December 19, 2017

زندگی کے آخری لمحات میں اللہ پاک سے معافی


جہاز تیس ہزار فٹ کی بلندی پر محوِ پرواز تھا۔ پُرسکون، آرام دہ فلائٹ؛ بزنس کلاس کا بااخلاق اسٹاف اور ہر طرف خاموشی۔ مدھم روشنیوں میں ہر کوئی سونے کےلیے اپنی سیٹوں کو ایڈجسٹ کر رہا تھا۔
عبداللہ کی آنکھوں پر نیند طاری تھی، وہ بھی نیم غنودگی میں تھا کہ اچانک جہاز کو ایک زبردست جھٹکا لگا۔ لائٹس جل اٹھیں اور ایمرجنسی سائرن کی آواز سے جہاز گونج اُٹھا۔ پائلٹ نے اعلان کیا کہ جہاز کا ایک اِنجن فیل ہوگیا ہے اور دوسرے میں بھی کچھ خرابی معلوم ہوتی ہے۔ جہاز دس منٹ میں کریش لینڈنگ کرے گا۔ دعائیں مانگ لیجیے۔
مسافروں کی سانسیں اوپر کی اوپر، نیچے کی نیچے رہ گئیں۔ کسی کو موت سے پہلے مر جانے کی عکس بندی کرنی ہو تو یہ بہترین موقع تھا۔ فرطِ جذبات اور غصّے سے آگے والی سیٹ کے بزنس مین صاحب چیخنے لگے۔
’’کیا بےہودہ بات ہے، بکواس کرتے ہو، تمہیں معلوم نہیں میں کون ہوں، میرے اتنے بزنس…‘‘
ایئرہوسٹس نے بات کاٹی، ’’جناب چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ تھوڑی دیر میں ہم سب میتوں میں بدل جائیں گے۔‘‘
’’میں آپ لوگوں کےلیے ایک آخری کام کرسکتی ہوں،‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے اندر کاک پٹ میں گئی اور ایک چھوٹا سا کالا ڈبہ لے آئی؛ کہنے لگی:
’’دیکھیے، یہ ڈبہ خصوصی ساخت کا ہے اور آگ یا دھماکے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اگر آپ سب لوگ اپنی فیملی یا بزنس پارٹنر یا بینکر کو کوئی آخری ہدایات لکھ کر دینا چاہتے ہیں تو جلدی سے لکھ کر اس ڈبے میں ڈال دیجیے۔ ملبے سے جب یہ نکلے گا تو آپ کے رشتے داروں تک آپ کے یہ آخری خطوط پہنچادیئے جائیں گے۔‘‘
یہ کہہ کر ایئر ہوسٹس نے تمام مسافروں کو قلم اور کاغذ تھمادیئے۔ ہر کوئی اپنی فیملی کو آخری خط لکھ رہا تھا۔ عبداللہ پہلے تو حیران ہوا کہ کوئی اپنے بینک، اِنشورنس ایجنٹ، بزنس پارٹنر یا محبوب سیاسی لیڈر کو خط کیوں نہیں لکھ رہا۔ مگر پھر اس نے سوچا کہ ابھی حیران ہونے کا وقت نہیں؛ اور جلدی سے اپنا خط شروع کیا۔
گھڑی پر وقت دیکھا، اِن تمام اعلانات و حیرانی میں دو منٹ گزر چکے تھے اور باقی بچے آٹھ۔، عبداللہ نے خط شروع کیا۔
’’میرے پیارے اللہ سائیں،
’’اب ملاقات کا وقت قریب ہے۔ ہماری دنیا میں رواج ہے کہ جب کوئی چھوٹا کسی بڑے سے ملنے جاتا ہے تو کوئی تحفہ، کوئی نذرانہ، کوئی ہدیہ ضرور لے جاتا ہے۔ آپ بڑے ہیں، بےنیاز ہیں۔ آپ کو کسی چیز کی کیا ضرورت۔ مگر میں بندے کی حیثیت سے کچھ تو پیش کروں۔ آج اپنی چالیس سالہ زندگی کو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو کوئی بھی تو ایسی چیز نہیں جو آپ کو پیش کر سکوں۔ کوئی روزہ، کوئی نماز، کوئی عبادت، کوئی سجدہ، کچھ بھی اس قابل نہیں۔ ساری زندگی سوتے میں گزار دی۔ کوئی بارہ سال تو حقیقتاً سوتا ہی رہا۔ دس ایک سال پڑھنے میں گزار دیئے۔ آٹھ ایک سال روزی روٹی میں اور باقی چند فضول کاموں میں۔ آگے سے آگے بڑھنے کے شوق میں کبھی کوئی اتنا وقفہ بھی نہیں آیا کہ رک کر، پیچھے مڑ کر دیکھ سکوں کہ تیرے ساتھ کیا تعلق بنا؟ معاشرے کو سُدھارنے کے خبط میں اپنے آپ پر کام کرنا بھول گیا۔ نوافل روزوں کی تعداد، حج و عمرہ و ختمِ قرآن کی گنتی، اور اپنی بڑائیوں کے حساب کتاب میں عبادت نہ ہو سکی۔ Never give up (کبھی نہ ہار ماننے) کے زعم میں تیرے سامنے بھی سرینڈر نہ کیا۔ کبھی ہار تسلیم نہیں کی کہ اے اللہ! میں ہار گیا، نفس جیت گیا۔ تُو بچا لے۔
’’اللہ سائیں، یا ذوالجلالِ والاکرام، وہ لمحات جو تیرے ذکر میں کٹنے تھے وہ ٹی وی ڈراموں میں لگ گئے۔ جو تیری یاد و دعا میں لگنے تھے وہ ٹوئٹر، فیس بک اور لنکڈ اِن کی نذر ہوگئے۔ جو وقت قرآن پڑھنے اور سمجھنے میں لگنا تھا وہ گیم آف تھرونز (GoT) کھا گیا۔ اِس کے ساتھ تصویر، اُس کے ساتھ تصویر، اِس جگہ کا وزٹ، اُس جگہ کے قصّے، بس یہی کچھ کرتا رہا۔
’’اے اللہ، اے مالک، اِس وقت جہاز میں سوار لوگوں میں، میں بد ترین مخلوق ہوں۔ اگر تو یہ آفت کوئی عذاب ہے تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ میری وجہ سے آئی ہوگی۔ آج یہ سارے تیرے حضور اپنی عبادتیں لے کر آرہے ہیں۔ میرے پاس سوائے ندامتوں کے کچھ بھی نہیں۔
’’آج میں اپنے جرائم کا اقرار کرتا ہوں۔ سو فیصدی Plead Guilty
’’اے اللہ! میں نے شرک کیا۔ میں نے اپنی ذات کو بندگی اور تیرے بیچ رکھ دیا۔ میری اَنا، میرا غرور، میری ذات کا اِدّعا، میرے کارنامے، میرے ناولز، میرے قصّے، یہ سب شرک نہیں تو اور کیا ہے۔
’’نام تیرا لیتا رہا، محبتیں کسی اور سے کرتا رہا، ذکر تیرا دھیان کہیں اور۔ نماز تیری نظر کہیں اور، خیال تیرا فون کہیں اور، سامنے تُو اور chat کہیں اور۔
’’یااللہ، میں نے ملاوٹ کی۔ تیرے عشق میں، تیری بندگی میں اپنی ذات کی۔
’’میں نے ذخیرہ اندوزی کی کہ میرے گھر میں مہینوں کا اناج اِسٹور میں پڑا ہوتا تھا اور باہر لوگ بھوکے مرتے تھے۔
’’میں نے رشوت بھی لی۔ رشوت دی ہی اس لئے جاتی ہے کہ جو کام کرنے آئے ہو، جس کےلیے کرنے آئے ہو اس کو دھوکا دے کر کسی اور کا کردو۔ یہ میری تنخواہ رشوت ہی تو تھی جو دنیا دیتی رہی کہ تیرا کام نہ کروں۔ جس کےلیے بھیجا گیا وہ نہ کروں، باقی سب کروں۔
’’میں نے غرور کیا کہ میری ذات و اَنا کے بت کے سوشل میڈیا پر ہزاروں فالورز تھے۔
’’میں نے جھوٹ بولا اپنے آپ سے کہ سب اچھا ہے۔ لگے رہو، صحیح جا رہے ہو۔
’’میں نے سچ پہ آنکھیں بند کرلیں کہ روز آئینہ دیکھتا اور اپنے آپ سے نظریں چُرا لیتا۔
’’اللہ سائیں، میں مرنے سے پہلے مر گیا۔ جہاز گرنے سے پہلے ہی چاروں شانے چت ہو گیا۔
’’بے شک تیرا فضل کسی وجہ کا محتاج نہیں۔ بڑوں کی شان ہوتی ہے کہ جب کسی پر گرفت مکمل ہو جائے تو چھوڑ دیتے ہیں۔ میں اقرارِ جرم کرتا ہوں۔ تیری رحمت سے مکمل کوئی شئے نہیں۔ تیری جود و سخا سے باہر کوئی گناہ نہیں۔ تیرے فضل سے سِوا کوئی نافرمانی نہیں اور تیری پہنچ سے دور کوئی دعا نہیں۔ اے سمیع و بصیر اللہ! آخری منٹ بچا ہے، میں ایسا بے بس کہ کچھ بس میں نہیں، اِس بے بسی، اِضطراب، لاچاری و بے چارگی کے صدقے۔ مجھے بخش دے۔ مجھے بخش دے۔ مجھے بخش دے۔
’’میری پیاری بِلّو، اب چلتا ہوں۔ میرے چاروں بچوں کا خیال رکھنا۔ انہیں اچھا عبداللہ بنانا۔‘‘
’’سر! آر یو اوکے؟‘‘ ایئر ہوسٹس نے پسینے میں شرابور عبداللہ کو نیند سے جگایا۔ سب کچھ نارمل تھا اور عبداللہ خواب دیکھ رہا تھا۔
آئیے، ہم سب بھی آج اپنا آخری خط لکھتے ہیں کہ زندگی کا خط درست ہوسکے۔
تو اکیلا ہے بند ہے کمرہ
اب تو چہرہ اُتار کے رکھ دے

November 30, 2017

فاٹا کے لوگ ایف سی آر قانون کے تحت ظلم کی چکی میں پچھلے 70 سال سے پس رہے ہیں۔ توجہ کی ضرورت ہے۔





انتہائی معذرت کے ساتھ انتہائی معذرت کے ساتھ میں خود صوبائی تعصب اور لسانیت کے ھمیشہ خلاف رہا ہوں
اور شاید یہ فاٹا(علاقہ غیر) کے سلسلے میں آخری پوسٹ ہو
لیکن ایک جانب توجہ دلانا مقصود تھی
بلوچستان میں 5 پنجابی مزدور بے گناہ قتل ہوتے ہیں
تو پوری حکومتی مشینری حرکت میں آجاتی آرٹیکلز لکھے جاتے ہیں بحث مباحثے ہوتے ہیں حکومتی رٹ چیلنج ہوجاتی ہے ۔
اور نئے ایکشن نئے منصوبے بنائے جاتے ہیں

لیکن فاٹا میں آئے روز ڈرون اٹیکس میں بچے اور معصوم مرتے ہیں (دس سال ہوگئے)
آئے روز عوام کے ساتھ ظلم وستم ہورہا
FCR کے قانون کی چکی میں پس رہے ہیں
مجرم اور معصوم کی تحقیق کیے بغیر ھر کسی کو جیل ڈالا جاتا ہے
لیکن کبھی آواز بلند نہیں ہوئی
آواز بلند ہوبھی کیسے
جب وہاں
میڈیا کے نمائندوں کے جانے پر پابندی ہے
وہاں انٹرنیٹ سوشل میڈیا کیبل ٹی وی یا موبائل سروس کا نام و نشان تک نہیں (دس سال ہوگئے اس بات کو)

آخر کیوں؟؟؟
کیوں کہ وہ علاقہ غیر ہے؟؟
کیونکہ وہ پاکستان کے باقاعدہ شہری نہیں؟
کیونکہ وہ دھشتگرد ہیں؟؟
کیونکہ وہ ان پڑھ یا جاھل ہیں؟؟
کیونکہ وہ کسی عدالت میں آواز بلند نہیں کرسکتے ؟؟؟

اگر فاٹا پرامن ہے تو پھر وہاں میڈیا کے نمائندوں کے جانے کی آزادی کیوں نہیں ؟؟
وہاں اب تک سوشل میڈیا کیمرہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی کیوں عائد ہے ؟؟
کوئی اس سوال کا جواب دے سکتا تو دے دے
ورنہ یاد کر لیں
پاکستان میں ایک خطہ ایسا بھی ہے
جو "نوگو ایریا" ہے
جہاں اب تک برطانیہ کا عائد کردہ FCR لاگو ہے
جہاں پڑوس میں رہنے والی سیکیورٹی ایجنسی کو دھشتگرد کی خبر نہیں ہوتی لیکن 45 کلومیٹر اونچائی پر پرواز کرنے والے ڈرون کی بدولت ھزاروں کلومیٹر دور بیٹھے امریکیوں کو دھشتگردوں کی خبر ہوجاتی ہے
پھر کبھی باوجوڑ میں مدرسے کے معصوم بچے اپنی جانوں سے ھاتھ دھو بیٹھتے ہیں
تو کبھی گھروں میں کام کرتی خواتین نشانہ بن جاتی ہیں

لیکن کوئی پرسان حال نہیں
لے دے کے یہی بات رہ جاتی
کہ قبائلی بھی بلوچیوں کی طرح
برطانیہ اور سویزر لینڈ پناہ کے لیے درخواست دیں
اور وہاں انٹرنیشنل میڈیا پہ بیٹھ کر تمام ظلم و ستم بیان کریں
پھر

کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہوگا کہ یہ ناراض بھائی اور یہ باغی اور غدار ہیں کیونکہ ھم سارے آپشن تو آزما بیٹھے ہیں
اتنے ظلم کے بعداب اک یہی آپشن ہی بچتا ہے
توجہ نہیں دو گے تو یہ لاوا پھٹ جائے گا
60 سال نظراندازی کے اور دس سال ظلم و ستم کے
یہ اب کافی ہیں برداشت کا پیمانہ چیک کرنے کے لیے

مجھے کیا ہے میں تو آرام سے بیٹھا ہوا پنجاب میں
مجھے توسب کچھ مل رہا یہاں
لیکن جو لوگ وہاں موجود اور جو متاثرین ہیں اصل

وہ اب برداشت کی آخری حدود کو پہنچ چکے ہیں
اگر جلد سے جلد انکا پاکستان میں خیبرپختونخواہ پختونخوا کے ساتھ انضمام کرکے انہیں تعلیم صحت اور انصافجیسی بنیادی انسانی حقوق نہ دیے گئے
تو پھر
واپسی ناممکن ہو جائے گی

آخری بات فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام یا خودمختاری کے حوالے سےکہ اگر فاٹا کو الگ صوبہ بنا دیا جائے تو کوئی فضل الرحمن صاحب سے پوچھے کہ
صوبے کا مرکز (دارالخلافہ)کدھر ہوگا کیونکہ یہ ایک لمبی پٹی ہے جو ضلع دیر سے ہوتی ہوئی بلوچستان ژوب تک جاتی ہے اور اس میں کوئی ایک شہر بھی ایسا نہیں جس کو مرکز بنا دیا جائے اب بھی فاٹا کے جتنے بڑے دفاتر محکمے ہیں وہ پشاور سے چلائے جاتے ہیں تو اگر صوبہ بنا کر پھر بھی ہمارا نظام پشاور سے چلے تو فائدہ کیا ہوا.؟

ایک بات یہ بھی اگر الگ صوبہ بنا تو یہی ظلم کے پسے عوام ایک بار پھر مختلف اختیارات کی تقسیم پہ ایک دوسرے کے دشمن ہوجائینگے اور حالات پھر سے اچھائی کی جگہ لڑائیوں اور بدنئیتی کی طرف جائیں گے
تو اس سے بہتر یہی ہے کہ فاٹا کو خیبر پختون خواہ میں ضم کیا جائے اور مرکز بھی پشاور ہی رہے پھر جس کو جو بھی ملے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا.
عبداللہ
فاٹا کے حوالے سے مزید معلومات جاننے کے لیے مہمند ایجنسی علاقہ غیر کے نوجوان Sheraz Khan Mmd شیراز خان مہمند کو ایڈ یا فالو کیجیے

August 02, 2017

ASIF Zardari Corruption Details

آصف زرداری کی دولت اور اثاثوں کا منی ٹریل؟؟؟
عمران خان کی کرکٹ کی کمائی، بنی گالہ کے اکلوتے گھر اور انتہائی محنت سے بنائے گئے پاکستان کے سب سے بڑے کینسر ہسپتال کا حساب کتاب اور منی ٹریل تو حاصل کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن زرداری کا پیٹ پھاڑنے کا دعوی کرنے والے نواز شریف نے مندرجہ ذیل دولت کا حساب نہیں مانگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں؟؟؟
ڈیلی پاکستان نے اپنی 2005 کی رپورٹ میں لکھا کہ آصف علی زرداری اپنی 1800 ملین ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ پاکستان کی دوسری امیر ترین شخصیت ہیں ۔ اس نے اس وقت بے پناہ دولت حاصل کی جب اسکی بیوی وزیراعظم پاکستان تھیں۔ تاہم کئی ذرائع زرادری کی اس حیثیت سے متفق نہیں اور ان کے مطابق آصف علی زرداری اس سے کئی گنا زیادہ مالدار ہیں ۔ مختلف حوالوں سے انکی دولت کے جو اعداوشمار دستیاب ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔
90ء کی دہائی میں معمر قذافی کے بھٹو کو دئیے گئے بلینک چیک پر خاندان میں جھگڑا ہوا جس میں زرداری نے مبینہ طور پر شاہنواز بھٹو کو قتل کر دیا اور اس چیک کو کیش کر کے سینکڑوں میلن ڈالرز حاصل کیے۔
1998 میں بے نظیر بھٹو کے ایک سوئس اکاؤنٹ کا انکشاف ہوا جس میں اس وقت 8500 ملین ڈالر کی رقم تھی۔ سوئس بینکوں کے اصول کے مطاق وہ رقم اب تک دو بار دگنی ہو چکی ہوگی۔
2007 میں اس نے اپنے سوئس بینک اکاؤنٹس میں کچھ نا معلوم کمپنیوں سے 60 ملین ڈالر کی رقم وصول کی۔
دنیا بھر میں جو بینک اکاؤنٹس ہیں ان میں سے کچھ کے نام اور نمبر مندرجہ ذیل ہیں۔
یونین بینک آف سویزرلینڈ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 552.343, 257.556.60Q, 433.142.60V, 216.393.60T۔
سٹی بینک پرائویٹ لیمٹڈ سویزرلینڈ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 342034۔
سٹی بینک این اے دبئی ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 818097۔
بارکلے بینک سوئس ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 62290209۔
بارکلے بینک سوئس ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔62274400۔
بینک لا ہینن پیرس ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔00101953552۔
بینک ناٹنڈی پیرس ان جنیوا ۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 563.726.9۔
بارکلے بینک نائٹ برج برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔90991473۔
بارکلے بینک کنگسٹن اینڈ چیلی برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 20-47-34135۔
نیشنل ویسٹ منسٹر بینک ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔۔ 9683230۔
.نیشنل ویسٹ منسٹر بینک بارکنگ برانچ ۔۔۔ اکاؤنٹ نمبر ۔ 28558999۔
ان کے علاوہ مندرجہ ذیل بینکوں میں بھی زرداری صاحب کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔
Habib Bank پال مال برانچ ۔۔۔۔۔
Habib Bank AG, Moorgate, London EC2
National Westminster Bank, Edgware Road, London
Banque Financiei E Dela Citee, Credit Suisse
Habib Bank AG Zurich, Switzerland
Pictet Et Cie, Geneva
Credit Agricole, Paris
Credit Agridolf, Branch 11, Place Brevier, 76440, Forges Les Faux
Credit Agricole, Branch Haute – Normandie, 76230, Boise Chillaum
Swiss Bank Corporation
Chase Manhattan Bank Switzerland
American Express Bank Switzerland
Societe De Banque Swissee
Banque Centrade Ormard Burrus S A
Banque Pache S A
Banque Pictet & Cie
جائداد ۔۔۔۔
آصف زرداری نے لندن میں جائداد اپنے نام پر نہیں رکھی ہے لیکن مختلف آف شور کمپنیوں ، فرموں اور ٹرسٹس کا نام استعمال کرتے ہوئے مندرجہ ذیل جائیداد خرید رکھی ہے۔
لندن کی سرے کاؤنٹی میں راک وڈ کے علاقے میں 365 ایکڑ یا 2700 کنال پر محیط 20 بیڈ روم کا ایک عالی شان گھر جس کو سرے محل کہا جاتا ہے ۔ اسکی تزئین آرائیش 1996 میں مکمل ہوئی جب بے نظیر بھٹو کا دوسرا دور حکومت ختم ہوا ۔ پہلے وہ 8 سال تک اس جائداد کی ملکیت سے انکار کرتے رہے ۔ اس دوران اس گھر پر کام کے ذمے جو واجبات جمع ہو گئے تھے وہ کسی نے ادا نہیں کیے ۔ تب ان کمپنیوں نے اپنے واجبات کی وصولی کے لیے عدالت کے ذریعے گھر کو نیلام کرنے پر اصرار کیا۔ حکومت پاکستان نے اس گھر کی ملکیت کا دعوی کیا کیونکہ یہ یقین کیا جا رہا تھا کہ یہ محل کرپشن کی رقم سے خریدا گیا ہے ۔ تب آصف زرداری نے اس کی ملکیت تسلیم کی اور یہ کیس 2008 تک جاری رہا۔
اس گھر میں دو فارمز ، ملازمین کے لیے رہائش گاہ ، زیر زمین ایک شراب خانہ اور ایک انڈور سومنگ پول بھی ہے ۔ 1990 کی دہائی میں اس نے کراچی سے بحری جہاز کے ذریعے بے شمار سامان اس گھر کی تزئین و آرائش کے لیے بھیجا تھا ۔ اس گھر کے معاملے میں اس پر بے شمار الزامات لگے ۔ لیلا شہزادہ کی بیٹی نے دعوی کیا کہ آصف زرداری نے سرے محل کی تزئین و آرائیش کے لیے چوری کیا ہوا کروڑوں روپے کا آرٹ خریدا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری کا وہاں پر ایک ہیلی پیڈ ، ایک 9 ھولز کا گولف کلب اور ایک چھوٹا سا پولو گراؤنڈ بھی بنا چکا ہے۔
برطانیہ میں انکی بقیہ جائداد کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔
فلیٹ نمبر 6،11 کوئنز گیٹ ٹیرس لندن ایس ڈبلیو 7
۔26 پیلس مینشنز ، ہیمرز سمتھ روڈ لندن ڈبلیو 14
۔27 پونٹ سٹریٹ لندن ، ایس ڈبلیو 1
۔20 ولٹن کریسنٹ لندن ، ایس ڈبلیو 1
۔ 23 لارڈ چانسلر واک ، کومبی ہل ، کنگسٹن ، سرے
دی مینشن ، وارن لین ، ویسٹ ہیمپسٹڈ ، لندن
کوئنز سٹیج ، ٹیرس لندن میں فلیٹ
ہیمر سمتھ روڈ ، ولٹن کریسنٹ ، کنگسٹن اور ہیمپسٹڈ میں ایک مکان
امریکہ میں آصف علی زرداری کی جائداد کی تفصیل منررجہ ذیل ہے
نیویارک میں مین ہٹن میں واقع بلئیر اپارٹمنٹس آصف زرداری کا ایک پورا فلور ہے جہاں دنیا کے امیر ترین افراد کا ایک ایک فلیٹ ہے۔ ۔ ان اپارٹمنٹس کا شمار دنیا کے دوسرے مہنگے ترین اپارٹمنٹس میں کیا جاتا ہے ۔
ٹیکساس میں ایک بڑا فارم ھاؤس
ویلنگٹن کلب ایسٹ ویسٹ پام بیچ
۔ 12165 ویسٹ فارسٹ ہلز ، فلوریڈا
ایسکیو فارم 13524 انڈیا ماؤنڈ ، ویسٹ پام بیچ
۔3220 سانتا باربرا ڈرائیو ، ویلنگٹن فلوریڈا
۔ 13254 پولو کلب روڈ ، ویسٹ پام بیچ، فلوریڈا
۔3000 نارتھ اوشن ڈرائیو ، سنگر آئسلینڈ ، فلوریڈا
۔ 525 ساؤتھ فلیگر ڈرائیو، ویسٹ پام بیچ فلوریڈا
ھاؤسٹن میں ایک ھالی ڈے ان ھوٹل آصف علی زرداری ، اقبال میمن اور صدرالدین ھشوانی کی مشترکہ ملکیت ہے ۔
بیلجیئم میں آصف علی زرداری کی جائداد کی تفصیل
۔12۔3 بولیورڈ ، ڈی نیپرٹ، 1000 ، برسلز ۔ برسلز میں موجود یہ بلڈنگ 4 دکانوں اور دو بہت بڑے پارٹمنٹس پر مشتمل ہے ۔
چوسی ، ڈی مونس، 1670 ، برسلز
آصف زرداری کی فرانس میں جائداد کی تفصیل
لا مینیور ڈی لا رینی بلانچ اور پراپرٹی کینس میں
فرانس میں نارمنڈے میں انک 16 ویں صدی کی طرز تعمیر کا شاہکار ایک انتہائی مہنگا گھر ہے۔ اپنی ایک مخصوص طرز تعمیر کی وجہ سے فرانس میں اسکا شمار مہنگے ترین گھروں میں ہوتا ہے جسکی قیمت اربوں روپے ہے۔
انکے علاوہ دبئی میں ایک عالیشان گھر اور بہت بڑی کمرشل جائیداد موجود ہے۔
کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں ان کے عالیشان محل نما گھر ہیں جنکو بلاول ہاؤس کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے ایک گھر زرداری ھاؤس کہلاتا ہے۔
ان کے علاوہ پاکستان میں جائداد اور اثاثوں کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
پلاٹ نمبڑ 21 فیز 8 ڈی ایچ اے کراچی
دہدالی وادی تالکا ٹنڈو اللہ یار میں زرعی زمین
ضلع حیدر آباد تالکا ڈہ ٹوکی میں 65.15 ایکڑ کی زمین
نواب شاہ کے تعلقہ ڈہ 76 نصرت میں 827.14 کی ذرعی زمین
نواز شاہ کے اسی علاقے میں 293.18 ایکڑ کی زمین
رہائشی مکان پلاٹ نمبر 3، بلاک نمبر بی 1 ، سٹی سروے نمبر 2268 وارڈ اے نواب شاہ
ھما ھائٹس آصف اپارٹمنٹس 133 ڈپو لائنز کمسرئیت روڈ کراچی
ٹریڈ ٹاؤر بلڈنگ 3 سی ایل وی عبداللہ ہارون روڈ کراچی
ضلع نواب شاہ ڈہ 42 داد تعلقہ میں ذرعی زمین
ضلع نواب شاہ ڈہ 51 داد تعلقہ میں ذرعی زمین
نواب شاہ میں ھاؤسنگ سوسائیٹی لیمٹڈ کے نزدیک پلاٹ نمبر 3 اور 4 رہائشی پلاٹس
کافٹ شیراز سی ایس نمبر 2231-2 اور 2231۔3 نواب شاہ
ضلع نواب شاہ میں ڈہ 23 ڈہ تعلقہ میں زرعی زمین
نصرت تعلقہ ڈہ 72 اے نواب شاہ میں ذرعی زمین
نصرت تعلقہ 76 نواب شاہ میں ذرعی زمین
پلاٹ نمبر اے 136 سروے نمبر 2346 وارڈ اے گورنمنٹ ایمپلائیز کواپریٹیو ھاؤسنگ سوسائٹی لیمٹڈ نواب شاہ
ڈہ جریوں تلقہ ٹنڈو اللہ یار ضلع حیدر آباد میں 6 مقامات پر بہت بڑی ذرعی زمین جسکا کل رقبہ ہزاروں ایکڑ پر محیط ہے۔
ڈہ دغی تعلقہ ٹنڈو محمد خان میں ذرعی زمین
ڈہ رہوکی ،تعلقہ حیدر آباد میں ذرعی زمین
ڈہ چارو تعلقہ بدین میں جائداد
ڈہ دالی وادی تعلقہ حیدر آباد میں ذرعی زمین
پانچ ایکڑ پرائم لینڈ ڈی جی کے ڈی اے نے 1995/96 میں الاٹ کروائی۔
سملی ڈیم کے نزدیک 4000 کنال زمین
ھاکس بے میں 80 ایکڑ زمین
میجر گلداری " کے پی ٹی لینڈ " میں 13 ایکڑ زمین
کلفٹن جی سی آئی میں ایک ایکڑ کا پلاٹ
سٹیٹ لائف انٹرنیشل سنٹر صدر کے قریب ایک ایکڑ زمین
ایف ای بی سی ایس جسکی مالیت 40 لاکھ روپے ہے ۔۔۔۔
کاروبار
آصف زرداری مندرجہ ذیل کارخانوں میں حصہ دار ہیں
سرکنڈ شوگر مل نواب شاہ
انصاری شوگر مل
ملز حیدر آباد
مرزا شوگر مل بدین
پنگوریو شوگر ملز بدین
بچانی شوگر ملز سانگھڑ
پاکستان سے باہر جن کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے
۔1۔ بومر فائنینس انک برٹس ورجن آئسلینڈ
۔ 2 ۔ میریز سٹون سیکیورٹی انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 3 ۔ مارلٹن بزنس ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 4 ۔ کیپریکون ٹریڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئدلینڈ
۔ 5 ۔ فیگریٹآ کنسلٹنگ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 6 ۔ مارول ایسوسی ایٹڈ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 7 ۔ پان بری فائنینس لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 8 ۔ آکسٹن ٹریڈنگ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 9 ۔ برن سلن انوسٹ اسی اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 10 ۔ چیمیٹک ھولڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 11۔ یالکنز ھولڈنگ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 12 ۔ منسٹر انوسٹ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 13 ۔ سلور نیٹ انوسٹمنٹ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 14 ۔ ٹیکولن انوسٹمنٹ لیمٹڈ برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 15۔ مارلکورڈن انوسٹ ایس اے برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 16 ۔ ڈستن ٹریڈنگ انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 17 ۔ ری کنسٹڑکشن اینڈ ڈیولپمنٹ فائنینس انک برٹش ورجن آئسلینڈ
۔ 18 ۔ناسم الیگزینڈر انک
۔ 19 ۔ ویسٹ منسٹر سیکویریٹز انک
۔ 20 ۔ لیپٹ ورتھ انوسٹمنٹ انک 202 ، سینٹ مارٹن ڈرائیو، ویسٹ جیکسن ویلی
۔ 21 ۔ انٹرا فوڈز انک 3376 ، لومرل گرو ، جیکشن ویلی فلوریڈا
۔ 22 ۔ ڈئنیٹل ٹریڈنگ کو ، فلوریڈا
۔ 23 ۔ اے ایس رئیلیٹی انک ، پام بیچ گارڈنز فلوریڈا
۔ 24 ۔ بون وئیج ٹریول کنسلٹنسی انک ، فلوریڈا
ایک بمبینو سینما سے آصف زرداری نے اتنی ساری دولت کیسے بنا لی؟؟
پاکستان میں منافقت کے شہنشاہ مولانا فضل الرحمن صاحب نے کچھ دن پہلے آصف زرداری کو نواز شریف سے بڑا چور قرار دیا۔ لیکن اس کے اثاثوں کا منی ٹریل اور حساب کتاب نہیں مانگا۔
ہاں یاد آیا مولانا تو نواز شریف کے علاوہ زرداری کے بھی اتحادی ہیں۔۔  :)
عمران خان کی ایک ملین ڈالر کی دولت کی تفصیلات حاصل کرنے میں وزیراعظم پاکستان نے نہ صرف کروڑوں روپے خرچ کر دیئے بلکہ اپنی پوری کابینہ کے ساتھ ملکر ایک سال کا قیمتی وقت بھی ضائع کیا۔
زرداری کے 26000 ملین ڈالر کیوں نظر انداز کر دئیے؟؟

Total Pageviews