November 02, 2018

پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی توہین اور اس کا عمومی جائزہ




پیغمبر علیہ السلام کی توہین اور اس کا عمومی جائزہ
ترتیب/عبداللہ بن زبیر
پوری دنیا میں کوئی قانون اس لئے بنایا جاتا ہے کہ ریاستی نظام کو امن و امان سے چلایا جا سکے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ مجرم یا کوئی دوسرا بھی سزا سے نصیحت پکڑے اور جرم سے دور رہے۔
قانون پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا صرف اور صرف عدالت دے سکتی ہے۔
عوام صرف کسی جرم کی نشاندہی کر سکتی ہے،
جرم روکنے میں حکومت کی مدد کر سکتی ہے لیکن سزا دینے کا اختیار عام عوام کے پاس نہیں ہوتا اور جب ماورائے عدالت سزا عام شہری دینے لگیں تو یہ ایک سیدھا سیدھا جرم ہے اور دوسرا اس وجہ سے معاشرے میں شر پیدا ہوتا ہے اور سارا معاشرہ تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
اگر کہیں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جیسا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے تو اس صورت میں حکومت وقت کو خود بھی اور عام عوام کو بھی قانون پر سختی سے عمل کرنے اور کروانے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ادارے اور حکمران نہ تو خود سو فیصد قانون پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی عوام سے کروا سکتے ہیں۔ جب کوئی مسئلہ بنتا ہے تو اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے عجیب عجیب بیان دے دیتے ہیں کہ فلاں قانون ٹھیک نہیں، فلاں شق تبدیل کی جائے ، یہ کیا جائے ، وہ کیا جائے وغیرہ۔۔
سوچنے کا مقام ہے کہ ہم پر ایسے حکمران بیٹھے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ دنیا کا کوئی ملک، کوئی قانون نبی تو دور کی بات ایک عام انسان کی توہین کی بھی اجازت نہیں دیتا اور تو اور کسی مجرم کو اس کے جرم کی سزا کے علاوہ مزید کوئی تکلیف دینے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔
ذرا سوچئیے ! دنیا کا کوئی بھی انسان اپنے نبی، پیغمبریا لیڈر کی توہین برداشت نہیں کرتا۔ مسلمانوں تو ایک طرف فرض کریں اگر کوئی ہندو یا کوئی دوسرا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو کیا عیسائی یہ برداشت کریں گے؟
اگر کوئی مسلمان ہندؤں کے دیوتا کی توہین کرتا ہے تو کیا ہندو یہ برداشت کریں گے؟
ہر گز نہیں کریں گے اور کرنی بھی نہیں چاہئے
کیونکہ جب ہم اپنی توہین ہونے پر ہتک عزت کا دعوی کر دیتے ہیں تو پھر ان لوگوں جن کو انسانوں کی ایک جماعت عظیم ہستی سمجھتی ہے کی شان میں گستاخی یا توہین کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہئے۔
چاہے وہ ہستی مسلمانوں کی ہو یا پھر کسی بھی مذہب کی ہو۔ کسی کی بھی توہین قابل قبول ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔
یہاں ایک بات یاد رہے کہ نظریات و عقائد سے اختلاف اور چیز ہے اور توہین و گستاخی اور چیز ہے۔
فرض کریں اگر یہ قانون ختم کر دیا جاتا ہے تو پھر ہر کسی کو چھوٹ ہو گی کہ وہ جو چاہے کرے۔ منفی ذہنیت کے مالک لوگوں کو موقع مل جائے گا اور پھر ایسے ایسے بیانات اور گستاخیاں ہونگیں کہ پوری دنیا کا معاشرتی نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔
یہ ہمارے کچھ لوگ اور حکمران آج ہمیں جس دنیا کے قانون کا حوالہ دیتے ہیں شاید ان کو خود معلوم نہیں کہ اُس دنیا میں ایک عام انسان کی توہین پر کیا سے کیا ہو جاتا ہے اور عدالتیں ایسے حرکت میں آتی ہیں کہ صدر تک کو اپنی فکر ہونے لگتی ہے۔ میں کوئی قانون دان تو نہیں لیکن یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی قانون کسی کی مذہبی شخصیات اور مذہبی رسومات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔
دنیا کے ہر ملک میں ایسے قانون کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔
آج کل ایک اور بحث بڑی چل رہی ہے کہ مسئلہ توہین رسالت کے قانون کا نہیں بلکہ اس قانون کے غلط استعمال کا ہے۔
بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کرنا اور کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
دنیا میں کوئی ایسی چیز ، عہدہ اور نہ ہی کوئی قانون ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہ کیا جاسکتا ہو۔
مثلا کوئی جھوٹی گواہی دے کر کسی کو سزا دلوا دیتا ہے اب بے گناہ کو سزا ہو جاتی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ سب جانتے ہوئے بھی کہ گواہی کے نظام کے بغیر کام نہیں چلے گا اور آپ سیدھا سیدھا گواہی کے نظام کو ہی ختم کروانے چل پڑیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس نظام کو بہتر کیا جائے۔
اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو بہتری کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بھی پیدا کریں تاکہ کوئی جھوٹی گواہی دے ہی نہ۔ اب یہ بات تو صاف ہے کہ کسی کی مذہبی شخصیات کی توہین کا قانون اگر ختم کر دیا جائے تو بے شمار مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہاں اگر اس قانون میں کوئی کمی ہے تو اس کو بہتر کیا جائے اور اگر حکمرانوں یا انتظامی اداروں سے ٹھیک طرح قانون پر عمل درآمد نہیں کروایا جا رہا تو وہ خود کو بہتر کریں یا پھر اپنی غلطی تسلیم کریں۔ میں مانتا ہوں کہ توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں کئی شر پسند عناصر فائدہ حاصل کرتے ہیں اور قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ بات پھر وہیں آتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کس نے کروانا ہے؟ انتظامی اداروں کو کس نے بہتر کرنا ہے؟ یہ گورنمنٹ کے اداروں ہی کا کام تو ہے ۔۔
اور جہاں تک سوال ہے گستاخی یا تو ہین کا ۔۔ تو یہ ایک مستقل پلان کے تحت کیا جارہا ہے ، ایک تسلسل کے ساتھ یہ عمل دہرایا جاتا ہے اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کیا جاتا ہے۔۔
یوں تو دنیا میں مقدس شخصیات کی توہین کرنے والے مخالفین ہمیشہ سے موجود رہے ہیں لیکن فی زمانہ آقائے نام دار صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو زیادہ تر نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جس ذات کے پیروکار ایک ارب سے زائد مسلمان ہوں ، اور 56 ممالک میں رہنے والے لوگ جسے اپنا آقا اور مربّی تسلیم کرتے ہوں آخر انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ ان کی ذات پہ کیچڑ اچھا لیں ، حالانکہ مغرب دل آزاری کرنے کو بھی جرم قرار دیتا ہے لیکن کروڑوں مسلمانوں کے دلوں میں نہ جانے کیوں چھید کیا جاتا ہے اور بار بار کیا جاتا ہے ۔۔
اگر ان گستاخیوں اور اہانت کے واقعات کا جائزہ لیا جائے توقرونِ وسطیٰ میں جان آف دمشقی (700 تا 754ء)وہ پہلا نامراد شخص ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرالزامات واتہامات کا طومار باندھا اور بعد ازاں اکثر وبیشتر مستشرقین نے انہی الزامات کو دہرایا۔
جون 1935 میں امریکہ کی سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں نبی اکرمﷺکی ایک خیالی تصویر بنائی گئی جس سے امریکیوں کے نبی محترمﷺکی ذات اقدس کے بارے میں خبث باطن کا اظہار ہوتا ہے۔
اِسی طرح اگست 1925 میں لندن کے ایک اخبار نے نبی اکرمﷺ کا خاکہ بنایا زیادہ دور نہ جائیں اور صرف گذشتہ دو دہائیوں کی ہی بات کریں تو پیغمبر کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور قرآن مجید جیسی مقدس کتاب کی بار بار توہین کی کی گئی ہے ۔
مارچ 1989میں بدنام زمانہ بھارتی مصنف سلمان رشدی نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کتاب لکھی۔ سلمان رشدی کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ۔ سلمان رشدی لندن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جہاں وہ ابھی تک برطانوی سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہے ۔ عالم اسلام کے کئی علمائے کرام نے سلمان رشدی کو قتل کرنے کا فتویٰ جاری کر رکھا ہے جب کہ اُس کے سر کی قیمت تیس لاکھ ڈالر بھی مقرر ہے ۔
1994 میں بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے قرآن پاک اور نبی اکرم ﷺ کے ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز کتاب لکھی ۔
1997ءمیں نبی اکرمﷺ کا خیالی مجسمہ نیویارک کی ایک عدالت میں نصب کیا گیا تھا، جس کو اسلامی ممالک کے سفیروں کے احتجاج کے بعد ہٹا دیا گیا۔ 1998ءمیں ایک پاکستانی غلام اکبر کو نبی اکرمﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر سزائے موت سنائی گئی ۔
1999 میں ایک جرمن میگزین ’ ڈر سپائیجل‘ میں نبی اکرم ﷺ کا خاکہ پیش کیا گیا۔
جنوری 2000ء میں انٹرنیٹ پر ایک حیاباختہ لڑکی کے سامنے مسلمان نمازیوں کو اس حالت میں سجدہ میں گرا ہوا دکھایا گیا کہ وہ اس کی عبادت کررہے ہیں۔
ستمبر 2000ء میں انٹرنیٹ پر قرآن کی دو جعلی سورتیں 'دی چیلنج'کے عنوان سے شائع ہوئیں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ وہ مظلوم سورتیں ہیں جنہیں مسلمانوں نے اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے قرآن سے نکال باہر کیا ہے ۔
نومبر 2001ء میں امریکی فاکس ٹی وی کے پروگرام ساؤتھ پارک کی ایک قسط میں نبی اکرمﷺ کا خاکہ پیش کیا گیا ، تاہم مسلمانوں کے احتجاج کے بعد اِس کی باقی ماندہ اقساط سے اِس کو ہٹا دیا گیا۔
اکتوبر 2001ء میں ہی 'دی رئیل فیس آف اسلام' نامی ویب سائٹ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب چھ تصاویر کے ساتھ ہتک آمیز مضامین شائع کئے گئے ، جس میں اسلامی تعلیمات کو مسخ کرکے یہ تاثر اُبھارا گیا کہ مسلمان اپنے سوا تمام دیگر انسانوں بالخصوص یہود ونصاری کوواجب القتل سمجھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تصاویر منسوب کرکے یہ دعویٰ کیا گیا کہ آپ دنیا میں قتل وغارت اور دہشت گردی کا سبب ہیں۔نعوذباللہ
نومبر 2004ء میں ہالینڈ کے شہر ہیگ میں Submission نامی فلم میں اسلامی احکامات کا مذاق اُڑایا گیا اور برہنہ فاحشہ عورتوں کی پشت پر قرآنی آیات تحریرکی گئیں۔ قرآنی احکام کو ظالمانہ قرار دینے کی منظر کشی کرتے ہوئے مغرب میں بسنے والے انسانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ اس دین سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کے نتیجے میں وہاں مسلم کش فسادات شروع ہوگئے ۔ آخر کار ایک مراکشی نوجوان محمد بوہیری نے اس گستاخِ قرآن 'وان گوغ' کو اس کے انجام تک پہنچایا۔
یادر ہے کہ اس فلم کا سکرپٹ نائیجریا کی سیاہ فام مرتد عورت عایان ہرشی علی نے لکھا تھا، جب یہ عورت ہالینڈ میں سکونت پذیر ہوئی تو مسلمانوں نے اس کی سرگرمیوں پر احتجاج کیا، آخر کار ڈچ حکومت نے ا س عورت کے تحفظ کے لئے اسے سرکاری پروٹوکول فراہم کردیا۔
جنوری 2005ء میں فُرقان الحق نامی کتاب شائع کرکے اس کو مسلمانوں کا نیا قرآن باور کرانے کی مذموم مساعی شروع کی گئیں ۔ 364 صفحات پر مشتمل ا س کتاب میں 88آیات میں خود ساختہ نظریات داخل کئے گئے جس کی قیمت 20 ڈالر رکھی گئی۔
مارچ 2005ء میں امینہ ودود نامی عورت نے اسریٰ نعمانی کی معیت میں امامتِ زن کے فتنے کا آغاز کیا اور مغربی پریس نے اس کو خوب اُچھالا۔
مئی 2005ء میں نیوز ویک نے امریکی فوجیوں کی گوانتا ناموبے میں توہینِ قرآن کے 50 سے زائد واقعات کی رپورٹ شائع کی جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا۔
ستمبر 2005ء میں جیلانڈ پوسٹن نامی ڈینش اخبار میں توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارتکاب کیا گیا۔ جس کے بعد وہاں کے کئی جرائد نے اُنہیں دوبارہ شائع کیا ۔ بعد ازاں فروری 2006ء میں کئی مغربی اخبارات نے ان توہین آمیز کارٹونوں کو اپنے صفحہ اوّل پر شائع کیا۔
فروری 2006 ہی کی بات ہے جب جرمنی کے ایک خبطی شخص مینفرڈ وین نے ٹوائلٹ پیپرز پر ” قرآن پاک “ پرنٹ کرکے اُن کو مساجد اور میڈیا کو بھیجا مسلمانوں کے احتجاج پہ اُس شخص کو گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اسے ایک سال کی سزا سنائی۔
جولائی2007 ءمیں سویڈن کے ایک شخص لارز ویلکس نے نبی اکرمﷺ کی توہین آمیز پینٹنگ بنائی۔ مسلمانوں کے احتجاج کے باعث اُس کو گھر چھوڑنا پڑا ۔
ستمبر 2007ءمیں بنگلہ دیش کے ایک اخبار میں نبی اکرم ﷺ کے خاکے شائع ہو ئے جس پرکارٹونسٹ کو گرفتار کر لیا گیا ۔
دسمبر 2007ءمیں عراق کے ایک کرد مصنف نے اپنی کتاب میں نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ اُس نے نبی اکرمﷺ اور حضرت علی ؓ کی توہین آمیز پینٹنگ بناکر ہالینڈ کے ایک میوزیم میں اِس پینٹنگ کو نمائش کے لئے پیش کیا۔یہ شخص مسلمانوں کے احتجاج کے بعد ناروے فرار ہو گیا اور سیاسی پناہ حاصل کر لی ۔ عراقی عدالت نے اُسے قید کی سزا سنائی ، تاہم ناروے میں روپوش ہونے کی وجہ سے یہ شخص ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا ۔
فروری 2008ءمیں معروف ویب سائٹ وکی پیڈیا پر نبی اکرمﷺ کے خاکے شائع کئے گئے جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ ویب سائٹ انتظامیہ نے اِن خاکوں کو ہٹانے سے انکار کر دیا اور یہ ابھی تک وکی پیڈیا پر موجود ہیں۔
2008ءمیں ہی ہالینڈ کے فلم ساز گریٹ ویلڈرز کی بنائی گئی متنازعہ اور توہین آمیز فلم” فتنہ“ سامنے آئی ۔ اِس فلم میں اسلامی قوانین اور نبی اکرمﷺ کی تضحیک کی گئی تھی ۔
مئی 2008 میں ہالینڈ کے ایک کارٹونسٹ نے نبی اکرمﷺ کے خاکے بنا کر اپنی ویب سائٹ پر لگا دئیے ۔ اِس کارٹونسٹ کو پولیس نے ڈھونڈھ کر گرفتار کر لیا اور عدالت کے حکم پر اُس نے توہین آمیز خاکے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دئیے۔
2010 میں نیو یارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں نبی اکرمﷺکے خاکوں پر مشتمل پینٹنگز رکھی گئیں، تاہم مسلمانوں کے احتجاج اور شدید ردعمل کے خوف سے اُن کو نمائش کے بغیر ہی ہٹا دیا گیا۔
20مئی 2010ءکو شرپسند عناصر کی جانب سے فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر ویب سائٹس پر اشتہار دئیے گئے جن میں ہر ایک کو نبی اکرمﷺ کے خاکے بنانے کی دعوت دی گئی ۔ اِس اقدام کے خلاف مسلم دنیا میں شدید اشتعال پیدا ہوا اور کئی ممالک کی جانب سے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کو بند کر دیا گیا ۔
نومبر 2010 میں فرانس کے ایک ہفت روزہ میگزین چارلی ہیبڈو نے نبی اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکوں پر مشتمل خصوصی ایڈیشن شائع کرنے کا اعلان کیا ۔ میگزین نے ٹائٹل کو انٹرنیٹ پر شیئر بھی کر دیا ۔ اِس اشتعال انگیز اقدام کے بعد مسلم ہیکرز نے اِس میگزین کی ویب سائٹ ہیک کر لی اور اُس کے دفتر پر بھی فائر بم کے ذریعے حملہ کیا گیا۔
ستمبر2012 ءمیں ہالی وڈ میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز فلم ریلیز کی گئی۔ اِس فلم کو جون کے آخر میں ایک چھوٹے سینما گھر میں دکھایا گیا۔ایک فرضی نام سیم رسائل نے اِس کی ڈائریکشن دی جس کو بعد میں نکولا بیسلی نیکولا کے نام سے شناخت کر لیا گیا ۔ یہ شخص اسرائیلی نثراد یہودی تھا۔ اُس نے نبی محترمﷺ کی شان میں گستاخی پر مشتمل فلم بنانے کے لئے 50ملین ڈالر چندہ جمع کیا ۔ امیر یہودیوں نے اِس مذموم حرکت کے لئے دل کھول کر عطیات دئیے۔ اُس کا ساتھی مورس صادق نامی ایک مصری نژاد امریکی شہری تھا جو کہ قبطی عیسائی ہے ۔ اُن دونوں کو امریکہ کے بدنام زمانہ پادری ٹیری جونز کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی بے حرمتی کا سلسلہ نائن الیون کے بعد کچھ زیادہ ہی تیز ہو گیا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں قرآن پاک کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ۔ بعض مغربی شرپسند سکالروں نے یہ شوشہ چھوڑا کہ مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد کی بیداری اور اسلام سے محبت کو کم کرنے کے لئے قرآن مجید کی توہین کی جائے اور اُس کی تعلیمات کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے ۔ اِسی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے امریکی فوجیوں اور بنیاد پرست عیسائی اور یہودی حلقوں کی جانب سے قرآن پاک کی توہین کی گئی ۔
قرآن پاک کی بے حرمتی کا ایک بڑا سکینڈل امریکہ کے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتاناموبے میں سامنے آیا ۔ مسلمان قیدیوں نے انکشاف کیا کہ قرآن پاک کے اوراق کو ٹوائلٹ پیپر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ امریکی فوجی جان بوجھ کر قرآن پاک کو ٹھوکریں مارتے ہیں ۔ اِس مذموم حرکت کا مقصد مسلمان قیدیوں کے اندر اشتعال پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اِس حوالے سے متعدد تصاویر بھی سامنے آئیں ۔ امریکہ کے معروف رسالے ”نیوزویک “نے اپنی ایک رپورٹ میں گوانتاناموبے میں قرآن پاک اور مسلمان قیدیوں کے ساتھ توہین آمیز رویے کی تصدیق کی ۔
امریکہ میں قرآن پاک کی توہین اور بے حرمتی کا سب سے بڑا واقعہ ملعون پادری ٹیری جونز کی جانب سے قرآن پاک کو جلانے کا اعلان تھا ۔ اُس نے 2010ءکو نائن الیون کی برسی کے موقعے پر فلوریڈا کے ایک چرچ میں قرآن پاک نذر آتش کرنے کا اعلان کیا ۔ ٹیری جونز اِس سال عالم اسلام کے شدید ردعمل اور امریکی حکومت کے دباﺅ کے باعث اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکا تاہم اُس نے اپنا منصوبہ ترک نہ کیا اور اگلے سال 20 مارچ 2011ءکو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اُس نے قرآن پاک کو نذرآتش کیا
درج بالا واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اہل مغرب کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت و دشمنی ہے، جس کا اظہار وہ مختلف قسم کی نازیبا حرکات کرکے کرتے رہتے ہیں۔یہ لوگ روزِ اوّل سے مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اِن کی ناپاک کوشش ہے کہ مسلمانوں کی محبوب ترین شخصیت کو متنازعہ بنادیا جائے تاکہ اس عظمت اور توقیر و تعظیم کو زد پہنچائی جاسکے جو آپ صلی اللہ علی وسلم کے پیروکاروں کے دلوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے لئے وقتاً فوقتاً وہ تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہذیان بکتے رہتے ہیں۔
اِن حالات میں نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔ مسلم حکمرانوں کا فرض ہے کہ عالمی سطح پر انبیائے کرام اور مقدس کتابوں کی توہین کے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون بنوانے کے لئے متحرک ہو جائیں۔ ایسی حرکتیں کرنے والے شرپسند عناصر عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، اِس لئے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اِس صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے اِن کے خلاف کارروائی کریں ۔ دوسری جانب مسلمانوں کو چاہیے کہ پرُجوش مظاہروں اور محبت رسول ﷺ کے نعروں کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا عملی مظاہرہ بھی کریں اور علماء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے پہ مسلمانوں کو صحیح طریقہ سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی تربیت دیں تاکہ لوگوں کا جان ومال محفوظ رہ سکے ۔
کفار کی سازشوں کا بہترین جواب یہ ہے کہ مسلمان سنتوں کے فروغ اور نبی اکرمﷺ کی سچی تعلیمات کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔ اگر مسلمانوں کے جذبہ ایمانی ، نبی محترم ﷺ اور قرآن پاک سے اُن کی محبت کا عملی اظہار شروع ہو گیا تو یقینا بہت جلد اسلام کو عروج ملے گا اور دُنیا اِس سچے اور آفاقی دین کی برکات سے یقینا مستفید ہو گی۔
( اس مضمون کے لکھنے کے لئے مختلف اخبارات ویب سائٹس اور سلائیڈز سے مدد لی گئی اور نامعلوم لکھاریوں کے شکریہ کے ساتھ اسے شائع کیا جارہا ہے )
تحریر: عبداللہ ابن زبیر

October 19, 2018

CLEAN AND GREEN PAKISTAN



کلین اینڈ گرین پاکستان

لندن کی آبادی 1750ءسے 1810ءکے درمیان 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ شہرمیں ان دنوں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں کا دباﺅ برداشت نہیں کر پا رہی تھیں‘ لندن میں سیوریج سسٹم نہیں تھا‘ ہر گھر کے سامنے سپٹک ٹینک ہوتا تھا‘ڈیٹا کے مطابق شہر میں دو لاکھ گٹڑ تھے اور یہ گٹڑ صبح شام ابلتے رہتے تھے‘ گندا پانی لندن کی گلیوں میں بہتا تھا‘
بارش اس غلیظ پانی کو بہا کر دریائے تھیمز میں لے جاتی تھی‘ میٹرو پولیٹن بعدازاں دریا کا پانی پمپ کر کے گھروں کو سپلائی کر دیتی تھی اور یوں شہری اپنا سیوریج پیتے تھے‘ شہر کے غرباءعموماً تہہ خانوں میں رہتے تھے‘ گھروں کے یہ حصے اکثر اوقات سیوریج کے پانی سے بھرے رہتے تھے یا پھر وہاں گندے پانی کی سیلن ہوتی تھی‘ یہ گندگی بیماری میں تبدیل ہوئی اور1831ءمیں لندن میں ہیضے کی خوفناک وباءپھوٹ پڑی‘ 55 ہزار لوگ مارے گئے‘ یہ وبائ‘ گندگی اور بدبو سفر کرتے کرتے ہاﺅس آف کامنز کے اندر تک پہنچ گئی‘ 1858ءمیں سیلن کے اثرات برطانوی پارلیمنٹ کے فرش‘ دیواروں اور ستونوں میں بھی دکھائی دینے لگے‘ ہاﺅس آف کامنز کے پردے تک بدبودار پانی میں بھیگ گئے اور ارکان پارلیمنٹ ناک پر رومال رکھ کر اسمبلی آنے پر مجبور ہو گئے‘ یہ صورت حال ناقابل برداشت تھی چنانچہ گورنمنٹ نے اس کے تدارک کا فیصلہ کیا‘ حکومت کو مختلف ماہرین نے مختلف تجاویز دیں لیکن یہ تمام علاج عارضی تھے‘ حکومت اس کا کوئی مستقل حل نکالنا چاہتی تھی‘حکومت نے یہ ذمہ داری جوزف بازل گیٹ  کو دے دی‘ وہ اس وقت میٹرو پولیٹن کا چیف انجینئر تھا‘ وہ ذہین‘ معاملہ فہم اور لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا ماہر تھا‘ جوزف نے پورے لندن کا سروے کرایا‘تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیااور ہر شخص سے پوچھا وہ کتنی بار واش روم استعمال کرتا ہے‘ استعمال اور تعداد کو بعد ازاں آپس میں ضرب دی‘ اسے تین سے ضرب دی اور پھر اس ڈیٹا کو پائپوں سے ضرب دے کر لندن میں سیوریج کا سسٹم بچھانا شروع کر دیا‘ جوزف نے پورے شہر کو سیوریج سے جوڑا‘
شہر سے دس کلو میٹر دور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا‘ سیوریج لائین کو اس پلانٹ سے منسلک کیا‘ سیوریج کا پانی صاف کیا اور پھروہ صاف پانی دریا میں ڈال دیا‘ لندن کا سیوریج ایشو ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو گیا‘ جوزف کا سسٹم کس قدر مکمل اور شاندار تھا حکومت کو اس کا اندازہ 1960ءکی دہائی میں ہوا‘ لندن میں1960ءمیں پراپرٹی کا بوم آیا‘ اپارٹمنٹس ٹاورز اور ہائی رائز بلڈنگز بنیں اور سیاحوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہو گیا‘ حکومت کا خیال تھا شہر کا سیوریج سسٹم چوک ہو جائے گا اور میٹرو پولیٹن اس کی توسیع پر مجبور ہو جائے گی لیکن میئریہ جان کر حیران رہ گیا جوزف بازل گیٹ کا سسٹم یہ دباﺅ آسانی سے برداشت کر گیا‘
شہر میں کسی جگہ سیوریج چوک ہوا اور نہ ہی بہاﺅ میں رکاوٹ آئی‘ جوزف بازل گیٹ کا یہ سسٹم بعد ازاں پورے برطانیہ اور پھر یورپ کے تمام ملکوں کے تمام بڑے شہروں میں بچھایا گیا‘ فرانس‘ جرمنی اور سپین نے اس سسٹم میں ایک اضافہ کر دیا‘ یہ ملک سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کر کے گھروں میں واپس بھجواتے تھے‘ یہ پانی کموڈز میں دوبارہ استعمال ہوتا ہے‘ یورپ کے نوے فیصد گھروں میں پانی کی دو لائین بچھائی جاتی ہیں‘ پہلی لائین صاف پانی سپلائی کرتی ہے‘
لوگ یہ پانی پیتے اور اس سے کھانا پکاتے ہیں جبکہ دوسری لائین میں ٹریٹمنٹ شدہ پانی ہوتا ہے‘ یہ پانی باتھ رومز‘ ٹوائلٹس‘ لانڈری‘ لانز اور گیراج میں استعمال ہوتا ہے‘ یورپ میں حکومتیں ہر گھر سے پانی کا بل بھی وصول کرتی ہیں‘ یہ بل پانی میں کفایت شعاری کی عادت بھی ڈالتا ہے اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔آپ مجھ سے اگر پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پوچھیں تو میں گندگی کو کرپشن‘ ناانصافی اور عدم مساوات سے بھی بڑا مسئلہ کہوں گا‘ ہم من حیث القوم گندے لوگ ہیں‘
معاشرہ کچن سے شروع ہوتا ہے اور واش روم میں ختم ہوتا ہے اور ہماری یہ دونوں جگہیں انتہائی گندی ہوتی ہیں‘ آپ خواہ کروڑ پتی لوگوں کے گھروں میں بھی چلے جائیں‘ آپ خواہ کسی شہر کی کسی گلی میں نکل جائیں‘ آپ کو وہاں گندگی کے ڈھیر ملیں گے‘ ہماری مسجدوں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں بھی گندگی ہوتی ہے‘ آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے واش رومز دیکھ لیجئے‘ آپ کو وہاں بھی صابن نہیں ملے گا‘ حکومت کے سارے واش رومز گندے ہوتے ہیں‘ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی میں بھی کچرہ ٹھکانے لگانے کا کوئی ٹھوس بندوبست نہیں‘ اسلام آباد کا آدھا سیوریج نالوں اور ڈیم میں جاتا ہے‘
لاہور کا گند راوی اور کراچی کا کچرہ سیدھا سمندر میں گرتا ہے‘ آپ ملک کے کسی سیاحتی مقام پر چلے جائیں‘ آپ کو وہاں گند کے ڈھیر ملیں گے‘ ہم 21 ویں صدی میں بھی لوگوں کو واش روم استعمال کرنے کا طریقہ نہیں سکھا سکے‘ ہم لوگوں کو یہ نہیں بتا سکے صابن سے ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے‘ ہم انہیں یہ نہیں سمجھا سکے آپ جو گند سڑکوں پر پھینک رہے ہیں وہ اڑ کر دوبارہ آپ کے گھر آئے گا‘وہ آپ کی سانس کی نالیوں کے ذریعے آپ کے جسم میں جائے گا‘ ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے گٹڑ کا پانی زمین میں موجود پانی میں شامل ہو جاتا ہے‘ یہ غلیظ پانی صاف پانی میں شامل ہوتا ہے‘
ہم اور ہمارے خاندان یہ پانی پیتے ہیں اور یوں ہم مہلک امراض کا نشانہ بن جاتے ہیں اور ہم لوگوں کو آج تک یہ بھی نہیں بتا سکے ہمارا ملک اگر ہائیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے ‘ ٹی بی میں پانچویں‘ شوگر میںساتویںاور گردے کے امراض میں آٹھویں نمبر پر ہے یا ہمارے ملک میں ہر سال تین لاکھ لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو اس کی اصل وجہ گند ہے‘ ہم لوگ گندے ہاتھوں سے گندے برتنوں میں کھاتے اور گندا پانی پیتے ہیں چنانچہ ہم صحت مند کیسے ہو سکتے ہیں؟۔
میں نئی حکومتوں کی حماقتوں کا ناقد ہوں لیکن حماقتوں کے اس انبار میں یہ لوگ کلین اور گرین پاکستان کے نام سے ایک اچھا کام بھی کر رہے ہیں‘ یہ کام ستر سال پہلے شروع ہونا چاہیے تھا تاہم دیر آید‘ درست آید‘ یہ کام اگر آج بھی شروع ہو جائے تو یہ بیمارستان صحت مندستان میں تبدیل ہو جائے گا لیکن آپ کو اس کےلئے جوزف بازل گیٹ کی طرح لمبی پلاننگ کرنا ہوگی‘ گندگی کینسر کی طرح ہوتی ہے‘ آپ زخم پر پٹی باندھ کراس کا علاج نہیں کر سکتے لہٰذا وزیراعظم یا وزراءاعلیٰ صاف سڑک پر صاف جھاڑو پھیر کر پوری قوم کو صاف ستھرا نہیں بنا سکیں گے‘ گند ہماری فطرت‘ ہماری عادت ہے‘
آپ کو یہ عادت بدلنے کےلئے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا‘ آپ کو پرسنل ہائی جین سے لے کر ماحولیات تک صفائی کا سلیبس بھی بنانا ہوگا اور یہ سلیبس پہلی سے دسویں جماعت تک سکولوں میں بھی متعارف کرانا ہوگا‘ آپ کو پورے پاکستان میں پبلک ٹوائلٹس بھی بنوانے ہوں گے اور عوام کو ان کے استعمال کا طریقہ بھی سکھانا ہوگا‘ ہم آج بھی پینے کا صاف اور میٹھا پانی فلش میں بہاتے ہیں‘ ہمیں یہ ٹرینڈ بھی فوراً بدلنا ہوگا‘ حکومت فوری طور پر نئی تعمیرات کےلئے نئے بائی لاز بھی بنائے‘
فلش اور صاف پانی کی لائین بھی الگ الگ کرے اور یہ ہر گھر میں چھوٹے سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بھی لازمی قرار دے‘ یہ پلانٹ استعمال شدہ پانی صاف کر کے دوبارہ فلش کے ٹینکوں میں ڈالے اور پھر صاف کرے اور پھر مین سیوریج لائین میں ڈالے‘ ہم اگریہ بندوبست پورے ملک میں نہیں کر سکتے تو نہ سہی لیکن ہم یہ قانون ملک کے دس بڑے شہروں میں تو بنا سکتے ہیں‘ ہم ان شہروں کی حالت تو بدل سکتے ہیں‘ حکومت اسی طرح کچرہ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی ٹھیک کرے‘
ہر شہر میں صفائی کے ڈائریکٹوریٹ بنائے جائیں‘ لوگ بھرتی کئے جائیں‘ گھروں سے فیس لی جائے اور پھر اگر کسی شہر کی کسی گلی میں کچرہ نظر آئے تو آپ ذمہ داروں کو الٹا لٹکا دیں‘ دنیا میں کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹس بھی آ چکے ہیں‘ حکومت ہر شہر میں یہ پلانٹس بھی لگوا سکتی ہے یوں بجلی کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا اور کچرہ بھی ٹھکانے لگ جائے گا اور حکومت ہر کچے اورپکے مکان کےلئے باتھ روم کا سائز اور ڈیزائن بھی فائنل کر دے‘ پلمبرز کو اس ڈیزائن کی ٹریننگ دی جائے اور انہیں پابند بنایا جائے‘
جو پلمبر خلاف ورزی کرے گا اسے سات سال قید بامشقت دے دی جائے گی‘ ریستورانوں اور دکانوں میں بھی باتھ روم لازمی ہوں اور ان کا باقاعدہ سٹینڈرڈ ہو‘ موٹروے پولیس کی طرح سینیٹری پولیس بھی بنائی جائے اور یہ پولیس گند پھیلانے والوں کو بھاری جرمانہ کرے‘ یہ گھروں اور پبلک باتھ رومز کا معائنہ بھی کرے اور اسی طرح ملک میں زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نظر نہیں آنا چاہیے‘ زمین کی ایک ایک انچ پر پودا ہونا چاہیے‘ وہ خواہ پھول ہو‘ گھاس ہو یا پھر درخت ہو‘ پاکستان کے ہر طالب علم‘ ہر ملازم اور ہر کمپنی کےلئے درخت لگانا لازمی قرار دے دیا جائے‘
لوگ ہر سال ٹیکس ریٹرن کی طرح گرین ریٹرن بھی فائل کریں اور حکومت اس کا بھی آڈٹ کرے اور آخری تجویز ‘برادر اسلامی ملک ازبکستان نے دس سال میں ملک کو صاف کر کے کمال کر دیا‘ آپ دس بڑے شہروں کی کارپوریشنز کے دو دو لوگ ازبکستان بھجوائیں‘ یہ لوگ ان سے صفائی کا طریقہ سیکھیں اورکام شروع کرا دیں‘ ہمارا ملک دو تین برسوں میں کلین بھی ہو جائے گا اور گرین بھی ورنہ پھر اسی طرح ہمارے وزیراعظم ہر سال جھاڑو دیتے رہیں گے‘ سڑکوں پر گند میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ہم اسی طرح بیمار ہوتے چلے جائیں گے۔

October 06, 2018

Drugs نشہ آور اشیاء کا استعمال اور اس کے نقصانات





اللہ کی شان ایک معجزہ  : نشہ سے نجات صرف تین دنوں میں ●▬▬▬▬▬▬ஜ۩۞۩ஜ▬▬▬▬▬▬▬●
یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کا اپنا پیدا کردہ ہے اس میں کچھ دخل ہمارے معاشرے کی ناہمواریوں کا بھی ہے۔ نشہ بیچنے والے وہ زہریلے ناگ ہیں جو قوم کے بچوں کا خون پی رہے ہیں کوئی متعدی مرض اتنی تیزی سے نہیں پھیلتا جس تیز رفتاری سے نشہ ہمارے ملک میں پھیل رہا ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو بجھانے سے نہ بجھے۔
نشہ سے انسان کی کارکردگی اور صحت دونوں متاثر ہوتے ہیں رنگ پیلا یا نیلا، آنکھیں خمار آلودہ اور اندر دھنسی ہوئیں، پاؤں میں لڑکھڑاہٹ، بھوک کی کمی، جگر کی خرابی اور اعصابی و دماغی امراض لاحق ہو جاتے ہیں اگر کوئی ہارٹ اٹیک، بلڈ پریشر، دق وسل، ذیا بیطس وغیرہ کا مریض ہو گا تو اس
کی خواہش ہو گی کہ میں اچھے سے اچھا علاج کراؤں تاکہ مجھے شفاء حاصل ہو ان بیماریوں میں مبتلا افراد کو صحت کی فکر ہوتی ہے اور یہ علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن نشہ کرنے والا کبھی نہیں چاہے گا کہ میں نشہ چھوڑ دوں یا اس کا مناسب علاج کراؤں بلکہ یہ لوگ اپنی اس مرض کو دوسروں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور والدین اور دیگر عزیز و اقارب کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب ان کا بچہ نشہ کے میدان میں اتنا آگے نکل چکا ہوتا ہے کہ جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے۔
منشیات کے عادی افراد شروع میں نشہ کی حالت میں بےحال ہو جاتے ہیں لیکن بعد میں جب انھیں نشہ نہ ملے تو ان کی حالت غیر ہونے لگتی ہے۔ سر میں درد اور جسم میں شدید دردوں کا احساس ہوتا ہے جسم کپکپاتا ہے۔ زبان بھاری محسوس ہوتی ہے نیند نہیں آتی اور اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔ نشہ کی حالت میں یہ لوگ بےتاج بادشاہ بنے ہوتے ہیں خیالی پلاؤ پکاتے ہیں خود کو سب سے اعلٰی سمجھتے ہیں ان کا دماغ اتنا چکرایا ہوتا ہے کہ چھوٹی سی نالی بھی نہر نظر آتی ہے اور نالی کو نہر سمجھ کر پار کرتے ہیں اسی میں گر جاتے ہیں منہ ڈھیلا کرکے بولتے ہیں آواز بدل جاتی ہے اور چال لڑکھڑانے لگتی ہے جب گر جاتے ہیں تو کتے ان کا منہ صاف کرتے ہیں۔
ایسے ہی ایک نشئی گندی نالی میں گرا پڑا تھا کتا اس کا منہ چاٹنے لگا لیکن وہ کہہ رہا تھا۔ “تم بھی سائیں میں بھی سائیں“، “یاری نبھائیں، جب کتے نے اس پر پیشاب کیا تو کہنے لگا رحمت دا مہینہ پائیں مینوں چھڈ کے نہ جائیں۔“ یعنی رحمت کا مہینہ پانا مجھے چھوڑ کر نہ جانا۔ اس قسم کی کئی مثالیں آپ نے بھی دیکھی اور سنی ہوں گی اور اندازہ ہوگا کہ نشہ کرنے سے انسان، انسان نہیں رہتا پاگلوں جیسی حرکات کرتا ہے۔ معاشرہ اس کا مذاق اڑاتا ہے جب نشہ اتنی بری حالت کر دیتا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے ایسے لوگ جانتے ہوئے بھی ہماری حالت ابتر ہو جاتی ہے نشہ کیوں کرتے ہیں اس سوال کا جواب ذرا طویل ہے۔
اسلام میں نشے کی مذمت
اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ “اے ایمان والو! بیشک شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندے کام ہیں شیطان کے سوان سے بشتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدہ 90)
جب بھی قرآن و حدیث کے حوالے سے نشے کی بات آتی ہے تو نشے سے مراد شراب لی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن مندرجہ بالاحکم صرف شراب سے متعلق نہیں اس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو نشہ طاری کرتی ہے ذیل کی حدیث نشے کی وسعت واضح کرتی ہے۔
چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہے ہر وہ چیز خمر کے زمرے میں آتی ہے جو نشہ آور ہو اور وہ حرام ہے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو۔ (جامع صغیر)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک جمعہ کے خطبے میں خمر کے معنی کسی چیز کو ڈھانپ دینا یا پردہ ڈال دینا، اور خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈالتی ہے۔ یہی تو نشہ ہوتا ہے کہ عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور نیک و بد کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ان دو آیات (سورۃ المائدہ 91/90) میں شراب اور جوئے سے متعلق حتمی حکم آیا ہے کہ یہ حرام ہیں اور شیطانی کام ہیں ان دو آیات کے علاوہ اور بھی احکام آئے ہیں یہاں تک تو بات ہوئی شراب کی، جب بات ہوتی ہے نشے کی تو اس میں بھنگ، چرس، افیون، ہیروئن اور ہر وہ چیز جو نشے کی خاطر کھائی یا پی لی جاتی ہے۔
نشہ کی اس سے بھی زیادہ اصطلاح ہے نشہ دولت کا بھی ہوتا ہے۔ اونچے رتبے اور جاگیرداری کا بھی نشہ ہے اور بعض نادان کسی خوبرو عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات بنا کر اپنے آپ پر اسے نشے کی طرح طاری کر لیتے ہیں ان میں سے کوئی بھی نشہ ہو جائے وہ عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے، دولت رتبے اور جاگیرداری کا نشہ انسان میں شیطانی عادات پیدا کر دیتا ہے اور عورت کا نشہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرواتا ہے۔
اب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ایک پیش گوئی ملاحظہ فرمائیں۔
میرے بعد میری امت شراب نوشی کرے گی ان کے اپنے امراء (حکام اور لیڈر) شراب نوشی میں ان کے معاون اور مددگار ہوں گے۔ (ابن عساکر)
آہ! آج ہم اسی دور سے گزر رہے ہیں حدیث میں بھی لفظ خمر فرمایا گیا ہے جس میں شراب ہی نہیں بلکہ تمام منشی اشیاء شامل ہیں۔
اب یہ جاننا انتہائی ضرروی ہے کہ آخر وہ کون سی چیز ہے کون سی محرومی یا کون سا فائدہ ہے جو انسان سے حیوان اور معاشرے سے علیحدہ کر دیتا ہے۔
لوگ نشے کے عادی کیوں بنتے ہیں ؟
اس کی چند ایک وجویات درج ذیل ہیں۔
کاروباری پریشانیاں
جن لوگوں کے کاروبار میں نقصان ہو جائے تو ان حالات میں راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے اور ایسے لوگ سکون آور ادویہ کا استعمال شروع کر دیتے ہیں یا کسی عزیز کا انتقال یا محبت میں ناکامی پر غم کو دور کرنے کیلئے بعض افراد سکون آور ادویہ کا استعمال کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ عادی ہو جاتے ہیں۔
صدمہ کا نفسیاتی علاج جو اسلام نے بتایا ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو دل کو سکون اور تسلی آ جاتی ہے سرکاردوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ رنج یا دکھ پہنچے تو کہو اناللہ وانا الیہ راجعون، ان الفاظ میں اس زخم کا مرہم ہے جو صدمہ سے لگا ہو نیز اور بھی ایسی دعائیں کتابوں میں مذکور ہیں۔ کئی ناکام سیاستدان بھی نشے کے میدان میں اتر آتے ہیں۔
بری سو سائٹی
نشہ کے پھیلانے میں برے دوست سب سے بڑا سبب ہیں، جو شخص تمباکونوشی کرتا ہو فضول خرچ اور آوارہ ہو ایسا شخص دوستی کے قابل نہیں۔ اس سے تو کوسوں دور بھاگنا چاہئیے۔ سکولوں اور کالجوں کے علاوہ ہر محلے اور گلی میں بدقسمتی سے ایسے چند نشئی ہوتے ہیں جن کو نشہ کی لت ہوتی ہے یہ اپنے سے کم عمر کے لوگوں کو دوست بنا کر انھیں بھی اس کی رغبت دلاتے ہیں شروع میں اپنے پاس سے یہ مفت نشہ فراہم کرتے ہیں لیکن بعد میں جب دیکھتے ہیں کہ یہ عادی ہو چکا ہے پھر اپنے اخراجات بھی اس کی جیب سے پورے کرتے ہیں۔
جنسی وجوہات
جنسی عیاشی کیلئے نشہ کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔ نشہ آور اشیاء چونکہ بےحس کر دیتی ہیں اور ان سے وقتی طور پر امساک بڑھ جاتا ہے اس لئے بعض لوگ ایسی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں نیز بعض حکیم بھی جنسی مریضوں کو ایسی ادویات دیتے ہیں ان ادویہ سے ان کے اعضائے جنسی دن بدن نیم مردہ ہو جاتے ہیں اور ان کی جنسی طاقت بالکل ختم ہو جاتی ہے نشہ کے عادی افراد میں ہیجڑے پیدا ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔
ناسازگار حالات اور ذہنی پریشانیاں
بعض لوگ اتنے حساس ہوتے ہیں کہ ذرا سی بات بھی انھیں بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے معمولی پریشانی سے عہدہ برآ نہیں ہو پاتے۔ ہر شخص کو زندگی کے سفر میں قدم قدم پر کسی نہ کسی پریشانی اور الجھن سے واسطہ پڑتا ہے۔ جن لوگوں کی قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے وہ بڑے حوصلے کے ساتھ ناسازگار حالات سے عہدہ برآ ہوتے ہیں لیکن نازک طبیعت کے مالک ان پریشانیوں کو ذہن پر سوار کر لیتے ہیں ہر وقت سوچ بچار میں کھوئے رہتے ہیں تنہائی پسند ہو جاتے ہیں اور نشہ آور ادویات میں سکون تلاش کرتے ہیں زندگی سے بیزاری اور موت کی خواہش ان میں پیدا ہو جاتی ہے عملی کام کرنے سے کتراتے ہیں اور نشہ کی دنیا میں اپنا جہاں آباد کر لیتے ہیں جن تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملازمت نہیں ملتی وہ بھی اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بطور فیشن یا شوقیہ
بعض لوگ دوسروں کو دیکھا دیکھی بطور فیشن نشہ پینا شروع کر دیتے ہیں اور بڑے خاص انداز سے کش لگاتے ہیں اور بڑے فخر سے اپنے ہمنواؤں سے کہتے ہیں کہ آج میں نے اتنی پی ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ نشہ کا مریض عام آدمی سے اتنے فوائد بیان کرتا ہے کہ دوسرا آدمی بطور تجربہ وہی نشہ استعمال کرنے لگ جاتا ہے۔
تجسس
یہ فطرت انسانی ہے کہ جس چیز سے اسے روکا جائے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کام ضرور کرکے دکھائے ٹی وی پر اشتہارات اور اخبارات کے صفحات پر ہیروئن اور منشیات کا ہر روز تذکرہ سننے سے بعض لوگ اس کے منفی اثرات لیتے ہیں۔ بس یہی سوچ انھیں لے ڈوبتی ہے آج کل چھوٹے بچے بھی نشہ آور چیزوں کے ناموں سے واقف ہیں بعض غیر ملکی فلمیں اس رجحان کو فروغ دیتی ہیں اس لئے بہت سے لوگ محض تجسس کی بناء پر اس کے عادی ہو رہے ہیں۔
والدین کی غفلت
جو والدین اپنی اولاد پر کڑی نظر نہیں رکھتے اپنی اولاد کی مناسب نگرانی نہیں کرتے اولاد کو شتر بےمہار کی طرح چھوڑ دیتے ہیں ان کی اولاد سگریٹ نوشی سے ابتداء کرکے ہیروئن کے سٹیج پر جا پہنچتی ہے بعض لوگ اپنی نشہ کی چیزیں اولاد کے ذریعے منگواتے ہیں جس سے اولاد بھی اس راہ پر چل نکلتی ہے اگر آپ کو اولاد کی زندگی کی فکر ہے تو ان سے سگریٹ بھی نہیں منگوانے چاہئیں وگر نہ کل کو اگر وہ سگریٹ پئے گا تو آپ اسے روک نہیں سکیں گے کیونکہ آپ کا کردار اس کے سامنے ہوگا۔
والدین کا کام جہاں اولاد کیلئے خوارک، لباس اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنا ہے وہاں یہ بھی آپ پر فرض ہے کہ ان کی اخلاقی تربیت بھی کریں وگر نہ وہی اولاد بد اخلاقی اور نشہ کی ذلت میں ڈوب کر ایک دن آپ کے گریبان میں ہاتھ ڈالے گی۔
(((
امراض تنفس
نشی کرنے والوں کی اکثریت امراض تنفنس کا شکار ہو جاتی ہے سگریٹ کے ساتھ ہیروئن کے کش لگانا سونے پر سہاگہ کا کام کرتے ہیں پھیپھڑوں میں زخم اور سانس کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں افیون چرس اور بھنگ کے عادی افراد کے پھیپھڑوں میں بلغم جم جاتی ہے۔ نالیاں اور پھیپھڑے خشک ہو جاتے ہیں ڈاکٹری ادویہ بھی یہی کام انجام دیتی ہیں۔ ان سے مراد وہ ادویہ ہیں جو بطور نشہ استعمال ہوتی ہیں پھیپھڑوں کی حرکات سست اور لمبے لمبے سانس لینے پڑتے ہیں جسم کو آکسیجن کم ملتی ہے۔
ان منشیات کا استعمال کرنے والے تپ دق، دمہ، برونکائی ٹس اور سانس لینے میں دقت کا سامنا کرتے ہیں ان کے اعضاء تنفس میں زخم ورم اور سوراخ ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے خون منہ یا ناک کے راستے جاری ہو سکتا ہے اور موت چند قدم دور ہو جاتی ہے۔
امراض معدہ اور منشیات
تمام منشی اشیاء معدہ کے گیسٹرک جوس پر برا اثر ڈالتی ہیں اور کچھ منشیات گیسٹرک جوس کی پیداوار کم کرتی ہیں۔ کچھ ایسی ہیں جن سے گیسٹرک جوس کی پیداوار بڑھ جاتی ہے جن سے بدہضمی، سوزش معدہ، زخم معدہ، معدہ کا سرطان، بھوک میں کمی، متلی اور خونی قے کی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں بعض نشے قبض اور بعض پیچس لگا دیتے ہیں ہر نشہ کرنے والا معدہ کے ان امراض میں ضرور مبتلا ہوتا ہے۔ وہ لوگ احمقوں کی سوچ رکھتے ہیں جو نشہ کرتے اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم آج ان امراض کا شکار نہیں ہوئے کل بھی بچے رہیں گے انھیں یاد رکھنا چاہئیے کہ اگر کسی درخت کے تنے پر روزانہ آری چلائی جائے تو وہ ٹوٹ کر ضرور گرے گی۔ میں نے یہاں نشہ کے ذریعے لاحق ہونے والے جو امراض بتائے ہیں وہ ہر نشہ کرنے والے کو ضرور ہوتے ہیں یہ میرا تجربہ ہے میں نے اپنی آنکھوں سے انھیں ان امراض کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔
دماغی امراض اور منشیات
سب سے زیادہ مضر اثرات دماغ پر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ پہلی سٹیج میں نشہ کرنے والا دماغی امراض میں مبتلا ہوتا ہے دماغ کی کارکردگی سب سے پہلے سست ہوتی ہے جس سے جسم کے ہر نظام کا فعل سست پڑ جاتا ہے۔ وہ دماغی امراض جو نشہ سے لاحق ہوتے ہیں ان میں نسیان، مرگی، سر چکرانا، نیند میں کمی، مالیخولیا، پاگل پن، سوچنے اور قوت فیصلہ میں کمی قابل ذکر ہیں۔
اعصابی امراض اور منشیات
جسم میں خشکی اور زہریلے مادوں کی کثرت کی وجہ سے، رعشہ، فالج، لڑکھڑاتی چال، حرکت میں سستی اور اعصابی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔
امراض جگر اور منشیات
جگر خون بنانے سے قاصر ہو جاتا ہے بہت کم خون پیدا ہوتا ہے۔ خون کی کمی چہرہ کی زردی، یرقان، جگر کا سکڑ جانا یا متورم ہو جانا جیسے امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔
منشیات اور جسمانی کمزوری
مریض دن بدن سوکھتا چلا جاتا ہے سردی گرمی برداشت نہیں ہوتی کیونکہ جس آدمی کے پھیپھڑے، دماغ، معدہ اور جگر تباہ ہو چکے ہوں وہ سوکھ کر کانٹا نہیں بنے گا تو کیا ہو گا۔
قوت مدافعت میں کمی
جسم میں بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔ ایسا مریض بیماریوں کا بہت جلد شکار ہوتا ہے۔ اگر کوئی وبائی مرض پھیلے تو سب سے پہلے نشہ کرنے والے اس کا شکار ہو کر لقمہ اجل بنتے ہیں۔
امراض کا دبے رہنا
نشہ کرنے والے کے جسم میں بعض شدید قسم کے امراض موجود ہوتے ہیں لیکن بےحسی کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتے مثلاً اگر کسی کے گردہ میں پتھری ہے تو درد محسوس نہیں ہوتا تب پتہ چلتا ہے جب پتھری بڑی ہو کر پیشاب پر اثر انداز ہوتی ہے اور گردہ میں شدید درد کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔
منشیات اور جلدی امراض
نشہ کرنے والے خارش، چہرے پر جھریاں، جلد کی خشکی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
گردوں پر اثر
گردے خون سے گندے مادے صاف کرنا کم کر دیتے ہیں اور بعض اوقات گردوں کے مسام بند ہونے کا عمل شروع ہو جاتا ہے پیشاب میں خون آتا ہے۔ گردے فیل ہو جاتے ہیں کبھی پیشاب بہت زیادہ آتا ہے لیکن زیادہ تر پیشاب بننا بند ہو کر موت واقع ہو جاتی ہے۔
نشہ اور نامکمل اولاد
نشہ کرنے والوں کے ہاں جو اولاد پیدا ہوتی ہے وہ دماغی طور پر کند ذہن یا کسی پیدائشی خرابی میں مبتلا ہوتی ہے ان کے بچے کمزور اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔
بینائی میں کمزوری
جسم میں یبوست (خشکی) بڑھ جانے کا اثر آنکھوں پر بھی پڑتا ہے اور نظر دن بدن کمزور ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی حفاظت کرنے والی ضروری رطوبات کا اخراج رک جاتا ہے اور آنکھوں کے مسلز سکڑ جاتے ہیں۔
خانہ بربادی
نشہ کرنے والوں کی بیویاں طلاق لے لیتی ہیں۔ بھائی بہن ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اولاد بھی آنکھیں پھیر لیتی ہیں۔ نشہ پر جو رقم خرچ ہوتی ہے اس سے آدمی محلوں سے نکل کر در در کا محتاج ہو جاتا ہے کوئی اس سے بات کرنا گوارہ نہیں کرتا اس ڈر سے کہ کہیں لوگ مجھے بھی نشئی نہ سمجھنے لگے۔
نشہ اور چوری
ہر نشہ کرنے والا عموماً چور ضرور ہوتا ہے کیونکہ کسی کے پاس قارون کا خزانہ نہیں ہوتا کہ بغیر کمائے ہاتھ پر ہاتھ دھرا بیٹھا رہے اور دولت کو نشہ میں لٹاتا جائے اس نشہ کی طلب پوری کرنے کیلئے رقم نہ ملنے کی صورت میں پہلے یہ گھر میں چوری کرتا ہے اور پھر لوگوں کی دکانوں سے چوری چکاری کرنے لگ جاتا ہے۔
جوانی کی موت اور نشہ
عام طور پر نشہ کے عادی نوجوانوں کو مرتے دیکھا گیا ہے شاز و نادر ہی کسی بیماری کے باعث یا حادثہ کی وجہ سے نوجوان مرتے ہیں لیکن اکثریت انھیں کی ہوتی ہے نشہ سے دل، دماغ، جگر، معدہ اور گردوں کو ناکارہ کر دیتا ہے اس لئے انسانی زندگی کی گاڑی ان کے بغیر چلنا محال ہے۔ جس کی وجہ سے نشہ کرنے والے جوانی کی عمر میں مر جاتے ہیں۔ اب ہر ایک نشہ آور اشیاء کے نقصانات کا الگ الگ تفصیلی ذکر ملاحظہ فرمائیں۔
تمباکو نوشی کے بھیانک اثرات
سگریٹ نوشی ایسا دروازہ ہے جو نشہ کی دنیا میں لے جاتا ہے ہر نشہ کرنے والا پہلے سگریٹ پیتا ہے اور بعد میں دیگر نشہ آور چیزوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور ایسے لوگ بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو اسی تاسو سگریٹ روزانہ پیتے ہیں ان کی سانس کی نالیوں میں نکوٹین تہہ در تہہ جمی ہوتی ہے اس سے پھیپھڑوں میں زخم پیدا ہوتے ہیں سگریٹ پینے والا آکسیجن گیس کا خاتمہ کرتا جاتا ہے زیادہ نقصان انھیں پہنچتا ہے جو سگریٹ پینے والے کے پاس بیٹھتے ہیں ان کا دھواں ان کے پھیپھڑوں میں جا کر خرابیاں پیدا کرتا ہے اگر ٹی بی والے سگریٹ کا دھواں کسی اور کے پھیپھڑوں میں چلا جائے تو سوچیں اس غریب کا کیا حال ہو گا۔
فی زمانہ ریل، بس، ائیرپورٹ اور تفریحی مقامات پر سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولے نظر آتے ہیں اور سگریٹ نوشی سے نفرت کرنے والے مجبور ہوتے ہیں کہ وہ بھی دوسروں کے منہ سے نکلا ہوا مضر صحت دھواں اپنے پھیپھڑوں میں پہنچائیں لٰہذا سگریٹ کی ڈبیوں پر لکھنے کی بجائے عملی طور پر ریل بس اور دیگر عوامی مقامات میں سگریٹ نوشی ممنوع ہونی چاہئیے۔
سگریٹ نوشی کی تاریخ
* جنوبی امریکی پیداوار جس کو ہسپانوی باشندہ کولمبس نے 1492ء میں معلوم کیا۔
*1556ء میں امریکی سرخ باشندوں سے سیکھا۔
* 1565ء امریکہ سے برطانیہ پہنچا۔
* 1750ء پہلا امریکی سگار جنوبی امریکہ میں۔
* 1788ء کارخانہ سگار ہمبرگ
* دوسری جنگ عظیم میں 25 کروڑ سگریٹ روزانہ برطانیہ میں تیار ہوتے تھے۔ اب پوری دنیا میں 150 ارب سگریٹ تیار ہوتے ہیں۔
* دل کے سو مریضوں میں سے 99 سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔
* دل کے درد اور سگریٹ نوشی کا گہرا تعلق ہے۔
* برطانیہ میں سالانہ 40 ہزار سگریٹ نوشی کی وجہ دل کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں جس کہ وجہ دل کا صحیح دوران خون متاثر ہو جاتا ہے۔
سگریٹ میں دس زہر :
* نکوٹین: 20 ملی گرام فی سگریٹ جو مہلک زہر کتے تک جانور کیلئے کافی ہے۔ کتے کو 10 فیصد لوشن 3،4 منٹ میں ہلاک کر سکتا ہے۔
* کاربن مانو آکسائیڈ: دھوئیں میں 2/1 2 فیصد یہ (ہر کلو) خون کے سرخ مادہ میں جذب ہو کر سانس کو روکتی ہے اور زیادتی پر موت واقع ہو جاتی ہے۔
* گارسینوجنک: کینسر پیدا کرنے والا 16 کیمیائی مادے اس کے دھوئیں سے جانوروں پر تجزیہ کرنے سے کینسر پیدا کرنا ثابت ہوا۔
* بھاپ بن کر اڑنے والا مہلک تیزاب۔
* کربول: یہ بھی مہلک زہر ہے۔ (سانائیڈ)
* سنکھیا: جو سگریٹ سے دھوئیں میں پایا جاتا ہے۔ اگر کسی جانور کو کھلایا جائے تو وہ سر کے بل لوٹ لوٹ کر دم توڑتا ہے۔
* امونیا: یہ بھی مضر صحت ہے دم گھٹنے لگتا ہے، پھیپھڑوں کو جلا کر دائمی تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔
* کولتار: یہ بھی زہر ہے ایک کلو روزانہ ایک سال تک پینے پر ایک پیالہ کولتار کے مساوی ہے۔ جو مہروں کو جانے والی باریک نالیوں کو مفلوج کر دیتی ہیں علاوہ مہروں کے اندرونی جلد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
* فضول اور الکحل: یہ بھی مہلک زہر ہے۔
یہ وہ تمام زہر ہیں جو ایک عام سگریٹ نوش کے جسم میں جذب ہوتے ہیں جو اس کی شاداب اور شگفتہ زندگی کو خشک کر دیتے ہیں خوف، وحشت، کمزوری، ذہنی الجھن، کشمکش، انتشار کا شکار ہو جاتا ہے جو زندہ رہ کر بھی زندگی کو ترستا ہے۔
ہر سگریٹ پینے والا یہی کہے گا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں نقصان ہی نقصان ہے لیکن پھر بھی پئے جا رہے ہیں سگریٹ نوش کو دھواں اڑانے سے وقتی طور پر نفسیاتی سکون ملتا ہے سگریٹ نوشی کیلئے ان لوگوں نے تاویلیں بنا رکھی ہیں کہ اگر چھوڑ دیں تو گیس پیدا ہوتی ہے کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ قبض کی شکایت ہو جاتی ہے، سکون ختم ہو جاتا ہے یہ بہانہ بازی ہے نہ چھوڑنے کی نیت ہے وگر نہ سو سگریٹ روزانہ پینے والوں نے بھی یکلخت سگریٹ بند کئے لیکن کوئی خاص رد عمل نہیں ہوا اگر کچھ علامات پیدا ہو جائیں تو ان کا علاج بھی ہو سکتا ہے قبض دور کی جا سکتی ہے گیس کا خاتمہ بھی علاج معالجہ سے ہو سکتا ہے سگریٹ چھوڑنے سے جو علامات پیدا ہوتی ہیں ان کا تو کامیاب علاج ہے لیکن سگریٹ نوشی جاری رکھنے سے جو بیماریاں پیدا ہوں گی کبھی آپ نے غور کیا کہ ان کا علاج کتنا مشکل ہے۔
17 جون 1968ء کو امریکی سائنس دانوں نے کتوں کو سگریٹ نوشی کا عادی بنا کر مصنوعی طور پر ان کو پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا کیا گیا تاکہ “نکوٹین“ تمباکو کے زہر کے اثرات کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ امریکی ایسوسی ایشن کانگریس کے بموجب سائنسدانوں نے دس کتوں کا انتخاب کیا۔ کتوں کے انتخابات کی اصل وجہ یہ ہے کہ کتوں کے پھیپھڑے اور عضلات انسانی پھیپھڑوں کے مشابہ ہوتے ہیں۔ کتوں کو روزانہ 12 سگریٹ کا باقاعدہ طریقہ سے عادی بنایا گیا۔ سگریٹ نوشی کا عادی انسان بھی روزانہ اوسطاً اتنے ہی سگریٹ پیتا ہے کتوں نے ابتداء بچوں کی طرح کھانسنا شروع کیا۔ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور وہ بیمار ہو گئے جب انہیں سگریٹ نوشی کے کمرے کی طرف لے جایا جاتا وہ دم ہلا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے تجربہ کے دوران قلب و خون کے امراض میں مبتلا ہو کر اس میں سے پانچ کتے مر گئے اور بقیہ تمام کتوں کے پھیپھڑے متاثر ہو گئے۔ ( ماخوذ از رہنمائے دکن جون 1968ء )
آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق کہ جو لوگ 33 برس سے کم عمر میں سگریٹ پینا چھڑتے ہیں ان کیلئے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ 90 فیصد سے زیادہ کم ہو جاتا ہے اور جو لوگ پچاس برس کی عمر میں سگریٹ نوشی کرتے چھوڑتے ہیں ان میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ پچاس فیصد سے کم ہوتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ سگریٹ چھوڑنے کے لئے کسی عمر کی قید نہیں ہے۔ یہ تحقیق انگلینڈ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے جس کے نتائج برطانیہ کے میڈیکل جرنل میں شائع کئے گئے ہیں پھیپھڑوں کے سرطان سے سب سے زیادہ وہ لوگ ہلاک ہوتے ہیں جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اس کے علاوہ 20 سے زائد بیماریوں کا تعلق تمباکو سے بھی ہے جن میں دل کی بیماری اور مثانے کا کینسر شامل ہے اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سگریٹ پینے سے پھیپھڑوں کو جو نقصان پہنچتا ہے اس میں کوئی بیماری ایسی ہوتی ہے جس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے۔ (بحوالہ روزنامہ خبریں 18 ستمبر 2000ء)
پریس ایشیاء انٹرنیشنل نے برازیل کے ماہرین کے حوالے سے یہ خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ سگریٹ پینے سے جسم میں ایک طرح کا زہر پھیل جاتا ہے جو جنسی لطف اٹھانے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ (راہنما شکم مارچ 1982ء )
میٹریا میڈیکا میں ڈاکٹر جیلانی نے تحریر کیا ہے کہ تمباکو سے خون کا دباؤ گھٹ جاتا ہے اور اس کی زیادتی سے (قوما) اور موت واقع ہو سکتی ہے سگریٹ نوشی کرنے سے تب دپ (ٹی بی) کا ڈر ہوتا ہے سانس کی نالیاں تنگ ہو کر دمہ کا خطرہ بھی ہوتا ہے علاوہ ازیں نیند میں کمی واقع ہو جاتی ہے ضعف باہ ہو جاتا ہے جسم میں وٹامنز کی شدید کمی گلے کی سوزش اور معدہ کی نالی میں خراش واقع ہو جاتی ہے۔ امراض قلب اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے تمباکونوشی انتہائی مضر ہے دانت سیاہ ہو جاتے ہیں زبان پر زخم بن جاتے ہیں منہ کے اعضاء یا پھیپھڑوں میں سرطان پیدا ہو جاتا ہے جس سے سگریٹ نوش طبعی موت مرنے سے پہلے مر جاتا ہے سگریٹ پینے والے کا مزاج گرم رہتا ہے گھر میں بیوی بچوں یا ماں باپ سے لڑتا جھگڑتا رہتا ہے اور دفتر میں اپنے ساتھیوں پر سختی کرتا ہے۔ ایسا آدمی معاشرے اور مذہب سے ہٹ کر رہ جاتا ہے اسی وجہ سے کسی کو ملنے ملانے سے کتراتا ہے کہ دوستوں میں بیٹھ کر دھواں چھوڑ دوں گا تو وہ نفرت کریں گے رمضان المبارک کے روزے سگریٹ پینے والے کم ہی رکھتے ہیں کیونکہ سگریٹ کے دھوئیں سے طویل جدائی انہیں برداشت نہیں ہوتی۔ ایسے کم ظرف اور بدقسمت لوگ نماز، روزہ بھی چھوڑ دیتے ہیں سگریٹ نہیں چھوڑ سکتے تمباکونوشی کرنے والا بسوں میں صحیح طور سے سفر نہین کر سکتا کہ جب بھی سگریٹ سلگائی جائے تو عورتیں ٹوک دیتی ہیں کہ ہمیں قے آتی ہے سگریٹ پینا بند کرو اس نامراد سگریٹ کی وجہ سے الٹی سیدھی باتیں سننا پڑتی ہیں۔
سگریٹ چھوڑنے کا طریقہ :
سگریٹ چھوڑنے کا طریقہ یہ ہے کہ یکلخت چھوڑ دیں کیونکہ جو ایک ایک کم کرکے چھوڑنے کا کہتے ہیں اس طرح وہ پھر سگریٹ کی مقدار بڑھانا شروع کر دیتے ہیں لٰہذا پختہ نیت اور ارادہ کرکے یکلخت چھوڑ دیں اور اپنے دوست احباب میں تشہیر کر دیں کہ میں نے سگریٹ چھوڑ دئیے ہیں تاکہ دوبارہ پینے کا حوصلہ نہ رہے کہ یہ کیا سوچیں گے کل سگریٹ چھوڑنے کا کہا اور آج پھر پی رہے ہیں سگریٹ چھوڑتے ہی آپ دوسرے سگریٹ نوشوں کو سمجھائیں تاکہ آپ کے جذبات کی تسکین ہو اور سگریٹ کے خلاف مذید نفرت ذہن میں آئے۔ سگریٹ چھوڑنے کے بعد خدانخواستہ اس کی طلب محسوس ہو تو مکئی بھونی ہوئی چبائیں یا چیونگم منہ میں ڈال لیں میٹھی سونف بھی بوقت ضرورت استعمال کریں میٹھی سونف چبانے کا فائدہ یہ ہو گا کہ گیس اور قبض پیدا نہیں ہو گی۔ نیز سگریٹ چھوڑنے کے بعد ذہن میں یہ خوش کن خیالات رکھیں کہ سگریٹ سے نجات پاکر میں نے فلاں فلاں بیماری سے نجات پائی اب میں صحت مند ہوں اور دوسرے آدمیوں کی طرح نارمل ہوں اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ بہت بڑی بال سر سے اتر گئی ہے۔
یاد رکھئے سگریٹ چھوڑنے کے بعد کبھی صرف ایک سگریٹ پینے کی کوشش بھی مت کیجئے کیونکہ ایک سگریٹ کے کش لینے سے دوبارہ نئے سرے سے آپ اس کے عادی ہو جائیں گے۔
شراب کے نقصانات
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت کی۔
(1) بنانے والا (2) بنوانے والا (3) پینے والا (4) پلانے والا (5) اٹھا کر لے جانے والا (6) رکھنے والا (7) بیچنے والا ( 8 ) خریدنے والا (9) مفت دینے والا (10) دام کھانے والا۔ (ترمذی)
امراض معدہ اور شراب :
شراب کی وجہ سے معدے کی خطرناک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں یہ اس لئے ہوتا ہے کہ یہ خون میں موجود لائیپڈ جو ایک خاص قسم کی چربی ہوتی ہے اس کے استعمال سے تحلیل ہو جاتی ہے یعنی لائیپڈ ایک طرح کی حفاظتی تہہ مہیا کرتا ہے جس پر تیزابیت کا نقصان دہ اثر نہیں ہوتا اور اسی تہہ کی وجہ سے معدہ خود اپنے آپ کو ہضم نہیں کر سکتا اگرچہ یہ فی الحال پوری طرح ثابت نہیں ہوا کہ جس طرح شراب گلے اور خوراک کی نالی میں کینسر کا ذریعہ بنتی ہے معدہ کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہے لیکن اس خیال کو تقویت ہوتی اج رہی ہے کہ معدے کے سرطان میں بھی شراب کی کارستانی ہوتی ہے۔
امراض امعاء اور شراب
شراب کا سب سے زیادہ نقصان دہ اثر بارہ انگشتی آنت پر ہوتا ہے اس جگہ نہایت نازک کیمیائی اثرات وقوع پذیر ہوتے ہیں شراب اس کی اس خاصیت کو متاثر کرتی ہے جو مخصوص ہاضم لعاب خارج کرنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی کیمیائی حساسیت پر اثر انداز ہوتی ہے ہاضمہ کیلئے اس اہم راستے کی تباہی کے بعد شراب جگر سے پیدا ہونے والے ہاضم لعاب Bile کے اخراج پر بھی اثر انداز ہوتی ہے تمام شرابیوں کی بارہ انگشتی آنت اور پتہ کی جھلی پمیشہ بیماری کا شکار ہوتی ہیں یا ان کا فعل اکثر صحیح نہیں ہوتا۔ یہ حالت ہر شرابی کو گیس بدہضمی کے ذریعے مصیبت میں ڈالے رکھتی ہے۔ معدے کی یہ تکالیف آنتوں پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
امراض جگر اور شراب :
انسانی جگر وہ حساس لیبارٹری ہے جو شراب کے ہر چھوٹے سے چھوٹے سالمے کو زہر کی طرح محسوس کرتا ہے جگر پر شراب کا اثر دو طرح سے ہوتا ہے۔
1- شراب خوری کی صورت میں جگر کے خلیے الکحل ختم ہونے کی ذمہ داری میں پوری طرح مصروف ہوتے ہیں اس طرح وہ اپنے دوسرے کاموں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
2- جگر کے کیمیاوی عمل جو ایک سے ایک بڑھ کر حساس ہوتے ہیں شراب کے بلا روک ٹوک اثر کے تحت درہم برہم ہو جاتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جگر کو ایک ہی عمل بار بار دہرانا پڑتا ہے اور اس طرح بے پناہ مسلسل اور بال ضرورت محنت اور مشقت سے جگر کی کمزوری واقع ہو جاتی ہے یہ اثرات جگر کیلئے خطرناک نتائج پیدا کرتے ہیں ان اثرات میں زیادہ مشہور جگر کا سکڑنا ہوتا ہے جو اس کا زندہ ثبوت ہوتا ہے کہ جگر کی بربادی مکمل طور پو چکی ہے۔
مذید برآں جگر کی وجہ استطاعت جس کی وجہ سے جسمانی تحفظ کے اعضاء جیسے مختلف قسم کے گلوبین بنتے ہیں شرابیوں میں خطرناک حد تک کم ہو جاتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں بیماریوں کے خلاف مدافعت کم سے کم ہو جاتی ہے۔
شراب بعض اوقات جگر کے فعل کے اچانک رک جانے کی وجہ بھی بن جاتی ہے اس صورت میں ایک شرابی بے ہوشی کے عالم میں ہی مر جاتا ہے اسے جگر کا دیوالیہ پن کہتے ہیں جگر کے سلسلے میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جس میں اس پر شراب کے نقصان دہ اثرات کا ثبوت نہ ملتا ہو۔
گردوں پر شراب کا اثر :
انسانی گردے جنہیں دوران خون کے نظام کا آخری مقام سمجھا جائے ان کو شراب کے استعمال سے سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اس لئے کہ گردے انتہائی حساس کیمیائی جوہر کی ملاپ Valence کے مقام پر چھلنی کا کام دیتے ہیں لیکن شراب اس نازک عمل کو بھی تہہ و بالا کر دیتی ہے یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ وہ شرابیں جن میں الکحل کی مقدار کم ہوتی ہے گردوں کیلئے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں چنانچہ زیادہ مقدار میں بئیر پینے والوں کے گردے اکثر خراب ہوتے ہیں۔
لمف والے (Lymphatic) نظام کی انسانی جسم میں بے حد اہمیت ہے اس نظام کی خون والی نالیاں شراب کے ہاتھوں ناقابل علاج نقصان اٹھاتی ہیں اس لئے کہ چربی والے نامیاتی مرکب لائیپڈ کا اس نظام میں ایک بہت اہم مقام ہوتا ہے۔ شراب کا نقصان دہ اثر اس حیران کن حد تک حفاظت بہم پہنچانے والے نطام کو برباد کر دیتا ہے۔
امراض قلب اور شراب
جسم میں دوران خون قائم رکھنے والی قلبی نالیوں اور طی اور شریانوں کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے اس کیلئے شراب کے استعمال کا مسئلہ ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ اب وہ بات نہیں رہی کہ بیماریاں خال خال نظر آتی تھیں۔ اس بیماری کے آغاز کی کئی وجوہات ہیں، انہیں خطرناک امکانات میں ایک عنصر خوراک، جسم اور خون میں موجود چربی ہے۔ جسم میں زیادہ گرمی پیدا کرنے والے الکحل کی اقسام مثلاً برانڈی اور دہسکی سے انسان کی حرکت قلب بند ہو جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تازہ چھان بین کے مطابق چربی کی جو قسمیں خون بھپکنے والی نالیوں میں (شریانوں) کے امراض پیدا کرتی ہے ان میں ٹرائی گلی سیرائیڈ سب سے زیادہ اہم ہے اور یہی مادہ ہے جو الکحل کے استعمال سے خون میں بڑھ جاتا ہے جو الکحل کثیر مقدار میں نوش کئے جاتے ہیں وہ گردش خون کو متاثر کرتے ہیں اور حرکت قلب بند کر دینے کا باعث بن سکتے ہیں عادی اور بھاری مقدار میں شراب پینے والوں میں ایک بیماری پیدا ہوتی ہے جسے الکحولک کار ڈیومایوتھی کہتے ہیں۔
شراب کے اثرات اعصابی نظام پر
شراب سے دماغ پر اتنا برا اثر پڑتا ہے کہ رفتہ رفتہ تمام اعصابی نظام تباہ ہو کر رہ جاتا ہے اس سے سوچنے اور فیصلہ کرنے کی قوت کم ہو جاتی ہے شرابی کی قوت مدافعت کمزور ہو جانے سے عام دوائیں بھی اس پر اثر نہیں کرتیں اس لئے شرابی کو اگر کوئی مرض لاحق ہو جائے تو اس کا علاج نہایت مشکل سے ہوتا ہے۔
شراب عصبی خلیوں کی اس باریک جھلی میں داخل ہو جاتی ہے جو نامیاتی چربی جیسے مرکب یعنی لائیپڈ کی حفاظت میں ہوتی ہے اس کا برا اثر اعصابی نظام کے مراکز پر ناقابل علاج حد تک ہوتا ہے۔ الفاظ کا بھولنا اور ہاتھوں کا رعشہ اس اعصابی نقصان کی نشانیاں ہوتی ہیں شراب میں چربی پگھلانے کی صلاحیت ہوتی ہے تخلیقی خلیوں میں داخل ہو کر ان کے بے حد نقصان پہنچاتی ہیں اس کی عام فہم مثال میں نئی نسل کی ذہانت میں کمی اور ناقص بالیدگی شامل ہیں۔ بہت سے مطالعہ جات اور سروے کے بعد یہ حقیقت ظاہر ہوتی جا رہی ہے کہ ذہنی طور پر غبی بچوں کے والدین اکثر و بیشتر شدید قسم کی شراب نوشی کرتے تھے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شراب عورت کے غم اور بیضہ حیات کے خلیے کو بہت آسانی سے نقصان پہنچاتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شرابی ماؤں کے بچے اکثر موروثی طور پر دماغ یا قلبی قدمہ یا جھٹکے کا شکار ہو جاتے ہیں شرابی باپ کی طرف سے ایسے واقعات کی تعداد تیس فیصد سے زیادہ تک ہوتی ہے۔ شراب میں شروع سے جنسی قوت بڑھ جاتی ہے لیکن بعد میں اتنی کمزوری پیدا ہوتی ہے جو باعث ندامت بنتی ہے۔
دنیا اس وقت ایڈز کے خطرے سے لرزاں ہیں لیکن ایڈز کے پیدا کرنے میں شراب اور دیگر نشہ آور چیزوں کا ہاتھ ہے۔
معاشرے پر اثرات
1- مخمور انسان ایسی ایسی عجیب، نازیبا اور انسانیت سوز حرکات کا ارتکاب کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ کوئی باوقار انسان انہیں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔
2- شرابیوں میں زودرنجی یا غصہ کے فوری حملہ، ان کو معاشرے میں لا تعداد تنازعات میں الجھائے رکھتے ہیں۔ شراب میں بدمست کبھی جوش میں آکر گالیاں بلکہ مرنے مارنے پر اتر آتا ہے۔ کبھی رونے لگتا ہے اور کبھی خوفزدہ ہو کر کانپنے لگتا ہے۔
3- لاتعداد متواتر طلاقیں معاشرے کی بنیادی ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں اور نتائج میں مجرمانہ ذہنیت کے حامل بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے تمام معاشرہ خطرناک حد تک متاثر ہوتا ہے۔
4- مختلف قسم کے کام کرنے والے مزدوروں اور کاریگروں پر شراب کی وجہ سے بے دلی اور کاہلی کا غلبہ ہو جاتا ہے اس طرح ان کی کارکردگی اور مہارت پر برا اثر پڑتا ہے جس کا آخری نقصان معاشرے کو پہنچتا ہے۔
5- شراب کی وجہ سے انسانوں میں ایک دوسرے کی طرف غیر ہمدردی کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قومی تفکر، معاشرتی اتحاد اور معاشرتی مسائل کے خلاف جہاد کا جذبہ مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔
6- شیطان شراب اور جوئے کے ذریعے انسانوں کے درمیان منافقت اور فساد پیدا کرتا ہے اس لئے خدا تعالٰی نے سورہء مائدہ میں فرمایا “یہ گندے کام شیطانی عمل ہیں پس ان سے بچتے رہو تاکہ تمہاری زندگی اچھی گزرے، گویا یہ کام ہلاکت و بربادی کے موجب ہوتے ہیں۔
ہیروئن کی تباہی
پہلے لوگ افیون اور بھنگ کا نشہ کرتے تھے۔ لیکن اب مارفیا اور ہیروئن نے تباہی مچا رکھی ہے ان چیزوں کی عادت سکولوں کالجوں سے شروع ہوتی ہے ایک بار کسی لڑکے نے کش لگوا دیا اور تمام عمر کیلئے تباہی آگئی دکھ کی بات یہ ہے کہ پہلے لڑکے ان شیاء کو استعمال کرتے تھے اب لڑکیوں نے بھی ان کے شانہ بشانہ چلنا شروع کر دیا ہے۔ جدید نشہ آور اشیاء کے استعمال سے بڑی تیزی کے ساتھ بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔
آج کل ہیروئن میں بیرم سلفائیڈ کی ملاوٹ کی جاتی ہے اور یہ کیمیکل اتنا زیریلا اور خراش ڈالنے والا ہے کہ جہاں جہاں اس کا اثر ہوتا ہے یہ خراش ڈالتا ہے۔ یہ بالوں تک کو صاف کر دیتا ہے ہیروئن کے عادی افراد کے پھیپھڑوں میں زخم ہو جاتے ہیں جو کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں معدہ کی جلد گلنے لگتی ہے خون کی نالیاں پھٹنے سے بعض اوقات نکسیر پھوٹنے لگتی ہے تھوک کے ساتھ خون آنے لگ جاتا ہے۔ دل بدن بدن کمزور ہونے لگتا ہے جو کسی وقت بھی اپنی دھڑکن بند کر سکتا ہے حرام مغز متاثر ہوتا ہے اعصابی بیماریاں پٹھوں کا کھچاؤ یا دماغ میں خون جم جانے سے فالج ہو سکتا ہے۔ جنسی کمزوری لاحق ہو جاتی ہے بلڈ پریشر بھی نارمل نہیں رہتا جسم ٹوٹتا رہتا ہے ہر وقت تھکاوٹ سی رہتی ہے بہت سی بیماریاں جسم کے اندر موجود ہوتی ہیں لیکن بے حسی کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتیں مقدار میں زیادتی کی وجہ سے بعض لوگوں کے سپرم ڈیڈیا ست رو ہو جاتے ہیں اور یہ لوگ اولاد کے قابل نہیں رہتے جسم کی چربی دن بدن پگھل کر ہڈیاں رہ جاتی ہیں جو خون پیدا ہوتا ہے وہ متعفن ہو جاتا ہے گردے پو

September 24, 2018

PRIME MINISTER OF PAKSTAN IMRAN KHAN PLZ. LOOK THE MATTER


وزیر اعظم صاحب
میں آپ کو *صدر ایوب خان کے دور کا* ایک سچا واقعہ بتاتا ہوں ۔۔
"چاچا محمد خان آجڑی جو میرا ہمسایہ ہے اور ماشاء اللہ حیات ہے بتاتے ہیں کہ 
  میں بھیڑ بکریاں پالتا تھا اور انہیں پر گُزر بسر تھا ۔ گھر میں گندم ختم ہو گئی ، مجھے کسی نے بتایا کہ قریبی گاؤں میں ایک رشتہ دار کے ہاں گندم ہے ۔ سو میں اس کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے کچھ گندم ادھار دے دو میں چند دن بعد لیلے بیچوں گا تو آپ کو رقم دے جاؤں گا ،
اس نے میری بات سنی اور بے رخی سے بولا جب پیسے آ جائیں تب گندم لے جانا ، میں مایوس لوٹ آیا ،
شام کو *صدرایوب صاحب* نے ملک میں گندم کے بحران پر قوم سے خطاب کیا جو اس وقت ریڈیو پاکستان نشر کرتا تھا ، صدر صاحب نے کہا
*جس کسی کے پاس 10 من سے زائد گندم پائی گئی اسے لٹکا دیا جائے گا ، سو ذخیرہ اندوز مطلع رہیں.*
میں صبح اٹھا تو 3 اونٹ بوریاں اٹھائے اپنے گھر کی طرف آتے دکھائی دیئے ۔ اونٹ والے نے صدا دی میں گیا تو بولا یہ ایک اونٹ پر لدی 5 بوری گندم آپ کے لئے فلاں شخص نے بھیجی ہے (یہ وہی شخص تھا جس نے کل مجھے دھتکارا تھا) اور باقی دو اونٹوں پر لدی 10 بوریاں فلاں شخص کے لئے ہیں، آپ اپنی بوریاں لے کر مجھے اس شخص کا گھر بتا دو تا کہ میں اس کو اس کی گندم پہنچا دوں.
میں نے اس گندم کی قیمت کے بابت دریافت کیا تو بولا اس نے کہا ہے کہ جب اللہ دے مجھے پیسے دے جانا
یہ اس حاکم وقت کا دبدبہ تھا جس نے اسلام آباد میں بیٹھ کر بات کی لوگوں نے ریڈیو پر سنی اور ذخیرہ ادھر اُدھر کرنا شروع کر دیا۔
*میں چاہتا یوں کہ مجھے کچھ ایسا اور اس طرح ہوتا نظر آئے ۔۔*
۔
میں ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا
کہ
آپ نے 2 مُلازم رکھنے ہیں ،
گاڑیاں نیلام کرنی ہیں ،
دو کمروں کے گھر میں رہنا ہے ،
سفیروں کو بسکٹ پانی پہ ٹرخانا ہے ،
آپ نے پروٹوکول نہیں لینا وغیرہ وغیرہ ۔
میں چاہتا ہوں۔۔۔! !
بطور پاکستانی
*میری جیب نہ کٹے ،*
*مجھے سودا سلف خالص اور کنٹرول ریٹ پر ملے*
*مجھے رشوت نہ دینی پڑے*،
*مجھے گالی نہ پڑے ،*
*مجھے ہسپتال میں عزت اور دوائی ملے ،*
*مجھے تھانہ میں ذلیل نہ کیا جائے ،*
*میری عزت نفس ہو میرا احترام بحال ہو* ۔۔۔
پھر میں مان کروں گا آپ کے وزیر اعظم بننے پر ،
ورنہ
باتیں تو میں 70 سال سے سنتا آ رہا ہوں.
عام لوگ

Total Pageviews