December 27, 2018

PAKISTAN & CORRUPTION CASES NO RESULT





پاکستان اور حکمران
عزیر بلوچ رزلٹ صفر
عابد باکسر رزلٹ صفر
ڈاکٹر عاصم رزلٹ صفر
شرجیل میمن رزلٹ صفر
کرنل جوزف رزلٹ صفر
ریمنڈ ڈیوس رزلٹ صفر
مجید رکن بلوچستان اسمبلی پولیس اہلکار کا قتل رزلٹ صفر
انسپکٹر اعجاز قتل رزلٹ صفر
ماڈل ایان علی رزلٹ صفر
12 مئی قتل عام رزلٹ صفر
احد چیمہ ریمانڈ پر ریمانڈ رزلٹ صفر
فواد حسن فواد صرف ریمانڈ رزلٹ صفر
منشی اسحاق ڈالر رزلٹ صفر
راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر
نیو بینظیر ائیر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر
رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر
ایم کیو ایم غداری کیس ثبوت موجود رزلٹ صفر
ایم کیو ایم دہشتگردی را فنڈنگ ثبوت موجود رزلٹ صفر
اصغر خان کیس رزلٹ صفر
شہد کی بوتل رزلٹ صفر
بلدیہ ٹاون رزلٹ صفر
ماڈل ٹاون رزلٹ صفر
شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر
راؤ انوار ناحق قتلِ عام ثبوت موجود رزلٹ صفر
56 کمپنی سکینڈل رزلٹ صفر
صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر
سستی روٹی تندور کرپشن رزلٹ صفر
کلبھوشن یادیو دشمن جاسوس رزلٹ صفر
ٹڈاپ کرپشن کیس رزلٹ صفر
بابر غوری ایم کیو ایم کیس رزلٹ صفر
گستاخ بلاگرز کیس آزاد رزلٹ صفر
آسیہ ملعونہ گستاخی کیس رزلٹ صفر
ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر
حافظ عبد الکریم کرپشن کیس رزلٹ صفر
حسین حقانی کیس رزلٹ صفر
پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر
جیو ٹی وی غداری کیس رزلٹ صفر
اور نجانے ان جیسے ہزاروں کیس امیروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور بزنس مینوں کے رزلٹ صفر

مگر غریب آدمی کے لئے قانون فرعون بن جاتا ھے
عدالت ذلالت بن جاتی ھے
انصاف تو ملتا ھی نہیں
ہزاروں بے گناہ قید میں ہیں اور گناہ گار آزاد
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وبارک وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کرنے والے آزاد کر دئیے جاتے ہیں اور ایک گستاخ کو سپورٹ کرنے والے گستاخ کو قتل کرنے پر ممتاز قادری کو راتوں رات پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے. جبکہ ریمنڈ ڈیوس دن دہاڑے قتل کرنے کے بعد بھی آزاد کر دیا جاتا ہے پیسے لے کر بھگا دیا جاتا ہے.
یہاں کوئی غریب آدمی ادارے پر تنقید کر لے تو غداری میں دھر لیا جاتا ہے مگر الطاف بھائی آزاد، زرداری اینٹ سے اینٹ بجائے آزاد، پرویز رشید آزاد، میٹر ریڈر شاہ صاحب آزاد، حسین حقانی آزاد، اسفند یار ولی آزاد، محمود خان اچکزئی آزاد، سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے آزاد، تھانوں پر حملہ کر کے اپنے بندے چھڑوانے والے آزاد، ناکے پر کھڑے پولیس اہلکاروں پر شراب کے نشے میں دھت گاڑیاں چڑھانے والے آزاد
کیا سسٹم ھے میرے ہم وطنوں
بڑے پھنستے نہیں
چھوٹے بچتے نہیں
کیا کبھی ھم بھی انصاف کو ھوتا دیکھیں گے.
پاکستان زندہ باد

ENEMIES OF PAKISTAN



بات تھوڑی لمبی ھو گئ لیکن ضرور پڑھیے گا۔
عالم کفر کو چار بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
یہود ، نصاری ، مشرکین اور دہرئے جو کسی خدا پر یقین نہیں رکھتے!!ان چاروں کو اسلام کا اصل دشمن مانا جاتا ہے کیونکہ اسلام اان چاروں کے عقائد کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ کے قریب ہے اور یہ 57 ملکوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ لیکن کفر کی ان چاروں بڑی طاقتوں کی اصل اور سب سے بڑی خفیہ جنگ پاکستان کے خلاف ہو رہی ہے اور پاکستان بیک وقت ان سب سے چومکھی لڑائی میں مصروف ہے ۔ذرا اس ساری جنگ کو ایک نظر دیکھتے ہیں ۔اہل یہود کا کنٹرول ویسے تو تقریباً تمام یورپ اور امریکہ پر ہے لیکن انکا اپنا وطن اسرائیل ہے ۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ میں تم کو ایسے لوگوں کا نہ بتاؤں جن پر شیاطین اترتے ہیں ۔ کفر کے بڑوں پر یقیناً اترتے ہیں ۔ ڈیوڈ بن گوریان بانیان اسرائیل میں سے تھا ۔ اس نے اسرائیل بنتے ہی پیشن گوئی کی تھی کہ اسرائیل کے لیے سب سے بڑا اور اصل خطرہ پاکستان ہوگا ۔ پھر اسی گوریان نے 1967 میں ساربون یونیورسٹی میں یہودیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اہل یہود کو ایک بار پھر پاکستان کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ یہی تمھارا حقیقی اور سب سے بڑا دشمن ہے ۔ یہودیوں کے عالمی شہرت یافتہ مصنف پروفیسر سی جی پروئینز نے بھی اپنی کتاب ” مشرق وسطی سیاست اور عسکری وسعت” میں پاکستان اور پاک فوج کو اہل یہود اور اسرائیل کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے ۔ تب سے لے کر آج تک اسرائیل پاکستان کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہے ۔اسرائیل بنتے ہی انکی حکومت نے پاکستان کو سفارتی تعلقات کے لیے ٹیلی گرام کیا تھا جس پر قائداعظم نے نہ صرف سخت ترین الفاظ میں انکار کر دیا تھا بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ اس ناجائز ریاست کو امریکن اور یورپی سپورٹ حاصل نہ ہو تو یہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہے گی اور پاکستان اسکو کبھی تسلیم نہیں کرے گا ۔ پاکستان نے آج تک نہیں کیا بلکہ پاکستان دنیا کا اکلوتا ملک ہے جو نہ صرف اسرائیلی پاسپورٹ کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ اپنا پاسپورٹ بھی اسرائیل کے لیے کارآمد قرار نہیں دیتا ۔جیسے ہی پہلی عرب اسرائیل جنگ ہوئی جبکہ پاکستان کو بنے ابھی ایک سال ہی ہوا تھا پاکستان نے چیکوسلاواکیہ میں ڈھائی لاکھ رائفلیں خرید کر عربوں کو دیں اور تین جنگی جہاز اٹلی سے خرید کر مصر کے حوالے کیے اور اس جنگ کا باقاعدہ حصہ بن گیا ۔پھر 67 اور 73 کی جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کو شدید زک پہنچائی ۔ پاکستان نے کم از کم اسرائیل کے دو درجن جہاز مار گرائے ۔ جبکہ وہ ایک بھی پاکستانی جہاز نہ گرا سکے ۔ انہی جنگوں میں اسرائیل کے خلاف پاکستانی توپ خانہ بھیجا گیا تھا جس نے اسرائیل کی پیش قدمی روک دی تھی اور “کتیبہ ۃ لمجاہد” کا لقب پایا تھا یعنی “مجاہدین کی توپیں” ۔ پاکستان نے فسلیطن کی جہادی تحریک کے جوانوں کو پاکستان بلوا کر انکی ٹریننگ شروع کر دی ۔ اسی دور میں اسرائیل نے پاکستان کے خلاف انڈیا کی خفیہ ایجنسی راء کو منظم کیا اور اسکی تربیت کی ۔اسی عرصے میں اسرائیل نے جارج حباش کی مدد سے مجاہدین کی کچھ جماعتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا اور وہ اسرائیل کے بجائے اردن کے خلاف لڑنے لگے تو پاکستان نے بریگیڈئر ضیاء الحق کو بھیجا جس نے انکو کنٹرول کر لیا ۔ تفصیل یہاں ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔http://www.pakfb.com/general-zia-ul-haq-in-jordan-detail142…
1980 کی دہائی میں عراق کے نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کرنے کے بعد اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کے نیوکلئر پروگرام پر حملہ کرنے کا پلان بنایا جسکو جنرل ضیاء الحق نے بڑی جراءت سے ناکام بنا دیا ۔ 82 میں لبنان اسرائیل جنگ میں پاکستان سے جنگجو رضا کار اسرائیل کے خلاف لڑنے گئے جن میں سے پچاس گرفتار ہوئے ۔ 9/11 کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا فیصلہ کیا تو اسرائیل نے امریکہ کو باور کرانے کی بھرپور کوشش کی کہ یہ حملہ پاکستان پر کیا جائے تب افغانستان کو بھی ہڑپ کرنا آسان ہوگا ۔اسرائیل نے ہی کشمیر کی جنگ آزادی کا ناکام بنانے کے لیے وہاں جعلی مجاہدین تنظمیں بنائیں اور جنگ آزادی کو سخت نقصان پہنچایا ۔حماس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسکو سپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک پاکستان ہے ۔ غالباً اسی لیے پاکستان مخالف جہادی تنظیمیں حماس کے خلاف ہیں ۔اہل یہود کے لیے پاکستان درد سر ہے دشمن نمبر ایک ہے اور انکے گریٹر اسرائیل نامی نظرئے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭مشرکین کی اس وقت دنیا میں سب سے بڑی نمائندہ مملکت انڈیا ہے جہاں مشرکین کی کم از کم 80 کروڑ آبادی ہے ۔ یہ کروڑوں خداوؤں پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلام اور پاکستان کے لیے اپنے دلوں میں شدید کینہ اور بغض رکھتے ہیں ۔ہندو اپنا ہر عمل کرنے سے پہلے فال نکالنے کے عادی ہیں جیسے شادیوں کے لیے مہورت نکالنا ۔ جب انڈیا بنا تو گاندھی نے فال نکلوائی اور اعلان کے کہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کی 4 جنگیں ہونگی اور چوتھی جنگ فیصلہ کن ہوگی ۔ گاندھی نے یہ نہیں بتایا کہ اس جنگ کا فاتح کون ہوگا اور خاموشی اختیار کر لی ۔اگر چھوٹی موٹی جھڑپوں کو نظر انداز کر دیں تو اس وقت انڈیا کے ساتھ پاکستان کی تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ تینوں بار حملہ مشرکین ( انڈیا) نے ہی کیا تھا ۔اب حالت یہ ہے کہ انڈیا کی کل 9 ڈوژن فوج ہے جس میں سے 8 ڈوژن فوج پاکستان کے لیے ڈپلوئیڈ ہے ۔ انڈیا کا ایٹمی پروگرام صرف پاکستان کے لیے ہے ۔ انڈین آرمی کی بنیادی جنگی ڈاکٹرائن جس کو کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کہا جاتا ہے وہ پاکستان کے لیے ہے ۔ 65 کی جنگ میں پاکستان نے انڈیا کی فضائی اور ٹینکوں کی طاقت کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا اور انڈیا کو شکست دی ۔ 71 میں انڈیا نے ڈھائی لاکھ مکتی باہنی گوریلے پاکستان کے خلاف تیار کیے اور بنگلہ دیش میں بغاوت کروائی اور شیخ مجیب کی مدد سے بنگلہ دیش کو الگ کر دیا ۔ضیاء نے اپنے دور میں انڈیا سے بدلہ لینے کے لیے کشمیری مجاہدین اور سکھوں کی خالصتان تحریک شروع کروائی جس پر انڈیا کی چیخیں نکل گئیں ۔ بعد میں بے نظیر اور نواز شریف نے ان دونوں تحریکوں کو تباہ و برباد کر دیا ۔ 1988 میں اور سن 2002 میں انڈیا نے دو بار اپنی تمام فوجی طاقت کو سرحد پر لاکر کھڑا کر دیا پاکستان پر حملے کے لیے لیکن پھر ایٹمی جنگ کے خوف سے حملہ نہ کر سکا ۔پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ مل کر انڈیا کی سری لنکا میں جاری تامل لبریشن تحریک کو اڑا کر رکھ دیا اور انڈیا کی تیس سالہ محنت پر پانی پھیر دیا ۔ پاکستان کی وجہ سے انڈیا کشمیر میں 7 لاکھ فوج رکھنے پر مجبور ہے ۔انڈیا پاکستان میں بلوچستان اور صوبہ خیبر میں جاری بغاوتوں کو نہ صرف سپورٹ کرتا ہے بلکہ مکمل طور پر کنٹرول بھی کرتا ہے ۔ وزیرستان ایجسنی کے بارڈر میں افغانستا میں درجنوں انڈین کونسل خانے یہ کام کر رہے ہیں ۔انڈیا کی موجودہ برسراقتدار پارٹی بی جے پی نے اس ہندو کی راکھ کو محفوظ رکھا ہوا ہے جس نے گاندھی کو اس بات پر قتل کردیا تھا کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ “پاکستان کو اسکا حق دو” ۔ بی جی پی نے اعلان کر رکھا ہے کہ اسکی راکھ کو پاکستان فتح کرنے کے بعد دریائے سندھ میں بہایا جائیگا ۔آج نریندر مودی کہتا ہے کہ اب پاکستان روائتی جنگ کرنے کے قابل نہیں رہا اور اسکے پارٹی اراکین پارلیمنٹ میں پاکستان پر ایٹمی حملہ کرنے کے باقاعدہ مطالبے کرتے ہیں ۔بہت سے علماء اور ماہرین کے مطابق غزوہ ہند پاکستان کی انڈیا کے خلاف جنگ ہی ہوگی ۔پاکستان کو انڈیا اپنے اکھنڈبھارت کے لیے سب سے بڑی رکاؤٹ سمجھتا ہے جس کے مطابق مشرکین ( ہندو) اس سارے علاقے پر غلبہ حاصل کرینگے !٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭دہرئیے یا کسی بھی خدا کو نہ ماننے والی اس وقت پوری دنیا میں دو سب سے بڑی قومیں ہیں ۔ ایک چین میں آباد ہیں اور ایک روس میں ۔ لیکن ان دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے ۔ چین اپنے مذہب یا عقائد کی تبلیغ نہیں کرتا نہ ہی دوسرے مذاہب کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے ۔ جبکہ روس نے نہ صرف کارل مارکس کے نظریات کو خود تسلیم کیا بلکہ ان نظریات کی بنیاد پر سوشلزم نامی ایک شیطانی معاشی نظام دنیا کو دینے کی کوشش کی ۔قیام پاکستان کے بعد لیاقت علی خان نے روس سے دوستی قائم کرنے کے لیے اپنا ایک سفیر روس بھیجا ۔ لیکن روس کے اس وقت کے سربراہ نے اپنی فری میسن بیوی کے کہنے پر لیاقت علی خان کے نمائندے سے ملاقات تک نہ کی ۔ مجبوراً لیاقت علی خان نے امریکی سے تعلقات کا آغاز کیا۔پاکستان کے نامور ادیب اور سفیر قدرت اللہ شہاب کے مطابق روس اور امریکہ میں سرد جنگ اپنی جگہ لیکن ایک معاملے میں دنوں اتفاق پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو دنوں اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔65 کی جنگ میں روس نے انڈیا کو سپورٹ کیا ۔ 71 کی جنگ میں روس نے انڈیا سے 20 سال کا معاہدہ کیا جس کے تحت انڈیا پر حملہ روس پر حملہ تصور ہوتا ۔ اس معاہدے کی وجہ سے اس جنگ میں چین پاکستان کی کوئی مدد نہ کر سکا اور بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوگیا ۔ پھر گوادر پر قبضہ کرنے کے لیے روس اپنی پانچ لاکھ فوج کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا ۔ جنرل ضیاء نے اس خطرے کو پیشگی محسوس کرتے ہوئے روس کو افغانستان میں ہی روکنے کا فیصلہ کر لیا ۔ روس کو پاکستان نے افغانستان میں شکست دی ۔لیکن ساتھ ہی پاکستان نے اپنا ہاتھ روس کے زیر تسلط وسطی ایشیائی ریاستوں اور بوسنیا اور چیچنیا تک دراز کر لیا ۔ ان ریاستوں کو پاکستان کی بدولت آزادی ملی ۔وسطی ایشیائی ریاستوں میں قرآن پاک کے بے شمار نسخے پکڑے گئے جو انڈیا سے آئے تھے اور جو لاہور کے چھپے ہوئے تھے ۔ روس کی خفیہ ایجنسی کے جی بی نے جلدہی سراغ لگا لیا کہ یہ بھی جنرل ضیاءالحق کا ہی پھیلایا ہوا جال ہے ۔ جسکے دو مقاصد ہیں پہلی کارل مارکس اور سوشلزم کے شیطانی نظریات کو لگام ڈالی جا سکے جو بڑی تیزی سے ان مسلمان خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے ۔ دوسری روس کے انڈیا کے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈالی جا سکے ۔پاکستان نے ان ریاستوں میں اقبال کے اس شعر کو ایک نعرے کی شکل دے دی تھی کہ ۔۔۔۔۔۔معمار حرم باز بہ تعمیر جہاں خیز از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز!یہ شعر وہاں زبان رد عام ہوگیا اور آزادی کا نغمہ بن گیا ۔پاکستان نے بالاآخر روس اور اسکے شیطانی سوشلزم کے نظرئیے کو برباد کر کے رکھ دیا ۔ وہ نظریہ جس کو عیسائت بھی اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہی تھی پاکستان کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا ۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭نصاری کی نمائندگی اس وقت امریکہ اور اسکے اتحادی کر رہے ہیں جنکو نیٹو کہا جاتا ہے ۔ جنہوں نے اسلام کے خلاف پھر سے صلیبی جنگوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ان کے ساتھ پاکستان کے معاملات ایسے ہیں کہ بظاہر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات کا ڈھول پیٹتے نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت انکی آپس میں خونریز جنگ چل رہی ہے ۔امریکہ نے پاکستان کی پشت میں کئی بار خنجر گھونپا جسکی وجہ سے ایوب خان کو کہنا پڑا تھا کہ “امریکہ سے دوستی خودکشی ہے” ۔ امریکہ کی اصل دشمنی پاکستان سے تب شروع ہوئی جب پاکستان نے عراق ایران جنگ کو بزور طاقت روک دیا تھا جس میں امریکی مفادات کو بے پناہ نقصان پہنچا ۔ صدام نے جب جنرل ضیاء کی اپیل پر کان نہیں دھرے کہ “یہ جنگ عالم اسلام کے خلاف سازش ہے رک جاؤ ” ۔ تب ضیاء نے ایران کو کچھ سٹنگرز فراہم کیے جن سے عراقی جہاز گرائے گئے صدام نے مجبوراً جنگ روک دی ۔پاکستان امریکی کی خفیہ جنگ کی بہت لمبی تاریخ ہے مضمون بہت زیادہ لمبا ہو جائیگا ۔ ہم صرف حال کی بات کرتے ہیں جہاں پاکستان اور امریکہ بظاہر دنیا کے سامنے اتحادی بنے ہوئے ہیں ۔اصلیت یہ ہے کہ امریکہ اپنی کل جنگی بجٹ کا 60 فیصد سے زیادہ صرف دو جنگی ڈاکٹرائنز پر خرچ کر رہا ہے ۔ ایف پاک ڈاکٹرائن اور فورتھ جنریشن وار ۔ اور یہ دونوں جنگی ڈاکٹرائنز پاکستان کے خلاف ہیں ۔ ان ڈکٹرائنز کے تحت ڈرون حملے ، پاکستان میں بغاوتیں اور شورشیں برپا کروانا اور پاکستانی میڈیا اور دیگر ذرائع سے پاکستان اور پاکستان کے نظریہ اسلام پر حملے اور انکے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے ۔امریکہ کے مفرور سی ائی اے ایجنٹ ہنری سنوڈن کے مطابق امریکہ دنیا بھر میں نیوکلیرز ہتھیاروں کی جاسوسی کے لیے سالانہ 46 بلین ڈالر کی رقم خرچ کرتا ہے جس میں سے 23 بلین ڈالر صرف پاکستان کے نیوکلیر پروگرام کے خلاف خرچ کرتا ہے ۔امریکہ کے مشہور دانشور رابرٹ تھارپلے کے مطابق امریکہ کا افغانستان پر حملہ اور یہ سارا ڈرما ہی صرف اور صرف پاکستان کے لیے ہے ۔ اصل نشانہ پاکستان ہی ہے ۔رابرٹ تھارپلے کا انٹرویو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔http://www.pakfb.com/us-war-against-pakistan-webster-tarple…
پاکستان میں صوبہ خیبر، بلوچستان اور کراچی میں جاری دہشت گردی کو لندن کی ایم آئی سکس الطاف حسین کے ذریعے اور امریکہ انڈیا کے ذریعے سپورٹ کرتا ہے ۔صلیبی جنگوں پر یقین رکھنے والی امریکہ کی پرائویٹ دہشت گرد ایجنسیوں میں سے کم از کم نصف درجن پاکستان کے اندر خفیہ جنگ لڑ رہی ہیں جن سے آئی ایس آئی برسر پیکار ہے ۔ ان میں بلیک واٹر ، زی اور ڈائن کور جیسی ایجنسیاں شامل ہیں ۔لیکن جواباً پاکستان کیا کر رہا ہے ۔ بظاہر دنیا کے سامنے امریکی حلیف ہونے کا اعلان کرنے والا اس وقت افغانستان میں جاری امریکہ کے خلاف تمام جہاد کو کنٹرول کر رہا ہے ۔ہم لمبی تفصیل میں نہیں جاتے ۔27 اکتوبر اور 3 نومبر 2011 کو بی بی سی نے ” سیکرٹ پاکستان” کے نام سے ایک ڈاکومینٹری فلم کے دو حصے ریلیز کیے جس میں اس نے ثابت کیا کہ پاک آرمی اور آئی ایس آئی امریکہ اور پوری دنیا کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہی ہے اور بظاہر امریکی اتحادی بنی ہوئی ہے لیکن درحقیقت افغانستان میں لڑنے والے طالبان اور انڈیا کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو پاکستان ہی اسلحہ اور ٹریننگز دیتا ہے ۔اوباما کے مشیر بروس ریڈ نے 2009 بیان دیا کہ افغانستان میں ہم کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے جسکو پاکستانی آرمی اور انکی خفیہ ایجنسی کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے کئی پکڑے گئے طالبان کے انٹرویو جنہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ایس آئی نے ہائر کیا تھا ۔۔ملابرادر جو ملا عمر کے بعد دوسرا بڑا کمانڈر ہے اس کو آئی ایس آئی نے کراچی سے پکڑا کیونکہ ایک برٹش ڈپلومیٹ کے مطابق وہ افغان حکومت سے خفیہ رابطہ کر کے مزاکرات کرنا چاہتا تھا جبکہ ائی آیس آئی ابھی اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتی ہے ۔ ان کے مطابق پاکستان یہ ناممکن خواب دیکھ رہا ہے کہ امریکہ کو بھی روس کی طرح افغانستان میں ٹکڑے کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ ملا برادر کی رہائی کے لیے امریکہ نے پاکستان کو ایف 16 جہاز تک آفر کیے گئے جو پاکستان نے مسترد کر دئے ۔۔۔پاکستان اپنی اس جنگ کو خفیہ کیوں رکھنا چاہتا ہے ۔ اسکا جواب ماہرین یہ دیتے ہیں کہ اس طرح وہ جنگی اخراجات برداشت کر سکے گا اوراسکو عالمی تنہائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔مسٹر ریڈل کے مطابق پاکستان اپنی مخصوص جنگی حکمت عملی کی بدولت پوری دنیا کی فوجی طاقتوں کو افغانستان میں ڈبو سکتا ہے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے ۔۔۔پاکستان کی اس جنگی حکمت عملی کی نتیجے میں امریکی کی جنگی اور معاشی کمر ٹوٹنے کے قریب ہے اور انکا سرمایہ دارانہ نظام والا نظریہ اپنی وقعت کھونے لگا ہے ۔ پاکستان صلیبیوں( امریکہ اور نیٹو ) کے لیے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭یہود و نصاری ، مشرکین اور دہرئیے سارے ملکر پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پاکستان نہ صرف اکیلے ان سب سے نبرد آزما ہے بلکہ برابر کا جواب بھی دے رہا ہے ۔یہ ہے وہ پاکستان جس کو بنانے والوں نے اسلام کا آخری قلعہ کہا تھا اور اس قلعے پر چاروں طرف سے حملہ ہوچکا ہے ۔ اب آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ حملہ آوروں کا ساتھ دینگے یا قلعے کی حفاظت کرینگے اور محافظوں کا ساتھ دیں گے!!!!!
اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور اسکو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بنائے !
#پاکستان زندہ باد💚
#پاک فوج آئی ایس آئی پائیندہ باد💚

November 16, 2018

عمران خان کی ٹیم پر بے جا تنقید کیوں!




سرفرازوہیں ٹھہریں گے تواستقامت اورصبرسے موجودہ طوفان میں کھڑے رہینگے۔اس لیے کہ جس بات کا ڈرتھا،خوف تھابلکہ کئی بزرجمہروں کویقین تھا،ملک اس حادثہ سے بچ گیاہے۔اقتصادی طورپرڈیفالٹ سے مکمل محفوظ۔ یہ عمران خان کی پہلی کامیابی ہے جواس نے خاموشی سے حاصل کی ہے اوراس پرزیادہ بحث بھی نہیں کرتا۔
پرانے کھلاڑیوں نے خاص منصوبہ بندی کے تحت ملک کوقرضوں میں گروی تورکھا ہی تھامگرمنصوبہ کچھ اور تھا۔ اس منصوبہ میں چندغیرملکی طاقتیں بھی شامل تھیں۔ بساط اس اَمرکی بچھائی گئی تھی کہ اگر پنتیس سال سے اس ملک کی شاہ رگوں سے خون پینے والے کامیاب ہوگئے تو فوری طورپرڈھول ڈھمکے کے شورمیں چپ کرکے حددرجہ سخت شرائط پرسخت قرض لے کرچندبڑے بڑے منصوبے جن میں سے ایک دو تو جاری بھی ہیں،انھیں کھلونابناکرعوام کا دل بہلایاجائے گا۔
لوگوں کودوبارہ بیوقوف بنایاجائے گا۔جیسے لاہور کی اورنج ٹرین اورشائدایک دواسی قبیل کے غیرسنجیدہ مہنگے ترین ترقیاتی اقدام۔ان منصوبوں میں ملک کی خیر مطلوب نہیں تھی۔پہلے بھی عرض کیاہے کہ انکواپنی جیت کا یقین تھا۔ہرادارے میں انھی کے پروردہ لوگ موجود تھے۔الیکشن میں ہارنابقول ان کے ممکن ہی نہیں تھا۔ مگر خدا کی مرضی بالکل مختلف تھی۔انتہائی بے ترتیبی سے الیکشن لڑتے ہوئے عمران خان کی جیت ہوگئی۔ ایک ایساکام، جوالیکشن سے چارپانچ ماہ قبل سوچابھی نہیں جاسکتا تھا۔
خیر یہ عوام کی مرضی تھی کہ ووٹ اسکوحددرجہ زیادہ پڑے۔آل شریف کے پیروں سے زمین نکل گئی۔یہی وہ وقت تھا جب پرانے کھلاڑیوں نے بوسیدہ کھیل کھیلا۔ دیر سے نتائج آنے کودھاندلی قراردیدیا۔حالانکہ پچھلے تمام الیکشنوں میں کبھی بھی کوئی نتیجہ وقت پرموصول نہیں ہوا۔ مسلم لیگ ن کے جیتے ہوئے کسی بھی الیکشن کے نتائج کومثال بناکر سامنے رکھ لیجیے۔دلیل سے عرض کرتا ہوں۔ چند سیاسی قوال حاصل کیے گئے۔قوالی کامصرع تھاکہ نادیدہ ہاتھ، پی ٹی آئی کی حکومت کولے کرآئے ہیں۔جب اسکابھی کوئی ثبوت نہ مل سکاتوپھردوتین ہفتوں کے لیے خاموشی چھاگئی کہ اب کیا کریں۔
چنانچہ ٹھیک دوماہ پہلے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہ بات پھیلانے کا عزم ہواکہ عمران خان کی ٹیم ناتجربہ کار،نااہل اورنکھٹوہے۔چند گروپ جن کو پیسے ملنے بندہوچکے تھے،انھیں سرمایہ بھی مہیا کیا گیا۔ دوماہ سے قیامت برپا کر دی گئی کہ ہائے ہائے،ملک بربادہوگیا۔تباہی مچ گئی۔ نااہل اورناتجربہ کارٹیم نے توملک کابیڑہ غرق کردیا۔
تحریک انصاف اس سازش کوموقعہ پرسمجھ نہ پائی۔اس کی ٹیم نے دوہفتے ضایع کردیے۔مگرجب معاملات کی سنجیدگی کا احساس ہواتوچوہدری فواد اور دیگر حضرات نے ترکی بہ ترکی جواب دیاجوجارحانہ بھی تھا تو بہت حدتک حقائق پر مبنی بھی۔ن لیگ کواس رویہ کی توقع نہیں تھی۔لہٰذااب انھوں نے روش تبدیل کرکے تحریک انصاف کے وزراء پر کیچڑاُچھالناشروع کردیا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ مگراگلے پندرہ بیس دن میں یہ معاملہ بھی ٹھنڈاپڑجائے گا۔
وزیراطلاعات کاعہدہ حددرجہ مشکل ہے۔ اگر دیکھا جائے توہروزیراطلاعات بھنورکی آنکھ میں زندگی گزارتا ہے۔فوادچوہدری کے ساتھ بالکل یہی ہورہاہے۔میری دانست میں وہ اپناکام سنجیدگی سے کررہاہے۔معاملات کو ان کے حقیقی تناظرمیں بیان کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ دو مثالیں لے لیجیے۔
وزیراطلاعات کایہ کہناکہ بڑے بھائی یعنی نوازشریف کی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے لیے پی اے سی کمیٹی کی صدارت چھوٹے بھائی یعنی شہباز شریف کو نہیں دی جاسکتی۔یہ اُصولی طورپرحددرجہ درست بات ہے۔پوری دنیامیں ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ سیاسی نظام میں ایک فردکی مالی بدعنوانی کواُسی خاندان کاایک فرد پرکھے۔لازم ہے کہ اسکارویہ حددرجہ جانبدارانہ ہوگا۔ اس اُصول کے تحت فواد چوہدری ٹھیک کہہ رہاہے۔ اس معاملے میں پی ٹی آئی کی پالیسی مکمل طورپردرست ہے۔
دوسری مثال، فوادچوہدری کایہ کہناکہ اگرنیب،آل شریف کے خلاف تحقیقات کرناختم کردے توقومی اورپنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ہنگامہ ختم ہوجائے گا۔یہ بات بھی بالکل درست ہے۔آج اگر شہباز شریف اوربڑے بھائی کواین آراومل جائے۔ان کے خلاف تحقیقات روک دی جائیں۔ نیب برادرخوردکوچھوڑدے تو جمہوریت کے لیے ہرخطرہ ختم ہوجائے گا۔نکتہ ہی یہی ہے۔اگرعمران خان ،آل شریف کے معاشی جرائم سے صرفِ نظرکرلے،توسارامعاملہ ٹھیک ہوجائے گا۔مگرعمران این آراو ہونے نہیں دے رہا۔
اصل تکلیف بھی یہی ہے۔سامنے فواد چوہدری ہے کیونکہ بہرحال حکومت کانقطہِ نظراسی نے بیان کرنا ہے۔ لہذ اپرانے تمام کھلاڑی،فوادچوہدری کے خلاف کمال واویلا فرمارہے ہیں۔پرانے سیاسی کھلاڑی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی ٹیم بچوں پرمشتمل ہے۔یہ تو ناتجربہ کارہے۔یہ توکام کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ یہ منصوبہ بندی مکمل طورپرجاری وساری ہے۔ پر اب یہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ رہی ہے۔ پرانے سیاسی گرگوں کو معلوم ہوچکاہے کہ وہ موجودہ حکومت کوگرانھیں سکتے۔
چلیے،تھوڑی دیرکے لیے عمران خان کی ٹیم کاسرسری ساجائزہ لے لیتے ہیں۔اس کے ارکان پر طائرانہ نظرڈال لیتے ہیں۔شاہ محمودقریشی سے بہتر وزیرخارجہ پچھلے دس پندرہ سال سے نہیں آیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت میں اس کی بہترکارکردگی سے گھبراکر”گرو”نے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔مگرشاہ محمود،پیپلزپارٹی ہی چھوڑگیا۔ اس کا تمسخر اُڑایاگیا۔”گرو”نے کہاکہ وہ کبھی سیاست میں واپس نہیں آئیگا۔توقعات کے برعکس شاہ محمود قریشی دوبارہ الیکشن جیت گیا۔شاہ محمودسفارتی سطح پر حد درجہ فعال انسان ہے۔
اس کے مسلسل مربوط دوروں سے پاکستان کا نقطہِ نظروضاحت سے دنیاکے سامنے آرہاہے۔ہمارے دوستوں کے دل وسیج رہے ہیں۔ملتان اورتحریک انصاف کی اندرونی سیاست میں شاہ محمودکاکیارول ہے،اس پر دورائے ہوسکتی ہیں۔مگرسفارتی سطح پروہ حددرجہ کامیاب ہے۔کم ازکم، سرتاج عزیزاورفاطی سے ہزاروں نوری سال بہتر۔ خاموشی سے اپناکام کررہاہے ۔چلیے،اسے بھی چھوڑ دیجیے۔ کیا اَسد عمر وزارت خزانہ اسحاق ڈار سے بہترنہیں چلا رہا۔بالکل چلا رہا ہے۔مشکل ترین صورتحال میں اَسد عمر، نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایاہے۔ورنہ امریکی ڈالر دو سو روپے سے بھی بڑھ چکاہوتا۔مہنگائی کا بڑھنا تو کوئی لفظ ہی نہیں ہے۔ اگر پاکستان اقتصادی طورپر دیوالیہ ہو جاتا، تو کھانے پینے کی اشیاء کم ازکم دوسے تین ہزار گنا بڑھ جاتیں۔
پیٹرول کی قیمت کیاہوتی؟سوچتے ہوئے بھی خوف آتاہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ چند اقتصادی فیصلے غیرمقبول ہوئے ہیں۔ مگر یہ سب کچھ مجبوری میں کیا گیا۔صرف اورصرف دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے۔ یہ بھی درست ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی بڑھی ہے۔مگربتائیے جس ملک میں کوئی امیرآدمی ٹیکس دینے کے لیے تیارنہیں۔طاقتورطبقہ ایف بی آرکواپنی جیب میں ڈال کررکھتاہے۔وہاں ان ڈائریکٹ ٹیکس کے علاوہ دوسراراستہ کون سارہ جاتاہے۔
قوی یقین ہے کہ چھ ماہ کے اندر اندر، مہنگائی کم ہوجائیگی۔اَسدعمراس وقت اپنی بساط سے بڑھ کرمحنت کررہاہے۔آئی ایم ایف کی کڑی شرائط بھی تسلیم نہیں کررہا۔کیایہ سب کچھ اسحاق ڈار صاحب کررہے تھے۔ دل پرہاتھ رکھ کر بتائیے۔ کیا پاکستان میں کسی کوبھی معلوم تھا کہ اسحاق ڈار،کس دھڑلے سے ملک کی معیشت کو برباد کررہاہے۔گروی رکھ رہاہے۔ پیسہ بنارہا ہے۔ اَسد عمر کا مقابلہ اسحاق ڈار سے کرنا غیرمناسب ہے۔ اَسدعمرکے کردار پرکرپشن کاکوئی داغ نہیں ہے۔ یہ بذات خودایک محترم بات ہے۔
آگے بڑھیے۔کیاشفقت محمودکام نہیں کررہا۔ وزارت داخلہ کاوزیرمملکت فعال نہیں ہے۔صرف اور صرف میرٹ پربات کیجیے۔عمران خان اپنی ٹیم کے ساتھ میدان میں جم کرکھڑاہوچکاہے۔لازم ہے،چندکھلاڑی دوسروں سے بہترہونگے۔آہستہ آہستہ کام نہ کرنے والے،ٹیم سے باہر ہوجائینگے۔ کیا وزراء کی کارکردگی پر پہلے کبھی بھی کڑی نظررکھی گئی تھی۔بڑے میاں صاحب تو وزراء سے ملناتک پسند نہیں کرتے تھے۔ان کی کارکردگی کا جائزہ کیسے لیتے۔ ان کے مصاحبین کسی کے متعلق جوکچھ بھی فرما دیتے۔میاں صاحب اسی انفارمیشن کی بنیاد پر اپنا رویہ ترتیب دیتے تھے۔ ویسے ایک ایساشخص جوقومی اسمبلی میں جانااپنی توہین سمجھتا تھا،جوسینٹ کوجوتے کی نوک پر رکھتاتھا،جووزراء سے دور رہتا تھا۔ جسکو ملنے کے لیے ایم این اے سفارشیں کرواتے تھے۔
کیا واقعی اسکاموازنہ موجودہ وزیراعظم سے ہوناچاہیے جوہرہفتہ کابینہ کی میٹنگ بلاتا ہے۔مشاورت کرتا ہے۔ درست فیصلے کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ اداروں کے ساتھ توازن رکھنے کی عملی پالیسی اپناتا ہے۔کیاواقعی عمران خان پرتنقید کرنی چاہیے کہ وہ تین ماہ میں کابینہ کے درجنوں اجلاس کیوں بلاچکا ہے۔یہ بھی کامل بات ہے کہ اس کے سارے فیصلے درست نہیں ہیں۔لیکن کون سی حکومت ہے۔ جسکے سو فیصدفیصلے درست ہوں۔ہاں،ایک اور چیز پر بھی توجہ دیجیے۔اس حکومت میں کرپشن کاایک بھی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔
عمران خان،ایک ہیڈ ماسٹر کی طرح سختی کررہا ہے۔ کسی وزیرکی جرات نہیں کہ مالیاتی بے ضابطگی کرے۔آل شریف کوخوف ہی یہ ہے کہ اگرعمران خان پانچ سال حکومت کر گیا تو پھر انکاکیابنے گا۔اگرملک کی اقتصادی صورتحال درست ہوگئی توپھران کے اخباروں کی حدتک ترقیاتی کرشموں پرکون یقین کریگا۔قرائن تویہی ہیں کہ عمران خان کام بھی کرتارہیگااورپانچ سال بھی پورے کریگا۔ باقی غیب کاعلم توصرف خداکے پاس ہے۔

November 10, 2018

Amazing Response On Supreme Court's Asia Bibi Case Decision Mufti Rafi Usmani's



کراچی (اسٹاف ر پو ر ٹر) مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے قوم کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی نظر ثانی کے بغیر آسیہ مسیح کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا تو کچھ نہیں پتہ کہا پاکستان میں کتنابڑا طوفان اُٹھے گا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے وطن کے حالات ایسے ہیں کہ ایک مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ دوسرامسئلہ آجاتا ہے، توہین رسالت کا مسئلہ اس وقت طوفان بن کر اُٹھا ہے اور اس میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی عظمت، انکی محبت، ان سے عقیدت،ان سے مومنین کا عشق، تو ایسی چیز ہے کہ اس کو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، ہم میں سے کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہو گاجو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس،آپ کی ناموس کواپنی جان سے زیادہ عزیز نہ سمجھتا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جو میں نے ابھی پڑھایہ بخاری شریف کی روایت ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مومن نہیں ہو گا، اس کا ایمان کامل نہیں ہو گا یہاں تک کہ میں اس کےنزدیک تمام لوگوں سے زیادہ افضل ہو جاؤں،حتی کہ اپنی اولاد سے، اور اپنے ماں باپ سے، اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز ہو جاؤں۔چنانچہ ہر مومن اپنے لئے اسی اعزاز سمجھتا ہے کہ اسکے ماں باپ،بہن بھائی، بیوی بچے، دوست احباب سب ناموس رسالت پر قربان ہو جائیں، ابھی جو فیصلہ آیا، اس سے لوگوں کے دل دکھے ہوئے ہیں، ہمارا بھی دل دکھاہوا ہے، زخمی ہے،جس سے یہ مسئلہ اُٹھا ہے اس مسئلہ کو حل کرنے کے جو راستے بنتے ہیں وہ پیش بھی کئے گئے ہیں لیکن ان پر ابھی تک عمل نہیں ہو رہا، ہم نے پچھلے جمعہ کو بھی عرض کیا تھا، پھر وہ اخبارات میں بھی آیااور پھر اس پرعمل بھی شروع ہوا، کہ اس مصیبت کا حل یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس نے کچھ دلائل دئیے ہیں ، بے دلیل بات نہیں کی، فیصلے میں شرعی قانون کے حوالوں سے بات کی اور بہت سارے اہم نکات انہوں نے اُٹھائے ہیں جو قابل غور ہیں علماء کیلئے بھی،فقہاء کیلئے بھی، محدثین کیلئے بھی، ماہرین قانون کیلئے بھی،ان پر غور کیا جائے۔

کوئی بھی کسی شخص کے بارے میں کہہ دے کہ اس نے چوری کی ہے تو فوراً اسکے ہاتھ نہیں کاٹ دئیے جاتے بلکہ جو حدود جاری ہوتی ہیں انکی بڑی پابندیاں ہوتی ہیں کیونکہ یہ بھی ہدایت ہے کہ جتنا ہوسکے ملزم کو حد سے بچاؤ۔یعنی ذرا سا شبہ بھی اگر پیدا ہو جائے تو حد نہ لگائی جائے، ہاتھ نہ کاٹے جائیں، آپ ایک مثال سے سمجھیں، فقہاء نے لکھا ہے کہ چوری جس سے ہاتھ کٹتے ہیں، وہ ہر چوری نہیں ہے، کہ جیب میں سے کسی نے کچھ نکال لیا، اس کے ہاتھ نہیں کٹ جائیں گے بلکہ اس کے کچھ قوانین ہیں، خفیہ طور پر محفوظ جگہ سے کسی کا مال کوئی نکالے، جو مالک نے گھر کے اندر یا دوکان وغیرہ کے اندر محفوظ جگہ میں رکھا ہوا ہے، وہاں سے کوئی چوری کر لے، اس کے تو ہاتھ کٹیں گے بشرطیکہ گواہوں سے ثابت ہو جائے، کم از کم دو گواہ یہ گواہی دیں، کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اس شخص کو مال باہر نکالتے ہوئے دیکھا ہے، اس میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو پورے یقین سے گواہیاں دیں، گواہوں کے بیان میں تضاد نہ ہو، اختلاف نہ ہو، متفقہ بیان ہو، تو ہاتھ کاٹ دئیے جائیں گے، لیکن اگر دو آدمی چور ہیں، ایک باہر کھڑا ہے، ایک اندر ہے، اس نے چوری کا مال نکال کردروازے پر رکھا، دوسرے نے دروازے سے اُٹھا لیا، فقہاء کہتے ہیں کہ اس نے وہ چوری نہیں کی جس سے ہاتھ کٹتے ہیں کیونکہ وہ چوری جس سے ہاتھ کٹتے ہیں وہ وہ ہے جس میں چور محفوظ جگہ سے مال باہر نکالے۔

یہاں ایک آدمی نے مال باہر نہیں نکالابلکہ دروازے پر رکھا ہے، اور دوسرے نے اُٹھایا ہے اس نے اندر سے نہیں نکالا،بلکہ باہر سے اُٹھایاہے تو نہ اس کے ہاتھ کٹیں گے نہ اُسکے، مجرم کو شبہ کا فائدہ دے دیا جائے گا، یہ علیحدہ بات ہے کہ جتنا جرم ثابت ہوا ہے اسکے مطابق کچھ اور سزا اسے ملے گی، پاکستان میں جنرل ضیاء الحق صاحب مرحوم کے زمانے میں جب حدود آرڈی نینس نافذ ہو رہا تھا، اس وقت یہ مسائل ہمارے سامنے تھے،جس پر مشورے ہو رہے تھے،اس میں یہ بات بھی پیش نظر تھی کہ اگر ہم نے اس میں احتیاط نہ برتی تو اسلامی قوانین بدنام ہو جائیں گے کہ ذرا سا شبہ ہوا اس پر ہاتھ کاٹ دیا، تو اس طرح تودنیا میں اسلامی قوانین بدنام ہو جائیں گے، اسلام کا قانون تو محکم قانون ہے اس میں کوئی شبہ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قانون دیا ہے وہ بڑا مستحکم ہے،اس کی ایک حد ہے، اس کا ایک احترام ہے، اس میں کوئی غلطی نہیں، بنانے والا اللہ رب العالمین ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غلطی ہو سکتی ہے، گواہی دینے والوں سے غلطی ہو سکتی ہے، جرم کے ثبوت میں شک پیدا ہو سکتی ہے ذرا سا شبہ ہو جائے تو سزا ساقط ہو جائے گی، یہ مشہور قاعدہ ہے، اسلامی قانون ہے کہ شبہے کا فائدہ ملز م کو پہنچتا ہے،

شبہے کی وجہ سے اس کی سزا کم ہو جائے گی یا ختم ہو جائے گی۔ ہماری سپریم کورٹ کے فیصلوں میں یہی نکتہ اُٹھایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ان کو کافر نہیں سمجھتے، وہ بھی مسلمان ہیں ان کے بارے یہ گمان کرنا آسان نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جاگزیں نہیں ہو گی اور انہوں نے تو کہا بھی ہے کہ ہماری تو جانیں قربان ہو جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس پر، لیکن ہم فیصلہ قانون کے مطابق کریں گے، یہ اور بات ہے کہ جج کی رائے میں غلطی ہو جائے، غور وفکر میں غلطی ہو جائے تو اس قسم کی غلطیا ں ہو جایا کرتی ہیں، انہوں نے ملزمہ کو شبہے کا فائدہ دیا اور ایک جگہ نہیں کئی جگہ ثبوت میں شبہے نکالے کہ یہاں ثبوت میں یہ نقص ہے، یہاں یہ شبہ پیدا ہوا ہے، ہم کہتے ہیں وہ باتیں یقیناً قابل غور ہیں جہاں شبہ پیدا ہوا ہے، اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت کا کوئی بھی قانون ہو اسلام ہمیں اسکی اجازت نہیں دیتا کہ اُس پر عمل کرنے یا کروانے کیلئے ہم جذبات میں بہہ جائیں اور ہم پوری تحقیق کے بغیر، کسی کو جان سے مار دیں،

سپریم کورٹ نے فیصلہ جو کیا ہے، یوں ہی آنکھیں بند کر کے نہیں کردیا، بلکہ اس نے جو باتیں لکھی ہیں وہ قابل غور ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ساری صحیح ہیں ان سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی، لیکن ہم ان کو قابل غور سمجھتے ہیں، غور کرنا چاہیے، بغیر غور کئے انتہا پسندانہ فیصلہ بھی شریعت کے خلاف ہے، ہم نے پچھلے جمعہ کے اجتماع میں جو بات کہی تھی، وہ اس کا حل تھا اور وہ یہ کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریکہ سپریم کورٹ کی اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے، نظرثانی کا قانون یہ ہے کہ اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کس حد تک صحیح ہے کس حد تک غلط ہے، کہاں ان سے غلطی ہوئی ہے، کہاں انہوں نے صحیح کہا ہے؟

سپریم کورٹ ہی سے کہا جائے کہ وہ اس پر نظرثانی کرے؟ ہم نے یہ عرض کیا تھا کہ لارجر بنچ قائم کی جائے۔ اگر سپریم کورٹ نظر ثانی کے بعد بھی اس سزا کو برقرار رکھتی ہے تو لازم ہے کہ مجرمہ کو قتل کریں، اس کے اندر سستی کرنا ہمارے لئے حرام ہو گا، لیکن اگرسبھی مل کر اس پر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جرم کے ثبوت میں شبہات ہیں اور جرم پوری طرح ثابت نہیں ہوا تو اس کو رہا کرنا ہو گا، یہ بھی شریعت کا قانون ہے پھر شریعت کے قانون کو سر آنکھوں پر تسلیم کرنا ہو گا، ہم کون ہوتے ہیں اپنی طرف سے فیصلہ کرنے والے، فیصلہ کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔ یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ آسیہ مسیح کو رہا کر دیا جائے گا۔ اگر سپریم کورٹ کی نظر ثانی کے بغیر آسیہ مسیح کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا تو کچھ نہیں پتہ کہا پاکستان میں کتنابڑا طوفان اُٹھے گا۔

November 03, 2018

Sub Continent Muslim Rullers and Basic Needs as Education, Hospitals etc.




لوگ عموما 'دور تاریکی' سے واقف ہیں کہ یہ یورپ کا پسماندہ ترین دور تھا۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ اسی طرح کا ایک دورمسلمانانِ برصغیر پاک ہند پر بھی گذرا ہے۔
یہ دور ہے برصغیر میں وسطی ایشیاء کے مسلمان حکمرانوں کے اقتدار کا دور جو بابر سے شروع ہوا اور بہادر شاہ ظفر پر ختم ہوا۔ کچھ لوگ اس دور کو کھینچ کر محمد بن قاسم تک لے جاتے ہیں اور کچھ صرف 1000 سال تک۔ متفقہ  تاریخ یہ ہے کے یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ عسکری نکتہء نگاہ سے یہ تو درست ہے، لیکن اس دور میں فرد واحد حکمراں رہا اور فرد واحد ہی قانون سازی کرتا رہا۔ کسی مجلس شوری کے آثار تاریخ میں نہیں ملتے، بغور دیکھئے تو حالات کا تانا بانا کچھ اس طرح رہا کہ، برصغیر میں، اس دور میں کوئی علمی ترقی نہ ہوئی، کوئی ایجاد قابل ذکر نہیں ہے، کوئی قابل ذکر درسگاہ، کوئی یونیورسٹی، کوئی شفا خانوں‌کا نظام، سڑکوں کا نظام، فلاحی نظام، گویا علمی ترقی جو مسلمانوں کا مشرق وسطیٰ میں‌طرہء امتیاز رہا، معدوم ہے۔ اس کم علمی و تاریکی کی بڑی وجہ کیا ہے، میں بے بہرہ ہوں۔ اور اس کا الزام کس کے سر ہے؟ بتانا بہت مشکل ہے۔
البتہ سر سید احمد خان نے جس ادارے کی ابتداء کی اور جس نظام کی بنیاد ڈالی، اس سے اوریجنل تعلیم یعنی سیاست، معاشیت، ثقافت، شہریات، علم ھندسہ (انجینئیرنگ) و ریاضی کی تعلیم عام ہوئی اور برصغیر میں تھوڑے وقت میں ہی مسلمانوں نے جس نشاط ثانیہ کی طرف پیش رفت شروع کی، اس کی رفتار دنیا کے کسی بھی مسلم ملک میں گذشتہ 60 سال میں خصوصا اور قیام علیگڑھ کے وقت سے خصوصاَ نہیں ملتی۔
اس لئے جو طبقہ سرسید کی لائی ہوئی تبدیلی کی مخالفت سرسید کی کردار کشی اس زمانے میں کرتا رہا، اور روایتی مدرسہ کو جدید مدرسہ پر ترجیح دیتا رہا، اور جدید تعلیم کی مخالفت کرتا رہا، اس طبقہ کو میں فطری طور پر اس عصرِانحطاط کا ذمہ دار ٹہراتا ہوں۔ اور اسی وجہ سے اس دور کو 'دور مولویت' کہہ کر اس کا مقابلہ یورپ کے دور تاریکی سے کرتا ہوں۔ اس موازنہ کی وجہ علم کی روشنی کی کمی، علمی انحطاط، روایئتوں کا فروغ، توہم پرستی کا فروغ، ایجادات کی کمی اور اس کے نتیجے میں آزادی سے غلامی میں داخلہ ہے۔
اس 'تاریک دور مولویت' کو میں 'یوروپی دور تاریکی' سی بدتر کیوں قرار دیتا ہوں، اسکی وجہ علم کے نام پر تاریکی کو فروغ‌ دینا ہے۔اور اس لئے بھی کہ اس دور میں تعلیم عظیم یعنی قران سے سنگدلانہ اختراعات کا سلسلہء غیر متناہی شروع ہوا۔ کلام الہی سے جنوں‌کی تسخیر، جنوں کی مدد سے عورتوں کو اڑوا کر منگوانا، علم الہی کو پھونک کر علاج کرنا، بے بسوں پر ظلم، اور اسی طرح کی دوسرے توہمات کو علم قران قرار دینا، علم کی نام سے تاریکی کے فروغ کی ادنیٰ مثالیں ہیں اور کچھ لوگوں کے عقیدہ میں اب تک اس قدر راسخ ہیں کہ دل کانپ اٹھتا ہے۔ مولویت اس دور میں عروج پر رہی۔ مولویں‌کی کوشش تھی کہ درپردہ علم و حکومت ان کے اپنے ہاتھ رہے، چاہے بادشاہ کوئی ہو۔ درسگاہیں صرف ان لوگوں کے لئے محدود تھیں جو ان کے "اپنے" خیالات سے متفق تھے۔ مولوی کا اپنا خیال تھا کہ وہ دین و علم کی خدمت کر رہا ہے لیکن وہ تمام مسلمانوں کو پسمانڈگی کی طرف دھکیلتا رہا۔ کوئی ایسی کوشش جو کسی دوسری درسگا کی ہوئی، مولوی اس کی راہ میں رکاوٹ‌بنا رہا، حتی کہ کسی بھی درسگاہ کی کوشش کو حکومتی زور و طاقت سے کچلتا رہا۔ یہی رکاوٹ سر سید احمد خان کو بھی پیش آئی، جب علی گڑھ یونیورسٹ کے قیام کا وقت آیا اور اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ مولویوں نے ایک نظریاتی جنگ کی ابتداء کی اور سرسید کی کردار کشی اپنے پرانے ہتھکنڈوں سے کرنی شروع کردی۔ جس میں کفر کا فتوی، تارک دین ، تارک حدیث، تارک قرآن اور تارک کے سنت کے فتاوی بہ آسانی ملتے ہیں۔

مولویت کو سب سے بڑا خطرہ کسی بھی قسم کی سند سے تھا۔ اب تک وہ خود ہی قوانین بناتے آرہے تھے، جس کے گواہ، بے تحاشا فتاوی ہیں۔ لیکن کسی دوسری قسم کی سند کا مطلب تھا کہ تعلیم یافتہ افراد اپنا حصہ قانون سازی، سیاست، اور معاشرے کے دوسرے حصوں میں مانگیں گے۔ یہی ہوا بھی اور مولویت کی اولیں شکست کے بعد ہی ایک مسلم حکومت کے آثار بر صغیر پاک و ہند میں نظر آنا شروع ہوگئے۔ مولویت کی اس استحصال کو برصغیر کی کسی قوم بشمول مسلمانوں نے معاف نہیں کیا اور نئی بننے والی حکومت میں ان مولویوں کو کوئی حصہ نہیں دیا کہ مولویت معاشرے کے لئے ایک زہر قاتل ہے۔ اور مذہب کے نام پر ایک مذموم عزائم سے بھرپور سیاسی نظام کا نام ہے۔

آسانی کے لئے تاریخ‌ برصغیر میں نمایاں کارنامے:
حرم سراء کے لئے محلوں کی تعمیر۔
مال کی حفاظت کے لئے قلعوں کی تعمیر۔
حکومت کی حفاظت کے لئے چھاونیوں کی تعمیر۔
فرد واحد کی حکومت کے نظریاتی دفاع کے لئے ایک مذہبی ان۔فراسٹرکچر کا قیام جو کہ حکومت کے لئے زیادہ منافع بخش اور عوام کے لئیے سخت تکلیف دہ سزاؤں پر مشتمل۔
ایکسٹرا جیوڈیشیل طریقہ سے مقدمات کی ہینڈلنگ۔
جنگوں سے بھرپور تاریخ۔

اس کے تاریخی حوالہ جات تو ہم سب کو زبانی یاد ہیں۔ کیا وجہ ہے کی ہماری تاریخ درج ذیل سے عاری ہے؟

جن خامیوں کی طرف اشارہ ہے، مسلمان قرون وسطی میں درج ذیل کار ہائے نمایاں انجام دے چکے تھے۔ ان میں سے، بابر سے ظفر تک علم کا ارتقاء اور قابل ذکر انسٹی ٹیوشنز کے قیام میں سرکاری اور حکومتی کوششوں کے بارے میں حوالہ جات سے بتائیے:

مشترکہ ہندوستان میں
چند بڑی یونیورسٹیوں‌کے نام؟
بڑے شفا خانوں کا نظام، ان کا وجود؟
ان دواؤں کی ایجاد و تعداد جو صحت و زندگی کی ضامن ہیں؟
عوامی دولت کے معاشرے میں‌نفوذ کے بڑے ادارے؟
نظام زکوۃ‌ اور غرباء کی فلاح کے ادارے؟
قرآن و سنت کی ترویج کے ادارے اور مدرسے؟
سائینسی، دفاعی اور دیگر ایجادات؟
صنعت و حرفت کی ترقی کے لیے کئے گئے انتظامات؟
نقل حمل کا نظام۔ (شیر شاہ سوری کی جی ٹی روڈ کو ہٹا کر)؟
عوام الناس کو درج بالاء مدوں‌ میں مشغول اور استعمال کرنے کے نظام؟
ملک گیر مالیاتی نظام؟
عوام کی فلاح و بہبود کی تعمیرات کے نظام کے فروغ کے ادارے؟
ملک گیر مکمل عدالتی نظام کی مثال؟
دفاعی آلات حرب اور کمیونیکشن کی ایجادات؟

یہ سب کچھ میرے لیے بھی اتنا تکلیف دہ ہے جتنا شاید آپ کےلئے کہ خود اپنی زریں تاریخ ہم پر عیاں ہے اور اس تاریکی کے نتیجے میں‌ 200 سالہ غلامی کی سزا بھی یاد ہے۔ اس کا سدباب کیسے ہوا، یہ بھی یاد ہے اور علم حاصل کرنے کی راہ میں کون سا فلسفہ رکاوٹ بنا یہ بھی یاد ہے۔
ذہن میں‌رکھئے کی یہ مجموعی تنقید آزردہ دلی اور برائی کے نکتہ نظر سے نہیں بلکہ خود آگہی کے لئے ہے کہ مولویت مسلمان کو کس پسماندگی میں دھکیل دیتی ہے۔ کہ معاشرے کا ہر فرد، ہرحصہ تاریکیوں میں‌ڈوب جاتا ہے۔ اور مزا یہ ہے کہ یہ سب اس مذہب کے نام پر ہوتا ہے جو دنیا میں نور کا گہوارہ ہے۔

تحریر: نامعلوم 

Total Pageviews