February 06, 2018

رٹّا اسکولنگ سسٹم Ratta Schooling System in Pakistan




 رٹّا اسکولنگ سسٹم
شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک فن لینڈ بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے 65 جبکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں 114 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کی کل آبادی 55 لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن آپ کمال دیکھیں اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ " سپر پاور " امریکا 20ویں نمبر پر ہے۔
2020ء تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون ( سبجیکٹ ) نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جائے گی۔ فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔ دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو " پڑھانے" کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔

خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے " پڑھائی " ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی " اسکلز " بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔ فن لینڈ میں ٹیچر بننا ڈاکٹر اور انجینئیر بننے سے زیادہ مشکل اور اعزاز کی بات ہے۔ پورے ملک کی یونیورسٹیز کے " ٹاپ ٹین " ماسٹرز کیے ہوئے طالبعلموں کو ایک خصوصی امتحان کے بعد اسکولوں میں بطور استاد رکھا جاتا ہے۔ سات سال سے پہلے بچوں کے لیے پورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے کہ جس میں ماں باپ بچے کی نیندیں حرام کردیں۔ ان کے کھیلنے اور بھاگنے دوڑنے پر پابندی لگ جائے، دروازے کھڑکیاں بند کر کے انہیں گھروں میں " نظر بند " کردیا جائے۔ گھر میں آنے والے مہمانوں سے ملنے تک پر پابندی عائد کردی جائے اور گھر میں مارشل لاء اور کرفیو کا سا سماں بندھ جائے۔ پورے ملک میں تمام طلبہ و طالبات کے لیے ایک ہی امتحان ہوتا ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے " میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں "۔

آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ " اخلاقیات " اور " آداب " ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا "جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں "۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔ جاپان میں معاشرتی علوم " پڑھائی" نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے " پبلشرز " بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو " کوڑھ مغز " اور " کند ذہن " کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔
آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے؟ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔ ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو " سوشل اسٹڈیز " پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا " سوشل " ہونا سیکھا ہے؟ اسکول میں سارا وقت سائنس " رٹتے " گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی " سائنس دان " نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس " سیکھنے " کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی " رٹّا" لگواتے ہیں۔


آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس " پاسنگ مارکس " 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

میرا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں اس " گلے سڑے " اور " بوسیدہ " نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں، بچوں کو " طوطا " بنانے کے بجائے " قابل " بنانے کے بارے میں سوچیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے دنیا چاند پر پہنچ رہی ہے اور ہم ابھی تک " رٹّا سسٹم " کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔



February 01, 2018

سیرت النبیﷺ کا ایسا واقعہ پڑھ کرآنکھوں سے آنسو آ جائیں گے




سیرت النبیﷺ کا ایسا واقعہ پڑھ کرآنکھوں سے آنسو آ جائیں گے
ﻧﮉﺭ ﺗﮭﺎ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺗﮭﺎ، ﺗﺎﺟر ﺗﮭﺎ، ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﺎ، ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ،ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ،ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ،، ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﮩﺮﮦ، ﻟﻤﺒﺎ ﻗﺪ، ﺗﻮﺍﻧﺎ ﺟﺴﻢ، ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺳﯿﻨﮧ، ﺍﮐﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺮﺩﻥ، ﺍﭨﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ، ایک حسین جوان ہے … ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺳرکار دوعالم ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ، فرمایا :ﺛﻤﺎﻣﮧ ! ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ؟ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺑﻮﻻ : ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﻮﮞ؟۔
ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮨﻮ؟ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ، ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺷﮧ، ﺟﻮ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮ ﻟﻮ،ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﮍﺍ ﺗﯿﺰ ﻣﺰﺍﺝ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ،ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮐﮫ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ؟ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ! ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺩﮐﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺫﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ صحیح،ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﮐﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ، ﺟﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ،۔
حضرت ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ( رضی اللّٰہ )ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﺳﻠﻮﭨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ، ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﻟﮕﺎ،ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺍﺑﺮﻭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮨﻮ،حضرت ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ؟ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ صلی اللہ علیہ وسلم ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺟﺘﻨﺎ ﻏﺼﮧ ﮨﮯ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﻮ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ … ﺛﻤﺎﻣﮧ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺪ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ( ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﻟﻠﮧ )ﻟﻮﮔﻮ ! ﯾﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ صلی اللہ علیہ وسلم ﺟنﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ہم ﻧﮯ ﭼﻠﻨﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﺑﮯ ﺁﺳﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﺋﯽ، ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻟﯽ، ﺁﺝ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ہیں ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻟﯽ ﺳنتے ہیں ﻟﯿﮑﻦ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈالتے ہیں …ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﻮ،ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﻡ ﻭ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻭ ﻣﺼﺮ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ ﺑﺴﺘﯽ ﮨﮯ ( ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﻟﻠﮧ ) ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ؟ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ فرمایا : ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ،ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﻮﺍﺏ،ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﷺ ﺁﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮨﻢ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ، ﺫﺭﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﻟﻮ،۔
ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﺍﺏ؟ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﻣﺴﮑﺮﺍ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺎﺅ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺅ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍسے ﺭﮨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ، ﺟﺎﺅ …ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍن سے فرمایا :ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ہے ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ،ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ، ﺑﮍﮮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ مگر ﺍﺗﻨﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ،ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﯿﺴﺎ …” ﺑﺲ ﺍﮎ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﮨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ “ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺮﭘﭧ ﺑﮭﺎﮔﺎ، ﺩﮌﮐﯽ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ….. ! ثمامہ کہتے ہیں
کہ :” ﻗﺪﻡ ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ “ﺩﻭ ﻣﯿﻞ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺁﯾﺎ،ﻭﮦ ﻣﺎﮦ ﺗﻤﺎﻡ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ کرام ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩھے ہوئے تھے ….ﺻﺤﻦ ﻣﺴﺠﺪ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ….ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﮯ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﯽ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺁ ﮔﺌﮯ؟ﮐﮩﺎ، ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ، ” ﮐﯿﺎ ﺍﺳﯿﺮﯼ ﮨﮯ اور ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ” ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﺐ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ، ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ
ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ،سچی کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو.

بیٹیاں گھر کی زینت




ایک علاقہ میں ایک بابا جی کا انتقال ہو گیا ، جنازہ تیار ہوا اور جب اٹھا کر قبرستان لے جانے لگے تو ایک آدمی آگے آیا اور چارپائی کا ایک پاوں پکڑ لیا اور بولا کہ مرنے والے نے میرے 15 لاکھ دینے ہیں۔ پہلے مجھے پیسے دو پھر اس کو دفن کرنے دوں گا۔
اب تمام لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں، بیٹوں نے کہا کہ مرنے والے نے ہمیں تو کوئئ ایسی بات نہیں کی کہ وہ مقروض ہے، اس لیے ہم نہیں دے سکتے، متوفی کے بھائیوں نے کہا کہ جب بیٹے ذمہ دار نہیں تو ہم کیوں دیں۔
اب سارے کھڑے ہیں اور اس نے چارپائی پکڑی ہوئی ہے۔ جب کافی دیر گزر گئی تو بات گھر کی عورتون تک بھی پہنچ گئی۔
مرنے والے کی اکلوتی بیٹی نے جب بات سنی تو فورا اپنا سارا زیور اتارا اور اپنی ساری نقد دقم جمع کر کے اس آدمی کے لیے بھجوا دی اور کہا کہ اللہ کے لیے یہ رقم اور زیود بیچ کے اس کی رقم رکھو اور میرے ابو جان کا جنازہ نہ روکو۔ میں مرنے سے پہلے سارا قرض ادا کر دوں گی۔ اور باقی رقم کا جلد بندوبست کر دوں گی۔
اب وہ چارپائی پکڑنے والا شخص کھڑا ہوا اور سارے مجمع کو مخاطب ہو کے بولا۔۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے مرنے والے سے 15 لاکھ لینا نہیں بلکہ اسکا دینا ہے اور اس کے کسی وارث کو میں جانتا نہ تھا تو میں نے یہ کھیل کیا۔ اب مجھے پتہ چل چکا ہے کہ اس کی وارث ایک بیٹی ہے اور اسکا کوئی بیٹا یا بھائی نہیں ہے۔
اب بھائی منہ اٹھا کے اسے دیکھ رہے ہیں اور بیٹے بھی۔
سبق۔1۔ بیٹی والے خوش نصیب ہیں۔ لہذا بیٹی کی پیدائش پہ خوش ہونا چاہیے نہ کہ غمگین۔
2۔ بیٹیوں کی شریعت میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔

#Copy

GOOD WIFE



 میرے محلے میں ماسٹر عتیق صاحب رہتے ہیں، 44 سال کی عمر میں اُن کی شادی ہوئی
ایک دن فرماتے ہیں کہ جب میں 23 سال کا تھا تو ڈائری میں 40 ایسی خوبیاں نوٹ کی جو میری مُتوقع بیوی میں ہونی چاہیے
وقت گزرتا گیا لیکن ایسی بیوی نہ مِل سکی جس میں 40 خوبیاں ہوں،  اور ماسٹر عتیق ہر سال ایک دو خوبیاں کاٹتے رہے کہ چلو یہ خوبیاں نہ بھی ہوں تو لڑکی قبول ہے
بالاآخر 40 سال کے ہوگئے اور ڈائری میں صرف ایک خوبی لکھی رہ گئی
"عورت ہو" 😂😂😂

محرم رشتے جنسی درندے کیونکر بنتے ہیں؟




🛑محرم رشتے جنسی درندے کیونکر بنتے ہیں؟🛑

⭕کیا آج کی بچیاں اپنے محرم رشتوں سے بھی محفوظ نہیں؟
⭕ماحول یا معاشرے میں یہ بگاڑ کیونکر پیدا ہو رہا ہے؟
⭕بچیاں جائیں تو کہاں جائیں؟


📛 ان سوالات کے پیدا ہونے کی وجہ کے پیچھے کچھ وجوہات و واقعات ہیں ۔

✍🏻جن کا ذکر آگے ہوگا. ہم سب اپنے تئیں ایک اسلامی معاشرے کے باسی ہیں جہاں ہمیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے. ہمارے نام مسلمانوں والے اور کام بھی کسی حد تک مسلمانوں والے ہیں. باقی بھول چوک اللہ معاف کرنے والا ہے.

🔺میری یہ سوچ تب تک تھی
جب تک میری والدہ نے محلے کی مسجد کی انتظامیہ کی اجازت سے اپنے محلے کی عورتوں کو نماز و سورتیں سکھانے اور بچیوں کو ناظرہ قرآن پڑھانے کا آغاز نہیں کیا تھا.

 🌴عورتوں کی آمد شروع ہوئی اور والدہ کو اپنا ہمدرد سمجھ کر دل کے پھپھولے پھوٹنے لگے. ان کے گھروں کی ایسی بھیانک کہانیاں سننے کو ملیں کہ والدہ سکتے میں آ جاتیں، اور تمام دن پریشان اور غمزدہ رہتیں.

📛 کئی عورتوں کے مطابق ان کے شوہر انھیں کئی بار طلاق دے چکے ہیں، مگر جانے نہیں دیتے.
وہ خود بھی اتنی ہمت جتا نہیں پاتیں کہ اپنے بچے اور گھر بار چھوڑ کر بے آسرا ہو جائیں.

نتیجتا خاموشی سے حرام کاری کی زندگی بسر کر رہی ہیں. کچھ کے مطابق وہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہ رہی ہیں۔
 اور کبھی ان کی بچی کسی کزن کے "ہتھے" چڑھ گئی یا کبھی چچا تایا ان سے "چھیڑ چھاڑ" کرتے ہیں، اور شوہر کو اپنے بھائی پر پورا "بھروسہ" ہے، تو اسے بتانے کی ہمت نہیں،
اور ان کی سردیاں گرمیاں راتوں کو بچیوں کی چوکیداری میں گزرتی ہیں، جبکہ کچھ کے مطابق بچیوں کا باپ ہی گندی نظر رکھتا ہے.

🔺سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس راستے پر کیوں جا رہا ہے؟
🔺اور اس صورتحال سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

✍🏻مفہوم حدیث ہے کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو.

📛اور انٹرنیٹ میڈیا اس وقت ہمارے گھروں کی حیا ختم کر کے بیٹیوں اور باپوں، بہنوں اور بھائیوں، چچاؤں اور بھتیجیوں، ماموؤں اور بھانجیوں کو ایک ساتھ بٹھا کر اخلاق باختہ ڈرامے اور فلمیں دکھانے میں کامیاب ہو چکا ہے.

🔺کچھ عرصہ قبل جسٹس سعید الزمان صدیقی کے ایک بیان پر کافی لے دے ہوئی، اور مذاق اڑایا گیا کہ باپ اور بیٹی کا ایک کمرے میں تنہا بیٹھنا اسلامی اعتبار سے درست نہیں،
 جبکہ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے. میں یہ نہیں کہتی کہ ہمارے معاشرے کا ہر باپ جنسی درندہ ہوتا ہے مگر اس سچائی سے بھی انکار نہیں کہ جب کچھ ذہنی و جنسی بیمار مردوں پر شہوت کا غلبہ ہوتا ہے،
 تب وہ باپ بھائی، چچا یا ماموں نہیں رہتے،

 اورشیطان کے وار سے بلعم باعور جیسے بڑے بڑے عابد نہیں بچ سکے تو ہم کیا ہیں؟ میری خالہ کے گھر ایک غریب دائی صدقہ لینے آتی ہے.
ایک بار میری موجودگی میں وہ آئی، اور باتوں باتوں میں خالہ کو کوڈ ورڈز میں کہنے لگی کہ اس ماہ میں نے تین کیس "خراب" کیے، جن میں سے ایک باپ، دوسرا بھائی اور تیسرا ایک چچا کا تھا.

🔺یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے نو بالغ لڑکوں یا گھر کے مردوں میں ہیجان سب سے پہلے اپنے گھر کی مستورات کے نامناسب لباس دیکھ کر پیدا ہوتا ہے.

🔺مائیں، بیٹیاں اور بہنیں گہرے گلے، آدھی آستینوں، اور چھوٹے چاکوں والی قمیضوں کے ساتھ چست پاجامے پہن کر بنا دوپٹے کے گھر میں پھریں گی تو شیطان کو اپنا وار کرنے کا بھر پور موقع ملے گا.

🌴اسی لیے اسلام نے عورت کو سینہ چھپانے اور اوڑھنی ڈالنے کا حکم دیا ہے.گھر کا ماحول ماں پاکیزہ بنائے گی تو اولاد حیا دار ہوگی. حیا اپنے ساتھ انوار و برکات لازما لاتی ہے ورنہ جو تربیت میڈیا ہمارے گھروں کی کر چکا ہے، اس کے یہی ثمرات اور نتائج دیکھنے کو ملیں گے.

 🔺ایسے معاشرے میں جہاں شادی کی عمر 28، 30 سال ہو، وہاں 14 سال کا ایک نو عمر لڑکا گھر کی عورتوں کے حلیوں سے حظ کشید کرکے مشترکہ خاندانی نظام کا "فائدہ" کیونکر نہ اٹھائے گا.

🔺اس تحریر میں طبقہ اشرافیہ کی بات نہیں ہو رہی کیونکہ
ان کے ہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے.
یہاں موضوع بحث لوئر یا مڈل کلاس دنیا دار گھر ہیں جن میں پرائیویسی کا تصور نہیں،
 وہاں ایسے واقعات رونما ہوجا تے ہیں اور "ڈھانپ" دیے جاتے ہیں،
کیونکہ زنان خانہ اور مردان خانہ اب ہمارے نزدیک آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا ہے،

اور ایک یا دو کمروں میں رہائش پذیر خاندان پرائیویسی کے مفہوم سے بھی واقف نہیں. جدیدیت کی دوڑ میں حیا سے غفلت برت کر جو نتائج سامنے آ رہے ہیں، ان کا سدباب نہ کیا گیا تو حالات مزید بھیانک ہوتے جائیں گے.

🛑 اس سلسلے میں کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں:
بچیاں اور مائیں ساتر لباس استعمال کریں. فیشن کریں مگر ستر ڈھانپنے کے اہتمام کے ساتھ. فیشن صرف ہاف سلیوز، گہرے گلوں یا چست پاجاموں کا نام نہیں. 🛑

🌴حرمت مصاہرت کے مسائل بچیوں، بچوں اور باپوں کو ازبر ہونے چاہییں. 🌴

بچیاں بلوغت کے بعد والد کو نہ دبائیں نہ ہی کوئی اور جسمانی خدمت کریں یا لپٹیں. جسمانی خدمت بیٹے یا مائیں کریں اور اگر اشد ضرورت یا مجبوری ہو تو اس بارے میں گنجائش کی تفصیلات و مسائل کے لیے مفتیان کرام سے رجوع کریں.

📛بیٹیاں باپ کے ساتھ بیٹھ کر اکیلے یا سب کے ساتھ ٹی وی دیکھنے سے پرہیز کریں. اور مائیں بھی اپنے چودہ پندرہ سال کے بیٹوں سے جسمانی کنکشن یعنی گلے لگانے یا ساتھ لٹانے سے پرہیز کریں.

📛 باپ بیٹیوں کے کمرے میں دروازہ کھٹکھٹا کر آئیں یا دور سے کھنکھارتے ہوئے آئیں،
تاکہ بچیاں اپنا لباس درست کر لیں. یہی صورت ایک یا دو کمروں کے گھر میں رہائش پذیر ہو کر بھی اختیار کی جا سکتی ہے.

📛 باپ بچیوں کو سوتے سے مت جگائیں، اور یہ ذمہ داری والدہ سر انجام دے، کیونکہ سوتے میں لباس بےترتیب ہو سکتا ہے.

📛بھائیوں یا محرم رشتوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں ہاتھ مارنا، پیار میں گلے لگنا یا سلام کے لیے ہاتھ ملانا صرف ڈراموں فلموں کی حد تک ہی رہنے دیں.

 ایک اسلامی معاشرے کے مکینوں کے لیے اس کی کوئی گنجائش نہیں.
 مگر اب یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بہنوئیوں یا کزنز سے ہاتھ ملانا اور شادی بیاہ میں ان کے یا محرم رشتوں کے ساتھ ناچناگانا معیوب نہیں سمجھا جاتا، تبھی شیطان اپنے داؤ پیچ آزما لیتا ہے.

📛لاڈ میں چچاؤں کے گلے جھول جانا، ماموؤں سے بغل گیر ہونا، باپ بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر انڈین ڈرامے دیکھنا جن کی کہانی ہی ناجائز معاشقوں سے شروع ہو کر ناجائز بچوں کے جنم سے آگے بڑھتی ہے، اور حمل و زچگی کے مناظر عام سی بات ہیں، ان سب سے بچیں.

🌷بچیوں کو سکھائیں کہ وہ خود کو جتنا ڈھانپ کر رکھیں گی اور ریزرو رہیں گی، اتنا ہی ان کے ایمان، قلب و چہرے کے نور میں اضافہ ہوگا اور کسی کو ان سے "چھیڑ چھاڑ" کی بھی جرات نہ ہوگی.

یاد رہے کہ یہ سب اقدامات حرف آخر نہیں، بلکہ احتیاطی تدابیر ہیں، جنہیں اپنانے کے باوجود اگر کوئی محرم رشتہ جنسی درندہ بن جائے تو اس کا علاج سنگساری یا بندوق کی ایک گولی ہے تاکہ بقیہ درندوں کی حیوانیت کو لگام دی جا سکے.....⚠
‏‎…

اجنبی تحریر   (کاپی پیسٹ)

Total Pageviews