October 08, 2021

Humanity, Proud, & Given in the Name of Allah


 

ٹین ڈبے والا

میں لاہور میں سعودی عرب کے تعلیمی اتاشی کے سامنے بیٹھا تھا، میرے کاغذات اور جدہ یونیورسٹی کا ویزا اسکے ہاتھ میں تھا- وہ کافی دیر تک کاغذات کو دیکھتا رہا پھر بولا لیکن میں اس ویزے کو نہیں مانتا- میں نے پوچھا وجہ؟ اس نے کہا تعلیم تو ٹھیک ہے مگر تمھارا تجربہ انڈسٹری کا ہے تدریس کا تجربہ تو صفر ہے، جسکو پڑھانے کا کوئی تجربہ ہی نہ ہو وہ کیا پڑھائے گا-

میں نے کہا سر لیکن جدہ میں رئیس القسم نے میرا ٹیسٹ اور پڑھائی کا طریقہ دیکھ کر میری سفارش کی ، پھر میرا ڈین سے انٹرویو ہوا اسکے بعد یہ ویزا دیا گیا ہے- اسکےہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی بولا ضروری نہیں کہ اگر انھوں نے غلطی کی ہو تو میں بھی غلطی کروں- میں نے کہا سر یہ ویزا وائس چانسلر نے جاری کیا ہے جسکی پوسٹ وزیر کے برابر ہوتی ہے، وہ پھر مسکرایا اور بولا اور مجھکو ایسے 15 وزیروں کے کاموں کو چیک کرنے کے لیئے بٹھایا گیا ہے اگرآپ چاہیں تو میں آپ کے کاغذات پر لکھ کر دے سکتا ہوں کہ آپ کو ویزا نہیں دیا جاسکتا۔ میں نے اس سے مزید حجت کی تو اس نے کہا جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے – میرے ذہن میں اپنی پرانی کمپنی کے

مسٹر فریڈرک کیسے کے الفاظ گونجے ” مسٹر رضوان ۔۔ تم نوکری چھوڑ کر بڑی غلطی کررہے ہو، میں نے ان لوگوں کے ساتھ 20 سال کام کیا ہے، انکا ہر وعدہ غلط ہوتا ہے” اور میں نے غصہ میں جواب دیا تھا ” یہ لوگ ہمارے لئیے بڑے مقدس ہیں تم انکی توہین کررہے ہو، اس نے کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا ایک وقت آئے گا تم میرے الفاظ کو یاد کروگے- شاید وہ وقت آگیا تھا- پھر اس کے بعد میں نے دو اور چکر لگائے ہوائی جہاز سے اور ہر بار اتاشی کا وہی جواب تھا ” کہ جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے” میرے لئیے یہ بڑا سخت وقت تھا نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔۔ دو مہینے بےروزگاری کے ہوچکے تھےمیں سخت ٹینشن میں بیٹھا تھا کہ بیل بجی دروازے پر ٹین ڈبےوالا تھا، کوئی ستر سال کا ہوگا بالکل ہڈیوں کا ڈھانچا، میلا کچیلا پیوند لگے کپڑے، پسینے میں نہایا ہوا- کہنے لگا صاحب دس سال ہوگئے ہیں ان گلیوں میں چکر لگاتے آج پہلی بار کسی کے گھر کی بیل بجائی ہے میں نے حیرت سے کہا ہاں ۔۔ بولو، کہنے لگا یہاں نہیں وہاں نیم کے پیڑ کے نیچے چبوترے پر بیٹھ کر آرام سے بات کرنی ہے- میں تذبذب کے عالم میں اس کے ساتھ چل پڑا-

کہنے لگا صاحب میری اکلوتی بچی کی شادی ہونے والی ہے شادی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے مگر میرے پاس ایک پیسہ نہیں ہے آج کل کام بھی بہت مندا ہےکئی لوگوں سے ادھار مانگا سب نے منع کردیا، کل رات بہت دیر تک مسجد میں رویااور دعا مانگی تو رات میں خواب میں آپ کی گلی اور گھر نظر آیا اور آواز آئی ان سے جا کر مانگ لے اس لئیے صرف آپکا دروازہ کھٹکھایا ہے- مجھے اس کی کہانی پر یقین نہیں آیا اور ہنسی بھی آئی کہ لوگ کیسی کیسی چار سو بیسی کرنے لگے ہیں- میں نےازراہ مذاق پوچھا کتنے پیسے کی ضرورت ہے بولا صاحب سادگی سے رخصتی کرنی ہے، زیور تو میں اپنے بیوی کا چڑھا دوں گا، مگر پانچ چھ جوڑے اور شادی کا کھانا تو کرنا ہوگا، کوئی تیس ہزار کا خرچہ ہوگا-

میں نے سوچا 50000 تو آج کل صرف دلہن کے بیوٹی پارلرمیں ہی خرچ ہوجاتے ہیں- یہ رقم میرے لئیے بہت معمولی تھی اگر میں باہر کام کررہا ہوتا، مگر اب اس بے روزگاری میں یہ میرے لئیے بہت بڑی رقم تھی- میں خاموش سا ہوگیا وہ بولا صاحب آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں اور میرے محلے والوں سے پوچھ لیں یہ جھوٹی کہانی نہیں ہے، میں غریب ضرور ہوں مگر ایماندار ہوں قسطوں میں آپ کی رقم لوٹا دوں گا۔ اسکی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر بےچارگی اور لجاجت- وہ پھر بولا میں کبھی بیل نہ بجاتا اگر یہ خواب نہ دیکھتا۔ میں عجیب شش و پنج میں تھا پھر مجھے یاد آیا کہیں پڑھا تھا کہ جب تنگی ہو تو خدا سے تجارت کیا کرو وہ کبھی نا امید نہیں کرتا۔۔۔ تیس ہزار دینے کا مطلب یہ تھا کہ اب واپسی کی کوئی امید نہیں – خیر میں گیا اور تیس ہزار اس کے ہاتھ میں رکھ دئیے- اس نے میرے ہاتھ چوم لئیے اور رونے لگا۔۔۔


کوئی پندرہ دن بعد پھر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا میں نے غصہ سے پوچھا اب کیا مسئلہ ہے کیا پھر کوئی خواب دیکھا ہے بولا ہاں مگر آپ کو کیسے پتہ چلا ؟ میں نے جنجھلا کر کہا ظاہر ہےپہلے خواب دیکھا تھا تو بیل بجائی اب پھر خواب دیکھا ہوگا جو بیل بجائی ہے- جلدی بتاؤ مجھے بہت کام ہیں-

کہنےلگا صاحب کل عشاء کی نماز پڑھ کر بڑی دعا کی کہ مولا قرض تو دلا دیا ہے اب ادائیگی میں بھی مدد کردے اور سوگیا تو پھر آپ کا گھر نظر آیا آواز آئی کہ تیرا قرض ادا کردیا گیا ہے جاکر بتادے کہ اسکا بھی کام کردیا گیا ہے- میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا- میں نے کہا ٹھیک ہے جاؤ میں نے تم سے کون سا قرض وصول کرنا تھا- لیکن کمرہ میں آکر میں کافی دیر تک سوچتا رہا پھر والدہ سےمشورہ کیا تو وہ بولی تم کل ہی لاہور جاؤ ہوسکتا ہے قدرت کوئی راستہ نکالے میں نے تنک کر کہا تین بار تو جا چکا ہوں وہ تو بس ایک ہی بات کہتا ہے” جب تک میں اس سیٹ پر ہوں دیکھتا ہوں تم کو ویزا کون دیتا ہے” اب تو اس کو میرا چہرا بھی زبانی یاد ہوگیا ہوگا- والدہ نے کہا میں پیسے دیتی ہوں تم اللہ کا نام لے کر جاؤ تو سہی، کچھ لوگ خدا کےبہت قریب ہوتے ہیں یہ بات عام آدمی نہیں سمجھ سکتا۔


خیر میں اگلےدن لاہور پہنچا موسلا دھار بارش ہورہی تھی، ڈرتے ڈرتے اتاشی کے کمرہ میں داخل ہوا دیکھا کرسی پر ایک نوجوان لڑکا بیٹھا ہے، میں نے کہا یہاں تو ایک اور صاحب ہوتے تھے بولا ہاں انکو ایک ہفتہ ہوا واپس وزارت خارجہ میں بلا لیا گیا ہے اور میں نے چارج سنبھال لیا ہے- میں نے کاغذات اسکو دیئے بولا آپ بہت لیٹ آئے اب تو یونیورسٹی کھلنے میں چند دن رہ گئےہیں- پھر اس نے سکریٹری کو بلایا کہا کہ پرسوں سےیونیورسٹی شروع ہورہی ہے یہ پہلے ہی لیٹ ہوچکے ہیں فورا ٹکٹ بناؤ پاسپورٹ پر ویزا لگاؤ اورسالانہ ھاؤس رینٹ، ایک ماہ کی سلیری کا چیک بنا کر لے آؤ، اور سنو چائے بھجوادینا-

میں ایک لمحہ کے لئیے گم سم سا ہوگیا، قدرت اس طرح بھی مہرباں ہوسکتی ہے ؟، پرانے اتاشی کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہےتھے- اوپر والے نے اس مغرور شخص کی کرسی چھین لی تھی کیا صرف میرا کام کروانے کے لئیے؟ پھر موسم پر میں نے گفتگو شروع کی بتایا کہ بہت موسلادھار بارش ہورہی تھی بڑی مشکل ہوئی آنے میں تو اس نے بڑی شائستہ اردو میں جواب دیا کہ آپ لوگ بڑے خوش قسمت ہیں ہم تو ایسے موسم کو ترستے ہیں، مجھ پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے اس کی اردو سن کر- میرا حیران چہرہ دیکھ کر وہ ہنسا بولا میں نے یہیں سے تعلیم حاصل کی ہے پاکستانی ایک ذہین ، محنتی اور بڑی مہمان نوازقوم ہے میں ان سے محبت کرتا ہوں خاص طور پر استادوں سے۔۔۔ چائے ختم ہوگئی تھی، پاسپورٹ، ٹکٹ اور چیک میرے ہاتھ میں تھا۔۔۔ مجھے ٹین ڈبے والے کے خواب کےالفاظ یاد آئے کہ تمھارا قرض ادا کردیا گیا ہے- لیکن ایسی ادائیگی کا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا

 

September 28, 2021

DOCTOR ڈاکٹر ایک مسیحا

 “ایک ڈاکٹر”

بچہ چند ماہ کا تھا کہ اسے قے کا عارضہ لاحق ہوگیا. میں اسےشہر کے سب سے بڑے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر سمیر شیخ کے پاس لے گیا. ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد فرمایا
"اسے الٹا سلایا کیجئے، ٹھیک ہوجائے گا"
یہ کہہ کر وہ مجھے یوں دیکھنے لگے جیسے ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی. میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
"دوائی ؟"
انہوں نے خالی پرچہ میری جانب بڑھاتے ہوئے فرمایا
"کوئی دوائی نہیں، بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے تحت دی جاتی ہے"
میں اور اہلیہ خالی پرچہ لئے گھر آگئے اور بچے کی قے کی شکایت الٹا سونے سے ٹھیک ہوگئی. کچھ عرصے بعد اس کے دانت نکلنے کے دن آئے تو میں ایک بار پھر اسے لے کر ڈاکٹر سمیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور دانشوری بھگارتے ہوئے کہا
"ڈاکٹر صاحب ! یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ بچوں کے جب دانت نکلتے ہیں تو اس کے سبب ان کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے، جس سے یہ کمزور ہوجاتے ہیں. میں چاہتا ہوں کہ آپ بچے کے لئے کوئی ایسی دوا لکھ دیجئے کہ اس کا پیٹ خراب نہ ہو اور یہ ہٹا کٹا رہے"
ڈاکٹر سمیر عینک کے اوپر سے گھورتے ہوئے میری دانشوری پر حملہ آور ہوئے
"نہیں ! میں بالکل نہیں جانتا کہ دانت نکلنے سے بچوں کا پیٹ خراب ہوتا ہے، یہ راز کب دریافت ہوا ؟"
تپ تو مجھے بہت چڑھی مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے گزارش کی
"میرے دونوں بڑے بچوں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے، اور یہ تو عام معروف بات ہے، حیرت ہے آپ نہیں جانتے !"
ڈاکٹر صاحب بولے
"یہ انپڑھ گھرانوں کا تصور ہے کہ دانت نکلنے سے پیٹ خراب ہوتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ جب بچے کے دانت نکلتے ہیں تو اس کے مسوھڑوں میں کھجلی ہوتی ہے جس کے سبب وہ بار بار ہاتھ منہ میں ڈالنے لگتا ہے. چونکہ ہاتھوں پر جراثیم ہوتے ہیں سو یہ بچے کے پیٹ میں جاکر خرابی پیدا کر دیتے ہیں. حل اس کا یہ ہے کہ بچے کے دانت نکلنے کے ایام میں مناسب وقفے کے ساتھ دن میں چار بار اس کے ہاتھ صابن سے دھوئے جائیں"
یہ کہہ کر وہ پچھلی بار کی ہی طرح یوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ گئے جیسے انہیں مزید کچھ نہیں کرنا. عرض کیا
"دوائی کوئی نہیں ؟"
فرمایا
"کوئی نہیں"
کچھ مدت بعد بچے کا گلا اور سینہ خراب ہوگیا، میں اس بار بھی اسے ڈاکٹر سمیر کے پاس لے گیا مگر اس بار "انپڑھ گھرانوں" والی ڈوز سے بچنے کی خاطر دانشوری جھاڑنے سے مکمل گریز کرتے ہوئے بس اتنا کہا
"اس کا گلا اور سینہ خراب ہے"
"کیوں خراب ہے ؟"
"مجھے کیا پتا، میں تو انپڑھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں"
یہ میں نے جی ہی جی میں کہا، چونچ بند ہی رکھی. وہ معائنہ فرما کر بولے
"سری لیک بند کردیجئے، ٹھیک ہوجائے گا، سری لیک ہر بچے کو راس نہیں آتی"
"سری لیک کی جگہ کیا دیں ؟"
"دہی جو کھٹی ہرگز نہ ہو، ابلا ہوا آلو، یخنی، سبز چائے، شہد اور کھچڑی دیجئے"
"دوائی ؟"
"بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے وقت دیتے ہیں اور وہ بھی ایک آدھ. وقاص کو کوئی اشد ضرورت نہیں"
میں بچے کو دس بارہ برس کی عمر تک بوقت ضرورت ڈاکٹر سمیر کو ہی دکھاتا رہا اور اس پورے عرصے میں ایک دو بار ہی انہوں نے ایک آدھ دوا لکھ کر دی. وہ سختی سے اس بات کے قائل تھے کہ بچے کو دوا نہیں دینی چاہئے. آج بھی ان کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے کیونکہ وہ ایسے دور میں بچوں کو ادویات سے بچانے کے قائل تھے جس دور میں کمیشن خور ڈاکٹرز پانچ سے دس دوائیں لکھ کر مریض کو کرتے تو مزید بیمار ہیں لیکن نسخے والے پیڈ کی لوح پر "ھوالشافی" پرنٹ کرا کر ثواب دارین کی امید بھی رکھتے ہیں.
کیا آپ بھی ڈاکٹر سمیر جیسے کسی ڈاکٹر کو جانتے ہیں؟؟؟؟

 

There is nothing wrong with the world، دُنیا میں کوئی بھی چیز نکمی نہیں ہے۔

  ایک آدمی کا بڑا بیٹا بہت لا ئق اور ہونہار طالب علم تھا لیکن چھوٹا بیٹا اتنا ہی نا لائق تھا۔ جب رزلٹ کا دن آیا تو باپ چھوٹے بیٹے کے پاس گیا اور بولا کہ آپ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئے آپ کو پتہ نہیں ہے کہ ہم نے آج آپ کا رزلٹ لینے کے لیے آپ کے سکول جانا ہے۔

لڑکا بولا کہ ابو پلیز آپ مت جائیں میں اکیلے چلا جاتا ہوں۔میں کوئی احسن کی طرح لائق فائق تھوڑی ہوں کہ آپ فخر سے میرے ساتھ سکول جا سکیں ۔ آپ کی بھی بے عزتی ہوگی۔باپ مسکرا کر بولا کہ بیٹا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا رزلٹ برا ہوتا ہے، میں آپ کا باپ ہوں اور ہر حالات میں ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا اور آپ مایوس کیوں ہوتے ہو آپ کا اور احسن کا بھلا کیا مقابلہ اور سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی دو انسانوں کا آپس میں کبھی کسی قسم کا مقابلہ نہیں بنتا۔جب اللہ نے اس دنیا میں گھاس کا بیج بویا تھا تو وہ اگلے گھنٹے پوری دنیا میں ہری بھری نظر آنے لگی تھی لیکن کیا اللہ نے بانس کا بیج بے وجہ بنایا تھا؟ جب گھاس کا بیج لگایا تو اگلے گھنٹے پوری دنیا ہری بھری نظر آنے لگی اور جب بانس کا لگایا تو پہلے ایک سال کچھ نظر نہیں آیا، پھر دوسرا سال اسی طرح گزر گیا اور کوئی بیل بوٹا نہیں اگا۔ لیکن کیا.اللہ نے بانس کو بے مقصد بنایا تھا یا اس کے بیج بنانا بند کر دیے تھے۔ جب دو سال بعد بانس کا پودہ اگا تو بالکل چھوٹا سا تھا، کمزور۔ لیکن جب بانس کا پودہ بڑا ہوتا ہے تو کتنا خوبصورت لگتا ہے۔ اتنا لمبا اونچا اور مضبوط، پھر اس کے آگے گھاس کی پتیاں کیسی لگتی ہیں۔

تو کسی کا کسی کے ساتھ موازنہ بے مقصد کی باتیں ہیں اور وقت کا ضیاع ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کو بہت کم عمری میں ایک بہت قیمتی سبق سکھا دیا تھا کہ دنیا کے کارخانے میں کوئی بھی شے بے مقصد نہیں ہوتی اور کسی کا دوسرے انسان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ سب الگ ہیں اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ایسے میں ہر ایک اس دنیا میں ایک انمول رنگ بھرتا ہے اور جو لوگ اپنے بچوں میں اس طرح کے مقابلے بوتے ہیں،اس کا کڑوا پھل ان کی ذہنی بیماریوں کی صورت ساری عمر برداشت بھی کرتے رہتے ہیں۔ اللہ سب کو عقل دے۔سٹیو جابز کو کون نہیں جانتا؟ ایپل کا فاؤنڈر ۔ ایپل وہ کمپنی جس کے آئی فون ہاتھ میں لے کر ہم اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں ۔ دنیا کا سب سے زیادہ بکنے والا فون آئی فون ہی ہے۔ سٹیوو جابز نے ایپل کی بنیاد ۱۹۷۶ میں رکھی تھی۔ ایپل دنیا بھر میں بہت مشہور اور معروف تھی اور اس کے فون اور لیپ ٹاپ ہر آرٹسٹ کی پہلی ترجیح ہوا کرتے تھے۔ ایسے میں سٹیوو سے ایک غلطی ہو گئی اور اس نے ایک ایسا پراڈکٹ بنایا جو مارکٹ میں بالکل نہ چل پایا۔ یہ۱۹۸۵ کی بات ہے، اس کی اپنی کمپنی نے اسے ٹیم سے خارج کر دیا۔ پوری دنیا اس بات سے واقف تھی، بجائے اس کے کہ سٹیوو جابز بیٹھ کر اپنے اوپر ترس کھاتا یا اپنی قسمت اور رسوائی کے رونے روتا اس نے ایک نئی کمپنی کی بنیاد ڈال دی۔

اس نے اپنی نئی کمپنی ’نیکسٹ‘ کا آغاز کیا اور اس پر بے انتہا محنت کی۔ اس نے مڑ کر کبھی ایپل کی طرف نہیں دیکھا اور اس کی محنت رنگ لائی، ایپل جب 1997 میں ناکامیوں پر ناکامیوں کا سامنا کر رہی تھی تو انہوں نے سٹیوو جابز کی نئی کمپنی نیکسٹ کو کال کیا اور اس کے ساتھ مرجر کر لیا۔ سٹیوو جابز کو اس کی پرانی جاب واپس دے دی اور اس کے بعد سٹیوو نے آئی فون،آئی پیڈ اور آئی پاڈ جیسے پراڈکٹ بنائے اور مارکٹ میں لانچ کیے۔ آج بچے بچے کے ہاتھ میں آئی پیڈ ہوتا ہے اور ہر آدمی آئی فون لے کر پھرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔یہ سب سٹیوو جابز کی انتھک محنت اور مستقل مزاجی کے باعث ممکن ہوا ہے۔ سٹیوو کے مزاج کے بارے میں بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنی کمپنی کی بات کو دل پر نہیں لیا تھا اور اس نے اپنے فیل پراڈکٹ کی پوری پوری ذمہ داری قبول کر کے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ جب اس کی کمپنی نے اس کو دوبارہ جاب آفر کی تو اس نے ناک منہ چڑھاکر ان کو کو انکار نہیں کیا بلکہ یہ سوچا کہ اس کا ذاتی فائدہ اور پوری کمپنی کا فائدہ کس چیز میں ہے۔ انسان جب صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ پوری ٹیم کا سوچ کر چلتا ہے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومتی ہے۔ کوشش کریں کہ سب کو ہمیشہ ساتھ لے کر چلیں

 

Total Pageviews