Showing posts with label AAFIA SIDDIQUI. Show all posts
Showing posts with label AAFIA SIDDIQUI. Show all posts

December 21, 2019

AAFIA SIDDIQUI CASE , AMERICA & GEN MUSHARRAF




عافیہ صدیقی سے متعلق کچھ حقائق 

عافیہ صدیقی ایک ماہر نیورالوجسٹ تھیں ۔ اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا اور وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں ۔ اس نے دو شادیاں کی ہیں جن میں پہلی شادی پسند کی تھی۔

امریکہ کا دعوی ہے کہ "انہیں القاعدہ سے تعلقات کے شبے میں پکڑا گیا ہے۔ خالد شیخ محمد نے دوران تفتیش انکا نام لیا تھا اور وہ القاعدہ کے لیے رقوم بھی منتقل کرتی تھیں۔ گرفتاری کے بعد قید کے دوران اسنے امریکی فوجیوں سے بندوق چھین کر ان پر فائرنگ کی ۔ جسکی وجہ سے انہیں سزا سنائی گئی۔ "
( یہ امریکی الزامات ہیں آپ نظر انداز کر سکتے ہیں)

آگے بڑھنے سے پہلے ایک سوال ۔۔

مشرف نے کب اور کہاں عافیہ صدیقی کو امریکہ کے ہاتھ بیچنے کا اعتراف کیا ہے؟

اس سوال کا جواب مجھے آج تک نہیں ملا۔

اب آتے ہیں اصل مضمون پر۔۔۔۔

یہ بات قطعاً جھوٹ ہے کہ عافیہ صدیقی ہی بگرام جیل کی قیدی نمبر 650 تھیں۔

معظم بیگ وہ شخص ہے جس کے بیان پر عافیہ کو قیدی نمبر 650 بنا دیا گیا۔
مگر معظم بیگ فروری 2002 میں بگرام جیل لایا گیا، اور پھر اسکے ایک سال بعد ٹھیک 2 فروری 2003 کو وہ بگرام سے گوانتاناموبے کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔
جبکہ عافیہ اسکے دو مہینے بعد تک کراچی میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھیں اور وہ یکم اپریل 2003 کو روپوش ہوئیں۔ جبکہ معظم بیگ جس قیدی عورت کے چیخنے کی آوازیں سننے کی بات کرتا تھا، وہ تو معظم بیگ سے بھی پہلے جیل میں موجود تھی۔
تو اب کوئی عقلمند یہ بتا سکتا ہے کہ پھر صدیقی فیملی، مس ریڈلی اور قوم کے دانشوران نے سالہا سال کی عافیہ کیس پر تحقیق کے بعد بھی عافیہ کو قیدی نمبر 650 کیوں بنا کر پیش کرتے رہے؟

درحقیقت عافیہ صدیقی کی امریکنز کے ہاتھوں گرفتاری 2008ء کے بعد ہوئی جس وقت مشرف کی حکومت ختم ہو چکی تھی۔ اس دوران یہ اپنے ماموں شمس الدین، مفتی ابولبابہ شاہ منصور اور مفتی رفیع عثمانی سمیت کئی لوگوں سے رابطے میں رہیں اور اسی دوران اس نے القاعدہ کے لیے حیاتیاتی ہتھیار بھی بنانےکی کوشش کی۔

22 مئی 2009 کو امت اخبار میں عافیہ کے سابق شوہر ڈاکٹر امجد کا طویل انٹرویو شائع ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ عافیہ نے اپنی روپوشی کا ڈرامہ خود رچایا تھا۔ اس انٹرویو کے چیدہ چیدہ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

1۔ عافیہ جنونی کیس ہے۔
2۔ عافیہ اگر جہادی تنظیموں کی ممبر نہیں تھیں، مگر پھر بھی عافیہ کے جہادی تنظیموں سے رابطے تھے، اور خالد شیخ گروپ سے بھی رابطے تھے، امریکہ میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ نیو ہمپشائر میں گروپ کے ساتھ کیمپنگ کیا کرتیں جس کا مقصد جہاد کی تیاری تھا جس میں پانچ چھ بار وہ خود لے کر گئے۔ نیز انہوں نے نائٹ ویژن اسکوپ اور دو بلٹ پروف شکاری جیکٹس، سی فور دھماکہ خیز مواد بنانے کے مینوئل وغیرپ خریدے جس کی وجہ فطری دلچسپی اور شکار بتائی اور ان کی خرید و فروخت ممنوع نہیں تھی ملک سے باہر لے جانا ممنوع تھا۔
3۔ جب پہلی مرتبہ امریکی اداروں نے ان کا انٹرویو لیا تو عافیہ نے جان بوجھ کر ان ادارے والوں سے جھوٹ بولنا شروع کر دیا، حالانکہ تمام چیزں بینک سٹیٹمنٹ وغیرہ کے ذریعے ثابت تھیں اور ناقابل انکار تھیں (یعنی بلٹ پروف جیکٹیں اور نائٹ ویژن اسکوپ وغیرہ۔ جب ڈاکٹر امجد نے اس کی وجہ پوچھی تو عافیہ کہنے لگیں کہ کافروں کو انکے سوالات کے صحیح جوابات دینا جرم ہے اور ان سے جھوٹ بولنا جہاد۔ [پتا نہیں پھر وہ کافروں کے ملک امریکہ گئی ہی کیوں تھیں]
4۔عافیہ کے اس جھوٹ کے بعد ڈاکٹر امجد اور عافیہ امریکہ میں مشتبہ ہو گئے اور انہیں امریکا چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہونا پڑا۔
5۔ پاکستان شفٹ ہونے کے بعد عافیہ نے ڈاکٹر امجد کو افغانستان میں جہاد پر جانے کے لیے لڑائی کی اور نہ جانے کی صورت میں طلاق کا مطالبہ کیا۔
6۔ دیوبند مکتبہ فکر کے مشہور عالم مفتی رفیع عثمانی نے عافیہ کو سمجھانے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی۔
7۔ بہرحال طلاق ہوئی۔ مگر ڈاکٹر امجد بچوں سے طلاق کے بعد سے لیکر اب تک نہیں مل سکے ہیں۔ وجہ اسکی عافیہ اور اسکی فیملی کا انکار ہے۔ یہ ایک باپ پر بہت بڑا ظلم ہے جو بنت حوا اور اسکے حواریوں کی جانب سے کیا گیا اور ابھی تک کیا جا رہا ہے۔
8۔ 2003 میں عافیہ نے خالد شیخ کے بھانجے عمار بلوچی سے دوسری شادی کر لی تھی، مگر اسکو خفیہ رکھا گیا، ورنہ قانونی طور پر بچے ڈاکٹر امجد کو مل جاتے۔
9۔ 2003 میں ہی خالد شیخ کو پکڑا گیا، اور وہاں سے چھاپے کے دوران ملنے والے کاغذات سے پتا چلا کہ عافیہ کا اس گروپ سے تعلق ہے اور یہ کہ وہ خالد شیخ کے بھانجے سے دوسری شادی کر چکی ہیں اور نکاح نامہ پر انکے دستخط ہیں۔ عمار بلوچی کے خاندان والوں نے بھی اسکی تصدیق کی، مگر صدیقی خاندان مستقل طور پر جھوٹ بولتا رہا کہ عافیہ نے دوسری شادی نہیں کی۔ بعد مین عافیہ نے عدالتی کاروائی کے دوران خود اس دوسری شادی کی تصدیق کی۔
10۔عافیہ خفیہ طور پر 5 دن کے لیے امریکہ گئیں اور وہاں پر خالد شیخ کے ساتھی ماجد خان کے لیے اپنے شوہر ڈاکٹر امجد کے کاغذات استعمال کرتے ہوئے ایک عدد پوسٹ بکس کو کرائے پر لے لیا۔ ڈاکٹر امجد کی تحریر کے مطابق انہیں اس پوسٹ باکس کا علم تھا نہ عافیہ کے اس 5 دن کے خفیہ دورے کا۔
11۔ سن 2003 میں خالد شیخ کے پکڑے جانے کے بعد عافیہ بہت خطرے میں آ گئی اور خالد شیخ کے گروہ اور عافیہ نے بہتر سمجھا کہ وہ روپوش ہو جائیں کیونکہ انکا تعلق خالد شیخ سے ثابت تھا اور پھر خالد شیخ کے بھانجے عمار بلوچ سے شادی کرنے کے بعد اور امریکہ میں غیر قانونی طور پر ماجد خان کے لیے پوسٹ بکس باکس لینے کے بعد یہ یقینی تھا کہ ایف بی آئی انکا پیچھا کرتی۔
12۔ چنانچہ ڈاکٹر عافیہ نے باقاعدہ طور پر اپنی روپوشی کا ڈرامہ کھیلا۔
روپوش تو عافیہ 31 مارچ سے کچھ دن پہلے ہی ہو چکی تھی، مگر پھر عافیہ نے اپنی فیملی کو فون کر کے بتایا کہ وہ باقاعدہ ساز و سامان باندھ کر کراچی سے اسلام آباد اپنے ماموں سمش الدین واجد صاحب کے پاس جا رہی ہیں۔
مگر پھر راستے میں روپوش ہو گئیں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ انہیں اس روپوشی کا جواز بھی دینا تھا کیونکہ ڈاکٹر امجد بچوں سے ملنے کی خاطر عافیہ کے خلاف قانونی کاروائی کر رہے تھے۔ اس لیے اس روپوشی کا جواز یہ بنایا گیا کہ عافیہ کو ایجنسی کے لوگ ہی بچوں سمیت اغوا کر کے لے گئے ہیں۔
یوں عافیہ نہ صرف ڈاکٹر امجد سے بچ گئیں، بلکہ ان کے خاندان والے بھی ان سوالات سے بچ گئے کیونکہ اس دوران عافیہ کا نام گیارہ ستمبر کے حملوں کے حوالے سے سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا۔
13۔ مگر ڈاکٹر امجد نے عافیہ کے غائب ہو جانے پر یقین نہیں کیا، اور خاندان کی درزن اور دو اور لوگوں نے اسکے بھی عافیہ کو کراچی میں دیکھا، اور داکٹر امجد لکھتے ہیں کہ انہوں نے ان لوگوں کو بطور گواہ عدالت میں بھی پیش کیا۔
14۔ لیڈی صحافی ریڈلی نے دعوی کیا عافیہ بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 ہے۔ مگر مس ریڈلی نے یہاں چیٹنگ کی اور یہ بالکل صاف اور سیدھی سی بات تھی کی عافیہ قیدی نمبر 650 نہیں ہو سکتی کیونکہ معظم بیگ 2 فروری 2003 کو بگرام سے گوانتانا موبے منتقل ہو چکا تھا جبکہ عافیہ اسکے دو مہینے بعد 31 مارچ 2003 کو روپوش ہوئی۔
15 سب سے بڑا ثبوت: عافیہ کا 2008 میں اپنے ماموں شمس الدین واجد کے گھر نمودار ہونا ھے-
ڈاکٹر امجد لکھتے ہیں دو بڑے انگریزی اخبارات میں انہیں ایک دن شمس الدین واجد [عافیہ کے ماموں] کا بیان پڑھنے کو ملا جس سے انہیں شاک لگا۔ شمس الدین واجد کہتے ہیں کہ سن 2008 میں عافیہ ان کے گھر ایک دن اچانک نمودار ہوئی۔ اور تین دن تک رہی۔
ڈاکٹر امجد نے پھر بذات خود شمس الدین واجد صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے تفصیلات طلب کیں۔ شمس الدین واجد صاحب نے جواب میں انہیں باقاعدہ ای میل تحریر کی ہے جو کہ بطور ثبوت ڈاکٹر امجد کے پاس موجود ہے۔ شمس الدین واجد صاحب کے مطابق انہوں نے عافیہ کی ماں کو بھی وہاں پر بلایا اور انکی بھی عافیہ سے ملاقات ہوئی۔
مزید یہ کہ عافیہ نے کھل کر نہیں بتایا کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ ہے، مگر اس دوران میں شمس الدین واجد صاحب کو عافیہ کی ناک پر سرجری محسوس ہوئی جو زخم کی وجہ سے تھی یا پھر شکل تبدیل کرنے کی غرض سے، بہرحال عافیہ پورے عرصے نقاب کا سہارا لیتی رہی اور کھل کر سامنے نہیں آئی۔
پھر عافیہ نے اپنے ماموں سے ضد شروع کر دی کہ وہ انہیں طالبان کے پاس افغانستان بھیج دیں کیونکہ طالبان کے پاس وہ محفوظ ہوں گی۔ مگر ماموں نے کہا کہ انکے 1999 کے بعد طالبان سے کوئی رابطے نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں عافیہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ اس پر عافیہ تیسرے دن وہاں سے غائب ہو گئی۔

گمان غالب ہے کہ ان کو امریکنز نے افغانستان میں ہی گرفتار کیا تھا جہاں وہ جانے کے لے بےتاب تھیں۔

--------------------------------------------------
حقیقت یہ ھے کہ عافیہ نے یہ کھیل امریکی گرفت اور سابقہ خاوند کو بچوں سے دور رکھنے کیلئے کھیلا اور وہ اس پورے عرصے کے دوران خالد شیخ کے گروہ یا کسی اور جہادی گروہ کی مدد سے روپوش رہی، اور اسی گروہ کے لوگ عافیہ کے گھر والوں کو اس عرصے میں فون کر کے عافیہ کی خیریت کی خبر دیتے رہے۔
نیز واجد شمس الدین کی گواہی کے مطابق جس عافیہ سے سن 2008 میں ملے تھے، وہ اپنے پورے ہوش و حواس تھی۔ جبکہ بگرام کی قیدی 650 اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی۔ اس حقیقت کے بعد قیدی نمبر 650 کی حقیقت بالکل واضح ہو چکی تھی مگر افسوس کہ یہ فوج دشمنی ھے کہ جس کی وجہ سے یہ لوگ ابھی تک قیدی نمبر 650 کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے اپنے ہی ادارے پر تہمتیں لگائے جا رہے ہیں۔
"عافیہ کے بچے تمام عرصے عافیہ کے پاس تھے":-
عافیہ کے ساتھ اسکا بیٹا احمد موجود تھا جس کے متعلق پکڑے جانے پر عافیہ نے جھوٹ بولا تھا کہ احمد اسکا بیٹا نہیں بلکہ احمد مر چکا ہے اور تمام عرصے وہ احمد کو علی حسن بتلاتی رہی۔ مگر ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق ہو گئی کہ وہ احمد ہی ہے۔ نیز احمد اپنی ماں کو عافیہ کے نام سے نہیں جانتا تھا، بلکہ صالحہ کے نام سے جانتا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عافیہ اس پورے عرصے کے دوران اپنی آئڈنٹیٹی تبدیل کر کے صالحہ کے نام سے روپوشی کی زندگی گذارتی رہی-!

تو اب سچ کو بے نقاب ہو جانا چاہیے۔ اگر مشرف پر قوم کی بیٹی بیچنے کا الزام ہے تو اس کو سزا ہو جائے، لیکن اگر یہ فقط تہمت ہے تو اس میڈیا پر ایک آدم کے بیٹے پر یہ مسلسل اور نہ ختم ہونے والی تہمت کے دہرانے پر جتنی بھی لعنت کی جائے وہ کم ہو گی۔

کیا یہ کہنا درست نہیں کہ عافیہ کیس میری قوم کی جذبات میں آ کر اندھا ہو جانے کی بدترین مثال ہے کہ جہاں قوم کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور اُسے جذبات میں کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا۔

اس لنک میں عافیہ صدیقی کیس میں وکلاء کے بیانات اور عافیہ صدیقیکے متعلق تفصیل درج ہے۔

May 28, 2018

Aafia Siddiqui Case: Ground Reality by Inam Rana





 عافیہ کیس؛ دستاویزی حقائق کیا ہیں۔۔ 

تحریر انعام رانا بیرسٹر یو ۔کے۔



پاکستان میں جن معاملات میں شدید کنفیوژن موجود ہے ان میں ایک ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس بھی ہے۔ عافیہ کی گمشدگی، پھر گرفتاری اور سزا نے اس کیس کو ہمیشہ ہی بحث طلب رکھا۔ ایک طبقہ کے لئیے عافیہ پاکستان کی بیٹی ہے اور اس پہ ہر الزام غلط تو دوسری جانب ایک طبقے کیلئے وہ فقط اک دہشت گرد اور سزا بالکل درست۔ عافیہ کیس میں اک بڑی رکاوٹ اس کے کیس ڈاکیومنٹس تک دسترس نا ہونا اور محض افواہوں اور اخباری رپورٹوں پہ بھروسہ ہے۔ محترم اعجاز اعوان کی تحریک پر میں نے کچھ کوشش کی ہے۔ یہ مضمون میرے لکھنے کے سٹائل سے مختلف ہے اور طویل بھی، مگر مجھے یقین ہے کہ اس سے کئی مفروضات درست یا غلط ثابت ہوں گے اور معاملات کی کافی حد تک وضاحت ہو گی۔ میں اپنی کولیگ اٹارٹی سیمون وائٹ کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے کچھ ڈاکیومنٹس تک رسائی اور امریکی لیگل سسٹم کو سمجھنے میں میری مدد کی۔ آخر میں لنکس موجود ہیں۔ میری گزارش ہے کہ مضمون اگر کہیں ری پرڈیوس کیا جایے تو مکمل حوالے کے ساتھ کیا جایے۔
عافیہ کون ہے؟
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی سے تھا۔ والدین اسلامی ذہن کے تھے اور سابق صدر ضیا الحق کے حلقے میں گنے جاتے تھے۔ عافیہ ایک ذہین طالبہ تھی اور سن نوے میں امریکہ چلی گئیں جہاں انکا بھائی پہلے ہی موجود تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکہ میں نیورو سائنسز میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ سن پچانوے میں ڈاکٹر امجد خان سے عافیہ کی شادی ہوئی۔ عافیہ دوران قیام اسلامی موومنٹس اور فلسطین، بوسنیا اور کشمیر کاز کے ساتھ منسلک تھیں اور بہت ایکٹو سپورٹر تھیں۔ سن چھیانوے میں عافیہ کا پہلا بیٹا احمد پیدا ہوا۔
ڈاکٹر امجد کے بیان کے مطابق عافیہ کے خیالات میں شدت پسندی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ شادی کے فقط چھ ماہ بعد ہی انہوں نے اپنے خاوند کو مجبور کیا کہ فیملی بوسنیا شفٹ ہو جسے امجد نے سختی سے رد کر دیا۔ عافیہ اس دوران کب القاعدہ سے منسلک ہوئیں؟ یہ ابھی تک دھند میں ہے۔ البتہ نو گیارہ کے حملوں کے بعد عافیہ نے اپنے خاوند پہ شدید دباو ڈالنا شروع کر دیا کہ افغانستان منتقل ہوا جائے جسے امجد نے پھر رد کیا۔ امجد کے بقول اس پہ عافیہ نے اسے بزدلی کے طعنے دئیے، جہاد کا بھگوڑا قرار دیا اور طلاق کا مطالبہ کیا۔
سن دو ہزار دو میں عافیہ اور اسکے شوہر نے دس ہزار ڈالر مالیت کا ایسا سامان خریدا جو مشکوک تھا۔ اسکے علاوہ عافیہ افریقی ممالک کی فریکوینٹ ٹریولر تھیں۔  اس سامان  میں دوربینز اور دیگر ملٹری سٹائل سامان شامل تھا۔ ایف بی آئی نے مئی دو ہزار دو میں دونوں میاں بیوی کو ہولڈ کر کے انٹرویو کیا مگر امجد نے بیان دیا کہ یہ سامان اس نے شکار کیلئے خریدا ہے۔ شاید اس نے ایسا عافیہ کو بچانے کیلئیے کیا ہو کیونکہ کچھ ہی ماہ بعد اگست میں کراچی میں دونوں کی طلاق ہو گئی جب کہ عافیہ تیسرے بچے سلیمان سے حاملہ تھی جو طلاق کے دو ہفتے بعد پیدا ہوا۔
پچیس دسمبر دو ہزار دو کو عافیہ اپنے تینوں بچے ماں کے پاس چھوڑ کر امریکہ چلی گئی۔ عافیہ اور اسکے خاندان کا کہنا ہے کہ عافیہ نوکری دھونڈنے گئی تھی (ایک چار ماہ کا بچہ چھوڑ کر۔ایڈیٹر)۔ ایف بی آئی کے پیش کردہ ریکارڈ کے مطابق عافیہ دس دن امریکہ رہی اور اس نے ماجد خان نامی شخص کے نام سے پوسٹ باکس کھولا جو کہ القاعدہ کا رکن تھا۔ اسی نے عافیہ کو ایف بی آئی ریڈار پہ الرٹ کر دیا۔ ایسا کوئی ریکارڈ دونوں جانب سے موجود نہیں جو ثابت کرے کہ ان دس دنوں میں عافیہ نے کوئی جاب انٹرویو دیا۔
عافیہ کی دوسری شادی:
طلاق کے فقط چھ ماہ بعد، امریکہ سے واپسی پر عافیہ نے عمار البلوچی یا البلاچی سے شادی کی۔ یہ عمار نو گیارہ کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کا بھانجا تھا۔ اگرچہ عافیہ کی فیملی اسکی تردید کرتی ہے لیکن خالد شیخ کے فیملی ذرائع، پاکستانی اور امریکی ایجنسیاں اس شادی کی تصدیق کرتی ہیں۔ حیران کن موڑ تھا جب امریکی عدالت میں کیس کے دوران ایف بھی آئی نے جو انٹرویو رکارڈز پیش کئیے، اس میں عافیہ نے خود بھی اس شادی کو تسلیم کیا۔ رپورٹس کے مطابق عمار مارا جا چکا ہے۔
عافیہ کی گمشدگی:
مارچ دو ہزار تین میں ایف بی آئی نے عافیہ اور انکے سابق شوہر امجد خان کے خلاف گلوبل الرٹ جاری کر دیا۔ اس موقع پہ عافیہ غائب ہو گئیں۔ امجد کو ایف بی آئی نے انٹرویو کیا مگر بعد ازاں رہا کر دیا۔
عافیہ کی گمشدگی انتہائی پراسرار ہے۔ عافیہ کی فیملی کے مطابق وہ تینوں بچوں سمیت ایئرپورٹ گئی تھی اور پھر گمشدہ ہو گئی۔ ایک شبہ یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ پاکستانی ایجینسیوں نے اسے گرفتار کیا اور پھر ایف بھی آئی کے حوالے کر دیا۔
عافیہ کے سابقہ شوہر امجد خان کی گواہی البتہ بالکل مختلف ہے۔ انکے مطابق وہ مسلسل،اپنے بچوں کی وجہ سے، عافیہ کے گھر پہ نظر رکھتے رہے تھے اور عافیہ کئی بار باہر نکلتی دیکھی گئی۔ اسکے علاوہ عافیہ کے ایک ماموں، شمس الحسن فاروقی بھی گمشدگی کے عرصہ میں اس سے اسلام آباد میں ملاقات کی گواہی دے چکے۔ انکے مطابق وہ دو ہزار آٹھ میں ان سے ملی اور بتایا کہ وہ کئی بار گرفتار ہوئی اور اب اس شرط پہ آزاد ہے کہ پاکستان میں القاعدہ گروپس میں ایجنسیوں کی رسائی یقینی بنائے۔ صدیقی کے بقول وہ ان پہ زور دیتی رہی کہ اسے کسی طور افغانستان سمگل کروا دیں تاکہ وہ طالبان تک پہنچ جائے۔ تیسرے دن عافیہ پھر غائب ہو گئی۔
عافیہ نے افغانستان میں مبینہ گرفتاری کے بعد جو بیان دئیے اس میں بھی اپنی روپوشی کو بیان کیا۔
اس دوران برطانوی نومسلمہ صحافی ایوان رڈلی نے اس ایشو کو اٹھایا اور کہا کہ بگرام ایئر بیس پہ موجود ایک قیدی خاتون دراصل عافیہ ہے۔
عافیہ اس دوران کہاں رہی؟ یہ ایک راز ہے جسکی حقیقت سے اب تک پردہ نہیں اٹھ سکا۔ عافیہ کے دو بچے کہاں گئے؟ یہ بھی دھند کے پردے کے پیچھے ہے۔ اس راز سے پردہ شاید ایک بچہ اٹھا سکتا ہے، عافیہ کا بڑا بیٹا احمد۔ لیکن عافیہ کی فیملی اسے کسی صورت میڈیا کے سامنے نہیں آنے دیتیں اور نا ہی یہ بتانے دیتی ہیں کہ گمشدگی کے یہ سال وہ کہاں تھے۔
عافیہ کی مبینہ گرفتاری
کورٹ میں جمع کرائے گئے ڈاکیومنٹس کے مطابق سترہ جولائی دو ہزار آٹھ کو عافیہ کو غزنی میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے اسکے پاس سے کچھ کاغذات برآمد کئیے جن پہ امریکی ٹارگٹس پر حملوں کے متعلق نوٹس تھیں۔ اسکے ساتھ ایک بچہ بھی موجود تھا۔ افغان اتھارٹیز نے اس صورتحال میں امریکی اتھارٹیز کو آگاہ کیا جو افغان نیشنل پولیس کے کمپاونڈ میں اسکا انٹرویو کرنے آئے۔ ریکارڈ کے مطابق تب تک امریکنوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ گرفتار شدہ عورت عافیہ ہے۔
عافیہ کا مبینہ حملہ اور الزامات:
کورٹ ڈاکیومنٹس کے مطابق اٹھارہ جولائی کی سویر امریکی آرمی کی ایک تین ممبر ٹیم عافیہ کو انٹیروگیٹ کرنے پہنچی۔ ایک افغان  گواہ کے مطابق عافیہ اس سے قبل مسلسل افغان ٹیم کی منت کرتی رہی کہ اسے امریکہ کے حوالے نا کیا جائے۔ امریکی ٹیم ایک نیم روشن کمرے میں پہنچی جہاں  کافی افغان پولیس والے بھی موجود تھے اور انھیں معلوم نہیں تھا کہ عافیہ کو وہاں باندھے بنا رکھا گیا ہے۔ امریکی ٹیم کے بیان کے مطابق انکو لگا کہ انھیں اس کمرے میں گرفتار ملزمہ کے متعلق معلومات دی جائیں گی سو وہ اسلحہ رکھ کر بیٹھ گئے۔ چیف وارنٹ آفیسر نے اپنی بندوق زمین پہ رکھی اور کمرے میں لگے پہلے پردے کے ساتھ کرسی رکھ کر بیٹھ گیا۔ اسی اثنا میں عافیہ نے پردے کی نیچے سے وہ بندوق کھسکا لی اور کمرے میں موجود لوگوں پر تان لی۔ عافیہ نے “اللہ اکبر” کہہ کر فائر کیا جو کسی کو نہیں لگا۔ ایک افغان ترجمان نے عافیہ کو دبوچنے کی کوشش کی اور اسی دوران امریکی فوجی نے اپنے پسٹل سے فائر کیا جو عافیہ کے معدے میں لگا۔ عافیہ اس کے بعد میں قابو میں نہیں آ رہی تھی اور “امریکہ مردہ باد” اور “میں تم سب مادر چودوں کو مار دوں گی” کہ نعرے لگائے۔
ٹیم نے عافیہ کو فورا میڈیکل سنٹر منتقل کیا جہاں انکی سرجری کر کے جان بچائی گئی، خون لگایا گیا۔ انیس جولائی کو عافیہ کو بگرام ایئربیس اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
بگرام ایئر بیس انٹرویو:
بگرام ایئربیس پہ عافیہ ایف بی ائی ٹیم کی زیرنگرانی تھیں۔ انکو ایک بیڈ سے باندھ کر رکھا گیا۔ اس دوران ٹیم نے انکا انٹرویو کیا اور جمع کرائے گئے ڈاکیومنٹس کے مطابق عافیہ نے کہا کہ اس نے بندوق فقط خوفزدہ کر کے بھاگنے کیلئے اٹھائی تھی اور فائر کرنا انکی غلطی تھی۔ چار اگست دو ہزار آٹھ کو عافیہ کو امریکہ منتقل کر دیا گیا جہاں انکے خلاف نیویارک میں کرمنل کیس دائر کیا گیا تھا۔
پاکستان سرکار کا رویہ:
پاکستان سرکار کا رویہ اس پورے کیس میں بہت مثبت رہا۔ عافیہ کو ایک انتہائی اچھی وکلا کی ٹیم فراہم کی گئی، ایکسپرٹ سائکالوجسٹ رپورٹس اور فرانزک رپورٹس ملزمہ کی جانب سے پیش کئیے گئے۔ عافیہ کی فیملی کی رسائی اس تک ممکن بنائی گئی۔ پاکستان سرکار نے اس مقدمہ میں قریب دو ملین ڈالر خرچ کئیے۔
نفسیاتی مریضہ اور ٹرائل:
ٹرائل سے قبل دفاعی ٹیم نے یہ اعتراض داخل کیا کہ عافیہ کی ذہنی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ ٹرائل سٹینڈ کر سکے۔ عافیہ کے بھائی محمد، اسکے وکیل اور پاکستانی سفارتخانے کے آفیشل کے سامنے عافیہ کی نفسیاتی حالت کا تجزیہ کیا گیا۔ ایک سے زائد سائکولوجسٹ نے رپورٹ پیش کی جس میں سوائے ڈاکٹر لزلی پاورز کے سب نے عافیہ کی نفسیاتی حرکتوں یا علامات کو خود ساختہ قرار دیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر لزلی نے بھی اپنی رپورٹ کو ری وزٹ کر کے عافیہ کی علامات کو “میلنگرنگ” قرار دے دیا۔
چنانچہ جج برمن نے چھ جولائی دو ہزار نو کو فیصلہ دیا کہ عافیہ ٹرائل چلانے کیلئیے بالکل فٹ ہے۔
ٹرائل:
ٹرائل شروع ہوا تو کورٹ میں فرانزک رپورٹس جمع کروائی گئیں جنکے مطابق آفیہ کے پاس ملنے والے ڈاکیومنٹس اور نقشوں پہ اسکے فنگر پرنٹ موجود تھے اور نوٹس اسی کی ہینڈ رائیٹنگ میں تھے۔ اسی دوران مختلف گواہان نے اٹھارہ جولائی کے وقوعہ پر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ڈیفینس کا ایک اہم نکتہ تھا کہ عافیہ جیسی ایک عام عورت ایم فور رائفل فائر نہیں کر سکتی۔ پروسیکیوشن نے ثبوت جمع کروایا کہ دوران امریکہ قیام عافیہ نے اسلحہ چلانے کی ٹریننگ لی تھی۔ پروسیکوشن کے اکسپرٹ نے بیان دیا کہ یہ ممکن ہے کہ رائفل فائر ہوئی اور اسکا نشان کہیں نہیں ہے۔ جبکہ ڈیفنس کے ایکسپرٹ نے اس کو لغو قرار دیا کہ رائفل فائر ہوئی اور کسی جگہ گولی کا نشان نہیں ملا۔
عافیہ کا رویہ:
عافیہ کی گواہی سے قبل میں عافیہ کے رویہ پر توجہ دلانا چاہوں گا۔ عافیہ کے روئیے نے یقیناً انکے کیس پہ برا اثر ڈالا۔ عافیہ کا رویہ مسلسل غیر تعاون پہ تھا۔ عافیہ نے گائناکالوجسٹ کو معائنہ کی اجازت سے انکار کر دیا۔ عافیہ نے پری ٹرائل کیس مینیجمنٹ ہییرنگ میں جج کو مخاطب کرتے ہوے کہا “جیوری میں سے تمام یہودی نکالو، وہ میرے خلاف ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب یہودی ہیں، انکی جینیٹک ٹیسٹنگ کرو اور اسکی بنیاد پہ جیوری سے نکالو”۔ عدالتی رپورٹر کے مطابق اس موقع پر  جیوری کمرہ عدالت میں نہیں تھی۔ جج رچرڈ برمن نے اس موقع پر پراسیکیوشن سے کہا کہ عافیہ پر موجود سابقہ دہشت گردی یا القاعدہ سے تعلق کے متعلق کسی قسم کی بات جیوری کے سامنے نا کی جائے تاکہ جیوری متعصب نا ہو سکے۔
اگرچہ یہ بات موجود ریکارڈ پہ نہیں ہے لیکن نیو یارک میں موجود میرے ایک ذریعے کے مطابق جج برمن بھی یہودی ہیں۔ گو وہ ایک قابل جج کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن عافیہ کی نسلی نفرت آمیز گفتگو نے جج پر کوئی اثر ڈالا یا نہیں، یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو گا۔
اسکے علاوہ عدالت میں ہی عافیہ نے کئی بار اپنے ہی وکلا کو ڈسمس کر دیا۔ عدالت آنے سے انکار کیا۔ کئی بار انکو چیخ و پکار کرنے پر عدالت سے ریموو بھی کیا گیا۔
عافیہ کی گواہی:
عافیہ نے عدالت سے کہا کہ وہ بطور گواہ بیان دینا چاہتی ہیں۔ عافیہ کی ڈیفنس ٹیم نے اسکی شدید مخالفت کی اور کہا کہ انکی نفسیاتی حالت کے پیش نظر انکو گواہی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پراسیکیوشن نے فورا عافیہ کی تجویز سے اتفاق کیا۔ عافیہ کو گواہی سے روکنے کیلئیے پاکستانی سفیر حسین حقانی خود جیل اسپتال پہنچ گئے اور عافیہ کو منانے کی کوشش کی۔ وکلا، حقانی اور فیملی کی کوششوں کے باوجود عافیہ نے بات ماننے سے انکار کر دیا اور گواہی دینے کے فیصلے پر قائم رہیں۔ جج نے فیصلہ دیا کہ عافیہ گواہی کیلئیے فٹ ہیں۔
عافیہ نے اپنی گواہی میں کہا کہ “اٹھارہ جولائی کو وہ پردے کے پیچھے بیٹھی تھیں کہ انھوں نے امریکی آوازیں سنیں۔ انکو خوف محسوس ہوا کہ انکو امریکیو کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بھاگنے کی نیت سے جائزہ لینا چاہا اور پردے سے جھانکا تو اتنے میں ایک امریکی کی نظر ان پہ پڑی اور وہ چلایا کہ ملزمہ بھاگ رہی ہے اور ان پہ فائر کھول دیا گیا۔”
عافیہ نے اپنی گواہی میں کہا کہ “وہ قطعا دہشت گرد نہیں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ انکو خفیہ جیلوں میں رکھا گیا اور ٹارچ کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ امن کیلیے کردار ادا کر سکتی ہیں۔  انکا کہنا تھا کہ گرفتاری کے وقت برآمد شدہ بیگ انکا نہیں تھا بلکہ انکو دیا گیا۔ جب عافیہ کو بتایا گیا کہ بیگ میں موجود نوٹس جو حملوں کے ہیں انکی ہینڈ رائیٹنگ میں ہیں تو عافیہ نے کہا “یہ ممکن ہے کہ وہ میری ہینڈ رائیٹنگ میں ہوں”۔
افغانستان مین دی اپنی اعترافی سٹیٹمنٹ کے متعلق عافیہ کا کہنا تھا کہ سرجری کے بعد وہ دواؤں کے اثر میں تھیں اور انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا بلکہ ان سے ایسا کہلوایا گیا۔
عدالتی فیصلہ:
تین فروری دو ہزار دس کو جیوری، جسکی اکثریت خواتین پہ مشتمل تھی، نے عافیہ کو تمام سات الزامات کیلئیے گلٹی قرار دیا۔
تئیس ستمبر دو ہزار دس کو جج برمن نے عافیہ کو سزا سنائی۔ جج برمن نے اس موقع پر سزا میں دہشت گردی کی دفعات کا بھی اضافہ کر دیا۔ عافیہ کی سزا میں اس بات پہ زور دیا گیا کہ ملزمہ کے بیانات کی روشنی میں اسکا ایسا جرم دوبارہ کرنے کا امکان زیادہ ہے۔
یہاں یہ پوائنٹ یاد رہے کہ عافیہ کی لیگل ٹیم نے جج سے استدعا کی کہ اسے بارہ برس تک کی سزا سنائی جائے۔
جج برمن نے کل سات الزامات پر عافیہ کو چھیاسی سال پرنسپل قید اور پانچ برس سپروائزد رہائی کی سزا سنائی۔
عافیہ کی نصیحت:
عافیہ نے اس موقع پر لوگوں سے کہا کہ وہ پرامن رہیں اور خون خرابہ نا کریں۔ انھوں نے اپنا فیصلہ خدا پہ چھوڑ دیا ہے۔
اپیل:
عافیہ کی لیگل ٹیم نے فیصلے کے خلاف اپیل کی۔ نومبر دو ہزار بارہ کو سمری ججمنٹ کے بعد اسکا تفصیلی فیصلہ سیکنڈ سرکٹ کورٹ نے جاری کیا اور عافیہ کی اپیل خارج کر دی۔
دوسری اپیل:
مئی دو ہزار چودہ میں نئے وکیل نے عافیہ کی اپیل دائر کی۔ مگر جولائی دو ہزار چودہ میں عافیہ نے جج کو خط لکھا کہ مجھے امریکی لیگل سسٹم پہ کوئی اعتماد نہیں اور میں کسی قسم کے ٹرائل میں حصہ نہیں لوں گی۔ نو اکتوبر دو ہزار چودہ کو جج نے عافیہ کے خط کو قبول کرتے ہوے اپیل بند کر دی۔
بطور وکیل میرے خیالات:
میں نے اس مضمون میں یہ تفصیلات اور تمام لنکس اس لئیے فراہم کئیے ہیں کہ قارئین خود اس کیس کو جانچ سکیں۔ البتہ بطور وکیل اور ایک عام قاری میں اپنے تاثرات پیش کرنے کی جسارت کروں گا جنکا مستند ہونا ضروری نہیں ہے۔
عافیہ کا بیک گراونڈ، انکے سابقہ شوہر کی گواہی، انکی ایک دہشت گرد سے شادی یہ شدید تاثر چھوڑتی ہے کہ اسلامی ذہن رکھنے والی عافیہ رفتہ رفتہ شدت پسند ہوتی چلی گئی۔ اسلامک ایکٹوسٹ کے طور پر وہ کسی ایسے گروہ کے ہتھے چڑھیں جس نے انکے خیالات کو شدت پسندانہ بنا دیا اور انکے القاعدہ سے لنکس بھی بنے اور جیسا کہا جاتا ہے کہ وہ افریقی ممالک کی فریکوئنٹ ٹریولر تھیں، امریکہ میں ایک دہشت گرد کیلئیے پوسٹ باکس کھولا وغیرہ تو شاید وہ بطور مددگار القاعدہ سے وابسطہ رہیں۔ اسکے علاوہ القاعدہ کا انکے بدلے لینے کا اعلان بھی انکے تعلق کا تاثر دیتا ہے۔
میں قارئین کی توجہ اس اہم نکتے کی طرف دلانا چاہتا ہوں کہ امریکی حکام نے کئی لوگوں کو گرفتار کیا اور بعد ازاں رہا بھی کیا اور غلط گرفتاریوں پہ جرمانے بھی ادا کئیے۔ اگر عافیہ بالکل ہی معصوم ہوتیں تو ایف بی آئی انکو ٹاپ دہشت گردوں میں شامل نا کرتی۔
جہاں تک عافیہ کی گمشدگی کا تعلق ہے تو لگتا یہی ہے کہ انکو ایجنسیوں نے گرفتار کیا اور شاید وہ بیچ میں رہا بھی ہوئی ہوں مگر دوبارہ شاید اپنے طرزعمل کی وجہ سے گرفتار کر لی گئی ہوں۔ البتہ انکی گمشدگی، انکے دو بچوں کا لاپتہ ہونا، اور بگرام کی خفیہ قیدی والا پہلو دھند کی ایک دبیز تہہ کے پیچھے ہے۔
عافیہ کی گرفتاری اور انکے اوپر الزامات کے حوالے سے میں شدید غیر مطمئن ہوں۔ میں معروف کالم نگار آصف محمود سے اتفاق کرتا ہوں کہ گرفتاری کی کہانی اور حملے کا ڈرامہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ یہ ممکن ہے کہ عافیہ کو کہیں پکڑا گیا ہو، ان سے مشتبہ کاغذ بھی برآمد ہوے ہوں۔ امریکی ٹیم سے بھاگنے کی کوشش پر انکو گولی ماری گئی ہو اور پھر بندوق اٹھانے وغیرہ کی کہانی بنا لی گئی ہو۔ پچھلے پندرہ سال کی دہشت گردی کی جنگ کے تجربے نے ہمیں اتنا تو سمجھا ہی دیا ہے کہ ایجنسیوں کا لگایا ہر الزام اور بتایا ہر واقعہ سچ نہیں ہوتا۔ میرے لئیے البتہ یہ بات حیرت کا باعث ہے کہ آخر ایجنسیز کو یہ سب ڈرامہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ عافیہ کو گوانتانامہ بے جیل رکھا جا سکتا تھا، مار کر پھینکا جا سکتا تھا لیکن اس کے بجائے ایک ایسا مقدمہ کیا گیا جو ہمیشہ سوال بنا رہے گا۔ شاید ابھی بھی بہت کچھ پردے کے پیچھے ہے جو وقت آنے پر لیک شدہ ڈاکیومنٹس سے سامنے آئے گا۔
عافیہ کے دوران سماعت روئیے نے بطور وکیل مجھے شدید مایوس کیا۔ اسے قطعا گواہی نہیں دینی چاہیے تھی۔ ایک ایسی جیوری جہاں خواتین کی اکثریت تھی،اسے فقط ایک خاموش مظلوم صورت ملزمہ بن کر بیٹھنا تھا۔ اسکے پاس پانچ قابل وکلا کی ٹیم تھی جو اسے کم سے کم سزا دلوانے کی کوشش کرتی۔ جج کے سامنے یہودی مخالف جملے کہنا، امریکی عدالتی نظام کے بارے میں توہین آمیز جملے، اپنی گواہی میں بہکی باتیں کرنا، امن کیلئیے خود کو بطور کردار پیش کرنا کہ میں امن کروا سکتی ہوں، یہ کہنا کہ دہشت گردی کے بارے میں لکھے نوٹس میری ہینڈ رائیٹنگ میں ہو سکتے ہیں، جیوری پر یہ تاثر چھوڑنے کیلئیے کافی تھے کہ ملزمہ کوئی ٹرینڈ دہشت گرد ہے اور ہم امریکیوں کو اس سے خطرہ ہے۔ اسی لئیے جیوری نے متفقہ طور پہ اسے ملزمہ قرار دیا۔ 
میں البتہ اس بات سے شدید اختلاف کرتا ہوں کہ یہ ایک فیئر سزا ہے۔ ایک ایسا جرم جسے اگر عافیہ کی گواہی کے ساتھ اور کراس ایگزامینیشن کے ساتھ ملائے بنا دیکھا جائے تو مبالغہ آمیز لگتا ہے، جج کو نرمی برتنا چاہیے تھی۔ میں عافیہ کی لیگل ٹیم سے متفق ہوں کہ اسے بارہ برس یا چلئیے کچھ زیادہ سزا دے دی جاتی۔ افسوس جج شاید حب وطن میں تعصب کا شکار ہوے۔ 
مجھے البتہ پھر حیرت ہے کہ بجائے اپیل کو اعلی ترین عدالتوں تک لیجانے کے جہاں سزا میں کمتری ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے، عافیہ نے ایک بار پھر بیوقوفی کرتے ہوے خود اپنی اپیل ختم کر دی۔ ہمارے اپنے ملک میں ہم دیکھتے ہیں کہ سیشن کورٹ یا ہائی کورٹ تک سزا شدید ہے لیکن سپریم کورٹ تک جاتے ہوے، جذبات معتدل ہو جاتے ہیں اور سزائیں معاف یا کم کر دی جاتی ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر یہ کیس مزید اعلی عدالتوں تک جاتا تو سزا میں کمی ضرور ہوتی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی اب جیل اسپتال میں ہیں جہاں وہ اپنی سزا پوری کریں گی۔ مجھے امید ہے کہ شاید سیاسی طور پر کبھی دونوں حکومتیں کوئی ایسی ڈیل کر پائیں گی جہاں ہم کوئی امریکہ کو مطلوب شخص دیتے ہوے بطور بار گین عافیہ کو لے سکیں۔ البتہ یہ افسوس ہے کہ ایک قابل پی ایچ ڈی ڈاکٹر شدت پسندانہ خیالات کا شکار ہو کر اپنے، اپنے خاندان خاص طور پہ اولاد اور ملک کیلئیے فائدے کا باعث نا بن سکی۔
اہم لنکس:
عافیہ کے خلاف کمپلینٹ:   لنک
فرد جرم: لنک
 عدالت میں رویہ: لنک
عافیہ کی سایکالوجی رپورٹ: لنک
کمپیٹنسی ججمنٹ: لنک
عافیہ کی گواہی کی ایک مزید کورٹ رپورٹ: لنک
سزا کی پریس ریلیز: لنک
اپیل کا تفصیلی فیصلہ: لنک
گارڈین رپورٹ: لنک
کیس کلوز نیوز: لن

Total Pageviews