Showing posts with label RELATIONSHIP. Show all posts
Showing posts with label RELATIONSHIP. Show all posts

February 25, 2022

Relationship With Poor & Rich Neighbours - Relatives


🤔🤔🤔           نئی  نسل کے لیئے۔                      مانگنے کا انداز ؛ مانگتے رہا کریں
یہ واقعہ میرا نہیں ہے‘ میرے ایک دوست نے سنایا تھا اور اس نے بھی کسی اور سے سنا تھا لیکن یہ کمال ہے اور اس میں زندگی کا شان دار بلکہ شان دار ترین سبق چھپا ہے۔
سنانے والے نے سنایا‘ میں پڑھائی کے بعد لندن سے واپس آیا‘ سارا دن گھر پر پڑا رہتا تھا‘ ایک دن میری والدہ نے مجھ سے کہا‘دوڑ کر جائو اور ہمسایوں سے تھوڑا سا نمک مانگ کر لے آئو‘ میں نے حیرت سے ماں کی طرف دیکھا اور کہا’’امی جی آپ کل ہی نمک لے کر آئی ہیں‘ وہ کہاں گیا اور دوسرا اللہ کا ہم پر بڑا احسان‘ بڑا کرم ہے‘ ہم ہمسایوں سے نمک کیوں مانگ رہے ہیں؟‘‘
 

میری ماں نے ہنس کر کہا ’’تم پہلے نمک لے کر آئو‘ میں تمہیں پھر بتائوں گی‘‘ میں برا سا منہ بنا کر چلا گیا‘ ہمارا ہمسایہ بہت غریب تھا‘ اس کا دروازہ تک ٹوٹا ہواتھا‘ میں نے اس کی کنڈی بجائی‘ خاتون خانہ باہر آئی‘ میں نے اسے سلام کیا اور بتایا‘ میں آپ کے ہمسائے خواجہ صاحب کا بیٹا ہوں‘ لندن سے آیا ہوں‘ میری والدہ کو تھوڑا سا نمک چاہیے‘ اگر ہو سکے تو آپ دے دیجیے‘ خاتون کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی‘ وہ اندر گئی‘چھوٹی سی کٹوری میں تھوڑا سا نمک ڈال کرلے آئی اور مسکرا ک
ر بولی‘ بیٹا امی کو میرا سلام کہنا اور پھرکہنا ‘آپ کو اگر مزید بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو آپ منگوا لیجیے گا‘ میرے پاس آج فریش بھنڈیاں بھی ہیں۔

 

میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور نمک لے کر آ گیا‘ میں والدہ سے بہت ناراض تھا‘ مجھے نمک مانگتے ہوئے بڑی شرم آئی تھی‘ میری والدہ نے مجھے دیکھ کر قہقہہ لگایا اور میرے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی ’’بیٹا یہ لوگ غریب ہیں‘ یہ روز مجھ سے کھانے کی کوئی نہ کوئی چیز مانگتے ہیں‘ ان کے بچے شروع شروع میں جب ہماری بیل بجاتے تھے تو مجھے ان کی آنکھوں میں شرمندگی اور بے عزتی محسوس ہوتی تھی‘ میں نے انھیں شرمندگی سے نکالنے کے لیے یہ طریقہ ایجاد کیا ہے‘ میں ہر دوسرے دن ان سے کوئی نہ کوئی چیز مانگتی رہتی ہوں‘ کبھی نمک مانگ لیتی ہوں‘ کبھی مرچ کے لیے کسی کو بھجوا دیتی ہوں اور کبھی دوپٹہ ‘ چادر یا بالٹی مانگ لیتی ہوں۔

 

میرے مانگنے کی وجہ سے یہ کمفرٹیبل ہو جاتے ہیں اور ان کو جوبھی چیز چاہیے ہوتی ہے یہ ہم سے بے دھڑک لے لیتے ہیں‘‘ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ میں نے اپنی ماں کا ہاتھ تھاما اور دیر تک چومتا رہا‘ میری ماں نے اس کے بعد مجھے زندگی کا شان دارترین سبق دیا‘ انھوں نے فرمایا ’’بیٹا اپنے غریب ہمسایوں‘ رشتے داروں اور دوستوں سے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگتے رہا کرو‘ اس سے ان کی انا کی بھی تگڑی رہتی ہے اور ہمارابھی ان سے تعلق قائم رہتا ہے‘‘ میں نے ایک بار پھر اپنی ماںکا ہاتھ چوم لیا‘ میری والدہ نے شام کو میرے ذریعے اس ہمسائے کے گھر سالن بھی بھجوا دیا‘ میں گوشت کا ڈونگا لے کر گیا اور ان سے تھوڑی سی بھنڈیاں مانگ کر لے آیا‘ اس رات مجھے طویل عرصے بعد لمبی اور پرسکون نیند آئی۔

 
یہ کیا شان دار واقعہ اور بے مثال سبق ہے‘ میں نے جب یہ سنا تو میرے سامنے بھی درجنوں واقعات کھل گئے‘ میرے والد بھی اپنے دوستوں سے تمباکو اور حقے کے لیے گڑ منگوایا کرتے تھے‘ یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری رہا جب ان کا حقہ عملاً بند ہو چکا تھا‘ ہمارے گھرمیں دس پندرہ کلو تمباکو ہروقت رہتا تھا مگر وہ اس کے باوجود مزید منگواتے رہتے تھے‘ میں نے ایک دن ان سے اس عجیب وغریب شوق کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے ہنس کر جواب دیا‘ میرے دوست بوڑھے ہو چکے ہیں۔
 
یہ اکیلے بھی ہیں اور یہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے بھی رہ گئے ہیں‘ مجھے تمباکو پہنچانا ان کی زندگی کی واحد ایکٹویٹی ہے‘ میں انھیں فون کر کے فرمائش کرتا ہوں تو یہ خوش ہو جاتے ہیں‘ یہ اس بہانے اسلام آباد آتے ہیں‘ میں انھیں ڈاکٹروں کو دکھا دیتا ہوں‘ دو تین دن ان کی خدمت کرتا ہوں‘ واپسی پر انھیں جوتے اور کپڑے بھی لے کر دیتا ہوں اور ہم ایک دو دن ہنس کھیل بھی لیتے ہیں‘ مجھے اس وقت والد کی منطق سمجھ نہیں آتی تھی لیکن جب میں نے نمک کا واقعہ سنا تو مجھے والد‘ تمباکو اور ان کے سارے پینڈو دوست یاد آ گئے اور پھر میں دیر تک سوچتا رہا ہماری بزرگ نسل کتنی شان دار اور وسیع القلب تھی‘یہ کس طرح لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ کررکھتی تھی جب کہ ہم تقسیم درتقسیم نسل ہیں‘ ہمارا اپنی ذات کے ساتھ بھی تعلق ٹوٹ چکا ہے‘ لاہور میں میرے ایک دوست رہتے تھے‘ اللہ تعالیٰ انھیں جوار رحمت میں جگہ دے۔

میں جب بھی ان سے ملنے جاتا تھا‘ وہ کسی نہ کسی ریستوران میں دعوت کرتے تھے‘ دس پندرہ بیس لوگوں کو انوائٹ کرتے تھے اور آخر میں بل ہمیشہ اپنے کسی نہ کسی غریب دوست سے دلاتے تھے‘ مجھے ان کی یہ حرکت بہت بری لگتی تھی‘ میں سوچتا تھا‘ یہ کیا چول حرکت ہے؟ وہ بے چارہ ہمارے سامنے موٹر سائیکل یا رکشے پر آیا اور شاہ صاحب نے اسے دس پندرہ ہزار روپے کابل ٹھونک دیا‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں انتہائی خوش حال بنا رکھا ہے‘ انھیں کم از کم یہ چول نہیں مارنی چاہیے‘ میں کئی برس تک شاہ صاحب کی اس حرکت پر کڑھتا رہا لیکن پھر ایک دن شاہ صاحب پکڑے گئے۔

 

میں واش روم میں تھا‘ شاہ صاحب بھی اپنے غریب دوست کو پکڑ کر واش روم میں لے گئے‘ وہ دونوں نہیں جانتے تھے میں اندر ان کی گفتگو سن رہا ہوں‘ شاہ صاحب نے اپنے غریب دوست کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگایا اور اس سے کہا ’’یار حماد باہر میرے دوست ہیں‘ یہ مجھے بل نہیں دینے دیں گے‘ تم یہ پیسے رکھو اور جب ویٹر بل لائے تو تم بل پکڑ کر زبردستی ادا کر دینا‘ اگر میرے دوست ضد کریں گے تو میں ان سے کہوں گا یہ دعوت حماد کی طرف سے تھی لہٰذا بل یہی دے گا‘ پلیز میرا پردہ رکھنا‘‘ حماد نے آہستہ آواز میں سرگوشی کی‘ شاہ جی آپ پیسے رہنے دیں‘ بل میں دے دوں گا‘ شاہ صاحب نے دوبارہ اس کی ٹھوڑی کو ہاتھ لگایا اور منت کے لہجے میں کہا’’ حماد پلیز تم یہ رقم ادھار سمجھ کر رکھ لو لیکن بل اسی سے ادا کرو اور اس کے ساتھ ہی رقم اس کی جیب میں ڈال دی‘‘ وہ دونوں واش روم سے نکل گئے تو میں بھی آنکھیں صاف کرتا ہوا باہر آ گیا۔

 

دعوت کے آخر میں جب بل آیا تو سب نے اونچی آواز میں کہنا شروع کر دیا ’’میں دوں گا‘ میں دوں گا‘‘ لیکن شاہ صاحب نے حسب عادت اونچی آواز میں کہا ’’یہ بل حماد دے گا‘ یہ چوہدری صاحب سے ملنا چاہتا تھا لہٰذا اسے اب اس ملاقات کی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی‘‘ اور ساتھ ہی حماد نے بل پکڑ لیا‘ میں نے یہ واقعہ بعدازاں بے شمارلوگوں کو سنایا اور ہر بار ان سے درخواست کی آپ جب بھی اپنے پرانے اور بچپن کے دوستوں سے ملیں‘ شان دار کھانا منگوائیں اور جب بل کی باری آئے تو بل اٹھا کر اپنے سب سے غریب دوست کے حوالے کر دیں اور ساتھ ہی میز کے نیچے سے اسے رقم پکڑا دیں‘ اس سے اس کا بھرم بھی رہ جائے گا‘ دوستوں میں اس کی عزت بھی بڑھ جائے گی اور آپ کا اس کے ساتھ تعلق بھی گہرا ہو جائے گا۔

 

یہ واقعات سن سن کر میرے چند جاننے والوں نے ’’دوستوں سے مانگتے رہو‘‘ کے نام سے ایک چھوٹا سا گروپ بنا لیا ہے‘ اس گروپ کے لوگ اپنے غریب رشتے داروں اور دوستوں سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں‘ یہ کسی سے گنے منگوا لیتے ہیں‘ کسی سے گڑ‘ کسی سے مکھن‘ کسی سے پنیر‘ کسی سے دیسی انڈے‘ کسی سے ساگ اور کسی سے آٹا‘ یہ حرکت بظاہر بڑی چیپ محسوس ہوتی ہے لیکن آپ یقین کریں ان کی اس چیپ حرکت سے ان کے اپنے پرانے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ تعلقات بہت آئیڈیل ہیں‘یہ لوگ دوستوں سے دال‘ ساگ اور گڑ مانگتے ہیں اور دوست جواب میں ان سے دوائیاں‘ بچوں کی فیسیں اور بیٹیوں کا جہیز مانگ لیتے ہیں اور یہ لوگ دوستوں کو مہینے دو مہینے بعد کپڑے‘ جوتے‘ سویٹر اور رضائیاں بھی بھجواتے رہتے ہیں۔

 

آپ خود سوچیے یہ لوگ اگر ان سے گڑ نہیں مانگیں گے تو یہ غریب دوست ان سے اپنی تکلیف اور ضرورت کا ذکر کیسے کریں گے اور یہ اگران سے بھی اپنی ضرورت بیان نہیں کریں گے تو پھر یہ کس کے پاس جائیں گے؟ کیا انسان کو تکلیف میں دوستوں اور رشتے داروں سے رابطہ نہیںکرنا چاہیے؟ دوسری چیز آپ لوگ اپنے ہمسایوں سے بھی کچھ نہ کچھ مانگتے رہا کریں‘ اس سے آپ کے تعلقات دیواروں تک محدود نہیں رہیں گے‘ یہ صحن اور ڈرائنگ روم تک چلے جائیں گے لیکن اس کے لیے ایک بات کا خاص خیال رکھیں‘ پنجاب کی پرانی روایت تھی‘ ہماری دادیاں اور نانیاں دوسروں کا برتن خالی واپس نہیں بھجواتی تھیں اگر ایک گھر سے سالن آتا تھا تو واپسی پر اس برتن میں حلوہ یا میوہ جاتا تھا۔

 

آپ بھی ہمسایوں سے مانگیں اور واپسی پر اس برتن میں زیادہ بڑی اور شان دار چیزیں بھجوائیں‘ اس سے آپ کے تعلقات میں بھی اضافہ ہو گا اور اجنبیت کی دیواریں بھی گرجائیں گی اور آخری بات آپ کو جب بھی کوئی شخص کھانے کی چیز بھجوائے تو لوگوں کے درمیان اس کی جی بھر کر تعریف کریں‘ یہ یاد رکھیں ہم انسانوں کی فطرت ہے ہم ہمیشہ دوسروں سے کھانے کی چیز کی تعریف چاہتے ہیں‘ آپ ذرا یاد کریں لوگوں نے جب بھی آپ کے کھانے کی تعریف کی تھی تو آپ کو کیسا لگا تھا؟

 

آپ کو اگر اچھا لگا تھا تو آپ بھی یہ کر کے دیکھیں دوسروں کو بھی بہت اچھے لگے گا اور یہ بھی یاد رکھیں ہم سماجی جانور ہیں‘ ہم دوسروں سے کٹ کر نہیںرہ سکتے‘ ہماری ساری خوشیاں دوسروں کے دلوں سے نکلتی ہیں لہٰذا لوگوں سے رابطے میں رہا کریں‘ خوش رہیں گے ورنہ اپنی ہی ذات میں قیدتنہائی کا شکار ہو کر گھٹ گھٹ کر فوت ہو جائیں گے۔منقول


 

February 12, 2020

Relationship with Parents



میں رشتہ اور آنٹی ۔۔
بہت دلچسب داستان ھے پڑھئے گا ضرور زندگی بھر کیلئے نصحیت ملے گی ۔۔ان شآء اللہ
میں اور میری بیوی سنار کی دوکان پر گئے سونے کی انگوٹھی خریدنے کیلئے ۔کچھ انگوٹھیاں دیکھنے کے بعد میری بیوی کو ایک انگوٹھی پسند آگئی ۔قیمت ادا کر کے جیسے ھی میں باہر نکلنے کیلئے مڑا تو ایک بارعب شخص سے ملاقات ھوئی جو کہ مجھے جانتے تھے لیکن میں انکو بھول چکاتھا بس اتنا یاد تھا کہ ماضی میں کبھی ان سے ملاقات ھوئی تھی ۔۔
یہ صاحب بڑی گرم جوشی سے میرے گلے ملے اور سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگے "بیٹا لگتا ھے پہچاننے کی کوشش کر رھے ھیں آپ "
میں نے کہا معزرت کیساتھ آپ کا چہرہ جانا پہچانا لگ رہا ھے لیکن یاد نہی آرہا کہ آپ سے کب ملاقات ھوئی تھی ۔۔
وہ تھوڑا سا مسکراے اور کہنے لگے میرا نام اقبال ھے ویسے لوگ مجھے بڑا بھائی کہتے ھیں ۔آج سے چند سال قبل آپ اپنی فیملی کیساتھ ھمارے گھر آے تھے گلبرگ میں ھمارا گھر ھے شاید آپ کو یاد آگیا ھو ۔۔
انکی بات سن کر میرا تو سر ھی چکڑا گیا ۔اور میرا رویہ بالکل مودبانہ ھو گیا اور میں بے اختیار بول پڑا سب یاد آگیا بڑے بھائی سب یاد آگیا ۔۔۔
میں نے سوال کیا آپ اکیلے ھی ھیں یا آنٹی بھی آئیں ھے ۔
بڑے بھائی نے جواب دیا جی آنٹی بھی آئیں ھیں اور دوسرے بھائی بھی آئیں ھیں وہ بیٹھے ھیں آپ ان سے مل سکتے ھیں ۔۔۔
ایک سائید پر دیکھا تو آنٹی برقعہ پہنے بیٹھی تھی اور ساتھ میں ھی دوسرے بھائی بھی کھڑے چہرے پر مسکراہٹ سجاے میری طرف دیکھ رھے تھے ۔۔
میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ انٹی کو سلام کرو اور بعد میں انکا تعارف کرواتا ھوں ۔۔
میری بیگم گئی آنٹی کو سلام کیا آنٹی نے بہت ھی اچھے طریقے سے میری بیوی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر بہت ھی پیارے انداز میں میری بیوی کو دعائیں دیں ۔
میں نے آنٹی کو بتلایا کہ یہ میری بیوی ھے اور یہ میرا 3سال کا بیٹا ھے ۔آنٹی بہت خوش ھوئیں اور اپنے بیٹے کیطرف آنکھوں ھی آنکھوں میں اشارہ کیا جس نے میری بیٹے کی جیب میں 1000 کا نوٹ ڈال دیا ۔میں نے بہت اسرار کیا کہ یہ غلط ھے لیکن آنٹی نہ مانیں ۔
کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں آنٹی سے آنے کا مقصد پوچھا تو آنٹی کہنے لگیں کہ اللہ نے میری بیٹی کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ھے اسلئے بیٹی کیلئے اور انکے اہل خانہ کیلئے کچھ تحائف خریدنے آئیں ھیں ۔۔
میں نے پوچھا آنٹی کونسی بیٹی آپکی تو تمام بیٹیاں شادی شدہ تھیں صرف ایک۔کنواری تھی جسکے رشتہ کیلئے ھم لوگ آے تھے اور آپ لوگوں نے کہا تھا کہ ابھی 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی ھے ۔۔حالانکہ مجھے حیرانگی ھوئی تھی کہ گھر پر رشتے کیلئے بلوا کر پھر کہہ دینا کہ 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی کتنی غلط بات ھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔آنٹی کو جیسے ایک جھٹکا لگا ۔۔لیکن وہ ایک سمجھدار خاتون تھیں فورا ھی سمجھ گئیں کہ بات کچھ اور ھے پوچھنے لگی کہ یہ بات آپکو کس نے کہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا والد صاحب نے کہا تھا ۔۔تو وہ کہنے لگی نہی ۔۔بات دراصل کچھ اور تھی لیکن آپ کے والد صاحب نے آپ کا پردہ رکھا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔میرے اندر ایک تجسس پیدا ھو گیا کہ میرے والد صاحب ھم سے کیسے غلط بیانی کر سکتے ھیں اور میرے والد صاحب نے کبھی بھی جھوٹ نہی بولا تھا ۔۔
آنٹی نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ مجھے میرے بیٹے کیساتھ اکیلا چھوڑ دیں اور میں نے بھی اپنی بیگم کو کہا کہ تم تھوڑا سا وقت مجھے دو بچے کو کچھ کھلاو پلاو۔۔
آنٹی کہنے لگی بیٹا جس دن تم اور تمہارے اہل خانہ ھمارے گھر ھماری بیٹی کا رشتہ لینے آے تھے میں نے اسی دن تمھارے رشتہ سے انکار کر دیا تھا جو کہ شاید تمھارے والدین نے تمہیں نہی بتلایا ۔۔۔
تم ایک پڑھے لکھے اور معاشرے میں ایک کامیاب شخص ثابت ھو سکتے ھو مجھے پہلے ھی علم تھا ۔۔
اور مجھے مکمل یقین تھا کہ میری بیٹی کو بھی تم خوش رکھو گے ۔۔
لیکن نئے لوگوں سے رشتہ جوڑنے کیلئے صرف لڑکے کو ھی نہی دیکھا جاتا بلکہ۔اسکے مکمل خاندان کو دیکھا جاتا ھے ۔کیونکہ ھم نے مستقبل میں آپس میں میل جول رکھنا ھوتا ھے اسلئے لڑکے یا لڑکی کے گھرانے والوں کو دیکھ کر مستبقل کا تعین کیا جاتا ھے کہ یہ گھرانہ مستقبل میں کتنا کامیاب رشتہ نبھا سکتا ھے کیونکہ۔زندگی میں اتار چڑھاو آتے رھتے ھیں اور ان حالات میں ھمکو کسی اپنے کی ضرورت ھوتی ھے اسلئے ھم کسی ایسے سے رشتہ نہی جوڑتے جو خوشیوں میں ھمارے ساتھ ھو لیکن حالات کے خراب ھوتے ھی وہ ھم سے جدا ھو جاے ۔۔
اسلئے میں نے اس دن آپکے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو صاف صاف انکار کر دیا تھا ۔۔ھو سکتا ھے کہ انہوں نے آپ کو درست بات نہ بتلائی ھو۔۔
۔۔۔۔۔آنٹی کی باتیں سن کر میں مزید پریشان ھو گیا اور میں نے کہا کہ آنٹی ھم بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑکتیں ھیں خوشی اور غم میں برابر کے شریک ھوتے ھیں کبھی ایسا نہی ھوا کہ ھم میں سے کسی کو ایک۔دوسرے سے کوئی۔شکایت ھو ۔۔۔اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو میں 100فیصد درست ھوں کہ آپکو ھمارے خاندان کو پرکھنے میں غلطی ھوئی ھے ۔۔
آنٹی نے ایک سرد آہ لی اور کہا بیٹے ابھی تم بہت چھوٹے ھو جو چیزیں میں دیکھ سکتی ھوں تم انکیطرف کبھی سوچ بھی نہی سکتے ۔۔۔
میرے استفسار پر آنٹی نے کہا کہ میرا اندازہ کبھی غلط نہی ھوتا ۔۔
چلو میں تمکو بتلاتی ھوں ۔۔۔
میں نے اپنی بیٹی کیلئے جتنے بھی رشتے دیکھے ھیں ان سے کچھ شرائط رکھی ھیں جو بھی میری بیٹی کو دیکھنے آے ۔
وہ اپنے تمام بیٹوں اور انکی بیگمات کو ساتھ لائیں ۔۔
جو سب سے اچھے کپڑے ھوں وہ زیب تن کر کے آئیں ۔
گھر کی عورتیں اپنے مکمل زیورات سے سج کر آئیں ۔
اگر گھر میں ھر فرد کی اپنی اپنی گاڑی ھے تو وہ اپنی اپنی گاڑی میں آئیں ۔۔۔
یہ شرائط بہت عجیب تھیں ۔۔لیکن بعض لوگوں نے اسکا یہ۔مطلب لیا کہ شاید ھم لڑکے والوں کی مالی حالت دیکھنا چاھتے ھیں ۔۔لیکن ایسی بات نہی ھے ۔۔۔
اب جب آپ کے اہل خانہ ھمارے گھر تشریف لاے تھے تو میں نے سب سے پہلے تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیاں دیکھیں جو کہ قدر مہنگی تھی جبکہ تمھارے والد صاحب کی گاڑی کی مالیت اتنی نہی تھی جتنی تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیوں کی قیمت تھی ۔۔
اسیطرح پھر میں نے تمھارے والد صاحب کے کپڑوں کا جائزہ لیا تو مجھے محسوس ھوا کہ تمھارے بھائیوں کے جسموں پر سجے ھوے کپڑے زیادہ مہنگے ھیں اور یہی حال تمھارے والد صاحب کے جوتوں کا تھا ۔۔
جب میں نے تمھاری ماں کے زیورات دیکھے تو انکی مقدار بہت ھی کم۔تھی جبکہ تمھاری دونوں بھابھیوں کے ہاتھ بازو اور گلے زیورات سے سجے ھوے تھے ۔۔۔
پھر میں نے جب تمھاری بھابھیوں سے پوچھا کہ گھر کا کھانا کون پکاتا ھے تو تمھاری بھابھئوں نے کہا کہ ھم سب علیحیدہ علیحیدہ پکاتے ھیں اور تمھارے والدین کا کھانا اور اس اولاد کو معاشرے کا کامیاب فرد بنایا لیکن جب اولاد کی باری آئی تو اولاد والد کا سہارا بننے کی بجاے اپنی زندگی گزارنے پر رضامند ھو گئی ۔۔
تمھارے باپ نے تمھارے لئے بھوک افلاس بھی دیکھا ھو گا ۔
پیدل سفر بھی کیا ھو گا ۔
تمھارے منہ میں نوالہ ڈالنے کیلئے بھوک بھی برداشت کی ھو گی۔
تمہیں اچھا پہنانے کیلئے خود دو تین سال ایک ھی جوڑے میں بھی گزارے ھو نگیں ۔۔
لیکن جب اولاد کی باری آئی تو اولاد باپ کو بھول گئی اور اپنی دنیا کی رنگ رلیوں میں مگن ھو گئی ۔۔
تمھارے بھائیوں نے خود تو نئی گاڑی لے لی لیکن انکو خیال نہ آیا کہ ھمارا باپ آج بھی اسی پرانی گاڑی میں سفر کیوں کرتا ھے کیونکہ اس پر ابھی بھی تمھاری بہن کی اور تمھاری زمہ داری ھے ۔۔
اسکا بھی دل کرتا ھو گا نئے جوتے اور نئے کپڑے پہننے کو لیکن ھو سکتا ھے اسکی جیب اس چیز کی اجازت نہ دیتی ھو ۔۔لیکن تمھارے بھائیوں کی جیب تو اجازت دیتی تھی کہ اپنے باپ کیلئے اچھا لباس اچھا جوتا پہلے خریدتے اور اپنے لئے بعد میں کیونکہ یہ رویہ تمھارے باپ کا تھا جب بھی اس نے کوئی چیز خریدنا چاھی پہلے اپنی اولاد کا خیال کیا بعد میں اپنا سوچا ۔۔
اسی لئے میں نے یہ ساری باتیں اسی دن تمھارے والد سے کر دیں تھیں ۔ھمیں دنیا کی مال و دولت نہی چاھئیے ھمیں تو ایسے رشتہ۔دار چاھئیں جو اپنے سے بڑھ کر اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دیں تاکہ کل کو جب ھم نیچے گریں تو ھمکو مزید نیچے دبانے کی بجاے اوپر کو اٹھائیں تاکہ کل کو جب وہ نیچے گریں تو ھم انکو بھی سہارا دیں سکیں ۔۔۔
مال و دولت اعلی عہدہ یا مرتبہ تو ھمیشہ نہی رھتا ۔۔
ھمیشہ جو ساتھ چلتے ھیں وہ سچے رشتے چلتے ھیں اور اگر رشتے بنانے میں ھم سے تھوڑی سی بھی غلطی ھو جاے تو ساری زندگی بھی تباہ ھو سکتی ھے اور نسلیں بھی تباہ ھو جایا کرتی ھیں ۔۔۔
مجھے فخر ھے آپ کے والد صاحب پر کے انھوں نے آپ کو حقیقت سے آگاہ نہی کیا اور پھر بھی آپ لوگوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالتے رھے لیکن دیکھنا یہ ھے کہ اولاد اپنے والدین کا کتنا خیال رکھتی ھے والدین تو ھمیشہ سے ھی اولاد کیلئے قربانیاں دیتے آئیں ھیں ۔۔
ابھی اولاد کی باری ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد پر کہ آج کچھ بھی ھو جاے میری اولاد مجھے ھمیشہ ترجیح دیتی ھے میرے لئے پہلے خریدتی ھے بعد میں اپنے بیوی بچوں کیلئے کچھ خریدا جاتا ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد کی اولاد پر کہ وہ بھی اپنے والدین کو اپنی زندگیوں سے زیادہ ترجیح دیتی ھے اور ھمارا پورا خاندان ایک جان کی مانند ھے اگر کسی کو کسی بھی چیز کی۔ضرورت پڑ جاے تو پیٹھ دیکھا کر نہی بھاگتے بلکہ ضرورت سے زیادہ لے کر آتا ھے ۔۔۔۔
اس لئے میرے بیٹے رشتے بنانا بہت آسان ھے لیکن کامیاب رشتے چننا اور انکو نبھانا بہت مشکل ھے ۔۔کہیں ایک نا اہل رشتہ آپ کو اتنا بڑا نقصان دے سکتا ھے کہ ساری عمر کی۔خوشیاں غموں میں تبدیل ھو سکتی ھیں اور کامیاب رشتہ آپکو ایسا سہارا دے سکتا ھے کہ تمام زندگی کے غم خوشیوں میں تبدیل ھو سکتے ھیں۔۔۔
اتنی بات کرنے کے بعد انٹی اٹھ کر چلی گئیں ۔۔اور میری آنکھوں کے سامنے میرے والدین کا چہرہ گھومنے لگا ۔میری گاڑی میرے والد کی گاڑی سے بہتر تھی ۔میرا لباس میرے والد کے لباس سے بہتر تھا ۔میرے گھر کی زیب و زینت کا سامان میرے والد کے گھر سے بہتر تھا ۔میری بیوی ہاتھ میں سونے کی چوڑیاں اور کنگن تھے جو میں نے خرید کر دئیے تھے لیکن میری ماں کا سارا زیور بک چکا تھا میں آج بھی گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر لیکن میرا باپ آج بھی اولاد کی زمہ داریاں نبھا رہا تھا ۔۔
میں نے آج بھی اپنی بیوی کیلئے سونے کی انگھوٹھی خریدی لیکن میرے ذھین میں میری ماں کا خیال کیوں نہ آیا جس نے میری شادی کیلئے اپنا زیور بیچ دیا ۔۔
مجھے افسوس ھوا اپنے آپ پر کہ میں نے اپنے والدین سے زیادہ اپنی ذات کو ترجیح دی ھے میرے والدین جنہوں نے مجھے سب کچھ دیا اور میں نے ان سے سب کچھ لے کر انکو خالی کر دیا لیکن کبھی انہوں نے مجھ سے کوئی گلہ یا شکوہ نہی کیا ۔۔۔
میرے والدین کل بھی عظیم تھے اور آج بھی عظیم ھیں اور میں کل بھی ناکام تھا اور آج بھی ناکام ھوں ۔۔۔۔

Total Pageviews