March 29, 2017

Face Book, Internet Friendship Just Fake, Fraud



خاص لڑکیوں کے لیے*
*ایک بہن کی عبرت انگیز کہانی 
*خواتین ہوشیار رہا کریں 
 میں کالج کے امتحانات سے فارغ ہوئی تو بوریت کا شکار تھی ، گھر کا ماحول بھی تھوڑا سخت تھا ، آزادانہ گھومنے پھرنے کی پابندی تھی تو سوچا کیوں نہ وقت گزاری کیلئے فیس بک جوائن کر لوں ، پھر کیا بتاؤں بس یوں سمجھو کہ امی سے کئی بار ڈانٹ بھی کھائی مگر فیس بک تو جیسے میرا اوڑھنا بچھونا ہی بن گئی۔ ہے تو غلط بات مگر وقتی طور پر مجھے اچھا لگا۔
لڑکوں کی توجہ پانا اور تعریفی کلمات سننا لیکن چونکہ میں ایسے ماحول کی عادی نہیں تھی تو مجھے جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہونا شروع ہو گیا۔
جب میں نے دیکھا کہ میری ہر پوسٹ پر بیشمار کمنٹس آتے تھے ،کبھی کوئی محبت بھری شاعری میں ٹیگ کر رہا ہوتا تو کبھی کوئی ان باکس میں چاہت کا اظہار کر رہا ہوتا ، ڈیٹس کی آفر کر رہا ہوتا کئی ٹھرکی حضرات نے تو بنا دیکھے شادی کی پیشکش بھی کر دی مگر مجھے امی کی وارننگ یاد تھی کہ میں نے تمہاری تربیت میں کوئی کمی نہیں کی ہے ،اچھے اور برے کی پہچان سکھا دی ہے۔
اب میں 24 گھنٹے تمہاری چوکیداری نہیں کر سکتی ،بس ہمارا اعتبار کبھی نہ توڑنا !
 امی کی باتیں سمجھہ تو آتی تھیں مگر فیس بک کا چارم ساری نصیحتیں بھلا دیتا تھا ، سوچتی تھی کہ وقت گزاری ہی تو ہے بس ،میں کونسا کسی سے زیادہ فری ہوتی ہوں جو پریشانی ہوں۔
مگر پھر یوں ہوا کہ ایک لڑکا جو بظاہر بہت مہذب تھا مجھے سچ مچ اچھا لگنے لگا ، بقول اس کے اسکی ساری توجہ کا مرکز صرف میں تھی ، میں اسکی خوبصورت باتوں کے جال میں آگئی اور اس پر بھروسہ کرنے لگی ، میں اس سے ابھی تک ملی نہیں تھی مگر مجھے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میں اسے ہمیشہ سے جانتی ہوں اور وہ جیون ساتھی بننے کیلئے بہت موزوں ہے ،
موقع دیکھ کر امی سے بات کروں گی اسکے بارے میں !
لیکن آھستہ آھستہ اسکی بے تکلفیاں بڑھنے لگیں ،اسکی ذومعنی باتیں مجھے پریشان کرنے لگی تھی ، ایک چبھن سی تھی جو اندر کو چوبتی رہتی تھی ، 
 میں اب اس سے ناطہ ختم کرنا چاہتی تھی مگر وہ خود کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر مجھے روک لیتا تھا ۔۔!!
پھر اچانک ایک دن شام کے وقت اس نے مجھ سے ملنے کی فرمائش کی ، میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ایک تو رات کو ملنا ہی غلط دوسرا کسی رشتے کے بغیر ہمارا ہی نہیں بلکہ ہر لڑکے اور لڑکی کا تنہا ملنا ٹھیک نہیں ،
میرا انکار سن کر وہ تھوڑا اکھڑ سا گیا کہ کیا یار ؟ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ، 
کوئی کھا تھوڑی جاؤں گا ، 
تم بھی نا ، بس حد کرتی ہو میں نے نرمی سے کہا کیونکہ یہ غلط ہے ، 
 جب دو لڑکا لڑکی اکیلے ہوں تیسرا شیطان ہمیشہ بیچ میں رہتا ہے وہ بولا غلط ہے تو فیس بک جوائن کیوں کی تھی ؟؟
بیٹھتی نا پردے میں ، 
 یہاں تو یہی کچھ ہوتا ہے !
میں نے بھی غصے میں جواب دیا کہ فیس بک پر اگر غلط لڑکیاں آتی ہیں تو آپ بھی تو آتے ہیں ، اسکا مطلب آپ بھی برے ہیں ؟
بکواس بند کرو ، میرا طنزیہ جواب سن کر وہ تڑپ کر بولا ، مجھے پتا ہوتا تم ایسی ہو تو کبھی تم کو منہ نہ لگاتا ، سالی نے ''ہوٹل کے کمرے کی بکنگ'' پر اتنے پیسے ضائع کروا دئیے میرے ، اب واپس بھی نہیں ہوں گے اسکی اس بات پر میں جیسے پتھر کی ہو گئی ،نجانے کب میری آنکھوں سے دو آنسو گرے ، شائد شکرانے کے کہ میرے رب نے مجھے کسی غلیظ گھڑے میں گرنے سے پہلے ہی بچا لیا...
​ *میری بہنو !*
میں نے تو اپنا سبق سیکھ لیا کیونکہ میری سوچ کو بنانے والی میری ماں تھی ، 
وقتی طور پر میرے قدم لڑکھڑائے ضرور مگر الحمدلله میرے الله نے مجھے بر وقت بچا 
 لیا اب آپ سب لوگوں سے درخواست ہے کہ فیس بک یا نیٹ کا غلط استعمال نہ کریں پلیز !
*نیٹ پر ملنے والا ہر شخص شریف نہیں ہوتا ،*
*تنہائی میں کبھی کسی مرد کو نہ ملیں ،*
*خود کو برباد ہونے سے بچائیں۔*
*آپ لوگ یہاں محبت کا کھیل نہ کھیلیں*
​
​​اگر ملن ممکن ہوسکتا ہے تو نکاح کا حلال رشتہ جوڑیں ، حرام کاری جیسے گناہ سے بچیں !
جو لڑکا آپ کی صحیح معنوں میں عزت کرتا ہوگا وہ باعزت طریقہ سے آپ سے رشتہ جوڑے گا۔
اپنے فارغ وقت کو کچھ اچھا سیکھنے میں صرف کیجئے !
انٹرنیٹ پر پیار محبت یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں ، ویسے بھی ہر مرد کو لڑکیاں اچھی لگتی ہیں۔ ماسوائے چند  اچھے لوگوں کے جن کا  پتہ نہیں  چلتا  کیونکہ جھوٹ زیادہ کام کرتا ہے ۔ نیٹ  اور فیس بُک پر تو صرف جھوٹ ہی ہے۔ اصلی پیار حاصل کرنے کے لئے کبھی بھی اپنی زندگی خراب نہ کریں۔
نہ تو پیار ایسے ہوتا ہے نہ ہی دوستی !!
 یہ سب خیالی دنیا ہے اور حقیقت بہت مختلف ہوتی ہے۔
​​۔!
احتیاط کرلو اس سے پہلے کے پچھتانا پڑۓ
جو لڑکا آپ سے سچی محبت کرتا ھوگا
وہ عزت کے ساتھ آپ کو اسلامی شریعت کے مطابق آپ کو نکاح
 کرکے عزت کے ساتھ اپنے گھر لے جا
ۓ گا
ناکہ ھوٹلوں پارکوں میں گھما کے چند گفٹ دے کہ 
 آپکی عزت سے کھیلے...


شکر قندی ایک عام پھل جو سردی کے موسم میں پایا جاتا ہے انتہائی مفید




March 28, 2017

میں وقت پر کیسے آتا۔ تم نے کبھی مجھے وقت پر یاد کیا ہے۔ ہمیشہ ہی لیٹ ہوتے ہو ؟





*حجاب پر یونیورسٹی طالبہ اور اسکالر میں دلچسپ مکالمہ: HIJAB & ISLAM


*حجاب پر یونیورسٹی طالبہ اور اسکالر میں دلچسپ مکالمہ*
زیر نظر مضمون دراصل کویت کی ایک یونیورسٹی طالبہ اور کویت کے ہی ایک سکالر جناب ڈاکٹر جاسم مطوع کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے، دلیل کے لیے اس کا ترجمہ چائنا میں مقیم محمد سلیم صاحب نے کیا، جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے.
طالبہ: کیا قرآن پاک میں کوئی ایک بھی ایسی آیت ہے جو عورت پر حجاب کی فرضیت یا پابندی ثابت کرتی ہو؟
ڈاکٹر جاسم: پہلے اپنا تعارف تو کروائیے.
 طالبہ: میں یونیورسٹی میں آخری سال کی طالبہ ہوں، اور میرے بہترین علم کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کو حجاب کا ہرگز حکم نہیں دیا، اس لیے میں بے پردہ رہتی ہوں، تاہم میں اپنی اصل سے بالکل جڑی ہوئی ہوں اور اس بات پر اللہ پاک کا بہت بہت شکر ادا کرتی ہوں۔
ڈاکٹر جاسم: اچھا تو مجھے چند ایک سوال پوچھنے دو.
طالبہ: جی بالکل
 ڈاکٹر جاسم: اگر تمھارے سامنے ایک ہی مطلب والا لفظ تین مختلف طریقوں سے پیش کیا جائے تو تم کیا مطلب اخذ کرو گی؟
طالبہ: میں کچھ سمجھی نہیں۔
ڈاکٹر جاسم: اگر میں تمہیں کہوں کہ مجھے اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کی ڈگری دکھاؤ۔
یا یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کا رزلٹ کارڈ دکھاؤ۔
یا پھر یوں کہوں کہ اپنی یونیورسٹی گریجوایشن کی فائنل رپورٹ دکھاؤ، تو تم کیا نتیجہ اخذ کرو گی؟
 طالبہ: میں ان تینوں باتوں سے یہی سمجوں گی کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ان تینوں باتوں میں کوئی بھی تو ایسی بات پوشیدہ نہیں ہے جو مجھے کسی شک میں ڈالے کیونکہ ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ، سب ایک ہی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آپ میرا رزلٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر جاسم: بس، میرا یہی مطلب تھا جو تم نے سمجھ لیا ہے۔
طالبہ: لیکن آپ کی اس منطق کا میرے حجاب کے سوال سے کیا تعلق ہے؟
 ڈاکٹر جاسم: اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں تین ایسے استعارے استعمال کیے ہیں جو عورت کے حجاب پر دلالت کرتے ہیں۔
طالبہ: (حیرت سے) وہ کیا ہیں اور کس طرح؟
 ڈاکٹر جاسم: اللہ تبارک و تعالی نے پردہ دار عورت کی جو صفات بیان کی ہیں انہیں تین تشبیہات یا استعاروں (الحجاب، الجلباب، الخمار) سے بیان فرمایا ہے جن کا مطلب بس ایک ہی بنتا ہے۔ تم ان تین تشبیہات سے کیا سمجھوگی پھر؟
طالبہ: خاموش
 ڈاکٹر جاسم: یہ ایسا موضوع ہے جس پر اختلاف رائے تو بنتا ہی نہیں، بالکل ایسے ہی جیسے تم ڈگری، رزلٹ کارڈ یا فائنل تعلیمی رپورٹ سے ایک ہی بات سمجھی ہو۔
طالبہ: مجھے آپ کا سمجھانے کا انداز بہت بھلا لگ رہا ہے مگر بات مزید وضاحت طلب ہے۔
 ڈاکٹر جاسم: پردہ دار عورتوں کی پہلی صفت (اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں، وليضربن بخمرھن على جيوبھن). باری تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو دوسری صفت بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ (اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں – یايھا النبي قل لازواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليھن من جلابيبھن)
 اللہ تبارک و تعالیٰ نے پردہ دار عورتوں کی جو تیسری صفت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ (گر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو – واذا سالتموھن متاعا فاسالوھن من وراء حجاب}
 ڈاکٹر جاسم: کیا ابھی بھی تمہارے خیال میں یہ تین تشبیہات عورت کے پردہ کی طرف اشارہ نہیں کر رہیں؟
طالبہ: مجھے آپ کی باتوں سے صدمہ پہنچ رہا ہے۔
ڈاکٹر جاسم: ٹھہرو، مجھے ان تین تشبیہات کی عربی گرائمر سے وضاحت کرنے دو۔
 عربی گرائمر میں ’’الخمار‘‘ اس اوڑھنی کو کہتے ہیں جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے، تاہم یہ اتنا بڑا ہو جو سینے کو ڈھانپتا ہوا گھٹنوں تک جاتا ہو۔ اور ’’الجلباب‘‘ ایسی کھلی قمیص کو کہتے ہیں جس پر سر ڈھاپنے والا حصہ مُڑھا ہوا اور اس کے بازو بھی بنے ہوئے ہوں۔ فی زمانہ اس کی بہترین مثال مراکشی عورتوں کی قمیص ہے جس پر ھُڈ بھی بنا ہوا ہوتا ہے۔ تاہم ’’حجاب‘‘ کا مطلب تو ویسے ہی پردہ ہی بنتا ہے۔
طالبہ: جی میں سمجھ رہی ہوں کہ مجھے پردہ کرنا ہی پڑے گا۔
 ڈاکٹر جاسم: ہاں، اگر تمھارے دل میں اللہ اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے تو۔ اور ایک اور بات جان لو کہ: لباس دو قسم کے ہوتے ہیں: پہلا جو جسم کو ڈھانپتا ہے۔ یہ والا تو فرض ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ دوسرا وہ جو روح اور دل کو بھی ڈھانپتا ہے۔ یہ دوسرے والا لباس پہلے سے زیادہ بہتر ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد مبارک ہے کہ: (اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے، ولباس التقوى ذلك خير)۔ ہو سکتا ہے کہ ایک عورت نے ایسا لباس تو پہن رکھا ہو، جس سے اس کا جسم ڈھکا ہوا ہو لیکن اس نے تقویٰ کا لباس نہ اوڑھ رکھا ہو۔ تو ٹھیک طریقہ یہی ہے کہ وہ دونوں لباس زیب تن کرے.


مغرب میں آج بھی عورت کی خرید وفروخت ہو تی ہے. یورپ اور امریکہ میں سالانہ ایک لاکھ پچپن ہزار عورتیں سیکس سنٹرز کو فروخت کی جاتی ہیں۔



مغرب میں آج بھی عورت کی خرید وفروخت ہو تی ہے:
مغرب میں عورت کی باقاعدہ تجارت ہو تی ہے 1997 میں مغربی محقق"کریس ڈی اسٹوب" نے یورپ میں عورتوں کی تجارت پر تحقیق کی اورانکشاف کیا کہ" مغرب میں عورت کی زندگی جہنم ہے، صرف اسپین مین 5 لاکھ خواتین جسم فروشی پر مجبور ہیں، ڈنمارک جس کو ملحدین کا گڑھ کہا جاتا ہے اب اس کو بے غیر نکاح کے شادی کی جنت کہا جا رہا ہے، سوٹزرلینڈ کو اب کلب کی لڑکیوں کا ملک کہا جاتا ہے"۔
مصدر: کریس ڈی اسٹوب/ یورپ میں عورت کی تجارت
دوسری طرف امریکی نیوز چینل CNN نے ایک اخباری رپورٹ نشر کی کہ جس میں Maryland (امریکہ) میں johns Hopkins یونیورسٹی کے اہم تحقیقات پراعتماد کیا گیا ہے جس کے مطابق امریکہ میں ہر سال 2 لاکھ بچوں اورعورتوں کی باقاعدہ غلام کے طور پرخرید و فروخت ہو تی ہے اور ایک لاکھ 20 ہزارعورتیں مشرقی یورپ(روس اور اس کے آس پاس غریب ممالک) سے جسم فروشی کے لیے مغربی یورپ سمگل کی جاتی ہیں ۔
 
  
جن سے اکثریت ڈیڑھ لاکھعورتوں کو جسم فروشی کے لیے امریکہ بھیج دیا جاتا ہے۔ ان کا تعلق میکسیو سے ہو تا ہے۔ مشرقی ایشاء سے لائی جانے والی عورت کو امریکہ میں 16 ہزار ڈالر میں بیچا جاتا ہے جن کو بے حیائی کے اڈوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔
 آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سے بھی بڑی مصیبت ہو سکتی ہے جواب یہ ہے کہ جی اس سے بھی بڑی مصیبت یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ان عورتوں کو بیچتے وقت نمبر اور اسٹمپ لگا یا جاتا ہے۔ برطانوی اخبار" انڈیپنڈنٹ" نے 30 ستمبر 2014 کو ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا"Human Traffickers Victims branded like cattle " جسم فروشی کی غرض سے برطانیہ سے غلاموں کو ٹرکوں میں بھر دیا جاتا ہے پھران کو 200 سے 6000 پاونڈ کے درمیان فروخت کیا جاتا ہے۔
 اخبار نے اس کو عورت کی غلامی کہا ہے جس کو جانوروں کی طرح امریکہ اور یورپ میں فروخت کیا جاتا ہے باقاعدہ کمشن والے دلال ہیں جو اس میں ہزاروں ڈالرز کماتے ہیں۔
 مگر میڈیا کو مغرب کی برائی نظر نہیں آتی صرف اسلامی دنیا میں تیزاب پھینکنے کے واقعات اور شوہر کی طرف سے تشدد کے واقعات ہی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ مغرب کے ایمج کو خراب نہیں کرنا ہے اسلام کا ایمج خرب بھی ہو جائے کونسی بڑی بات ہے!!

Total Pageviews