کہ چولستان میں بھی زیتون کی کاشت ہو سکتی ہے.
لیکن فی الحال زیتون کی کاشت کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کی ساری توجہ پوٹھوہار کے علاقوں پر مرکوز ہے.

زیتون کس طرح کی زمین میں لگایا جاسکتا ہے؟
زیتون کا پودا ہر طرح کی زمینوں مثلاََ ریتلی، کچی، پکی، پتھریلی، صحرائی زمینوں میں کامیابی سے لگایا جا سکتا ہے. صرف کلر والی زمین یا ایسی زمینیں جہاں پانی کھڑا رہے، زیتون کے لئے موزوں نہیں ہیں.
زیتون کو کتنے پانی کی ضرورت ہے؟
زیتون کے پودے کو شروع شروع میں تقریبا دس دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے. جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی پانی کی ضرورت بھی کم ہوتی جاتی ہے.
دو سال کے بعد زیتون کے پودے کو 20 سے 25 دن کے وقفے سے پانی لگانا چاہیئے.

زیتون کے پودے کب لگائے جا سکتے ہیں؟
زیتون کے پودے موسمِ بہار یعنی فروری، مارچ , اپریل یا پھر مون سون کے موسم یعنی اگست، ستمبر ، اکتوبر میں لگائے جا سکتے ہیں.
زیتون کے پودے لگانے کا طریقہ کار کیا ہے؟
زیتون کا باغ لگاتے ہوئے پودوں کا درمیانی فاصلہ 10×10 فٹ ہونا ضروری ہے. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریبا 400 پودے لگائے جا سکتے ہیں. یہ بھی دھیان رہے کہ زیتون کے پودے باغ کی بیرونی حدود سے تقریباََ 8 تا 10 فٹ کھیت کے اندر ہونے چاہیئں.
پودے لگانے کے لئے دو فٹ گہرا اور دو فٹ ہی چوڑا گڑھا کھودیں. اس کے بعد زرخیز مٹی اور بھل سے گڑھوں کی بھرائی کر دیں. اب زیتون کا پودا لگانے کے لئے آپ کی زمین تیار ہے.
پودے کو احتیاط سے شاپر سے نکالیں تاکہ گاچی وغیرہ ٹوٹ کر جڑوں کو ہوا نہ لگ جائے. گڑھے کی مٹی کھود کر پودا لگائیں اور اس کے بعد پودے کے چاروں طرف مٹی کو پاؤں کی مدد سے دبا دیں تاکہ پودا مستحکم ہو جائے. چھوٹے پودے کا تنا ذرا نازک ہوتا ہے اس لئے پودے کو پلاسٹک کے پائپ سے سہارا دے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے. سہارے کے لئے لکڑی کا استعمال نہ کریں کیونکہ لکڑی کو دیمک لگ سکتی ہے جو بعد میں پودے پر بھی حملہ آور ہو سکتی ہے.

زیتون کی کون کون سی اقسام کہاں کہاں کاشت کی جا سکتی ہیں؟
پوٹھوہار اور اس کے ملحقہ اضلاع کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کی جا سکتی ہیں.
نمبر 1. لسینو
نمبر 2. گیملک
نمبر 3. پینڈولینو
نمبر 4. نبالی
نمبر 5. آربو سانا
نمبر 6. کورونیکی
نمبر 7. آربیقوینہ
پنجاب اور سندھ کے گرم علاقوں سمیت دیگر گرم علاقوں کے لئے درج ذیل اقسام کاشت کرنی چاہئیں.

نمبر 1. آربو سانا
نمبر 2. کورونیکی
نمبر 3. آربیقوینہ
یاد رکھیں زیتون کا باغ لگاتے وقت کم از کم دو یا دو سے زائد اقسام لگانی چاہئیں اس طرح بہتر بارآوری کی بدولت پیداوار اچھی ہوتی ہے.
زیتون کے باغ کو کھادیں کتنی اور کون کونسی ڈالنی چاہئیں؟
کھاد دوسرے سال کے پودے کو ڈالیں. دوسرے سال کے پودے کے لئے:
گوبر کی کھاد . . . . 5 کلوگرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 5 کلو گرام کا اضافہ کریں
نائٹروجن کھاد . . . . 200 گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 100 گرام کا اضافہ کریں
فاسفورس کھاد . . . . 100گرام فی پودا ڈالیں . . . . اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں
پوٹاش کھاد . . . . . . 50 گرام فی پودا ڈالیں . . . . .. اگلے سالوں میں ہر سال 50 گرام کا اضافہ کریں

زیتون کے پودے کو پھل کتنے سال بعد لگتا ہے؟
عام طور پر 3 سال میں زیتون کے پودے پر پھل آنا شروع ہو جاتا ہے.
زیتون کے پودے پر پھل پہلے سبز اور پھر جامنی ہو جاتا ہے۔ سبز پھل اچار اور جامنی تیل نکالنے کے لئے استعمال ہوتا ہے
زیتون کے باغ سے فی ایکڑ کتنی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے؟

زیتون کے ایک پودے سے پیداوار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ نے پودے کی دیکھ بھال کس طرح سے کی ہے.
اچھی دیکھ بھال کی بدولت ایک پودے سے 60 کلوگرام یا اس سے بھی زیادہ زیتون کا پھل با آسانی حاصل ہو سکتا ہے.
لیکن اگردیکھ بھال درمیانی سی کی گئی تو 40 کلوگرام فی پودا پھل حاصل ہو سکتا ہے. انتہائی کم دیکھ بھال سے پودے کی پیداوار 25 سے 30 کلوگرام فی پودا تک بھی گر سکتی ہے. لہذا ماہرین زیتون کے باغات کی فی ایکڑ پیداوار کا حساب لگانے کے لئے 25 کلو گرام فی پودا پیداوار کو سامنے رکھتے ہیں.
اس طرح ایک ایکڑ میں موجود 400 (اوسط) پودوں سے 10000 ہزار کلوگرام زیتون کا پھل حاصل ہو سکتا ہے.

ایک ایکڑ کے پھل سے کتنا تیل نکل آتا ہے؟
بہتر یہ ہے کہ زیتون کے کاشتکار پھل کو بیچنے کی بجائے اس کا تیل نکلوائیں اور پھر اس تیل کو مارکیٹ میں فروخت کریں. زیتون کے پھل سے 20 سے 30 فی صد کے حساب سے تیل نکل آتا ہے.
20 فی صد کے حساب سے ایک ایکڑ زیتون کے پھل ( 10000 کلوگرام ) سے تقریبا 2000 کلو گرام تیل نکل آتا ہے.

فی ایکڑ آمدن کتنی ہو سکتی ہے؟
یوں تو مارکیٹ میں بڑے بڑے سپر سٹوروں پر آپ کو زیتون کا تیل کوالٹی کے حساب سے 800 روپے سے لیکر 1100 روپے فی کلو تک مل سکتا ہے. لیکن واضح رہے کہ یہ سارے کا سارا تیل باہر سے درآمد کیا جاتا ہے جس کی کوالٹی پر ماہرین کے شدید تحفظات ہیں. ماہرین کہتے ہیں کہ مختلف برانڈوں کا درآمد شدہ تیل جو پاکستانی مارکیٹ میں بک رہا ہے یہ خالص زیتون کا تیل نہیں ہے بلکہ اس میں کئی دوسرے تیلوں کی ملاوٹ ہوتی ہے .
گرین ایگرو کی معلومات کے مطابق چکوال میں تحقیقاتی ادارے کے پلانٹ سے نکالا جانے والا تیل کم از کم 2 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے بک رہا ہے. واضح رہے کہ چکوال کا زرعی تحقیقاتی ادارہ کسانوں کو تیل نکالنے کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے.
اگر ریٹ واقعی دو ہزار روپے فی کلو گرام ہو تو آمدن کا حساب آپ خود لگا سکتے ہیں. گرین ایگرو نے آمدن معلوم کرنے کے لئے 800 روپے فی کلو گرام کے ریٹ کو سامنے رکھا ہے.
اس طرح سے 2000 کلو گرام تیل سے حاصل ہونے والی آمدن تقریباََ 16 لاکھ روپے بنتی ہے. اگر باغ کی اچھی دیکھ بھال کی جاے تو امدن دوگنا ھو سکتی ھے
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زیتون کے پھل سے تیل کے علاوہ اچار اور مربع جات بھی بنائے جاتے ہیں. اور ویسے بھی جس درخت کی اللہ نے قرآن میں قسم کھائی ہے اس میں نقصان کیسے ہوسکتا ہے

Total Pageviews